Baaghi TV

Category: سکھر

  • میرپورماتھیلو: جروار پولیس سوگئی، چور لاکھوں روپے مالیت کی بھینس دیوار توڑ کر لے اڑے

    میرپورماتھیلو: جروار پولیس سوگئی، چور لاکھوں روپے مالیت کی بھینس دیوار توڑ کر لے اڑے

    میرپورماتھیلو(باغی ٹی وی،نامہ نگارمشتاق علی لغاری) جروار پولیس سوگئی، چور لاکھوں روپے مالیت کی بھینس دیوار توڑ کر لے اڑے

    تفصیلات کے مطابق ضلع گھوٹکی کی تحصیل میرپورماتھیلو کے علاقہ علاقے جروار کے قریب گاؤں خدا بخش لغاری میں رات گئے ایک سنگین واردات رونما ہوئی ہے جس میں نامعلوم چور منظور لغاری کے گھر کی دیوار توڑ کر اندر داخل ہوئے اور لاکھوں روپے مالیت کی قیمتی بھینس چرا کر فرار ہو گئے۔ واقعہ کے بعد گاؤں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔

    علاقہ مکینوں کے مطابق یہی گروہ اس سے قبل بھی علاقے میں مشکوک حرکات میں ملوث رہا ہے، مگر پولیس کی غفلت کے باعث کسی قسم کی کارروائی نہیں کی گئی۔ متاثرہ خاندان نے کہا ہے کہ بھینس ان کی آمدنی کا واحد ذریعہ تھی، جس کے چوری ہونے سے ان کا ناقابلِ تلافی معاشی نقصان ہوا ہے۔

    شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ پولیس فوری طور پر چوروں کا سراغ لگائے، چوری شدہ بھینس برآمد کرے اور گاؤں میں رات کے وقت گشت کو یقینی بنایا جائے تاکہ آئندہ ایسے واقعات سے بچا جا سکے۔ گاؤں کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ "یہ ظلم اور چوری اب مزید برداشت نہیں کی جا سکتی!

  • سندھ میں یکم نومبر سے گنے کی کرشنگ شروع کرنے کا اعلان، 33 شوگر ملوں کو ہدایات جاری

    سندھ میں یکم نومبر سے گنے کی کرشنگ شروع کرنے کا اعلان، 33 شوگر ملوں کو ہدایات جاری

    گھوٹکی (باغی ٹی وی،نامہ نگار مشتاق علی لغاری)سندھ حکومت نے صوبے بھر میں شوگر کرشنگ سیزن 2025-26 کے آغاز کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ کین کمشنر سندھ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق صوبے میں موجود 33 شوگر ملوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ یکم نومبر سے کرشنگ کا عمل باقاعدہ طور پر شروع کریں۔

    نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ حالیہ بارشوں کے بعد سندھ میں گنے کی فصل بہترین حالت میں ہے اور کٹائی کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ وزارتِ فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ اسلام آباد اور پی ایس ایم اے (سندھ زون) کے نمائندوں کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے مطابق موجودہ سیزن کی کرشنگ یکم نومبر 2025 سے شروع کی جائے گی۔

    کین کمشنر سندھ نے تمام ملوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے بوائلرز کو بروقت گرم کریں اور مقررہ تاریخ سے کرشنگ یقینی بنائیں۔ تاہم گنے کے نرخ کے تعین کے حوالے سے سندھ حکومت کی خاموشی تاحال برقرار ہے، جس پر کاشتکار حلقوں نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔

  • گھوٹکی: سیاہ کاری کے جرگے کا انکشاف، پولیس کی فوری کارروائی میں چار ملزمان گرفتار

    گھوٹکی: سیاہ کاری کے جرگے کا انکشاف، پولیس کی فوری کارروائی میں چار ملزمان گرفتار

    گھوٹکی (باغی ٹی وی ،نامہ نگارمشتاق علی لغاری) سیاہ کاری کے جرگے کا انکشاف، پولیس کی فوری کارروائی میں چار ملزمان گرفتار

    تفصیلات کے مطابق تھانہ یارو لُنڈ کی حدود کھروہی میں سیاہ کاری کے جرگے کی خبر سوشل میڈیا پر وائرل ہونے پر پولیس حرکت میں آ گئی۔

    ایس ایس پی گھوٹکی محمد انور کھیتران کے حکم پر کارروائی کرتے ہوئے پولیس نے چار ملزمان میر حسن شر، علی حسن شر، زبرو شر اور عبداللہ شر—کو گرفتار کر لیا۔

    اطلاعات کے مطابق جرگے میں خواتین پر سیاہ کاری کے جھوٹے الزامات لگا کر انہیں کچے علاقوں میں فروخت کیا جاتا تھا۔

    ایس ایس پی نے کہا کہ جرگہ کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی اور ایسے غیر قانونی فیصلے کسی صورت برداشت نہیں کیے جائیں گے۔

  • میرپور ماتھیلو: شہید صحافی طفیل رند اور بھتیجی کے قتل کا مقدمہ 8 ملزمان کے خلاف درج

    میرپور ماتھیلو: شہید صحافی طفیل رند اور بھتیجی کے قتل کا مقدمہ 8 ملزمان کے خلاف درج

    میرپور ماتھیلو (باغی ٹی وی،نامہ نگار مشتاق علی لغاری)شہید صحافی طفیل رند حیدرانی اور ان کی بھتیجی کے بہیمانہ قتل کا مقدمہ پولیس تھانہ میرپور ماتھیلو میں درج کر لیا گیا ہے۔ مقدمہ مقتول صحافی کے بھائی عبدالغفار رند کی مدعیت میں درج کیا گیا، جس میں آٹھ نامزد ملزمان کو شاملِ تفتیش کیا گیا ہے۔ ایف آئی آر نمبر 315 تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 147، 148، 149، 302، 114 اور 34 کے تحت درج کی گئی۔

    ایف آئی آر کے مطابق 8 اکتوبر کی صبح طفیل رند اپنی بھتیجی کے ہمراہ موٹر سائیکل پر جا رہے تھے کہ راستے میں گھات لگائے مسلح افراد نے ان پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ فائرنگ کے نتیجے میں دونوں موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے جبکہ ملزمان اسلحہ لہراتے ہوئے فرار ہوگئے۔

    مدعی کے مطابق قتل کی یہ واردات پرانی رنجش اور مقتول صحافی کی حق گوئی و صحافتی سرگرمیوں کے باعث پیش آئی۔ پولیس نے مقدمہ درج کرنے کے بعد تفتیش شروع کر دی ہے اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارنے کا سلسلہ جاری ہے۔

    واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس کی فضا پھیل گئی ہے جبکہ صحافتی تنظیموں اور سول سوسائٹی نے اسے آزادیِ صحافت پر حملہ قرار دیتے ہوئے قاتلوں کی فوری گرفتاری اور مقتولین کے لواحقین کو انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

  • گھوٹکی: صحافی طفیل رند بھتیجی سمیت قتل، ضلع ایک بار پھر صحافیوں کے لیے مقتل گاہ بن گیا

    گھوٹکی: صحافی طفیل رند بھتیجی سمیت قتل، ضلع ایک بار پھر صحافیوں کے لیے مقتل گاہ بن گیا

    گھوٹکی(باغی ٹی وی،نامہ نگارمشتاق علی لغاری) صحافی طفیل رند حیدرانی اور بھتیجی کا لرزہ خیز قتل — ضلع ایک بار پھر صحافیوں کے لیے مقتل گاہ بن گیا

    ضلع گھوٹکی ایک بار پھر صحافیوں کے لیے مقتل گاہ بن گیا ہے۔ میرپور ماتھیلو میں معروف صحافی طفیل رند حیدرانی کو مسلح افراد نے بے دردی سے فائرنگ کر کے قتل کر دیا۔ افسوسناک طور پر واقعے کے دوران اپنے چچا کے قتل کی عینی شاہد بننے والی آٹھ سالہ بھتیجی بھی شدید زخمی حالت میں ہسپتال منتقل کی گئی، جو بعد ازاں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئی۔ پولیس کے مطابق یہ واقعہ پرانی دشمنی کا نتیجہ ہے، تاہم علاقے میں خوف و ہراس اور صحافتی برادری میں شدید غم و غصہ پھیل گیا ہے۔

    واقعے کے بعد ضلعی ہسپتال میں لاشیں منتقل کی گئیں جہاں سینکڑوں شہریوں، صحافیوں اور سماجی رہنماؤں نے قاتلوں کی گرفتاری کے لیے احتجاج کیا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ "گھوٹکی میں قانون کی رِٹ کمزور ہوچکی ہے، پولیس بے بس اور لاچار نظر آتی ہے۔” ان کا کہنا تھا کہ یہ پہلا واقعہ نہیں، اس سے قبل بھی شہید نصراللہ گڈانی، شہید محمد بچل گھنیو سمیت کئی مقامی صحافی دہشت گردی، ذاتی دشمنی اور دباؤ کے باعث قتل کیے جاچکے ہیں، مگر آج تک کسی بھی قاتل کو سزا نہیں ملی۔

    قتل کی خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیلنے کے بعد وزیرِ داخلہ سندھ ضیاالحسن لنجار نے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے ڈی آئی جی سکھر سے فوری اور تفصیلی رپورٹ طلب کر لی۔ وزیر داخلہ نے ہدایت دی کہ "ملزمان کو ہر صورت گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے، واقعے کی شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات یقینی بنائی جائیں۔” انہوں نے طفیل رند کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت صحافیوں کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات کرے گی۔

    دوسری جانب وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے بھی واقعے پر گہرے افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ "صحافیوں پر حملے دراصل آزادیٔ صحافت پر حملے ہیں۔” انہوں نے آئی جی سندھ سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے ہدایت کی کہ قاتلوں کی فوری گرفتاری عمل میں لائی جائے اور انصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں۔ وزیراعلیٰ سندھ نے طفیل رند کے لواحقین سے تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ "حکومت مقتول صحافی کے خاندان کو انصاف دلانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑے گی۔”

    ادھر ایس ایس پی گھوٹکی محمد انور کھیتران نے جائے وقوعہ کا فوری دورہ کیا، ورثاء سے ملاقات کی اور پولیس کو ہدایت دی کہ ملزمان کی فوری گرفتاری کو یقینی بنایا جائے۔ ان کے احکامات کے بعد تھانہ میرپور ماتھیلو پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے دو ملزمان عرفان ولد سبحان حیدرانی اور امام دین ولد ریاض حیدرانی کو گرفتار کر لیا۔ پولیس نے انکشاف کیا کہ مقتول صحافی کے خاندان کا حیدرانی برادری کے دیگر افراد سے زمین کے تنازع پر کئی سالوں سے جھگڑا چل رہا تھا۔ چند روز قبل اسی مقدمے میں محمد حنیف ولد محمد شریف حیدرانی نامی ایک ملزم کو بھی پولیس نے گرفتار کیا تھا، جس کے قریبی رشتہ داروں نے انتقامی کارروائی کرتے ہوئے طفیل رند کو قتل کیا۔

    مقتول کی بھتیجی کے الفاظ "ہٹ جاؤ ادھر سے، پہلے کبھی انصاف ہوا ہے کہ اب ہوگا” لوگوں کے ذہنوں میں گونج رہے ہیں۔ یہ الفاظ نہ صرف ایک معصوم بچی کے دل کا درد ہیں بلکہ ہمارے معاشرے کے مردہ ضمیر پر سوالیہ نشان ہیں کہ آخر کب انصاف ایک خواب کے بجائے حقیقت بنے گا؟

    طفیل رند کی شہادت نے ایک بار پھر اس تلخ حقیقت کو عیاں کر دیا ہے کہ پاکستان میں آزادیٔ صحافت خطرے میں ہے۔ اگر ریاست اپنے قلم کاروں، سچ لکھنے والوں اور حق بولنے والوں کی حفاظت نہیں کر سکتی، تو پھر یہ سوال اٹھتا ہے کہ انصاف کی امید کس سے رکھی جائے؟

    گھوٹکی کے صحافیوں نے متفقہ طور پر مطالبہ کیا ہے کہ حکومتِ سندھ فوری طور پر ایک اعلیٰ سطحی جوڈیشل انکوائری کمیشن تشکیل دے، تاکہ مقتول صحافی اور اس معصوم بچی کے قاتلوں کو مثالی سزا دی جا سکے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر قاتلوں کو جلد انصاف کے کٹہرے میں نہ لایا گیا تو پورا ضلع احتجاجی تحریک کا آغاز کرے گا۔

    یہ واقعہ صرف طفیل رند کا قتل نہیں بلکہ انصاف، قانون اور آزادیٔ اظہار کے تصور کا قتل ہے اور جب تک اس خونِ ناحق کا حساب نہیں لیا جاتا، گھوٹکی کی فضائیں اسی سوال سے گونجتی رہیں گی:
    "کیا یہاں کبھی انصاف ہوا ہے کہ اب ہوگا؟”

  • ڈہرکی: ٹاؤن انتظامیہ کی نااہلی کے خلاف بلدیاتی ملازمین کی مکمل ہڑتال، دفاتر بند، کام ٹھپ

    ڈہرکی: ٹاؤن انتظامیہ کی نااہلی کے خلاف بلدیاتی ملازمین کی مکمل ہڑتال، دفاتر بند، کام ٹھپ

    گھوٹکی (باغی ٹی وی، نامہ نگار مشتاق علی لغاری)ڈہرکی ٹاؤن انتظامیہ کی بدانتظامی، نااہلی اور مجرمانہ غفلت کے خلاف بلدیاتی ملازمین سراپا احتجاج بن گئے۔ شاہ لطیف لوکل گورنمنٹ ایمپلائیز یونین اور آل پاکستان لوکل ورکرز فیڈریشن کی قیادت میں بلدیاتی ملازمین نے دفاتر کی تالہ بندی کرتے ہوئے مکمل ہڑتال کی اور احتجاجی مظاہرہ کیا۔

    مظاہرین نے انتظامیہ کے خلاف شدید نعرے بازی کرتے ہوئے کہا کہ کئی ماہ گزرنے کے باوجود تنخواہیں وقت پر جاری نہیں کی جا رہیں، جبکہ موجودہ تنخواہوں میں بلاجواز کٹوتیاں کی جا رہی ہیں۔ ریٹائرڈ ہونے والے ملازمین کو گریجویٹی اور دیگر واجبات کی ادائیگی بھی تاحال نہیں کی گئی، جو سراسر ناانصافی اور قانون کی خلاف ورزی ہے۔

    ملازمین کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے بجٹ میں اعلان کردہ اضافی تنخواہیں اور الاؤنسز بھی تاحال نہیں دیے جا رہے، جس کے باعث سینکڑوں سرکاری اہلکار شدید مالی مشکلات سے دوچار ہیں۔ کئی ملازمین بچوں کی فیسیں ادا کرنے اور گھریلو اخراجات پورے کرنے سے قاصر ہیں جبکہ ٹاؤن انتظامیہ خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔

    احتجاجی رہنماؤں نے واضح کیا کہ اگر ان کے جائز مطالبات فوری طور پر پورے نہ کیے گئے، جن میں تنخواہوں کی بروقت ادائیگی، ناجائز کٹوتیوں کا خاتمہ، ریٹائرڈ ملازمین کو واجبات کی فراہمی اور بجٹ میں شامل اضافی الاؤنسز کا نفاذ شامل ہے، تو احتجاج کا دائرہ کار بڑھا دیا جائے گا۔

    انہوں نے اعلان کیا کہ مطالبات کی منظوری تک دفاتر بند رہیں گے، تمام سرکاری امور معطل رہیں گے، اور اس صورتحال کی مکمل ذمہ داری ڈہرکی ٹاؤن انتظامیہ پر عائد ہوگی۔ ملازمین نے صوبائی حکومت سے بھی فوری مداخلت کا مطالبہ کیا تاکہ ان کے مسائل حل ہو سکیں اور شہری سہولیات کا نظام بحال ہو۔

  • گھوٹکی: ڈہرکی میں فائرنگ، پسند کی شادی کرنے والی خاتون جاں بحق، شوہر زخمی

    گھوٹکی: ڈہرکی میں فائرنگ، پسند کی شادی کرنے والی خاتون جاں بحق، شوہر زخمی

    گھوٹکی (باغی ٹی وی، نامہ نگار مشتاق علی لغاری)ڈہرکی کی جونگ کالونی میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں ایک سال قبل پسند کی شادی کرنے والا جوڑا قاتلانہ حملے کا نشانہ بن گیا۔ حملے میں غلام عباس منسی شدید زخمی ہوگیا جبکہ اس کی اہلیہ فوزیہ مگسی موقع پر ہی دم توڑ گئی۔

    ابتدائی اطلاعات کے مطابق غلام عباس منسی نے ایک سال قبل اپنی مرضی سے فوزیہ مگسی سے شادی کی تھی، جس پر اہلِ خانہ ناراض تھے۔ پولیس ذرائع کے مطابق یہ واقعہ مبینہ طور پر "غیرت کے نام پر حملے” کا نتیجہ ہو سکتا ہے، تاہم تفتیش جاری ہے۔

    اطلاع ملنے پر تھانہ ڈہرکی پولیس موقع پر پہنچی اور لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے ہسپتال منتقل کیا جبکہ زخمی غلام عباس کوعلاج کیلئے ہسپتال بھیج دیا گیا۔ جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کر لیے گئے ہیں اور ابتدائی طور پر فائرنگ کو دشمنی یا گھریلو رنجش کا نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے۔

    پولیس کے مطابق حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ دوسری جانب علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے، جبکہ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ملزمان کو جلد از جلد گرفتار کر کے سخت سزا دی جائے تاکہ ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔

  • ڈہرکی: ماڑی انرجی کے خلاف طلبہ کا احتجاج سترہویں روز بھی جاری

    ڈہرکی: ماڑی انرجی کے خلاف طلبہ کا احتجاج سترہویں روز بھی جاری

    گھوٹکی (باغی ٹی وی نامہ نگار مشتاق علی لغاری)ڈہرکی میں ماڑی انرجی کمپنی کی جانب سے مقامی نوجوانوں کو نظرانداز کرتے ہوئے دیگر صوبوں کے افراد کو بھرتی کرنے کے خلاف طلبہ کا احتجاج سترہویں روز بھی جاری ہے۔ کمپنی کے مرکزی گیٹ کے سامنے دھرنا بدستور جاری ہے، جب کہ سیاسی و سماجی تنظیموں اور قوم پرست جماعتوں کے رہنما طلبہ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے پہنچ گئے۔

    تفصیلات کے مطابق طلبہ نے الزام عائد کیا ہے کہ ماڑی انرجی کمپنی مقامی نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے کے بجائے دیگر صوبوں کے افراد کو ترجیح دے رہی ہے، جس سے ضلع گھوٹکی کے پڑھے لکھے نوجوانوں میں شدید بے چینی پھیل چکی ہے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ جب تک کمپنی انتظامیہ میرٹ اور انصاف کے تقاضوں کے مطابق مقامی افراد کو روزگار نہیں دیتی، احتجاج جاری رہے گا۔

    دھرنے میں جیئے سندھ تحریک کے چیئرمین سورھیہ سندھی، مذہبی و قوم پرست رہنما مولانا ایاز قمی، ایس یو پی کے رہنما حاتم خان شر، جے ایس کیو (شہید بشیر خان گروپ) کے رہنما میر حسن لاشاری سمیت متعدد سیاسی و سماجی شخصیات نے شرکت کی۔ رہنماؤں نے خطاب میں کہا کہ ضلع گھوٹکی ایک صنعتی زون ہے، مگر یہاں کے نوجوانوں کو مسلسل نظرانداز کیا جا رہا ہے، جب کہ کمپنی انتظامیہ بااثر طبقے کے دباؤ پر بیرونی افراد کو بھرتی کر رہی ہے، جو مقامی آبادی کے ساتھ کھلی ناانصافی ہے۔

    مقررین نے الزام لگایا کہ پرامن احتجاج کرنے والے طلبہ پر ماڑی انرجی انتظامیہ کے اشارے پر پولیس نے تشدد کیا، اور انہیں جھوٹے مقدمات میں ملوث کرنے کی کوشش کی گئی۔ رہنماؤں نے واضح کیا کہ جب تک مطالبات منظور نہیں کیے جاتے، احتجاج ختم نہیں کیا جائے گا۔

    دوسری جانب طلبہ اور صحافیوں پر تشدد کے واقعے پر ایس ایچ او ڈہرکی مصور قریشی اور ایس ایچ او داد لغاری ذوالفقار مہر کو معطل کرکے لائن حاضر کر دیا گیا ہے، جب کہ ڈی ایس پی اوباڑوعبدالقادر سومرو کے خلاف انکوائری کا حکم دے دیا گیا ہے۔

  • گھوٹکی: پولیس کی اشتہاری و جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائیاں تیز، روپوش ملزم گرفتار

    گھوٹکی: پولیس کی اشتہاری و جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائیاں تیز، روپوش ملزم گرفتار

    گھوٹکی ( باغی ٹی وی،نامہ نگار مشتاق علی لغاری)پولیس کی اشتہاری و جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائیاں تیز، روپوش ملزم گرفتار

    تفصیل کے مطابق ڈی پی او گھوٹکی محمد انور کھیتران کی ہدایت پر ضلع بھر میں روپوش، اشتہاری اور دیگر جرائم پیشہ عناصر کے خلاف پولیس کی کارروائیاں تیز کردی گئی ہیں۔

    ایس ایچ او تھانہ میرپور ماتھیلو عمران علی کورائی بمعہ پولیس اسٹاف نے دورانِ گشت خفیہ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے کرائم نمبر 123/2025، دفعہ 324، 147، 148، 149 تعزیراتِ پاکستان کے مقدمے میں مطلوب روپوش ملزم محمد حنیف ولد محمد شریف حیدرانی سکنہ گاؤں پیر بخش حیدرانی کو گرفتار کرلیا۔

    پولیس ذرائع کے مطابق گرفتار ملزم کو مزید تفتیش کے لیے حوالات میں منتقل کر دیا گیا ہے، جبکہ علاقے میں دیگر اشتہاریوں کی گرفتاری کے لیے چھاپے جاری ہیں۔

  • شکارپور،ٹریفک حادثے میں 7 افراد کی موت،6 زخمی

    شکارپور،ٹریفک حادثے میں 7 افراد کی موت،6 زخمی

    شکارپور کے قریب قومی شاہراہ بائی پاس کے مقام پر ٹرک حادثے میں 7 افراد جاں بحق اور 6 افراد زخمی ہو گئے۔

    پولیس کے مطابق سبزی سے لدے ٹرک نے سڑک کنارے سوئے ہوئے افراد کو روند ڈالا، جاں بحق افراد کی لاشوں اور زخمیوں کو سول اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے،پولیس حکام کا کہنا ہے ابتدائی طور پر حادثہ تیز رفتاری کا نتیجہ معلوم ہوتا ہے، تاہم ٹرک کو تحویل میں لیکر تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے اور مکمل تحقیقات کے بعد ہی کسی حتمی نتیجے پر پہنچ سکتے ہیں۔