Baaghi TV

Category: سکھر

  • گھوٹکی:قاتلوں کی گرفتاری کے لیے چاچڑ برادری کا دھرنا، قومی شاہراہ بند

    گھوٹکی:قاتلوں کی گرفتاری کے لیے چاچڑ برادری کا دھرنا، قومی شاہراہ بند

    گھوٹکی (نامہ نگار،مشتاق علی لغاری) گھوٹکی میں چاچڑ برادری نے اپنے مقتول نوجوانوں کے قاتلوں کی گرفتاری اور انصاف کے حصول کے لیے قومی شاہراہ پر دھرنا دیا۔ دھرنے کی وجہ سے ٹریفک مکمل طور پر رک گئی اور مسافروں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔

    مظاہرین نے اس واقعے پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا اور قاتلوں کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ان کے مطالبات پورے نہ ہوئے تو احتجاج کو مزید وسعت دی جائے گی۔

    پولیس کے اعلیٰ حکام کی جانب سے قاتلوں کی جلد گرفتاری کی یقین دہانی کے بعد مظاہرین پرامن طور پر منتشر ہوگئے اور قومی شاہراہ پر ٹریفک کی روانی بحال ہوئی۔

  • بااثر وڈیرے کے تشدد کا شکار اونٹنی علاج کیلئے کراچی منتقل

    بااثر وڈیرے کے تشدد کا شکار اونٹنی علاج کیلئے کراچی منتقل

    سندھ کے علاقے صالح پٹ میں مبینہ طور پر زمیندار نے اونٹ کے بچے کی ٹانگ کاٹ دی، پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دیں،جبکہ فصل کے نقصان پر بدترین تشدد کا شکار اونٹنی کو علاج کیلئے کراچی روانہ کردیا گیا۔

    چیئرمین ڈسٹرکٹ کونسل کے مطابق ابتدائی علاج کے بعد اونٹنی کو فوری کراچی روانہ کیا گیا ہے ،گزشتہ روز سکھر کی تحصیل صالح پٹ میں کھیت میں گھس کر پانی پینے پر بااثر وڈیرے نے مبینہ طور پر اونٹنی کی ٹانگ توڑ دی تھی۔

    اونٹنی کے مالک کے مطابق کھیت میں گھسنے پر زمیندار نے اونٹنی کو ٹریکٹر سے باندھ کر گھسیٹا، تشدد کے بعد اونٹنی کی ٹانگ توڑ دی اور منہ پر بھی ڈنڈے مارے گئے زخمی اونٹنی کا علاج کرانے اسپتال پہنچے تو ڈاکٹروں نے انکار کر دیا۔

    بھارت بیانیے کی جنگ بھی ہار گیا تھا، بھارتی اینکر کا اعتراف

    وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے صالح پٹ میں اونٹنی کی ٹانگ توڑنے کا نوٹس لیتے ہوئے کہا ہے کہ جانور کے ساتھ اس طرح کا سلوک کسی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا،وزیراعلیٰ سندھ نے چیئرمین ڈسٹرکٹ کونسل سکھر کمیل شاہ کو اونٹنی کا علاج کرانے کی ہدایت دی، سید کمیل شاہ نے اونٹنی کے مالک سے رابطہ کرتے ہوئے علاج کی یقین دہانی کرا دی ہے۔

    وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی جانب سے واقعے کا نوٹس لینے کے بعد پولیس نے اونٹنی کے مالک کی مدعیت میں واقعے کا مقدمہ درج کرلیاپولیس نے بتایا کہ مقدمے میں نامزد 3 ملزمان میں سے ایک کو گرفتار کرلیا گیا جب کہ دیگر 2 ملزمان کی گرفتاری کےلیے چھاپے مارے جار ہے ہیں، زخمی اونٹنی کو علاج کے لیے کراچی روانہ کر دیا گیا ہے، ابتدائی علاج کے بعد اونٹنی کو فوری کراچی بھیجا گیا۔

    بیشتر علاقوں میں موسم خشک اور گرم رہنے کا امکان

    گزشتہ برس کیمیٰ نامی اونٹ کے ساتھ بھی ایسا ہی واقعہ پیش آیا تھا، جس کی ٹانگ سانگھڑ میں ایک زمیندار نے کاٹ دی تھی کیونکہ وہ چرنے کے لیے اُس کے کھیت میں آئی تھی،اونٹنی تقریباً 8 ماہ کی تھی جب اس کی ایک اگلی ٹانگ کاٹ دی گئی۔ زمیندار نے الزام لگایا تھا کہ اونٹ اُس کے کھیت میں چرنے آئی تھی،متعلقہ کیس میں چھ ملزمان کو پولیس نے گرفتار کیا تھا، جن میں زمیندار اور اُن کے ملازمین شامل تھے،سندھ حکومت اور مقامی سیاسی نمائندوں نے معاملے کا نوٹس لیا تھا اور اونٹنی کو بعد ازاں مصنوعی ٹانگ لگائی گئی تھی، جس سے وہ چلنے کے قابل بنی۔

  • سندھ میں سیلابی صورتحال، دادو اور نوشہرو فیروز کے متعدد دیہات متاثر

    سندھ میں سیلابی صورتحال، دادو اور نوشہرو فیروز کے متعدد دیہات متاثر

    سندھ کے مختلف اضلاع میں سیلابی ریلوں نے تباہی مچا دی ہے۔ ضلع دادو میں متاثرہ دیہات کی تعداد بڑھ کر 50 ہوگئی ہے جبکہ دادو کی تحصیل میہڑ سے آنے والا زور دار سیلابی ریلا لاڑکانہ کے سیہون بچاؤ بند سے ٹکرا گیا۔

    تفصیلات کے مطابق سیلابی ریلا ٹکرانے سے 3 دیہات اور رابطہ سڑکیں زیرِ آب آگئیں جبکہ کچے کے علاقے نئوں گوٹھ میں پانی داخل ہوگیا۔ صورتحال اس قدر سنگین ہے کہ بنیادی صحت مرکز بھی پانی میں ڈوب گیا، جس سے مقامی آبادی کو طبی سہولتوں کے فقدان کا سامنا ہے۔اسی طرح نوشہرو فیروز میں لوپ بند میں پڑنے والے شگاف کے باعث بکھری کے قریبی کئی گاؤں زیرِ آب آگئے۔ تاہم اس حوالے سے صوبائی وزیر آبپاشی جام خان شورو نے مؤقف دیا ہے کہ "دریائے سندھ میں بکھری کے قریب بند مکمل طور پر محفوظ ہے اور کہیں بھی شگاف نہیں پڑا۔”

    ادھر سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے دعویٰ کیا ہے کہ اب تک سیلاب سے متاثرہ 1 لاکھ 85 ہزار 550 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نہ صرف متاثرہ افراد بلکہ ان کی املاک اور مویشیوں کو بچانے کے لیے بھی ہنگامی اقدامات کر رہی ہے۔

    سیلابی صورتحال کے باعث مقامی آبادی شدید مشکلات کا شکار ہے۔ متاثرین کا کہنا ہے کہ پانی کی بلند ہوتی سطح نے رہائش، خوراک اور علاج معالجے کی سہولیات مزید محدود کر دی ہیں، جبکہ فوری ریلیف اور بحالی کے اقدامات کی ضرورت ہے۔

  • گھوٹکی: سیلاب سے سینکڑوں گاؤں زیرِ آب، متاثرین کا احتجاج، انتظامیہ پر غفلت کا الزام

    گھوٹکی: سیلاب سے سینکڑوں گاؤں زیرِ آب، متاثرین کا احتجاج، انتظامیہ پر غفلت کا الزام

    میرپورماتھیلو(باغی ٹی وی ،نامہ نگارمشتاق علی لغاری)گھوٹکی میں سیلاب سے سینکڑوں گاؤں زیرِ آب، متاثرین کا احتجاج، انتظامیہ پر غفلت کا الزام
    تفصیلات کے مطابق ضلع گھوٹکی میں حالیہ سیلاب نے تباہی مچا دی ہے، جس کے نتیجے میں سینکڑوں گاؤں پانی میں ڈوب گئے، درجنوں مکانات تباہ ہوئے اور ہزاروں لوگ بے گھر ہو گئے۔ متاثرین نے انتظامیہ کی جانب سے کسی بھی قسم کی امداد نہ ملنے پر شدید احتجاج کیا۔

    گاؤں جاڑو خان شیخ کے متاثرین نے مقامی رہنماؤں کمال مہر، نظیر احمد شیخ، جسقم شہید بشیر خان، اور میر حسن لاشاری کی قیادت میں ضلعی انتظامیہ کے خلاف بھرپور مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے الزام عائد کیا کہ سیلاب کو کئی دن گزر جانے کے باوجود ضلعی انتظامیہ نے ابھی تک کوئی امدادی کارروائی شروع نہیں کی۔

    مظاہرین کا کہنا تھا کہ سیلابی پانی سے بچوں میں بیماریاں تیزی سے پھیل رہی ہیں، اور مچھروں کی کثرت کے باعث ملیریا کے کیسز بڑھ رہے ہیں۔ ان کے مویشی بھی بیمار ہو رہے ہیں، لیکن کوئی ڈاکٹر علاج کے لیے نہیں پہنچا۔ اس صورتحال نے ان کے مالی اور جانی نقصان کو مزید بڑھا دیا ہے۔

    متاثرین نے حکومت سے فوری امداد کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ
    * سیلاب زدہ علاقوں میں فوری طور پر امدادی کارروائیاں شروع کی جائیں۔
    * متاثرین کو ادویات، خوراک اور عارضی رہائش فراہم کی جائے۔
    * جانوروں کے لیے بھی فوری طبی امداد کا بندوبست کیا جائے تاکہ ان کی زندگیاں بچائی جا سکیں۔

  • خانپور مہر: سکول کی چھت گرنے سے متعدد طلبہ زخمی

    خانپور مہر: سکول کی چھت گرنے سے متعدد طلبہ زخمی

    میرپورماتھیلو(باغی ٹی وی،نامہ نگارمشتاق لغاری)گھوٹکی کے علاقے خانپور مہر کے گاؤں احمد آباد میں ایک پرائمری اسکول کی چھت کا ایک حصہ گرنے سے کئی معصوم طلبہ زخمی ہو گئے۔ یہ افسوسناک واقعہ اس وقت پیش آیا جب بچے معمول کے مطابق کلاس میں مصروف تھے۔

    تفصیلات کے مطابق اچانک چھت کا ایک حصہ گر گیا جس کے نتیجے میں متعدد طلبہ ملبے تلے دب گئے۔ فوری طور پر امدادی کارروائیاں شروع کی گئیں اور زخمی بچوں کو قریبی ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں ان کا علاج جاری ہے۔

    سماجی رہنماؤں نے اس واقعے کو محکمہ تعلیم کی شدید غفلت قرار دیا ہے۔ انہوں نے اس سانحے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جانی چاہیے اور انہیں کسی صورت معاف نہیں کیا جا سکتا۔ یہ واقعہ اسکولوں کی بوسیدہ عمارتوں اور ان کی دیکھ بھال میں غفلت جیسے اہم مسائل کی طرف توجہ دلاتا ہے۔

  • گھوٹکی:سرکاری ایس اوز پیز نظرانداز،سکول پرنسپل نے بچوں کو گیٹ سے نکال دیا، والدین کا احتجاج

    گھوٹکی:سرکاری ایس اوز پیز نظرانداز،سکول پرنسپل نے بچوں کو گیٹ سے نکال دیا، والدین کا احتجاج

    میرپور ماتھیلو (نامہ نگار، مشتاق علی لغاری) انگلش پیپلز سکول (نزدِ وابڈا آفس، جی ٹی روڈ، رحمن والی پارک، گھوٹکی) جو موون فاؤنڈیشن اور سیف سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے زیرِ اہتمام چل رہا ہے، میں پرنسپل ایاز گل میمن کی SOP کی پاسداری کے نام پر تاخیر کرنے والے بچوں کو اسکول کے گیٹ کے باہر نکال دینے کے واقعے نے والدین میں تشویش اور غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے۔

    والدین کے مطابق آج پرنسپل نے بغیر والدین کو آگاہ کیے متعدد بچوں کو اسکول گیٹ سے باہر نکال دیا، جن میں تیسری کلاس کی ایک چھوٹی بچی، چھٹی کلاس کا ایک لڑکا اور آٹھویں کلاس کے دیگر بچے شامل ہیں۔ والدین نے بتایا کہ بچوں کو واپس بھیجنے کے وقت اسکول کے باہر رکشہ والا موجود نہیں تھا جو بچوں کو لے کر گیا تھا، جس کی وجہ سے بچے خطرناک سڑکیں اور ریلوے ٹریک کراسنگ کرکے گھر گئے۔ راستے میں بھٹکتا کتا یا کسی شرپسند کے حملے کا خدشہ نمایاں ہے۔

    والدین نے سوال اٹھایا کہ اگر سکول انتظامیہ والدین کو مطلع کیے بغیر بچوں کو باہر نکال دے تو کسی ناخوشگوار واقعے کی ذمہ داری کس پر عائد ہوگی؟ انہوں نے کہا کہ سکول کے روزگار قوانین یا SOP میں بچوں کی حفاظت اور والدین کو پیشگی اطلاع کے ضوابط شامل ہونے چاہئیں۔

    مقامی والدین نے پرنسپل ایاز گل میمن، اسکول مینجمنٹ اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ ایسی کڑی پالیسیوں کا ازسرنو جائزہ لیا جائے، تا کہ بچوں کی حفاظت کو مقدم رکھا جا سکے۔ انہوں نے انتظامیہ سے درخواست کی کہ بچوں کو گیٹ کے باہر نہ چھوڑا جائے اور تاخیر کی صورت میں والدین کو فوری طور پر مطلع کرنے کا ضابطہ وضع کیا جائے۔

    اس واقعہ سے متعلق سکول پرنسپل کا مؤقف جاننےکیلئے رابطہ کی کئی بار کوشش کی گئی لیکن رابطہ نہ سکا،اور سکول انتظامیہ واضح جواب نہ دے سکی.

  • گھوٹکی: آٹے کی قیمت میں 60 روپے فی کلو اضافہ، عوام سڑکوں پر آگئے

    گھوٹکی: آٹے کی قیمت میں 60 روپے فی کلو اضافہ، عوام سڑکوں پر آگئے

    میرپور ماتھیلو (نامہ نگار باغی ٹی وی مشتاق علی لغاری) گھوٹکی ضلع کے تمام تعلقوں میں آٹے کی قیمت میں 60 روپے فی کلو کے ظالمانہ اضافے کے خلاف عوام سراپا احتجاج بن گئے۔ خانپور مہر، میرپور ماتھیلو، ڈہرکی، اوباڑو، سرحد، گھوٹکی، جروار، یارو لنڈ اور داد لغاری میں شہریوں نے فلور ملوں کے سامنے مظاہرے کیے۔

    مظاہرین کا کہنا تھا کہ پہلے آٹے کی قیمت 60 روپے فی کلو تھی، لیکن اب یہ بڑھ کر 120 سے 125 روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے، جس سے غریب اور مزدور طبقے کی کمر ٹوٹ گئی ہے۔

    شہریوں نے منافع خوروں اور ذخیرہ اندوزوں کے خلاف شدید نعرے بازی کرتے ہوئے کہا کہ آٹے کی قلت اور ناجائز منافع خوری نے زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر ایکشن لے اور عوام کو ریلیف فراہم کرے۔

  • گھوٹکی،سیلاب سے قادرپورگیس فیلڈ کے 10کنویں متاثر،گیس کی سپلائی معطل

    گھوٹکی،سیلاب سے قادرپورگیس فیلڈ کے 10کنویں متاثر،گیس کی سپلائی معطل

    ملک کے بالائی علاقوں میں مسلسل بارشوں اور دریائے سندھ میں پانی کے غیر معمولی اضافے کے باعث سیلابی صورتحال سنگین ہوگئی ہے۔ لاڑکانہ، گھوٹکی اور کشمور کے اضلاع میں ہزاروں افراد متاثر اور وسیع رقبہ زیرِ آب آگیا۔

    لاڑکانہ میں زمینداری بند میں 100 فٹ چوڑا شگاف پڑنے کے نتیجے میں سیلابی پانی کا تیز ریلا درگاہ ملوک شاہ بخاری میں داخل ہوگیا، جس کے بعد پانی تیزی سے زرعی زمینوں اور آبادیوں کی طرف بڑھ رہا ہے۔ مقامی زمینداروں اور رہائشیوں کا کہنا ہے کہ اگر شگاف بند نہ ہوا تو مزید سینکڑوں ایکڑ رقبہ اور درجنوں دیہات متاثر ہوسکتے ہیں۔ادھر گھوٹکی میں قادرپور گیس فیلڈ کے 10 کنویں سیلابی پانی سے متاثر ہوکر بند ہوگئے، جس کے باعث علاقے میں گیس کی فراہمی معطل ہوگئی ہے۔ توانائی کے ماہرین کے مطابق گیس کی بندش سے ملکی سطح پر بھی سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال قابو میں آتے ہی متاثرہ کنوؤں کی بحالی کا عمل شروع کیا جائے گا۔

    کشمور میں دریائے سندھ میں گڈو بیراج کے مقام پر پانی کے بہاؤ میں مزید اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں اس وقت اونچے درجے کا سیلاب برقرار ہے۔ فلڈ کنٹرول ذرائع کے مطابق اگلے 48 گھنٹوں میں پانی کا دباؤ سکھر بیراج تک پہنچنے کا امکان ہے۔ تاہم انتظامیہ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ گڈو بیراج کو فی الحال کوئی خطرہ نہیں۔انتظامیہ کے مطابق اب تک کچے کے علاقوں سے 30 ہزار افراد محفوظ مقامات پر منتقل کیے جاچکے ہیں، تاہم درجنوں دیہات اب بھی زیرِ آب ہیں اور وہاں کے باسی مشکلات میں گھرے ہوئے ہیں۔ خاص طور پر گھوٹکی کی تحصیل جان محمد علی کے گردونواح میں کئی بستیاں ڈوب گئی ہیں جبکہ متاثرین کا کہنا ہے کہ سرکاری سطح پر انخلا کا عمل تیز نہیں ہوا، جس کی وجہ سے لوگ اپنی مدد آپ کے تحت نقل مکانی پر مجبور ہیں۔ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر دریائے سندھ میں پانی کی سطح مزید بلند ہوئی تو نہ صرف زرعی معیشت کو شدید نقصان پہنچے گا بلکہ گیس اور بجلی کی فراہمی پر بھی منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

  • گھوٹکی اور اوباڑو کا کچا زیرِ آب آنے کا خدشہ، ضلعی انتظامیہ کا الرٹ جاری

    گھوٹکی اور اوباڑو کا کچا زیرِ آب آنے کا خدشہ، ضلعی انتظامیہ کا الرٹ جاری

    گھوٹکی ایٹ میرپور ماتھیلو (باغی ٹی وی، نامہ نگار مشتاق علی لغاری) گھوٹکی اور اوباڑو کے کچے کے علاقے میں سیلاب کا خدشہ ہے، جس کے پیشِ نظر ضلعی انتظامیہ نے الرٹ جاری کر دیا ہے۔ ڈپٹی کمشنر گھوٹکی منظور احمد کنرانی نے بتایا کہ آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران گڈو اور سکھر بیراج سے پانی کی سطح میں اضافہ متوقع ہے۔

    پاک نیوی کی ٹیم کشتیوں کے ذریعے کچے کے علاقوں میں جا کر لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی اپیل کر رہی ہے۔ ڈپٹی کمشنر نے کچے کے رہائشیوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے ضروری سامان اور مویشیوں کے ساتھ محفوظ مقامات یا ضلعی انتظامیہ کے قائم کردہ ریلیف کیمپس میں چلے جائیں۔

    ضلعی انتظامیہ نے بتایا کہ ریلیف کیمپوں میں تمام ضروری سہولیات دستیاب ہیں۔ متاثرین کو خیمے، مچھردانیاں اور دیگر امدادی سامان فراہم کیا جا رہا ہے۔ حفاظتی بندوں پر پاک نیوی، ریسکیو 1122 اور ریونیو کا عملہ موجود ہے تاکہ ہنگامی صورتحال میں امدادی کارروائیاں کی جا سکیں۔ متاثرین کی محفوظ مقامات پر منتقلی کے لیے کشتیاں بھی فراہم کی جا رہی ہیں۔

    ڈپٹی کمشنر نے مزید بتایا کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں رہائشی کنٹرول روم سے رابطہ کر سکتے ہیں۔ اوباڑو کے کچے کے رہائشیوں کے لیے کنٹرول روم کا نمبر 0723667187 ہے جبکہ گھوٹکی کے رہائشیوں کے لیے نمبر 0723924020 ہے۔ اس کے علاوہ ضلعی کنٹرول روم کے نمبر 0723661799 پر بھی رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

  • پنجاب کے عوام ابھی تک امداد کے منتظر ہیں،بلاول

    پنجاب کے عوام ابھی تک امداد کے منتظر ہیں،بلاول

    چیئرمین پی پی بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف سے بات ہونے کے باوجود سیلاب متاثرین کی امداد میں تاخیر ہو رہی ہے۔

    سکھر میں میڈيا سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پی پی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ میں نے وزیرا‏عظم شہباز شریف سے بات کی تھی کہ سیلاب متاثرہ علاقوں میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت امداد پہنچائی جائے لیکن 2 ہفتے گزرنے کے بعد بھی پنجاب کے عوام ابھی تک امداد کے منتظر ہیں،میں وفاق سے سندھ کےعوام کے لیے بھی یہی درخواست دہراؤں گا، سیلاب سے ڈيڑھ ارب ڈالرز کا نقصان ہوگا لہٰذا ملک بھر میں زرعی ایمرجنسی نافذ کرنی چاہیے، پیپلزپارٹی ڈیمز کی حمایت کرتی ہے لیکن دریائے سندھ پر ڈیم بنانے کے شوشے کیوں چھوڑے جا رہے ہيں ، سیلاب گزرنے کے بعد متنازع ایشوز پر بات کریں۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے سیلاب متاثرہ علاقوں میں کسانوں کے بجلی بل معاف کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔