Baaghi TV

Category: سکھر

  • سکھر: محکمہ پولیس کے درجنوں اہلکاروں کے خلاف سزائیں، تبادلے اور اپیلیں مسترد

    سکھر: محکمہ پولیس کے درجنوں اہلکاروں کے خلاف سزائیں، تبادلے اور اپیلیں مسترد

    سکھر (باغی ٹی وی، نامہ نگار مشتاق علی لغاری)ڈی آئی جی سکھر رینج کیپٹن (ر) فیصل عبداللہ چاچڑ کی زیر صدارت اردلی روم کا اہم اجلاس دفتر اطلاعات و تعلقاتِ عامہ سکھر رینج میں منعقد ہوا، جس میں کرپشن، اختیارات کے ناجائز استعمال، جرائم پر قابو پانے میں ناکامی اور محکمانہ غفلت کے الزامات پر پولیس افسران و اہلکاروں کے خلاف محکمہ جاتی انکوائریوں کی روشنی میں سخت فیصلے سنائے گئے۔ اجلاس میں افسران و اہلکاروں کو میجر و مائنر سزائیں، تبادلے، تنبیہات اور برطرفی کے خلاف اپیلوں پر فیصلے جاری کیے گئے۔

    انسپکٹر عمران خان بھیو، انسپکٹر محمد رمضان ملاح اور کانسٹیبل عبدالجبار چنا کی ایک سال کی سروس ضبط کرلی گئی۔ انسپکٹر نظیر احمد منگی، سید آفتاب احمد شاہ، سعید احمد میرانی، سب انسپکٹر رحمت اللہ سولنگی، غلام صفدر بوزدار، مہربان کولاچی، اے ایس آئی تاج محمد ملک، اعجاز علی گڈانی، علی حسن ملاح، ہیڈ کانسٹیبل عبداللہ کلوڑ اور کانسٹیبل فقیر محمد رند کے سالانہ انکریمنٹ روکے گئے، جبکہ سب انسپکٹر سکندر علی لاکھیر کا دو سال کا انکریمنٹ روکا گیا۔

    سب انسپکٹر ذوالفقار بھمبرو، حق نواز کلوڑ اور کانسٹیبل ثناء اللہ ماچھی کی میجر سزاؤں کے خلاف اپیلیں خارج کر دی گئیں۔ ہیڈ کانسٹیبل عبداللہ کلوڑ کی میجر پنشمنٹ کو مائنر میں تبدیل کر دیا گیا جبکہ کانسٹیبل شرف الدین ملک کی سروس ضبط اور تنزلی کی سزا کو ایک سال کے انکریمنٹ کی روک میں بدل کر انہیں دوبارہ ہیڈ کانسٹیبل کے عہدے پر بحال کر دیا گیا۔

    سب انسپکٹر خیر محمد لغاری، ہیڈ کانسٹیبل علی اکبر بھٹو، کانسٹیبل محمد شفیق پتافی اور معشوق علی بھمبرو کی برطرفی کے خلاف اپیلیں مسترد کی گئیں۔ تاہم کانسٹیبل آصف علی شیخ کی برطرفی کو ایک سال کی سروس ضبط کرنے میں تبدیل کرتے ہوئے بحال کر دیا گیا۔ کانسٹیبل عبدالنبی اجن اور عابد حسین مہیسر کی برطرفی کو کمپلسری ریٹائرمنٹ میں بدل دیا گیا۔

    انسپکٹر دیدار حسین ابڑو، جاوید علی میمن، سیف اللہ انصاری، ہیڈ کانسٹیبل محمد سومر پھوڑ، مشتاق احمد دایو، کانسٹیبل تیمور علی کورائی، ممتاز علی کورائی، بشیر احمد ملک، توفیق احمد مہر، زبیر احمد مہر، محمد ابراہیم ڈومکی اور انصاف علی گوپانگ کے خلاف الزامات ثابت نہ ہونے پر ان کے شوکاز نوٹسز فائل کر دیے گئے۔

    انسپکٹر مصور حسین قریشی، عبدل علی پتافی، رضوان ناریجو، سب انسپکٹر عبدالرزاق انصاری، غلام صفدر بوزدار، ثناء اللہ کونهارو، محمد پنیل منگی، اے ایس آئی عبدالجبار پٹھان، کانسٹیبل آصف علی سولنگی، الطاف حسین جتوئی، نظام الدین مری، صدام حسین لاڑک، اسد اللہ لاڑک، نوید ممتاز بھٹو، شیر زادہ پٹھان اور جونیئر کلرک برکت علی لاشاری کو تنبیہ کرتے ہوئے آئندہ محتاط رہنے کی ہدایات جاری کی گئیں۔

    اے ایس آئی رسول بخش دایو، کانسٹیبل مظفر حسین شیخ اور جونیئر کلرک منور حسین وسان کو ویلفیئر برانچز میں شہدائے پولیس کی فیملیز اور مرحوم اہلکاروں کے لواحقین کے مسائل حل نہ کرنے پر ایک سال کا انکریمنٹ روکتے ہوئے آئندہ محتاط رہنے کی ہدایت کی گئی۔

    سی پیک ڈیوٹی اور دیگر وجوہات کے باعث مختلف یونٹس سے واپسی پر سکھر، خیرپور اور گھوٹکی میں انسپکٹر سے کانسٹیبل رینک کے 30 اہلکاروں کے تبادلے بھی کیے گئے۔

    ڈی آئی جی فیصل عبداللہ چاچڑ نے کہا کہ محکمانہ فرائض میں غفلت، لاپرواہی، کرپشن، اختیارات سے تجاوز اور خاص طور پر شہداء پولیس کی فیملیز سے بے حسی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی، اور ایسی سرگرمیوں میں ملوث افسران و اہلکار کسی رعایت کے مستحق نہیں ہوں گے۔ ان کے خلاف سخت ترین محکمانہ و قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

  • گھوٹکی: ٹک ٹاکرسمیرا راجپوت کی پر اسرار موت، زہر دیے جانے کا الزام، دو افراد گرفتار

    گھوٹکی: ٹک ٹاکرسمیرا راجپوت کی پر اسرار موت، زہر دیے جانے کا الزام، دو افراد گرفتار

    میرپورماتھیلو(باغی ٹی وی،نامہ نگارمشتاق لغاری) ضلع گھوٹکی کے نواحی علاقے میں ظلم اور سفاکی کا لرزہ خیز واقعہ پیش آیا ہے، جہاں معروف ٹک ٹاکر مسمات سمیرا راجپوت دختر محمد شریف راجپوت کی لاش اس کے گھر سے ملی ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق سمیرا کو مبینہ طور پر زہریلی گولیاں دے کر قتل کیا گیا اور اس کی لاش گھر میں اس انداز سے پھینکی گئی تاکہ موت کو قدرتی موت ظاہر کیا جا سکے۔

    ڈی ایس پی انور شیخ کے مطابق مقتولہ کی 15 سالہ بیٹی نے اپنے بیان میں بتایا کہ چند افراد اس پر زبردستی شادی کے لیے دباؤ ڈال رہے تھے اور اسی دباؤ کے باعث اس کی والدہ سمیرا کو زہر دے کر قتل کیا گیا۔ بیٹی نے واقعے کے فوراً بعد ایمبولینس کے ذریعے لاش کو اپنی خالہ کے گھر منتقل کیا اور پولیس کو اطلاع دی۔ پولیس اطلاع ملتے ہی جائے وقوعہ پر پہنچی اور لاش کو اپنی تحویل میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال منتقل کر دیا۔

    ذرائع کے مطابق سمیرا راجپوت طویل عرصے سے گھریلو تنازعات اور سسرالی رشتہ داروں کی جانب سے ہراسانی کا شکار تھی۔ مقتولہ کی بیٹی کے بیانات اور ابتدائی شواہد کی بنیاد پر پولیس کو شبہ ہے کہ یہ ایک باقاعدہ سازش کے تحت کیا گیا قتل ہو سکتا ہے۔ پولیس نے شک کی بنیاد پر دو افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔

    ایم ایس سول اسپتال ڈاکٹر سرونند کے مطابق ابتدائی میڈیکل رپورٹ میں تشدد کے کوئی شواہد نہیں ملے، تاہم لاش سے حاصل کیے گئے نمونے لیبارٹری بھیج دیے گئے ہیں، جن کی رپورٹ آنے کے بعد موت کی اصل وجہ سامنے آئے گی۔ دوسری جانب پولیس کا کہنا ہے کہ تاحال مقدمہ درج نہیں کیا گیا اور تفتیش جاری ہے۔

  • سکھر: ڈی آئی جی کا کرائم کنٹرول اجلاس، منشیات فروشوں اور اشتہاریوں کے خلاف سخت ایکشن کا حکم

    سکھر: ڈی آئی جی کا کرائم کنٹرول اجلاس، منشیات فروشوں اور اشتہاریوں کے خلاف سخت ایکشن کا حکم

    سکھر (باغی ٹی وی،نامہ نگار مشتاق علی لغاری)آئی جی سندھ غلام نبی میمن کی ہدایات پر سکھر رینج میں جرائم کے سدباب اور امن و امان کی صورتحال میں بہتری لانے کے لیے ڈی آئی جی سکھر کیپٹن (ر) فیصل عبداللہ چاچڑ کی زیر صدارت رینج آفس سکھر میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں منشیات فروشوں، عادی مجرموں، اشتہاری ملزمان اور دیگر جرائم پیشہ عناصر کے خلاف جاری آپریشنز، تھانوں کی کارکردگی، افسران کی تعیناتی اور ترقی، سرکاری وسائل کے استعمال، اور محکمہ جاتی نظم و ضبط پر تفصیلی غور کیا گیا۔

    اجلاس کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا، جس میں ایس ایس پی گھوٹکی انور کھتران، ایس ایس پی خیرپور حسن سردار نیازی، ایس ایس پی سکھر اظہر خان مغل، ڈی ایس پیز، آفس سپرنٹنڈنٹ، پی ایس اور رینج آفس کے تمام ہیڈز آف برانچز نے شرکت کی۔

    ڈی آئی جی سکھر کی جانب سے اجلاس میں مندرجہ ذیل احکامات جاری کیے گئے:

    * تمام آرگنائزڈ کرائمز اور منشیات فروشوں کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے۔
    * انسدادِ دہشتگردی کی عدالتوں میں زیر التوا مقدمات کے روپوش اور اشتہاری ملزمان کی فوری گرفتاری کو یقینی بنایا جائے۔
    * ہر ماہ منشیات اور مجموعی جرائم کے خلاف کارکردگی رپورٹ کا تفصیلی جائزہ لیا جائے۔
    * صرف اہل اور قابل افسران کو ایس ایچ اوز تعینات کرنے کے لیے پول تشکیل دیا جائے، اور ہوم ڈسٹرکٹ افسران کو ایس ایچ او نہ لگایا جائے۔
    * محکمانہ کورسز کے دوران افسران کو کسی بھی تھانے یا پولیس پوسٹ پر تعینات نہ کیا جائے۔
    * پولیس کانسٹیبلز کو پوسٹ انچارج تعینات کرنے کی ممانعت کی گئی۔
    * ماوا اور گٹکا استعمال کرنے والے پولیس اہلکاروں کی فہرست بنا کر ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔
    * تھانوں، دفاتر اور پولیس لائنز میں موجود غیر حاضر یا ویزا پر تعینات اہلکاروں کی فہرستیں تیار کی جائیں۔
    * ترقی کے منتظر افسران کی سالانہ رپورٹس مکمل کر کے جلد از جلد ڈیپارٹمنٹل پروموشن بورڈ کا اجلاس بلایا جائے۔
    * ہائی ویز پر سیکیورٹی بہتر بنانے کے لیے ہالٹنگ پوائنٹس اور ٹول پلازوں پر نصب کیمروں و سولر سسٹمز کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے۔
    * کچے علاقوں میں ڈاکوؤں کے خلاف جاری آپریشن میں مصروف اہلکاروں کو کچا الاؤنس فراہم کرنے پر غور کیا جائے۔
    * تمام تھانوں پر CCTV کیمروں کی تنصیب کو یقینی بنایا جائے۔
    * 4 اگست کو شہدائے پولیس کے لیے ہونے والے پروگرامز میں خصوصی اقدامات کیے جائیں اور شہدا کی فیملیز و ریٹائرڈ ملازمین کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کیے جائیں۔
    * لسٹڈ مجرموں، ٹارگٹیڈ آفنڈرز، نارکوٹکس پیڈلرز اور عادی مجرموں کے خلاف بلا تفریق کارروائی کی جائے۔
    * آن لائن حاضری کو یقینی بنایا جائے، غیر حاضر اہلکاروں کے خلاف محکمانہ کارروائی ہو گی۔
    * تھانوں میں منشی کے لیے صرف سینئر اہلکار تعینات کیے جائیں، کانسٹیبلز کو نہ لگایا جائے۔

    آئی جی سندھ کی ہدایات کے مطابق شہریوں سے بدتمیزی یا بد اخلاقی کی کسی بھی شکایت پر فوری ایکشن لیا جائے گا اور سخت محکمانہ سزائیں دی جائیں گی۔ ڈی آئی جی فیصل عبداللہ چاچڑ نے تینوں اضلاع گھوٹکی، خیرپور اور سکھر کی پولیس کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے مزید بہتری کے لیے مؤثر اقدامات کی ہدایت کی۔ اجلاس کو قانون نافذ کرنے کے عملی اقدامات کے لیے سنگ میل قرار دیا گیا۔

  • گھوٹکی: کچے میں ڈاکوؤں کے خلاف بڑا پولیس آپریشن، کمین گاہیں مسمار

    گھوٹکی: کچے میں ڈاکوؤں کے خلاف بڑا پولیس آپریشن، کمین گاہیں مسمار

    میرپورماتھیلو (نامہ نگار باغی ٹی وی، مشتاق علی لغاری) گھوٹکی کے کچے علاقے میں ڈاکوؤں اور اغواء کاروں کے خلاف پولیس کا بھرپور آپریشن جاری ہے۔ ایس ایس پی گھوٹکی محمد انور کھیتران کی قیادت میں تھانہ کچو بنڈی 1 کے کچے علاقے میں ضمیر جاگیرانی اور شوکت جاگیرانی گینگ کے خلاف کارروائی میں دو ڈی ایس پیز، پانچ ایس ایچ اوز اور بھاری نفری بکتر بند گاڑیوں کے ساتھ شریک ہے۔

    پولیس اور ڈاکوؤں کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے، جبکہ پولیس نے اغواء کاروں کی کمین گاہوں اور ٹھکانوں تک رسائی حاصل کر کے انہیں نذر آتش کر کے مسمار کر دیا ہے۔ ایس ایس پی گھوٹکی کا کہنا ہے کہ یہ آپریشن تمام ڈاکوؤں کے ہتھیار ڈالنے تک جاری رہے گا۔

    علاقے میں کشیدگی برقرار ہے اور پولیس کی مزید کمک بھی روانہ کی جا رہی ہے تاکہ امن و امان کو یقینی بنایا جا سکے۔

  • سکھر بیراج کے 16 گیٹس کی تبدیلی مکمل،وزیرآبپاشی جام خان شورو نے کیا افتتاح

    سکھر بیراج کے 16 گیٹس کی تبدیلی مکمل،وزیرآبپاشی جام خان شورو نے کیا افتتاح

    سکھر(باغی ٹی وی، نامہ نگار مشتاق علی لغاری)صوبائی وزیر آبپاشی جام خان شورو نے 21 جولائی کو سکھر بیراج اور دریائے سندھ پر لاڑکانہ کے مقام پر واقع عاقل بند کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے بیراج پر 16 نئے گیٹس کی کامیاب تبدیلی کے بعد ایک گیٹ کو علامتی طور پر اٹھا کر افتتاح کیا۔

    اس موقع پر جام خان شورو نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سکھر بیراج جیسے فعال اور حساس آبی ڈھانچے پر چلتے ہوئے دریائے سندھ کے ساتھ ساتھ 16 گیٹس کی تبدیلی ایک بڑا چیلنج تھا جسے کامیابی سے مکمل کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان گیٹس کی تبدیلی کے بعد بیراج کی عمر میں 30 سال کا اضافہ ہو چکا ہے۔

    وزیر آبپاشی نے بتایا کہ جون 2026 تک مزید 28 گیٹس بھی تبدیل کر دیے جائیں گے، جبکہ بیراج کے پاکٹ گیٹس تیسرے مرحلے میں اپ گریڈ کیے جائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ گیٹس کی تبدیلی کے دوران پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگی صورتحال، وکلاء کی تحریک، اور دہشتگردی جیسے کئی چیلنجز درپیش آئے، لیکن ان سب کے باوجود یہ تاریخی کام مکمل ہوا۔

    انہوں نے سکھر بیراج کو ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے تمام گیٹس کی تبدیلی سے مجموعی وزن میں 3500 ٹن کی کمی آئے گی، جو انجینئرنگ کے لحاظ سے ایک بڑی کامیابی ہے۔ جام خان شورو کے مطابق چینی انجینئرز کی سیکیورٹی کو مدنظر رکھتے ہوئے بائی پاس پل پر خصوصی شیٹس بھی نصب کی گئی ہیں۔

    اس موقع پر وزیر نے انکشاف کیا کہ سکھر بیراج کے متبادل ایک نئے بیراج کے لیے بھی اسٹڈی جاری ہے۔ تاہم، انہوں نے دریائے سندھ میں پانی کی شدید قلت پر تشویش کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ دریا میں اتنا پانی چھوڑا ہی نہیں جا رہا کہ ریت بہائی جا سکے۔ "ہمارا مطالبہ ہے کہ اپریل میں ہمیں ہماری ضرورت کے مطابق پانی فراہم کیا جائے تاکہ فصلیں وقت پر کاشت ہو سکیں۔”

    انہوں نے کہا کہ پانی کی کمی کے مسائل اب بھی موجود ہیں اور اس کے لیے محکمہ آبپاشی مسلسل جدوجہد کر رہا ہے۔ "اگر پانی آ بھی جاتا ہے تو وہ بارش کا ہوتا ہے جو زرعی مقاصد کے لیے مؤثر نہیں ہوتا،” انہوں نے کہا۔

    اس موقع پر سیکریٹری آبپاشی ظریف اقبال کھیڑو، چیف انجنیئرز اور دیگر اعلیٰ افسران بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔

  • صحرائےتھر میں سانپوں کا راج، بارش کے بعد 200 افراد زہریلے ڈنک کا شکار

    صحرائےتھر میں سانپوں کا راج، بارش کے بعد 200 افراد زہریلے ڈنک کا شکار

    تھرپارکر (باغی ٹی وی رپورٹ) صحرائے تھر میں حالیہ مون سون بارشوں کے بعد خطرناک سانپوں کی بڑی تعداد بلوں سے باہر نکل آئی ہے، جس کے باعث انسانی زندگی کو شدید خطرات لاحق ہو چکے ہیں۔نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق جولائی 2025 کے آغاز سے اب تک ضلع تھرپارکر میں 200 سے زائد افراد کو سانپوں نے ڈس لیا ہے، جنہیں فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا۔

    متاثرہ افراد میں خواتین اور بچے بھی شامل
    محکمہ صحت کے مطابق سانپ کے ڈسے جانے والے مریضوں میں مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ متاثرین کو ضلع بھر کے مختلف مراکز صحت میں ابتدائی طبی امداد فراہم کی گئی، جبکہ تشویشناک حالت میں موجود چند مریضوں کو حیدرآباد کے ہسپتالوں میں ریفر کیا گیا۔ ایک مریض جانبر نہ ہو سکا اور اس کی ہلاکت کی تصدیق کر دی گئی ہے۔

    خطرناک سانپوں کی اقسام اور افزائش کا موسم
    ماہرینِ حیاتیات کے مطابق صحرائے تھر کے جنگلات اور ریگزاروں میں سانپوں کی 10 سے زائد اقسام پائی جاتی ہیں، جن میں سب سے خطرناک نیوروٹاکسک (دماغی نظام کو متاثر کرنے والا) اور مسکولوٹاکسک (پٹھوں پر اثر انداز ہونے والا) زہر رکھنے والے سانپ شامل ہیں۔
    مون سون کے موسم میں سانپوں کی افزائش کا دور شروع ہوتا ہے جس میں وہ بلوں سے باہر نکلتے ہیں۔ اس دوران وہ زیادہ متحرک اور جارح مزاج ہو جاتے ہیں کیونکہ زہر خارج کرنے کی فطری ضرورت اور موسمی درجہ حرارت میں تبدیلی ان کی حرکات کو تیز کر دیتی ہے۔

    سانپ کیوں ڈس لیتے ہیں؟
    ماہرین کا کہنا ہے کہ سانپ عام طور پر خود حملہ نہیں کرتے بلکہ آہٹ محسوس کر کے دفاعی طور پر ڈس لیتے ہیں۔ چونکہ صحرائی علاقوں میں لوگ اکثر ننگے پاؤں یا بغیر احتیاطی تدابیر کے سفر کرتے ہیں، اس لیے وہ ان حملوں کی زد میں آ جاتے ہیں۔

    اینٹی وینم کی دستیابی اور علاج کی صورتحال
    ڈاکٹرز کے مطابق سانپ کے کاٹے کا واحد مؤثر علاج اینٹی اسنیک وینم انجیکشن ہے، جو سرکاری ہسپتالوں میں دستیاب ہے۔ ایک مریض کو اوسطاً 7 سے 10 انجیکشنز لگانے پڑتے ہیں تاکہ زہر کے اثرات کو ختم کیا جا سکے۔محکمہ صحت تھرپارکر نے تمام ضلعی اور تحصیل سطح کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی ہے اور اضافی اسٹاک کی فراہمی یقینی بنانے کے احکامات جاری کیے ہیں۔

    ماہرین کی احتیاطی تدابیر
    طبی ماہرین اور محکمہ وائلڈ لائف نے شہریوں کو تاکید کی ہے کہ وہ خاص طور پر بارشوں کے بعد صحرا یا جھاڑیوں میں جاتے ہوئے لانگ بوٹس پہنیں، لاٹھی کا استعمال کریں اور رات کے وقت ہاتھ میں روشن بتی رکھیں تاکہ سانپوں یا دیگر حشرات سے بچا جا سکے۔

    ریاستی اقدامات اور عوامی تحفظ کی اپیل
    مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ہر سال بارشوں کے بعد سانپوں کی یلغار معمول بن چکی ہے مگر حکومتی سطح پر مستقل حکمت عملی موجود نہیں۔ عوامی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ آگاہی مہم چلائی جائے، موبائل یونٹس بھیجے جائیں اور دیہی سطح پر طبی سہولیات کو فوری مستحکم کیا جائے۔

  • میرپور ماتھیلو: گھوٹکی پولیس کی منشیات و جوئے کے خلاف کارروائیاں، ایک گرفتار، 10 فرار

    میرپور ماتھیلو: گھوٹکی پولیس کی منشیات و جوئے کے خلاف کارروائیاں، ایک گرفتار، 10 فرار

    میرپور ماتھیلو (باغی ٹی وی، نامہ نگار مشتاق علی لغاری) ایس ایس پی گھوٹکی محمد انور کھیتران کی ہدایت پر گھوٹکی پولیس نے منشیات فروشوں اور جواریوں کے خلاف فیصلہ کن کریک ڈاؤن کا آغاز کرتے ہوئے مختلف علاقوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔

    تھانہ میرپور ماتھیلو پولیس نے دورانِ گشت خفیہ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے لعل شاہ کے میخانے پر چھاپہ مارا اور منشیات فروش اختیار ولد رحیم بخش بوزدار سکنہ بوزدار کالونی میرپور ماتھیلو کو 400 گرام چرس سمیت گرفتار کر لیا۔
    گرفتار ملزم کے خلاف کرائم نمبر 137/2025، دفعہ 9(i) Sr 3(A) CNS (Amendment) 2022 کے تحت مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔

    دوسری کارروائی میں تھانہ یارو لنڈ پولیس نے خفیہ اطلاع پر جوئے کے اڈے پر چھاپہ مارا جہاں سے امجد ولد اصغر عرف اکرو لنڈ کو 2 تاش کے پتے اور 1400 روپے نقد رقم سمیت گرفتار کیا گیا، جبکہ اس کے 10 ساتھی ملزمان جن میں علی دوست، علی محمد ممدانی، کرم پتافی، سھیل لنڈ، اخلاق لنڈ، غضنفر لنڈ، حاجی منگنھار، عیدن کوری اور دو نامعلوم افراد شامل ہیں، موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔
    پولیس نے گرفتار ملزم کے خلاف کرائم نمبر 30/2025، دفعہ 5 سندھ جواء ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر کے قانونی کارروائی شروع کر دی ہے، جبکہ فرار ملزمان کی تلاش جاری ہے۔

    ایس ایس پی گھوٹکی محمد انور کھیتران نے ان کامیاب کارروائیوں پر پولیس پارٹی کو شاباش دیتے ہوئے کہا ہے کہ منشیات اور جوئے جیسے سماجی جرائم کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی جاری رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ عوام کے تحفظ کے لیے جرائم پیشہ عناصر کے خلاف بلا امتیاز کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔

    گھوٹکی پولیس کی یہ کارروائیاں علاقے میں امن و امان کے قیام کی جانب مثبت پیش رفت قرار دی جا رہی ہیں، جنہیں مقامی حلقوں کی جانب سے سراہا گیا ہے۔

  • ٹانگ سے محروم کی جانے والی اونٹنی کو مصنوعی ٹانگ لگا دی گئی

    ٹانگ سے محروم کی جانے والی اونٹنی کو مصنوعی ٹانگ لگا دی گئی

    ضلع سانگھڑ ، ظلم و ستم کا شکار اونٹنی کو جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے مصنوعی ٹانگ لگانے میں کامیابی حاصل ہوگئی ہے۔ یہ اونٹنی گزشتہ سال اپنے مالک کے مطابق ایک وڈیرے کی زمین پر چلی گئی تھی جہاں اس پر سخت تشدد کیا گیا اور تیز دھار آلے سے اس کی ٹانگ کاٹ دی گئی تھی۔

    تقریباً ایک سال کی کوششوں اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے بعد، مقامی کمپنی سی ڈی آر ایس بینجی پراجیکٹ شیلٹر کے ماہرین نے اس اونٹنی کا معائنہ کیا اور پاکستان میں ہی اس کے لیے مصنوعی ٹانگ تیار کی گئی۔ مصنوعی ٹانگ کاربن فائبر، اسٹیل اور ایئرکرافٹ ایلومینیم سے بنی ہے، جو نہ صرف ہلکی بلکہ مضبوط بھی ہے۔ اس مصنوعی ٹانگ کے بعد، کمپنی بائیونکس کے ماہرین نے نہ صرف اونٹنی کو مصنوعی ٹانگ لگا کر ایک تاریخی سنگ میل عبور کیا بلکہ اسے دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑا کرنے میں بھی کامیاب ہوئے۔ اس کامیابی نے نہ صرف حیوانات کی دیکھ بھال میں ایک نیا باب کھولا ہے بلکہ پاکستان میں مصنوعی اعضا کی تیاری اور انسٹالیشن کے شعبے میں بھی نمایاں پیش رفت کی نمائندگی کرتی ہے۔

    اونٹنی کے مالک سومربھَن نے اس تجربے کو جانوروں کے حقوق اور ہمدردی کے لیے ایک مثبت قدم قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ اس بات کے لیے شکرگزار ہیں کہ ان کی اونٹنی دوبارہ چل پھر سکتی ہے۔یہ کامیابی نہ صرف ضلع سانگھڑ بلکہ پورے پاکستان میں حیوانات کے لیے طبی سہولیات اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال میں ایک اہم سنگ میل ہے، جو کہ انسانیت اور جانوروں کے ساتھ ہمدردی کی بہترین مثال پیش کرتی ہے۔

    ڈائریکٹر سی ڈی آر ایس بینجی پروجیکٹ سارہ جہانگیر کا کہنا تھا کہ واقعے کے بعد اونٹنی جب آئی تو وہ خوفزدہ اور شدید تکلیف میں تھی ، اونٹنی کیلئے خاص طور پر تیار کردہ مصنوعی ٹانگ بیرون ملک سے منگوائی گئی تھی۔

    پیپلز پارٹی کی رہنما شازیہ عطا مری نے بھی اونٹنی کی نئی تصاویر جاری کردی ہیں، واضح رہے کہ اونٹنی کی ٹانگ کاٹنے کا واقعہ گزشتہ سال جون میں پیش آیا تھا جس میں سانگھڑ کے ایک زمیندار نے کھیتوں میں داخل ہونے پر طیش میں آکر تیز دھار آلے کی مدد سے اونٹنی کی ٹانگ کاٹ دی تھی جس کے بعد اونٹنی کو علاج کی غرض سے کراچی منتقل کیا گیا تھا جبکہ پولیس نے واقعے میں ملوث ملزمان کو گرفتار بھی کرلیا تھا۔

  • حمیرا اصغر  کیس،میر پور کے حکیم پر نازیبا ویڈیو،مبینہ زیادتی کا الزام،حکیم کی تردید

    حمیرا اصغر کیس،میر پور کے حکیم پر نازیبا ویڈیو،مبینہ زیادتی کا الزام،حکیم کی تردید

    میرپورخاص ( باغی ٹی وی نامہ نگار سید شاہزیب شاہ کی رپورٹ ) مشہور اداکارہ حمیرہ اصغر قتل کیس میرپورخاص کے معروف سماجی شخصیت حکیم سجاد پر الزامات، ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل،جبکہ حکیم سجاد نے الزامات کو جھوٹا اور بلیک میلنگ قرار دے دیا

    تفصیلات کے مطابق سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک متنازعہ ویڈیو نے میرپورخاص میں ہلچل مچا دی، جس میں مشہوراداکارہ حمیرہ اصغر کے قتل کا الزام میرپورخاص سے تعلق رکھنے والے ایک ڈاکٹر سارم سجاد اور ان کے خاندان پر عائد کیا گیا ہے۔ ویڈیو میں متعدد سنگین نوعیت کے الزامات عائد کئے گئے ہیں، جن میں نازیبا ویڈیوز، بدسلوکی، اور جنسی زیادتی جیسے دعوے شامل ہیں۔ویڈیو میں یہ بھی دکھایا گیا کہ ٹک ٹاکر کی ایک مبینہ دوست ڈاکٹر سیدہ کائنات شاہ کی جانب سے آئی جی سندھ اور ایف آئی اے کو ایک تحریری درخواست دی گئی ہے، جس میں مذکورہ ڈاکٹر اور ان کے والد پر الزامات عائد کئے گئے ہیں۔سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ڈاکٹر سارم سجاد مبینہ طور پر حمیرا اصغر کو میرپورخاص کے ایک فارم ہاؤس پر لے جاتے تھے جہاں اس کی نازیبا ویڈیوز اور تصاویر بنائی جاتیں۔ویڈیو میں یہ بھی الزام لگایا گیا ہے کہ ڈاکٹر سارم سجاد کے والد نے بھی حمیرہ اصغر سے جنسی زیادتی کی۔ویڈیو میں مذکورہ خاندان کی ذاتی زندگی اور کردار پر بھی سخت تنقید کی گئی۔

    الزامات کا نشانہ بننے والے میرپورخاص کے معروف سماجی شخصیت حکیم سجاد (ڈاکٹر سارم سجاد کے والد) نے حیدرآباد روڈ پر واقع پریس کلب میں وکلا وشن داس کولھی اور یحییٰ آفریدی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان الزامات کو مکمل طور پر جھوٹا، من گھڑت اور بلیک میلنگ قرار دیا۔حکیم سجاد نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ مجھ پر اور میرے خاندان پر سوشل میڈیا پر کیچڑ اچھالا جا رہا ہے۔ مجھ سے دو سے تین کروڑ روپے بھتہ مانگا جا رہا تھا۔ اور اب یہ ویڈیو اسی بلیک میلنگ کی ایک شکل ہے۔ یہ تمام ویڈیوز فیک ہیں، ایڈیٹنگ کی گئی ہے، حتیٰ کہ ویڈیو میں موجود نمبر، آئی ڈی اور ایڈریس بھی جعلی ہیں۔حکیم سجاد نے مزید کہا کہ میری کسی بھی وقت کی موبائل فون لوکیشن، شناختی کارڈ کی تفصیلات اور سرکاری ریکارڈ سے تصدیق کی جا سکتی ہے۔ میں تو نہ کبھی حمیرہ اصغر سے ملا ہوں اور نہ ہی کبھی کوئی ذاتی تعلق رہا ہے۔ماہرین کے مطابق جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے کسی بھی فرد کی جعلی ویڈیو تیار کرنا ممکن ہوچکا ہے اور سوشل میڈیا پر چلنے والی ویڈیوز میں اکثر اوقات بغیر کسی ثبوت کے لوگوں کو بدنام کیا جاتا ہے۔ اسی لئے حکام نے ویڈیوز کی فارنزک جانچ اور ڈیجیٹل ٹریسنگ کے ذریعے اصل حقائق تک پہنچنے کی یقین دہانی کروائی ہے۔حکیم سجاد نے میرپورخاص انتظامیہ، ڈی آئی جی پولیس، اور وفاقی سائبر کرائم ونگ سے مطالبہ کیا کہ اس جعلی ویڈیو اور بلیک میلنگ میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کی جائے۔حکیم سجاد نے پریس کانفرنس میں واضح الفاظ میں کہا کہ میں اعلیٰ حکام سے اپیل کرتا ہوں کہ مجھ پر بار بار فیک آئی ڈیز کے ذریعے حملے کئے جا رہے ہیں۔ میرے خاندان کو بدنام کرکے پیسے بٹورنے کی کوشش ہو رہی ہے۔ اس سازش کا سختی سے نوٹس لیا جائے۔تاحال اس معاملے میں کوئی سرکاری ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، تاہم پولیس اور ایف آئی اے ویڈیو کے مندرجات درخواست کی صداقت اور الزام عائد کرنے والے عناصر کی شناخت پر کام کر رہی ہے۔ دوسری طرف سوشل میڈیا پر عوامی رائے دو حصوں میں بٹی ہوئی ہے، کچھ افراد ان الزامات کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں، جبکہ کچھ اسے واضح بلیک میلنگ قرار دے رہے ہیں۔

  • گھوٹکی: تتر لینے گئے دو نوجوان کشمور کچے سے اغواء، پولیس نے بحفاظت بازیاب کرا لیا

    گھوٹکی: تتر لینے گئے دو نوجوان کشمور کچے سے اغواء، پولیس نے بحفاظت بازیاب کرا لیا

    میر پور ماتھیلو (باغی ٹی وی، نامہ نگار مشتاق علی لغاری) گھوٹکی پولیس نے ایک بڑی اور کامیاب کارروائی کرتے ہوئے چند روز قبل اغواء ہونے والے دو نوجوانوں کو بحفاظت بازیاب کرا لیا۔ بازیابی کی یہ کارروائی ایس ایس پی گھوٹکی ڈاکٹر سمیع اللہ سومرو کی ہدایت پر ایس ایچ او تھانہ بی سیکشن رفیق احمد سومرو نے خفیہ اطلاع پر عمل کرتے ہوئے کی۔

    تفصیلات کے مطابق شاھد حسین ولد سجن چانڈیو اور سجاول ولد محمد لقمان چانڈیو، جو کہ تتر بازی کے شوقین تھے، چند روز قبل کشمور کے کچے کے علاقے میں شکار کے لیے گئے تھے جہاں وہ نامعلوم اغواء کاروں کے ہتھے چڑھ گئے۔

    پولیس ذرائع کے مطابق خفیہ اطلاع ملی تھی کہ اغواء کار مغویوں کو کسی اور مقام پر منتقل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جس پر ایس ایچ او رفیق احمد سومرو نے پولیس نفری کے ہمراہ فوری کارروائی کی۔ تھانہ بی سیکشن کی حدود میں کندہ کوٹ کشمور پل کے قریبی کچے علاقے میں اغواء کاروں کا گھیرا تنگ کر کے پولیس نے دو مغویوں کو بحفاظت بازیاب کروا لیا۔

    پولیس کے پہنچنے پر اغواء کار مغویوں کو چھوڑ کر اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فرار ہو گئے۔ بعد ازاں مغویوں نے پولیس کو بتایا کہ وہ تتر لینے کے لیے کچے گئے تھے، جہاں انہیں اغواء کیا گیا۔

    پولیس نے مغویوں کو اپنی تحویل میں لے کر قانونی کارروائی مکمل کرنے کے بعد جلد ہی ان کے ورثاء کے حوالے کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    ایس ایس پی گھوٹکی ڈاکٹر سمیع اللہ سومرو نے کامیاب آپریشن پر پولیس پارٹی کو شاباش دیتے ہوئے تعریفی اسناد اور نقد انعام دینے کا اعلان کیا ہے۔ عوامی حلقوں نے پولیس کی اس بروقت اور جرأت مندانہ کارروائی کو سراہتے ہوئے اسے گھوٹکی پولیس کی مؤثر حکمت عملی قرار دیا ہے۔