Baaghi TV

Category: سائنس و ٹیکنالوجی

  • اسکیننگ کے بعد واٹس ایپ پر ریورس امیج  فیچر کی تیاری

    اسکیننگ کے بعد واٹس ایپ پر ریورس امیج فیچر کی تیاری

    انسٹنٹ میسیجنگ ایپلی کیشن واٹس ایپ پر ’اسکیننگ‘ کے بعد ’امیج ریورس سرچ‘ کے فیچر کی آزمائش بھی شروع کردی گئی۔

    باغی ٹی وی کےمطابق خبر سامنے آئی ہے کہ ایپلی کیشن پر ’امیج ریورس سرچ‘ کی بھی آزمائش شروع کردی گئی اور محدود صارفین کو اس تک رسائی دے دی گئی۔گزشتہ ہفتے خبر سامنے آئی تھی کہ واٹس ایپ پر صارفین کی سہولت کے لیے دستاویزات اور تصاویر کو اسکین کرنے کے فیچر کی آزمائش شروع کردی گئی۔واٹس ایپ کی اپڈیٹس پر نظر رکھنے والی ویب سائٹ کے مطابق واٹس ایپ کے محدود صارفین کو ’ریورس امیج سرچ‘ کے آپشن تک رسائی دی گئی ہے۔مذکورہ فیچر کے تحت صارفین گوگل ریورس امیج کی طرح تصاویر کو سرچ کر سکیں گے۔مذکورہ فیچر کا مقصد تصاویر کی تحقیق کرنا ہے، تاکہ صارفین موصول ہونے والی تصویر سے متعلق مزید معلومات حاصل کر سکیں۔فیچر کے تحت صارفین موصول ہونے والی تصویر کو واٹس ایپ کے چیٹ باکس میں ہی کلک کرکے ویب ورژن پر سرچ کر سکیں گے۔فیچر کے تحت صارفین جیسے ہی مطلوبہ تصویر پر کلک کریں گے ازخود موبائل یا ڈیسک ٹاپ پر ویب ورژن کھل جائے گا، جہاں تصویر سے ملتی جلتی دیگر تصاویر اور پوسٹس بھی نظر آنے لگیں گی۔مذکورہ فیچر تک فوری طور پر محدود صارفین کو رسائی دی گئی ہے، اگلے مرحلے میں اس کی آزمائش کو بڑھایا جائے گا، جس کے بعد اسے رواں برس کی پہلی سہ ماہی تک پیش کیے جانے کا امکان ہے۔

    کراچی میں سردی بڑھنے کی پیش گوئی

    برآمدات میں 10.52 فیصد کا اضافہ

    پاک بحریہ کا کامیاب آپریشن، 1 ملین ڈالر کی منشیات برآمد

  • ناسا کے خلائی جہاز کی سورج کے انتہائی قریب پرواز

    ناسا کے خلائی جہاز کی سورج کے انتہائی قریب پرواز

    امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے ناسا کے خلائی جہاز نے سورج کے انتہائی قریب پرواز کر کے تاریخ رقم کر دی۔

    باغی ٹی وی: غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق سائنسدانوں کو پارکر سولر پروب سے گزشتہ رات سگنل موصول ہوا،س سے پہلے خلائی جہاز سورج سے خارج ہونے والے انتہائی شدید درجہ حرارت اور بے تحاشہ تابکاری کو برداشت کرتے ہوئے سورج کی بیرونی فضا میں38 لاکھ میل کے فاصلے پر پرواز کر رہا تھا، اس دوران اس کا زمین سے رابطہ منقطع ہوگیا تھا۔

    اس حوالے سے امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے ناسا کا کہنا ہے کہ خلائی جہاز محفوظ اور معمول کے مطابق کام کر رہا ہے ناسا کے مشن سے یہ جاننے میں مدد ملے گی کہ سورج درحقیقت کام کیسے کرتا ہے۔

    پنجاب وائلڈلائف کو لاہور چڑیا گھر کی نیلامی میں بڑی کامیابی

    واضح رہے کہ امریکی خلائی ادارے ناسا کا تیار کردہ پارکر سولر پروب انسانوں کی تیار کردہ تیز ترین سواری ہے اس نے انسانوں کی تیار کردہ تیز ترین چیز کا ریکارڈ 4 لاکھ 30 ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کرکے قائم کیا ہے اس سے پہلے بھی یہ ریکارڈ پارکر سولر پروب کے پاس ہی تھا جو اس نے کچھ عرصے قبل 3 لاکھ 97 ہزار 736 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کرکے قائم کیا تھاسورج کی حرارت سے تحفظ فراہم کرنے والی شیلڈ سے لیس یہ مشن سورج کی سطح کے 38 لاکھ میل قریب گیا۔

    امبانی خاندان گائے کی کس خاص نسل کا دودھ پیتا ہے؟

    اس مشن کو سورج کی باہری کرہ ہوائی یا کورونا کے سفر کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے جو طاقتور شمسی طوفانوں کے ذریعے زمین پر اثرات مرتب کرتا ہے،ہمارے نظام شمسی کے ستارے کو سمجھنے کے لیے یہ ائیر کرافٹ سورج کے قریب ترین گیا۔

    24 دسمبر کو یہ مشن سورج کے قریب گیا مگر اس کی جانب سے 27 دسمبر کو زمین پر ایک beacon tone بھیج کر محفوظ ہونے کی تصدیق کی جائے گی سورج کے قریب ترین جانے کے لیے لگ بھگ 10 فٹ لمبے ائیر کرافٹ نے سورج کے مدار میں 22 چکر لگائے، ہر چکر کے ساتھ یہ سورج کے کورونا کے قریب تر ہوگیا اور اس دوران پارکر سولر پروب کی رفتار میں بھی مسلسل اضافہ ہوتا گیا۔

    چاہتے ہیں اگلے چار سال میں توانائی کا شعبہ بحران سے نکل آئے،اویس لغاری

    خیال رہے کہ حجم کے لحاظ سے سورج ہمارے سیارے سے 3 لاکھ 33 ہزار گنا زیادہ بڑا ہے، تو اس کے گرد چکر لگانے کے لیے بہت زیادہ رفتار کی ضرورت ہوتی ہے تو سورج کے قریب جاتے ہوئے اس مشن نے 4 لاکھ 30 ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کرکے نیا ریکارڈ بنایا۔

    4 لاکھ 30 ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن زمین کے گرد 17 ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے چکر لگا رہا ہےاسی طرح اسپیس ایکس کے فالکن 9 راکٹ نے 2021 میں لگ بھگ 21 ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کیا تھاسورج کے قریب ترین جانے کے سفر کے دوران اس مشن نے سورج کے کورونا کے بارے میں اہم ڈیٹا بھی اکٹھا کیا۔

    نیو ایئر نائٹ: پنجاب پولیس کا سکیورٹی پلان مکمل

  • خلا میں   140 کھرب سمندروں سے بھی زیادہ  بڑا پانی کا  ذخیرہ  دریافت

    خلا میں 140 کھرب سمندروں سے بھی زیادہ بڑا پانی کا ذخیرہ دریافت

    سائنسدانوں کو کائنات کے ایک دور دراز حصے میں پانی کا ایک بہت بڑا ذخیرہ ملا ہے۔

    باغی ٹی وی: رپورٹ کے مطابق پانی کا یہ ذخیرہ ایک خاص قسم کے ستارے کے گرد چکر لگا رہا ہے جسے کواسر(quasar) کہا جاتا ہے جو 12 بلین نوری سال کی ناقابل یقین حد تک فاصلے پر موجود ہے پانی کا یہ ذخیرہ اس وقت سے خلا میں سفر کر رہا ہے جب کائنات بہت چھوٹی تھی، یہ دور دراز پانی کا ذخیرہ ناقابل یقین حد تک بڑا ہے، جس میں زمین کے تمام سمندروں سے تقریباً 140 کھرب سمندروں سے بھی زیادہ پانی موجود ہے یہ ایک بہت بڑے بلیک ہول کے قریب واقع ہے جو ہمارے سورج سے تقریباً 20 بلین گنا بڑا ہے۔

    ایران کا واٹس ایپ پر پابندی ختم کرنے کا فیصلہ

    سائنسدانوں کے مطابق خلا میں ایک بہت بڑا بلیک ہول اے پی ایم 08279+5255 نامی کواسر سے گھرا ہوا ہے، جو کہ ایک ہزار ٹریلین سورج کے برابر توانائی کی ایک بڑی مقدار جاری کرتا ہےاس کواسر میں پوری کائنات کا سب سے بڑا اور سب سے زیادہ دور معلوم پانی کا ذخیرہ ہے۔

    خلائی تحقیقات کے ادارے ناسا کے سائنسدان بریڈ فورڈ نے کہا کہ اس کواسر کی خاص بات یہ ہے کہ یہ بہت زیادہ مقدار میں پانی بنا رہا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ پانی پوری کائنات میں ابتداء سے ہی عام ہے۔

    ہم وزارت تعلیم کی رجسٹریشن کے تحت رہنا چاہتے ہیں، جامعہ بنوریہ عالمیہ

    کواسر پہلی بار 50 سال قبل دریافت کیا گیا تھا، اس وقت طاقتور دوربینوں کی مدد سے خلا کے دور دراز حصوں میں پراسرار روشنی کو دیکھا گیا تھا،تحقیق سے معلوم ہوا کہ وہ چیزیں عام ستارے نہیں تھے وہ ناقابل یقین حد تک روشن ہیں اور بہت دور کہکشاؤں کے مراکز میں پائے جاتے ہیں وہ اس قدر چمکتے ہیں کہ وہ ان کہکشاؤں میں موجود تمام ستاروں کو پیچھے چھوڑ دیتے ہیں، ان کے مرکز میں بڑے بڑے بلیک ہولز موجود ہیں، جو سورج سے لاکھوں یا اربوں گنا زیادہ گرم ہیں جیسے جیسے ان کے ارد گرد گیس اور دھول گھومتی ہے، وہ زیادہ سے زیادہ گرم ہوتے جاتے ہیں، بہت زیادہ توانائی خارج کرتے ہیں۔

    ہم وزارت تعلیم کی رجسٹریشن کے تحت رہنا چاہتے ہیں، جامعہ بنوریہ عالمیہ

  • مرسڈیز میں بچوں کی حفاظت کے پیش نظر سینسرز نصب

    مرسڈیز میں بچوں کی حفاظت کے پیش نظر سینسرز نصب

    نئی مرسڈیز کار میں جدید ٹیکنالوجی بچوں کے اندر چھوڑے جانے کے ممکنہ جان لیوا خطرے کو کم کرنے میں مدد کرے گی۔

    باغی ٹی وی: اس کا چائلڈ پریزنس ڈیٹیکشن (سی پی ڈی) سسٹم کیبن میں سانس لینے والے کسی بھی شخص کا پتہ لگانے کے لیے سینسرز کا استعمال کرتا ہے اور اسے خصوصاً بچوں کی حفاظت کیلئے ڈیزائن کیا گیا ہے، جو خاص طور پر گرم موسم میں خطرناک ہو سکتا ہے۔

    آنے والے CLA کوپ میں ٹیکنالوجی گاڑی میں موجود بچے کو ان کے مخصوص سانس لینے کے انداز کے ذریعے پتہ لگاتی ہے، جبکہ کیمرے یہ جانچتے ہیں کہ آیا ان کے ساتھ کوئی بڑا ہے یا نہیں۔ اس کے سینسر اتنے حساس ہیں کہ وہ سوئے ہوئے نوزائیدہ بچے کو بھی اٹھا سکتے ہیں۔

    کار کے بند ہونے پر سسٹم ایک یاد دہانی پیش کرتا ہے۔ اگر ڈرائیور گاڑی کو چھوڑ کر لاک کر دیتا ہے جس میں بچہ ابھی بھی اندر ہو تو مالک کے اسمارٹ فون پر الرٹس بھیجے جاتے ہیں۔

    اگر کیبن کا درجہ حرارت ایک نازک نقطہ سے بڑھ جاتا ہے تو، ایئر کنڈیشنگ شروع ہو جاتی ہے، اور اردگرد لوگو ں کو خبردار کرنے کے مقصد سے کار کا ہارن اور لائٹس فعال ہو جاتی ہیں اگر بچہ کار میں ہو تو مرسڈیز SOS کال سینٹر کو مطلع کیا جاتا ہے اور ہنگامی خدمات کو الرٹ کیا جاتا ہے۔

    یہ نظام سابق وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون جیسے والدین کے لیے کارآمد ثابت ہو سکتا ہے، جنہوں نے 2012 میں اپنی اس وقت کی آٹھ سالہ بیٹی نینسی کو 15 منٹ کے لیے ایک پب میں چھوڑ دیا تھا کھڑی کار کا اندرونی حصہ دس منٹ میں 10C تک گرم ہو سکتا ہے جب جسم کا بنیادی درجہ حرارت 40C تک پہنچ جاتا ہے تو ہیٹ اسٹروک ہوتا ہے جو جان لیوا ہو سکتا ہے بچوں کے جسم بڑوں کے مقابلے تین سے پانچ گنا زیادہ تیزی سے گرم ہوتے ہیں۔

    مرسڈیز کے ترجمان نے کہا: ‘ریڈیو ٹیکنالوجی جانداروں کے سانس لینے کے نمونوں کا پتہ لگاتی ہے۔ یہ اس بات سے قطع نظر کیا جاتا ہے کہ وہ انسان ہیں یا جانور۔ تاہم، ہماری توجہ صفر سے چھ سال کی عمر کے بچوں کو پہچاننے پر ہے، جو نازک حالات میں اپنی مدد کے لیے جدوجہد کرتے ہیں۔‘‘

    سان ہوزے سٹیٹ یونیورسٹی میں ماہر موسمیات جان نول کے مطابق، امریکہ میں گاڑی میں چھوڑے جانے کے بعد ہر سال اوسطاً 15 سال سے کم عمر کے 37 بچے ہیٹ اسٹروک سے مر جاتے ہیں، رائل سوسائٹی فار دی پریونشن آف ایکسیڈنٹ نے کہا کہ برطانیہ کے اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں۔

  • چیٹ جی پی ٹی بھی واٹس ایپ پر  آگیا، نمبر جاری

    چیٹ جی پی ٹی بھی واٹس ایپ پر آگیا، نمبر جاری

    آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) ٹول چیٹ جی پی ٹی کو ویسے تو مختلف ایپلی کیشنز اور سرچ انجنز پر استعمال کرنا آسان ہے لیکن اب اسے دنیا کی سب سے مقبول اور بڑی انسٹنٹ میسیجنگ ایپ واٹس ایپ پر بھی استعمال کیا جا سکے گا۔

    چیٹ جی پی ٹی نے اپنے اے آئی بوٹ کو واٹس ایپ پر استعمال کرنے کے لیے نیا نمبر اے آئی نمبر جاری کردیا، جسے صارفین محفوظ کرکے چیٹ جی پی ٹی کے چیٹ بوٹ تک رسائی حاصل کر سکیں گے۔کمپنی نے چیٹ جی پی ٹی کو واٹس ایپ پر استعمال کرنے کے لیے خصوصی نمبر (+1 1800 242 8478) جاری کیا ہے، جسے کانٹیکٹس میں محفوظ کرکے چیٹ بوٹ تک رسائی حاصل کی جا سکتی ہے۔چیٹ جی پی ٹی کا واٹس ایپ چیٹ بوٹ باالکل واٹس ایپ کے اپنے چیٹ بوٹ کی طرح میسیجنگ چیٹ میں کام کرتا ہے۔واٹس ایپ پر چیٹ جی پی ٹی کے بوٹ پر صارفین صرف تحریری سوالوں کے جوابات اور معلومات حاصل کر سکیں گے۔واٹس ایپ کے چیٹ جی پی ٹی بوٹ میں باقی ممالک میں زیادہ فیچرز پیش نہیں کیے گئے، تاہم امریکا سمیت بعض ممالک میں واٹس ایپ کے چیٹ جی پی ٹی بوٹ پر وائس نوٹ سمیت کالز کرنے کے فیچرز بھی پیش کیے گئے ہیں۔ امریکا سمیت بعض ممالک میں واٹس ایپ پر چیٹ جی پی ٹی کے بوٹ میں متعدد فیچرز پیش کیے گئے ہیں۔دلچسپ بات یہ ہے کہ بعض ممالک میں چیٹ جی پی ٹی کے بوٹ کو واٹس ایپ گروپس میں بھی شامل کرنے کا آپشن دیا گیا ہے۔پاکستان میں چیٹ جی پی ٹی بوٹ کو واٹس ایپ گروپس میں شامل کرنے کے آپشن تک تمام صارفین کو رسائی نہیں دی گئی۔یہاں یہ بات یاد رہے کہ چیٹ جی پی ٹی کے چیٹ بوٹس کو اس کی اپنی ویب سائٹ اور ایپلی کیشنز سمیت گوگل یا کسی بھی سرچ انجن میں تلاش کرکے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

    بیشتر علاقوں میں موسم سرد اور خشک رہنے کا امکان

    اوچ شریف :طاہر والی پرٹریفک حادثہ، ایک شخص جاں بحق، دوسرا زخمی

    مرحوم ملازمین کی اولاد کیلئے ملازمت کا کوٹہ ختم

    چیٹ جی پی ٹی کے چیٹ بوٹ کو مائیکرو سافٹ کے سرچ انجن بنگ جب کہ ایپل کے آپریٹنگ سسٹم کا حصہ بنایا جا چکا ہے اور اب اسے واٹس ایپ پر بھی متعارف کرادیا گیا۔

  • آئی فون اور  اینڈرائیڈ صارفین ٹیکسٹ میسجز  نہ بھیجیں،ایف بی آئی کاا نتباہ جاری

    آئی فون اور اینڈرائیڈ صارفین ٹیکسٹ میسجز نہ بھیجیں،ایف بی آئی کاا نتباہ جاری

    امریکی ایجنسی ایف بی آئی نے آئی فون اور اینڈرائیڈ صارفین کو ڈیوائسز سے میسیجز بھیجنے سے گریز کا مشورہ دیا ہے،ایف بی آئی کی یہ وارننگ سالٹ ٹائفون ہیکرز کے حملوں کے بڑھتے خدشات کے بعد سامنے آئی ہے ۔

    باغی ٹی وی : امریکی جریدے فوربز کی ایک رپورٹ کے مطابق ایف بی آئی نے سائبر خدشات کو بھانپتے ہوئےامریکیوں کو انتباہ جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہےکہ صارفین روایتی ٹیکسٹنگ کے بجائے انکرپٹڈ میسیجنگ ایپس مثلاً واٹس ایپ، سگنل یا فیس بک میسینجر کا استعمال کریں، خاص طور پر جب مختلف پلیٹ فارمز مثلاً آئی فون سے اینڈرائیڈ کے درمیان ٹیکسنگ ہورہی ہو۔

    ایف بی آئی نے کہا ہے کہ اینڈرائیڈ سے اینڈرائیڈ یا آئی فون سے آئی فون پر میسیجنگ محفوظ ہے لیکن ان دونوں ڈیوائسز کی ایک دو سرے کو بھیجی جانیوالی ٹیکسٹنگ محفوظ نہیں، ایسے میسیجز مکمل اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن سے محروم ہوتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ یہ میسیج ہیکرز کا آسان ہدف بن جاتے ہیں،انکرپشن کو ’ ذمہ داری کے ساتھ منظم‘ کیا جانا چاہیے جس کیلئے ایپل، گوگل اور میٹا کی کمپنیزکو عدالتی احکامات کے تحت صارف کے ڈیٹا تک رسائی فراہم کرنے کی اجازت دی جائے۔

    ڈائریکٹر ایف بی آئی نے دہشتگردوں اور ہیکرز کے خفیہ پلیٹ فارم کے استعمال کا حوالہ دیتے ہوئے پرائیویسی اور پبلک سیفٹی کو بیلنس کرنے کیلئے درپیش چیلنجز پر روشنی ڈالی،انہوں نے صارفین کو مشورہ دیا کہ وہ چوکنا رہتے ہوئے محفوظ پیغام رسانی کے ذرائع انکرپٹڈ میسیجنگ کو ترجیح دیں۔

  • میٹا کا انسانی حقوق کے تحفظ کیلئے پاکستان کیساتھ کام کرنے کا عزم

    میٹا کا انسانی حقوق کے تحفظ کیلئے پاکستان کیساتھ کام کرنے کا عزم

    کیلیفورنیا: فیس بک کی پیرنٹ کمپنی میٹا نے انسانی حقوق کے تحفظ کے حوالے سے طویل المدتی حل کے لیے پاکستانی حکام کے ساتھ مل کر کام کرنے کے پختہ عزم کا اظہار کیا ہے-

    باغی ٹی وی : وفاقی وزیر قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے میٹا کی عالمی سربراہ برائے انسانی حقوق پالیسی مرانڈا سیسن سے ملاقات کی، ملاقات میں بچوں کی ڈیجیٹل حفاظت، آن لائن تحفظات اور انسانی حقوق سے متعلق اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا اجلاس میں ٹیک اٹ ڈاؤن اقدام کی کامیابی پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا جو نابالغوں کو آن لائن استحصال سے بچانے کے لیے نقصان دہ اور غیر متفقہ مواد کو محفوظ طریقے سے ہٹانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔

    ملاقات میں بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے وزارت کی مسلسل وابستگی پر بھی زور دیا گیا اور سائبر کرائم، آن لائن استحصال پر وجہ مرکوز کرنے والے ڈیجیٹل خواندگی کی مہموں اور عالمی بیداری کے پروگراموں جیسے جاری اقدامات کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا گیا۔

  • سپارکو کا  پاکستان میں خلائی ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے اہم اقدام

    سپارکو کا پاکستان میں خلائی ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے اہم اقدام

    لاہور: پاکستان اسپیس اینڈ اپر ایٹموسفیر ریسرچ کمیشن (سپارکو) نے پاکستان میں خلائی ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے ریزالو آر اینڈ ڈی لیب کا افتتاح کر دیا۔

    باغی ٹی وی : پاکستان میں خلائی ٹیکنالوجی اور تحقیق کی صلاحیتوں کو بڑھانے کے لیے ایک اہم قدم کے طور پرسپارکو نے 20 نومبر 2024 کو یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی (یو ای ٹی)لاہور میں جدید ترین ریزالو آر اینڈ ڈی لیب کا افتتاح کیا، صوبائی وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے افتتاحی تقریب کے مہمان خصوصی کے طور پر شرکت کی۔

    سپارکو کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا کہ یہ سنگ میل پاکستان کی خلائی ٹیکنالوجی اور تحقیق کے میدان میں ترقی کی کوششوں میں ایک اہم قدم ہے معاشی ترقی کے قومی اہداف کے مطابق سپارکو نے لاہور میں یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی (یو ای ٹی) میں ریزالو (ریسرچ سولیوشنز اینڈ وینچرز) کے اقدام کے تحت یہ نیا تحقیقی مرکز قائم کیا ہے۔

    اعلامیے میں لیب کے حوالے سے بتایا گیا کہ اس جدید تحقیق و ترقی کے نظام کا مقصد پاکستان کے شمال، مرکز اور جنوب میں تکنیکی تحقیقی لیبارٹریو ں کا قیام ہے، جو تعلیمی اداروں اور صنعت کو جدید ٹیکنالوجی پر کام کرنے کے لیے ایک مشترکہ پلیٹ فارم فراہم کرے گا جدید کمپیوٹنگ وسائل سے لیس یہ لیبارٹریاں محققین کوپیچیدہ اور حقیقی دنیا کے چیلنجوں کا حل تلاش کرنے کے لیے ایک آزاد اور اشتراکی ماحول فراہم کرنے کے لیے ڈیزائن کی گئی ہیں۔

    بابا وانگا اور فرانسیسی نجومی نوسٹرا ڈیمس کی سال 2025 کیلئے خطرناک پیشگوئیاں

    سپارکو کے مطابق ریزالو تحقیقی لیبارٹریوں کا بنیادی مقصد تعلیمی اور صنعتی تحقیقاتی سرگرمیوں کو فروغ دینا ہے، خاص طور پر خلائی ٹیکنالوجی سے متعلق منصوبوں پر کام کے ذریعے فروغ دیا جائے گا اس اقدام کا مقصد نہ صرف پاکستان بھر میں تحقیق و ترقی کی ایک متحرک روایت کا فروغ ہے بلکہ تعلیمی اداروں کو حقیقی دنیا کے منصوبوں میں براہ راست حصہ لینے کے مواقع فراہم کرنا ہے، ان تحقیقاتی نتائج کا مقصد پاکستان کے معاشی و تزویراتی اہداف کی حمایت کرنا ہے، جو عالمی خلائی شعبے میں ملک کی امنگوں کے ساتھ ہم آہنگ ہیں۔

    اعلامیے میں بتایا گیا کہ یو ای ٹی لاہور میں قائم ریزالو (سینٹرل) تحقیقی لیب کا تحقیقاتی مرکز جدید سیٹلائٹ ڈیزائن اور ترقیاتی ٹیکنالوجیز اور ان سے متعلقہ ایپلی کیشنز ہوں گی، جن میں جدید انٹینا اور مائیکروویو سسٹمز، محفوظ سیٹلائٹ کمیونیکیشنز، جدید ڈیجیٹل سسٹمزاورایمبیڈڈ سافٹ ویئر، خلائی سینسرز، اسٹرکچر اور مکینزم، خلائی مواد کی تحقیق اور جدید آر ایف پے لوڈز شامل ہیں۔

    اے آر حمان نے اسلام کیوں قبول کیا؟

    اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ ریزالو مختلف یونیورسٹیوں میں خلائی ٹیکنالوجی کے موضوعات پر لیکچرز، سیمینارز اور خصوصی ورکشاپس کا انعقاد بھی کرے گا اور اس سلسلے میں مختلف جامعات کے ساتھ مفاہمتی یاد داشت(ایم او یو) پر دستخط کیے جا رہے ہیں تاکہ تعاون کو رسمی شکل دی جا سکے اور ملک بھر میں علم کے تبادلے اور تکنیکی ترقی کو فروغ دیا جا سکے۔

  • چینی مشن نے چاند کی پوشیدہ سمت کے راز سے پردہ اٹھا دیا

    چینی مشن نے چاند کی پوشیدہ سمت کے راز سے پردہ اٹھا دیا

    بیجنگ: چین کے چینگز سکس مشن کے ذریعے لائے جانے والے چاند کی زمین کے نمونوں کے تجزیے میں انکشاف ہوا ہے کہ چاند کی دور افتادہ جانب اربوں سال قبل آتش فشاں تھے جو پھٹتے رہتے تھے آتش فشاں کے دھماکے اِتنے شدید ہوتے تھے کہ زمین پر سے بھی دیکھے جاسکتے تھے۔

    باغی ٹی وی : چینی میڈیا کے مطابق چینی مون مشن اپنی نوعیت کا پہلا خلائی سفر ہے جس میں چاند کے دور افتادہ یا پچھلے حصے تک پہنچ کر مٹی اور پتھر کے نمونے لائے گئے ہیں محققین کی دو ٹیموں نے چاند کی مٹی اور پتھر کے نمونوں کا تجزیہ کیا اور دیکھا کہ اُن میں کم و بیش 2 ارب 80 سال پہلے کے آتش فشاں کے ذرات موجود ہیں ایک پتھر کا تجزیہ کرنے سے معلوم ہوا کہ وہ 4 ارب 20 کروڑ سال پہلے کا ہے، اس سے اندازہ ہوا کہ چاند کی سطح پر 4 ارب سال سے بھی پہلے سے آتش فشاں متحرک رہے ہیں۔

    ’نیچر‘ اور ’سائنس‘ میں شائع چین کے لائے ہوئے چاند کے نمونوں کی بنیاد پر تحقیق میں یونیورسٹی آف ایریزونا کے کرسٹوفر ہیملٹن کہتے ہیں کہ ہمیں پہلی بار چاند کے اس حصے کے نمونے ملے ہیں جس کا ہمارے پاس کوئی ڈیٹا نہیں تھا اب ہم چاند کے بارے میں زیادہ جان سکیں گے، نئی تحقیق سے چاند کی نوعیت کو سمجھنے میں مزید مدد ملے گی۔

    واضح رہے کہ امریکا اور دیگر ممالک کے مُون مشنز کی پوری توجہ چاند کےاُس حصے پر مرکوز رہی ہے جس کا رخ زمین کی طرف ہے، خلائی تحقیق کے امریکی ادارے ناسا نے اپنے لیونر ریکینیژاں آربٹر کے ذریعے اس بات کی نشاندہی کردی تھی کہ چاند کے دوسری طرف آتش فشاں رہے ہیں، اب چین نے اس بات کو ثابت کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔

  • 12 ہزار سال پرانے  پہیوں کی شکل کے پتھر دریافت

    12 ہزار سال پرانے پہیوں کی شکل کے پتھر دریافت

    ماہرین نے ایسے گول پتھر دریافت کیے جو ممکنہ طور پر چرخے ہوسکتے ہیں۔

    باغی ٹی وی: ماہرین آثار قدیمہ نے 12 ہزار سال پرانے ایسے پتھروں کو اکٹھا کیا ہے جو ممکنہ طور پر پہیے کی اولین مثالوں میں سے ایک ہیں، پہلے مانا جاتا تھا کہ پہیے کی ایجاد 6 ہزار قبل ہوئی تھی مگر اس نئی دریافت سے عندیہ ملتا ہے کہ پہیے جیسی ٹیکنالوجیز ہماری توقعات سے بھی پہلے موجود تھیں۔

    جرنل PLOS One میں شائع تحقیق میں بتایا گیا کہ ماہرین نے ایسے گول پتھر دریافت کیے جو ممکنہ طور پر چرخے ہوسکتے ہیں، یہ پتھر شمالی اسرائیل میں کھدائی کے دوران دریافت ہوئے۔

    محققین کے خیال میں یہ پتھر ممکنہ طور پر Natufian ثقافت سے جڑی بستیوں سے تعلق رکھتے ہیں یہ تہذیب ہزاروں سال قبل فلسطین اور اردن سے تعلق رکھتی تھی اور یہ وہ عہد تھا جب انسانی زندگی کاشتکاری طرز زندگی کی جانب بڑھ رہی تھی، اس کے ہزاروں سال بعد کانسی کے عہد میں حقیقی پہیہ وجود میں آیا۔

    محققین کے مطابق اس دریافت سے یہ عندیہ ملتا ہے کہ پہیے جیسی ایجاد ہمارے اندازوں سے 4 ہزار سال پہلے ہوچکی تھی، ایسا خیال کیا جاتا ہے کہ پہیے کی ایجاد عراق کے قدیم خطے بین النہرین یا مشرقی یورپ میں ہوئی مگر حقیقی مقام نامعلوم ہے۔

    محققین نے بتایا کہ دریافت ہونے والے پتھروں سے گھومنے والے پہیوں کی تیاری کے عمل کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے انہوں نے کہا کہ یہ پتھریلے ٹولز درحقیقت شکل اور افعال کے مطابق اولین پہیے تھے یہ پتھر 12 ہزار سال پرانے ہیں اور 3 ڈی ماڈل کو استعمال کرکے انہوں نے ان پتھروں کا تجزیہ کیا جو کہ چونے کے پتھر سے بنے ہوئے تھے،ان کی ساخت کے باعث محققین کا ماننا ہے کہ انہیں چرخے کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا۔