Baaghi TV

Category: سائنس و ٹیکنالوجی

  • کنول کے پتوں سے توانائی پیدا کرنے کا تجربہ کامیاب

    کنول کے پتوں سے توانائی پیدا کرنے کا تجربہ کامیاب

    بیجنگ: چینی سائنسدانوں نے کنول کے پتوں سے توانائی پیدا کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔

    باغی ٹی وی: چینی سائنسدانوں نے توانائی پیدا کرنے والا ایک ایسا جنریٹر بنایا ہے جو بجلی پیدا کرنے کے لیے پودوں کو استعمال کرتا ہے،ٹیم نے کہا کہ اس کا لیف ٹرانسپائریشن جنریٹر، جس کا انھوں نے کنول کے پتوں سے مظاہرہ کیا، چھوٹے الیکٹرانک آلات کو طاقت دینے کے قابل ہے اور اسے پلانٹ سے چلنے والے بجلی کے نیٹ ورکس کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

    ٹیم نے جریدے نیچر واٹر میں شائع ہونے والے ایک مقالے میں لکھا کہ یہ مطالعہ نہ صرف پتوں کے بے مثال ہائیڈروولٹک اثر کو بے نقاب کرتا ہے بلکہ سبز توانائی کی ٹیکنالوجیز کو آگے بڑھانے کے لیے ایک نیا تناظر بھی فراہم کرتا ہے۔

    ہائیڈرو والٹک توانائی کے حصول کے لیے ٹھوس سطح پر پانی کی حرکت پر انحصار کیا جاتا ہے، مگر اس کے لیے مسلسل پانی کی سپلائی کی ضرورت ہوتی ہےمگر تحقیق میں بتایاگیا کہ پودوں کے پتوں سے قدرتی طور پر خارج ہونے والے بخارات میں بہت زیادہ توانائی چھپی ہوتی ہے مگر اب تک اس پر زیادہ کام نہیں کیا گیا،اس عمل میں پودے کی جڑوں سے اوپری سرے تک پانی حرکت کرتا ہے اور پتوں یا پھولوں سے بخارات کی شکل میں خارج ہو جاتا ہے۔

    پاکستان میں زیر استعمال موبائل لبنان واقع کی طرح پھٹ سکتے؟قائمہ کمیٹی

    اسی عمل کو دیکھتے ہوئے چینی سائنسدانوں نے ایک پروٹوٹائپ ڈیوائس تیار کی ہے جو اس عمل سے بجلی بنانے میں کامیاب رہی۔
    ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے مگر پتوں کے ذریعے بجلی کا حصول ٹیکنالوجی کے ذریعے بڑے پیمانے پر ممکن ہوسکتا ہے، یہ ماحول دوست توانائی ہوگی جس کے لیے زیادہ خرچہ بھی نہیں کرنا پڑے گا،جنریٹر جیسی پروٹوٹائپ ڈیوائس کو کسی بھی جگہ جیسے فارم میں استعمال کیا جاسکے گا اور زیادہ بڑے اسٹرکچر کی ضرورت نہیں ہوگی۔

    ہزار سال پرانے بیج سے بائبل کے درخت کی پیدائش

    سائنسدانوں کے مطابق پودے مسلسل اپنے اردگرد کے ماحول کے ساتھ پانی خارج کرتے ہیں تو اس جنریٹر کے ذریعے دن بھر بجلی کی تیاری ممکن ہوسکے گی، خاص طور پر ان مقامات پر جہاں دن بھر سورج کی روشنی موجود ہوتی ہے ابھی ایک پتے سے حاصل ہونے والی بجلی بہت کم ہے مگر تحقیق سے ثابت ہوتا ہے کہ متعدد پودوں اور پتوں کو ایک دوسرے سے منسلک کیا جاسکتا ہے جس سے زیادہ بجلی کا حصول ممکن ہو جاتا ہےسائنسدانوں کی تیار کردہ ڈیوائس کی ابتدائی آزمائش جاری ہے اور وہ مختلف طریقوں کو جانچ کر اس ٹیکنالوجی کو مزید بہتر بنانا چاہتے ہیں۔

  • ہزار سال پرانے بیج سے بائبل کے درخت کی پیدائش

    ہزار سال پرانے بیج سے بائبل کے درخت کی پیدائش

    سائنسدانوں نے ایک ہزار سال سے زائد قدیم بیج زندہ کر دیا ہے جو اب ایک درخت میں تبدیل ہو گیا ہے-

    باغی ٹی وی: یہ بیج 1980 کی دہائی میں یہودا صحرا میں ایک کھدائی کے دوران ملا تھا اور اس کا تخمینہ 993 عیسوی سے 1202 عیسوی کے درمیان کا ہے ،اس نایاب درخت کی اونچائی 10 فٹ ہے اسے بڑھنے میں 14 سال لگےاور اسے ”شبا“ کا نام دیا گیا ہے جو بائبل کی ایک مشہور ملکہ کے نام پر ہے۔

    سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ بیج بائبل میں ذکر کردہ درختوں کی ایک نسل سے تعلق رکھتا ہے جو آج کے اسرائیل، فلسطین اور اردن میں پائے جاتے تھے یہ درخت ”تسوری“ (یعنی بالسم) کا ماخذ ہو سکتا ہے جو بائبل میں ذکر کردہ ایک ریزن ہے جسے طبی خواص کے لیے جانا جاتا ہے ”شبا“ کی خوشبو نہیں ہے مگر اس کے پتوں میں ایسی کیمیائی خصوصیات پائی گئی ہیں جو سوزش اور کینسر کے خلاف مؤثر ہو سکتی ہیں۔

    سائنسدانوں نے درخت کے پتوں کا کیمیائی تجزیہ کیا جس سے یہ معلوم ہوا کہ اس میں موجود مرکبات اینٹی آکسیڈنٹ اور جلد کو ہموار کرنے کی خاصیات رکھتے ہیں شبا درخت کی پرجاتی کے بارے میں سائنسدانوں کو مکمل طور پر یقین نہیں ہے کیونکہ اس نے اب تک پھول یا تولیدی مواد نہیں دیا ہے۔ وہ امید کرتے ہیں کہ اگر موجودہ دور میں کوئی Commiphora کی قسم موجود ہے تو وہ بھی دریافت کی جا سکتی ہےلیہ درخت بائبل میں ذکر کردہ دوسری اہم مرکبات جیسے کہ میری اور فرانکی سینس سے بھی منسلک ہے جو حضرت عیسیٰ کے دور سے جڑی ہوئی ہیں۔

    یہ بیج بحیرہ مردار-جورڈن رفٹ ویلی کے اندر واقع ایک غار میں دریافت کیا گیا تھا، یہ علاقہ سوڈانی اور سوڈانو-زمبیزیائی علاقوں سے تعلق رکھنے والے تقریباً 14.5% نباتات کی میزبانی کے لیے جانا جاتا ہے۔ یہ ماحولیاتی زون اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ Commiphora کی نسل، جس سے ممکنہ طور پر بیج تعلق رکھتا ہے، افریقہ سے ہجرت کر کے خطے کی منفرد آب و ہوا کے مطابق ہو سکتا ہے۔

    سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ”شبا“ کی تحقیق سے ہمیں بائبل کے قدیم معالجے کے راز جاننے کا موقع ملے گا اور ممکنہ طور پر دیگر قدیم درختوں کو زندہ کرنے کے لیے نئی راہیں کھل سکتی ہیں۔

  • مریخ پر مکڑیوں جیسی عجیب و غریب شکلیں دریافت

    مریخ پر مکڑیوں جیسی عجیب و غریب شکلیں دریافت

    امریکی خلائی ایجنسی ناسا کے سائنس دانوں نے مریخ پر مکڑیوں جیسی عجیب و غریب شکلیں دریافت کی ہیں-

    باغی ٹی وی : ناسا کے مطابق یہ کوئی حقیقی مکڑیاں نہیں بلکہ کچھ ارضیاتی خصوصیات ہیں مریخ کے شمالی نصف کرہ میں پائی گئی ہیں، ناسا کے روورز اور دیگر سیٹلائٹ ٹیکنالوجی نے ان زمینی اشکال کا پتا لگایامکڑی نما یہ شکلیں سیارے کی سطح پر کھدی ہوئی نظر آتی ہیں اور ایک کلومیٹر سے زیادہ رقبے میں پھیلی ہوئی ہیں،ان اشکال کا قریب سے معائنہ کرنے پر معلوم ہوا کہ وہ دراصل مکڑیاں نہیں بلکہ وقت کے ساتھ بننے والی دراڑیں اور شکلیں ہیں۔

    سائنسدانوں کو معلوم نہیں ہے کہ ان کی وجہ کیا ہے، لیکن حال ہی میں کچھ نظریات سامنے آئے ہیں،فی الحال سب سے مشہور نظریہ یہ ہے کہ کاربن ڈائی آکسائیڈ آئس کے ماحول کے ساتھ تعامل پر پیدا ہونے والے ردعمل کے باعث یہ ابھری ہوئی خصوصیات پیدا ہوئیں،سائنس دانوں نے زمین پر سیارہ مریخ کو دوبارہ بنا کر اس نظریے کو جانچا انہوں نے پیچیدہ مشینری کے ساتھ مریخ کے درجہ حرارت اور ماحول کا دباؤ بنانے کے لیے مل کر کام کیا۔

  • ایلون مسک کا مریخ پر بغیر عملے کے اسٹار شپ مشن بھیجنے کے منصوبوں کا اعلان

    ایلون مسک کا مریخ پر بغیر عملے کے اسٹار شپ مشن بھیجنے کے منصوبوں کا اعلان

    اسپیس ایکس کے سی ای او ایلون مسک نے دو سالوں کے اندر مریخ پر تقریباً پانچ بغیر عملے کے اسٹار شپ مشن بھیجنے کے منصوبوں کا اعلان کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : ایلون مسک نے یہ اعلان اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کیا،اس سے قبل ایلون مسک نے اشارہ دیاتھا کہ مریخ پر پہلا سٹار شپ مشن دو سالوں میں شروع ہو جائے گا جس سے مریخ پر منتقلی کے امکان روشن ہوں گےپہلے عملے کے مشن کی ٹائم لائن بغیر عملے کے پروازوں کی کامیابی پر منحصر ہے ایلون مسک کا کہنا تھا کہ اگر بغیر عملے کے مشن بحفاظت اترتے ہیں تو عملے کے مشن چار سالوں میں شروع ہو سکتے ہیں،چیلنجوں کی صورت میں عملے کے مشن کو مزید دو سال کے لیے ملتوی کر دیا جائے گا۔

    قبل ازیں ایلون مسک نے کہا تھا کہ مریخ پر آباد ہونے کا خواب انسان ایک زمانے سے دیکھتا آیا ہے مریخ پر بستیاں بسانے کی باتیں بھی ہو رہی ہیں مگر کبھی یہ بھی سوچا گیا ہے کہ مریخ پر پیدا ہونے والے بچے کیسے ہوں گےمریخ پر کششِ ثقل کچھ اور ہوں گے، مریخ کا ماحول بہت مختلف ہوگا ایسے میں سوچا جاسکتا ہے کہ بچے بھی نارمل نہیں ہوں گے اُن کی جلد کا رنگ بہت مختلف ہوگا، ہڈیوں میں بُھربُھرا پن نمایاں ہوگا اُن کا پورا جسم انتہائی کمزور ہوگا پسلیاں بھی دکھائی دیتی ہوں گی۔

    اسنوکر چیمپئن شپ :پاکستان کے اسجد اقبال کی بھارتی کھلاڑی کو شکست، فائنل میں …

    ایلون مسک کا کہنا تھا کہ اگر انسان نے فطری علوم و فنون میں پیش رفت کا سفر اِسی طور جاری رکھا تو 20 سال میں مریخ پر انسان دکھائی دے رہے ہوں گے،وہاں بھی بچے بھی ہوں گے تاہم اُن کی جلد کا رنگ سبز ہوگا۔ یہ بچے بہت لاغر ہوں گے۔ بینائی بھی کمزور ہوگی۔

    ماہرین کہتے ہیں کہ اسپیس ایکس، سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے مالک ایلون مسک مریخ پر انسانوں کو بسانے کا پروگرام رکھتے ہیں تاہم ساتھ ہی ساتھ انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ مریخ کا ماحول انسانوں کے لیے بالکل ناموزوں ہوگا اور وہاں پیدا ہونے والے عجیب و غریب ہوں گے۔

    ایلون مسک کا ارادہ چند ہی برس میں مریخ پر بستی بسانے کا ہے اس حوالے سے ماہرین اُنہیں اپنی رپورٹس میں خبردار کرتے رہے ہیں ایلون مسک کا کہنا ہے کہ پانچ سال میں ہم انسان بردار مشن مریخ بھیجنے کے قابل ہوجائیں گے۔

    سونے کی قیمت ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر

  • سال 2029 میں ایک بڑے ’شہابی پتھر‘ کے زمین کے انتہائی قریب سے گزرنے کے پیشگوئی

    سال 2029 میں ایک بڑے ’شہابی پتھر‘ کے زمین کے انتہائی قریب سے گزرنے کے پیشگوئی

    سائنسدانوں نے سال 2029 میں ایک بڑے ’شہابی پتھر‘ کے زمین کے انتہائی قریب سے گزرنے کے بارے میں پیشگوئی کی ہے-

    باغی ٹی وی : ماہرین نے بڑے حجم کے سیارچے کے گزرنے کی پیشگوئی کرتے ہوئے کہا کہ یہ 2029 میں زمین کے قریب پہنچ جائے گا،اس شہابی پتھر کو ’Apophis‘ نام دیا گیا ہے جس کا مطلب ”تباہی کا خدا“ ہے ماہرین نے کہا ہے کہ اپریل 2029 میں یہ شہابی پتھر زمین کے قریب پہنچ جائے گا۔

    اس کے زمین سے براہ راست ٹکرانے کا خطرہ انتہائی کم ہے تاہم حالیہ تحقیق سے معلوم ہوا کہ اگر چھوٹے سیارچے یا خلائی چٹانیں Apophis سے ٹکراتی ہیں تو وہ اپنی سمت بدل کر زمین کے مدار میں داخل ہوسکتا ہے تحقیق سے یہ بھی پتہ چلا کہ اگر چھوٹے سیارچے یا خلائی چٹانیںApophis سے ٹکرائیں تو وہ ممکنہ طور پر اس کی رفتار کو تبدیل کر سکتی ہیں اور اس کے مضمرات نمایاں ہیں۔

    ماہرین کے مطابق Apophis نامی شہابی پتھر کا قطر 340 اور 450 میٹر کے درمیان بتایا گیا ہے، جس کے زمین سے 37,000 کلومیٹر کے فاصلے سے گزرنے کا امکان ہے۔ حیرت انگیز طور پر یہ براہ راست آنکھ سے بھی نظر آسکتا ہے پتھرتقریباً اتنا ہی چوڑا ہے جتنا کہ نیویارک میں واقع ایمپائر اسٹیٹ بلڈنگ اونچی ہے لیکن اس طرح کے تصادم اس کے راستے کو ری ڈائریکٹ کر سکتے ہیں۔

  • سائنسدانوں نے بلڈ گروپ سے متعلق 50 سال پرانے اسرار کو حل کیا

    سائنسدانوں نے بلڈ گروپ سے متعلق 50 سال پرانے اسرار کو حل کیا

    لندن: سائنسدانوں نے نیا بلڈ گروپ دریافت کرلیا-

    باغی ٹی وی : برطانوی ادارے این ایچ ایس بلڈ اینڈ ٹرانسپلانٹ اور یونیورسٹی آف برسٹل کے سائنسدانوں کی ایک ٹیم نے MAL نامی ایک نئے بلڈ گروپ کی نشاندہی کی ہے مذکورہ بالا پیش رفت نے AnWj نامی اینٹیجن سے جُڑے 50 سال پرانے اسرار کو حل کیا ہے جو پہلی بار 1972 میں دریافت ہوا تھا۔

    بی بی سی کے مطابق سینئر ریسرچ سائنسدان لوئس ٹیلی کی قیادت میں ریسرچ ٹیم نے AnWj اینٹیجن سے محروم مریضوں کی شناخت کے لیے ایک جینیاتی ٹیسٹ بھی تیار کیا ہےیہ اختراع ماہرین کوMAL گروپ کے نایاب مریضوں کی بہتر دیکھ بھال کے قابل بنائے گی اور ہم آہنگ خون کے عطیہ دہندگان کی تلاش میں سہولت فراہم کرے گی۔

    لوئس، جنہوں نے اس پروجیکٹ کے لیے 20 سال وقف کیے ہیں، بی بی سی کو بتایا کہ اس ٹیسٹ سے مستفید ہونے والے لوگوں کی صحیح تعداد کا اندازہ لگانا مشکل ہے مزید برآں یہ MAL گروپ تمام بلڈ گروپ سسٹم میں 47واں نیا بلڈ گروپ ہے۔

    جلسہ تووڑ گیا، پہلے علی امین گنڈا پور معافی مانگے گا؟

  • اسٹیڈیم کے سائز جتنا بڑا سیارچہ زمین کے قریب سے گزرے گا

    اسٹیڈیم کے سائز جتنا بڑا سیارچہ زمین کے قریب سے گزرے گا

    امریکی خلائی ادارے ( ناسا) کا کہنا ہے کہ ایک اسٹیڈیم کے سائز جتنا بڑا سیارچہ آج (منگل) کو زمین کے قریب سے گزرے گا۔

    باغی ٹی وی : امریکی خلائی ایجنسی کی جیٹ پروپلشن لیبارٹری کے مطابق 2024 ON سیارچہ 290 میٹر (950 فٹ) چوڑا ہے اور زمین سے 10 لاکھ کلومیٹر قریب سے گزرے گا،خلا کا یہ پتھر آخری بار 2013 میں زمین کے قریب سے گزرا تھا اور 2035 میں دوبارہ اس کے قریب سے گزرے گا۔

    یہ سیارچہ پہلی بار ناسا کے نیئر ارتھ آبجیکٹ (این ای او) مشاہدات پروگرام کے ذریعے دیکھا گیا تھا، جو دنیا بھر میں موجود آبزر ویٹریز کا استعمال کرتے ہوئے غیر دریافت شدہ این ای اوز کا پتہ لگاتا ہے،اس کو ورچوئل ٹیلی سکوپ پروجیکٹ کے ذریعے ٹریک کیا جا رہا ہے، جس نے نو ستمبر کو ’ممکنہ طور پر خطرناک‘ سیارچے کی تصویر لی، جو تقریباً 40 ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کر رہا تھا۔

  • سینکڑوں نوری سال دور بےترتیب مدار والے سیارے کی نشاندہی

    سینکڑوں نوری سال دور بےترتیب مدار والے سیارے کی نشاندہی

    اسٹاک ہوم: ماہرین فلکیات نےسینکڑوں نوری سال دور بےترتیب مدار والا سیارہ دریافت کر لیا-

    باغی ٹی وی : عالمی میڈیا کے مطابق سویڈن کی لنڈ یونیورسٹی کے ماہرین فلکیات نے ایک پراسرار سیارے کی نشاندہی کی ہے جس عمومی سیاروں سے ہٹ کر ایک بے ترتیب مدار ہے،اس سیارے کا دمار روایتی فلکیاتی طبیعیات کے اصولوں کو چیلنج کرتا ہے، TOI-1408c نامی یہ سیارہ زمین سے تقریباً 455 نوری سال دور ایک دوسرے شمسی نظام میں واقع ہے اور اس کی غیر متوقع حرکات کی وجہ سے محققین حیران ہیں۔

    TOI-1408c نامی یہ سیارہ رواں سال ہی ناسا کے ڈیٹا کا استعمال کرتے ہوئے دریافت کیا گیا جس کا حجم زمین سے دوگنا اور کمیت آٹھ گنا ہےزیادہ تر سیاروں کے برعکس بیضوی مداروں کی پیروی کرتے ہیں، TOI-1408c کا مدار بے ترتیبی میں بدلتا ہے جو ماہرین فلکیات کو سیاروں کی حرکیات کے موجودہ نظریات پر دوبارہ غور کرنے پر مجبور کرتا ہے۔

    ماہرین کا مفروضہ ہے کہ TOI-1408c کی غیر متوقع حرکت کسی نادیدہ آسمانی مادے کے ٹکرانے سے متاثر ہو سکتی ہے جیسے کہ کوئی دوسرا سیارہ یا نیوٹران ستارہ جو کسی دوسرے سیارے کے مدار کو غیر مستحکم کرتی ہیں۔

  • فوبوس اور ڈیموس،مریخ کے دو چھوٹے چاند

    فوبوس اور ڈیموس،مریخ کے دو چھوٹے چاند

    مریخ کے دو چھوٹے چاند ہیں، فوبوس اور ڈیموس

    جن کا نام یونانی افسانہ خوف اور گھبراہٹ کے اعداد و شمار کے لیے رکھا گیا ہے۔ اس کا وجود 1610 میں لگایا گیا تھا اور اسے 1877 میں دریافت کیا گیا تھا۔ یہ تصویر 2009 میں لی گئی تھی۔ ان دونوں پینلز میں چھوٹے چاند ڈیموس کے تفصیلی سطحی نظارے دکھائے گئے ہیں۔ یہ تصاویر 2009 میں مارس ریکونیسنس آربیٹر خلائی جہاز پر سوار HiRISE کیمرے کے ذریعے لی گئی تھیں، جو ناسا کے طویل عرصے سے چلنے والا بین سیارہ انٹرنیٹ سیٹلائٹ ہے۔ ڈیموس نظام شمسی کے سب سے چھوٹے معلوم چاندوں میں سے ایک ہے، جس کی پیمائش صرف 15 کلومیٹر ہے۔

    دونوں کو امریکی ماہر فلکیات آسف ہال نے اگست 1877 میں دریافت کیا تھا اور ان کا نام یونانی افسانوی جڑواں کرداروں فوبوس (خوف اور گھبراہٹ) اور ڈیموس (دہشت اور خوف) کے نام پر رکھا گیا ہے جو اپنے والد آریس کے ساتھ تھے ( رومن افسانوں میں مریخ ، اس لیے سیارے کا نام) جنگ میں۔زمین کے چاند کے مقابلے میں ، فوبوس اور ڈیموس چھوٹے ہیں۔ فوبوس کا قطر 22.2 کلومیٹر (13.8 میل) ہے اور اس کا حجم 1.08 × 10 ہے۔16 کلوگرام، جب کہ ڈیموس 12.6 کلومیٹر (7.8 میل) کی پیمائش کرتا ہے، جس کا حجم 1.5 × 1015 کلو فوبوس 9,377 کلومیٹر (5,827 میل) کے نیم بڑے محور اور 7.66 گھنٹے کے مداری دورانیےکے ساتھ، مریخ کے قریب گردش کرتا ہےجب کہ ڈیموس 23,460 کلومیٹر (14,580 میل) کے نیم بڑے محور کے ساتھ اور 30.35 گھنٹے کی مداری مدت کے ساتھ زیادہ دور کا چکر لگاتا ہے

    مریخ کے چاندوں کی موجودگی کے بارے میں قیاس آرائیاں اس وقت شروع ہو گئی تھیں جب مشتری کے چاند دریافت ہوئے تھے۔ جوناتھن سوئفٹ کے طنزیہ تصنیف گلیور ٹریولز (1726) میں حصہ 3، باب 3 (” لاپوٹا کا سفر ") میں دو چاندوں کا حوالہ دیا گیا ہے، جس میں لاپوٹا کے ماہرین فلکیات کو بیان کیا گیا ہے۔ جیسا کہ 10 اور 21.5 گھنٹے کے وقفوں کے ساتھ 3 اور 5 مریخ کے قطر کے فاصلے پر مریخ کے دو سیٹلائٹس دریافت کیے ہیں۔ فوبوس اور ڈیموس کا اصل مداری فاصلہ 1.4 اور 3.5 مریخ کا قطر ہے، اور ان کے متعلقہ مداری دورانیے 7.66 اور 30.35 گھنٹے ہیں۔ 20 ویں صدی میں، ابتدائی سوویت مریخ اور زہرہ کے خلائی جہاز کے ایک خلائی جہاز ڈیزائنر وی جی پرمینوف نے قیاس کیا کہ سوئفٹ نے ایسے ریکارڈز کو دریافت کیا اور ان کی وضاحت کی جو مریخ نے زمین پر چھوڑے تھے۔ تاہم ، زیادہ تر ماہرین فلکیات کا نظریہ یہ ہے کہ سوئفٹ اس وقت کی ایک عام دلیل کو استعمال کر رہا تھا، کہ جیسا کہ اندرونی سیارے زہرہ اور عطارد کے پاس کوئی سیارچہ نہیں تھا، زمین میں ایک اور مشتری کے پاس چار تھے ، کہ مشابہت کے لحاظ سے مریخ کے دو ہونا ضروری ہیں۔ مزید برآں، چونکہ وہ ابھی تک دریافت نہیں ہوئے تھے، اس لیے یہ استدلال کیا گیا کہ وہ چھوٹے اور مریخ کے قریب ہونے چاہئیں۔ اس سے سوئفٹ اپنے مداری فاصلوں اور انقلاب کے ادوار کا تقریباً درست اندازہ لگا سکے گا۔ اس کے علاوہ، سوئفٹ کو اس کے دوست، ریاضی دان جان آربوتھنوٹ کے حساب سے اس کی مدد کی جا سکتی تھی ۔

    اگر مریخ کی سطح سے اس کے خط استوا کے قریب دیکھا جائے تو ایک مکمل فوبوس زمین پر ایک مکمل چاند جتنا بڑا نظر آئے گا۔ اس کا کونیی قطر 8′ (بڑھتے ہوئے) اور 12′ (اوور ہیڈ) کے درمیان ہے۔ اس کے قریبی مدار کی وجہ سے، جب مبصر مریخ کے خط استوا سے مزید دور ہوتا ہے تو یہ چھوٹا نظر آئے گا جب تک کہ یہ مکمل طور پر افق سے نیچے نہ ڈوب جائے کیونکہ مبصر قطبوں کے قریب جاتا ہے۔ اس طرح فوبوس مریخ کے قطبی برف کے ڈھکنوں سے نظر نہیں آتا۔ مریخ پر ایک مبصر کے لیے ڈیموس زیادہ روشن ستارے یا سیارے کی طرح نظر آئے گا اس کا زاویہ قطر تقریباً 2′ ہے۔ سورج کا کونیی قطر جیسا کہ مریخ سے دیکھا گیا ہے، اس کے برعکس، تقریباً 21′ ہے۔ اس طرح مریخ پر کوئی مکمل سورج گرہن نہیں ہوتا ہے کیونکہ چاند سورج کو مکمل طور پر ڈھانپنے کے لیے بہت چھوٹے ہیں۔ دوسری طرف، فوبوس کے مکمل چاند گرہن تقریباً ہر رات ہوتے ہیں۔فوبوس اور ڈیموس کی حرکتیں زمین کے چاند سے بہت مختلف نظر آئیں گی۔ تیز فوبوس مغرب میں طلوع ہوتا ہے، مشرق میں غروب ہوتا ہے، اور صرف گیارہ گھنٹوں میں دوبارہ طلوع ہوتا ہے، جب کہ ڈیموس، صرف مطابقت پذیر مدار سے باہر ہونے کی وجہ سے ، مشرق میں توقع کے مطابق لیکن بہت آہستہ آہستہ طلوع ہوتا ہے۔ اس کے 30 گھنٹے کے مدار کے باوجود، اسے مغرب میں طے ہونے میں 2.7 دن لگتے ہیں کیونکہ یہ مریخ کی گردش کے پیچھے پڑ جاتا ہے۔

    دونوں چاند سمندری طور پر بند ہیں ، ہمیشہ مریخ کی طرف ایک ہی چہرہ پیش کرتے ہیں۔ چونکہ فوبوس مریخ کے گرد سیارے کے خود گردش کرنے سے زیادہ تیزی سے چکر لگاتا ہے، اس لیے سمندری قوتیں آہستہ آہستہ لیکن مسلسل اس کے مداری رداس کو کم کر رہی ہیں۔ مستقبل میں کسی وقت، جب یہ روشے کی حد میں آجائے گا ، فوبوس ان سمندری قوتوں سے ٹوٹ جائے گا اور یا تو مریخ سے ٹکرا جائے گا یا ایک انگوٹھی بن جائے گا۔ مریخ کی سطح پر گڑھوں کی کئی تاریں، جو خط استوا سے زیادہ پرانی ہیں، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ شاید دوسرے چھوٹے چاند بھی رہے ہوں گے جو فوبوس کی متوقع قسمت کا شکار ہوئے ہوں،

  • دنیا کی دوتہائی فعال سیٹلائٹس پر  ایلون مسک کا کنٹرول

    دنیا کی دوتہائی فعال سیٹلائٹس پر ایلون مسک کا کنٹرول

    رواں ہفتے اسٹار لنک کے 7ہزار ویں سیٹلائٹ کو خلا میں بھیجنے کے بعد ایلون مسک نے خلا میں اپنا تسلط مضبوط کر لیا ہے اور وہ اس وقت زمین کے گرد گردش کرنے والے فعال سیٹلائٹس کے تقریباً دو تہائی کو کنٹرول کرنے والے واحد شخصیت ہیں۔

    سیٹلائٹ ٹریکر ’سیلس ٹریک‘ کے تازہ ترین اعداد وشمار کے مطابق ایلون مسک کی خلائی کمپنی اسپیس ایکس دنیا کی 62 فیصد فعال سیٹلائٹس کو کنٹرول کرتی ہے۔حال ہی میں اسپیس ایکس کے 7 ہزارویں اسٹارلنک سیٹلائٹ کی لانچنگ کے بعد فعال سیٹلائٹس کی کل تعداد 6 ہزار 370 ہوگئی ہے۔انٹرنیٹ سیٹلائٹ کانسٹیلیشن کو آپریٹ کرنے والی کمپنی اسپیس ایکس نے 2019 میں پہلی بار سیٹلائٹ لانچ کیا جس کے بعد وہ روزانہ کی بنیاد پر اوسطاً 3 سیٹلائٹ خلا میں بھیج رہی ہے۔سیٹلائٹ ٹریکر ’سیلس ٹریک‘ کے اعداد و شمار کے مطابق، اسپیس ایکس اب دنیا کے 62 فیصد سے زیادہ آپریشنل سیٹلائٹس کو کنٹرول کرتا ہے اور یہ تعداد ان کے حریف برطانوی کمپنی ’وین ویب‘ کی سے 10 گنا زیادہ ہے۔’وین ویب‘ یوکرین پر روسی حملے کے بعد روس کے خلائی ادارے ’سویوز‘ کے ساتھ لانچنگ منسوخ ہونے کے بعد سے اپنے سیٹلائٹس خلا میں بھیجنے کے لیے اسپیس ایکس پر انحصار کررہی ہے۔

    دنیا بھر میں تیز رفتار انٹرنیٹ اور فون کنیکٹیویٹی فراہم کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا اسٹارلنک کانسٹیلیشن، فی الحال 102 ممالک میں کام کرتا ہے اور 30 لاکھ سے زیادہ صارفین کو خدمات فراہم کرتا ہے۔اسپیس ایکس کا منصوبہ ہے کہ وہ مجموعی طور پر 42 ہزار سیٹلائٹس لانچ کرے اور ان کی کوریج مزید ممالک تک بڑھائی جائے تاہم تجارتی اور انٹرنیٹ کی پابندیوں کی وجہ سے افغانستان، چین، ایران، شمالی کوریا، روس اور شام کو فہرست سے خارج کر دیا گیا ہے۔البتہ اسٹار لنک کے غیر قانونی آلات کی ایران سمیت دیگر علاقوں میں داخل ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

    ایلون مسک نے حال ہی میں سیٹلائٹ نیٹ ورک پر اپنے کنٹرول کو اجاگر کرتے ہوئے ٹویٹ کیا ’ اسٹار لنک اب زمین کے تمام فعال سیٹلائٹس کا تقریباً دو تہائی حصہ بن چکا ہے’ ۔اسٹار لنک، ٹیسلا، اور ایکس (سابقہ ​​ٹویٹر) کے ذریعے ایلون مسک کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ نے خدشات کو جنم دیا ہے۔ماضی میں ایک پوسٹ میں ایلون مسک نے دعویٰ کیا تھا کہ اسٹار لنک، ٹیسلا اور ٹوئٹر کے درمیان میرے پاس کسی بھی کمپنی سے زیادہ رئیل ٹائم عالمی اکنامک ڈیٹا ہوسکتا ہے۔تاہم اسٹار لنک کو بھی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا ہے، برازیل میں قانون سازوں کی جانب سے گزشتہ ہفتے ایکس پر پابندی عائد کرنے کے بعد اسٹار لنک نے ابتدائی طور پر ایپ کو اپنے صارفین کے لیے قابل رسائی بنایا تھا تاہم بعد میں حکومتی حکم کی تعمیل کی۔