امریکی کمپنی الیف ایرو ناٹکس نے دنیا کی پہلی اُڑنے والی کار کی تیاری کا آغاز کردیا ہے۔ کمپنی کے مطابق الیف ماڈل اے الٹرا لائٹ نامی یہ گاڑی 2026 کے اوائل میں صارفین کے لیے دستیاب ہوسکتی ہے۔
الیف ایرو ناٹکس کا کہنا ہے کہ یہ مکمل طور پر برقی گاڑی ہے جو زمین پر چلنے کے ساتھ ساتھ فضا میں اڑان بھرنے کی صلاحیت بھی رکھتی ہے۔ اس گاڑی کو شہری علاقوں میں ٹریفک کے شدید مسائل سے نمٹنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
کمپنی کے مطابق اگر صارف پرواز نہ کرنا چاہے تو الیف ماڈل اے کو زمین پر اتار کر عام کار کی طرح سڑک پر بھی چلایا جاسکتا ہے۔
اڑنے والی اس گاڑی کی ابتدائی قیمت 3 لاکھ ڈالر مقرر کی گئی ہے جبکہ اب تک ساڑھے تین ہزار سے زائد پری آرڈرز موصول ہوچکے ہیں۔
Category: سائنس و ٹیکنالوجی

امریکی کمپنی نے دنیا کی پہلی اُڑنے والی کار متعارف کرانے کی تیاری شروع کردی

5 دہائیوں بعد انسان ایک بار پھر چاند کے مدار کی جانب جانے کے لیے تیار
دہائیوں بعد انسان دوبارہ چاند کے مدار پر واپسی کے لیے تیار ہیں۔ امریکی خلائی ادارے ناسا فروری 2026 میں 5 دہائیوں بعد پہلا انسان بردار خلائی مشن آرٹیمس 2 روانہ کرنے والا ہے۔
اس مقصد کے لیے ناسا کی جانب سے اسپیس لانچ سسٹم (SLS) راکٹ اور اورین اسپیس کرافٹ کو فلوریڈا کے کینیڈی اسپیس سینٹر میں منتقل کرنے کی حتمی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ اسپیس کرافٹ کو 17 جنوری کے بعد کسی وقت وہاں منتقل کیا جائے گا جبکہ مشن 6 فروری کو روانہ ہونے کا امکان ہے، تاہم یہ موسم اور دیگر تکنیکی عوامل پر منحصر ہوگا۔
آخری بار ناسا نے 1972 میں اپولو پروگرام کے تحت انسان بردار مشن چاند پر بھیجا تھا۔ اب 5 دہائیوں کے بعد دوبارہ ایسا کیا جا رہا ہے۔ آرٹیمس 2 مشن میں 4 خلا باز شامل ہوں گے جو اورین اسپیس کرافٹ میں نصب لائف سپورٹ سسٹمز کی جانچ کریں گے تاکہ مستقبل میں طویل مشنز ممکن ہو سکیں۔
یہ مشن پہلے دو بار زمین کے مدار میں پرواز کرے گا اور پھر چاند کے اس حصے کی جانب روانہ ہوگا جو زمین سے نظر نہیں آتا۔ اگر مشن مقررہ وقت پر روانہ ہوا تو جنوری کے آخر میں ناسا ایک ریہرسل بھی کرے گا۔
واضح رہے کہ نومبر 2022 میں آرٹیمس 1 مشن چاند کے گرد جا کر زمین پر واپس آیا تھا، مگر اس میں کوئی انسان شامل نہیں تھا۔ آرٹیمس 2 مشن کا مقصد انسانوں کو چاند کے گرد پہنچانا اور واپس لانا ہے، تاہم یہ خلا باز چاند کی سطح پر قدم نہیں رکھیں گے۔ یہ ناسا کے لیے 1972 کے بعد پہلا موقع ہوگا جب انسان زمین کے نچلے مدار سے باہر سفر کرے گا۔
آرٹیمس 2 مشن ناسا کے طاقتور ترین اسپیس لانچ سسٹم (SLS) راکٹ کے ذریعے روانہ کیا جائے گا، جبکہ اس کے بعد 2027 میں شیڈول آرٹیمس 3 مشن کے تحت انسان پہلی بار چاند کی سطح پر قدم رکھیں گے۔ آرٹیمس 3 مشن کو اسپیس ایکس کے اسٹار شپ راکٹ کے ذریعے انجام دیا جائے گا۔
ہمیشہ ساتھ چلنے والا خودکار سولر چارجر، توانائی کا نیا حل
جدید دور میں اسمارٹ فونز اور دیگر الیکٹرانک ڈیوائسز بیٹری پر چلتی ہیں، جنہیں بار بار چارج کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے۔ مگر ہر جگہ بجلی تک رسائی ممکن نہیں ہوتی۔ اسی مسئلے کے حل کے طور پر ایک منفرد خودکار سولر چارجر متعارف کرا دیا گیا ہے۔
لاس ویگاس میں کنزیومر الیکٹرونکس شو (CES) کے دوران جیکری نامی کمپنی نے “سولر مارس بوٹ” کے نام سے ایک جدید سولر پاور اسٹیشن پیش کیا۔ اس ڈیوائس کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ یہ خود حرکت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور صارف کے پیچھے پیچھے چلتا رہتا ہے۔
سولر مارس بوٹ میں 5 کلو واٹ کی طاقتور بیٹری نصب ہے جبکہ اس کے ساتھ چار سولر پینلز لگے ہوئے ہیں، جو سورج کی روشنی سے 300 واٹ تک بجلی پیدا کر سکتے ہیں۔ پہیوں کی موجودگی کے باعث یہ ڈیوائس کھلی جگہوں پر حرکت کرتے ہوئے سورج کی سمت کو خودکار طور پر فالو کرتی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ توانائی حاصل کی جا سکے۔
اس میں نصب جدید کیمرے صارف کی حرکات کو شناخت کرتے ہیں، جس کے باعث یہ سولر چارجر نہ صرف سورج کی روشنی بلکہ آپ کی نقل و حرکت کا بھی تعاقب کرتا رہتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ ایجاد مستقبل میں متبادل توانائی کے استعمال کو مزید آسان اور مؤثر بنا سکتی ہے۔
آج سے مریخ کا زمین سے رابطہ کچھ دنوں کے لیے منقطع
زمین اور مریخ کے درمیان تمام ریڈیو رابطے کچھ دنوں کے لیے منقطع ہو جائیں گے، کیونکہ سورج دونوں سیاروں کے درمیان آ رہا ہے، یہ ایک قدرتی مظہر ہے جسے سولر کنجکشن کہا جاتا ہے اس دوران مریخ پر موجود تمام روبوٹک مشنز سے براہِ راست رابطہ عارضی طور پر معطل کردیا جائے گا۔
ناسا کے مطابق، 29 دسمبر 2025 سے 9 جنوری 2026 تک کسی بھی مریخی مشن کو نئی ہدایات نہیں بھیجی جائیں گی اس دوران سورج کی انتہائی گرم، برقی چارج شدہ گیسیں جو پلازما کہلاتی ہیں، ریڈیو سگنلز میں خلل ڈال سکتی ہیں، جس سے کسی بھی کمانڈ کے خراب ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ ایک معمولی رکاوٹ یا بگ، کسی سطر کے ایک بِٹ کو بھی بدل دے، تو پورا سسٹم متاثر ہو سکتا ہے، اور اربوں ڈالر کے مشن خطرے میں پڑ سکتے ہیں۔
گزشتہ دو دہائیوں سے مریخ کے گرد مدار میں گھومنے والے سیٹلائٹس، سطح پر اترے لینڈرز اور متحرک روورز مسلسل سرخ سیارے کا مشاہدہ کررہے ہیں ان مشنز نے مریخ کی فضا، موسم، ارضیاتی ساخت اور وہاں ممکنہ قدیم زندگی کے آثار کے بارے میں قیمتی معلومات فراہم کیں، تاہم سولر کنجنکشن کے دوران یہ تمام مشنز عملی طور پر خود مختار ہوجاتے ہیں، اس کا مطلب یہ ہے کہ سولر کنجنکشن کے دوران مریخ پر موجود خلائی مشینیں زمین سے ہدایات لیے بغیر خود ہی کام کرتی ہیں۔
راولپنڈی میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع
سولر کنجنکشن شروع ہونے سے پہلے ناسا کے ماہرین مریخ پرموجود ہر خلائی مشین کو پہلے ہی ایک مکمل منصوبہ بھیج دیتے ہیں، جس میں تقریباً دو ہفتوں تک کے تمام کام طے کیے جاتے ہیں، ان ہدایات کے مطابق خلائی مشینیں خود فیصلہ کرتی ہیں کہ کون سے آلات عارضی طور پر بند رکھنے ہیں، کہاں توانائی بچانی ہے اور کون سا سائنسی ڈیٹا اکٹھا کر کے محفوظ کرنا ہے، تاکہ زمین سے رابطہ نہ ہونے کے باوجود مشن محفوظ طریقے سے اپنا کام جاری رکھ سکے۔
کچھ مشنز اس دوران اپنے حساس آلات عارضی طور پر بند کردیتے ہیں تاکہ کسی ممکنہ نقصان سے بچا جاسکے، جبکہ بعض روورز اور مدار گرد مشینیں ڈیٹا اکٹھا کرتی رہتی ہیں اور اسے اپنی اندرونی یادداشت میں محفوظ کرلیتی ہیں چند مشنز محدود پیمانے پر سگنل بھیجتے بھی رہتے ہیں، اس آگاہی کے ساتھ کہ اس کا کچھ حصہ زمین تک پہنچنے سے پہلے ہی ضائع ہوسکتا ہے۔
کنسرٹ میں پرفارمنس کے دوران شائے گل زخمی ہو گئیں
اس پورے عمل میں سب سے اہم اصول یہی ہے کہ زمین سے کوئی نئی ہدایت نہ بھیجی جائے۔ ماہرین کے مطابق اگر کمانڈ کے کسی ایک بٹ میں بھی خرابی آگئی تو برسوں کی محنت اور اربوں ڈالر کی لاگت سے تیار کردہ مشن کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔
آج کل مریخ پر موجود خلائی گاڑیاں خاصی حد تک خودمختارہو چکی ہیں۔ وہ خود دیکھ سکتی ہیں کہ سب کچھ ٹھیک کام کر رہا ہے یا نہیں، اور اگر کوئی خرابی ہو جائے تو خود کو محفوظ حالت میں لے آتی ہیں زمین سے نئے حکم ملے بغیر بھی وہ پہلے سے بنے منصوبے کے مطابق اپنا کام جاری رکھتی ہیں۔
اسرائیل کی ابو عبیدہ کو شہید کرنے کی ویڈیو پھر سے وائرل
ناسا کے ماہرین اس کو ایسے سمجھاتے ہیں جیسے والدین کسی ذمہ دار بچے کو چند دن کے سفر پر بھیج دیں۔ تمام تیاری پہلے کر لی جاتی ہے، اور پھر اس پر بھروسا کر کے اسے خود کام کرنے دیا جاتا ہےمشن پر کام کرنے والی ٹیموں کے لیے یہ وقت ایک طرح کا امتحان بھی ہوتا ہے، کیونکہ انہیں اپنی خلائی مشینوں کو کچھ دنوں کے لیے خود پر چھوڑنا پڑتا ہے، اور ساتھ ہی یہ روزانہ کی مسلسل نگرانی سے ایک مختصر آرام کا موقع بھی بن جاتا ہے۔
دوسری جانب یہ وقفہ ہمیں یہ بھی بتاتا ہے کہ چاہے ہماری ٹیکنالوجی کتنی ہی جدید کیوں نہ ہو، قدرت کے کچھ قوانین ایسے ہیں جن کے سامنے انسان کو انتظار کرنا پڑتا ہے-

روس کا چاند پر نیوکلیئر پاور پلانٹ تعمیر کرنے کا اعلان
روس 2036 تک چاند پر ایک نیوکلیئر پاور پلانٹ تعمیر کرے گا-
عالمی میڈیا کے مطابق روس کی سرکاری خلائی ایجنسی کا اس مقصد کے لیے دیگر خلائی کمپنیوں کے ساتھ معاہدہ طے پا گیاسرکاری خلائی ایجنسی کا کہنا ہے کہ آئندہ دہائی میں چاند پر ایک پاور پلانٹ تعمیر کریں گے ،منصوبے میں سرکاری جوہری کمپنی روس ایٹم اور ملک کے معروف جوہری تحقیقی ادارے شامل ہوں گے،پاور پلانٹ کا مقصد روس کے قمری پروگرام کو توانائی فراہم کرنا ہے،روس سے قبل امریکا نے بھی چاند پر نیوکلیئر ری ایکٹر لگانے کا اعلان کیا تھا۔
واضح رہے کہ اس سے قبل ناسا نے اگست میں 2030 تک چاند پر ایک جوہری ری ایکٹر لگانے کے منصوبے کا اعلان کیا تھا۔
تحریک تحفظ آئین پاکستان نےحکومت سے بات چیت پر آمادگی ظاہر کردی
پی ٹی آئی جب پہیہ جام ہڑتال کرے گی تب حکومت دیکھ لے گی،خواجہ آصف
لیبیئن طیارہ حادثہ: کاک پٹ وائس اور فلائٹ ڈیٹا ریکارڈرز بازیاب

بھارت کا سب سے بھاری سیٹلائٹ کامیابی سے خلا میں روانہ
بھارتی خلائی ایجنسی انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن (اسرو) نے بدھ کے روز اپنی تاریخ کا سب سے وزنی سیٹلائٹ کامیابی سے خلا میں روانہ کر دیا ہے-
وزیراعظم نریندر مودی نے اپنے بیان میں کہا کہ LVM3-M6 راکٹ کے ذریعے امریکا میں تیار کردہ AST SpaceMobile کمیونیکیشن سیٹلائٹ کو لو ارتھ آربٹ میں بھیجا گیا یہ سیٹلائٹ 6 ہزار 100 کلوگرام وزنی ہے، جو اب تک بھارت کی سرزمین سے لانچ کیا جانے والا سب سے بھاری پے لوڈ ہے، اس کامیاب مشن سے بھارت کی ہیوی لفٹ لانچ صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور عالمی کمرشل سیٹلائٹ مارکیٹ میں بھارت کا کردار مزید مضبوط ہوگا یہ لانچ بھارت کے خلائی سفر میں ایک قابلِ فخر سنگِ میل ہے اور اس سے مستقبل کے خلائی مشنز کے لیے نئی راہیں ہموار ہوں گی۔
https://x.com/narendramodi/status/2003677923820335183?s=20
اسرو نے رواں سال کے آغاز میں CMS-03 کمیونیکیشن سیٹلائٹ بھی خلا میں بھیجا تھا، تاہم حالیہ سیٹلائٹ وزن کے اعتبار سے اس سے کہیں زیادہ بھاری ہے بھارت آنے والے برسوں میں بغیر انسان کے خلائی مشن، انسانی خلائی پرواز اور 2040 تک خلا میں خلاباز کو چاند پر بھیجنے کا منصوبہ رکھتا ہے۔

لیموں جیسی شکل کا انوکھا سیارہ دریافت
ناسا کی جیمز ویب ٹیلی اسکوپ نے لیموں جیسی شکل کا انوکھا سیارہ دریافت کر لیا۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ماہرینِ فلکیات نے ناسا کی جدید جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ کی مدد سے ایک نہایت عجیب و غریب سیارہ دریافت کیا ہے جس کی ساخت لیموں سے مشابہ بتائی جا رہی ہےسائنس دانوں کے مطابق اس غیر معمولی سیارے کی خصوصیات ستاروں اور سیاروں کے درمیان موجود روایتی فرق کو دھندلا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
یونیورسٹی آف شکاگو کے ماہرین فلکیات نے اس سیارے کو PSR J2322-2650b کا نام دیا ہےیہ سیارہ اپنے مرکزی ستارے کے انتہائی قریب گردش کر رہا ہے جہاں اس کا فاصلہ محض 10 لاکھ میل ہے جو زمین اور سورج کے درمیان فاصلے سے تقریباً 100 گنا کم ہے۔
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ PSR J2322-2650b کا ایک سال صرف 7.8 گھنٹوں پر مشتمل ہے جو اسے اب تک دریافت ہونے والے تیز ترین مدار والے سیاروں میں شامل کرتا ہےاس سیارے کا مرکزی ستارہ ایک پلسر ہے یعنی ایک انتہائی تیز رفتار گھومنے والا نیوٹرون ستارہ جس کی شدید کششِ ثقل نے سیارے کی ساخت کو بگاڑ کر بیضوی بنا دیا ہے جو دیکھنے میں لیموں کی شکل سے مشابہ ہے۔
ماہرین کے مطابق اس سیارے کا ماحول بھی غیر معمولی نوعیت کا حامل ہے جس میں ہیلیئم اور کاربن کی بھاری مقدار پائی جاتی ہےانہی عناصر کی وجہ سے سیارے پر نہایت تیز ہوائیں چلتی ہیں، جو اس کے ماحول کو مزید منفرد بنا دیتی ہیں،PSR J2322-2650b جیسی دریافتیں کائنات کی ساخت اور سیاروں کی اقسام کے بارے میں موجود سائنسی تصورات کو چیلنج کرتی ہیں اور یہ ممکن ہے کہ مستقبل میں ایسے مزید اجسام دریافت ہوں جو ستاروں اور سیاروں کے درمیان فرق کو مکمل طور پر ختم کر دیں۔

گوگل اپڈیٹ، اب بول کر راستے کی معلومات حاصل کریں
انٹرنیٹ ٹیکنالوجی کی سب سے بڑی کمپنی گوگل نے میپس ایپ میں اہم اپڈیٹ متعارف کرا دیا ہے، جس کے بعد صارفین صرف آواز کے ذریعے راستے اور ٹریفک کی تمام معلومات حاصل کر سکیں گے۔
ٹیکنالوجی ویب سائٹ کے مطابق گوگل نے اپنی مشہور ایپ گوگل میپس کو نئے انداز میں اپ ڈیٹ کیا ہے، جس سے یہ محض ایک نقشہ نہیں رہا بلکہ ایک اسمارٹ معاون کی طرح کام کرے گا۔نئے فیچرز کے تحت صارفین بغیر موبائل ہاتھ میں لیے صرف بول کر راستہ تلاش کر سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر آپ صرف کہیں گوگل، قریب ترین ہسپتال دکھاؤ” یا "قریب پیٹرول پمپ دکھاؤ جہاں پارکنگ ہو” — میپس فوری طور پر معلومات فراہم کر دے گا۔
اگر راستے میں ٹریفک نہ ہو تو گوگل مناسب روٹ فوراً بتا دے گا، جبکہ اب ایپ ہدایات سڑکوں کے ناموں کے بجائے مشہور مقامات اور عمارتوں کی بنیاد پر دے گی، مثلاً تھائی سیام ریسٹورنٹ کے بعد دائیں مڑیں ،اس سے ڈرائیونگ کے دوران نیوی گیشن مزید آسان ہو جائے گی۔صارفین اگر راستے میں ٹریفک، سڑک بندش یا کسی حادثے کا سامنا کریں تو وہ بھی آواز کے ذریعے رپورٹ کر سکیں گے، جس پر گوگل میپس دیگر ڈرائیورز کو فوری اطلاع دے گا۔
یہ فیچر فی الحال اینڈرائیڈ صارفین کے لیے دستیاب ہے، جبکہ جلد ہی آئی او ایس اور گوگل آٹو سسٹمز کے لیے بھی متعارف کرایا جائے گا
سری لنکا سیلاب متاثرین کی مدد، پاک بحریہ کی امدادی سرگرمیاں جاری

والدین کو بچوں کے اے آئی چیٹ بوٹس تک رسائی حاصل ہوگی،میٹا کا اعلان
میٹا نے اعلان کیا ہے کہ وہ بچوں کے زیرِ استعمال رہنے والے آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) چیٹ بوٹس تک والدین کو رسائی فراہم کرے گی۔
خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق فیس بک، واٹس ایپ اور انسٹاگرام کی مالک کمپنی میٹا اگلے سال کے آغاز سے والدین کے لیے نئے کنٹرول فیچرز متعارف کرانے جا رہی ہے، جن کے ذریعے وہ بچوں کے اے آئی چیٹ بوٹس کے ساتھ ہونے والی گفتگو پر محدود نگرانی رکھ سکیں گے۔میٹا کے مطابق نئے فیچرز میں والدین کو یہ اختیار ہوگا کہ وہ اپنے بچوں کے مخصوص اے آئی کرداروں کے ساتھ انفرادی چیٹس کو بند کر سکیں۔ تاہم اے آئی اسسٹنٹ بند نہیں کیا جا سکے گا، کیونکہ یہ بچوں کو تعلیمی معلومات اور مفید رہنمائی فراہم کرتا رہے گا، جس میں عمر کے مطابق حفاظتی اقدامات شامل ہوں گے۔
کمپنی نے یہ بھی بتایا کہ والدین ضرورت پڑنے پر مخصوص اے آئی چیٹ بوٹس کو بلاک کر سکیں گے، اور انہیں یہ معلومات حاصل ہوں گی کہ ان کے بچے چیٹ بوٹس کے ساتھ کس نوعیت کی گفتگو کر رہے ہیں، البتہ وہ مکمل چیٹ کا مواد نہیں دیکھ سکیں گے۔
یہ اقدامات ایسے وقت میں کیے جا رہے ہیں جب میٹا کو اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں پر منفی اثرات اور اے آئی چیٹ بوٹس کے ممکنہ خطرات کے حوالے سے عالمی سطح پر تنقید کا سامنا ہے۔ بعض مقدمات میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان چیٹ بوٹس کی وجہ سے بچوں میں خودکشی کے رجحانات میں اضافہ ہوا ہے
پیراماؤنٹ نے ایم ٹی وی کے پانچ مشہور میوزک چینلز بند کرنے کا اعلان کر دیا
برطانوی سوسائٹی کی معروف شخصیت لیڈی انیبل گولڈ اسمتھ انتقال کر گئیں
وائٹ ہاؤس پریس سیکریٹری کا رپورٹر کو غیر معمولی جواب، سوشل میڈیا پر زیربحث

ناسا کا 5 دہائیوں بعد انسان بردار خلائی مشن کو چاند کے مدار پر بھیجنے کا فیصلہ
واشنگٹن: امریکی خلائی ادارے ناسا نے 5 دہائیوں بعد انسان بردار خلائی مشن کو چاند کے مدار پر بھیجنے کا فیصلہ کر لیا۔
غیرملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق 5 دہائیوں بعد انسان ایک بار چاند کے مدار پر واپسی کیلئے تیار ہے ناسا نے مقررہ وقت سے پہلے ہی چاند کے مدار پر انسان بردار خلائی مشن کو بھیجنے کا اعلان کر دیا۔
ناسا کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ اس کے آرٹیمس پروگرام کے تحت پہلی انسان بردار پرواز فروری 2026 میں چاند کی جانب بھیجی جاسکتی ہے۔ اور ناسا کا آرٹیمس پروگرام بنیادی طور پر انسانوں کو 5 دہائیوں سے زائد عرصے بعد ایک بار پھر چاند پر واپس بھیجنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔
نومبر 2022 میں آرٹیمس ون مشن چاند پر جاکر زمین پر واپس آنے میں کامیاب رہا تھا، لیکن اس مشن میں کوئی انسان موجود نہیں تھا اس 10 روزہ آرٹیمس ٹو مشن کا مقصد چاند کے گرد انسانوں کو پہنچانا اور پھر واپس لانا ہےخلا باز چاند کی سطح پر قدم نہیں رکھیں گے، یہ 1972 کے بعد پہلی بار ہو گا جب کوئی انسان زمین کے نچلے مدار سے باہر سفر کرے گا۔
ٹی ٹوئنٹی کی رینکنگ جاری،بابر اور صائم ایوب کی تنزی
یہ مشن پہلے اپریل 2026 میں بھیجنے کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔ تاہم اب اسے فروری میں بھیجے جانے کا امکان ہےناسا کی قائم مقام ڈپٹی ایسوسی ایڈمنسٹریٹر لکیشا ہاکنس نے کہا کہ آرٹیمس ٹو مشن کو جلد از جلد 5 فروری تک بھیجا جاسکتا ہے۔ تاہم ہم یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ خلا بازوں کا تحفظ ہماری اولین ترجیح ہے۔
اس کے بعد آرٹیمس تھری مشن کو اسپیس ایکس کے اسٹار شپ راکٹ کے ذریعے چاند پر بھیجا جائے گا، 2027 میں شیڈول آرٹیمس تھری مشن کے تحت انسان دہائیوں بعد پہلی بار چاند کی سطح پر قدم رکھیں گے۔









