Baaghi TV

Category: سائنس و ٹیکنالوجی

  • یو ایس ایف اور جاز کے درمیان براڈ بینڈ سروسز کے متعدد منصوبوں پر معاہدے

    یو ایس ایف اور جاز کے درمیان براڈ بینڈ سروسز کے متعدد منصوبوں پر معاہدے

    اسلام آباد: وزارتِ آئی ٹی کے ادارے یونیورسل سروس فنڈ (یو ایس ایف) اور ٹیلی کام کمپنی جاز کے درمیان براڈ بینڈ سروسز کے متعدد منصوبوں پر معاہدے طے پا گئے۔

    معاہدوں پر دستخط کی تقریب میں وفاقی وزیر آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی،تقریب کے دوران یو ایس ایف کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر چوہدری مدثر نوید اور جاز کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر عامر ابراہیم نے براڈ بینڈ سروسز سے متعلق معاہدوں پر دستخط کیے۔

    اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر آئی ٹی شزہ فاطمہ نے بتایا کہ آج کی تقریب میں ایک ارب 16 کروڑ روپے کی لاگت سے 9 اضلاع میں براڈ بینڈ سروسز کے چار منصوبوں کا باضابطہ اجرا کیا جا رہا ہے، ان منصوبوں کے تحت بہاولنگر، اٹک، سرگودھا، خوشاب، فیصل آباد اور شیخوپورہ کے اضلاع میں براڈ بینڈ سہولیات فراہم کی جائیں گی، جبکہ چنیوٹ اور ایبٹ آباد میں ہائی اسپیڈ براڈ بینڈ اور وائس کمیونیکیشن سروسز کے منصوبے بھی شروع کیے جائیں گے۔

    وفاقی وزیر کے مطابق ان منصوبوں کے نتیجے میں 203 دیہاتوں اور گاؤں کے 5 لاکھ 33 ہزار سے زائد افراد کو ہائی اسپیڈ انٹرنیٹ کی سہولت میسر آئے گی، جس سے تعلیم، صحت، کاروبار اور روزگار کے مواقع میں نمایاں بہتری آئے گی براڈ بینڈ سروسز کے یہ تمام منصوبے 6 سے 18 ماہ کی قلیل مدت میں مکمل کر لیے جائیں گے۔

    شزا فاطمہ خواجہ نے بتایا کہ ملک میں کنیکٹیویٹی کے مسائل کے حل کے لیے اسپیکٹرم میں اضافے اور فائیو جی سروسز کے آغاز کا عمل آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہے یو ایس ایف کے تحت اربوں روپے کی لاگت سے براڈ بینڈ اور آپٹیکل فائبر کیبل کے نئے منصوبے متعارف کرائے جا رہے ہیں، صر ف گزشتہ 6 ماہ کے دوران یو ایس ایف کے تحت 20 ارب 50 کروڑ روپے سے زائد مالیت کے منصوبوں کی منظوری دی جا چکی ہے، جو ڈیجیٹل پاکستان کے وژن کی جانب ایک اہم قدم ہے۔

  • چاند پر نام بھجوانے کے خواہشمند افراد کیلئے ناسا کا پیغام

    چاند پر نام بھجوانے کے خواہشمند افراد کیلئے ناسا کا پیغام

    امریکی خلائی ادارے ناسا نے چاند پر اپنا نام بھجوانے کی خواہش رکھنے والوں کے لیے نام اکٹھے کرنے شروع کردیے۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں ناسا نے لکھا کہ اپنا نام چاند پر بھیجنے کے موقع کو ضائع نہ کریں،ادارہ ناموں کو اکٹھا کر رہا ہے جن کو ایک ایس ڈی کارڈ میں بھر کر آرٹیمیس دوم مشن کے دوران اورین میں بھیجا جائے گا،اپنے پیارے دوستوں، بچوں اور پیاروں کے لیے بھی بورڈنگ پاس نہ بھولیں۔

    واضح رہے آرٹیمس دوم مشن کے لیے لانچ پیڈ پر راکٹ کو تیار کیا جا رہا ہے جس کی لانچ فروری میں متوقع ہے 10 روزہ مشن میں ناسا کے چار خلانورد چاند کے گرد چکر لگا کر واپس آئیں گے،یہ مشین امریکی خلائی ادارے کی نصف صدی سے زیادہ عرصہ بعد ایک بار پھر انسان کو چاند پر اتارنے کی کوشش کی ایک کڑی ہے۔

    آئل ٹینکر سے نو کروڑ روپے مالیت کی منشیات برآمد، ملزم گرفتار

    وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کی سعودی ہم منصب سے ملاقات

    افغانستان کے دارالحکومت کابل میں دھماکا، متعدد افراد ہلاک

  • شعبان 1447 ہجری کا نیا چاند 21 جنوری کو نظر آنے کا امکان

    شعبان 1447 ہجری کا نیا چاند 21 جنوری کو نظر آنے کا امکان

    
ترجمان سپارکو نے بتایا ہے کہ شعبان 1447 ہجری کا نیا چاند 19 جنوری کو رات 12 بج کر 52 منٹ پر پیدا ہوگا۔ تاہم 19 جنوری کی شام چاند نظر آنے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔
    ترجمان نے امکان ظاہر کیا کہ یکم شعبان متوقع طور پر 21 جنوری 2026 کو ہوگا، تاہم حتمی اعلان رویت ہلال کمیٹی کرے گی۔
    ‎سپارکو کا کہنا ہے کہ عوام عبادات اور دیگر دینی تقریبات کے حوالے سے رویت ہلال کمیٹی کے اعلان کا انتظار کریں۔

  • ‎واٹس ایپ صارفین خبردار، اکاؤنٹ ہائی جیکنگ کے خطرات میں اضافہ

    ‎واٹس ایپ صارفین خبردار، اکاؤنٹ ہائی جیکنگ کے خطرات میں اضافہ

    واٹس ایپ صارفین کے لیے ہائی جیکنگ کے خطرات میں اضافہ ہوگیا ہے۔ کابینہ ڈویژن کے تحت نیشنل سائبر ایمرجنسی رسپانس ٹیم نے اس حوالے سے ایڈوائزری جاری کر دی ہے۔
    ‎ایڈوائزری میں 2026 میں واٹس ایپ ہائی جیک مہم سے خبردار کرتے ہوئے صارفین کو سائبر خطرات کے خلاف چوکس رہنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ ہیکرز او ٹی پی فراڈ کے ذریعے واٹس ایپ اکاؤنٹس تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
    ‎ایڈوائزری کے مطابق اکاؤنٹ ہائی جیک ہونے کی صورت میں صارفین کا ذاتی ڈیٹا چرایا جا سکتا ہے اور ہیکرز کو کنٹیکٹ لسٹ، میڈیا فائلز، چیٹ ہسٹری اور ذاتی پیغامات تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے، جسے پیسے منگوانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
    ‎ایڈوائزری میں ہدایت کی گئی ہے کہ 6 ہندسوں کا ایس ایم ایس ویری فکیشن کوڈ، ٹو اسٹیپ ویری فکیشن پن اور وائس کال یا ایس ایم ایس کے ذریعے موصول ہونے والا کوئی بھی کوڈ کسی کے ساتھ شیئر نہ کیا جائے۔

  • 15 جنوری کو پاکستان بھر میں انٹرنیٹ سروس متاثر ہونے کا امکان

    15 جنوری کو پاکستان بھر میں انٹرنیٹ سروس متاثر ہونے کا امکان

    میرین انٹرنیٹ کیبل پر مرمتی کام کےشیڈول کی وجہ سے پاکستان بھر کے انٹرنیٹ صارفین کو 15 جنوری کو سست رفتار انٹرنیٹ اور ممکنہ سروس میں تعطل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے-

    انٹرنیٹ سروس فراہم کنندہ کمپنی نیا ٹیل کے مطابق یہ مرمتی کارروائی دوپہر تقریباً 2:00 بجے شروع ہوگی اور اس میں تقریباً آٹھ گھنٹے لگ سکتے ہیں، جس کے دوران ملک بھر میں انٹرنیٹ کی کارکردگی متاثر ہو سکتی ہے-

    نیا ٹیل کی جانب سے صارفین کو بھیجے گئے ای میل میں کہا گیا ہے کہ یہ مرمت ایک بین الاقوامی سب میرین کیبل پر کی جا رہی ہے اور ناگزیر ہےاگرچہ کمپنی نے کیبل کی درست جگہ یا خرابی کی تفصیلات فراہم نہیں کیں، صارفین کو ممکنہ طور پر انٹرنیٹ کی رفتار میں کمی کا سامنا ہو سکتا ہے۔سب میرین کیبلز پاکستان کے بین الاقوامی ڈیٹا ٹریفک کے لیے انتہائی اہم ہیں، اور ان میں کسی بھی قسم کی خرابی براؤزنگ، اسٹریمنگ، آن لائن کام اور دیگر ڈیجیٹل خدمات کو متاثر کر سکتی ہے۔

    واضح رہے کہ رواں ماہ کے آغاز میں بھی پاکستان میں بڑے پیمانے پر انٹرنیٹ تعطل دیکھنے میں آیا تھا یکم جنوری 2026 کو ملک بھر میں صارفین نے شدید انٹرنیٹ سست روی اور بندش کی شکایت کی تھی، جو ایک اپ اسٹریم انٹرنیٹ فراہم کنندہ میں خرابی کی وجہ سے دو دن سے زائد جاری رہی، پاکستان عالمی انٹرنیٹ رسائی کے لیے محدود تعداد میں سب میرین کیبلز پر انحصار کرتا ہے۔

    مرمتی کام اگرچہ ضروری ہیں، لیکن ان کے اثرات صارفین پر نمایاں پڑتے ہیں مرمت کے دوران ڈیٹا متبادل راستوں کے ذریعے منتقل کیا جاتا ہے، تا ہم اس دوران انٹرنیٹ کی رفتار سست ہو سکتی ہے نیا ٹیل اور دیگر سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں نے صارفین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ مرمت کے دوران اپنی اہم آن لائن سرگرمیوں کی پیشگی منصوبہ بندی کر لیں تاکہ ممکنہ تعطل سے متاثر نہ ہوں۔

  • اسپیس ایکس کو خلا میں مزید سیٹلائٹس لانچ کرنے کی اجازت مل گئی

    اسپیس ایکس کو خلا میں مزید سیٹلائٹس لانچ کرنے کی اجازت مل گئی

    نیویارک: ایلون مسک کی خلائی کمپنی اسپیس ایکس کو اپنے انٹرنیٹ نیٹ ورک کو وسیع کرنے کے لیے خلا میں مزید اسٹار لنک سیٹلائٹس لانچ کرنے کی اجازت دے دی گئی۔

    غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق امریکا کے وفاقی مواصلاتی کمیشن (ایف سی سی) نے اسپیس ایکس کے جنریشن 2 سیٹلائٹس میں اپ گریڈز کی بھی منظوری دی ہے جس کے بعد کمپنی دنیا کے مزید حصوں میں اپنی براڈبینڈ اور موبائل سروسز فراہم کر سکے گی۔

    امریکی ادارے کے مطابق اس منظوری کے تحت اسپیس ایکس کو 7500 مزید جنریشن 2 اسٹار لنک سیٹلائٹس بنانے، لانچ کرنے اور آپریٹ کرنے کی اجازت دی گئی ہےاس توسیع سے اسپیس ایکس عالمی سطح پر تیز رفتار انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے کے قابل ہو جائے گی۔

    واضح رہے کہ موجودہ فعال سیٹلائٹس میں دو تہائی اسٹار لنک کے ہیں۔ اور زمین کے نچلے مدار میں 9 ہزار سے زائد اسٹار لنک سیٹلائٹس کا نیٹ ورک موجود ہے۔

  • 
’کیا آپ زندہ ہیں؟‘ اکیلے رہنے والوں کیلئے چینی ایپ وائرل

    
’کیا آپ زندہ ہیں؟‘ اکیلے رہنے والوں کیلئے چینی ایپ وائرل

    
چین میں ایک نئی موبائل ایپ ’آر یو ڈیڈ؟‘ (کیا آپ زندہ ہیں؟) تیزی سے مقبول ہو رہی ہے جو خاص طور پر اکیلے رہنے والے افراد کے لیے بنائی گئی ہے۔ اس ایپ میں صارف کو ہر دو دن بعد ایک بٹن دبا کر یہ تصدیق کرنی ہوتی ہے کہ وہ خیریت سے ہے۔ اگر مقررہ وقت میں چیک اِن نہ کیا جائے تو ایپ خود بخود صارف کے نامزد ایمرجنسی نمبر پر اطلاع بھیجتی ہے کہ وہ ممکنہ خطرے میں ہو سکتا ہے۔
    یہ ایپ مئی 2025 میں لانچ ہوئی تھی، مگر حالیہ ہفتوں میں چینی شہروں میں نوجوانوں میں اس کی مقبولیت میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے، جس کی وجہ سے یہ اب ملک کی سب سے زیادہ ڈاؤن لوڈ کی جانے والی پریمیم ایپ بن چکی ہے۔
    ‎چینی تحقیقی اداروں کے اندازے کے مطابق 2030 تک چین میں اکیلے رہنے والے افراد کے گھر 20 کروڑ تک پہنچ سکتے ہیں، اور یہ ایپ انہی افراد کو ہدف بناتی ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ نام کی وجہ سے ہونے والی تنقید کے پیش نظر تبدیلی پر غور کر رہی ہے۔
    ‎یہ ایپ عالمی سطح پر Demumu کے نام سے دستیاب ہے اور امریکا، سنگاپور، ہانگ کانگ میں ادائیگی والی یوٹیلٹی ایپس میں دوسرے نمبر پر ہے جبکہ آسٹریلیا اور اسپین میں ٹاپ 4 ایپس میں شامل ہے۔

  • ‎امریکی کمپنی نے دنیا کی پہلی اُڑنے والی کار متعارف کرانے کی تیاری شروع کردی

    ‎امریکی کمپنی نے دنیا کی پہلی اُڑنے والی کار متعارف کرانے کی تیاری شروع کردی

    ‎امریکی کمپنی الیف ایرو ناٹکس نے دنیا کی پہلی اُڑنے والی کار کی تیاری کا آغاز کردیا ہے۔ کمپنی کے مطابق الیف ماڈل اے الٹرا لائٹ نامی یہ گاڑی 2026 کے اوائل میں صارفین کے لیے دستیاب ہوسکتی ہے۔
    ‎الیف ایرو ناٹکس کا کہنا ہے کہ یہ مکمل طور پر برقی گاڑی ہے جو زمین پر چلنے کے ساتھ ساتھ فضا میں اڑان بھرنے کی صلاحیت بھی رکھتی ہے۔ اس گاڑی کو شہری علاقوں میں ٹریفک کے شدید مسائل سے نمٹنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
    ‎کمپنی کے مطابق اگر صارف پرواز نہ کرنا چاہے تو الیف ماڈل اے کو زمین پر اتار کر عام کار کی طرح سڑک پر بھی چلایا جاسکتا ہے۔
    ‎اڑنے والی اس گاڑی کی ابتدائی قیمت 3 لاکھ ڈالر مقرر کی گئی ہے جبکہ اب تک ساڑھے تین ہزار سے زائد پری آرڈرز موصول ہوچکے ہیں۔

  • 5 دہائیوں بعد انسان ایک بار پھر چاند کے مدار کی جانب جانے کے لیے تیار

    5 دہائیوں بعد انسان ایک بار پھر چاند کے مدار کی جانب جانے کے لیے تیار

    
دہائیوں بعد انسان دوبارہ چاند کے مدار پر واپسی کے لیے تیار ہیں۔ امریکی خلائی ادارے ناسا فروری 2026 میں 5 دہائیوں بعد پہلا انسان بردار خلائی مشن آرٹیمس 2 روانہ کرنے والا ہے۔
    اس مقصد کے لیے ناسا کی جانب سے اسپیس لانچ سسٹم (SLS) راکٹ اور اورین اسپیس کرافٹ کو فلوریڈا کے کینیڈی اسپیس سینٹر میں منتقل کرنے کی حتمی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ اسپیس کرافٹ کو 17 جنوری کے بعد کسی وقت وہاں منتقل کیا جائے گا جبکہ مشن 6 فروری کو روانہ ہونے کا امکان ہے، تاہم یہ موسم اور دیگر تکنیکی عوامل پر منحصر ہوگا۔
    ‎آخری بار ناسا نے 1972 میں اپولو پروگرام کے تحت انسان بردار مشن چاند پر بھیجا تھا۔ اب 5 دہائیوں کے بعد دوبارہ ایسا کیا جا رہا ہے۔ آرٹیمس 2 مشن میں 4 خلا باز شامل ہوں گے جو اورین اسپیس کرافٹ میں نصب لائف سپورٹ سسٹمز کی جانچ کریں گے تاکہ مستقبل میں طویل مشنز ممکن ہو سکیں۔
    ‎یہ مشن پہلے دو بار زمین کے مدار میں پرواز کرے گا اور پھر چاند کے اس حصے کی جانب روانہ ہوگا جو زمین سے نظر نہیں آتا۔ اگر مشن مقررہ وقت پر روانہ ہوا تو جنوری کے آخر میں ناسا ایک ریہرسل بھی کرے گا۔
    ‎واضح رہے کہ نومبر 2022 میں آرٹیمس 1 مشن چاند کے گرد جا کر زمین پر واپس آیا تھا، مگر اس میں کوئی انسان شامل نہیں تھا۔ آرٹیمس 2 مشن کا مقصد انسانوں کو چاند کے گرد پہنچانا اور واپس لانا ہے، تاہم یہ خلا باز چاند کی سطح پر قدم نہیں رکھیں گے۔ یہ ناسا کے لیے 1972 کے بعد پہلا موقع ہوگا جب انسان زمین کے نچلے مدار سے باہر سفر کرے گا۔
    ‎آرٹیمس 2 مشن ناسا کے طاقتور ترین اسپیس لانچ سسٹم (SLS) راکٹ کے ذریعے روانہ کیا جائے گا، جبکہ اس کے بعد 2027 میں شیڈول آرٹیمس 3 مشن کے تحت انسان پہلی بار چاند کی سطح پر قدم رکھیں گے۔ آرٹیمس 3 مشن کو اسپیس ایکس کے اسٹار شپ راکٹ کے ذریعے انجام دیا جائے گا۔

  • ‎
ہمیشہ ساتھ چلنے والا خودکار سولر چارجر، توانائی کا نیا حل

    ‎
ہمیشہ ساتھ چلنے والا خودکار سولر چارجر، توانائی کا نیا حل

    
جدید دور میں اسمارٹ فونز اور دیگر الیکٹرانک ڈیوائسز بیٹری پر چلتی ہیں، جنہیں بار بار چارج کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے۔ مگر ہر جگہ بجلی تک رسائی ممکن نہیں ہوتی۔ اسی مسئلے کے حل کے طور پر ایک منفرد خودکار سولر چارجر متعارف کرا دیا گیا ہے۔
    ‎لاس ویگاس میں کنزیومر الیکٹرونکس شو (CES) کے دوران جیکری نامی کمپنی نے “سولر مارس بوٹ” کے نام سے ایک جدید سولر پاور اسٹیشن پیش کیا۔ اس ڈیوائس کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ یہ خود حرکت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور صارف کے پیچھے پیچھے چلتا رہتا ہے۔
    ‎سولر مارس بوٹ میں 5 کلو واٹ کی طاقتور بیٹری نصب ہے جبکہ اس کے ساتھ چار سولر پینلز لگے ہوئے ہیں، جو سورج کی روشنی سے 300 واٹ تک بجلی پیدا کر سکتے ہیں۔ پہیوں کی موجودگی کے باعث یہ ڈیوائس کھلی جگہوں پر حرکت کرتے ہوئے سورج کی سمت کو خودکار طور پر فالو کرتی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ توانائی حاصل کی جا سکے۔
    ‎اس میں نصب جدید کیمرے صارف کی حرکات کو شناخت کرتے ہیں، جس کے باعث یہ سولر چارجر نہ صرف سورج کی روشنی بلکہ آپ کی نقل و حرکت کا بھی تعاقب کرتا رہتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ ایجاد مستقبل میں متبادل توانائی کے استعمال کو مزید آسان اور مؤثر بنا سکتی ہے۔