Baaghi TV

Category: سائنس و ٹیکنالوجی

  • پہلی مرتبہ کائنات میں بلبلہ نما ساخت دریافت

    پہلی مرتبہ کائنات میں بلبلہ نما ساخت دریافت

    لندن: ہبل دوربین کی مدد سے حاصل شدہ تصاویر اور ڈیٹا کا جائزہ لینے کے بعد بین الاقوامی ماہرینِ فلکیات نے پہلی مرتبہ کائنات میں ایک ایسی بلبلہ نما ساخت دریافت کی ہے جو کہکشاؤں پر مبنی ہے اور اس کی غیرمعمولی وسعت کا اندازہ ایک ارب نوری سال لگایا گیا ہے،جس کے بارے میں ماہرین کا خیال ہے کہ یہ بگ بینگ کے فوراً بعد کا ایک فوسل شدہ باقیات ہے۔

    باغی ٹی وی :ٹیم کے رکن کولن ہولیٹ، یونیورسٹی آف کوئنز لینڈ کے سکول آف میتھمیٹکس اینڈ فزکس نے کہا کہ یہ بلبلہ ہماری اپنی ملکی وے کہکشاں سے 10 ہزار گنا بڑا ہے اور اسی کہکشاں سے 82 کروڑ نوری سال کے فاصلے پر واقع ہے خیال ہے کہ یہ عظیم بلبلہ بگ بینگ کے فوری بعد پیدا ہوا تھا اور یوں قدیم کائنات کو سمجھنے میں ایک اہم کردار ادا کرسکتا ہے اسی بنا پر ماہرین نے اسے کائناتی رکاز (فاسل) بھی کہا ہے۔

    بھارتی شمسی ریسرچ مشن آدتیہ- ایل 1 کامیابی کے ساتھ تیسرے مدار میں داخل

    حیرت انگیز طورپربڑے اس کائناتی مظہر سے ایک جانب تو خود سائنسداں حیران ہیں تو دوسری جانب اس کا مطالعہ کئی دلچسپ انکشافات کا اضافہ کرتا ہے کولن ہولیٹ کہتے ہیں کہ اس کائناتی عجوبے کو دیکھ کر ہم خود انگشت بدنداں ہیں کیونکہ یہ ہم سے بہت ہی قریب ہے۔

    کیولن ہولیٹ نے یونیورسٹی آف کوئنز لینڈ سے شائع ہونے والے ایک انٹرویو میں کہا کہ ہم اس کی تلاش بھی نہیں کر رہے تھے، لیکن ڈھانچہ اتنا بڑا ہے کہ یہ آسمان کے اس سیکٹر کے کناروں تک پھیل گیا جس کا ہم تجزیہ کر رہے تھے اسے دیکھ کر کائناتی پھیلاؤ کی رفتار معلوم کی جاسکتی ہےاور یہ ہمیں بتاتا ہے کہ ہماری کائنات کتنی وسیع ہوسکتی ہے ان کے مطابق اس دریافت کی روشنی میں کائناتی تاریخ کو نئے سرے سے لکھنے کی ضرورت پیش آسکتی ہے-

    آب و ہوا کے مطالعے کے لیے پہلی پرواز شروع

    یہ تحقیق اس ہفتے کے ’ایسٹرفزیکل جرنل‘ میں شائع ہوئی ہے تحقیق کےمطابق ابتدائی کائنات میں گرم پلازمہ کی وجہ سے ثقلی اور ریڈیائی عمل سے صوتی (آواز) کی امواج خارج ہوئی تھیں جنہیں ’بیریئن اکاسٹک آسلیشن‘ (بی اے او) کہا جاتا ہے ماہرین نے 2005 میں بے اے او کے سگنل محسوس کئے تھے۔

    تاہم بگ بینگ کے 380000 برس بعد یہ عمل رک گیا، کائنات کچھ ٹھنڈی ہوئی اور کہیں کہیں بلبلوں کی شکلیں وجود میں آگئیں پھر یہ بلبلے پھیلے اور خوب بڑے ہوئے لیکن انہیں ہم ابتدائی کائنات کی اولین نشانیاں کہہ سکتے ہیں اور یہ بلبلہ بھی انہیں میں سے ایک ہے۔

    سمندرمیں مستقل انسانی اسٹیشن قائم کرنے کا منصوبہ

  • بھارتی شمسی ریسرچ مشن آدتیہ- ایل 1 کامیابی کے ساتھ تیسرے مدار میں داخل

    بھارتی شمسی ریسرچ مشن آدتیہ- ایل 1 کامیابی کے ساتھ تیسرے مدار میں داخل

    چنئی:سورج کا مطالعہ کرنے کے لیے بھیجے گئے ہندوستانی خلائی تحقیقی ادارے (اسرو) کا پہلا شمسی ریسرچ مشن آدتیہ- ایل 1 کامیابی کے ساتھ تیسرے مدار میں داخل ہو گیا ہے۔

    باغی ٹی وی: بھارتی خلائی ایجنسی اسرو کے مطابق اتوار کو 2:30 بجے، اسرو ٹیلی میٹری، ٹریکنگ اینڈ کمانڈ نیٹ ورک (آئی ایس ٹی آر اے سی) نے آدتیہ L1 کو اگلے مدار میں کامیابی کے ساتھ پہنچایا مشن کے دوران، ماریشس، بنگلورو، ایس ڈی ایس سی-ایس ایچ اے آر اور پورٹ بلیئر میں اسروکے گراؤنڈ اسٹیشنوں نے سیٹلائٹ کی نگرانی کی نیا مدار296 کلومیٹر ضرب 71767 کلومیٹر ہے اگلے چوتھے مدار میں داخل ہونے کے لئے 15 ستمبر کی صبح 2 بجے کا وقت مقرر کیا گیا ہے۔
    india
    واضح ہے کہ ہندوستان نے سورج اور خلا کا مطالعہ کرنے کے لیے 2 ستمبر کو اپنا پہلا سوریہ مشن آدتیہ ایل 1 شروع کیا تھایہ سوریہ مشن زمین کے سب سے قریب ترین ستارے کا مشاہدہ کرے گا اور سولر ونڈ جیسے خلا کے موسم کی خصوصیات کا مطالعہ کرے گا،آدتیہ ایل ون کو سورج کے قریب جانے کے لیے زمین سے تقریباً 15 لاکھ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ’لاگرینج ون‘ (Lagrange-1) پوائنٹ تک پہنچنا ہے،وہاں پہنچنے کے بعد یہ سورج کے گرد چکر لگانا شروع کرے گا جس دوران یہ سورج پر نظر رکھے گا یعنی سورج کا مطالعہ کرے گا،۔ انڈیا سے قبل امریکہ، روس اور یورپی خلائی ایجنسی اس قسم کی تحقیق کے لیے اپنے مشن بھیج چُکے ہیں۔

    سعودی عرب اوریورپ تک نئی راہداری کابھارتی نقشہ جعلی ثابت

    ملک کا نام انڈیا سے بدل کر بھارت کرنے کا منصوبہ "مضحکہ خیز” ہے،راہول گاندھی

    امریکا میں نائن الیون حملوں کو 22 برس بیت گئے

    سابق امریکی سفیرپر دبئی کے امیر کیجانب سے ساس کو 60 ہزار ڈالر کے ہیرے …

    مراکش میں زلزلے سے قبل آسمان پر چمکنے والی پراسرار نیلی روشنی کیا تھی؟

  • سمندرمیں مستقل انسانی اسٹیشن قائم کرنے کا منصوبہ

    سمندرمیں مستقل انسانی اسٹیشن قائم کرنے کا منصوبہ

    لندن: ایک سمندری ٹیکنالوجی اور ریسرچ فرم ڈیپ(DEEP) ریسرچ لیبز کے سائنسدانوں نے ویلز کے ساحل پر سطح سے 660 فٹ نیچے ایک بیس بنانے کے منصوبے کا انکشاف کیا ہے جہاں محققین ایک وقت میں 28 دن تک زندہ رہ سکتے ہیں۔

    باغی ٹی وی : برطانوی ماہرین نے ویلز اور برطانیہ کےقریب پانی کی گہرائی میں ایک مستقل تحقیق اسٹیشن قائم کرنے کا اعلان کیا ہے جو ’ڈیپ‘ کے نام سے 2027 تک مکمل ہو جائے گا جو 80 میٹر گہرے پانی میں بنایا جائے گا اس کی کل لمبائی600 میٹر ہوگی برطانیہ اور ویلز کےدرمیان ایک مناسب، پرسکون اور اونچی امواج سے محفوظ مقام کا انتخاب کیا گیاہے یہاں پانی بہت صاف ہے اورمحلِ وقوع کی بنا پر سمندری ٹیکنالوجی کے کئی اداروں کے قریب واقع ہوگا اطراف میں ہی برطانیہ کی کمرشل اور ڈائیونگ صنعتیں بھی واقع ہیں۔

    ڈیپ پروجیکٹ کا مرکزی منصوبہ ’سینٹینل‘ ہے جو ایک کیپسول نما ڈیزائن ہے اسے چھوٹا یا بڑا کیا جاسکتا ہے، بار بار تبدیل کیا جاسکتا ہے اور دوبارہ بحال کیا جاسکتا ہے، سائنسدانوں کی انفرادی ضروریات کے لحاظ سے اس میں ردوبدل ممکن ہوگا، کمپنی نے اسے سمندری دیہات کا نام دیاہےسب سے بڑھ کر یہ سمندری لہروں اور اتھل پتھل سے محفوظ رہے گا اور اطراف کے ماحول کو بھی نقصان نہیں پہنچائے گا یہ ‘ایپیپلاجک زون’ تک وسیع رسائی فراہم کرے گا، جہاں 90 فیصد سمندری حیات پائی جاتی ہے۔

    شمالی وزیرستان :دہشتگردوں اورسیکیورٹی فورسزکےدرمیان فائرنگ،نوجوان شہید

    ڈیپ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ صرف سطح سے دراندازی کرنے کے بجائے سمندر کے اس حصے کے مکمل طور پر دریافت کرنے کے قابل ہونا سائنسدانوں کے سمندروں کا مشاہدہ، نگرانی اور سمجھنے کے طریقے میں ایک قدمی تبدیلی کی نمائندگی کرے گا،ایپی پیلیجک زون کو اکثر سورج کی روشنی کا زون کہا جاتا ہے، اور یہ سطح سے نیچے 660 فٹ (200 میٹر) تک پھیلا ہوا ہے۔

    واشنگٹن ڈی سی میں نیشنل اوشینک اینڈ ایٹموسفیرک ایڈمنسٹریشن نے وضاحت کی کہ یہ اس زون میں ہے جہاں زیادہ تر نظر آنے والی روشنی موجود ہےاس کے ساتھ سورج کی روشنی سورج سےگرمی آتی ہے جو موسموں اور عرض البلد دونوں کے ساتھ اس زون میں درجہ حرارت میں وسیع تغیرات کے لیے ذمہ دار ہے سمندر کی سطح کا درجہ حرارت خلیج فارس میں 97F (36C) سے لے کر قطب شمالی کے قریب 28F (-2C) تک ہے۔

    آئندہ 24 گھنٹوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیش گوئی

    اگرچہ سائنسدان اس زون کو آبدوزوں پر تلاش کر سکتے ہیں، لیکن یہ عام طور پر ایک وقت میں گھنٹوں پانی کے اندر رہ سکتے ہیںDEEP کے صدر سٹیو ایتھرٹن نے کہا کہ ہمیں سمندروں کو محفوظ کرنے کی ضرورت ہے۔ ایسا کرنے کے لیے ہمیں ان کو سمجھنے کی ضرورت ہے دنیا کو جن نسلی چیلنجوں کا سامنا ہے ان میں سے بہت سے سمندروں کے مرکز میں ہیں، اور وہ ایسے مواقع بھی پیش کرتے ہیں جن کو ہم نے سمجھنا بھی شروع نہیں کیا ہے۔

    پہلے روبوٹک بازوؤں سے فولادی انفراسٹرکچر پانی میں اتاراجائےگا جس میں تھری ڈی پرنٹنگ سے بھی مدد لی جائےگی یہاں سائنسدانوں کے رہنے اور تحقیق کی جگہیں بھی بنائی جائیں گی اس میں ہرکیپسول نما ماڈیول کا قطر 6 میٹر تک ہوگا جو بوئنگ 777 ہوائی جہاز کی طرح ہی ہوگا یہاں تک کہ سیاح بھی یہاں آسکیں گےلیکن اس کا مرکزی مقصد یہ ہے کہ زمین کی طرح سائنسداں پانی میں رہ کرآسانی سے تحقیق کرسکیں جو بین الاقوامی مرکز بھی ہوگا۔

    کاروباری افراد ویزا آسانی سے حاصل کرسکیں گے،نگران وزیراعظم

  • دنیا بھر کے سمندروں کو لاحق غیرمعمولی خطرات پرماہرین کا کھلا خط

    دنیا بھر کے سمندروں کو لاحق غیرمعمولی خطرات پرماہرین کا کھلا خط

    ماہرین نے خدشہ ظاہرکیا ہے کہ دنیا بھر کے سمندروں کو غیرمعمولی خطرات لاحق ہیں-

    باغی ٹی وی : 200 سے زیادہ بین الاقوامی شہرت یافتہ سائنسدانوں نے ایک کھلا خط شائع کیا جس میں سمندر پر مبنی کاربن ڈائی آکسائیڈ کو ہٹانے کی تحقیق اور ترقی کو ترجیح دینے اور تیز کرنےکی ضرورت کی توثیق کی گئی خط میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں سمندروں کے ممکنہ کردار کا جائزہ لینے کی ضرورت پر روشنی ڈالی گئی اور خطرات اور فوائد کو بہتر طور پر سمجھنے کی فوری ضرورت پر زور دیا گیا۔

    دنیا بھر کے سائنسدانوں، بحری حیاتیات داں اور آب و ہوا کے ماہرین نے کہا ہے کہ دنیا بھر کے سمندروں کو غیرمعمولی خطرات لاحق ہیں،بالخصوص سمندروں میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کے انجذاب کو روکنے کی ضرورت ہےیہ خط اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 78ویں اجلاس سے پہلے جاری کیا گیا ہے جو نیویارک میں منعقد ہوگا اس خط پر ماہرین کے دستخط بھی ہیں اور ان کا اصرار ہے کہ سمندروں پرمبنی کاربن ڈائی آکسائیڈ کو کم کرنے یا ’اوشن بیسڈ کاربن ڈائی آکسائیڈ ریموول (اوسی ڈی آر) پر تحقیق اورکوششوں کو تیزترکیا جائےاس کا مطلب یہ ہےکہ کسی بھی طرح کاربن ڈائی آکسائیڈ کو سمندروں میں جذب ہونے سے روکا جائے۔

    سعودی ولی عہد،جی 20 اجلاس کے فوری بعد واپس نہیں جائیں گے

    ماہرین نے کہا کہ اسی تناظر میں ہم آب وہوا میں تبدیلی کے کے خوفناک مظاہر بھی دیکھ چکے ہیں اور اس سال کئی گرم ترین تاریخی دنوں کا مشاہدہ بھی ہوا ہے اس کی صاف وجہ ہے کہ کاربن جمع ہونے سے عالمی حدت (گلوبل وارمنگ) بڑھ رہی ہے،ہم فضا میں جو کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج کررہے ہیں اس سے زمین کا حساس نظام متاثرہورہا ہے اور عالمی سمندر اپنی استطاعت سے 50 گنا زائد کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کررہے ہیں اس طرح سمندری درجہ حرارت بڑھ رہا ہے اور اس کی تیزابیت بڑھ رہی ہے یوں سمندری حیات پر ایک قیامت ٹوٹ پڑی ہے خط میں یہ بھی لکھا ہے کہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کے ہر راستے کو روکنے کی بھی ضرورت ہے۔

    دستخط کرنے والے سائنسدانوں نے بھی کہا ہے وہ اس ضمن میں اپنی بھرپور کوششیں کررہے ہیں۔ تاہم انہوں نے نئے طریقوں، قانون سازی اور فریم ورک پربھی زوردیا ہے۔ خط کے مطابق سمندروں کو آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ اور پائیدار بنانا بہت ضروری ہے خط میں عالمی رہنماؤں پر زوردیا گیا ہے وہ اس ضمن میں اپنا کردار ادا کریں۔

    جی 20 سربراہی اجلاس،رکشے میں بارودی مواد کی اطلاع پر پولیس کی دوڑیں

    ووڈس ہول اوشیانوگرافک انسٹی ٹیوشن کے صدر اور ڈائریکٹرپیٹر ڈی مینوکل، جس نے کھلے خط پر دستخط کیے نے کہا آئی پی سی سی نے واضح کیا ہے کہ بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کو روکنے کے لیے اس صدی میں بڑے پیمانے پر CO2 کو ہٹانے کی ضرورت ہوگی لہذا، یہ ضروری ہے کہ ہم کاربن ڈائی آکسائیڈ کو ہٹانے کے تمام راستوں کی ذمہ دارانہ تحقیق، ترقی اور جانچ کو تیز کریں، بشمول سمندر میں، اس بات کا تعین کرنے کے لیے کہ کون سے نقطہ نظر بالآخر محفوظ، مساوی اور قابل عمل ہو سکتے ہیں-

    کھلے خط کے دستخط کنندگان تحقیق کو آگے بڑھانے، اختراع کو فروغ دینے، اور ایسے پالیسی فریم ورک کی وکالت کرنے کے لیے اپنی وابستگی کا اظہار کرتے ہیں جو ذمہ دارانہ تحقیق اور جانچ کی اجازت دیتے ہیں۔ وہ موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے، سمندری ماحولیاتی نظام کی حفاظت، اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک قابل عمل مستقبل کو یقینی بنانے کے لیے تبدیلی کے عمل کی فوری ضرورت پر زور دیتے ہیں۔ خط میں اخراج کو کم کرنے کی بنیادی اہمیت پر بھی زور دیا گیا ہے، جس میں کاربن کو ہٹانا 1.5 ڈگری سیلسیس کے ہدف کو پورا کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔

    طالبان نے 6.5 ارب ڈالرز کے معاہدوں پر دستخط کر لئے

  • ایچ ڈی فوٹوزاور ویڈیوز کا فیچر تمام واٹس ایپ صارفین کو دستیاب

    ایچ ڈی فوٹوزاور ویڈیوز کا فیچر تمام واٹس ایپ صارفین کو دستیاب

    فیس بک کی پیرنٹ کمپنی میٹا کی زیرملکیت ایپلیکیشن واٹس ایپ نے اعلان کیا ہے کہ ایچ ڈی فوٹوز اور ایچ ڈی ویڈیوز کا فیچر تمام صارفین کو دستیاب ہے۔

    باغی ٹی وی: اگست میں مارک زکربرگ نے اعلان کیا تھا کہ واٹس ایپ میں ایچ ڈی فوٹوز شیئر کرنے کا فیچر متعارف کرایا جا رہا ہے جبکہ ایچ ڈی ویڈیوز کا فیچر بھی جلد میسجنگ ایپ کا حصہ بنے گا تاہم اب واٹس ایپ کے ترجمان کی جانب سےجاری بیان میں بتایا گیا کہ ایچ ڈی فوٹوز اور ویڈیوز کا فیچر دنیا بھر میں صارفین استعمال کر سکتے ہیں-

    اس نئے فیچر کے ذریعے صارفین واٹس ایپ پر 720p ریزولوشن والی ویڈیوز اپنے دوستوں سے شیئر کر سکیں گے اس سے پہلے 480p ویڈیوز کو ہی بھیجنا ممکن تھا،اس فیچر کو استعمال کرنے کے لیے اس فوٹو یا ویڈیو کوسلیکٹ کریں جس کوشیئر کرنا چاہتےہیں اور اسکرین پر اوپر ایڈیٹنگ ٹولز میں ایچ ڈی کے آپشن پر کلک کریں۔

    ہمارے نظام شمسی میں زمین جیسے سیارے کا انکشاف

    جب اس ایچ ڈی بٹن پر کلک کریں تو ایک نئی پوپ اپ ونڈو نمودار ہوگی جہاں آپ فوٹو یا ویڈیو کوالٹی سلیکٹ کر سکیں گے واٹس ایپ میں بائی ڈیفالٹ اسٹینڈرڈ کوالٹی کو سلیکٹ کیا گیا ہے مگر اس کے نیچے ایچ ڈی کوالٹی کا آپشن بھی ہوگا جب کوئی صارف ایچ ڈی کوالٹی کو سلیکٹ کرکے فوٹو یا ویڈیو بھیجے گا تو اس میں ایچ ڈی لیبل بھی بائیں کونے میں نیچے نظر آئے گا۔

    2023 کا موسم گرما تاریخ کا گرم ترین سال ثابت

  • آئندہ کچھ دنوں میں ایک دم دار ستارہ اور چار سیارچے زمین کے قریب سے گزریں گے

    آئندہ کچھ دنوں میں ایک دم دار ستارہ اور چار سیارچے زمین کے قریب سے گزریں گے

    واشنگٹن: امریکی خلائی ادارے ناسا نے آگاہ کیا ہے کہ 8 ستمبر سے 12 ستمبر کے دوران زمین کے قریب سے چار سیارچے گزریں گے-

    باغی ٹی وی :ناسا کے سیارچوں کی نگرانی کرنے والے ڈیش بورڈ کے مطابق دو سیارچے 8 ستمبر کو زمین کے قریب سے گزریں گے ان میں کیو سی 5 نامی سیارچے کا سائز 79 فٹ (جہاز کے برابر) جبکہ جی ای نامی سیارچے کا سائز 26 فٹ (بس کے برابر) کے قریب ہےجہاز کے برابر دوسرے سیارچے کیو ایف 6 (جو رواں سال ہی دریافت ہوا) کا سائز تقریباً 68 فِٹ ہے،چوتھا اور آخری سیارچہ آر ٹی 2 جو کہ بس کے برابر ہے-

    کیو سی 5 سیارچہ (جس کا پہلی بار مشاہدہ رواں برس ہی کیا گیا تھا) تقریباً 41 لاکھ کلومیٹر کے فاصلے سےجبکہ جی ای سیارچہ (جس کو 2020 میں پہلی بار دیکھا گیا تھا) زمین سے 56 لاکھ کلومیٹر کے فاصلے سے گزرے گا سیارچہ کیو ایف 610 ستمبر کو زمین کے قریب سے گزرے گا یہ سیارچہ زمین سب سے قریب یعنی صرف 25 لاکھ کلو میٹر کے فاصلے سے گزرے گا سیارچہ آر ٹی 2 کا گزر زمین کے قریب سے 12 ستمبر کو ہوگا۔ یہ سیارچہ زمین سے 41 لاکھ کلومیٹر کے فاصلے سے گزرے گا ان سے زمین کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔

    ذخیرہ اندوزوں کے خلاف آپریشن،چینی کے ساڑھے 5 ہزار سے زائد بیگ برآمد

    ان سے قبل 6 ستمبر کو جے اے 5 نامی سیارچہ (جو 2021 میں دریافت کیا گیا تھا) زمین سے 49 لاکھ کلومیٹر کے فاصلے سے گزر چکا ہے۔

    علاوہ ازیں ایک دم دار ستارہ زمین کے قریب سے گزرنے والا ہے جسے دوربین کے بغیر بھی دیکھنا ممکن ہوگا Nishimura نامی دم دار ستارے کو اگست میں ہی دریافت کیا گیا تھا اور اسے 9 اور 10 ستمبر کو آسمان پر دیکھنا ممکن ہوگااس دم دار ستارے کو ایک جاپانی ماہر Hideo Nishimura نے 11 اگست کو سب سے پہلے دیکھا تھا۔

    اس دم دار ستارے کا حجم تو ابھی معلوم نہیں مگر ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ کسی دم دار ستارے کو اس وقت دریافت کیا جائے جب وہ زمین کے قریب ہوعموماً اس طرح کے دم دار ستاروں کو کئی ماہ یا سال پہلے ہی دریافت کر لیا جاتا ہےماہرین کے مطابق یہ دم دار ستارہ 437 سال میں محض ایک بار سورج کے گرد چکر لگاتا ہے، یعنی اسے آئندہ دیکھنے کے لیے 5 صدیوں کا انتظار کرنا ہوگا۔

    انسانی اسمگلنگ میں ملوث ملزم گرفتار

    Nishimura سورج کے قریب سے 17 ستمبر کو گزرے گا اور اس وقت وہ سورج سے 3 کروڑ 30 لاکھ کلومیٹر کے فاصلے پر موجود ہوگا اسی طرح یہ دم دار ستارہ زمین سے ساڑھے 12 کروڑ کلومیٹر کے فاصلے سے گزرے گا لوگوں کے لیے اسے دوربین کے بغیر بھی دیکھنا ممکن ہوگا، البتہ اس کے لیے ضروری ہوگا کہ آسمان صاف ہو، ورنہ چھوٹی دوربین سے بھی مدد لی جاسکتی ہے۔

    ماہرین کے مطابق 9 اور 10 ستمبر کو سورج طلوع ہونے سے قبل آسمان پر اس دم دار ستارے کو شمال مغربی سمت میں دیکھنا ممکن ہوگا Nishimura کی دم سبز رنگ کی ہوگی کیونکہ اس میں گرد کے مقابلے میں گیس زیادہ ہے۔

    دم دار ستارے بنیادی طور پر گرد اور برف کی ایسی گیندیں ہوتی ہیں جو سورج کے بڑے بیضوی مداروں کے گرد گھومتی رہتی ہیں جب دم دار ستارے سورج کے قریب آتے ہیں تو ان کے جسم گرم ہوجاتے ہیں جبکہ برفانی سطح گیس میں تبدیل ہوجاتی ہے اور گرد پھیل جاتی ہے، جس سے انہیں زمین پر دیکھنا ممکن ہوتا ہے۔

    سپریم کورٹ میں سانحہ جڑانوالا کیس سماعت کیلئے مقرر

  • لوگ کن افراد سے رومانوی تعلق قائم کرنا پسند کرتے ہیں،سائنسدانوں کا دلچسپ انکشاف

    لوگ کن افراد سے رومانوی تعلق قائم کرنا پسند کرتے ہیں،سائنسدانوں کا دلچسپ انکشاف

    سائنسدانوں نے انکشاف کیا ہے کہ بنیادی طور پر لوگ ایسے افراد سے رومانوی تعلق قائم کرنا پسند کرتے ہیں جو شخصیت کے لحاظ سے ان سے ملتے جلتے ہوں۔

    باغی ٹی وی: امریکا میں ہونے والی ایک تحقیق میں سائنسدانوں نے انکشاف کیا ہے کہ ہر شادی شدہ جوڑے کی زندگی میں کافی کچھ مشترک ہوتا ہے، کچھ کے تو چہرے بھی ایک دوسرے سے ملنے جلنے لگتے ہیں،کولوراڈو یونیورسٹی کی تحقیق میں 80 ہزار کے قریب جوڑوں کی 133 عادات کا تجزیہ کیا گیا۔

    ماہرین نے 22 خصائص پر انسانی مرد-خواتین پارٹنر کے ارتباط کے منظم جائزے اور بے ترتیب اثرات کے میٹا تجزیے کیے جن کا عام طورپرماہرین نفسیات،ماہرین معاشیات، سماجیات، ماہر بشریات، وبائی امراض کےماہرین اورجینیاتی ماہرین نےمطالعہ کیا ScienceDirect، PubMed اور Google Scholar کا استعمال کرتے ہوئے شریک والدین، منگنی شدہ جوڑوں، شادی شدہ جوڑوں اور/یا ساتھ رہنے والے جوڑوں کے 199 ہم مرتبہ جائزہ شدہ مطالعات سے 480 پارٹنر ارتباط کو شامل کیا جو 16 اگست 2022 کو یا اس سے پہلے شائع ہوئے تھے۔

    جی 20 اجلاس،بائیڈن پہنچیں گے آج بھارت،دہلی کی عوام کیلئے مشکلات

    جرنل نیچر ہیومین بی ہیوئیر میں شائع تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ جوڑوں کی 82 سے 89 فیصد تک عادات لگ بھگ ایک جیسی ہوتی ہیں، محض 3 فیصد عادات نمایاں حد تک مختلف ہوتی ہیں اس تحقیقی ٹیم نے ماضی میں بھی اس حوالے سے کام کیا تھا مگر اس وقت لاکھوں جوڑوں کی 22 عادات کا جائزہ لیا گیا تھااب اس تحقیق کو آگےبڑھایا گیا اورنتائج سےمعلوم ہوا ہےکہ جوڑوں کے سیاسی اور مذہبی نظریات، تعلیمی لیول اور آئی کیو کافی حد تک ملتے جلتے ہوتے ہیں۔

    2023 کا موسم گرما تاریخ کا گرم ترین سال ثابت

    ماہرین نے یہ بھی دریافت کیا کہ جوڑے ہر پہلو سے ایک دوسرے جیسے نہیں ہوتے، قد، وزن، طبی مسائل اور شخصی عادات میں کسی حد تک فرق ہوتا ہے گھر سے باہر زیادہ گھومنا پھرنا پسند کرنے والے افراد اپنی جیسی فطرت کے حامل شریک حیات کو پسند نہیں کرتے یہ بالکل کسی سکے کے 2 رخ جیسا معاملہ ہے، یعنی سکہ تو ایک ہوتا ہے مگر اوپر اور نیچے کچھ فرق ہوتا ہے۔

    ہمارے نظام شمسی میں زمین جیسے سیارے کا انکشاف

    ماہرین کے مطابق جب ہم کسی کو پسند کرتے ہیں اور وہ شخصی اعتبار سے ہم سے بالکل مختلف ہو تو وہ تعلق اکثر کمزور ہوتا ہے اور جلد ٹوٹ جاتا ہےاس کی مثال یہ ہے کہ اگرکوئی صبح جلد جاگنےوالا فرد کسی رات گئے تک جاگنے والے کو پسند کرتا ہے تو ان کا تعلق ٹوٹنے کا امکان زیادہ ہوتا ہےجوڑوں کا ایک دوسرے جیسا ہونے کا اثر آنے والی نسلوں میں بھی منتقل ہوتا ہے، یعنی سماجی اور دیگر عادات بھی آنے والی نسلوں میں منتقل ہو جاتی ہیں۔

    چینی کمپنی نے فولڈ ایبل اسمارٹ فون پیش کر دیا جسے پرس کی طرح پہن …

  • 2023 کا موسم گرما تاریخ کا گرم ترین سال ثابت

    2023 کا موسم گرما تاریخ کا گرم ترین سال ثابت

    سائنسدانوں کے مطابق سال 2023 کا موسم گرما تاریخ کا گرم ترین ثابت ہوا ہے۔

    باغی ٹی وی: یورپی یونین کے موسمیاتی ادارے کوپرنیکس کلائمیٹ چینج سروس Copernicus Climate Change Service کی جانب سے جاری رپورٹ میں بتایا گیا گیا کہ 1940 سے موسمیاتی ریکارڈ کو مرتب کیا جا رہا ہے مگر جون سے اگست 2023 کے دوران دنیا کا درجہ حرارت گزشتہ برسوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ دیکھنے میں آیا،جون سے اگست کے دوران اوسط عالمی درجہ حرارت 16.77 ڈگری سینٹی گریڈ رہا جو 1990 سے 2020 کی اوسط کے مقابلے میں 0.66 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ تھا۔

    یہ پہلا سائنسی ڈیٹا ہے جس میں یہ اس خیال کی تصدیق کی گئی کہ 2023 میں شمالی نصف کرے میں گرمی کی شدت بہت زیادہ رہی اس سے قبل جون اور پھر جولائی کو تاریخ کے گرم ترین مہینے قرار دیا گیا تھا بشمول ریاست ہائے متحدہ امریکہ، یورپ اور جاپان کے کچھ حصے ،ریکارڈ توڑ گرمی کی لہروں اور سمندر کے بے مثال درجہ حرارت کے ساتھ-

    ہمارے نظام شمسی میں زمین جیسے سیارے کا انکشاف

    نئی رپورٹ کے مطابق اگست میں بھی درجہ حرارت گزشتہ برسوں کے مقابلے میں زیادہ رہا بلکہ 2023 کے ہر مہینے (جولائی کے علاوہ) سے زیادہ رہا اگست کے دوران عالمی سطح پر اوسط درجہ حرارت 16.38 ڈگری سینٹی گریڈ رہا اور اگست 2016 میں قائم ہونے والے ریکارڈ کو 0.31 ڈگری سینٹی گریڈ کے فرق سے توڑ دیا جولائی اور اگست دونوں مہینوں میں درجہ حرارت صنعتی عہد سے پہلے کے مقابلے میں 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ تھا۔

    خیال رہے کہ 2015 کے پیرس معاہدے میں طے کیا گیا تھا کہ عالمی درجہ حرارت کو 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز نہیں کرنے دیا جائے گا سائنسدانوں کی جانب سے عرصے سے انتباہ کیا جا رہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے تباہ کن اثرات سے بچنے کے لیے عالمی درجہ حرارت میں اضافے کو 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ سے نیچے رکھنا ضروری ہے۔

    چینی کمپنی نے فولڈ ایبل اسمارٹ فون پیش کر دیا جسے پرس کی طرح پہن …

    ابھی ایسا مستقل طور پر تو نہیں ہوا مگر سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ عارضی طور پر درجہ حرارت کے اس حد تک پہنچنے سے عندیہ ملتا ہے کہ مستقبل میں دنیا میں موسم گرما کیسا ہو سکتا ہے جنوبی نصف کرے میں جون سے اگست کے دوران موسم سرما ہوتا ہےمگر اس سال جنوبی نصف کرے کے متعدد ممالک میں موسم سرما کے دوران درجہ حرارت میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔

    کوپرنیکس کے اعداد و شمار کے بارے میں ایک بیان میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل، انتونیو گوٹیرس نے کہا سائنسدانوں نے طویل عرصے سے متنبہ کیا ہے کہ ہمارے جیواشم ایندھن کی لت کیا پیدا کرے گی ہماری آب و ہوا اس سے زیادہ تیزی سے پھوٹ رہی ہے جس سے ہم کرہ ارض کے ہر کونے کو مارنے والے شدید موسمی واقعات کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔

    میرے بیٹے ایلون مسک کو قتل کیا جا سکتا ہے،ایرول مسک

    یورپی موسمیاتی ادارے کے مطابق جون سے اگست کے دوران سمندری سطح کا اوسط عالمی درجہ حرارت بھی بہت زیادہ رہا، جس کے باعث بحر اوقیانوس اور بحر الکاہل میں سمندری طوفانوں کی شدت میں اضافہ ہوا جولائی سے اگست کے اختتام تک روزانہ سمندری درجہ حرارت 2016 میں قائم ہونے والے ریکارڈ سے زیادہ رہا 2023 تاریخ کا گرم ترین سال ثابت ہوتا ہے یا نہیں، یہ تو ابھی واضح نہیں، مگر ایسا ممکن نظر آتا ہے ابھی 2023 کو تاریخ کا دوسرا گرم ترین سال خیال کیا جا رہا ہے، مگر وہ 2016 سے محض 0.01 ڈگری سینٹی گریڈ پیچھے ہے۔

    خیال رہے کہ اس وقت 2016 کا دنیا کا گرم ترین سال قرار دیا جاتا ہے سائنسدانوں کے مطابق 2024 رواں سال سے بھی زیادہ گرم ثابت ہوگا کیونکہ ایل نینو کے اثرات زیادہ واضح ہو جائیں گے۔

    ایشیا کپ:تمام میچز پاکستان میں نہ کرانے کی بڑی وجہ براڈ کاسٹرز کی ہچکچاہٹ تھی، …

  • ہمارے نظام شمسی میں زمین جیسے سیارے کا انکشاف

    ہمارے نظام شمسی میں زمین جیسے سیارے کا انکشاف

    ٹوکیو: ماہرین فلکیات نے حال ہی میں ہمارے نظام شمسی کے اندر زمین سے ملتے جلتے ایک سیارے کے امید افزا شواہد دریافت کیے ہیں-

    باغی ٹی وی : زمین جیسے سیاروں کی تلاش علمِ فلکیات اور سیاروں کا ایک بنیادی پہلو ہے سائنس دان ایسے سیاروں کو تلاش کرنے کے لیے انتہائی جدوجہد کر رہے ہیں جہاں زندگی کے لیے سازگار حالات موجود ہوں اور اب یہ جدوجہد رنگ لارہی ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق سائنسدانوں کی مسلسل کوششیں نتیجہ خیز ثابت ہوتی دکھائی دے رہی ہیں کیونکہ ماہرین فلکیات نے حال ہی میں ہمارے نظام شمسی کے اندر زمین سے ملتے جلتے ایک سیارے کے امید افزا شواہد دریافت کیے ہیں جو ممکنہ طور پر سیارہ نیپچون سے آگے کے مدار میں واقع ہے۔

    سعودی عرب کا تیل کی یومیہ پیداوار میں مزید توسیع کا اعلان

    یہ کھوج جاپان کے شہر اوساکا میں کنڈائی یونیورسٹی کے محقق پیٹرک صوفیا لکاوکا اور ٹوکیو میں جاپان کی قومی فلکیاتی رصد گاہ کے ماہر فلکیات تاکاشی ایتو کی تحقیق کا نتیجہ ہے۔

    آسٹرونومیکل جریدے میں شائع ہونے والی تحقیق میں محققین نے لکھا کہ ہم زمین جیسے سیارے کے وجود کی پیش گوئی کررہے ہیں ایک ابتدائی سیاروں کا جسم دور دراز کوائپر بیلٹ (نیپچون سے بھی آگے مدار) میں کوئپر بیلٹ سیارے (KBP) کے طور پر موجود ہو سکتا ہے کیونکہ ابتدائی نظام شمسی میں بہت سے ایسے سیارے موجود تھے۔

    برکینا فاسو میں شدت پسندوں کا حملہ،53 افراد ہلاک،30 زخمی

    ماہرین کا یہ بھی کہنا تھا کہ نیپچون سے آگے کوئپر بیلٹ کی مداری ساخت کے بارے میں مزید تفصیلی علم بیرونی نظام شمسی میں کسی فرضی سیارے کے وجود کو یا تو ثابت کردے گا یا مسترد کر سکتا ہے۔

    محققین لکھتے ہیں اختتام میں، کوائپر بیلٹ سیارے کے منظر نامے کے نتائج اس بات کی تائید کرتے ہیں کہ نظام شمسی میں ابھی تک دریافت نہیں کیا گیا ہے،سائنس دانوں کا خیال ہے کہ نظریاتی سیارے کا مدار ممکنہ طور پر اسے سورج سے 250 اور 500 فلکیاتی اکائیوں (AU) کے درمیان رکھے گا۔

    محققین کا خیال ہے کہ کوئپر بیلٹ کے قریب کسی سیارے کی شناخت سیارے کی تشکیل اور ارتقاء کے عمل کے بارے میں تازہ بصیرت فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، جس سے مطالعہ کے اس شعبے میں نئی ​​رکاوٹیں اور تناظر پیش کیے جا سکتے ہیں۔

    عمران خان کی گرفتاری کے معاملے پر گہری نظر ہے،امریکا

  • چینی کمپنی نے فولڈ ایبل اسمارٹ فون پیش کر دیا جسے پرس کی طرح پہن سکتے ہیں

    چینی کمپنی نے فولڈ ایبل اسمارٹ فون پیش کر دیا جسے پرس کی طرح پہن سکتے ہیں

    بیجنگ: چینی سمارٹ فون فرم آنر نے ایک تصوراتی سمارٹ فون کی نقاب کشائی کی جسے ہینڈ بیگ کی طرح پہنا جا سکتا ہے۔

    باغی ٹی وی: چینی کمپنی آنر نے دنیا کا پہلا اسمارٹ فون پیش کردیا ہے جو دور سے دیکھنے پر ایک ڈجیٹل پرس یا ہینڈ بیگ دکھائی دیتا ہے اسے آنروی پرس کا نام دیا گیا ہے جو فولڈ ہونے والا اسمارٹ فون بھی ہے، پہلی مرتبہ اسے برلن کے آئی ایف اے 2023 ٹیکنالوجی میلے میں پیش کیا گیا ہےکانسیپٹ فون فروخت نہیں کیا جائے گا لیکن یہ واضح ہے کہ آنر، چینی ٹیک کمپنی ہواوے کی طرف سے ایک اسپن آف، دنیا کو یہ دکھانے کی کوشش کر رہا ہے کہ وہ کیا کرنے کے قابل ہو سکتا ہے-

    ڈیوائس، جسے آنر وی پرس کہتے ہیں، ایک اسمارٹ فون ہے جو باہر کی طرف ایک اوپری پٹی کے ساتھ فولڈ ہوتا ہے جس میں کیمرہ ہوتا ہے ہینڈ بیگ کے پٹے کے لئے ہکس ہیں جو اس کےساتھ منسلک ہوسکتے ہیں ڈیوائس پر ڈسپلے کو اپنی مرضی کے مطابق بنایا جا سکتا ہے تاکہ ایسا لگے کہ آپ مختلف بیگ پہنے ہوئے ہیں کندھے پر لٹکانے کے فون کے کنارے سے ایک مضبوط زنجیر باندھی گئی ہے جس کا ڈیزائن ایک کلک سے تبدیل ہوجاتا ہے۔

    ایشیا کپ:تمام میچز پاکستان میں نہ کرانے کی بڑی وجہ براڈ کاسٹرز کی ہچکچاہٹ تھی، …


    اس کی ایک جانب بہت واضح اور روشن ڈسپلے ہے جسے چھوکر آپ اپنے پسندیدہ ڈیزائن کو ظاہر کرسکتے ہیں اسے مصروف خواتین کے لیے تیار کیا گیا ہے جو وسیع ڈسپلے کا اسمارٹ فون پسند کرتی ہیں اور اسے بار بار استعمال بھی کرتی ہیں،کمپنی نے بتایا ہے کہ وہ خواتین کے لیے پہنے جانے والے فون بنارہی ہے جو ان کا اظہار بن سکے اور زندگی میں شامل ہوسکے۔

    وی پرس اسمارٹ فون سیاہ، ریشمی کالے، جامنی اور سنہرے رنگوں میں دستیاب ہے جس کا وزن 231 گرام ہے۔ اس کے کنارے پر ٹائٹانیئم دھات سے حاشیہ بنایا گیا ہے جبکہ اوایل ای ڈی پر مشتمل ڈسپلے ہے۔ مکمل کھلنے پر اس کا ڈسپلے 145 ملی میٹر سے کچھ زائد ہوجاتا ہے اسکرین ریزولوشن 2344 × 2156 اور ویڈیو ریزولوشن 2160×3840 بتائی گئی ہے،کاندھےپر لٹکانے والی پٹی کو آپ اپنی ضرورت کے لحاظ سے بدل سکتے ہیں جن میں زنجیر، پٹے اور کپڑے کی پٹیاں بھی شامل ہیں۔

    سعودی عرب کا تیل کی یومیہ پیداوار میں مزید توسیع کا اعلان


    واضح رہے کہ آنردرحقیقت ہواوے کی نجی کمپنی ہے جس نے اپنے پرس فون کی تاریخ اور قیمت کے متعلق تفصیلات نہیں دی ہیں،ممکنہ طور پر مہنگی ڈیوائس کو عوام میں پہننا اور اسے بہت زیادہ دکھائی دینا بہت سے لوگوں کو پسند نہیں آسکتا اور اگر اسکرین آپ کے ساتھ لٹک رہی ہے تو اس کے گرنے اور ٹوٹنے کا خطرہ زیادہ ہے۔

    عمران خان کی گرفتاری کے معاملے پر گہری نظر ہے،امریکا


    لیکن فیشن اور ٹیکنالوجی تیزی سے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں اسمارٹ واچز اس کی ایک مثال ہیں ایپل اور سام سنگ جیسے ڈیوائس بنانے والے اپنی مرضی کے مطابق پٹے اور ڈیوائس کا چہرہ تبدیل کرنے کی صلاحیت پیش کر رہے ہیں اگرچہ اس بات کا امکان ہے کہ ڈیوائس کو اس شکل میں کبھی ریلیز نہیں کیا جائے گا، آنر ایک چیز دکھانے کی کوشش کر رہا ہے کہ یہ ایک اعلیٰ درجے کا سمارٹ فون بنانے والا ہے جو ایپل اور سام سنگ کے ساتھ مارکیٹ کے پریمیم اینڈ میں جدت اور مقابلہ کرنے کے قابل ہے۔

    میرے بیٹے ایلون مسک کو قتل کیا جا سکتا ہے،ایرول مسک