Baaghi TV

Category: سائنس و ٹیکنالوجی

  • روسی عدالت کا زوم پر قوانین کی خلاف ورزی پر 10 لاکھ ڈالر کا جرمانہ

    روسی عدالت کا زوم پر قوانین کی خلاف ورزی پر 10 لاکھ ڈالر کا جرمانہ

    روس کی ایک عدالت نے مقامی انٹرنیٹ قوانین کی خلاف ورزی پر ویڈیو کانفرنسنگ ایپلی کیشن ’زوم‘ پر 9 لاکھ 65 ہزار 779 امریکی ڈالر (تقریباً 10 لاکھ ڈالر) کا جرمانہ عائد کر دیا۔

    خبر رساں ادارے کے مطابق یہ اقدام روس کے اس قانون کے تحت کیا گیا ہے جس میں غیر ملکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو مقامی سطح پر مخصوص قانونی تقاضے پورے کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ماسکو کی عدالت کی پریس سروس کے مطابق یہ فیصلہ امریکی کمپنی ’زوم‘ کے خلاف سنا دیا گیا ہے، تاہم کمپنی کی جانب سے اس عدالتی فیصلے پر تاحال کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا۔

    یہ پیش رفت ایسے وقت پر ہوئی ہے جب روسی حکومت نے ملک میں کام کرنے والی غیر ملکی ٹیکنالوجی کمپنیوں پر نگرانی مزید سخت کر دی ہے اور نئے ضوابط اور جرمانوں کا نفاذ جاری ہے۔واضح رہے کہ روسی پارلیمنٹ نے گزشتہ ہفتے انٹرنیٹ سرچنگ سے متعلق مزید سخت قوانین منظور کیے ہیں جن کے تحت انتہاپسند مواد تلاش کرنے پر بھی جرمانہ عائد کیا جا سکے گا۔

    فلسطینی عوام کے لیے پاکستان کا امدادی پیکیج، 100 ٹن سامان روانہ ہوگا

    وفاقی کابینہ کا اجلاس کل طلب ، معاشی و سیاسی صورتحال کا جائزہ

    امریکا اس کیمپ میں نہیں ہے، ٹرمپ کا برطانیہ کے فلسطین کو تسلیم کرنے پر ردعمل

    غزہ میں اسرائیلی حملے 60 ہزار سے زائد فلسطینی شہدا

  • پاکستان کا نیا ریموٹ سینسنگ سیٹلائٹ 31 جولائی کو خلا میں روانہ کیا جائے گا

    پاکستان کا نیا ریموٹ سینسنگ سیٹلائٹ 31 جولائی کو خلا میں روانہ کیا جائے گا

    پاکستان کا نیا ریموٹ سینسنگ سیٹلائٹ 31 جولائی کو چین کے ژیچانگ سیٹلائٹ لانچ سینٹر سے خلا میں روانہ کیا جائے گا۔

    سپارکو کے مطابق یہ سیٹلائٹ قدرتی آفات جیسے سیلاب، زلزلے اور لینڈ سلائیڈنگ کی بروقت وارننگ دینے کے لیے تیار کیا گیا ہے، جبکہ یہ زرعی پیداوار کے جائزے اور شہری منصوبہ بندی میں بھی مدد فراہم کرے گا،یہ پاکستان کے خلائی اور سائنسی ترقی کے سفر میں ایک اہم سنگ میل ہے، یہ سیٹلائٹ ہماری آفات سے نمٹنے، غذائی تحفظ اور ماحولیاتی نگرانی کی صلاحیت کو بہتر بنائے گا‘۔

    رواں سال مئی میں پاکستان، چین کے خلائی اسٹیشن ٹریننگ پروگرام میں شامل ہونے والا پہلا غیر ملکی ملک بنا تھا، اس معاہدے کے تحت دو پاکستانی خلانوردوں نے چین کے انسان بردار خلائی پروگرام کے لیے تربیت حاصل کی،ان میں سے ایک خلانورد کو مستقبل میں چین کے تیانگونگ اسپیس اسٹیشن پر سائنسی پے لوڈ اسپیشلسٹ کے طور پر مشن کا حصہ بنائے جانے کی توقع ہے۔

    علیزے شاہ کا جان سے مارنے کی دھمکیاں ملنےکادعویٰ

    جنوری میں پاکستان نے اپنا پہلا مقامی طور پر تیار کردہ مشاہداتی سیٹلائٹ چین کے شمالی شہر جیوکوان سے خلا میں روانہ کیا تھا، اس سیٹلائٹ کا مقصد قدرتی وسائل کی نگرانی، آفات سے نمٹنے، شہری ترقی اور زرعی بہتری کو فروغ دینا تھا۔

    گزشتہ سال نومبر میں سپارکو نے اعلان کیا تھا کہ اس کا تیار کردہ روور 2028 میں چین کے چانگ ای-8 مشن کے ساتھ چاند کے جنوبی قطب پر بھیجا جائے گا، اس اقدام کو پاکستان کی خلائی تاریخ میں ایک ’اہم پیشرفت‘ قرار دیا گیا تھایہ تمام اقدامات ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستان کس طرح خلائی ٹیکنالوجی کو قومی ترقی اور آفات سے نمٹنے کے لیے بروئے کار لا رہا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ملک کو موسمیاتی تبدیلیوں اور قدرتی آفات کے بڑھتے ہوئے خطرات کا سامنا ہے۔

    ملک میں گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی، الرٹ جاری

  • میٹا کا انسٹاگرام و فیس بک پر بچوں کے تحفظ کے لیے نئے فیچرز کا اعلان

    میٹا کا انسٹاگرام و فیس بک پر بچوں کے تحفظ کے لیے نئے فیچرز کا اعلان

    میٹا نے انسٹاگرام اور فیس بک سمیت اپنے تمام پلیٹ فارمز پر بچوں اور نوجوانوں کے تحفظ کو مزید بہتر بنانے کے لیے متعدد نئے ٹولز اور اپ ڈیٹس متعارف کرا دیے ہیں۔

    میٹا کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق ان اقدامات کا مقصد نوجوان صارفین کو آن لائن خطرات سے محفوظ رکھنا ہے، جس میں ڈائریکٹ میسجنگ (ڈی ایم) میں سیکیورٹی بہتری، عریانی سے بچاؤ کی خصوصیات میں توسیع اور بچوں کے اکاؤنٹس پر اضافی کنٹرولز شامل ہیں۔کم عمر صارفین کے لیے ڈائریکٹ میسجنگ میں اب یہ واضح انداز میں نظر آئے گا کہ وہ کس سے بات کر رہے ہیں، ساتھ ہی نئے سیفٹی ٹپس، میسج بھیجنے والے کی شناخت (اکاؤنٹ کب بنا، وغیرہ) اور بلاک و رپورٹ کرنے کا نیا مربوط آپشن فراہم کیا گیا ہے۔

    میٹا کے مطابق صرف جون کے مہینے میں ہی نوجوان صارفین نے کمپنی کے حفاظتی نوٹسز کی مدد سے 10 لاکھ سے زائد مشتبہ اکاؤنٹس کو بلاک کیا، اور اتنی ہی تعداد میں رپورٹ بھی کیا گیا۔نوجوانوں کو استحصال سے بچانے کے لیے میٹا نے انسٹاگرام پر ’لوکیشن نوٹس‘ کا فیچر متعارف کرایا ہے، جو کسی بیرون ملک موجود شخص سے چیٹ کرتے وقت وارننگ جاری کرتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق 10 فیصد سے زائد صارفین نے اس نوٹس پر کلک کر کے مزید حفاظتی معلومات حاصل کیں۔

    عریانی سے بچاؤ کے لیے تیار کردہ ’نیکڈ پروٹیکشن‘ فیچر، جو مشکوک برہنہ تصاویر کو خودکار طور پر دھندلا دیتا ہے، اب مزید وسعت اختیار کر چکا ہے۔ جون 2025 تک 99 فیصد صارفین، جن میں بڑی تعداد نوجوانوں کی ہے، اس سیٹنگ کو فعال رکھے ہوئے تھے۔میٹا کے مطابق اس فیچر کی بدولت نازیبا مواد شیئر کرنے کی شرح میں واضح کمی آئی، جب کہ 45 فیصد صارفین نے وارننگ موصول ہونے کے بعد ایسی تصاویر کو شیئر نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔

    کمپنی کا کہنا ہے کہ بچوں اور نوجوانوں کی آن لائن حفاظت کے لیے یہ اقدامات مسلسل اپ ڈیٹ ہوتے رہیں گے تاکہ انہیں ایک محفوظ ڈیجیٹل ماحول فراہم کیا جا سکے۔

    26 نومبر احتجاج کیس،حکومت پنجاب کا ملزمان کی ضمانتیں منسوخ کرانے کا فیصلہ

    پاکستان کی اسرائیلی مظالم اور غذائی محاصرے کی شدید مذمت

    پاکستان کی بنگلادیش کو 74 رنز سے شکست

  • ٹرمپ  نے  گوگل ، مائیکروسافٹ اور دیگر کمپنیوں کو بھارتیوں کو ملازمتیں دینے سے منع کردیا

    ٹرمپ نے گوگل ، مائیکروسافٹ اور دیگر کمپنیوں کو بھارتیوں کو ملازمتیں دینے سے منع کردیا

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گوگل ، مائیکروسافٹ اور دیگر کمپنیوں کو بھارتیوں کو ملازمتیں دینے سے منع کردیا-

    عالمی میڈیاکے مطابق واشنگٹن میں منعقدہ ”اے آئی سمٹ“ سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں جیسے گوگل اور مائیکروسافٹ کو سخت تنبیہ کی کہ وہ بیرونِ ملک، خاص طور پر بھارتیوں کو ملازمتیں دینا بند کریں اور امریکی شہریوں کو روزگار دیں۔

    ٹرمپ نے اپنی تقریر میں ٹیکنالوجی کی دنیا کے ”گلوبلسٹ مائنڈسیٹ“ پر کڑی تنقید کی اور کہا کہ بڑی بڑی ٹیک کمپنیاں امریکی آزادی کا فائدہ اٹھا کر بھارت میں ورکرز بھرتی کرتی ہیں، چین میں فیکٹریاں لگاتی ہیں اور منافع آئرلینڈ میں چھپاتی ہیں یہ کھیل اب ختم ہو چکا ہے، صدر ٹرمپ کے تحت ایسی پالیسیوں کی کوئی گنجائش نہیں ہوگی۔

    ٹرمپ نے واضح کیا کہ امریکا میں تیار کردہ ٹیکنالوجی کو امریکا کے لیے ہونا چاہیے، نہ کہ بھارتی آئی ٹی مافیا کے مفاد کے لیے انہوں نے ٹیک کمپنیوں سے کہا: ’ہم چاہتے ہیں کہ آپ امریکا کو اولین ترجیح دیں، یہ ہمارا واحد مطالبہ ہے۔‘

    سیلابی ریلے میں گاڑی سمیت بہہ جانے والے شخص کی لاش مل گئی، بیٹی کی تلاش جاری

    ٹرمپ کی جانب سے دستخط کیے گئے نئے ایگزیکٹو آرڈرز کے تحت نہ صرف امریکی ساختہ اے آئی ٹولز کو عالمی سطح پر مقابلے کے قابل بنایا جائے گا بلکہ اُن تمام کمپنیوں پر بھی پابندیاں لگیں گی جو وفاقی فنڈنگ لے کر سیاسی نظریات پر مبنی ”ووک“ اے آئی بناتی رہی ہیں، انہوں نے کہا کہ سابق حکومت نے تنوع اور شمولیت کے نام پر امریکی ترقی کو روکنے کی کوشش کی۔

    ٹرمپ نے اے آئی کے لیے اصطلاح ”آرٹیفیشل انٹیلیجنس“ کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ کوئی مصنوعی ذہانت نہیں، یہ ایک ذہانت کا کمال ہے۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایپل کو خبردار کیا ہے کہ اگر کمپنی نے اپنے آئی فونز امریکا میں تیار نہیں کیے تو اسے 25 فیصد ٹیرف کا سامنا کرنا پڑے گا،سوشل میڈیا سائٹ ٹروتھ سوشل میں ایک پوسٹ میں امریکی صدر نے لکھا تھا کہ ‘میں نے کافی پہلے ایپل کے چیف ایگزیکٹو ٹم کک کو آگاہ کیا تھا کہ ہمیں توقع ہے کہ امریکا میں فروخت ہونے والے آئی فونز امریکی سرزمین میں تیار کیے جائیں گے، بھارت یا کسی اور جگہ نہیں،اگر ایسا نہیں ہوتا تو ایپل کو امریکا میں کم از کم 25 فیصد ٹیرف ادا کرنا ہوگا۔

    بھارتی اداروں میں بی جے پی کی بے جا مداخلت، مذہبی خودمختاری پر حملہ

    دریں اثنا 15 مئی کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایپل سے بھارت میں آئی فونز تیار نہ کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

  • گوگل کا پاکستان میں اے آئی اوور ویوزمیں  اشتہارات کا فیچر متعارف کرانے کا اعلان

    گوگل کا پاکستان میں اے آئی اوور ویوزمیں اشتہارات کا فیچر متعارف کرانے کا اعلان

    گوگل نے رواں برس کے آخر میں، پاکستان سمیت ایشیا بحرالکاہل (APAC) کی مارکیٹوں میں اے آئی اوورویوز(AI Overviews) میں اشتہارات متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے جو انگریزی زبان میں ہوں گے۔ اس اقدام کا مقصد کاروباری اداروں کو گوگل سرچ میں اے آئی کی مدد سے تیار کردہ خلاصوں کے ذریعے صارفین تک براہِ راست پہنچنے کے نئے مواقع فراہم کرنا ہے۔

    اے آئی اوورویوز، جسے اب دنیا بھر میں 1.5 ارب سے زائد افراد استعمال کر رہے ہیں، اہم مارکیٹوں میں مخصوص قسم کے استفسارات میں 10 فیصد سے زیادہ اضافہ کر رہا ہے اور تجارتی نوعیت کے استفسارات میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اب جب کہ اشتہارات براہِ راست اِن اوورویوز(overviews) میں شامل کیے جا رہے ہیں، پاکستان میں کاروباری اداروں کو لوگوں سے جُڑنے اور اُن کی فیصلہ سازی میں رہنمائی فراہم کرنے کے مزید مواقع میسر آئیں گے۔

    یہ اشتہارات کاروباری اداروں کو درج ذیل فوائد فراہم کرتے ہیں:
    ● تحقیق سے فیصلہ سازی تک کا سفر کم کریں:اے آئی اوورویوز میں اشتہارات کے ذریعے اپنا کاروبار ان جوابات میں شامل کریں جو صارفین کی دلچسپی اور اطمینان میں اضافہ کر رہے ہیں۔ صارفین سے اس وقت جُڑیں جب وہ گوگل سرچ پر اپنی نئی سرچ کا آغاز کر رہے ہوں۔
    ● صارف کا اگلا قدم بنیں: اپنے اشتہار کو صارف کے سوال اوراےآئی کے فراہم کردہ سیاق و سباق سے ہم آہنگ کریں، تاکہ آپ کا برانڈ اُن کے لیے قدرتی اور فوری انتخاب بن سکے۔
    ● نئے، غیر استعمال شدہ لمحات میں رابطہ قائم کریں:اے آئی اوورویوز صارفین کی پیچیدہ ضروریات اور نئے ابھرتے سوالات کو سمجھتے ہیں، جس سے اشتہارات کو ان لمحات میں صارفین سے جُڑنے کا موقع ملتا ہے جہاں پہلے رسائی ممکن نہ تھی۔

    اے آئی اوورویوز میں اشتہارات گوگل سرچ اور یوٹیوب پر اے آئی سے چلنے والے جدید ٹولز کی نئی نسل کا حصہ ہیں، جنہیں اس تیزی سے بدلتے ہوئے پیچیدہ ڈیجیٹل ماحول میں برانڈز اور مارکیٹرز کو آگے رکھنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ تخلیقی مواد میں تبدیلی سے لے کر سرچ اشتہارات کو نئے انداز میں پیش کرنے تک، گوگل اے آئی کو عملی اقدامات میں تبدیل کر رہا ہے اور مارکیٹرز کو زیادہ اسمارٹ ٹولز براہِ راست فراہم کر رہا ہے۔

    گوگل ساؤتھ ایسٹ ایشیا اور ساؤتھ ایشیا فرنٹیئر کی نائب صدر، سپنا چڈھا نے کہا:”ہم کئی سالوں سے اے آئی پر مبنی اشتہارات کے میدان میں سب سے آگے رہے ہیں۔ جیسے جیسے صارفین کا سفر مزید پیچیدہ اور وسائل محدود ہوتے جا رہے ہیں، ہم مارکیٹرز کو اپنے اب تک کے سب سے جدید ماڈلز فراہم کر رہے ہیں: جو زیادہ ذہین، زیادہ خودکار، اور ذاتی نوعیت کے حامل ہیں۔ اس کا مطلب ہے تیزی، تخلیقی کام ، وسیع تر رسائی، اہم معلومات ، اور بہتر نتائج کا حصول۔“

  • یوٹیوب آمدنی سے متعلق پالیسیوں میں تبدیلی

    یوٹیوب آمدنی سے متعلق پالیسیوں میں تبدیلی

    یوٹیوب کی جانب سے 15 جولائی سے monetization پالیسیوں میں نمایاں تبدیلیاں کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

    ان تبدیلیوں کا مقصد غیر معیاری مواد، بار بار پوسٹ کی جانے والی ویڈیوز اور آرٹی فیشل انٹیلی جنس (اے آئی) سے تیار کردہ ویڈیوز سے آمدنی کے حصول کو ناممکن بنانا ہے جبکہ اوریجنل اور تخلیقی ویڈیوز کی حوصلہ افزائی کرنا ہے،یوٹیوب پارٹنر پروگرام (وائے پی پی) کو 15 جولائی کو اپ ڈیٹ کیا جائے گا اور تفصیلی گائیڈلائنز جاری کی جائیں گی، جن میں بتایا جائے گا کہ صارفین کس طرح کے مواد سے پیسے کما سکیں گے اور کونسی ویڈیوز سے آمدنی کا حصول ممکن نہیں ہوگا۔

    یوٹیوب کی آفیشل اپ ڈیٹ کے مطابق پلیٹ فارم ایسی ویڈیوز کو ہدف بنائے گا جو دوسروں کے مواد کی نقل پر مبنی ہوں یا جن میں معمولی ترمیم کر کے انہیں نئے انداز میں پیش کیا گیا ہو اگرچہ یوٹیوب نے "غیر مستند” یا "بار بار دہرائے گئے” مواد کی واضح تعریف نہیں دی، تاہم ماہرین کے مطابق یہ تبدیلیاں خاص طور پر ان چینلز پر اثر انداز ہوں گی جو بغیر چہرے کے گیمنگ ویڈیوز یا AI سے تیار کردہ آوازوں اور کرداروں پر انحصار کرتے ہیں۔

    ابھی نئی پالیسیوں کے بارے میں تو تفصیلات موجود نہیں مگر یوٹیوب پیلپ پیج پر وضاحت کی گئی ہے کہ صارفین کو ہمیشہ اوریجنل اور مصدقہ مواد کو اپ لوڈ کرنے کی ضرورت ہوگی نئی پالیسیوں سے صارفین کو سمجھنے میں مدد ملے گی کہ کونسا مواد اب غیر مستند ہوگا۔

    غییر ضروری فیسوں کے مطالبات، نجی تعلیمی اداروں کیلئے سخت گائیڈ لائنز جاری

    کچھ صارفین کو خدشہ ہے کہ اس سے ان کی مختلف اقسام کی ویڈیوز جیسے ری ایکشن ویڈیوز سے ہونے والی آمدنی متاثر ہوسکتی ہے،مگر یوٹیوب کے عہدیدار Rene Ritchie نے بتایا کہ ایسا نہیں ہوگا یہ تبدیلیاں وائے پی پی پالیسیوں میں معمولی اپ ڈیٹس کی طرح ہوں گی اور ان کا مقصد غیر معیاری مواد کی شناخت کرنا ہے،جس طرح کے مواد سے آمدنی ممکن نہیں، وہ برسوں سے وائے پی پی پالیسیوں کے تحت monetization کا اہل نہیں۔

    اے آئی ٹیکنالوجی میں پیشرفت کی بدولت یوٹیوب میں اے آئی سے تیار کردہ ویڈیوز کی تعداد بڑھ رہی ہے اور کمپنی کی جانب سے بنیادی طور پر غیر معیاری کا لیبل اے آئی ویڈیوز کے لیے ہی استعمال کیا جا رہا ہےاس حوالے سے صورتحال 15 جولائی کو واضح ہوگی جب پالیسی گائیڈلائنز کو باضابطہ طور پر جاری کیا جائے گا۔

    لیاری واقعہ: ایس بی سی اے کے دفتر پر چھاپہ، 6 افسران زیر حراست

    ایسے میں پاکستانی یوٹیوبرز بھی جو اپنی ویڈیوز میں آے آئی یا گیمنگ ویڈیوز کا استعمال کرتے ہیں اس پالیسی سے خطرے میں پڑگئے ہیں کیونکہ گیمنگ ویڈیوز پر مبنی اور اے آئی سے تیار کردہ آوازوں پر مبنی کئی یوٹیوب چینلز موجود ہیں جو پاکستانی ہیں، جبکہ کئی ایسے یوٹیوب چینلز بھی موجود ہیں جو غیر مستند اور دہرائے گئے مواد پر مبنی ہیں جو اس پالیسی کے باعث اپنی مونیٹائزیشن کھو سکتے ہیں۔

  • خبر رساں ایجنسی ’روئٹرز‘ کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پربھارت میں پابندی عائد

    خبر رساں ایجنسی ’روئٹرز‘ کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پربھارت میں پابندی عائد

    بین الاقوامی خبررساں ادارے ”روئٹرز“ کا آفیشل ”ایکس“ اکاؤنٹ بھارت میں بلاک کر دیا گیا ہے-

    رپورٹس کےمابق خبر رساں ایجنسی ’روئٹرز‘ کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پربھارت میں پابندی عائد کر دی گئی ہے،جو کہ آزادی اظہار رائے اور آزادی صحافت پر ایک اور سنگین قدغن ہے بھارتی حکومت کی جانب سے اسے ”قانونی مطالبے“ کی بنیاد پر روکا گیا ہے، تاہم اس اقدام کی وجوہات تاحال ظاہر نہیں کی گئیں۔

    ”روئٹرز“ نے تاحال اس پابندی پر باضابطہ بیان جاری نہیں کیا ادارہ ”تھامسن رائٹرز“ کے تحت کام کرنے والا ”رائٹرز“ 200 سے زائد مقامات پر اپنے 2,600 سے زیادہ صحافیوں کے ذریعے دنیا بھر میں خبروں کی ترسیل کرتا ہے،ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارتی حکومت کا یہ قدم دراصل تنقید برداشت نہ کرنے کی پالیسی کا تسلسل ہے، جس کے تحت پہلے بھی بی بی سی، الجزیرہ، دی وائر، دی کاروان، اور دیگر آزاد صحافتی اداروں کو نشانہ بنایا جا چکا ہے روئٹرز کا بھارت میں بلاک کیا جانا نہ صرف اظہار رائے کے بنیادی انسانی حق کی خلاف ورزی ہے بلکہ عالمی سطح پر بھارت کی جمہوریت پسندی کے دعووں کو بھی مشکوک بنا دیتا ہے۔

    آزادی صحافت کے عالمی نگراں ادارے ”رپورٹرز وِدآؤٹ بارڈرز“ کی درجہ بندی میں بھارت پہلے ہی خطرناک ممالک کی فہرست میں شامل ہو چکا ہے، اور رائٹرز جیسے عالمی ادارے کو بلاک کرنا اس صورت حال کو مزید تشویشناک بنا رہا ہےصحافتی حلقے اس اقدام کو ایک آمریت زدہ ذہنیت کا عکاس قرار دے رہے ہیں، جہا ں حکومت سچ کو چھپانے کے لیے عالمی اداروں کو بھی خاموش کرانے سے دریغ نہیں کر رہی۔

  • مائیکروسافٹ پاکستان سے انخلا نہیں کر رہا، شراکت داری کی طرف منتقلی کا فیصلہ

    مائیکروسافٹ پاکستان سے انخلا نہیں کر رہا، شراکت داری کی طرف منتقلی کا فیصلہ

    وزارت آئی ٹی و ٹیلی کام نے وضاحت کی ہے کہ مائیکروسافٹ کی تنظیمِ نو کے باوجود کمپنی نے پاکستان سے وابستگی برقرار رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

    اعلامیے کے مطابق مائیکروسافٹ پاکستان میں اپنے لائژن آفس کے مستقبل پر غور ضرور کر رہا ہے، تاہم یہ اقدام پاکستان سے انخلا نہیں بلکہ شراکت داری پر مبنی ایک نئے ماڈل کی طرف پیش رفت ہے۔وزارت کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں ٹیکنالوجی کمپنیوں کی آمدنی کے حامل ماڈلز کی جانب منتقلی کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے، جس کے تحت کمپنیاں اپنے بین الاقوامی آپریشنز کو نئی ساخت دے رہی ہیں، مائیکروسافٹ بھی اسی عالمی رجحان کا حصہ ہے۔

    بیان میں مزید کہا گیا کہ مائیکروسافٹ نے پاکستان میں اپنے لائسنسنگ اور کمرشل معاہدوں کے انتظامات یورپ منتقل کیے ہیں، تاہم پاکستان میں تکنیکی تعاون اور سرمایہ کاری کے حوالے سے شراکت داری کا تسلسل برقرار رکھا جائے گا۔

    خیبر پختونخوا سینیٹ انتخابات ، تحریک انصاف کو 3 کنفرم نشستوں سے محرومی کا خدشہ

    کراچی میں عمارت گرنے سے 22 افراد جاں بحق، ریسکیو آپریشن جاری

    کراچی میں عمارت گرنے سے 22 افراد جاں بحق، ریسکیو آپریشن جاری

    مقبوضہ کشمیر میں شراب کی دکانوں کے خلاف 3 روزہ ہڑتال کا اعلان

    ٹیکساس میں بدترین سیلاب، 27 افراد ہلاک، 20 سے زائد لڑکیاں لاپتا

    مسجد اقصیٰ ہماری ریڈ لائن ہے، حماس کا سخت مؤقف

  • گوگل کو جی میل اشتہارات پر فرانس میں 525 ملین یوروز جرمانے کا سامنا

    گوگل کو جی میل اشتہارات پر فرانس میں 525 ملین یوروز جرمانے کا سامنا

    دنیا کے سب سے بڑے سرچ انجن گوگل کو فرانس میں جی میل پر ذاتی نوعیت کے اشتہارات دکھانے پر 525 ملین یوروز کے ممکنہ بھاری جرمانے کا سامنا ہے۔

    بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق فرانس کی ڈیٹا پروٹیکشن اتھارٹی (CNIL) نے الزام عائد کیا ہے کہ گوگل نے فرانسیسی پرائیویسی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے صارفین کی رضامندی کے بغیر جی میل میں ٹریکنگ کوکیز اور ذاتی نوعیت کے اشتہارات کا استعمال کیا۔یہ جرمانہ اگر عائد ہو جاتا ہے تو یہ کمیشن نیشنل ڈی ایل انفارمیٹیک ایٹ ڈیس لبرٹیس کی جانب سے اب تک کا سب سے بڑا جرمانہ شمار کیا جائے گا۔

    رپورٹ کے مطابق فرانس میں جی میل استعمال کرنے والے صارفین طویل عرصے سے ان اشتہارات پر شکایات کرتے رہے ہیں جو ای میلز کی طرز پر ظاہر ہوتے ہیں اور صارفین کو کنفیوژن میں مبتلا کرتے ہیں۔گوگل کا مؤقف ہے کہ یہ اشتہارات جی میل کے مفت ماڈل کا حصہ ہیں، تاہم فرانسیسی ادارہ یہ تحقیقات کر رہا ہے کہ آیا یہ عمل صارف کی پیشگی منظوری کے بغیر کیا جا رہا ہے۔

    ڈیٹا پرائیویسی قوانین کے مطابق ای میلز کی طرح نظر آنے والے اشتہارات صارفین کے اعتماد کو مجروح کرتے ہیں اور پرائیویسی کے حوالے سے تشویش پیدا کرتے ہیں۔دوسری جانب گوگل کے خلاف گوگل پلے اسٹور پر موجود کچھ ایپس کے ذریعے صارفین کا ڈیٹا چوری کیے جانے کا معاملہ بھی سامنے آیا ہے، جس نے کمپنی کے ڈیٹا سیکیورٹی اقدامات پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔

    گوگل کو اب یورپی پرائیویسی قوانین کی پاسداری اور صارفین کے ڈیٹا کے تحفظ کے لیے سخت اقدامات کرنے ہوں گے تاکہ مستقبل میں اس نوعیت کی قانونی کارروائی سے بچا جا سکے۔

    وفاقی سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد اضافہ کا نوٹیفکیشن جاری

    محمد حفیظ پاکستان چیمپئنز کے نئے کپتان مقرر

    بھارت کے ہمالیائی خطے میں مون سون کی تباہ کاریاں، 69 افراد ہلاک، 110 زخمی

    ایئر انڈیا کا پائلٹ پرواز سے قبل بے ہوش، فوری اسپتال منتقل

    شام کا اسرائیل سے 1974 کے علیحدگی معاہدے کی بحالی پر آمادگی کا اظہار

  • 2025 میں 8,500 کاروباری صارفین سائبر حملوں کا شکار ہوئے

    2025 میں 8,500 کاروباری صارفین سائبر حملوں کا شکار ہوئے

    عالمی شہرت یافتہ سائبر سیکیورٹی کمپنی کیسپر اسکائی نے انکشاف کیا ہے کہ 2025 کے دوران اب تک 8,500 سے زائد چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری ادارے ایسے سائبر حملوں کا نشانہ بن چکے ہیں جن میں جعلی سافٹ ویئر کو مقبول آن لائن پروڈکٹیویٹی ٹولز کی شکل میں پیش کیا گیا۔

    کمپنی کی رپورٹ کے مطابق چیٹ جی پی ٹی، مائیکرو سافٹ آفس، زوم اور ڈیپ سیک جیسے مشہور پلیٹ فارمز کے نام اور لوگو استعمال کر کے بدنیتی پر مبنی سافٹ ویئر تیار کیے گئے، جنہیں استعمال کرنے والے صارفین غیر ارادی طور پر وائرس اور میلویئر کا شکار بن گئے۔کیسپر اسکائی کا کہنا ہے کہ 2025 کے دوران اب تک کمپنی نے 4,000 سے زیادہ منفرد نقصان دہ اور ناپسندیدہ فائلوں کا سراغ لگایا، جنہیں معروف ایپس کا نقلی چہرہ دے کر پھیلایا جا رہا ہے۔

    رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ صرف چیٹ جی پی ٹی سے مشابہت رکھنے والی 177 نئی میلویئر فائلز پائی گئیں، جو 2024 کے مقابلے میں 115 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہیں۔ اسی طرح 83 نقصان دہ فائلز کو ڈیپ سیک جیسے معروف اے آئی ٹول کے طور پر پیش کیا گیا۔

    کیسپر اسکائی نے خبردار کیا ہے کہ اے آئی ٹولز کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کے ساتھ ساتھ سائبر حملہ آوروں کی سرگرمیاں بھی تیز ہو رہی ہیں، اور صارفین کو مشورہ دیا ہے کہ صرف مصدقہ ذرائع سے ہی سافٹ ویئر ڈاؤن لوڈ کریں اور اپنے سیکیورٹی سسٹمز کو اپڈیٹ رکھیں۔

    بلوچستان اور آزاد کشمیر ،دانش اسکولز کے لیے 19 ارب 25 کروڑ روپے منظور

    پنجاب میں غیر قانونی فلنگ اسٹیشنز کے خلاف کریک ڈاؤن کا آغاز

    امریکا نے ایرانی تیل ، حزب اللہ کے مالیاتی ادارے پر نئی پابندیاں عائد کر دیں

    امریکا نے ایرانی تیل ، حزب اللہ کے مالیاتی ادارے پر نئی پابندیاں عائد کر دیں

    جاسوسی کے الزامات، ایران سے ایک ماہ میں 2 لاکھ 30 ہزار افغان ملک بدر