Baaghi TV

Category: سائنس و ٹیکنالوجی

  • 2022 میں سمندروں نے لگاتار چوتھے سال درجہ حرارت کا ریکارڈ توڑدیا

    2022 میں سمندروں نے لگاتار چوتھے سال درجہ حرارت کا ریکارڈ توڑدیا

    ایک نئی تحقیق میں معلوم ہوا ہے کہ 2022 میں سمندر کے درجہ حرارت نے 2021 میں بنایا گیا ریکارڈ توڑ دیا ہے۔

    باغی ٹی وی: دو درجن سائنسدانوں کی ایک نئی رپورٹ کے مطابق، سمندروں نے 2022 میں مسلسل چوتھے سال ریکارڈ پر اپنی گرم ترین سطح کو نشانہ بنایا۔ گرمی کے پچھلے ریکارڈ 2021، 2020 اور 2019 میں ٹوٹے تھے، اور پچھلے چھ سالوں میں سب سے اوپر چھ گرم ترین سطحیں واقع ہوئی ہیں دنیا جس رفتار سے گرم ہو رہی ہے اس کی یہ ایک بُری علامت ہے۔

    2100 کے شروع تک زمین پر موجود 80 فیصد گلیشیئر پگھل سکتے ہیں

    بین الاقوامی محققین پرمشتمل ایک ٹیم نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہےکہ گزشتہ برس زمین کےسمندروں میں 10 زیٹا جولز(1021 یا 10 کے آگے 21 صفر)کے برابر گرمائش کا اضافہ ہوا۔

    یہ مقدار کتنی بڑی ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ یہ مقدار 70 کروڑ 1.5 لیٹر حجم والی کیتلیوں کو ایک سال تک ہر سیکنڈ ابالنے کے لیے کافی ہے یا یہ توانائی ایک سال میں عالمی سطح پر بننے والے بجلی سے 100 گُنا زیادہ ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ تحقیق کے نتائج یہ بتاتے ہیں کہ انسانی سرگرمیوں کے سبب خارج ہونے والی گرین ہاؤس گیسز کی وجہ سے زمین کے سمندر کس بری طرح متاثر ہوئے ہیں اس تحقیق میں دنیا بھرکے 16 اداروں کے 24 سائنس دانوں کیجانب سے سمندروں کے متعلق مشاہدات پیش کیے گئے۔

    یونیورسٹی آف پینسلوینیا سے تعلق رکھنے والے تحقیق کے مصنف پروفیسر مائیکل مین کا کہنا تھا کہ انسانوں کی خارج کردہ کاربن سے پیدا ہونے والی تپش کا بڑا حصہ سمندر جذب کر رہے ہیں۔ جب تک ہم نیٹ زیرو اخراج تک نہیں پہنچ جاتے یہ تپش جاری رہے گی اور ہم سمندر کے درجہ حرارت کے ریکارڈ توڑتے جائیں گے جیسے 2022 میں کیا گیا۔

    ایمیزون جنگلات کی تباہی سے ہمالیہ اورانٹارکٹک کی برف میں بھی کمی ہوسکتی ہے

    ان کا کہنا تھا کہ سمندروں کے متعلق آگہی اور بہتر سمجھ موسمیاتی تغیر سے لڑنے کے لیے کیے جانے والے اقدامات کے حوالے سے بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔

    یہ نیا ریکارڈ بدھ کے روز شائع ہوا، کچھ ہی دن بعد جب یورپ کی کوپرنیکس کلائمیٹ چینج سروس کے سائنسدانوں نے اعلان کیا کہ 2022 سیارے کا پانچواں گرم ترین سال تھا۔ ایجنسی کے مطابق، سال 2016، 2020، 2019 اور 2017 سبھی ٹاپ فائیو میں بھی شامل ہیں یہ تمام سیاروں کی گرمی، سمندروں اور ماحول کے ایک طویل مدتی نمونے کا حصہ ہے۔

    چائنیز اکیڈمی آف سائنسز کے سائنسدان لیجنگ چینگ کی سربراہی میں سمندروں کی رپورٹ نوٹ کرتی ہے کہ 1958 کے بعد سے ہر دہائی جب سائنسدانوں نے پہلی بار سمندری حرارت کی قابل اعتماد پیمائش کو رکھنا شروع کیا آخری سے زیادہ گرم رہا ہے۔ اور وقت کے ساتھ گرمی میں تیزی آئی ہے۔ 1980 کی دہائی کے آخر سے، سمندر جس شرح سے گرمی کو ذخیرہ کرتا ہے اس میں تین سے چار گنا اضافہ ہوا ہے۔

    چاند سے زمین کے طلوع ہونے کا منظر کیسا ہوتا ہے؟ناسا نے ویڈیو جاری کر دی

  • جیمز ویب ٹیلی سکوپ نے کائنات کے ابتدائی دور میں بنتے ستاروں کی تصویر جاری کردی

    جیمز ویب ٹیلی سکوپ نے کائنات کے ابتدائی دور میں بنتے ستاروں کی تصویر جاری کردی

    ناسا کی جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نے زمین سے 2 لاکھ نوری سال کے فاصلے پر موجود ستاروں کے جھرمٹ کی تصویر لی ہے جس میں کائنات کے ابتدائی دور میں بنتے ستاروں کو دیکھا جاسکتا ہے۔

    باغی ٹی وی: جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ کی جانب سے جاری کی گئی NGC 346 نامی ستاروں کے اس مجمع کی تازہ ترین تصویر میں دراصل ستاروں کی 10 ارب سال پُرانی تصویر ہے۔


    سائنسدانوں کی جانب سے اس جھرمٹ، جو چھوٹےسےایک میگلینِک بادل میں موجود ہے، جس میں خصوصی طور پردلچسپی لی گئی ہے کیوںکہ یہ ابتدائی وقت کی کائنات سے مشابہ ہیں جب ستارہ سازی کا عمل اپنے عروج پر تھا۔

    ماہرینِ فلکیات پُر امید ہیں کہ اس خطے کا مزید مطالعہ ایسے مزید سوالات کے جوابات دے گا کہ بِگ بینگ سے صرف 2 یا 3 ارب سال بعد ’کوسمک نون‘ کے دوران ابتدائی ستارے کیسے وجود میں آئے۔


    اس تصویر کے حامل تحقیقی مقالے کی مصنفہ ڈاکٹر اولیویا جونز کے مطابق ایسا پہلی ہوا ہے کہ ماہرین کسی اور کہکشاں میں کم اور زیادہ حجم والے ستاروں کے بننے کے مکمل کو دیکھ سکتے ہیں۔

    مونٹریال پروٹوکول کی کامیابی،اوزون کی سطح جلد اپنی پرانی حالت میں واپس آجائے گی، رپورٹ

    انہوں نے کہا کہ اس کا مطلب ہے کہ ہمارے پاس ہائی ریزولوشن پر مطالعے کے لیے بہت زیادہ ڈیٹا موجود ہے جو ہمیں اس متعلق نئی معلومات دے گا کہ ستاروں کے بننے سے ان کے ماحول کیسے وجود میں آئے اور اس سے زیادہ اہم ستارے بننے کے عمل کے متعلق بتائے گا۔

    جیسے جیسے ستارے بنتے ہیں، وہ گیس اور دھول جمع کرتے ہیں، جو ارد گرد کے سالماتی بادل سے ویب کی تصویر میں ربن کی طرح نظر آتے ہیں موادایک ایکریشن ڈسک میں جمع ہوتا ہےجو مرکزی پروٹوسٹارکوکھلاتا ہےماہرین فلکیات نے NGC 346 کے اندر پروٹوسٹار کے ارد گرد گیس کا پتہ لگایا ہے، لیکن ویب کے قریب اور مشاہدات نے پہلی بار ان ڈسکوں میں دھول کا بھی پتہ لگایا ہے۔

    تحقیقاتی ٹیم کے شریک تفتیش کار یورپی خلائی ایجنسی کے گائیڈو ڈی مارچی نے کہا کہ ہم عمارت کے بلاکس دیکھ رہے ہیں، نہ صرف ستاروں کے، بلکہ ممکنہ طور پر سیاروں کے بھی ،اور چونکہ چھوٹے میجیلانک کلاؤڈ کا ماحول کائناتی دوپہر کے دوران کہکشاؤں سے ملتا جلتا ہے، اس لیے یہ ممکن ہے کہ چٹانی سیارے کائنات میں اس سے پہلے بن چکے ہوں جتنا ہم نے سوچا ہوگا۔

    2100 کے شروع تک زمین پر موجود 80 فیصد گلیشیئر پگھل سکتے ہیں

    ٹیم کے پاس Webb کے NIRSpec آلے سے سپیکٹروسکوپک مشاہدات بھی ہیں جن کا وہ مسلسل تجزیہ کر رہے ہیں۔ ان اعداد و شمار سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ انفرادی پروٹوسٹارز کے ساتھ ساتھ فوری طور پر پروٹوسٹار کے آس پاس کے ماحول کے بارے میں نئی ​​بصیرت فراہم کریں گے۔

    یہ نتائج 11 جنوری کو امریکن ایسٹرانومیکل سوسائٹی کے 241 ویں اجلاس میں ایک پریس کانفرنس میں پیش کیے گئے مشاہدات پروگرام 1227 کے حصے کے طور پر حاصل کیے گئے تھے۔

    جیمز ویب اسپیس ٹیلی سکوپ دنیا کی سب سے بڑی خلائی سائنس رصد گاہ ہےویب ہمارے نظام شمسی کے اسرار کو حل کرے گا، دوسرے ستاروں کے آس پاس دور دراز کی دنیاوں کو دیکھے گا، اورہماری کائنات کے پراسرارڈھانچے اورابتداء اوراس میں ہمارے مقام کی تحقیقات کرے گا۔ ویب ایک بین الاقوامی پروگرام ہے جس کی قیادت NASA اپنے شراکت داروں، ESA (یورپی خلائی ایجنسی) اور کینیڈا کی خلائی ایجنسی کے ساتھ کرتی ہے۔

    کائنات کی ابتدا میں موجود ہماری کہکشاں سے مشابہ کہکشائیں دریافت

  • یو اے ای کی پہلی چاند گاڑی نےخلا میں ایک ماہ کامیابی سے مکمل کرلیا

    یو اے ای کی پہلی چاند گاڑی نےخلا میں ایک ماہ کامیابی سے مکمل کرلیا

    متحدہ عرب امارات کے پہلے چاند مشن کے سلسلے میں روانہ ہونے والی چاند گاڑی "راشد روور” نے خلا میں ایک ماہ کامیابی سے مکمل کر لیا ہے۔

    باغی ٹی وی: غیر ملکی میڈیا کے مطابق جمعہ کے روز راشد روور سے زمینی پر موجود سائندانوں کی ٹیم کو تازہ ڈیٹا موصول ہوا ہے جس کے مطابق اماراتی "راشد روور” نے اب تک کامیابی سے 1،34 ملین کلو میٹر کا خلائی سفر مکمل کیا ہے امکانی طور پر چاند پر ماہ اپریل میں اتر سکے گی۔

    یو اے ای نے چاند پر لینڈ کرنے والا مشن روانہ کر دیا

    "راشد روور” خالصتاً امارات کے سائنسدانوں اور انجینئیرز کی تیار کردہ چاند گاڑی ہے۔ اسے گیارہ دسمبر کو فلوریڈا کے خلائی مرکز سے چاند مشن پر روانہ کیا گا تھا۔ ‘راشد روور’ چاند پر اترنے کے بعد چاند کی سطح سےمتعلق حقائق پرمبنی ڈیٹا زمین پر منتقل کرنا شروع کرے گی اس میں چاند پر موجود ذرارت، دھول، لینڈنگ ایریا کی ہیت اور موسم وغیرہ کے بارے میں بھی آگاہی دینے کے علاوہ دیگر حقائق کی بھی تصویر کشی کرے گی۔

    زمین پر موجود خلائی مرکز کی ٹیم نے ہر ہفتے "راشد روور” سے رابطے کی صورت اس کےبارےمیں ڈیٹا کاجائزہ لےگی اور راشد روور کی کامل درستی کے ساتھ ورکنگ کے بارے میں رپورٹس تیار کرے گی۔

    ماہرین فلکیات کا زمین کےمدارمیں گردش کرتےسیٹلائٹس پرگہری تشویش کا اظہار

    "راشد روور” کو چاند مشن پر روانہ کرنے والی زمینی ٹیم اس کے چاند پر اترنے سے پہلے 12 کے قریب ایسی فرضی اقدامات کرے گی جو چاند گاڑی کے چاند پر اترنے کے بعد کے امکانی ڈیٹا سے متعلق ہوں گے بتایا گیا ہے کہ چاند گاڑی چاند کے کسی غیر دریافت شدہ حصے پر اترے گی-

  • واٹس ایپ نےصارفین کی آسانی کیلئےتصاویر اورویڈیوزکا نیافیچرمتعارف کرا دیا

    واٹس ایپ نےصارفین کی آسانی کیلئےتصاویر اورویڈیوزکا نیافیچرمتعارف کرا دیا

    واٹس ایپ میسنجر نے صارفین کی آسانی کے لیے نیا فیچر متعارف کرادیا-

    باغی ٹی وی: واٹس ایپ بیٹا انفو کی رپورٹ کے مطابق اس فیچر کے تحت صارفین کسی بھی قسم کا میڈیا یعنی تصاویر، ویڈیوز ، گرافکس انٹرچینج فارمیٹ (GIF) اور ڈاکیومنٹس کو فارورڈ کرتے ہوئے ‘کیپشن’ بھی درج کرسکیں گے۔

    واٹس ایپ نے اپنے صارفین کی سہولت کے لیے یا فیچر متعارف کرا دیا

    اس سے قبل یہ فیچر ویب ورژن کے صارفین کے لیے متعارف کرایا گیا تھا جسے اب اینڈرائیڈ صارفین کے لیے بھی پیش کردیا گیا ہے۔

    اس فیچر کو پیش کیے جانے کے بعد اب اگر آپ کسی قسم کا میڈیا ایک چیٹ سے دوسری چیٹ میں بھیجنا چاہتے ہیں تو اس کے ساتھ ‘کیپشن’ لکھا جا سکے گا اگر صارف چاہے تو لکھا ہوا کیپشن ڈیلیٹ کرکے دوبارہ نیا کیپشن بھی درج کرسکے گا۔

    واٹس ایپ نے یہ فیچر اینڈرائیڈ کے 2.23.2.2 ورژن استعمال کرنے والے صارفین کے لیے متعارف کرایا ہے، یہ فیچر صارفین واٹس ایپ اپ ڈیٹ کرنے کے بعد استعمال کرسکتے ہیں۔

    قبل ازیں واٹس ایپ نے ایک سے دوسرے اینڈرائیڈ فون میں وائی فائی کے ذریعے ڈیٹا منتقل کرنے کا نیا فیچر متعارف کرایا ہے جس کے لیے صارفین کو گوگل ڈرائیو کی ضرورت نہیں پڑے گی اور یہ کام صرف کیو آر کوڈ کے ذریعے ہی ممکن ہو جائے گا۔

    یہ نیا فیچر واٹس ایپ کے بیٹا ورژن 2.23.1.26 اور 2.23.1.27 میں چند صارفین کو ہی دستیاب ہے، اس کا استعمال بہت آسان ہے جب بھی آپ کسی نئی اینڈرائیڈ ڈیوائس میں واٹس ایپ انسٹال کریں تو امپورٹ چیٹس کے آپشن کا انتخاب کریں۔ ایسا کرنے سے ڈیوائس کا کیمرا کیو آر کوڈ اسکین کرنے کے لیے اوپن ہوجائے گا۔

    مونٹریال پروٹوکول کی کامیابی،اوزون کی سطح جلد اپنی پرانی حالت میں واپس آجائے گی،…

  • سمندری سیپی سے تیار ماحول دوست ہیلمٹ

    سمندری سیپی سے تیار ماحول دوست ہیلمٹ

    ماہرین نے سمندری سیپی سے مضبوط اور ماحول دوست ہیلمٹ بنا لیا-

    باغی ٹی وی :سمندر کنارے دھاری دار سیپی میں ایک نرم کیڑا کسی خطرے کے بغیر مزے سے رہتا ہے اور اسی سیپی سے اب ایک ماحول دوست ہیلمٹ بنایا گیا ہےاسے شیلمٹ کا نام دیا گیا ہے-

    پی سی بی نےسابق ٹیسٹ کرکٹرز کی پینشن میں اضافہ کردیا

    شیلمٹ میں اسکیلپ سیپی کی 50 فیصد مقدار اور 50 فیصد پلاسٹک ملایا گیا ہے سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ ہیلمٹ بنانے والی کمپنی نے اپنے کاروبار میں دیہات کے ماہی گیروں کو شریکِ کاروبار بنایا ہے جو اس ہیلمٹ کے لیے سیپی کا خام مال فراہم کرتے ہیں۔

    شیلمٹ کی تباری کے لیے جاپانی کاؤشی کیمیکل کمپنی نے اہم کردار ادا کیا ہے اور سمندری بستی کے ماہی گیر سالانہ 40 ہزار ٹن سیپیاں فراہم کریں گے۔

    اگرچہ یہ سیپیاں اب بھی جالوں میں پھنس کر آتی ہیں لیکن ان کا مصرف کچھ نہیں ہوتا اور وہ ساحل پر پڑی بو دیتی رہتی ہیں جاپان کے سب سے شمالی سرے پر واقع، ہوکائیڈو جزیرہ اپنے آتش فشاں، قدرتی گرم چشموں اور نرم، میٹھے،سشیمی گریڈ سکیلپس کے لیے جانا جاتا ہے۔

    کمپنی کا دعویٰ ہے کہ پلاسٹک میں صدفے یا سیپی کو ملانے سے نہ صرف ہیلمٹ ہلکا پھلکا رہتا ہےبلکہ وہ مضبوط ترین ہیلمٹ کے مقابلے میں یکساں سختی رکھتا ہے۔

    پاکستانیوں کو امریکی ویزا کے حصول کیلئے آسانی

  • مونٹریال پروٹوکول کی کامیابی،اوزون کی سطح جلد اپنی پرانی حالت میں واپس آجائے گی، رپورٹ

    مونٹریال پروٹوکول کی کامیابی،اوزون کی سطح جلد اپنی پرانی حالت میں واپس آجائے گی، رپورٹ

    گلوبل وارمنگ کے پیشِ نظر اوزون کی تہہ کو بچانے کے لیے کی جانے والی کوششیں رنگ لانے لگ گئیں۔

    باغی ٹی وی : اوزون سطح کرہ ارض کو ڈھانپنے والی ایک حفاظتی سطح ہے جو سورج سے آنے والی نقصان دہ الٹرا وائلٹ شعاؤں کو زمین کے ماحول میں گھسنے سے روکتی ہے۔

    2100 کے شروع تک زمین پر موجود 80 فیصد گلیشیئر پگھل سکتے ہیں

    ماضی کے مطالعوں میں روز مرہ کی اشیاء میں استعمال ہونے والے کلوروفلورو کاربن (سی ایف سیز) کو اوزون سطح، انسان کی صحت اور ماحول کے لیے نقصان دہ پایا گیا ہے،1987 میں درجنوں ممالک نے موٹریال پروٹوکول پر دستخط کیے جس کے تحت دستخط کنندہ سی ایف سیز کے استعمال کو ختم کرنے کے پابند ہوگئے اوریہ ایک تاریخی کثیر جہتی ماحولیاتی معاہدہ ہےجو تقریباً 100 انسانی ساختہ کیمیکلز، یا ‘اوزون کو ختم کرنے والے مادے’ (ODS) کی کھپت اور پیداوار کو منظم کرتا ہے۔

    تاہم اب دنیا بھر کے سینکڑوں سائنسدانوں کی جانب سے بنائی گئی رپورٹ کے مطابق اوزون کو نقصان پہنچانے والی اشیاء کے استعمال میں کمی کے نتیجے میں اوزون کی تہہ بحال ہونا شروع ہوگئی ہے اور اس صدی کے آخر تک زمین کو گلوبل وارمنگ کے سبب بڑھنے والے درجہ حرارت میں 0.5- 1 ڈگری تک کمی کا سامنا متوقع ہےلیکن گروپ نے جیو انجینئرنگ جیسی نئی ٹیکنالوجیز کے اوزون پرت پر غیر ارادی اثرات سے بھی خبردار کیا۔

    ایمیزون جنگلات کی تباہی سے ہمالیہ اورانٹارکٹک کی برف میں بھی کمی ہوسکتی ہے

    مونٹریال پروٹوکول کی پیشرفت پر ہر چار سال بعد شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں پینل نے اوزون کو ختم کرنے والے ممنوعہ مادوں کے تقریباً 99 فیصد کے مرحلے سے باہر ہونے کی تصدیق کی۔

    پیر کے روز شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق اوزون کی تہہ میں سوراخ کی دریافت کا اعلان پہلی بار برطانوی انٹارکٹک سروے کے تین سائنسدانوں نے مئی 1985 میں کیا تھا۔

    پینل کی رپورٹ کے مطابق، اگر موجودہ پالیسیاں اپنی جگہ پر رہتی ہیں، تو توقع ہے کہ 2040 تک یہ تہہ 1980 کی قدروں تک پہنچ جائے گی، اوزون سطح کی انٹارکٹک میں 2066 تک، آرٹک میں 2045 اور باقی دنیا میں 2040 تک اس ہی حالت میں واپسی متوقع ہے جس حال میں وہ 1980 میں تھی۔

    ماہرین فلکیات کا زمین کےمدارمیں گردش کرتےسیٹلائٹس پرگہری تشویش کا اظہار

    انٹارکٹک اوزون ہول کے سائز میں تغیرات، خاص طور پر 2019 اور 2021 کے درمیان، زیادہ تر موسمیاتی حالات کی وجہ سے تھے اس کے باوجود، سال 2000 سے، انٹارکٹک اوزون کی خلاف ورزی رقبے اور گہرائی میں آہستہ آہستہ بہتر ہو رہی ہے۔

    اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام (UNEP) کے اوزون سیکریٹریٹ کے انوائرنمنٹ پروگرام کی ایگزیکٹِیو سیکریٹری میگ سیکی کا کہنا تھا کہ تازہ ترین رپورٹ کے مطابق اوزون تہہ کی بحالی ایک زبردست خبر ہےموسمیاتی تغیر کو کم کرنے کے لیے مونٹریال پروٹوکول اس سے زیادہ اثر انداز نہیں ہوسکتا 35 سال سے زیادہ کے عرصے میں یہ معاہدہ ماحولیات کے لیے حقیقی چیمپئن بن گیا ہےسائنٹیفک اسسمنٹ پینل کی طرف سے کئے گئے جائزے اور جائزے پروٹوکول کے کام کا ایک اہم جزو بنے ہوئے ہیں جو پالیسی اور فیصلہ سازوں کو مطلع کرنے میں مدد کرتے ہیں۔

    منگل کو ایک ٹویٹ میں، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے کہا کہ اوزون کی تہہ کی بحالی "ایک حوصلہ افزا مثال ہے کہ جب ہم مل کر کام کریں گے تو دنیا کیا حاصل کر سکتی ہے-

    گلوبل وارمنگ بڑھتی رہی توانٹارکٹیکا کےنصف سےزیادہ جاندارناپید ہوجائیں گے

  • 2100 کے شروع تک زمین پر موجود 80 فیصد گلیشیئر پگھل سکتے ہیں

    2100 کے شروع تک زمین پر موجود 80 فیصد گلیشیئر پگھل سکتے ہیں

    سائنسدانوں نے ایک نئی تحقیق میں بتایا ہے کہ 2100 تک زمین پر موجود 80 فیصد گلیشیئر پگھل سکتے ہیں۔

    باغی ٹی وی: امریکا کی کارنیگی میلن یونیورسٹی کے سائنس دانوں نے زمین کو درپیش مختلف گرین ہاؤس گیس کے اخراج کے سبب ہونے والے برف کے پگھلاؤ کا اندازہ لگایا۔

    ایمیزون جنگلات کی تباہی سے ہمالیہ اورانٹارکٹک کی برف میں بھی کمی ہوسکتی ہے

    تحقیق میں سامنے آیا کہ زمین کا درجہ حرارت اگر 1.5 ڈگری سیلسیئس تک محدود بھی کر دیا جائے تو زمین پر موجود تقریباً نصف گلیشیئر پگھل سکتے ہیں گلیشیئرز کا ختم ہونا مقامی آبی چکر پر منفی اثرات مرتب کرسکتا ہے اور تودوں کے گرنے اور سیلابوں میں اضافے کا سبب ہوسکتا ہے۔

    ماضی میں بھی ماہرین خبردار کر چکے ہیں ہیں دنیا بھر میں گلیشیئرز گلوبل وارمنگ کے سبب تیزی سے پگھل رہے ہیں۔

    قبل ازیں ایک تحقیق میں ماہرین کا کہنا تھا کہ ایمیزون جنگلات کی تباہی سے بہت دور واقع مستقل برفانی ذخائر مثلاً ہمالیہ اور انٹارکٹک کی برف میں بھی کمی ہوسکتی ہے۔

    بیجنگ نارمل یونیورسٹی سے وابستہ سینی یانگ اور ان کےساتھیوں نے 1979 سے 2019 کےدرمیان آب و ہوا میں تبدیلی کےاثرات کےان دونوں مقامات کا جائزہ لیا ان رابطوں کو ٹیلی کنیکشن (دور سے روابط) کا نام دیا گیا ہے۔ اس تحقیق میں بطورِ خاص ایمیزون پر توجہ دی گئی جو ایک جانب کاربن جذب کرنے کا اہم ترین مقام اور خود کلائمٹ چینج کی جگہ بھی ہے۔

    ماہرین فلکیات کا زمین کےمدارمیں گردش کرتےسیٹلائٹس پرگہری تشویش کا اظہار

    ماہرین کا کہنا ہے کہ ایمیزون برساتی جنگلات کی تیزی سے کٹائی 15,000 کلومیٹر دور تبتی سطح مرتفع پر درجہ حرارت اور بارش کو متاثر کر سکتی ہے اس کی سادہ وجہ یہ ہے کہ درجہ حرارت اور نمی میں کمی سےدوردرازسطح مرتفع تبت اورانٹارکٹیکا کی برف پر منفی اثرات ہوسکتے ہیں اگرچہ تبت اور ہمالیہ، ایمیزون سے 15000 کلومیٹردورہےلیکن چینی ماہرین نےان دونوں کے باہمی اثرات کا جائزہ لیا ہے۔

    ماہرین نے دیکھا کہ 1979 سے ایمیزون کا درجہ حرارت بڑھنے سے تبت اور مغربی انٹارکٹک برف کی اطراف پر درجہ حرارت بڑھا لیکن ایمیزون میں بارش اور نمی کی زیادتی انٹارکٹک اور تبت پر نمی اور برسات کم ہوئی۔

    گزشتہ برس ستمبر میں سائنس دانوں نے بتایا کہ اینٹارکٹیکا کا تھویٹس گلیشیئر گزشتہ 200 سالوں سے زیادہ عرصے میں جتنا پگھلا ہے اس سے دُگنی رفتار سے گزشتہ چند سالوں میں پگھلا ہے۔

    گلوبل وارمنگ بڑھتی رہی توانٹارکٹیکا کےنصف سےزیادہ جاندارناپید ہوجائیں گے

    تیزی سے پگھلتا یہ گلیشیئر اکیلا ہی سطح سمندر میں 10 فِٹ کا اضافہ کر سکتا ہے لیکن دیگر محققین نے پیش گوئی کی ہے کہ دوسرے بڑے گلیشیئرز بھی سطح سمندر میں بڑا اضافہ کر سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر اینٹارکٹیکا کے پائن آئی لینڈ آئس شیلف 1.6 فِٹ جبکہ مشرقی اینٹارکٹیکا کی برف کی چادر 2500 تک 16 فِٹ تک کا اضافہ کرسکتے ہیں۔

    سطح سمندر میں اضافے سے شینگھائی اور لندن جیسے کئی شہر کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔

    جرنل سائنس میں شائع ہونے والی اس نئی تحقیق میں امریکی ریاست پینسلوینیا سے تعلق رکھنے والے ٹیم نے بتایا کہ اگر زمین کا درجہ حرارت اس ہی طرح بڑھتا رہا تو زمین پر موجود 2 لاکھ 15 ہزار گلیشیئرز میں سے کتنے باقی رہیں گے۔

    ناسا کی جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نےزندگی کیلئے موافق سیاروں کا ایک جتھہ دریافت کر…

  • سانپ نما جھرمٹ میں چھپا نیبیولا دریافت

    سانپ نما جھرمٹ میں چھپا نیبیولا دریافت

    یورپین سدرن آبزرویٹری (ای ایس او) نے زمین سے 6000 سال نوری فاصلے پر موجود سانپ نما ستاروں کے جھرمٹ میں چھپی ایک نیبیولا کی نئی تصاویر جاری کردیں۔

    باغی ٹی وی: Sh2-54 نامی نیبیولا اوراس جیسے متعدد اجرامِ فلکی’سرپن‘نامی سانپ نما ستاروں کی جھرمٹ کی دم میں واقع ہیں اس علاقے میں اس نیبیولا کے علاوہ دیگر مشہور اجرامِ فلکی موجود ہیں جن میں میں ایگل نیبیولا اور اومیگا نیبیولا شامل ہیں۔

    کائنات کی ابتدا میں موجود ہماری کہکشاں سے مشابہ کہکشائیں دریافت

    نیبیولا ایک ایسا خطہ ہوتا ہے جہاں نئے ستارے وجود میں آتے ہیں۔ ان علاقوں میں گیس اور غبار کے بڑے بڑے بادل ہوتے ہیں جو آپس میں مل کر نئے ستارے بننے میں مدد دیتے ہیں –

    زیادہ تر نیبیولے کسی ستارے کی موت کے بعد پیدا ہوتے ہیں۔ یہ سپر نووا (supernova) بھی کہلاتے ہیں۔ باقی ماندہ نیبیولے نئے ستاروں کے بننے کے وقت پیدا ہوتے ہیں اس لئے ان کو ستاروں کی نرسری بھی کہا جاتا ہے۔

    ایمیزون جنگلات کی تباہی سے ہمالیہ اورانٹارکٹک کی برف میں بھی کمی ہوسکتی ہے

    نیبولا زیادہ تر دھول اور گیسوں کا مجموعہ ہوتا ہے جس میں نمایاں گیسیں ہائیڈروجن اور ہیلیم ہیں نیبیولے دو ستاروں کے درمیانی جگہ میں جسے انٹر سٹیلر سپیس کہتے ہیں پائے جاتے ہیں۔

    نیبیولا میں موجود غبار کے بادل قابلِ دید روشنی کو جذب کر لیتے ہیں جس کی وجہ سے ان کو دیکھنا مشکل ہوتا ہے لیکن انفرا ریڈ روشنی ان غبار کے بادلوں کے پار جاسکتی ہیں۔

    اب ٹیلی اسکوپ ٹیکنالوجی میں جدت کی بدولت سائنس دان زمین سے 6000 ہزار نوری سال کے فاصلے پرموجود اس نیبیولا اور اس جیسے دیگر اجرامِ فلکی کا قریبی جائزہ لے سکتے ہیں۔

    ماہرین فلکیات کا زمین کےمدارمیں گردش کرتےسیٹلائٹس پرگہری تشویش کا اظہار

  • برطانیہ کے پہلے تاریخی خلائی مشن کو ناکامی کا سامنا ہوا

    برطانیہ کے پہلے تاریخی خلائی مشن کو ناکامی کا سامنا ہوا

    برطانیہ کے پہلے تاریخی خلائی مشن کو لانچ کے دوران ناکامی کا سامنا ہوا اور سیٹلائیٹس لے جانے والا راکٹ کہیں گم ہوگیا۔

    باغی ٹی وی: برطانیہ کے علاقے کورن وال کی اسپیس پورٹ سے اسٹارٹ می اپ خلائی مشن کو کاسمک گرل نامی بوئنگ 747 طیارے سے روانہ کیا گیا آئرلینڈ کے شمالی ساحلی علاقے میں طیارے نے کامیابی سے لانچر ون راکٹ کو ریلیز کیا جس پر 9 سیٹلائیٹس موجود تھے۔

    ماہرین فلکیات کا زمین کےمدارمیں گردش کرتےسیٹلائٹس پرگہری تشویش کا اظہار

    مشن کا انتظام سنبھالنے والی کمپنی ورجین آربٹ کے مطابق راکٹ مطلوبہ بلندی تک پہنچنے میں ناکام رہا اور سیٹلائیٹس سمیت گم ہوگیا یوکے اسپیس ایجنسی کے مطابق گمشدہ راکٹ یا تو جل گیا ہوگا یا شمالی بحر اوقیانوس میں ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا ہوگا۔

    یو کے اسپیس ایجنسی کے کمرشل اسپیس فلائٹ ڈائریکٹر میٹ آرچر نے بتایا کہ مشن کی ناکامی پر انہیں بہت زیادہ مایوسی ہے مگر پھر بھی انہیں خوشی ہے کہ یورپ میں سیٹلائیٹس لے کر جانے والا پہلا مشن برطانوی سرزمین سے روانہ ہوا،لانچ کا پہلا مرحلہ تو کامیاب رہا مگر دوسرے مرحلے میں ناکامی کا سامنا ہوا۔
    https://twitter.com/VirginOrbit/status/1612590978942263297?s=20&t=Wrge1ovy7iF12vRJ8FoAlg

    زمین پر پانی کی پیمائش کیلئےاہم مشن پر روانہ

    انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں معلوم نہیں کہ اس کی وجہ کیا ہے مگر لانچ کا عمل کامیاب رہا اور ہم نے کافی پیشرفت کی انہوں نے تصدیق کی کہ راکٹ اور سیٹلائیٹس گم ہوگئے ہیں مگر لوگوں کو اس سے کوئی خطرہ لاحق نہیں۔

    یہ مشن پاکستانی وقت کے مطابق 10 جنوری کی شب 3 بجے روانہ ہوا تھا جبکہ 4 بجے راکٹ کو 35 ہزار فٹ کی بلندی پر ریلیز کیا گیا۔

    ورجین آربٹ نے پہلے ایک ٹوئٹ میں بتایا تھا کہ لانچر ون کامیابی سے زمین کے مدار میں پہنچ گیا ہے، مگر کچھ دیر بعد ایک اور ٹوئٹ میں کہا گیا کہ کسی مسئلے کے باعث ہم مدار تک پہنچ نہیں پارہےیہ جو سیٹلائٹ لے کر جا رہا تھا وہ چھوڑا نہیں جا سکا اور گم ہو گیا کاسمک گرل، کیریئر 747 جیٹ، بحفاظت اڈے پر واپس آ گیا۔

    یوکے اسپیس ایجنسی کے ڈپٹی سی ای او ایان اینیٹ نے کہا کہ اس سے پتہ چلتا ہے کہ مدار میں پہنچنا اصل میں "کتنا مشکل” ہے – لیکن اگلے 12 مہینوں میں مزید لانچوں کی پیش گوئی کی ہے۔

    یو اے ای نے چاند پر لینڈ کرنے والا مشن روانہ کر دیا

  • کائنات کی ابتدا میں موجود ہماری کہکشاں سے مشابہ کہکشائیں دریافت

    کائنات کی ابتدا میں موجود ہماری کہکشاں سے مشابہ کہکشائیں دریافت

    آسٹن: ناسا کی جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ کی مدد سے سائنسدانوں نے کائنات کی ابتدا میں ایسی کہکشائیں دریافت کی ہیں جو حیران کن حد تک ہماری کہکشاں ملکی وے سے مشابہ ہیں۔

    باغی ٹی وی: امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر آسٹن میں قائم یونیورسٹی آف ٹیکساس کے پروفیسر اسٹیون فِنکلسٹائن کی رہنمائی میں کیے جانے والے فلکیاتی سروے میں سائنسدانوں نے ایسی کہکشائیں دریافت کیں جن میں ’اسٹیلر بار‘ موجود ہیں اسٹیلر بار سلاخوں کی ایک لمبی پٹی ہوتی ہے جو کہکشاؤں کے درمیان سے کناروں تک جاتی ہے۔

    چاند سے زمین کے طلوع ہونے کا منظر کیسا ہوتا ہے؟ناسا نے ویڈیو جاری کر دی


    محققین کے مطابق جن کہکشاؤں کی نشان دہی کی گئی ہے وہ اس وقت کی ہیں جب ہماری کائنات کی عمر اس کی موجودہ عمر کی ایک چوتھائی تھی ہماری ملکی وے کہکشاں کے جیسی ’بار کہکشاؤں‘ کی کائنات کے ابتدائی وقتوں میں دریافت سے کہکشاں کے ارتقاء کے متعلق نظریوں کو جدید کرنے کی ضرورت پڑے گی۔

    میں نے ان اعداد و شمار پر ایک نظر ڈالی، اور میں نے کہا، ‘ہم باقی سب کچھ چھوڑ رہے ہیں!’” آسٹن کی یونیورسٹی آف ٹیکساس میں فلکیات کی پروفیسر شردھا جوگی نے کہا ہبل ڈیٹا میں شاید ہی نظر آنے والی پٹیاں ابھی JWST امیج میں واضح ہوئیں، جو کہکشاؤں میں بنیادی ڈھانچے کو دیکھنے کے لیے JWST کی زبردست طاقت کو ظاہر کرتی ہیں-

    ٹیم نے ایک اور ممنوعہ کہکشاں، EGS-24268 ایک اور ’بار گیلیکسی‘ کی شناخت کی، جو کہ تقریباً 11 بلین سال پہلے کی ہے، جو کہ اب تک دریافت ہونے والی سب سے قدیم دو ’بار کہکشاؤں‘ میں سے ایک ہے۔

    ناسا کی جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نےزندگی کیلئے موافق سیاروں کا ایک جتھہ دریافت کر…

    جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ سے پہلے ہبل ٹیلی اسکوپ سے لی جانے والی ابتدائی دور کی تصاویر میں یہ پٹیاں واضح طور پر نہیں دیکھی گئیں تھیں۔ہبل ٹیلی اسکوپ سے لی جانے والی EGS-23205 نامی ایک کہکشاں کی تصویر میں صرف ایک سپاٹ دھبہ دِکھتا ہے جبکہ جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ سے لی گئی تصویر میں درمیان میں موجود ستاروں کی پٹی سمیت خوبصورت حلزونی کہکشاں دیکھی جاسکتی ہے۔

    ایک گریجویٹ طالب علم ” یوچن "کی” گو نے کہا کہ اس مطالعے کے لیے، ہم ایک نئے نظام کو دیکھ رہے ہیں جہاں اس سے پہلے کسی نے اس قسم کا ڈیٹا استعمال نہیں کیا تھا اور نہ ہی اس قسم کا مقداری تجزیہ کیا تھا لہذا سب کچھ ہے نئی. یہ ایک ایسے جنگل میں جانے جیسا ہے جس میں کبھی کوئی نہیں گیا تھا۔

    باریں کہکشاں کے ارتقاء میں مرکزی خطوں میں گیس کو بہا کر ستاروں کی تشکیل کو بڑھا کر اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

    ناسا نے چاند کی ایک نئی تصویر جاری کر دی

    جوگی نے کہا کہ باریں کہکشاؤں میں سپلائی چین کا مسئلہ حل کرتی ہیں۔ "جس طرح ہمیں بندرگاہ سے اندرون ملک فیکٹریوں تک خام مال لانے کی ضرورت ہے جو نئی مصنوعات تیار کرتی ہیں، اسی طرح ایک بار طاقتور طریقے سے گیس کو مرکزی علاقے میں منتقل کرتا ہے جہاں گیس تیزی سے نئے ستاروں میں تبدیل ہو جاتی ہے جس کی شرح عام طور پر 10 سے 100 گنا زیادہ ہوتی ہے۔

    باریں کہکشاؤں کے مراکز میں گیس کے راستے کے حصے کو جوڑنے کے ذریعے بڑے پیمانے پر بلیک ہولز کو بڑھانے میں بھی مدد کرتی ہیں۔