Baaghi TV

Category: سائنس و ٹیکنالوجی

  • ایک بڑے سیارچے کا زمین کی بجائے چاند سے  ٹکرانے کا خطرہ بڑھ گیا

    ایک بڑے سیارچے کا زمین کی بجائے چاند سے ٹکرانے کا خطرہ بڑھ گیا

    سائنسدانوں نےایک بڑے سیارچے کا چاند سے ٹکرانے کا امکان ظاہر کیا ہےجس کے بارے میں پہلے خیال کیا جا رہا تھا کہ وہ زمین سے ٹکرا سکتا ہے-

    سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اگر یہ سیارچہ 2032 میں چاند سے ٹکراتا ہے تو چاند کے ملبے کے ٹکڑے زمین کا رخ کر سکتے ہیں،ایسٹرائیڈ 2024 وائے آر 4 نامی سیارچے کو چلی کی ایک ٹیلی اسکوپ نے سب سے پہلے دسمبر 2024 میں دیکھا تھابعد ازاں جنوری 2025 میں کہا گیا تھا کہ اس بات کا 1.3 فیصد امکان ہے کہ یہ سیارچہ 22 دسمبر 2032 کو زمین کے کسی حصے سے ٹکرا جائے گا،مگر بعد میں سائنسدانوں نے دریافت کیا کہ اس سیارچے کا زمین سے ٹکرانے کا امکان نہ ہونے کے برابر یا 0.0017 فیصد ہے مگر اب کہا جا رہا ہے کہ زمین کی بجائے چاند سے اس کے ٹکرانے کا خطرہ بڑھ گیا ہے جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ کے ڈیٹا کے مطابق 4.3 فیصد امکان ہے کہ یہ سیارچہ چاند سے ٹکرا سکتا ہے۔

    شاہ رخ کا اپنی ٹیم کیلئے 2 پاکستانی کھلاڑیوں سے معاہدہ

    تحقیق میں بتایا گیا کہ اگر یہ سیارچہ 2032 میں ٹکراتا ہے تو یہ 5 ہزار برسوں میں اس سے ٹکرانے والا سب سے بڑا سیارچہ ہوگا، جس کے نتیجے میں زمین پر شہاب ثاقب کی بارش ہوسکتی ہے اگرچہ چاند کے ملبے کا بیشتر حصہ زمین میں داخل ہوتے وقت جل کر راکھ ہو جائے گا اور انسانوں کے لیے خطرہ نہیں بنے گا، مگر کچھ مواد زمین کے مدار میں داخل ہوکر سیٹلائیٹس، اسپیس کرافٹس اور خلا بازوں کے لیے خطرہ بن سکتا ہے چاند کی سطح پر ٹکرانے کا موازنہ ایک بڑے جوہری دھماکے سے کیا جا سکتا ہے۔

    امریکی فوجی اڈوں پر حملہ:قطر نے ایرانی سفیر کو طلب کر لیا

    ابھی یہ سیارچہ سورج کے گرد گھوم رہا ہے اور زمین سے بہت دور ہے اور اس وجہ سے اس کی ٹریکنگ مناسب طریقے سے نہیں کی جاسکتی جبکہ 2028 تک اس کے نظر آنے کا امکان بھی نہیں،2028 میں ماہرین کی جانب سے اس کے حجم اور راستے کا دوبارہ تعین کی جائے گا۔

  • واٹس ایپ پر بھی کمائی کا موقع، جلد مونیٹائزیشن پروگرام متعارف کرائے جانے کا امکان

    واٹس ایپ پر بھی کمائی کا موقع، جلد مونیٹائزیشن پروگرام متعارف کرائے جانے کا امکان

    معروف میسجنگ ایپلی کیشن واٹس ایپ پر جلد صارفین کو یوٹیوب اور فیس بک کی طرح کمائی کا موقع ملنے والا ہے، میٹا کی جانب سے مونیٹائزیشن پروگرام متعارف کرائے جانے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق واٹس ایپ کے اسٹیٹس یا اسٹوری سیکشن میں اشتہارات دکھائے جائیں گے اور اسی سیکشن میں واٹس ایپ چینلز کے لیے کمائی کی سہولت بھی فراہم کی جائے گی۔ میٹا نے حال ہی میں واٹس ایپ میں اشتہارات شامل کرنے کا اعلان کیا ہے اور اب کمپنی ایپلی کیشن کی تاریخ کی سب سے بڑی تبدیلی کے طور پر مونیٹائزیشن فیچر متعارف کرانے جا رہی ہے۔

    ابتدائی طور پر یہ فیچر واٹس ایپ بزنس یا بڑے فالوورز رکھنے والے چینلز کو دیا جائے گا، بعد ازاں بتدریج دیگر صارفین کو بھی اس تک رسائی دی جائے گی۔ ممکنہ طور پر چینلز کی مونیٹائزیشن کے لیے فالوورز کی کم از کم تعداد کی شرط بھی رکھی جائے گی۔ذاتی اکاؤنٹس کو فی الحال مونیٹائزیشن پروگرام میں شامل کیے جانے کا امکان نہیں، تاہم ایسے اکاؤنٹس میں بھی اشتہارات نظر آ سکتے ہیں، خاص طور پر ان صارفین کو جنہوں نے واٹس ایپ چینلز کو فالو کیا ہوگا۔

    خطے کی کشیدگی: قطر نے فضائی حدود عارضی طور پر بند کردی

  • چین کا سیٹلائٹ انٹرنیٹ اسٹارلنک سے 5 گنا تیز

    چین کا سیٹلائٹ انٹرنیٹ اسٹارلنک سے 5 گنا تیز

    چینی سائنسدانوں نے سیٹلائٹ انٹرنیٹ میں انقلابی پیشرفت کرتے ہوئے 1 گیگابٹ فی سیکنڈ (Gbps) کی رفتار حاصل کی ہے جو کہ ایلون مسک کی اسٹارلنک سروس سے پانچ گنا زیادہ تیز ہے۔

    سیٹلائٹ لیزر ڈاؤن لنک ٹیکنالوجی تیز ترین انٹرنیٹ کی صلاحیت رکھتی ہے، تاہم زمین کی فضا میں موجود بے ترتیبی (turbulence) اس کے سگنلز کو بکھیر کر کمزور اور دھندلا بنا دیتی ہے جو زمین پر پہنچتے ہوئے کئی سو میٹر کے دائرے میں پھیل جاتے ہیں،یہ کامیابی ایک 2-واٹ لیزر کے ذریعے حاصل کی گئی، جو زمین سے 36,705 کلومیٹر کی بلندی پر موجود ایک سیٹلائٹ سے مواصلاتی سگنلز بھیج رہا تھا۔

    چینی ماہرین کی ایک ٹیم نے، جس کی قیادت پروفیسر وو جیان (پیکنگ یونیورسٹی آف پوسٹس اینڈ ٹیلی کمیونیکیشن) اور لیو چاؤ (چائنیز اکیڈمی آف سائنسز) کر رہے تھے، اس چیلنج کا حل ”AO-MDR سینرجی“ نامی طریقے سے پیش کیا ہے، یہ نیا طریقہ فضا سے پیدا ہونے والی مداخلت کو کم کر کے سگنل کی کوالٹی کو برقرار رکھتا ہے۔

    جنوب مغربی چین کے شہر لیجیانگ میں ایک تجرباتی مرکز میں 1.8 میٹر کے دوربین کے ذریعے ایک غیر معروف سیٹلائٹ پر اس نظام کا کامیاب تجربہ کیا گیا دوربین کے اندر 357 مائیکرو مررز کا استعمال کر کے بگڑے ہوئے لیزر سگنلز کو درست کیا گیا جس سے فضا کی وجہ سے ہونے والی خرابی کم ہو گئی۔

    اس کے علاوہ ایک جدید آلہ جسے ”ملٹی-پلین لائٹ کنورٹر (MPLC)“ کہا جاتا ہے، استعمال کر کے آنے والی روشنی کو آٹھ مختلف چینلز میں تقسیم کیا گیا، پھر ان میں سے تین بہترین سگنلز کو ایک خاص الگورتھم ”پاتھ-پکنگ“ کے ذریعے ایک ساتھ ملا کر سگنل کو مزید مضبوط بنایا گیا۔

    تحقیق کے مطابق AO-MDR طریقے سے نہ صرف رفتار میں اضافہ ہوا بلکہ سگنل کی درستگی بھی بہتر ہوئی۔ جہاں روایتی طریقے سے 72 فیصد درست سگنل حاصل ہوتے تھے، وہاں اب یہ شرح 91.1 فیصد تک پہنچ گئی ہے جو کہ خلا سے زمین تک قیمتی ڈیٹا کے قابلِ اعتماد ترسیل کے لیے انتہائی اہمیت رکھتی ہے۔

  • ایلون مسک کی کمپنی کے اسٹار شپ راکٹ کی نویں آزمائشی پرواز بھی ناکام

    ایلون مسک کی کمپنی کے اسٹار شپ راکٹ کی نویں آزمائشی پرواز بھی ناکام

    ایلون مسک کی اسپیس ایکس کمپنی کے اسٹار شپ راکٹ کی نویں آزمائشی پرواز بھی ناکام ہوگئی۔

    ایلون مسک کی اسپیس ایکس کمپنی کے اسٹار شپ راکٹ کی نویں آزمائش پرواز کی گئی تاہم اس بار بھی راکٹ اپنے ہدف تک نہ پہنچ سکا،دنیا کے سب سے بڑے اور طاقتور راکٹ ’اسٹار شپ‘ نے منگل کی شام ٹیکساس کے اسپیس ایکس اسٹار بیس سے کامیابی سے پرواز بھری، سٹار شپ راکٹ نے پرواز کے 30 منٹ بعد ہی خلا میں اپنا کنٹرول کھو دیا اور طے شدہ وقت سے پہلے ہی راکٹ فضا میں داخل ہوا، جس کے بعد راکٹ بحر ہند میں پھٹ گیا،جس کے بعد ایلون مسک کا مریخ پر انسان بھیجنے کا خواب ایک بار پھر مؤخر ہو گیا۔

    اڑان بھرنے کے کچھ دیر بعد اس میں مسائل آنے لگے۔ راکٹ کا پہلا حصہ جسے بوسٹر کہتے ہیں، پانی میں گِر کر محفوظ انداز میں واپس آنا تھا، مگر وہ ہوا میں ہی پھٹ گیا دوسرا حصہ جسے اسٹار شپ کہا جاتا ہے، خلا میں اپنی منزل کی طرف گیا، لیکن وہاں جا کر اس کا کنٹرول ختم ہو گیا آخر میں یہ حصہ بھی بحرِ ہند میں جا گِرا۔

    ایلون مسک نے اس ناکامی کے باوجود کہا،’اگلے تین تجرباتی مشنز کی رفتار تیز کی جائے گی، ہر 3 سے 4 ہفتوں میں ایک لانچ کیا جائے گا۔

    https://x.com/elonmusk/status/1927549975463895248

    اس حوالے سے امریکی ایوی ایشن کا کہنا ہے کہ اسٹارشپ 9 ویں مشن کی بےضابطگی سے آگاہ ہیں، فی الحال اس کی وجہ سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

    واضح رہے کہ ایلون مسک انسانوں کو مریخ پر بسانا چاہتے ہیں اور اس بارے میں وہ برسوں سے بات بھی کر رہے ہیں۔

  • ماہرین فلکیات نے  نیا بونا سیارہ دریافت کر لیا

    ماہرین فلکیات نے نیا بونا سیارہ دریافت کر لیا

    ماہرین فلکیات نے نظام شمسی کی بیرونی سرحدوں میں ایک ممکنہ نیا بونا سیارہ دریافت کیا ہے-

    ماہرین فلکیات کے مطابق نیا بونا سیارہ پلوٹو (Pluto) سے بھی کہیں زیادہ دور واقع ہے اس سیارے کو (2017 OF201) کا نام دیا گیا ہے جس کا قطر تقریباً 700 کلومیٹر (435 میل) ہے، جو اسے بونا سیارے (dwarf planet) کے زمرے میں لانے کے لیے کافی ہو سکتا ہے۔

    ماہرین فلکیات کے مطابق یہ غیر معمولی سیارہ نما شے ایک انتہائی طویل اور بیضوی مدار میں گردش کرتی ہے، جسے مکمل کرنے میں تقریباً 25,000 سال لگتے ہیں اس کا قریب ترین فاصلہ سورج سے زمین کے مقابلے میں 44.5 گنا ہے، جبکہ دور ترین فاصلہ 1600 گنا سے بھی زائد ہے۔

    یہ دریافت پرنسٹن یونیورسٹی کے ماہرین فلکیات سیہاو چینگ، جیاسوان لی اور ایریٹس یانگ نے جدید کمپیوٹیشنل طریقہ کار استعمال کرتے ہوئے کی، جنہوں نےآسمان میں اس خلائی شے کی مخصوص حرکت کو شناخت کیااس نئی دریافت کاباقاعدہ اعلان انٹرنیشنل آسٹرونو میکل یونین کے مائنر پلینٹ سینٹر نے 21 مئی 2025 کو کیا، اور اسی دن اس کا سائنسی خلاصہ arXiv پر بھی شائع کیا گیا۔

    ماہرین فلکیات سیہاو چینگ کے مطابق سورج سے مدار کا دور ترین نقطہ (aphelion) زمین کے مقابلے میں 1600 گنا زیادہ ہے، جبکہ پیری ہیلیون یعنی (سورج کے قریب ترین نقطہ) 44.5 گنا ہے جو پلوٹو کے مدار سے مشابہت رکھتا ہے۔

    ماہر فلکیات ایریٹس یانگ نے کہا کہ مدار کی یہ انتہا پسندی اس امکان کی نشاندہی کرتی ہے کہ اس شے کو ماضی میں کسی دیوقامت سیارے سے قریبی تصادم کا سامنا ہوا ہوگا، جس کے نتیجے میں یہ اتنی دور کی سمت میں پہنچ گیا،یہ ایسا لگتا ہے کہ اس خلائی جسم نے ایک یا ایک سے زائد مرحلوں میں مائیگریشن کی، یعنی ممکنہ طور پر پہلے اسے نظام شمسی کے سب سے دور علاقے اوورٹ کلاؤڈ کی جانب پھینکا گیا اور پھر واپس بھیجا گیا۔

  • بھارت کا سیٹلائٹ لانچنگ کے دوران ناکام

    بھارت کا سیٹلائٹ لانچنگ کے دوران ناکام

    بھارت کا سیٹلائٹ لانچ بری طرح ناکام ہو گیا-

    بھارت کا پولر سیٹلائٹ لانچ وہیکل (PSLV-C61) اتوار کی صبح 5:59 بجے سری ہری کوٹا کے ستیش دھاون اسپیس سینٹر سے روانہ ہوا، لیکن چند منٹ بعد ہی اس کے تیسرے مرحلے کے راکٹ موٹر میں خرابی آ گئی جس کے نتیجے میں ای او ایس-09 سیٹلائٹ کے کامیاب لانچ میں ناکامی ہوئی۔

    ابتدائی معلومات کے مطابق، راکٹ کے تیسرے مرحلے کا موٹر، جو ہائیڈروکسیل ٹرمینیٹڈ پالی بیوٹادیین ایندھن استعمال کرتا ہے، روانگی کے 203 سیکنڈ بعد درست کام نہیں کر سکا، جس کے باعث سیٹلائٹ اپنے متعین 524 کلومیٹر کے سن سنکرونس پولر مدار تک پہنچنے میں ناکام رہا۔

    پنجاب بھر میں شدید گرمی، ہیٹ ویو الرٹ جاری

    اس ناکامی کے بعد، بھارتی خلائی ایجنسی ’آئی ایس آر او‘ نے مشن کو فیلڈ ٹرمینیشن پروسیجر کے تحت ختم کر دیا اور راکٹ کے چوتھے مرحلے اور سیٹلائٹ کو تباہ کر دیا سیٹلائٹ کا 1696 کلوگرام وزن کا EOS-09 سیٹلائٹ، جو کہ موسم سے آزاد تصویریں فراہم کرنے کے لیے سی- بینڈ سنتھیٹک اپرچر راڈار (ایس اے آر) پر مبنی تھا، بھارت کے سرحدی نگرانی اور قدرتی آفات کے ردعمل کی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کے منصوبوں کے لئے اہمیت رکھتا تھا۔

    بھارت خطے، خاص طور پر پاکستان میں دہشتگردی کی سرپرستی کر رہا ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر

    یہ واقعہ ’پی ایس ایل وی‘ پروگرام کے 63 مشنز میں سے تیسری مکمل ناکامی ہے، اس ناکامی کے بعد ’آئی ایس آر او‘ کے انجینئروں نے ڈیٹا کا تجزیہ شروع کر دیا ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ یہ خرابی ایندھن کے بہاؤ میں خرابی، نوزل کے مسائل یا ساختی ناکامی کس وجہ سے ہوئی تھی،اس ناکامی سے بھارت کے 52 سیٹلائٹس پر مشتمل نگرانی کے نیٹ ورک کے قیام میں تاخیر ہوگی۔

    آئی ایم ایف کی تازہ رپورٹ جاری، پاکستان کی معیشت سنبھلنے لگی

  • گوگل نے 10 سال بعد اپنے لوگو کے "G” حرف کا ڈیزائن تبدیل کر دیا

    گوگل نے 10 سال بعد اپنے لوگو کے "G” حرف کا ڈیزائن تبدیل کر دیا

    دنیا کی سب سے بڑی انٹرنیٹ ٹیکنالوجی کمپنی گوگل نے تقریباً 10 سال بعد اپنے لوگو میں موجود انگریزی کے حرف "G” کا ڈیزائن تبدیل کر دیا ہے۔

    گوگل کی اپڈیٹس پر نظر رکھنے والی ویب سائٹس کے مطابق، یہ تبدیلی چند دن قبل کی گئی اور اسے مرحلہ وار تمام صارفین کی ڈیوائسز پر نافذ کیا جا رہا ہے۔ ابتدائی طور پر یہ نیا لوگو آئی او ایس اور اینڈرائیڈ صارفین کو دکھائی دے رہا ہے، جبکہ جلد ہی یہ تبدیلی کمپیوٹرز اور لیپ ٹاپس پر بھی لاگو کر دی جائے گی۔رپورٹس کے مطابق، گوگل کے نئے "G” لوگو میں رنگ اور فونٹ بنیادی طور پر پرانے ڈیزائن سے مشابہت رکھتے ہیں، تاہم حرف "G” کے شیپ میں معمولی تبدیلیاں کی گئی ہیں جو باریک بینی سے دیکھنے پر واضح ہوتی ہیں۔

    یہ تبدیلی 2015 کے بعد پہلا موقع ہے جب گوگل نے اپنے لوگو میں ترمیم کی ہے۔ اس سے قبل کمپنی اپنے مرکزی لوگو اور ذیلی سروسز جیسے گوگل کروم، جی میل، گوگل میپس، فوٹوز وغیرہ کے لوگوز میں وقتاً فوقتاً معمولی تبدیلیاں کرتی رہی ہے۔گوگل کا آغاز 1998 میں ہوا تھا اور اب کمپنی اپنی 27 سالہ تاریخ میں متعدد بار اپنے لوگو کو اپڈیٹ کر چکی ہے، تاہم ہر بار تبدیلیاں انتہائی محتاط اور محدود دائرے میں کی جاتی رہی ہیں تاکہ برانڈ کی شناخت برقرار رہے۔

    پاکستان کی حمایت،بھارت نے ترک کمپنی کی سیکیورٹی کلیئرنس منسوخ کر دی

    پیٹرول اور ڈیزل سستا نہیں، مہنگا ہونے کا امکان

    پیٹرول اور ڈیزل سستا نہیں، مہنگا ہونے کا امکان

    اداکارہ نادیہ حسین کے شوہر کی مبینہ کرپشن،تحقیقات میں اہم پیش رفت

    یوٹرن،عمران خان نےایک اور فیصلہ واپس لے لیا

  • ایمیزون نے اپنا انٹرنیٹ سیٹلائٹ لانچ کردیا

    ایمیزون نے اپنا انٹرنیٹ سیٹلائٹ لانچ کردیا

    ایمیزون نے پیر کے روز فلوریڈا سے اپنے پہلے 27 سیٹلائٹس خلا میں روانہ کر کے اپنے انٹرنیٹ فرام اسپیس منصوبے ’پروجیکٹ کوئپر براڈ بینڈ انٹرنیٹ‘ کا باقاعدہ آغاز کر دیا۔

    یہ سیٹلائٹس کم زمینی مداریا ’لو ارتھ آربٹ‘ میں بھیجے گئے ہیں، جو اسپیس ایکس کی اسٹار لنک سروس کا براہِ راست مقابلہ کریں گے، پرو جیکٹ کوئپر ایمیزون کا ایک 10 ارب ڈالر کا بڑا منصوبہ ہے، جس کا اعلان 2019 میں کیا گیا تھا اس منصوبے کے تحت دنیا بھر میں صا رفین، کاروباری اداروں اور حکومتی اداروں کو سیٹلائٹ کے ذریعے براڈ بینڈ انٹرنیٹ فراہم کیا جائے گا وہی میدان جہاں ایلون مسک کی کمپنی اسپیس ایکس برسوں سے اسٹار لنک کے ذریعے حکمرانی کر رہی ہے۔

    یہ سیٹلائٹس یونائیٹڈ لانچ الائنس (ULA) کے تیار کردہ ایٹلس وی راکٹ کے ذریعے کیپ کینیورل اسپیس فورس اسٹیشن سے شام 7 بجے (ایسٹرن ٹائم) پر لانچ کیے گئے موسم کی خرابی کے باعث 9 اپریل کی شیڈول پر پرواز ملتوی کر دی گئی تھی۔

    شاہد آفریدی فوجی وردی پہن کر واہگہ بارڈر پہنچ گئے

    ایمیزون کے لیے پروجیکٹ کوئیپر ایک اہم سنگِ میل ہے، جو نہ صرف اسٹار لنک بلکہ AT&T اور T-Mobile جیسے روایتی ٹیلی کمیونیکیشن اداروں کو بھی چیلنج دے گا کمپنی نے اس سروس کو ان علاقوں کے لیے امید کی کرن قرار دیا ہے جہاں انٹرنیٹ کی سہولت یا تو ناپید ہے یا بہت کمزور۔

    ایمیزون کو امریکی فیڈرل کمیونیکیشن کمیشن (FCC) کی جانب سے 2026 کے وسط تک 1618 سیٹلائٹس خلا میں بھیجنے کی ڈیڈلائن دی گئی ہے، جو منصوبے کے آدھے حصے کی تکمیل ہو گی۔ تاہم لانچ میں تاخیر کے باعث ماہرین کا کہنا ہے کہ کمپنی ممکنہ طور پر وقت میں توسیع کی درخواست دے سکتی ہے۔

    بھارت کے لیے پاکستانی فضائی حدود بند کرنا بہترین اقدام ہے،بیرسٹر گوہر

    ایمیزون کی جانب سے چند گھنٹوں یا دنوں میں اس بات کی تصدیق متوقع ہے کہ تمام سیٹلائٹس سے رابطہ کامیابی سے قائم ہو گیا ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اگر سب کچھ منصوبے کے مطابق رہا تو وہ رواں سال کے آخر تک صارفین کو سروس دینا شروع کر دے گی۔

    2020 میں کیے گئے ایف سی سی فائلنگ کے مطابق، ایمیزون ابتدائی طور پر شمالی اور جنوبی خطوں میں 578 سیٹلائٹس کے ساتھ سروس شروع کر سکتی ہے، اور جیسے جیسے مزید سیٹلائٹس لانچ ہوں گے، سروس خط استوا تک پھیل جائے گی۔

    ایمیزون نے 2022 میں یو ایل اے، ایریانسپیس (فرانس)، اور بلیو اوریجن (ایمیزون کے بانی جیف بیزوس کی اسپیس کمپنی) سے 83 راکٹ لانچ بک کیے تھے، جو خلائی صنعت کی تاریخ کا سب سے بڑا معاہدہ ہے ایمیزون نے 2023 میں دو پروٹو ٹائپ سیٹلائٹس کامیابی سے لانچ کیے اور 2024 میں ان کا مدار سے اخراج مکمل کیا۔ اب کمپنی نے اپنی پہلی مکمل آپریشنل سیٹلائٹ لانچ کر کے میدان میں قدم رکھ دیا ہے۔

    بارش برسانے والا سسٹم یکم مئی سے ملک میں داخل ہوگا

    ایمیزون نے اپنے صارفین کے لیے کوئیپر ٹرمینلز بھی متعارف کروائے ہیں، جن میں ایک ایل پی ریکارڈ جتنا بڑا اینٹینا اور ایک سادہ، کِنڈل جتنے سائز کا چھوٹا ٹرمینل شامل ہے، جن کی قیمت 400 ڈالر سے کم رکھنے کا منصوبہ ہے پروجیکٹ کوئیپر کی کامیابی کا مطلب ہوگا، ایک اور انقلاب، خلا سے دنیا بھر کو جوڑنے کا۔

  • یاہو  کی گوگل کروم خریدنے میں دلچسپی

    یاہو کی گوگل کروم خریدنے میں دلچسپی

    امریکی حکومت گوگل کی اجارہ داری ختم کرنے کے لیے گوگل کو اس کا مقبول کروم براؤزر فروخت کرنے پر مجبور کر رہی ہے۔

    چند ماہ قبل امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے وفاقی عدالت کو تجویز پیش کی گئی تھی کہ آن لائن سرچ مارکیٹ میں گوگل کی اجارہ داری ختم کرنے کے لیے گوگل کو اپنا کروم براؤزر فروخت کر دینا چاہیے۔ سینئر ایگزیکٹو کے مطابق ’ اگر وفاقی عدالت کی جانب سے گوگل کو اپنا کروم ویب براؤزر فروخت کرنے پر مجبور کیا گیا تو انٹرنیٹ کمپنی یاہو کے مالک اس خریداری کیلئے بولی لگائیں گے ‘ ۔اس ھوالے سے امریکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق امریکی انٹرنیٹ کمپنی یاہو کے مالک کی جانب سے گوگل کا کروم براؤزر خریدنے میں دلچسپی کا اظہار کیا گیا ہے۔

    رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یاہو سرچ کے جنرل مینیجر برائن پرووسٹ نے 2 روز قبل واشنگٹن میں گوگل ٹرائل کے دوران مؤقف اپنایا کہ ’ ان کی کمپنی کے لگائے گئے اندازے کے مطابق براؤزر کی فروخت کی قیمت 10 ارب ڈالر سے زائد ہوگی، مبینہ طور پر ویب پر سب سے اہم اسٹریٹجک پلیئر ہے اور ہم Apollo Global کے ساتھ اس کو خریدنے کے قابل ہوجائیں گے‘۔ یاد رہے کہ یاہو، گوگل سے قبل 2000 کی دہائی کے اوائل میں سرفہرست سرچ انجن تھا، کمپنی کے کرتا دھرتا کئی بار تبدیل ہوئے تاہم 2021 میں اپالو نے اسے Verizon Communications Inc سے خریدا تھا۔

    لاہور ائیر پورٹ پر میزائل سسٹم کی بیٹری پھٹنے کی خبر جھوٹی نکلی

    پاکستانی مرد اداکاروں کے ساتھ جنسی ہراسانی کا انکشاف

    پی ایس ایل ، لاہور نے ملتان کو شکست دے دی

    خیبر پختونخوا میں فورسز کی مختلف کارروائیاں،15 خوارج ہلاک

    وزیراعظم کا ایرانی صدر کو فون، دہشتگرد حملے کی مذمت

  • چین میں 10 جی براڈبینڈ انٹرنیٹ سروس متعارف

    چین میں 10 جی براڈبینڈ انٹرنیٹ سروس متعارف

    بیجنگ: چین میں 10 جی براڈبینڈ انٹرنیٹ سروس متعارف کرادی گئی۔

    یہ نیٹ ورک سرکاری ٹیلی کام آپریٹر چائنا یونی کام اور ٹیکنالوجی فرم ہواوے کے درمیان مشترکہ اقدام کے طور پر صوبہ ہیبی کی سنان کاؤنٹی میں براہ راست چلا گیا کمپنیوں کے مطابق، یہ نظام 50G Passive Optical Network (PON) ٹیکنالوجی پر مبنی ہے، جو موجودہ فائبر آپٹک کیبلز میں ڈیٹا کی ترسیل کو ڈرامائی طور پر بڑھاتا ہے۔

    9,834 میگا بٹس فی سیکنڈ (Mbps) تک ڈاؤن لوڈ کی رفتار ریکارڈ کی، اپ لوڈ کی رفتار 1,008 Mbps تک پہنچ گئی، اور لیٹنسی 3 ملی سیکنڈ تک کم ہے۔ یہ اعداد و شمار روایتی 1G براڈ بینڈ خدمات کے مقابلے میں دس گنا بہتری کی عکاسی کرتے ہیں۔

    پہلگام حملہ :سونیا گاندھی کے داماد کے بیان پر بی جے پی رہنما تلملا اٹھے

    10جی براڈبینڈ کی ڈاؤن لوڈ اسپیڈ 9 ہزار 934 میگابائٹس فی سیکنڈ اور اپ لوڈ اسپیڈ ایک ہزار 8 میگا بائٹس فی سیکنڈ ہے 10جی انٹرنیٹ کی اسپیڈ اتنی ہے کہ تقریباً 20 جی بی کی فل لینتھ فور کے مووی صرف بیس سیکنڈ میں ڈاؤن لوڈ کی جاسکے گی۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ چین کا 10جی انٹرنیٹ سروس متعارف کرانا ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک بڑی پیش رفت ہے جس کی وجہ سے ٹیکنالوجی کے شعبے کے ساتھ ساتھ صحت، تعلیم اور زراعت کے شعبوں کی استعداد میں بھی اضافہ ہوگا۔

    ’عالیہ بھٹ میں ٹیلنٹ ہے نہ شکل‘ سوتیلے بھائی کا انٹرویو وائرل