Baaghi TV

Category: سائنس و ٹیکنالوجی

  • 1 کروڑ 80 لاکھ سال قبل زمین پر پائے جانیوالے دیو ہیکل مگرمچھوں کی نئی اقسام دریافت

    1 کروڑ 80 لاکھ سال قبل زمین پر پائے جانیوالے دیو ہیکل مگرمچھوں کی نئی اقسام دریافت

    نیروبی: محققین نے 1 کروڑ 80 لاکھ سال قبل زمین پر پائے جانے والے دیو ہیکل مگرمچھوں کی دو نئی اقسام دریافت کیں ہیں –

    باغی ٹی وی :امریکا کی یونیورسٹی آف آئیووا کے سائنس دان 2007 سے نیروبی میں میوزیم آف کینیا میں متعدد قدیم مگرمچھوں کی اقسام کا معائنہ کر رہے ہیں رواں مای کے شروع میں جرنل انیٹمِکل میں شائع کردہ مقالے کے مطابق تحقیق کے مصنف پروفیسر کرسٹوفر بروشو کا کہنا تھا کہ یہ وہ بڑے شکاری جانور ہیں جن سامنا ہمارے آبا و اجداد نے کیا۔

    برطانیہ سے 9 فٹ لمبے کنکھجورے کی باقیات دریافت

    پروفیسر بروشو نے بتایا کہ دریافت ہونے والی اقسام آج کے مگرمچھوں کی طرح موقع پرست شکاری تھی۔ قدیم انسانوں کے لیے دریا میں جھک کر پانی پینا انتہائی خطرناک ہوگا ان کے جبڑے سے ایسا محسوس ہوتا تھا کہ وہ بڑی مسکراہٹ رکھتے ہیں لیکن اگر انہیں موقع ملتا تو آپ کا پورا چہرہ نوچ ڈالتے۔

    محققین کے مطابق موجودہ مگرمچھ کی قسم بمشکل چار سے پانچ فِٹ لمبی ہوتی ہے لیکن دریافت ہونے مگرمچھوں کی اقسام کے حوالے سے خیال کیا جا رہا ہے کہ ان کی لمبائی 12 فِٹ تک تھی۔

    کِن یینگ قسم مشرقی افریقا کے وادی کے علاقے میں ابتدائی سے وسطی مائیوسین دور میں آباد ہوگی۔ یہ علاقہ آج کے دور کا کینیا ہے۔

    قبل ازیں محققین نے سعودی عرب میں رینگنے والے سمندری جانداروں کی80 ملین سال پرانی باقیات دریافت کی تھیں محققین کو بحیرہ احمر ڈویلپمنٹ کمپنی اور سعودی جیولوجیکل کی شراکت سے کیے گئے سروے کے دوران یہ باقیات ملیں تھیں اس منصوبے کے تحت کی جانے والی کھدائی کے دوران سمندری چھپکلی کی ہڈیاں دریافت ہوئیں ماہرین کے خیال میں یہ ہڈیاں 80 ملین سال قبل موجود جانداروں کی ہیں۔

    ڈائنو سار سے بھی قدیم اور دیوقامت سمندری جانور کےفوسلز دریافت

    قبل ازیں امریکی سائنسدانوں نے نیواڈا کے پہاڑوں میں ایک دیوقامت سمندری جانور کےفوسلز دریافت کیے تھے محققین کا کہنا تھا کہ اس کے رکازات تقریباً 24 کروڑ سال قدیم ہیں اس کی کھوپڑی چھ فٹ سے بھی زیادہ لمبی ہے جس کی بنیاد پر ماہرین نے اندازہ لگایا ہے کہ یہ سمندری جانور کم از کم 56 فٹ لمبا رہا ہوگا۔

    محققین کا کہنا تھا کہ اس قدیم و معدوم جانور کا تعلق سمندری جانوروں کے’اکتھیوسار‘(Ichthyosaur) قبیلے سے ہے جسے ’سمندری ڈائنوسار‘ بھی کہا جاتا ہےتاہم اب تک اکتھیوسارز کے رکازات بہت کم ملے ہیں جو اگرچہ 25 کروڑ سال پرانے ہیں لیکن جسامت میں خاصے کم ہیں۔

    نو دریافتہ اکتھیوسار، جسے ’سمبوشپونڈائلس ینگورم‘ (Cymbospondylus youngorum) کا نام دیا گیا ، ان سب سے جسامت میں بڑا ہونے کے علاوہ ڈائنوساروں سے زیادہ قدیم بھی ہے دیوقامت ڈائنوسار کے سب سے پرانے رکاز 21 کروڑ 50 لاکھ سال قدیم ہیں لیکن یہ اکتھیوسار ان کے مقابلے میں بھی ڈھائی کروڑ سال قدیم ہے۔

    طویل عرصے کی محتاط چھان بین اور تجزیئے کے بعد، آخرکار ماہرین یہ جاننے میں کامیاب ہوگئے کہ ’ینگورم‘ کا ارتقاء خشکی پر چلنے والے کسی جانور سے ہوا تھا لیکن یہ ڈائنوسار سے بہت مختلف تھا یہ 24 کروڑ 70 لاکھ سال سے 23 کروڑ 70 لاکھ سال تک قدیم ہے جس کی لمبائی تقریباً 56 فٹ رہی ہوگی اب تک اتنی بڑی جسامت والا اتنا قدیم جانور کوئی اور دریافت نہیں ہوا ہے-

    انڈے سے نکلنے کو تیار ڈائنو سار کا فوسل دریافت

  • آج کا دن سال کا طویل ترین دن اور مختصر ترین رات

    آج کا دن سال کا طویل ترین دن اور مختصر ترین رات

    آج 21 جون منگل کو سال کا طویل ترین دن ہے جبکہ رات مختصر ترین ہو گی اور کل بروز بدھ 22 جون سے دن کا دورانیہ کم جبکہ راتیں طویل ہونا شروع ہو جائیں گی۔

    باغی ٹی وی : ماہرین فلکیات کے مطابق 21 جون2022 کو سال کا طویل ترین دن جبکہ مختصر ترین رات ہوہے اس روز دن کا دورانیہ تقریباً 14گھنٹے جبکہ رات10گھنٹوں کی ہو گی آج کے دن ناروے کے شمالی علاقوں میں سورج غروب ہی نہیں ہوگا۔

    علی وزیرخرابی صحت کے باعث سینٹرل جیل سے جناح اسپتال منتقل

    ماہرینِ فلکیات کے مطابق 21 جون کو زمین کا جھکاؤ سورج کی جانب زیادہ ہوتا ہے، جس کی وجہ سے سورج زیادہ دیر تک روشن رہتا ہے، اس دوران موسم گرما کی شدت بھی برقرار رہے گی جبکہ رات مختصر ترین ہوگی۔

    سال کے طویل ترین دن کو خط سرطان یا Summer Solstice کہا جاتا ہے اور مانا جاتا ہے کہ اس کے بعد موسم گرما کا حقیقی آغاز ہوتا ہے اور اس حوالے سے مختلف رسومات بھی ادا کی جاتی ہیں۔

    خط سرطان سے مراد زمین کی وہ کیفیت ہے جب قطب شمالی سورج کی جانب جھکا ہوتا ہے اور سورج خط استوا سے سب سے زیادہ دور ہوتا ہے اس کے نتیجے میں زمین پر شمالی نصف کرے میں سال کا طویل ترین دن (وہ دن جب سورج کی روشنی کا دورانیہ سب سے زیادہ ہوتا ہے) اور مختصر ترین رات ہوتی ہے۔

    کراچی اسلام آباد سمیت بڑے شہروں میں سیلاب کا خطرہ ہے،وفاقی وزیرماحولیاتی تبدیلی

    یکم جولائی کے بعد دن کا دورانیہ بتدریج کم ہو نا شروع ہو جاتا ہے اور 22ستمبر کو دن اور رات کا دورانیہ تقریباً برابر ہوتا ہے جبکہ اس کے بعد راتوں کے دورانیے میں اضافہ اور دن کا دورانیہ مختصر ہونا شروع ہو جاتا ہے22دسمبر سال کا مختصر ترین دن اور رات طویل ترین ہوتی ہے۔

    پاکستان میں سورج کی خط استوا سے سب سے زیادہ دوری کا وقت دوپہر 2 بج کر 14 منٹ ہے دلچسپ بات یہ ہے کہ سال کا طویل ترین دن بدلتا رہتا ہے، جیسے 2023 تک 21 جون کو ایسا ہوگا مگر 2024 اور 2024 میں 22 جون طویل ترین دن ہوگا۔

    22 جون کے بعد دن کے دورانیے میں بتدریج کمی آنا شروع ہوگی اور دسمبر کے تیسرے عشرے میں شمالی نصف کرے میں سال کا مختصر ترین دن اور طویل ترین رات ہوگی سال کے طویل ترین دن کے موقع پر پاکستان میں دن کا دورانیہ مقامات کے لحاظ سے 14 سے 15 گھنٹے کے درمیان ہوگا۔

    دنیا میں سب سے طویل دن امریکی ریاست الاسکا کے وسطی حصے میں ہوگا جہاں دن کی روشنی کا دورانیہ 21 گھنٹے 41 منٹ تک ہوگا اس کے مقابلے میں ایکواڈور کے دارالحکومت Quito میں لوگوں کو کوئی خاص فرق محسوس نہیں ہوگا کیونکہ دن کی روشنی میں محض 7 منٹ کا اضافہ ہوگا۔

    پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے بعد ٹرینوں کے کرائے بھی بڑھ گئے

    دوسری جانب جنوبی نصف کرے میں آج سال کا مختصر ترین دن اور طویل ترین رات ہوگی اور وہاں موسم سرما کا باقاعدہ آغاز ہوگا۔ قطب جنوبی کے مرکزی مقام یعنی براعظم انٹار کٹیکا میں آج کل24 گھنٹے تاریکی کا راج ہے۔

    کچھ ممالک میں اس حوالے سے دلچسپ روایات بھی موجود ہیں جیسے یورپی ملک سوئیڈن میں اسے مڈ سمر کہا جاتا ہے اور ہمیشہ جمعے کو منایا جاتا ہے یعنی وہاں سال کا طویل ترین دن 24 جون کو قرار دیا جائے گااس موقع پر وہاں میلوں کا انعقاد ہوتا ہے۔

    برطانیہ کے تاریخی مقام اسٹون ہینج میں بھی اس موقع پر لوگ جمع ہوتے ہیں اور مختلف سرگرمیوں کا حصہ بنتے ہیں خط سرطان کو زرخیری سے بھی منسلک کیا جاتا ہے کیونکہ اس عرصے میں فصلوں کی کاشت میں اضافہ ہوتا ہے۔

    کورونا وبا ختم نہیں ہوئی ہجوم والی جگہوں پر شہری احتیاط کریں ،قومی ادارہ صحت

  • عام عادت جو موت کا سبب بن سکتی ہے

    عام عادت جو موت کا سبب بن سکتی ہے

    موجودہ دور میں بیشتر افراد دن بھر میں زیادہ وقت بیٹھ کر گزارتے ہیں تاہم نئی بین الاقوامی طبی تحقیق میں ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ دن بھر میں صرف 6 سے 8 گھنٹے بیٹھ کر گزارنے سے جلد موت اور امراض قلب کا خطرہ 12 سے 13 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔

    باغی ٹی وی : نئی تحقیق اس دلیل میں مزید وزن ڈال رہی ہے کہ زیادہ دیر تک بیٹھنا آپ کی صحت کے لیے خطرناک ہو سکتا ہےسائمن فریزر یونیورسٹی اور چائنیز اکیڈمی آف میڈیکل سائنسز کی مشترکہ تحقیق میں 21 ممالک سے تعلق رکھنے والے ایک لاکھ سے زیادہ افراد کا جائزہ لیا گیا تھا تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ اگر ایک فرد دن بھر میں 8 گھنٹے سے زیادہ وقت بیٹھ کر گزارتا ہے تو جلد موت اور امراض قلب کا خطرہ 20 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔

    مطالبات منظور، خیبرپختونخوا کے اساتذہ کا بنی گالہ کے باہر دھرنا ختم

    سائمن فریزر یونیورسٹی کے ہیلتھ سائنسز کے پروفیسر سکاٹ لیئر اور بیجنگ کی چائنیز اکیڈمی آف میڈیکل سائنسز کے وی لی کی مشترکہ قیادت میں یہ مطالعہ جرنل جاما کارڈیالوجی میں شائع ہوا ہے تحقیق میں شامل افراد کا جائزہ 11 سال تک لیا گیا تھا تاکہ بیٹھنے کے وقت اور صحت پر اس کے اثرات کا جائزہ لیا جاسکے اگرچہ تمام ممالک میں بیٹھنا مسئلہ تھا، خاص طور پر کم آمدنی والے اور کم درمیانی آمدنی والے ممالک میں ایسا تھا۔

    یہاں سب سے اہم پیغام یہ ہے کہ آپ کتنے بیٹھیں گے،” لیئر کہتے ہیں۔ "اگر آپ کو بیٹھنا ہی ہے، تو دن کے دوسرے اوقات میں زیادہ ورزش کرنا اس خطرے کو دور کردے گا۔”

    تحقیق میں کہا گیا کہ حیرت کی بات نہیں، جو لوگ جسمانی طور پر بہت کم سرگرم ہوتے ہیں اور زیادہ سے زیادہ وقت بیٹھ کر گزارتے ہیں ان میں جلد موت اورامراض قلب کا خطرہ 50 فیصد تک بڑھ جاتا ہے اس کے مقابلے میں ایسے افراد جو زیادہ وقت بیٹھ کر گزارتے ہیں مگر چند گھنٹے جسمانی طور پر سرگرم رہتے ہیں، ان میں یہ خطرہ گھٹ کر 17 فیصد ہوجاتا ہے۔

    محققین نے کہا کہ بیٹھنے کا وقت جتنا کم ہو، بہتر ہے، اگر آپ کو کئی گھنٹے بیٹھ کر گزارنے ہیں تو دن کے دیگر اوقات میں ورزش کو معمول بناکر جلد موت کے خطرے کو کم کر سکتے ہیں جو لوگ دن میں 4 گھنٹے سے زیادہ وقت بیٹھ کر گزارتے ہیں، وہ بیٹھنے کے وقت میں سے 30 منٹ ورزش کے لیے نکال کر جان لیوا امراض کا خطرہ 2 فیصد تک کم کرسکتے ہیں۔

    اس تحقیق میں کم آمدنی والے ممالک میں ایک خاص ایسوسی ایشن کا پتہ چلا، جس کی وجہ سے محققین نے قیاس کیا کہ اس کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ زیادہ آمدنی والے ممالک میں بیٹھنا عام طور پر اعلی سماجی و اقتصادی حیثیت اور بہتر تنخواہ والی ملازمتوں سے وابستہ ہوتا ہے۔

    سینے کی جلن اور تیزابیت کا سبب بننے والی غذائیں

    لئیر نے کہا کہ طبی ماہرین کو کم بیٹھنے اور زیادہ سرگرمی پر توجہ دینی چاہیے کیونکہ یہ ایک کم لاگت مداخلت ہے جس سے بہت زیادہ فائدہ ہو سکتا ہےلیکن جب کہ معالجین کو سرگرمی کے ساتھ بیٹھنے کا مقابلہ کرنے کے بارے میں پیغام پہنچانے کی ضرورت ہے، افراد کو اپنے طرز زندگی کا بہتر انداز میں جائزہ لینے اور اپنی صحت کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے کیونکہ اس وقت دنیا بھر میں زیادہ وقت بیٹھ کر گزارنے والے افراد میں درمیانی عمر میں شرح اموات 8.8 فیصد ہے، جو تمباکو نوشی (10.6 فیصد) کے قریب ہے۔

    محققین کے مطابق یہ ایک عالمی مسئلہ ہے جس کا حل بہت سادہ ہے، بس اپنی کرسی سے اٹھنے کی ہمت کرلیں کرسی سے اٹھنے کے لیے وقت طے کرنا ایک بہترین آغاز ہے-

  • خواتین کے دماغ کا درجہ حرارت مردوں سے زیادہ ہوتا ہے ،تحقیق

    خواتین کے دماغ کا درجہ حرارت مردوں سے زیادہ ہوتا ہے ،تحقیق

    جرنل برین میں شائع ہونےوالی تحقیق میں ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ خواتین کے دماغ کا درجہ حرارت مردوں سے زیادہ ہوتا ہے یعنی خواتین مردوں سے زیادہ گرم دماغ ہوتی ہیں کیونکہ ان کے دماغ کا درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے اوپر جانے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔

    باغی ٹی وی : "ڈیلی میل” کے مطابق برطانیہ کی کیمبرج یونیورسٹی میں مالیکیور بائیولوجی کی ایم آر سی لیبارٹری کے محققین کو ایک نئی تحقیق میں معلوم ہوا ہے کہ خواتین کا دماغ مردوں کی نسبت 0.4 ڈگری سیلسیئس زیادہ گرم ہوتا ہے۔

    کسی خونی اور فسادی احتجاج کی اجازت نہیں ہو گی،وفاقی وزیر اطلاعات

    تحقیق کے مطابق دماغ کے زیادہ درجہ حرارت میں یہ فرق ممکنہ طور پر خواتین کے مخصوص ایام کی وجہ سے ہو سکتا ہے اس تحقیق کے لئے محققین نے 20 سے 40 سال کے درمیان 40 رضا کاروں کا انتخاب کیا مطالعے میں ایڈنبرگ کے رائل انفرمری میں ان رضاکاروں کے دماغوں کو ایک دن کے وقفے سے صبح، دوپہر اور شام کے آخر حصے میں اسکین کیا گیا۔

    صحت مند انسانی دماغ کے درجہ حرارت کی پہلی چار جہتی تصویر بنانے والے محققین نے تحقیق میں دیکھا کہ انسانی دماغ کا اوسط درجہ حرارت جو پہلے 38.5 ڈگری سیلسیئس خیال کیا جاتا تھا اب اس سے زیادہ تھا لیکن دماغ کی ساخت کی گہرائی میں درجہ حرارت تواتر کے ساتھ 40 ڈگری سیلسیئس سے زیادہ پایا گیا مشاہدے میں آنے والا سب سے زیادہ درجہ حرارت 40.9 ڈگری سیلسیئس تھا۔

    مسلح افراد کی کھلے عام رات کے اندھیرے میں ڈکیتی کی واردات

    جبکہ سائنس دانوں نے تحقیق میں 20 برس سے زیادہ کے شرکاء میں درجہ حرارت میں اضافے کو بھی دیکھا۔ یہ اضافہ دماغ کے اندر کے حصے میں دیکھا گیا جہاں اوسط اضافہ 0.6 ڈگری سیلسیئس تھا جسم کے دوسرے کسی حصے میں اس درجہ حرارت کا ہونا عموماً بخار کی علامت سمجھا جاتا ہے لیکن محققین کا کہنا ہے کہ یہ دماغ کے صحت مند ہونے کی نشانی ہو سکتی ہے۔

    ماہرین کا خیال ہے کہ عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ دماغ کو ٹھنڈا رکھنے کی صلاحیت ختم ہوتی جاتی ہے۔

    کیمبرج یونیورسٹی کے گروپ لیڈر ڈاکٹر جان او نیل نے کہا کہ میرے لیے ہمارے مطالعے سے سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ صحت مند انسانی دماغ اس درجہ حرارت تک پہنچ سکتا ہےجس کی تشخیص جسم میں کسی اور جگہ بخار کے طور پر کی جائے گی ماضی میں دماغی چوٹوں والے لوگوں میں اس طرح کے اعلی درجہ حرارت کی پیمائش کی گئی ہے، لیکن یہ فرض کیا گیا تھا کہ یہ چوٹ کا نتیجہ ہے۔

    انہوں نے کہا کہ یہ یقین کرنے کی اچھی وجہ ہے کہ یہ روزانہ کی تبدیلی طویل مدتی دماغی صحت کے ساتھ منسلک ہے – ایسی چیز جس کی ہم آگے تحقیق کرنے کی امید کرتے ہیں۔

    امید ہے ٹاسک فورس کی آمد کے بعد پاکستان گرے لسٹ سے نکل جائے گا،بلاول بھٹو

  • ایپل اور گوگل  معاشرے اور صارفین کے لئے اچھے نہیں،بانی پروٹون میل

    ایپل اور گوگل معاشرے اور صارفین کے لئے اچھے نہیں،بانی پروٹون میل

    جنیوا: انٹرنیٹ کمپنی پروٹون چیف اینڈی یین نے دعویٰ کیا ہے کہ ایپل اور گوگل کا کاروباری سانچہ صارفین اور معاشرے کے لیے اچھا نہیں ہے۔

    باغی ٹی وی :"انڈیپینڈنٹ کے مطابق "تجویز کردہپروٹون میل نامی اِنکریپٹڈ ای میل اور پروٹون وی پی این چلانے والی کمپنی پروٹون میل کے سی ای او اینڈی یین کا کہنا تھا کہ ٹِم برنرس-لی کے یہ ویب بنانے کی وجہ ’نگران سرمایہ دارنہ نظام‘ کا کاروباری سانچہ نہیں تھا۔

    برنرس-لی ستمبر 2011 سے مشاورتی بورڈ میں بیٹھتے آ رہے ہیں ’نگران سرمایہ دارانہ نظام‘ سے مراد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی جانب سے ڈیٹا اکٹھا کیا جانا ہے تاکہ وہ اپنے صارفین پر مبنی پروفائلوں کو بنا سکیں اور تیسری فریق کمپنیوں کو بہتر اشتہاراتی معلومات فراہم کر سکیں۔

    ‘سروییلنس کیپٹلزم’ سے مراد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں ہیں جو ڈیٹا اکٹھا کرتی ہیں تاکہ وہ اپنے صارفین پر پروفائل بنا سکیں اور فریق ثالث کمپنیوں کو اشتہارات کی بہتر معلومات فراہم کر سکیں گوگل اور فیس بک کافی عرصے سے صارفین کی پرائیویسی کی قیمت پر ٹارگٹڈ اشتہارات سے منافع کما رہے ہیں جبکہ ایپل اپنا سرچ ایڈ کا اشتہاراتی کاروبار کھڑا کر رہا ہے۔

    پروٹون نے حال ہی میں اپنی ایپ اِیکو سسٹم میں دو نئی ایپلی کیشن پروٹون ڈرائیو اور پروٹون کلینڈر کا اعلان کیا ہے۔ یہ ایپس صارفین کو اِنکریپٹڈ سروسز پیش کرتی ہیں اور کمپنی کا دعویٰ ہے کہ یہ ایپل اور گوگل کی جانب سے پیسوں کے عوض دی جانے والی خدمات سے زیادہ خفیہ ہے-

    مسٹر ین کا کہنا ہے کہ صارفین دیگر مسابقتی خدمات کی ایک حد کے لیے بھی پوچھ رہے ہیں: آن لائن دستاویزات، پاس ورڈ مینیجر، چیٹ ایپس، اور بہت کچھ، جو کہ بڑھتے ہوئے پروٹون پیکج کا حصہ بن سکتے ہیں۔

    نیو جرسی: امریکی پاکستانی نے ڈسٹرکٹ جج کا منصب سنبھال لیا

    مسٹر ین کہتے ہیں، "بڑی حد تک، مصنوعات اور خدمات ختم ہو چکی ہیں تین ماحولیاتی نظام ہیں، بنیادی طور پر: مائیکروسافٹ ہے، گوگل ہے، ایپل ہے۔ اور فیس بک، شاید، اس بات پر منحصر ہے کہ آپ کس سے پوچھتے ہیں۔ رازداری کو ایک ماحولیاتی نظام کی ضرورت ہے۔ آپ آس پاس کے زیادہ تر صارفین سے بات کرتے ہیں اور آپ ان سے پوچھتے ہیں: ‘کیا آپ کو ویب کے بارے میں گوگل کا وژن پسند ہے؟’ ایک بار جب انہیں معلوم ہو جاتا ہے کہ یہ کیا ہے، تو وہ گھبرا جاتے ہیں۔

    اس دعوے کے باوجود، گوگل کی مصنوعات بے حد مقبول ہیں گوگل سرچ سب سے زیادہ استعمال ہونے والا سرچ انجن ہے اور کروم سب سے عام ویب براؤزر ہے، جبکہ اینڈرائیڈ اسمارٹ فون پلیٹ فارم بھی عالمی سطح پر سب سے زیادہ استعمال کیا جاتا ہے۔ تاہم، مسٹر ین کا دعویٰ ہے کہ ایسا مقابلہ کی کمی کی وجہ سے ہوا ہے۔

    مسٹر ین کہتے ہیں، "اگر آپ کسی سے پوچھتے ہیں کہ کیا وہ زیادہ رازداری اور سیکیورٹی چاہتے ہی ہر کوئی یہ چاہتا ہے”، لیکن صارفین کو یہ معلوم نہیں ہوگا کہ ان کے پاس کوئی انتخاب ہےجس طرح سے اینڈرائیڈ اور آئی او ایس ڈیوائسز پر تمام ڈیفالٹ سیٹ کر رہے ہیں – ایک واضح طور پر مسابقتی انداز میں – ایک موبائل پہلی دنیا میں آپ اور کیا جانتے ہیں؟

    مسٹر ین کا کہنا ہے کہ دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ صارفین کو یہ قبول کرنا چاہیے کہ وہ "کچھ چیزیں ترک کر رہے ہیں” کیونکہ "گوگل نے کئی بلین خرچ کیے ہیں اور اس کا آغاز 20 سال کا تھا۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ خلا بند ہونا شروع ہو جاتا ہے۔”

    سری لنکا نے آئی ایم ایف سے پھر امیدیں جوڑ لیں

    پروٹون کو امید ہے کہ یورپ سے قانون سازی انہیں چھوٹے حریفوں اور ایپل اور گوگل کے درمیان فرق کو ختم کرنے میں مدد کرے گی، جن کا اسمارٹ فون کی جگہ پر ڈوپولی ہے۔

    ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ، جو صارفین کو آزادانہ طور پر اپنے براؤزر، ورچوئل اسسٹنٹس یا سرچ انجنوں کا انتخاب کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے آلات سے پہلے سے لوڈ کردہ سافٹ ویئر کو ان انسٹال کرنے کا حق اور کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کو پہلے رکھنے کے لیے ان کے پلیٹ فارم کے استعمال پر پابندی لگانے کی اجازت دے گا۔ مسٹر ین کا کہنا ہے کہ "کینڈی اسٹور میں ایک بچہ ہونے کے ناطے”۔ "لیکن سوال یہ بنتا ہے کہ کیا یورپ، حقیقت میں اسے نافذ کر سکتا ہے اور ایک مختصر وقت میں فرق پیدا کر سکتا ہے؟”

    مسٹر ین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے فیصلے ضروری ہیں، بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو صرف چھوٹے حریفوں پر قبضہ کرنے سے روکنے کے لیے – ایسا کچھ جو ایپل نے کئی بار کیا ہے اس کے لیے ایک گالی ہےبڑی ٹیک کمپنیاں اتنی بڑی ہیں کہ اگر وہ آج آپ سے مقابلہ نہیں کرتی ہیں، تو وہ پانچ، چھ سالوں میں آپ سے مقابلہ کریں گی۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ کس صنعت میں ہیں۔ وہ صنعت تباہ ہونے والی ہے-

    "اگر ہم موجودہ راستے کو جاری رکھتے ہیں، تو ہم امریکہ اور چین کی چار یا پانچ کمپنیوں کے زیر کنٹرول دنیا میں ختم ہو جائیں گے، اور ہم سب کی فلاح و بہبود ہو گی تیزی سے بدلتی ہوئی ٹیکنالوجی کی صنعت سے ہم آہنگ رہنے کے لیےنہ صرف قانون سازی میں تبدیلیاں بلکہ ذہنیت کی تبدیلی کی بھی ضرورت ہوگی۔ "ریگولیشن ہمیشہ اتنا پیچھے کیوں ہے؟ ہمیں صرف قانون سازی کرنے اور پھر ایک نسل کے لیے دور جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہمیں ہر سال انہیں اپ ڈیٹ کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں ٹیکنالوجی کی رفتار سے آگے بڑھنے کے لیے قوانین کی ضرورت ہے-

    امریکہ جرمنی میں قربتیں بڑھنے لگیں

  • واٹس ایپ نے گروپ وائس کال میں  نئے فیچرز متعارف کرا دیئے

    واٹس ایپ نے گروپ وائس کال میں نئے فیچرز متعارف کرا دیئے

    کیلیفورنیا: دنیا بھر کی معروف ترین میسجنگ ایپ واٹس ایپ نے اپنی گروپ وائس کال میں متعدد نئے فیچرز اپ ڈیٹ کردیئے۔

    باغی ٹی وی: حال ہی میں واٹس ایپ نے اینڈرائیڈ سےآئی فون پر واٹس ایپ ڈیٹامنتقلی کے متعلق اپ ڈیٹ جاری کی تھی اب ایپ کی جانب سے گروپ وائس کال میں نئی تبدیلیاں سامنے لائی گئیں ہیں گروپ کال فیچر میں نئے ٹولز شامل کرنے کا مقصد گفتگو کے دوران پیش آنے والی مشکلات سے نمٹنا ہے۔

    واٹس ایپ پر دوستوں کیساتھ ماضی کے بہترین گیمزکھیلیے

    تبدیلیوں کے بعد اب جب کوئی شخص گروپ وائس کال میں شامل ہوگا تو ایک بینر نوٹی فیکیشن ظاہر ہوگا جو یہ بتائے گا کہ کوئی شخص کال میں شامل ہوا ہے یہ بڑی چیٹس میں بھی ہوگا اور تب بھی ہوگا اگر کسی کا نام اسکرین پر ظاہر ہونے والی لسٹ میں موجود نہ ہو۔

    قبل ازیں واٹس ایپ نے صارفین کے لیے نئی پرائیویسی کنٹرول سیٹنگز متعارف کرا ئی جس کو استعمال کرتے ہوئے اب صارفین کے پاس یہ اختیار ہوگا کہ وہ جس کو چاہیں گے اس کو اپنی پروفائل پکچر، اپنے متعلق معلومات، لاسٹ سین اور واٹس ایپ اسٹیٹس دیکھائیں گے-

    حالیہ ٹویٹ میں واٹس ایپ کی جانب سے اعلان کیا گیا تھا کہ کمپنی نے اپنے صارفین کے لیے سخت پرائیویسی کنٹرول سیٹنگز جاری کردیں ہیں۔ اب تک صارفین اپنا واٹس ایپ اسٹیٹس، لاسٹ سین اور اپنے متعلق معلومات پر تین قسم کی پرائیویسی کا اطلاق کر سکتے ہیں 1) سب کے دیکھنے کے لیے دستیاب، 2) صرف آپ کے کانٹیکٹس دستیاب 3) مکمل طور پر پوشیدہ۔

    واٹس ایپ میں نئی سیکیورٹی خامی کی نشاندہی ،لاکھوں صارفین کے اکاؤنٹس نشانے پر

    لیکن اب ایک نیا آپشن شامل کیا گیا ہے جس کے مطابق صارف اپنے کچھ کانٹیکٹس سے اپنی پروفائل پکچر وغیرہ پوشیدہ رکھ سکیں گے جبکہ یہ سب چیزیں باقیوں کے لیے عیاں رہیں گی۔ یہ بلیک لسٹ کرنے کی ہی ایک نئی شکل ہے ان سیٹنگز کے لیے اسکرین پر اوپری حصے میں دائیں جانب تین نقطوں پر ٹیپ کریں، سیٹنگز میں جائیں پھر اکاؤنٹ میں اور پھر پرائیویسی میں جاکر سیٹننگ کر لیں۔

    واٹس ایپ کی جانب سے یہ نیا فیچر گزشتہ برس بِیٹا ٹیسٹرز کے لیے جاری کیا گیا تھا لیکن اب کمپنی نے یہ فیچر عام صارفین کے لیے جاری دیا گیا ہے۔

    واٹس ایپ جلد ایک اور فیچر بھی متعارف کرائے گا جس میں دیگر لوگوں کی آواز بند کی جاسکے گی اس کا مطلب ہے کہ کال میں شامل افراد کے اطراف سے آنے والے شور کو بھی خاموش کرایا جاسکے گا۔

    واٹس ایپ کے مالک مارک زکر برگ خود کونسی ایپ استعمال کرتے ہیں؟ تفصیلات سامنے آ گئیں

  • دماغی طور پر کام کرنے والی ایسی چپ تیار جو ایک سیکنڈ میں 2 ارب تصاویر پروسیس کر سکتی ۔

    دماغی طور پر کام کرنے والی ایسی چپ تیار جو ایک سیکنڈ میں 2 ارب تصاویر پروسیس کر سکتی ۔

    دماغی طور پر کام کرنے والی ایسی چپ تیار جو ایک سیکنڈ میں 2 ارب تصاویر پروسیس کر سکتی ۔

    پینسلوانیا میں پہلی مرتبہ سائنس دانوں نے عین دماغی طور پر کام کرنے والی ایسی طاقتور آپٹیکل چپ بنائی ہے جو صرف ایک سیکنڈ میں دو ارب تصاویر پروسیس کرسکتی ہے۔
    پنسلوانیا کے ماہرین نے یہ برقی چپ اعصابی نیٹ ورک کے طرز پر تیار کی ہے ۔اس کے کام کرنے کا انداز تھوڑا مختلف ہے ۔یہ روایتی انداز کے برعکس کام کرتی ہے اور کسی بھی طرح سست نہیں ہوتی ہے ۔

    ساتھ ایک اور دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ وه خود ہی سیکھتے رہتے ہیں بلکل ہی نیورل نیٹ ورک کی طرح ہی ۔اور یہ اسی سیکھنے کے عمل کے دوران اپنی کارکردگی کو بہتر سے بہتر بنانے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔
    اس چپ کو آپٹیکل چپ کا نام بھی دیا گیا ہے ۔کیونکہ اس چپ میں برقی سگنل کی بجاۓ روشنی ایک سے دوسرے مقام سے گزرتی دکھائی دیتی ہے ۔
    جب اس چپ پر تجربہ ہوا تو پتا چلا کہ یہ ایک چپ 9.3 مربع ملی میٹر بنائی گئی ہے ۔

    مزید یہ کہ ہر ایک تصویر کو شناخت کرتے ہوئے چپ کو صرف 0.57 نینو سیکنڈ لگے ۔اس سے اس بات کا اندازہ بھی ہوا کہ صرف ایک ہی سیکنڈ کے اندر چپ پونے دوارب تصاویر دیکھ کر پروسیس کرسکتی ہے۔
    اب اس چپ کے دوسرے اہم پہلو کی طرف جاتے ہیں جس سے ہمیں پتا چلتا ہے کہ اس میں معلومات جزوقتی اسٹور نہیں ہوتی ہیں۔اور چپ میں میموری موجود نا ہونے کی سب سے اہم ترین وجہ بھی یہ ہی ہے۔اور یہ عمل اس طرح سےمحفوظ بھی ہے ۔

  • الیکسا تھرڈ ڈی کان لگانے والی پہلی خاتون :

    الیکسا تھرڈ ڈی کان لگانے والی پہلی خاتون :

    الیکسا تھرڈ ڈی کان لگانے والی پہلی خاتون:

    باغی ٹی وی :میکسکو سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون جن کی عمر 20 سال کے لگ بھگ ہے اور ان کا نام الیکسا ہے انہوں نے پیدائشی طور پر کان کے نقص کے ساتھ جنم لیا تھا۔ان کے کان کا باہر والا حصہ بلکل بھی نہیں تھا ۔اب انہوں نے اپنے خلیوں سے بنا تھرڈ ڈی کان لگوایا ہے اور یہ دنیا کی پہلی خاتون ہیں جنہوں نے تھرڈ ڈی کان لگوایا ہے۔

    جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ سننا انسان کی بڑی ضرورتوں میں سے ایک ہے اس حوالے سے ڈاکٹروں نے امید دلائ ہے کہ یہ ٹرانسپلانٹ طب کی دنیا ’مائیکروٹیا‘ میں مبتلا افراد کے لیے علاج سامنے لاکر انقلاب برپا کر دے گا۔

    مائیکروٹیا ایک پیدائشی حالت ہوتی ہے جس میں ایک یا دونوں کانوں کے بیرونی حصے مکمل طور پر نہیں بنے ہوتے لیکن خیال رہے کہ یہ حالت سماعت کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔

    ڈاکٹر ار نے پہلے الیکسا کا نامکمل جزوی کان سرجری کے ذریعے ہٹایا اور اس کو پھر الیکسا کے سالم کان کے تھری ڈی اسکین کے ساتھ تھری ڈی بائیو تھیراپیوٹکس بھیجا۔

    پھر وہاں پہنچنے پر خاتون کے کونڈروسائٹس، وہ خلیے جو کارٹیلیج بناتے ہیں۔ ٹشو سے علیحدہ ہو کر بعد میں ان اجزاء کے ساتھ مل کر اربوں خلیوں میں بدل چکے تھے ۔

    اور پھر یہ سارا عمل اسی طرح سے جاری رہا خاتون کو تھرڈ ڈی کان لگواتے ہوۓ بلکل بھی دکت کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔اور یہ کام انتہائی احتیاط اور مکمل منصوبے سے کیا گیا۔ اس حوالے سے ڈاکٹر بونِیلا کا کہنا تھا کہ اگر سب چیزیں منصوبے کے مطابق کی جایئں تو یہ طب کی دنیا میں انقلاب برپا کردے گا ۔

    اس سب عمل میں وقت کا دورانیہ 10 منٹ سے کم کا تھا ۔

  • ٹیلی کام محصولات 2021ء میں بڑھ کر644 ارب روپے ہوگئے ہیں،پی ٹی اے

    ٹیلی کام محصولات 2021ء میں بڑھ کر644 ارب روپے ہوگئے ہیں،پی ٹی اے

    اسلام آباد :پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے سالانہ رپورٹ جاری کر دی، جس کے مطابق ٹیلی کام محصولات 2021 ء میں بڑھ کرچھ سو چوالیس ارب روپے ہو گئے-

    باغی ٹی وی : : ٹیلی کام شعبے میں شاندار پیشرفت کے نتیجے میں سال 2021 میں ریوینو بڑھ کرچھ سو چوالیس ارب روپے (644 بلین) ہوگیا، جو گزشتہ سال پانچ سو بیانوے ارب روپے (592 بلین) تھا۔ حال ہی میں جاری ہونے والی پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کی سالانہ رپورٹ برائے سال 2021 کے مطابق، ٹیلی کام کے شعبے میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) بیس کروڑ بیس لاکھ (202 ملین)امریکی ڈالر ہوئی اور قومی خزانے میں اس شعبے کا حصہ226 ارب روپے رہا۔

    اس عرصے میں پاکستان، اور آزاد جموں و کشمیر (اے جے اینڈ کے) اور گلگت بلتستان (جی بی) میں سپیکٹرم کی کامیاب نیلامیوں اور لائسنسوں کی تجدیدکے ذریعے اڑتالیس کروڑ ساٹھ لاکھ (486 ملین) امریکی ڈالرکی رقم حاصل ہوئی۔ براڈ بینڈ سروسز کے حوالے سے مارچ 2021 میں 100 ملین صارفین کا ایک قابل ذکر سنگ میل عبور کیا گیا جو اب بڑھ کر 110 ملین صارفین ہوگئے ہیں۔ ملک کی 50 فیصد آبادی کو براڈ بینڈ خدمات حاصل ہو چکی ہیں جس کا بڑا حصہ (49فیصد) موبائل براڈ بینڈ کنکشنز پر مشتمل ہے۔

    ٹیلی کام اور آئی سی ٹی خدمات کا پھیلاؤ ملک بھر میں موجود 89فیصد سے زائد آبادی کو میسر ہے جبکہ87فیصد ٹیلی ڈینسٹی اور86فیصدکو موبائل فون تک رسائی حاصل ہے۔ اسی طرح موبائل فون صارفین کی تعداداٹھارہ کروڑاسی لاکھ(188 ملین) ہو گئی ہے، جبکہ ٹیلی کام صارفین کی کل تعداد انیس کروڑ دس لاکھ (191 ملین) ہو گئی ہے۔ کوویڈ 19 کے دوران تھری جی اور فور جی خدمات میں توسیع ہوئی اور براڈ بینڈ ڈیٹا کے استعمال میں سال 2021 کے دوران 52 فیصد اضافہ ہوا۔ ریگولیٹر کی ہدایت پر، وزیرستان میں پسماندہ طبقات کو تیز رفتار رابطوں کے لیے فور جی کے لیے موبائل فون آپریٹروں (سی ایم اوز) کی سیل سائٹس کو اپ گریڈ کیا گیا۔

    سالانہ رپورٹ میں پی ٹی اے کی طرف سے ڈیوائس آئیڈینٹی فکیشن، رجسٹریشن اور بلاکنگ سسٹم (ڈی آئی آر بی ایس) کی واضح کامیابی کا بھی تذکرہ شامل ہے۔ یہ نظام پاکستان کو موبائل ڈیوائسز کے ایک بڑے تیار کنندہ کے طور پرسامنے لانے میں اہم ثابت ہوا ہے۔ پی ٹی اے نے اب تک 30 کمپنیوں کو موبائل ڈیوائس مینوفیکچرنگ کی اجازت جاری کی ہے، جس کے نتیجے میں بارہ کروڑ (120 ملین) امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کی گئی ہے، سال2021 میں دس کروڑ دس لاکھ(10.1 ملین) اسمارٹ فون تیار کیے گئے اور بیس ہزار کے لگ بھگ ملازمتوں کے مواقع پیدا ہوئے۔

    دنیا کے معروف برانڈز جیسا کہ سام سنگ، شو می، اوپو، وی وو، نوکیا، ٹیکنو اور زیڈ ٹی ای وغیرہ اب ملک میں تیار کیے جا رہے ہیں۔ پاکستان نے اپنی پہلی سمارٹ فون کی کنسائنمنٹ متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کو ’مینو فیکچرڈ ان پاکستان‘ ٹیگ کے تحت برآمد کرکے نئی تاریخ رقم کردی۔ ڈی آئی آر بی ایس کے اثرات واضح ہیں کیونکہ پہلی بارمقامی نیٹ ورکس پر، سمارٹ فونز کی تعداد اب ٹو جی فونز سے زیادہ ہے، جو ٹو جی موبائل فونز کے 48فیصد کے مقابلے میں 52فیصد کے مارکیٹ شیئر پرمشتمل ہے۔ موبائل فونز کی قانونی تجارتی درآمدات میں بھی تین سالوں میں تقریباً 125 فیصد اضافہ ہوا ہے۔سال 2018 اورسال 2020 کے درمیان ان درآمدات کی مد میں جمع ہونے والی آمدنی 122 ارب روپے کو عبور کر گئی۔

    سالانہ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پی ٹی اے نے سافٹ ویئر ہاؤسز، کال سینٹرز اور فری لانسرز کی رجسٹریشن کے لیے انٹرنیٹ پروٹوکول (آئی پی) وائٹ لسٹنگ اور ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورک (وی پی این) آن لائن پورٹل متعارف کرایا ہے۔ گمشدہ، چوری اور چھینے گئے موبائل فونز کو بلاک کرنے کے لیے ایک نیا خودکارلاسٹ سٹولن ڈیوائس سسٹم (ایل ایس ڈی ایس) بھی متعارف کرایا گیا۔غیر قانونی ٹیلی کام سیٹ اپ اور گرے ٹیلی فونی کے خاتمے کے لئے پی ٹی اے نے گزشتہ تین سالوں کے دوران 53 چھاپے مارے جس کے نتیجے میں 163 غیر قانونی گیٹ ویز قبضے میں لے لئے گئے اور 35 افراد کو گرفتار کیاگیا۔

    واضح رہے کہ پی ٹی اے بحیثیت ریگولیٹر ٹیلی کام آپریٹروں کو سازگار ماحول کی فراہمی، نیٹ ورکس میں سرمایہ کاری اور اپ گریڈ شدہ اور بہتر کوالٹی آف سروس معیارات کے تحت اقدامات کے لئے کوشاں ہے۔سال 2022 میں پی ٹی اے کے مقاصد میں مقامی اور بین الاقوامی تعاون کے ذریعے ڈیجیٹل تقسیم میں کمی، پاکستان میں 5G کے آغاز کے لیے اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشترکہ اقدامات، براڈ بینڈ کے پھیلاؤ اور فائبرائزیشن کی تو سیع شامل ہیں۔ مزید برآں، مارکیٹ کی ضرورت کے تحت اضافی سپیکٹرم کو جاری کرنا، غیر قانونی مواد کی روک تھا م، تمام آپریٹروں کے لیے برابری کے میدان کو یقینی بنانا اور پاکستان کی سائبر سیکیورٹی کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کرنا بھی شامل ہیں۔

  • جاپان نے ہائبرِڈ اور ریچارجیبل ٹرین متعارف کرادی

    جاپان نے ہائبرِڈ اور ریچارجیبل ٹرین متعارف کرادی

    ٹوکیو: جاپان نے فیول سیل (کیمیائی انرجی کو بجلی میں بدلنے والے سیل) اور ریچارجیبل بیٹریز کی حامل ٹرین متعارف کرادی ہے۔

    باغی ٹی وی : جاپان ٹائمز کے مطابق ’Hybari‘ نامی ٹرین جے آر ایسٹ، ہٹاچی لمیٹڈ اور ٹویوٹا موٹر کارپوریشن نے مل کر تیار کی ہے۔ جے آر ایسٹ نے اس ہائبرِڈ ٹیکنالوجی کو عمومی استعمال کیلئے 2030 تک لانچ کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاہم اس دوران کمپنی ٹرین کی ٹیسٹنگ جے آر سورومی اور نامبو کے ریلوے لائن پر کرے گی۔

    ٹرمپ کی آوازدبانے والوں کوشکست:ٹرمپ ٹروتھ سوشل ایپ کو پہلے 48 گھنٹوں میں نصف ملین…

    ٹرین میں اسٹوریج ٹینک سے ہائی پریشر ہائیڈروجن کو ٹویوٹا موٹر کارپوریشن کے تیار کردہ فیول سیل سسٹم میں پمپ کیا جاتا ہے جو ہوا میں آکسیجن سے کیمیائی رد عمل کے ذریعے بجلی پیدا کرتا ہے اس کے بعد بجلی ان بیٹریوں کو بھیجی جاتی ہے جنہیں ٹرینوں کے انجنوں کے ذریعے لوکوموشن چلانے کے لیے ٹیپ کیا جا سکتا ہے۔

    پاکستانی سائنسدان کے تیارہ کردہ سولر سیل نے دو عالمی ریکارڈ اپنے نام کر لئے

    ٹیسٹ ٹرین کے لیے ترقیاتی لاگت، جو ہائیڈروجن کے فی چارج تقریباً 140 کلومیٹر تک سفر کر سکتی ہے، کل تقریباً 4 بلین ڈالر ہے جے آر ایسٹ گروپ کے پاس مالی سال 2050 میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کو مؤثر طریقے سے صفر تک کم کرنے کا ہدف ہے اور امید ہے کہ HYBARI ٹیکنالوجی کے ساتھ اس کے ٹرین فلیٹ کی اوور ہال اس مقصد کو حاصل کرنے میں ان کی مدد کر سکتی ہے۔

    دنیا کے سب سے خوبصورت اور جدید ’میوزیم آف دی فیوچر‘ کا افتتاح

    ہم موجودہ ڈیزل ٹرینوں کو فیول سیل ہائبرڈ ٹرینوں سے تبدیل کرنے پر غور کر رہے ہیں،” JR East کے ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ سینٹر کے سربراہ شوچی اویزومی نے کہا۔ Oizumi نے کہا کہ ٹیسٹ رن میں JR East کو آپریشنل اخراجات اور دیگر عوامل کا مطالعہ کرنے کی امید ہے تاکہ یہ فیصلہ کیا جا سکے کہ ممکنہ طور پر ہائبرڈ ٹرینوں کو کن لائنوں پر متعارف کرایا جائے گا۔

    عالمی سب میرین میں خرابی،ملک بھر میں انٹرنیٹ سروس متاثر