Baaghi TV

Category: سائنس و ٹیکنالوجی

  • دماغی طور پر کام کرنے والی ایسی چپ تیار جو ایک سیکنڈ میں 2 ارب تصاویر پروسیس کر سکتی ۔

    دماغی طور پر کام کرنے والی ایسی چپ تیار جو ایک سیکنڈ میں 2 ارب تصاویر پروسیس کر سکتی ۔

    دماغی طور پر کام کرنے والی ایسی چپ تیار جو ایک سیکنڈ میں 2 ارب تصاویر پروسیس کر سکتی ۔

    پینسلوانیا میں پہلی مرتبہ سائنس دانوں نے عین دماغی طور پر کام کرنے والی ایسی طاقتور آپٹیکل چپ بنائی ہے جو صرف ایک سیکنڈ میں دو ارب تصاویر پروسیس کرسکتی ہے۔
    پنسلوانیا کے ماہرین نے یہ برقی چپ اعصابی نیٹ ورک کے طرز پر تیار کی ہے ۔اس کے کام کرنے کا انداز تھوڑا مختلف ہے ۔یہ روایتی انداز کے برعکس کام کرتی ہے اور کسی بھی طرح سست نہیں ہوتی ہے ۔

    ساتھ ایک اور دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ وه خود ہی سیکھتے رہتے ہیں بلکل ہی نیورل نیٹ ورک کی طرح ہی ۔اور یہ اسی سیکھنے کے عمل کے دوران اپنی کارکردگی کو بہتر سے بہتر بنانے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔
    اس چپ کو آپٹیکل چپ کا نام بھی دیا گیا ہے ۔کیونکہ اس چپ میں برقی سگنل کی بجاۓ روشنی ایک سے دوسرے مقام سے گزرتی دکھائی دیتی ہے ۔
    جب اس چپ پر تجربہ ہوا تو پتا چلا کہ یہ ایک چپ 9.3 مربع ملی میٹر بنائی گئی ہے ۔

    مزید یہ کہ ہر ایک تصویر کو شناخت کرتے ہوئے چپ کو صرف 0.57 نینو سیکنڈ لگے ۔اس سے اس بات کا اندازہ بھی ہوا کہ صرف ایک ہی سیکنڈ کے اندر چپ پونے دوارب تصاویر دیکھ کر پروسیس کرسکتی ہے۔
    اب اس چپ کے دوسرے اہم پہلو کی طرف جاتے ہیں جس سے ہمیں پتا چلتا ہے کہ اس میں معلومات جزوقتی اسٹور نہیں ہوتی ہیں۔اور چپ میں میموری موجود نا ہونے کی سب سے اہم ترین وجہ بھی یہ ہی ہے۔اور یہ عمل اس طرح سےمحفوظ بھی ہے ۔

  • الیکسا تھرڈ ڈی کان لگانے والی پہلی خاتون :

    الیکسا تھرڈ ڈی کان لگانے والی پہلی خاتون :

    الیکسا تھرڈ ڈی کان لگانے والی پہلی خاتون:

    باغی ٹی وی :میکسکو سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون جن کی عمر 20 سال کے لگ بھگ ہے اور ان کا نام الیکسا ہے انہوں نے پیدائشی طور پر کان کے نقص کے ساتھ جنم لیا تھا۔ان کے کان کا باہر والا حصہ بلکل بھی نہیں تھا ۔اب انہوں نے اپنے خلیوں سے بنا تھرڈ ڈی کان لگوایا ہے اور یہ دنیا کی پہلی خاتون ہیں جنہوں نے تھرڈ ڈی کان لگوایا ہے۔

    جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ سننا انسان کی بڑی ضرورتوں میں سے ایک ہے اس حوالے سے ڈاکٹروں نے امید دلائ ہے کہ یہ ٹرانسپلانٹ طب کی دنیا ’مائیکروٹیا‘ میں مبتلا افراد کے لیے علاج سامنے لاکر انقلاب برپا کر دے گا۔

    مائیکروٹیا ایک پیدائشی حالت ہوتی ہے جس میں ایک یا دونوں کانوں کے بیرونی حصے مکمل طور پر نہیں بنے ہوتے لیکن خیال رہے کہ یہ حالت سماعت کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔

    ڈاکٹر ار نے پہلے الیکسا کا نامکمل جزوی کان سرجری کے ذریعے ہٹایا اور اس کو پھر الیکسا کے سالم کان کے تھری ڈی اسکین کے ساتھ تھری ڈی بائیو تھیراپیوٹکس بھیجا۔

    پھر وہاں پہنچنے پر خاتون کے کونڈروسائٹس، وہ خلیے جو کارٹیلیج بناتے ہیں۔ ٹشو سے علیحدہ ہو کر بعد میں ان اجزاء کے ساتھ مل کر اربوں خلیوں میں بدل چکے تھے ۔

    اور پھر یہ سارا عمل اسی طرح سے جاری رہا خاتون کو تھرڈ ڈی کان لگواتے ہوۓ بلکل بھی دکت کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔اور یہ کام انتہائی احتیاط اور مکمل منصوبے سے کیا گیا۔ اس حوالے سے ڈاکٹر بونِیلا کا کہنا تھا کہ اگر سب چیزیں منصوبے کے مطابق کی جایئں تو یہ طب کی دنیا میں انقلاب برپا کردے گا ۔

    اس سب عمل میں وقت کا دورانیہ 10 منٹ سے کم کا تھا ۔

  • ٹیلی کام محصولات 2021ء میں بڑھ کر644 ارب روپے ہوگئے ہیں،پی ٹی اے

    ٹیلی کام محصولات 2021ء میں بڑھ کر644 ارب روپے ہوگئے ہیں،پی ٹی اے

    اسلام آباد :پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے سالانہ رپورٹ جاری کر دی، جس کے مطابق ٹیلی کام محصولات 2021 ء میں بڑھ کرچھ سو چوالیس ارب روپے ہو گئے-

    باغی ٹی وی : : ٹیلی کام شعبے میں شاندار پیشرفت کے نتیجے میں سال 2021 میں ریوینو بڑھ کرچھ سو چوالیس ارب روپے (644 بلین) ہوگیا، جو گزشتہ سال پانچ سو بیانوے ارب روپے (592 بلین) تھا۔ حال ہی میں جاری ہونے والی پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کی سالانہ رپورٹ برائے سال 2021 کے مطابق، ٹیلی کام کے شعبے میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) بیس کروڑ بیس لاکھ (202 ملین)امریکی ڈالر ہوئی اور قومی خزانے میں اس شعبے کا حصہ226 ارب روپے رہا۔

    اس عرصے میں پاکستان، اور آزاد جموں و کشمیر (اے جے اینڈ کے) اور گلگت بلتستان (جی بی) میں سپیکٹرم کی کامیاب نیلامیوں اور لائسنسوں کی تجدیدکے ذریعے اڑتالیس کروڑ ساٹھ لاکھ (486 ملین) امریکی ڈالرکی رقم حاصل ہوئی۔ براڈ بینڈ سروسز کے حوالے سے مارچ 2021 میں 100 ملین صارفین کا ایک قابل ذکر سنگ میل عبور کیا گیا جو اب بڑھ کر 110 ملین صارفین ہوگئے ہیں۔ ملک کی 50 فیصد آبادی کو براڈ بینڈ خدمات حاصل ہو چکی ہیں جس کا بڑا حصہ (49فیصد) موبائل براڈ بینڈ کنکشنز پر مشتمل ہے۔

    ٹیلی کام اور آئی سی ٹی خدمات کا پھیلاؤ ملک بھر میں موجود 89فیصد سے زائد آبادی کو میسر ہے جبکہ87فیصد ٹیلی ڈینسٹی اور86فیصدکو موبائل فون تک رسائی حاصل ہے۔ اسی طرح موبائل فون صارفین کی تعداداٹھارہ کروڑاسی لاکھ(188 ملین) ہو گئی ہے، جبکہ ٹیلی کام صارفین کی کل تعداد انیس کروڑ دس لاکھ (191 ملین) ہو گئی ہے۔ کوویڈ 19 کے دوران تھری جی اور فور جی خدمات میں توسیع ہوئی اور براڈ بینڈ ڈیٹا کے استعمال میں سال 2021 کے دوران 52 فیصد اضافہ ہوا۔ ریگولیٹر کی ہدایت پر، وزیرستان میں پسماندہ طبقات کو تیز رفتار رابطوں کے لیے فور جی کے لیے موبائل فون آپریٹروں (سی ایم اوز) کی سیل سائٹس کو اپ گریڈ کیا گیا۔

    سالانہ رپورٹ میں پی ٹی اے کی طرف سے ڈیوائس آئیڈینٹی فکیشن، رجسٹریشن اور بلاکنگ سسٹم (ڈی آئی آر بی ایس) کی واضح کامیابی کا بھی تذکرہ شامل ہے۔ یہ نظام پاکستان کو موبائل ڈیوائسز کے ایک بڑے تیار کنندہ کے طور پرسامنے لانے میں اہم ثابت ہوا ہے۔ پی ٹی اے نے اب تک 30 کمپنیوں کو موبائل ڈیوائس مینوفیکچرنگ کی اجازت جاری کی ہے، جس کے نتیجے میں بارہ کروڑ (120 ملین) امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کی گئی ہے، سال2021 میں دس کروڑ دس لاکھ(10.1 ملین) اسمارٹ فون تیار کیے گئے اور بیس ہزار کے لگ بھگ ملازمتوں کے مواقع پیدا ہوئے۔

    دنیا کے معروف برانڈز جیسا کہ سام سنگ، شو می، اوپو، وی وو، نوکیا، ٹیکنو اور زیڈ ٹی ای وغیرہ اب ملک میں تیار کیے جا رہے ہیں۔ پاکستان نے اپنی پہلی سمارٹ فون کی کنسائنمنٹ متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کو ’مینو فیکچرڈ ان پاکستان‘ ٹیگ کے تحت برآمد کرکے نئی تاریخ رقم کردی۔ ڈی آئی آر بی ایس کے اثرات واضح ہیں کیونکہ پہلی بارمقامی نیٹ ورکس پر، سمارٹ فونز کی تعداد اب ٹو جی فونز سے زیادہ ہے، جو ٹو جی موبائل فونز کے 48فیصد کے مقابلے میں 52فیصد کے مارکیٹ شیئر پرمشتمل ہے۔ موبائل فونز کی قانونی تجارتی درآمدات میں بھی تین سالوں میں تقریباً 125 فیصد اضافہ ہوا ہے۔سال 2018 اورسال 2020 کے درمیان ان درآمدات کی مد میں جمع ہونے والی آمدنی 122 ارب روپے کو عبور کر گئی۔

    سالانہ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پی ٹی اے نے سافٹ ویئر ہاؤسز، کال سینٹرز اور فری لانسرز کی رجسٹریشن کے لیے انٹرنیٹ پروٹوکول (آئی پی) وائٹ لسٹنگ اور ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورک (وی پی این) آن لائن پورٹل متعارف کرایا ہے۔ گمشدہ، چوری اور چھینے گئے موبائل فونز کو بلاک کرنے کے لیے ایک نیا خودکارلاسٹ سٹولن ڈیوائس سسٹم (ایل ایس ڈی ایس) بھی متعارف کرایا گیا۔غیر قانونی ٹیلی کام سیٹ اپ اور گرے ٹیلی فونی کے خاتمے کے لئے پی ٹی اے نے گزشتہ تین سالوں کے دوران 53 چھاپے مارے جس کے نتیجے میں 163 غیر قانونی گیٹ ویز قبضے میں لے لئے گئے اور 35 افراد کو گرفتار کیاگیا۔

    واضح رہے کہ پی ٹی اے بحیثیت ریگولیٹر ٹیلی کام آپریٹروں کو سازگار ماحول کی فراہمی، نیٹ ورکس میں سرمایہ کاری اور اپ گریڈ شدہ اور بہتر کوالٹی آف سروس معیارات کے تحت اقدامات کے لئے کوشاں ہے۔سال 2022 میں پی ٹی اے کے مقاصد میں مقامی اور بین الاقوامی تعاون کے ذریعے ڈیجیٹل تقسیم میں کمی، پاکستان میں 5G کے آغاز کے لیے اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشترکہ اقدامات، براڈ بینڈ کے پھیلاؤ اور فائبرائزیشن کی تو سیع شامل ہیں۔ مزید برآں، مارکیٹ کی ضرورت کے تحت اضافی سپیکٹرم کو جاری کرنا، غیر قانونی مواد کی روک تھا م، تمام آپریٹروں کے لیے برابری کے میدان کو یقینی بنانا اور پاکستان کی سائبر سیکیورٹی کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کرنا بھی شامل ہیں۔

  • جاپان نے ہائبرِڈ اور ریچارجیبل ٹرین متعارف کرادی

    جاپان نے ہائبرِڈ اور ریچارجیبل ٹرین متعارف کرادی

    ٹوکیو: جاپان نے فیول سیل (کیمیائی انرجی کو بجلی میں بدلنے والے سیل) اور ریچارجیبل بیٹریز کی حامل ٹرین متعارف کرادی ہے۔

    باغی ٹی وی : جاپان ٹائمز کے مطابق ’Hybari‘ نامی ٹرین جے آر ایسٹ، ہٹاچی لمیٹڈ اور ٹویوٹا موٹر کارپوریشن نے مل کر تیار کی ہے۔ جے آر ایسٹ نے اس ہائبرِڈ ٹیکنالوجی کو عمومی استعمال کیلئے 2030 تک لانچ کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاہم اس دوران کمپنی ٹرین کی ٹیسٹنگ جے آر سورومی اور نامبو کے ریلوے لائن پر کرے گی۔

    ٹرمپ کی آوازدبانے والوں کوشکست:ٹرمپ ٹروتھ سوشل ایپ کو پہلے 48 گھنٹوں میں نصف ملین…

    ٹرین میں اسٹوریج ٹینک سے ہائی پریشر ہائیڈروجن کو ٹویوٹا موٹر کارپوریشن کے تیار کردہ فیول سیل سسٹم میں پمپ کیا جاتا ہے جو ہوا میں آکسیجن سے کیمیائی رد عمل کے ذریعے بجلی پیدا کرتا ہے اس کے بعد بجلی ان بیٹریوں کو بھیجی جاتی ہے جنہیں ٹرینوں کے انجنوں کے ذریعے لوکوموشن چلانے کے لیے ٹیپ کیا جا سکتا ہے۔

    پاکستانی سائنسدان کے تیارہ کردہ سولر سیل نے دو عالمی ریکارڈ اپنے نام کر لئے

    ٹیسٹ ٹرین کے لیے ترقیاتی لاگت، جو ہائیڈروجن کے فی چارج تقریباً 140 کلومیٹر تک سفر کر سکتی ہے، کل تقریباً 4 بلین ڈالر ہے جے آر ایسٹ گروپ کے پاس مالی سال 2050 میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کو مؤثر طریقے سے صفر تک کم کرنے کا ہدف ہے اور امید ہے کہ HYBARI ٹیکنالوجی کے ساتھ اس کے ٹرین فلیٹ کی اوور ہال اس مقصد کو حاصل کرنے میں ان کی مدد کر سکتی ہے۔

    دنیا کے سب سے خوبصورت اور جدید ’میوزیم آف دی فیوچر‘ کا افتتاح

    ہم موجودہ ڈیزل ٹرینوں کو فیول سیل ہائبرڈ ٹرینوں سے تبدیل کرنے پر غور کر رہے ہیں،” JR East کے ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ سینٹر کے سربراہ شوچی اویزومی نے کہا۔ Oizumi نے کہا کہ ٹیسٹ رن میں JR East کو آپریشنل اخراجات اور دیگر عوامل کا مطالعہ کرنے کی امید ہے تاکہ یہ فیصلہ کیا جا سکے کہ ممکنہ طور پر ہائبرڈ ٹرینوں کو کن لائنوں پر متعارف کرایا جائے گا۔

    عالمی سب میرین میں خرابی،ملک بھر میں انٹرنیٹ سروس متاثر

  • وادی سوات میں بدھ مت کی قدیم ترین عبادت گاہ دریافت

    وادی سوات میں بدھ مت کی قدیم ترین عبادت گاہ دریافت

    سوات: پاکستانی اور اطالوی ماہرینِ آثارِ قدیمہ کی ایک ٹیم نے وادی سوات کے شہر بریکوٹ میں بدھ مت کی قدیم ترین عبادت گاہ دریافت کرلی ہے –

    باغی ٹی وی : پریس ریلیز کے مطابق اگرچہ اس علاقے کے دوسرے آثارِ قدیمہ 150 اور 100 سال قبلِ مسیح کے زمانے سے تعلق رکھتے ہیں لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ بدھ مت کی یہ عبادت گاہ ان سے بھی زیادہ قدیم ہےان کا خیال ہے کہ یہ تیسری صدی قبلِ مسیح میں چندرگپت موریا کے زمانے میں تعمیر کی گئی تھی۔ تاہم اس خیال کی حتمی تصدیق ریڈیو کاربن تاریخ نگاری کے بعد ممکن ہوگی جس میں کچھ وقت لگے گا۔

    دنیا میں درختوں کی 9000 سے زائد انواع آج تک نامعلوم ہیں، ماہرین

    بریکوٹ (Barikot) اس زمانے میں علاقہ گندھارا تہذیب کے اہم شہروں میں بھی شامل تھا جسے قدیم یونانی اور اطالوی مؤرخین نے ’’بزیرا‘‘ اور ’’واراستھانا‘‘ بھی لکھا ہے اپنے منفرد ماحول کی بنا پر یہاں سال میں دومرتبہ گندم اور چاول کی فصلیں اگائی جاتی تھیں یہ فصلیں اتنی زیادہ ہوتی تھیں کہ ان کی اضافی پیداوار دوسرے علاقوں میں بھی فروخت کی جاتی تھی۔

    قدیم بدھ مت کے اہم مراکز میں شامل ہونے کے باوجود، اب تک یہ پوری طرح واضح نہیں کہ بریکوٹ میں بدھ مت کی آمد کیسے ہوئی اور وہ کس طرح یہاں مقبول سے مقبول تر ہوتا چلا گیا ماہرینِ آثارِ قدیمہ کا کہنا ہے کہ بدھ مت کے قدیم ترین مقبرے سے اس بارے میں جاننے میں بھی بہت مدد ملے گی۔

    گلوبل وارمنگ میں 2 ڈگری اضافہ ہواتوگرمیاں 3 ہفتے طویل ہوجائیں گی، ماہرین کی وارننگ

    مؤرخین لکھتے ہیں کہ سکندرِ اعظم جب چوتھی صدی قبلِ مسیح میں ہندوستان پر حملہ کرنے کےلیے یہاں سے گزرا تو زرخیز مقام دیکھ کر اس نے پہلے بریکوٹ پر قبضہ کیا اور اپنی فوج کےلیے وافر مقدار میں گندم اور دیگر اناج جمع کرنے کے بعد آگے بڑھا۔

    7000 سال پرانے نقش ونگاردریافت


    واضح رہے کہ پاکستانی اور اطالوی ماہرین کے وسیع البنیاد اشتراک سے پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں گندھارا تہذیب کے آثارِ قدیمہ پر 1955 سے کام جاری ہے جسے متعدد ملکی، علاقائی اور بین الاقوامی ثقافتی اداروں کی سرپرستی بھی حاصل ہےیہ ایشیا میں آثارِ قدیمہ کا سب سے پرانا عالمی مشن بھی ہے جسے 67 سال ہونے والے ہیں۔ اس کے موجودہ سربراہ ڈاکٹر لیوکا ماریا ہیں جن کا تعلق کفوسکاری یونیورسٹی، وینس سے ہے بریکوٹ میں آثارِ قدیمہ کی تلاش کا یہ سلسلہ اس سال بھی جاری رہے گا کیونکہ ماہرین کو یہاں سے مزید دریافتوں کی پوری امید ہے۔

    مصر سے ابوالہول جیسے 3,400 سال پرانےدو مجسمے دریافت

    خیال رہے کہ قبل ازیں گزشتہ برس پاکستان میں بدھ مت کے دور کی پینٹنگز دریافت ہوئی تھیں جو ماہرین کے مطابق دو ہزار سال قدیم ہیں یہ پینٹنگز فریسکو آرٹ میں بنائی گئی ہیںریسکو آرٹ کا آغاز کیسے ہوا، اس بارے میں کوئی واضح تحقیق موجود نہیں ہے لیکن کہا جاتا ہے کہ فریسکو اطالوی زبان کا لفظ ہے اور فریسکو پینٹنگز کا آغاز اٹلی میں تیرھویں صدی عیسوی میں ہوا یعنی آج سے تقریباً سات سو سال قبل ہوا تھا اس بارے میں مزید یہ بھی کہا جاتا ہے کہ فریسکو آرٹ 3300 قبل عیسوی یعنی زمانہ قدیم میں پایا جاتا ہے لیکن اس کی کوئی پینٹنگز کا ذکر سامنے نہیں آیا۔

    سعودی عرب میں ہزاروں میل رقبے پر پھیلے 4500 سال قبل بنائے گئے مقبرے دریافت

    پاکستان میں بدھ مت کی مذکورہ دریافت میں ایسے نایاب فن پارے ملے تھے جو تقریباً دو ہزار سال قدیم ہیں۔ اس دریافت کے بعد یہ واضح ہو جاتا ہے کہ فریسکو آرٹ کا آغاز اس خطے میں بدھ مت کے دور میں ہو چکا تھا جبکہ مصر میں زمانہ قدیم میں اس فن کے آثار پائے جاتے تھے پاکستان میں خیبر پختونخوا کے علاقے سوات کے قریب عباس چینہ میں بدھ مت دور کا ایک بڑا کمپلیکس دریافت ہوائے یعنی یہ تخت بھائی کی طرح ایک بڑا علاقہ ہے جہاں پر متعدد ایسے آثار ملے ہیں جو دو ہزار سال قدیم ہیں۔

    ترکی :11 ہزار سال پرانے تھری ڈی مجسمے دریافت

  • ابو ظبی: شہریوں کے لیے بغیر ڈرائیور ٹیکسی سروس کا آغاز

    ابو ظبی: شہریوں کے لیے بغیر ڈرائیور ٹیکسی سروس کا آغاز

    ابوظبی میں جدید ٹیکنالوجی سے لیس شہریوں کے لیے بغیر ڈرائیور ٹیکسی سروس کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی :خلیج ٹائمزکے مطابق خودکار ٹیکسی کار سروس تفریحی مقام یاس آئی لینڈ میں متعارف کرائی گئی ہے، جہاں فارمولا ون ریس کا ٹریک اور فیراری ورلڈ تھیم پارک بھی موجود ہیں۔

    مذکورہ سروس بیانت، جی 42 گروپ کا حصہ ہے، نے کہا کہ ڈرائیور کے بغیر سواری شیئرنگ سروس کے ٹرائل اس ماہ ابوظہبی میں شروع ہوں گے، جس کا مقصد بالآخر متحدہ عرب امارات میں ٹیکنالوجی کو متعارف کرانا ہے محکمہ بلدیات اور ٹرانسپورٹ نے خود مختار گاڑیوں کے آزمائشی استعمال کی قیادت کرنے کے لیے بیانت کے ساتھ شراکت داری کے ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔

    بحری جہاز کو دھکیلنے والی دنیا کی پہلی پیرافوائل پتنگ کا کامیاب تجربہ

    اس حوالے سےانتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ سروس 24 گھنٹے مہیا ہو گی، جسے گوگل پلے اور آئی او ایس ایپ سٹو پر موجود ایک خصوصی ایپ کے ذریعے بک کرایا جا سکے گا۔

    سروسز کے چیف ایگزیکٹو آفیسر حسن الحوسنی نے بتایا کہ یاس آئی لینڈ میں خود کار ٹیکسی سروس کا پہلا مرحلہ شروع کیا گیا جس کے شروع میں مسافر مفت ایپ کا استعمال کر سکیں گے۔

    دنیا کی پہلی الیکڑک کار کب بنائی گئی؟ تحریر:عفیفہ راؤ

    انھوں نے بتایا کہ ایپ سے باآسانی ٹیکسی بک کرائی جا سکے گی، لیکن ابھی یہ صرف نو مقامات کے لیے چلائی گئی ہے۔ دوسرے مرحلے میں مزید 10 گاڑیاں مختلف علاقوں میں چلائی جائیں گی۔

    حسن الحوسنی نے کہا، "ہائی ٹیک پروجیکٹ کے پہلے مرحلے میں تین الیکٹرک اور دو ہائبرڈ سیلف ڈرائیونگ گاڑیاں ہوں گی جس سے کاربن کے اخراج کو کم کرنے میں مدد ملے گی یہ گاڑیاں یاس مال میں ہوٹلوں، ریستورانوں، شاپنگ مالز اور دفاتر سے مفت ٹرانسپورٹ خدمات فراہم کرتی ہیں۔”

    ایلون مسک کی کمپنی کا پاکستان میں سیٹلائٹ براڈ بینڈ انٹرنیٹ شروع کرنے کا فیصلہ

    انھوں نے بتایا کہ "ہم جامع حفاظتی ٹیسٹ کروا رہے ہیں تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ گاڑیاں ٹریفک کے ضوابط کے مطابق چلتی ہیں۔ ہم تمام سڑکوں پر گاڑیاں چلانے سے پہلے ہر قدم پر مکمل حفاظت اور ضوابط کے خواہاں ہیں ہم اپنے مستقبل کا تعین کرنے کے لیے ہمیشہ سرگرم رہتے ہیں۔”

    حکام کےمطابق ابوظہبی میں انٹیگریٹڈ ٹرانسپورٹ سینٹر (آئی ٹی سی) ٹرانسپورٹ نیٹ ورک کے اندر خود سے چلنے والی گاڑیوں کے استعمال کے لیے ضروری انفراسٹرکچر قائم کرنے کا ذمہ دار ہوگا۔

    "خودکش مشین” کو استعمال کرنے کی قانونی منظوری مل گئی

  • جیک ڈورسے کا عہدہ چھوڑنے کا اعلان،ٹوئٹر کا نیا سی ای او کون ہوگا؟

    جیک ڈورسے کا عہدہ چھوڑنے کا اعلان،ٹوئٹر کا نیا سی ای او کون ہوگا؟

    سماجی رابطے کی معروف ترین ویب سائٹ ٹوئٹر کے شریک بانی جیک ڈورسے نے کمپنی کے سی ای او کی حیثیت سے الگ ہونے کا اعلان کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : حلا ہی میں سی این بی سی نے سب سے پہلے ایک رپورٹ میں جیک ڈورسے کے عہدہ چھوڑنے سے متعلق انکشاف کیا گیا تھا تاہم ، جس کی بعد ازاں کمپنی نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ سی ٹی وی پراگ اگروال سی ای او کا عہدہ سنبھالیں گے جبکہ جیک ڈورسے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں موجود رہیں گے اوربریٹ ٹیلر بورڈ کے نئے چیئرمین کا عہدہ سنبھالیں گے۔

    "سافٹ بلاک” ٹوئٹر کا صارفین کے لئے نیا پرائیویسی فیچر

    جیک ڈورسے کو اس سے قبل بھی 2008 میں ٹوئٹر سی ای او کا عہدہ چھوڑنے پر مجبور کیا گیا تھا مگر وہ 2015 میں دوبارہ سی ای او بنے جیک ڈورسے اسکوائر نامی کمپنی کے سی ای او کے طور پر کام کرتے رہیں گے۔


    ایک بیان میں انہوں نے بتایا میں نے ٹوئٹر کو چھوڑنے کا فیصلہ اس لیے کیا کیونکہ میرا ماننا ہے کہ کمپنی اب اپنے بانیوں کے بغیر آگے بڑھنے کے لیے تیار ہے، پراگ پر ٹوئٹر کے سی ای او کے طور پر میرا اعتماد بہت زیادہ ہے، گزشتہ 10 برسوں کے دوران ان کا کام کمپنی کو بدل دینے والا تھا’۔

    ڈورسے نے پیر کو عملے کو ای میل میں مزید کہا کہ "وہ کمپنی اور اس کی ضروریات کو کتنی گہرائی سے سمجھتے ہیں اس کے پیش نظر وہ کچھ عرصے سے میری پسند رہا ہے۔ پیراگ ہر اس اہم فیصلے کے پیچھے رہا ہے جس نے اس کمپنی کو تبدیل کرنے میں مدد کی،”

    واٹس ایپ،فیسبک، انسٹاگرام ڈاؤن: ٹوئٹر خوش، معروف کمپنیوں کے دلچسپ ٹوئٹس

    انہوں نے کہا کہ وہ بورڈ آف ڈائریکٹر کے طور پر ٹیم کے لیے کام جاری رکھیں گے۔


    پراگ اگروال نے 2011 میں ایڈ انجنیئر کے طور پر کمپنی میں شمولیت اختیار کی تھی اور 2018 میں سی ٹی او بن گئے تھے پراگ اگروال نے بھی ایک ٹوئٹ میں اپنے ساتھیوں کا شکریہ ادا کیا-

    درحقیقت یہ دوسرا موقع ہے جب ڈورسے ٹوئٹر کے سی ای او کے عہدے سے دستبردار ہو رہے ہیں۔

    ڈورسے نے 2006 میں بز اسٹون اور ایون ولیمز کے ساتھ مل کر ٹوئٹر کی بنیاد رکھی، اور وہ سوشل میڈیا کمپنی کے پہلے سی ای او تھے۔ وہ 2008 میں کمپنی کے بورڈ میں چیئرمین کے عہدے پر منتقل ہوگئے، اور اس وقت کے سی ای او ڈک کوسٹولو کی رخصتی کے بعد 2015 میں سی ای او کے عہدے پر واپس آئے۔

    ان کی قیادت میں ٹویٹر نے بہت سے تفریحی اداروں کے ساتھ قریبی تعلقات قائم کیے، بشمول خصوصی پروگرامنگ اور لائیو کوریج کے ساتھ ساتھ اولمپکس اور فیفا ورلڈ کپ جیسے ایونٹس کے ارد گرد اشتہارات کی فروخت کی شراکت داری۔ لیکن وہ ایک متنازعہ رہنما بھی تھے-

    ٹوئٹر کی اپنے صارفین کے لئے نئے پرائیوسی فیچر کی آزمائش

  • متحدہ عرب امارات  کا بارش کے لیے ڈرونز کا استعمال

    متحدہ عرب امارات کا بارش کے لیے ڈرونز کا استعمال

    متحدہ عرب امارات خاص طور پر ارواں برس شدید گرمی سے سخت متاثر ہوا ہے ، اس جون میں 51.8 ° C ریکارڈ کیا گیا ۔ اس سے بھی بدتر بات یہ ہے کہ دبئی میں سالانہ 4 انچ بارش ہوتی ہے ، جس سے گرمیاں ناقابل برداشت اور زراعت تقریبا ناممکن ہو جاتی ہیں (ملک اپنی خوراک کا 80 فیصد سے زیادہ درآمد کرتا ہے)۔

    باغی ٹی وی :متحدہ عرب امارات ایک صحرائی ملک ہے جہاں بارشیں کبھی کبھار ہی ہوتی ہیں، پر اب شاید یہ صورتحال تبدیل ہونے والی ہے اور ایسا اس لیے ہے کیونکہ یہ ملک اب ایسے ڈرون آزمانے جا رہا ہے جو اڑتے ہوئے بادلوں تک پہنچیں گے اور انھیں بجلی کے جھٹکے دے کر انھیں بارش برسانے پر ’مجبور کریں گے۔‘


    امارات پہلے ہی بارش برسانے کے لیے کلاؤڈ سیڈنگ ٹیکنالوجی استعمال کر رہا ہے جس کے تحت بادلوں پر نمک گرایا جاتا ہے تاکہ وہ بارش برسائیں مگر چونکہ امارات میں اب بھی سالانہ بارش صرف 100 ملی میٹر تک ہی ہوتی ہے، اس لیے یہاں مزید بارشوں کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔

    دنیا کی کم عمر ماہر فلکیات

    سنہ 2017 میں حکومت نے بارش بڑھانے کے نو مختلف منصوبوں کے لیے ڈیڑھ کروڑ ڈالر فراہم کیے تھے اور ان میں سے ایک ٹیم کی سربراہی یونیورسٹی آف ریڈنگ کے سائنسدان کر رہے ہیں۔

    اس پراجیکٹ پر کام کرنے والے پروفیسر مارٹین ایمبام نے بی بی سی کو بتایا کہ اس پراجیکٹ کا مقصد بادلوں کے قطروں میں موجود برقی چارج کے توازن کو بدلنا ہے متحدہ عرب امارات میں زیرِ زمین پانی کی سطح تیزی سے کم ہو رہی ہے اور اس کا مقصد بارشوں میں مدد دینا ہے۔‘

    ’لیکن ملک میں بادلوں کی کوئی کمی نہیں اس لیے مقصد یہ ہے کہ ان میں موجود قطرے آپس میں جڑیں جب قطرے آپس میں ملیں گے اور کافی بڑے ہو جائیں گے تو یہ بارش کی طرح برسے گے۔‘

    علیا المزروعی اس پروگرام کی ڈائریکٹر ہیں اُنھوں نے عرب نیوز کو بتایا تھا کہ ان ڈرونز پر برقی چارج چھوڑنے والے آلات اور مخصوص سینسرز ہوں گے اور یہ ڈرونز کم اونچائی پر اڑتے ہوئے ہوا کے مالیکیولز کو برقی چارج فراہم کریں گے جس سے بارش ہونی چاہیے۔

    آنے والی نسلیں شدید موسمی اثرات کا سامنا کریں گی ، ماہرین نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

    اس کے بعد اس مطالعے کا تجزیہ کیا جائے گا تاکہ زیادہ فنڈنگ حاصل کر کے طیارے سے یہ کام لیا جائے تاکہ زیادہ بارش برسائی جا سکے۔

    دوسری جانب فوربز کی رپورٹ کے مطابق چونکہ لوگ کمروں میں ہائیڈریٹ رہنے کی پوری کوشش کرتے ہیں ، ملک کے قومی مرکز موسمیات کے ماہرین نے ایک نئی ٹیکنالوجی متعارف کرائی ہے جو لیزر بیم کے ذریعے بارش کو برسانے کے لئے ڈرون کا استعمال ہے-

    سائنس کو کلاؤڈ سیڈنگ کہا جاتا ہے ، اور یہ کئی دہائیوں سے مختلف شکلوں میں موجود ہے۔ موجودہ بادلوں میں کچھ مادے یا کیمیائی مادے ، جیسے سلور آئیوڈائڈ ، شامل کرنا بارش یا برف کا باعث بن سکتا ہے۔

    یہ دیکھتے ہوئے کہ موسم بدلنے والے ان مشنوں کے ضمنی پروڈکٹس لفظی طور پر لوگوں کے سروں ، فصلوں اور پینے کے پانی پر برس رہے ہوں گے ، کلاؤڈ سیڈنگ کے گرد حفاظتی خدشات بہت زیادہ ہیں۔ کچھ لوگوں کو خدشہ ہے کہ جمع شدہ ذرات تاخیر کا شکار ہوسکتے ہیں ، جو بالآخر انسانوں کے لیے سرطان پیدا کرنے والے یا مقامی ماحول کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں۔

    7000 سال پرانے نقش ونگاردریافت

    متحدہ عرب امارات نے برسوں میں 9 ملی میٹر ‘بارش بڑھانے کے منصوبوں’ پر 15 ملین ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری کی ہے ، جن میں سے پہلے 8 روایتی کلاؤڈ سیڈنگ طریقوں کو استعمال کرتے ہیں۔ لیکن ملک اب پانی کی حفاظت کے لیے ان کی جستجو میں ایک مختلف انداز اختیار کر رہا ہے۔

    روایتی کلاؤڈ بیجنگ کی طرح ذرات کو منتشر کرنے کے بجائے ، اماراتی ویدر سنٹر ڈرون کا استعمال کرتے ہوئے ہوا کو ‘زپ’ کرنے کے لیے استعمال کر رہا ہے یہ ڈرون مخصوص بادلوں کو نشانہ بنانے کے لیے بنائے گئے ہیں اور حراستی لیزرز کے ذریعے بجلی کے کو ہوا میں پانی کی بوندوں کو زبردستی جمع کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے ، اس طرح مطلوبہ بارش شروع ہوتی ہے۔

    سوال یہ ہے کہ کیا باقی دنیا ان کی مثال پر عمل کرے گی؟ کلاؤڈ سیڈنگ کی روایتی شکل امریکہ میں پہلے ہی آٹھ مغربی ریاستوں کی طرف سے استعمال کی جاتی ہے ، خاص طور پر بالائی کولوراڈو ندی بیسن میں۔ ویدر موڈیفیکیشن انک جیسی کمپنیاں ہیں جو کہ بھاری بارش یا برف کو متحرک کرنے کے لیے سلور آئوڈائڈ کے استعمال میں مہارت کا دعویٰ کرتی ہیں۔ حال ہی میں – اور اب بھی ، کسی حد تک – ایسے منصوبوں کی افادیت کا تعین مشکل رہا ہے۔

    دو سے تین سالوں کے دوران نظام شمسی سے باہر زندگی کے آثار دریافت کر لیں گے…

    اگر ڈرون کا ایک بیڑا قابل عمل ، لاگت سے مؤثر طریقے سے خشک سالی سے نمٹ سکتا ہے ، تو ممکنہ طور پر دنیا کو بدلنے والے فوائد کو لکھنا غلطی ہوگی۔ اس نے کہا ، اس طرح کے فوائد طاقتور ٹیکنالوجی کے ساتھ ہوا کو پوری طرح احتیاط برتنے کی وجہ نہیں ہیں۔ بل گیٹس کے سورج کو مدھم کرنے کی سازشوں کے مقابلے میں عام لوگوں کے لیے بارش کے خطرات کم واضح ہیں ، لیکن کچھ ماہرین پریشان ہیں کہ یہ عمل نادانستہ طور پر سیلاب کا باعث بن سکتا ہے۔
    https://www.youtube.com/watch?v=9aEJFM4Opdg

  • فری لانسنگ کیا ہے؟  تحریر:اقصٰی یونس

    فری لانسنگ کیا ہے؟ تحریر:اقصٰی یونس


    ‎فری لانسنگ ایک ایسا لفظ ہے جس کو سنتے ہی ہر شخص شیخ چلی کی طرح خیالات کی دوڑ میں دوڑتا چلا جاتا ہے اور اسے دوڑ میں وہ ڈالروں کی بارش میں خود کو مکمل طور پر ڈوبا ہوا محسوس کرتا ہے ۔ اور سوچتا ہے کہ بس اب تو راوی چین ہی چین لکھے گا اور زندگی بڑی پرسکون گزر جائے۔اگر آپ ایسا سوچتے ہیں تو مبارک ہو، آپ کے خیالات بھی باقی نئے فری لانسز جیسے ہی ہیں

    تو اصل میں فری لانسر دو الفاظ کا مجموعہ ہے یعنی فری اور لانسر ۔ مگر ان کے اصطلاحی معنی قدرے مختلف ہیں
    ‎۔ free مطلب مفت نہیں، یہاں free
    ‎اور lancer انگریزی میں اس فوجی کو کہتے ہیں جو ایک لمبا نیزہ لیے جنگ کے لیے ہمہ وقت تیار رہتا ہے۔۔
    ‎اس لحاظ سے فری لانسنگ کا مطلب ہوا، آزاد فوجی۔
    جی بالکل ایک آزاد فوجی جو اپنے کام میں مکمل آزاد ہو ۔یعنی
    ‎آپ فری لانسر نہیں ہیں آپ ایک آزاد فوجی ہیں جس نے ایک جنگ پر جانا ہے۔
    مگر اپنی رضامندی اور پوری مرضی کے ساتھ ۔

    ‎ایک عام فوجی اپنے ہتھیار لیے ، اپنے افسر کے حکم کا تابع ہو تا ہے، یہاں افسر نے جنگ کا حکم آنے سے لے کر جنگ لڑنے تک اور اسکے بعد کے تمام احکامات میں آپ افسر بالا کے پابند ہیں ۔ اسکی مثال آفس کی نوکری سے لی جا سکتی ہے یعنی آپ کام کرتے ہوئے اپنے سے اعلی افسر کے پابند ہوتے ہیں
    ‎جس میں روزانہ آپ کو روزانہ حکم بجا لاتے ہوئے ہدایت کے مطابق کام کرنا ہوتا ہے اور مہینے کے اختتام پر آپ کو اپنی تنخواہ مل جاتی ہے

    اس طرح آزاد فوجی وہ ہوا جسے اپنی جنگ کیلئے نہ تو کسی کا حکم کا انتظار ہے اور نہ وہ کسی کے حکم کا پابند ۔ اسے اس جنگ کی تیاری بھی خود کرنی ہے اپنی کمر کو کس کر میدان میں بھی خودی اترنا ہے اور آخر میں جنگ لڑنی بھی خود ہی ہے۔ تو آپکا جو بھی کام ہے وہ جنگ ہی ہوا نہ ۔

    فائیور پہ اکائنٹ بنانے سے لے کر اپنا پہلا آدڑد مکمل کر لینے تک آپ کے کئے گئے سارے کام جنگ کے زمرے میں ہی آتے ہیں ۔ اتنے سارے فری لانسرز کی دوڑ میں آرڑد لینا بھی تو کسی جنگ سے کم نہیں مگر آپ اس جنگ میں کسی کے پابند نہیں آپ اپنا آرڈر دن کو مکمل کریں یا رات کے وقت ۔ آپ اسے اپنے بیڈ روم میں بیٹھ کر کریں یا ڈرائنگ روم میں آپ آزاد ہیں ۔

    اس جنگ میں آپ اپنے ہتھیار یعنی سکلز بھی اپنی مرضی سے چنتے ہیں ۔ آپ چاہے ڈیزائینر بننا چاہیں چاہیے ایک کنٹینٹ رائیٹر ۔ یہ تمام باتیں بھی مکمل طور پہ آپ کی مرضی پہ منحصر ہیں ۔

    بس اس جنگ میں آپ کو محنت لگن اور جذبے کی ضرورت ہے اپنے آپ کو اور اپنے ہتھیاروں کو زنگ لگنے سے بچانا ہے اور اس جنگ میں محنت لگن ایمانداری سے اپنی فتح کے جھنڈے گاڑنے ہیں ۔
    <Writer Aqsa Younas


     Aqsa Younas

    Aqsa Younas is a Freelance Journalist Content Writer, Blogger/Columnist and Social Media Activist. He is associated with various leading digital media sites in Pakistan and writes columns on political, international as well as social issues. To find out more about her work on her Twitter account

      

     


    https://twitter.com/AqsaRana890

  • چین دنیا کی سب سے بڑی ونڈ ٹربائن کے پروٹوٹائپ کی آزمائشیں اگلے سال شروع کر دے گا

    چین دنیا کی سب سے بڑی ونڈ ٹربائن کے پروٹوٹائپ کی آزمائشیں اگلے سال شروع کر دے گا

    بیجنگ: چینی کمپنی ’’مِنگ یانگ اسمارٹ انرجی‘‘ نے اعلان کیا ہے کہ وہ اگلے سال سے دنیا کی سب سے بڑی ونڈ ٹربائن کے پروٹوٹائپ کی آزمائشیں شروع کرے گی جسے 2024 ءتک تجارتی پیمانے پر فروخت کےلیے پیش کردیا جائے گا۔ یہ وِنڈ ٹربائن ساحل سے دور سمندر میں نصب کی جائے گی۔مائی ایس ای 16.0-242 (MySE 16.0-242) کہلانے والی یہ ونڈ ٹربائن 242 میٹر (794 فٹ) بلند ہوگی اور سالانہ 80 گیگاواٹ آور کی شرح سے بجلی بناسکے گی۔

    آسان الفاظ میں اس کا مطلب یہ ہوا کہ یہ 25 سال تک اتنی بجلی پیدا کرسکے گی کہ جو 20 ہزار گھروں کی ضروریات پوری کرنے کےلیے کافی ہوگی۔ فی الحال دنیا کی سب سے بڑی وِنڈ ٹربائن کا اعزاز امریکا کی ’’ہیلی ایڈ ایکس‘‘ کے پاس ہے جسے ’’جنرل الیکٹرک‘‘ نے تیار کیا ہے۔ 853 فٹ اونچی یہ ونڈ ٹربائن 2023 تک مکمل ہوگی جس کی ہر پنکھڑی یعنی ’’بلیڈ‘‘ کی لمبائی 107 میٹر (351 فٹ) ہوگی۔

    اس کے مقابلے میں چینی کمپنی منگ یانگ کی ونڈ ٹربائن کی اونچائی ضرور کم رکھی جائے گی لیکن اس کا ہر بلیڈ 118 میٹر (387 فٹ) لمبا ہوگا، جو ہیلی ایڈ ایکس ونڈ ٹربائن بلیڈ سے 11 میٹر زیادہ لمبا ہوگا۔کمپنی پریس ریلیز کے مطابق، جب ونڈ ٹربائن کے تینوں بلیڈ گھومنا شروع کریں گے تو یہ مجموعی طور پر 46 ہزار مربع میٹر کا رقبہ گھیریں گے جو فٹبال کے چھ میدانوں سے بھی زیادہ بڑا ہوگا۔

    دلچسپی کی بات یہ ہے کہ منگ یانگ کمپنی کی پچھلی سب سے بڑی وِنڈ ٹربائن (MySE 11.0-203) کی نسبت یہ ونڈ ٹربائن اگرچہ صرف 19 فیصد بڑی ہوگی لیکن یہ متوقع طور پر اس کے مقابلے میں 45 فیصد زیادہ بجلی بنانے کے قابل ہوگی۔نئی ونڈ ٹربائن کو نہ صرف سمندر کے بیچوں بیچ کوئی مضبوط ستون گاڑ کر نصب کیا جاسکے گا، بلکہ ضرورت پڑنے پر یہ کسی تیرتے ہوئے وسیع پلیٹ فارم پر بھی لگائی جاسکے گی۔

    واضح رہے کہ چین اس وقت دنیا میں ہوا سے بجلی بنانے والا سب سے بڑا ملک ہے جس نے 2020ء میں کورونا وبا کے باوجود ہوا سے بجلی کی پیداوار (وِنڈ انرجی پروڈکشن) میں 71.6 گیگاواٹ کا اضافہ کرتے ہوئے اسے 281 گیگاواٹ تک پہنچایا۔