Baaghi TV

Category: شوبز

  • جنت مرزا ایک کروڑ فالوورز رکھنے والی پہلی پاکستانی ٹک ٹاک اسٹار بن گئیں

    جنت مرزا ایک کروڑ فالوورز رکھنے والی پہلی پاکستانی ٹک ٹاک اسٹار بن گئیں

    معروف پاکستانی ٹک ٹاکرجنت مرزا ویڈیو شیئرنگ ایپلیکیشن ٹک ٹاک پر ایک کروڑ فالوورز رکھنے والی پہلی پاکستانی ٹک ٹاک اسٹار بن گئیں۔

    باغی ٹی وی : پاکستان کے شہر فیصل آباد سے تعلق رکھنے والی جنت مرزا نے ملک کا نمبر ون ٹک ٹاک ماڈل ہونے کا اعزاز بھی اپنے نام کرلیا جنت مرزا ایک کروڑ فالوورز کے ساتھ پاکستان میں کسی بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر سب سے زیادہ فالوورز رکھنے والی ٹک ٹاک ماڈل بن گئی ہیں-

    جنت مرزا نے یہ سنگ میل عبور کرنے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یقین نہیں ہورہا کہ واقعی ایسا ممکن ہوسکتا ہے۔

    ٹک ٹاک اسٹار کا کہنا تھا کہ کبھی نہیں سوچا تھا کہ میں شوق شوق میں یہاں پہنچ جاؤں گی جب آپ کسی سے حسد نہیں کرتے تو صلہ مل ہی جاتا ہے۔

    جنت مراز کا کہنا ہے کہ ٹک ٹاک ان کا شوق ہے اور یہ ایک اچھی مصروفیت بھی ہے تین سالوں میں ایک کروڑ فالوورز ہونا ان کے لیے اعزاز کی بات ہے اور اس وقت وہ پاکستان میں فالوورز کے حوالے سے ٹک ٹاک میں پہلے نمبر پر ہیں۔

    اریکا حق کے بعد ٹک ٹاک سٹار جنت مرزا گلوکار بلال سعید کے نئے گانے کی ویڈیو میں شامل

    بلال سعید اور ٹک ٹاک جنت مرزا کا گانا ریلیز

    ٹک ٹاک سٹار جنت مرزا کے پہلے گانے نے دھوم مچا دی ، یوٹیوب ٹرینڈنگ میں ٹاپ پر

    حاسدین میری تصویریں فوٹو شاپ کر کے مجھے بدنام کرنے کی کوشش کررہے ہیں جنت مرزا

  • گلوکارہ مومنہ مستحسن نے ڈرامہ سیریل الف کی یاد تازہ کر دی

    گلوکارہ مومنہ مستحسن نے ڈرامہ سیریل الف کی یاد تازہ کر دی

    پاکستان میوزک انڈسٹری کی معروف و مقبول گلوکارہ مومنہ مستحسن نے جیو انٹرٹینمنٹ کے مقبول ترین ڈرامہ سیریل ’الف‘ کا ایک سال مکمل ہونے پر الف ڈرامے کا ٹائٹل سانگ گا کر اپنی خوشی کا اظہار کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : حال ہی میں مشہور ڈرامہ سیریل ’الف‘ کو ایک سال مکمل ہوا ہے تو اس موقع پر نامور گلوکارہ مومنہ مستحسن نے بھی اپنے انداز میں ’الف ‘ کی یاد تازہ کی ہے۔

    سوشل میڈیا ویب سائٹ انسٹاگرام پر مومنہ مستحسن نے اپنی ایک ویڈیو شیئر کی ہے جس میں گلوکارہ ڈرامہ سیریل’ الف‘ کا ٹائٹل سانگ گنگنارہی ہیں ہاتھ میں گٹار تھامے مومنہ مستحسن نے ’الف‘ کے گانے کے چند بو ل گنگنائے۔
    https://www.instagram.com/p/CGAZsx8H975/?utm_source=ig_embed
    انسٹاگرام پر ویڈیو پوسٹ کرتے ہوئے مومنہ مستحسن نے لکھا کہ ’الف کو ایک سال مکمل ہوگیا ہے اور مجھے یہ سوچ کر بہت خوشی محسوس ہوتی ہے کہ میں اس پراجیکٹ کا حصہ رہی۔

    مومنہ مستحسن نے اپنی پوسٹ کے کیپشن میں ’الف‘ کے مداحوں سے سوال کیا کہ ’آپ لوگوں نے ڈرامہ سیریل الف سے کیا سیکھا؟

    مومنہ‌مستحسن کی اس پوسٹ کے جواب میں ثنا شاہنواز نے گلوکارہ کی خوبصورت آواز کی تعریف کی اور کہا کہ وہ کود کو خوش قسمت تصور کرتی ہیں کہ وہ الف جیسے عظیم پروجیکٹ کا حصہ بنیں-

    گلوکارہ کے سوال پر مداحوں نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ اس ڈرامے میں اللہ اور اُس کے بندے کی محبت کو دِکھایا گیا اور ہم نے سیکھا ہے کہ اللہ ہمیشہ اپنے بندوں کے ساتھ ہوتا اور انسان کو صرف اللہ سے ہی عشق کرنا چاہیے اور اُس کے احکامات پر عمل کرتے ہوئے زندگی گُزارنی چاہیے۔اور اللہ اور اس کے بندے کے بیچ الف کے جیسا سیدھا تعلق ہے-

    ڈرامہ سیریل ’الف‘ کی کہانی قلب مومن اور مومنہ سلطان کی زندگی پر مشتمل ہے اس کہانی کو عمیری احمد نے تحریر کیا ہے جبکہ اس کے ہدایتکار ’حسیب حسن‘ ہیں اور پروڈیوسر ثمینہ ہمایوں سعید اور ثنا شاہنواز ہیں اس کے مرکزی کرداروں میں حمزہ علی عباسی، سجل علی، کبریٰ خان، احسن خان، منظر صہبائی، سلیم معراج، لبنیٰ اسلم، عثمان خالد بٹ اور دیگر شامل ہیں۔

  • فیروز خان امریکی گلوکارہ ریحانہ پر برہم

    فیروز خان امریکی گلوکارہ ریحانہ پر برہم

    پاکستان شوبز انڈسٹری کے معروف اداکار فیروز خان نے امریکی گلوکارہ ریحانہ کے برانڈ کی نمائش کے دوران مسلمانوں کے احساسات مجروح کرنے پربرہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریحانہ کو کچرا کہہ دیا-

    باغی ٹی وی : امریکی گلوکارہ ریحانہ کے برانڈ کی نمائش کے فیشن شو کے دوران گلوکارہ کوکو کلوئی کا گانا ’ڈوم‘ چلایا گیا جس میں آخرت کے دن کے حوالے سے ایک حدیث شامل ہے انٹرنیٹ پر ریحانہ کو یہ مخصوص گانا چلائے جانے پر تنقید کا نشانہ بنایا جارہا تھا جن میں اداکار فیروز خان بھی شامل ہیں-

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ایک ٹوئٹ میں برہمی کا اظہار کرتے ہوئے فیروز خان نے ریحانہ کو ‘کچرا‘ کہا تاہم اداکارہ کی جانب سے معافی مانگے جانے کے بعد انہوں نے اپنا ٹوئٹ بھی ڈیلیٹ کردیا اور اپنے اس تبصرے پر فیروز خان نے معافی بھی مانگ لی۔

    دوسری جانب ریحانہ نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری کے ذریعے معافی مانگتے ہوئے گانا چلائے جانے مسلمانوں کے احساسات مجروح کرنے کو ایک غیر ذمہ دارانہ حرکت قرار دیا۔

    ریحانہ نے اپنے وضاحتی پیغام میں لکھا کہ فیشن شو کے دوران اس گانے کا استعمال ایک غیرذمہ دارانہ حرکت تھی اور یہ ایک غیر ارادی لیکن لاپرواہی کے نتیجے میں کی گئی غلطی تھی۔

    گانا ’ڈوم‘گلوکارہ کوکو کلوئی کا ہے انہوں نے بھی اس حوالے سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ٹوئٹ میں معذرت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ گانا بیلی فنک ٹریک کے نمونے استعمال کرکے تخلیق کیا گیا تھا جو مجھے آن لائن ملا ہے اور انہیں اس بات کا علم نہیں تھا کہ اس گانے میں اسلام سے متعلق حساس بول ہیں۔
    https://twitter.com/coucou_chloe/status/1313137444573806596?s=20
    گلوکارہ نے اپنے پیغام میں یہ بھی کہا کہ میں اس حقیقت کی پوری ذمہ داری لیتی ہوں کہ میں نے ان الفاظ کی صحیح طور پر تحقیق نہیں کی اور آپ میں سے ان تمام لوگوں کا شکریہ ادا کرنا چاہتی ہوں جنہوں نے مجھ سے اس کی وضاحت کرنے کا موقع دیا-
    https://twitter.com/coucou_chloe/status/1313137644226908162?s=20
    انہوں نے اپنے ٹوئٹ میں یقین دہانی کرائی کہ وہ اس گانے کو تمام میوزک اسٹریمنگ پلیٹ فارمز سے جلد از جلد ہٹوانے کے لیے کوشاں ہیں۔

    پاکستان میں چڑیلز بین کئے جانے پر ہدایتکار عاصم عباسی اور شائقین برہم

    چڑیلز کو پاکستان میں بین کر دیا گیا

  • ’نیٹ فلیکس‘ کو متنازع بولڈ فلم ’کیوٹیز‘ ریلیز کرنے پر امریکی ریاست ٹیکساس میں فوجداری مقدمے کا سامنا

    ’نیٹ فلیکس‘ کو متنازع بولڈ فلم ’کیوٹیز‘ ریلیز کرنے پر امریکی ریاست ٹیکساس میں فوجداری مقدمے کا سامنا

    اسٹریمنگ ویب سائٹ ’نیٹ فلیکس‘ کو متنازع بولڈ فلم ’کیوٹیز‘ ریلیز کرنے پر امریکی ریاست ٹیکساس میں فوجداری مقدمے کا سامنا ہے۔

    باغی ٹی وی : نیٹ فلیکس نے فرانسیسی فلم ’کیوٹیز‘ کا ٹریلر ریلیز کرتے ہوئے فلم کوگذشتہ ماہ 9 ستمبر کو ریلیز کرنے کا اعلان کیا تھا فلم کے ٹریلر میں ہی انتہائی کم عمر لڑکیوں کو بولڈ انداز دیکھنے کے بعد دنیا بھر کے افراد نے نیٹ فلیکس پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا گیا کہ وہ ’کیوٹیز‘ کو ریلیز نہ کرے۔

    11 سال کی مسلم لڑکی کو فلم میں انتہائی بولڈ اور جنسی رجحانات کی جانب راغب دکھانے والی اس فلم کے ٹریلر پر ہی لوگوں نے اعتراض کیے اور مذکورہ فلم کے خلاف چینج آرگنائزیشن پلیٹ فارم پر نوید وردک کی جانب سے آن لائن پٹیشن بنائی گئی جس میں نیٹ فلیکس سے مذکورہ فلم کو ریلیز نہ کرنے کا مطالبہ کیا گیا دنیا بھر میں نیٹ فلیکس کی سبسکرپشن کو ختم کرنے کی مہم شروع ہوگئی تھی جس میں پاکستانی اداکار حمزہ علی عباسی نے بھی اس مہم میں حصہ لیا تھا-

    جبکہ ترکی نے کیوٹیز کی ملک میں ریلیز پر پابندی بھی لگا دی تھی تاہم کیوٹیز‘ کو ریلیز کیے جانے پر امریکا سمیت دنیا بھر میں لوگوں نے نیٹ فلیکس کے خلاف احتجاج کے طور پر سبسکرپشن بھی ختم کرنا شروع کی تھی اور پاکستانی اداکار حمزہ علی عباسی نے بھی سبسکرپشن ختم کر دی تھی اور انہوں نے مداحوں کو بھی اسٹریمنگ ویب سائٹ کی سبسکرپشن ختم کرنے کی اپیل کی تھی تاہم اس کے باوجود اسٹریمنگ ویب سائٹ فلم کی حمایت جاری تھی۔

    تاہم اب خبر سامنے آئی ہے کہ نیٹ فلیکس کو مذکورہ فلم کو ریلیز کیے جانے پر امریکی ریاست ٹیکساس میں فوجداری مقدمے کا سامنا ہے۔

    خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق نیٹ فلیکس پر ریاست ٹیکساس کی حکومت نے فلم میں کم عمر بچوں کو نیم عریاں اور جنسی رجحانات کی طرح راغب دکھائے جانے پر عدالت میں کرمنل مقدمہ دائر کردیا۔

    رپورٹ کے مطابق ریاست ٹیکساس کی جانب سے گزشتہ ماہ 23 ستمبر کو ٹیلر کاؤنٹی کی عدالت سے رجوع کیا گیا تھا جس میں عریانیت اور نابالغ لڑکیوں کو جنسی رجحانات کی جانب راغب دکھائے جانے پر اسٹریمنگ ویب سائٹ کے خلاف فوجداری مقدمے کی درخواست کی گئی تھی۔


    عدالت میں جمع کرائے گئے دستاویزات کو ریاست ٹیکساس کے امریکی سیاستدان میٹ شیفر نے بھی ٹوئٹ کیا دستاویزات میں بتایا گیا ہے کہ نیٹ فلیکس نے انتہائی کم لباس میں نابالغ لڑکیوں کی جنسی نمائش کی اور انہیں جنسی رجحانات کی جانب راغب دکھایا۔

    عدالت میں مقدمہ دائر ہونے پر نیٹ فلیکس اپنی ہٹ دھرمی سے باز نہ آیا اور اپنے بیان میں ایک بار پھر متنازع فلم کیوٹیز کی حمایت کی اور کہا کہ مذکورہ فلم سماجی مسئلے پر مبنی ہے اور اس کے ذریعے جنسی رجحانات کو پھیلانے کے الزامات غلط ہیں۔

    واضح رہے کہ ’کیوٹیز‘ کی کہانی افریقی ملک سینیگال کے پناہ گزین مسلمان خاندان اور اس گھر کی جوان ہوتی 11 سالہ بچی کے بلوغت کو پہنچنے والے رجحانات کے گرد گھومتی ہے جس میں 11 سالہ بچی کے والد دوسری شادی بھی کرتے ہیں جب کہ ان کے گھر میں مسائل بھی رہتے ہیں۔

    فلم میں دکھایا گیا ہے کہ کس طرح 11 سالہ بچی اپنے آبائی مذہب اور انٹرنیٹ دور کے ٹرینڈز کے درمیان الجھ کر بے راہ روی کا شکار بن جاتی ہے اور اپنی عمر دیگر فرانسیسی بچیوں کے آزاد ماحول، تنگ لباس اور ان کی جانب سے بولڈ ڈانس کرنے سے متاثر ہوکر ان کے راستے پر چل پڑتی ہے اور پھر انتہائی کم عمری میں ہی وہ اپنی ہم عمر لڑکیوں کے ساتھ فحش حرکتیں کرنے لگتی ہے اور مسلمان بچی کی بولڈ اور فحش حرکتوں کو ان سے عمر میں بڑے لڑکے موبائل پر ریکارڈ کرکے سوشل میڈیا پر وائرل کردیتے ہیں۔

     

  • فیصل جاوید خان کا شہریار منور کی جلد صحتیابی کے لئے دعا اور نیک تمناؤں کا اظہار

    فیصل جاوید خان کا شہریار منور کی جلد صحتیابی کے لئے دعا اور نیک تمناؤں کا اظہار

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن اینڈ براڈ کاسٹنگ کے چیئرمین فیصل جاوید خان اداکار شہریار منور کی جلد صحتیابی کیلئے دعا گو ہیں۔

    باغی ٹی وی : سینیٹر فیصل جاوید نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ٹوئٹ میں شہریار منور کے لئے نیک تمناؤں کا اظہار کیا اور اداکار کی جلد صحتیابی کے لئے دعا کی-


    فیصل جاوید نے اپنے ٹوئٹ میں شہر یار منور کو ٹیگ کرتے ہوئے لکھا کہ شہریار منور آپ کیلئے بے شمار دعائیں۔

    انہوں نے اپنے ٹوئٹ میں اداکار کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ اللہ آپ کو جلد صحتیاب کرے۔

    خیال رہے کہ گزشتہ دنوں اداکار شہریار منور نے انسٹاگرام پر اپنی ایک پوسٹ میں بتایا تھا کہ وہ کچھ ماہ قبل موٹرسائیکل پر گلگت سے ہنزہ جاتے ہوئے ایک حادثے میں زخمی ہوگئے تھے۔

    ہسپتال سے موٹرسائیکل پر سفر ، سرجری کی ویڈیوز، فریکچر اور سرجری کے بعد کی مختلف تصاویر کو انسٹاگرام پر شیئر کرتے ہوئے انہوں نے لکھا ’مجھے فیس بک/انسٹاگرام پر متعدد پیغامات مل رہے تھے، جن میں پوچھا جارہا تھا کہ گزشتہ 2 ماہ سے میں سوشل میڈیا پر متحرک کیوں نہیں، جس پر میں پہلے تو معذرت کرتا ہوں۔

    دوسرا یہ کہ میں نے 2 ماہ قبل شمالی علاقہ جات کا دورہ کیا تھا جہاں میرے ساتھ ایک حادثہ پیش آگیا تھا شمالی علاقہ جات کی سیر کے دوران موٹر بائیک پر گلگت سے ہنزہ جاتے ہوئے ان کا ایکسیڈنٹ ہوگیا تھا جس کے باعث انھیں شدید چوٹ آئیں جس کے باعث میں سرجری کے لیے لندن گیا-

    اداکار نے بائیک چلانے والوں کو نصیحت کی کہ بائیک رائیڈنگ ایک مزیدار لیکن خطرناک کام ہے اس کے لیے ضروری ہے کہ آپ لوگ مکمل حفاظتی اقدامات کریں۔

    شہریار منور نے مداحوں کو سوشل میڈیا سے غائب ہونے کی وجہ بتا دی

  • باہر جانے کی بجائے اپنے ملک میں سیر و سیاحت کو فروغ دیں بشری انصاری کا مداحوں کو شمالی علاقہ جات کی سیر کا مشورہ

    باہر جانے کی بجائے اپنے ملک میں سیر و سیاحت کو فروغ دیں بشری انصاری کا مداحوں کو شمالی علاقہ جات کی سیر کا مشورہ

    پاکستان شوبز انڈسٹری کی نامور اور سینئر اداکارہ بشری انصاری نے اپنے سوشل میڈیا ویڈیو پیغام میں مداحوں کو شمالی علاقہ جات کی سیر کرنے کا مشورہ دے دیا۔

    باغی ٹی وی : اداکارہ بشری انصاری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ انسٹا گرام پر ایک ویڈیو شئیر کی جس میں وہ شمالی علاقہ جات میں موجود ہیں –

    بشری انصاری نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ پاکستان کی سیر کریں شمالی علاقہ جات کی خوبصورتی کو دیکھیں کیونکہ یہاں بے شمار حسین مناظر ہیں۔
    https://www.instagram.com/p/CF_0gRxhCak/?utm_source=ig_embed
    انہوں نے کہا کہ جو لوگ بیرونی ممالک گھومنے پھرنے کے خواہش مند ہیں یا عالمی وبا کورونا وائرس کے باعث بیرون ملک نہیں جاسکتے ہیں وہ اپنے ملک کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہوں اور شمالی علاقہ جات کی جانب رخ کریں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ ہمارا ملک خوب صورتی سے مالا مال ہے باہر جانے کی بجائے اپنے ملک میں سیر و سیاحت کو فروغ دیں۔

    واضح رہے کہ عالمی وبا کورونا وائرس کے پیش نظر جاری 6 مہینوں پر مشتمل لاک ڈاؤن کُھلنے کے بعد سے متعدد فنکاروں نے پاکستان کے خوبصورت اور ٹھنڈے علاقوں کا رُخ کر لیا ہے جن میں حمیمہ ملک، اداکار بہنیں ایمن اور منال اور عروی حسین کے بعد اب شوبز جوڑی اقراءعزیز اور یاسر حسین بھی شامل ہیں-

    یاسر حسین اور اقراء عزیز کی شمالی علاقہ جات میں سیر سپاٹوں کی نئی تصاویر وائرل

  • پاکستان میں چڑیلز بین کئے جانے پر ہدایتکار عاصم عباسی اور شائقین برہم

    پاکستان میں چڑیلز بین کئے جانے پر ہدایتکار عاصم عباسی اور شائقین برہم

    پاکستان کی پہلی اوریجنل ویب سیریز کا اعزاز رکھنے والی ایکشن تھرلر سیریز ’چڑیلز‘ کو ویب اسٹریمنگ ویب سائٹ زی فائیو پر رواں سال 11 اگست کو ریلیز گیا جس نے ریلیز ہوتے ہی دھوم مچا دی تھی تاہم اب اسے پاکستانی شائقین کے لیے بند کردیا گیا۔

    باغی ٹی وی : ویب اسٹریمنگ ویب سائٹ پر ’چڑیلز‘ کے پہلے سیزن کی تمام 10 اقساط کو ہی جاری کردیا گیا، جن کے ریلیز ہوتے ہی دنیا بھر میں ان کی دھوم مچ گئی تھی-ہدایت کار عاصم عباسی کی ویب سیریز ’چڑیلز‘میں ایسی چار شادی شدہ خواتین کی کہانی دکھائی گئی ہےجو اپنے شوہروں کی بے وفائی کے بعد جاسوس بن جاتی ہیں۔

    پاکستان کی پہلی ویب سیریز ’چڑیلز‘ میں شوہروں کی بے وفائی کے بعد جاسوس بن جانے والی چاروں خواتین اپنی جیسی دوسری عورتوں کی زندگی بچانے کے لیے کام کرتی ہیں اور بیویوں سے دھوکا کرنے والے شوہروں کو بے نقاب کرتی دکھائی دیتی ہیں اور اس دوران جب وہ جاسوس بن جاتی ہیں تو انہیں معاشرے کے کئی مکروہ چہرے دکھائی دیتے ہیں۔

    جاسوس بن جانے والی خواتین پھر کم عمری کی شادیوں، بچوں کے ساتھ ناروا سلوک، زبردستی کی شادیوں، غربت، جرائم، رنگ و نسل کے واقعات اور خودکشی جیسے بھیانک حقائق کا سامنا کرتی ہیں۔

    ویب سیریز میں ثروت گیلانی نے سارہ، یاسرا رضوی نے جگنو، نمرا بچہ نے بتول اور مہربانو نے زبیدہ کا کردار ادا کیا ہے اور ویب سیریز میں ان چار مختلف شعبوں وکیل ، باکسر،ویڈنگ پلانر سے تعلق رکھنے والی خواتین کو ایک گینگ کے طور پر دکھایا گیا ہے-

    فیشن ہاؤس کے نام پر جاسوسی کا ادارہ چلانے والی چاروں خواتین کو اپنے منصوبے کو آگے بڑھانے کے لیے درجنوں خواتین کو فیشن اور ماڈلنگ کے نام ملازمت پر رکھتے ہوئے بھی دکھایا گیا ہے۔

    فیشن کے نام جاسوسی کا ادارہ چلانے والی چاروں خواتین کو برقع پہن کر بیویوں سے بے وفائی کرنے والے شوہروں کی جاسوسی کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے.

    لیکن دنیا بھر میں دھمو مچانے والی اس سیریز کو اس میں خواتین کے بولڈ کرداروں کی وجہ سے اور ایک ویڈیو کلپ میں بولے گئے نا زیبا مکالمے کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے یہاں تک کہ چڑیلز پاکستان میں ٹوئٹر پر ٹاپ ٹرینڈ کر رہا ہے اور اس ڈرامے کے لئے اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کر رہے ہیں اور اس ڈرامے اور اس میں مسلمان خواتین کے کرداروں کے متعلق اپنی رائے کا اظہار کر رہے ہیں-

    سوشل میڈیا پر وائرل س کلپ میں اداکارہ یہ کہتی سنائی دے رہی ہیں کہ جب تم اپنے منہ چاندی کا چمچ منہ میں لیے اور آئی وی لکس سکلو میں اپنے بوائے فرینڈ کے ساتھ فلرٹ کررہی تھی ناں تو میں اپنے سے 30 سال بڑے اپنے باس کو دن میں دو مرتبہ ہینڈ جاب دے رہی تھی پھر کہیں جا کر انہوں نے مجھے اس سیلون میں رکھا وقت گزرتا گیااور ہر قسم کے جابز دیئے پھر کہیں جا کر رسیپشنسٹ بنی پھر سٹائلش بنی پھر اسی آدمی کی بیوی بنی ہاں چوائس تھی میری کہ ان کا کھیل انہیں کی طرح کھیلوں یا پھر بوریا بستر باندھ کر گوجرانوالہ واپس چلی جاؤں اور گوجرانوالہ تو مجھے واپس جانا ہی تھا تو تم مجھے جتنی مرضی دھمکیاں دینا چاہتی دے کو مجھے جتنا ڈرانا چاہتی ہو ڈرا لو لیکن مجھے اپنے پہلے اسی ہینڈ جاب کی قسم تم مجھے یہاں سے ہلا نہیں سکو گی-

    تاہم یہی خیال کیا جا رہا ہے کہ اس کلپ کے وائرل ہوتے ہی اس ویب سیریز کو پاکستان میں بین کر دیا گیا ہیے جس پر چڑیلز کے ہدایتکار اور شائقین نے برہمی کا اظہار کیا ہے لیکن تاحال زی فائیو نے بھی آفیشلی کوئی بیان جاری نہیں کیا کہ چڑیلز کو پاکستان میں کیوں بند کیا گیا ہے-

    دوسری جانب چڑیلز کے ہدایت کار عاصم عباسی نے اپنی سلسلہ وار ٹوئٹس میں بتایا کہ پاکستان میں ان کی ویب سیریز کو بند کردیا گیا۔


    انہوں نے ٹوئٹس میں چڑیلز کو بند کیے جانے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حیران کن طور پر جس ویب سیریز کی دنیا بھر میں تعریفیں کی جا رہی ہیں اسے اپنے ہی ملک میں بند کردیا گیا۔

    عاصم عباسی نے چڑیلز کو پاکستان میں بند کیے جانے کو نہ صرف فلم سازوں، اداکاروں اور آرٹسٹوں کے لیے نقصان دہ قرار دیا بلکہ انہوں نے اس عمل کو خواتین روشن خیال طبقے اور مالی بہتری کے لیے اسٹریمنگ سائٹس جیسے پلیٹ فارمز کا سہارا لینے والے تخلیقی افراد کے لیے بھی نقصان دہ قرار دیا۔


    عاصم عباسی نے اپنی ٹوئٹس میں کہا کہ اس ملک کے متعدد فنکار اور اداکار مل کر کچھ نیا تخلیق کررہے ہیں تاہم ان کی محنت پر پانی پھیرا جا رہا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ملک میں آرٹسٹوں کو ان کے کام کی وجہ سے دھمکیاں بھی دی جاتی ہیں اور انہیں اخلاقیات کا درس دیا جاتا ہے۔


    عاصم عباسی نے اپنے ایک اور ٹوئٹ میں لکھا کہ لکھا کہ چڑیلز کی پاکستان میں بندش نہ صرف فنکاروں اور اداکاروں، بلکہ رائٹرز ،پروڈیوسرز اور تکنیکی عملے کے لیے نقصان دہ ہے بلکہ یہ خواتین کے لیے بھی دل آزاری کا سبب ہے اور اس عمل سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ یہاں پر زن بیزار افراد کی حکمرانی ہے اور ان کی بات کو اہمیت دی جاتی ہے۔

    عاصم عباسی کے بعد شائقین نے بھی ’چڑیلز‘ کی پاکستان میں بندش پر برہمی کا اظہار کیا اور شائقین نے ویب سیریز کو بند کیے جانے کو آزادی اظہار رائے پر مہر قرار دیا۔


    ایک صارف نے لکھا کہ عوام سیریز میں دکھائے گئے تمام جدوجہد کو نظر انداز کرتے ہیں خواتین کو جن حالات سے گزرنا پڑتا ہے۔ اور صرف ہینڈ کام کے لفظ پر محیط ہو کر رہ گئے ہیں جاہل عوام کی منافقت کا منہ بولتا ثبوت ہے-


    ایک صارف نے لکھا کہ یہ حیرت کی بات ہے کہ ایک ایسے ملک میں یہاں لوگوں کو فحش نگاہوں کی سب سے زیادہ شرح ہے اس میں چڑیلز کے ایک منظر کے ساتھ ایک مسئلہ ہے جس نے اس کام کی حقیقت کو اجاگر کیا ہے کہ خواتین کو کام کی جگہ پر کیا سلوک کرنا چاہئے ایکشن فلموں پر بھی پابندی لگائیں کیوں کہ پاکستان میں تشدد اور قتل و غارت گری کا بحران پڑا ہے!


    ایک صارف نے لکھا کہ قتل ، زیادتی ، تشدد ، شادی سے پہلے کے تعلقات اور واضح زبان سب کچھ اس سے پہلے پاکستانی میڈیا میں ہوچکا ہے۔ فرق صرف اتنا تھا کہ چڑیلز مضبوط خواتین کی قیادت کی کہانی ہے۔

    چڑیلز کو پاکستان میں بین کر دیا گیا

    ویب سیریز ’چڑیلز‘ کی ٹیم پر فرانسیسی آرٹسٹ کا خاکہ کاپی کرنے کا الزام

    ’چڑیلز‘ شوہروں کی بے وفائی سے پردی اٹھاتیں ذہین بولڈ بہادر اور خوبصورت خواتین کی کہانی

    پاکستان کی پہلی اوریجنل ویب سیریز ’چڑیلز‘ کا ٹریلر جاری

    پاکستانی بہادر ،بولڈ اور ذہین ’چڑیلز‘ کی دنیا بھر میں دھوم

  • چڑیلز کو پاکستان میں بین کر دیا گیا

    چڑیلز کو پاکستان میں بین کر دیا گیا

    پاکستان کی پہلی اوریجنل ویب سیریز کا اعزاز رکھنے والی ایکشن تھرلر سیریز ’چڑیلز‘ کو ویب اسٹریمنگ ویب سائٹ زی فائیو پر 11 اگست کو ریلیز کیا گیا تھا جس نے ریلیز ہوتے ہی پوری دنیا میں دھوم مچا دی تھی –

    باغی ٹی وی :ویب اسٹریمنگ ویب سائٹ پر ’چڑیلز‘ کے پہلے سیزن کی تمام 10 اقساط کو ہی جاری کردیا گیا، جن کے ریلیز ہوتے ہی دنیا بھر میں ان کی دھوم مچ گئی تھی ہدایت کار عاصم عباسی کی ویب سیریز ’چڑیلز‘میں ایسی چار شادی شدہ خواتین کی کہانی دکھائی گئی ہےجو اپنے شوہروں کی بے وفائی کے بعد جاسوس بن جاتی ہیں۔

    پاکستان کی پہلی ویب سیریز ’چڑیلز‘ میں شوہروں کی بے وفائی کے بعد جاسوس بن جانے والی چاروں خواتین اپنی جیسی دوسری عورتوں کی زندگی بچانے کے لیے کام کرتی ہیں اور بیویوں سے دھوکا کرنے والے شوہروں کو بے نقاب کرتی دکھائی دیتی ہیں اور اس دوران جب وہ جاسوس بن جاتی ہیں تو انہیں معاشرے کے کئی مکروہ چہرے دکھائی دیتے ہیں۔

    جاسوس بن جانے والی خواتین پھر کم عمری کی شادیوں، بچوں کے ساتھ ناروا سلوک، زبردستی کی شادیوں، غربت، جرائم، رنگ و نسل کے واقعات اور خودکشی جیسے بھیانک حقائق کا سامنا کرتی ہیں۔

    ویب سیریز میں ثروت گیلانی نے سارہ، یاسرا رضوی نے جگنو، نمرا بچہ نے بتول اور مہربانو نے زبیدہ کا کردار ادا کیا ہے اور ویب سیریز میں ان چار مختلف شعبوں وکیل ، باکسر،ویڈنگ پلانر سے تعلق رکھنے والی خواتین کو ایک گینگ کے طور پر دکھایا گیا ہے-

    فیشن ہاؤس کے نام پر جاسوسی کا ادارہ چلانے والی چاروں خواتین کو اپنے منصوبے کو آگے بڑھانے کے لیے درجنوں خواتین کو فیشن اور ماڈلنگ کے نام ملازمت پر رکھتے ہوئے بھی دکھایا گیا ہے۔

    فیشن کے نام جاسوسی کا ادارہ چلانے والی چاروں خواتین کو برقع پہن کر بیویوں سے بے وفائی کرنے والے شوہروں کی جاسوسی کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے.

    لیکن دنیا بھر میں دھمو مچانے والی اس سیریز کو اسم میں خواتین کے بولڈ کرداروں کی وجہ سے اور ایک ویڈیو کلپ میں بولے گئے نا زیبا مکالمے کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے یہاں تک کہ چڑیلز پاکستان میں ٹوئٹر پر ٹاپ ٹرینڈ کر رہا ہے اور اس ڈرامے کے لئے اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کر رہے ہیں اور اس ڈرامے اور اس میں مسلمان خواتین کے کرداروں کے متعلق اپنی رائے کا اظہار کر رہے ہیں-

    اس کلپ میں اداکارہ یہ کہتی سنائی دے رہی ہیں کہ جب تم اپنے منہ چاندی کا چمچ منہ میں لیے اور آئی وی لکس سکلو میں اپنے بوائے فرینڈ کے ساتھ فلرٹ کررہی تھی ناں تو میں اپنے سے 30 سال بڑے اپنے باس کو دن میں دو مرتبہ ہینڈ جاب دے رہی تھی پھر کہیں جا کر انہوں نے مجھے اس سیلون میں رکھا وقت گزرتا گیااور ہر قسم کے جابز دیئے پھر کہیں جا کر رسیپشنسٹ بنی پھر سٹائلش بنی پھر اسی آدمی کی بیوی بنی ہاں چوائس تھی میری کہ ان کا کھیل انہیں کی طرح کھیلوں یا پھر بوریا بستر باندھ کر گوجرانوالہ واپس چلی جاؤں اور گوجرانوالہ تو مجھے واپس جانا ہی تھا تو تم مجھے جتنی مرضی دھمکیاں دینا چاہتی دے کو مجھے جتنا ڈرانا چاہتی ہو ڈرا لو لیکن مجھے اپنے پہلے اسی ہینڈ جاب کی قسم تم مجھے یہاں سے ہلا نہیں سکو گی-
    https://twitter.com/M_Momin222/status/1313791375784243202?s=20
    ایک صارف نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ آپ کو بتایا کہ ہماری فلم انڈسٹری پاکستانی فحش انڈسٹری کا ابتدائی مرحلہ ہے۔
    یا یہ کہ مواد بنانے کی نام نہاد آزادی …


    ایک صارف نے چڑیلز کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ اس ڈرامے میں وہ عورت کو جو اہمیت دے رہے ہیں وہ حقیقی طور پر یہاں پاکستان میں نہیں دی جارہی ہے کیونکہ ہمارا ملک اتنا جدید نہیں ہے جتنا اس سیریز میں دکھایا گیا ہے اور ہر اچھی عورت سگریٹ نہیں پیتی ہے یہ اسلامی جمہوریہ ہندوستان نہیں-


    ایک صارف نے لکھا کہ ٹھیک ہے چٍڑیلز ڈرامے پر حیرت نہیں ہے لیکن اس ڈرامے کے اسکرپٹ میں اور کرداروں میں جس طرح خواتین کو دکھایا گیا ہے لیکن اس طرح خواتین کو با اختیار بنانا اور دکھانا صرف حماقت ہے-


    ایک صارف نے لکھا کہ یہ حیرت کی بات ہے کہ ایک ایسے ملک میں یہاں لوگوں کو فحش نگاہوں کی سب سے زیادہ شرح ہے اس میں چڑیلز کے ایک منظر کے ساتھ ایک مسئلہ ہے جس نے اس کام کی حقیقت کو اجاگر کیا ہے کہ خواتین کو کام کی جگہ پر کیا سلوک کرنا چاہئے ایکشن فلموں پر بھی پابندی لگائیں کیوں کہ پاکستان میں تشدد اور قتل و غارت گری کا بحران پڑا ہے!


    ایک صارف نے چڑیلز کے سین پر تنقید کرنے والوں کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ چڑیلز بہت سارے لوگوں کے روکنے اور غم و غصے کے باوجود ٹھیک کام کررہے تھے یہاں تک کہ ہینڈ کام کے بارے میں ایک منظر وائرل ہو گیا جس نے پاگلوں کی طرح پاکستانیوں کو متحرک کردیا اور تنقید میں پیش پیش یہ وہی پاکستانی ہیں جو فحش تلاش اور دیکھنے کی فہرست میں سرفہرست ہیں۔
    https://twitter.com/ali_zarwan/status/1313818698621349888?s=20
    ایک صارف نے لکھا کہ چڑیلز اور اس گھٹیا پن کا دفاع کرنے والے سبھی لوگ آپ کے لئے میرے پاس ایک سوال ہیں۔ سوال یہ ہے کہ آپ ابوجہل اور یزید اور فرعون اور نمرود جیسے لوگوں کا دفاع کرنے کا ارادہ کرتے ہیں۔ کیونکہ آپ ان لوگوں سے مختلف نہیں ہیں۔ آپ سب ایک جیسے ہیں-


    ایک صارف نے لکھا کہ جب آپ معیاری مواد پر پابندی لگاتے ہیں اور نشریاتی طور پر مطلق ردی کے علاوہ کسی اور چیز میں سرمایہ کاری نہیں کرتے ہیں تو آپ اس ملک سے ذہنی اور اخلاقی طور پر کس طرح ترقی کریں گے؟


    ایک صارف نے لکھا کہ قتل ، زیادتی ، تشدد ، شادی سے پہلے کے تعلقات اور واضح زبان سب کچھ اس سے پہلے پاکستانی میڈیا میں ہوچکا ہے۔ فرق صرف اتنا تھا کہ چڑیلز مضبوط خواتین کی قیادت میں کہانی سنانا ہے۔


    ایک صارف نے چڑیلز کی حمایت کرنے والوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے لکھا کہ عورت مارچ میں پورے سال کے لئے ، آپ میڈیا میں خواتین کے جنسی زیادتی کی مخالفت کرتے ہیں لیکن اسی سلسلے میں چڑیلز کی طرح اس کی حمایت کرتے ہیں اگر یہاں کوئی منافق ہے تو آپ ہی ہیں-


    ایک صارف نے لکھا کہ اگر آپ شراب پینے اور تمباکو نوشی کے جوائن کر کے خواتین کو بااختیار بنارہے ہیں تو آپ اسے غلط دکھا رہے ہیں-
    https://twitter.com/F_Z1214/status/1313823152351322112?s=20
    ایک صارف نے کورلش عثمان کا پوسٹر شئیر کرتے ہوئے لکھا کہ یہی اصلی مواد ہے جسے ہمیں دیکھنا چاہئےہمیں پاکستانی ڈراموں کو بائیکاٹ کرنا ہے اگر آپ واقعی میں کچھ جاننا چاہتے ہیں اور مثبت چیزیں سیکھنے کے خواہشمند ہیں تو ہماری اسلامی ہیروز کی تاریخ کسی بھی دوسرے مواد سے بہتر ہے۔
    https://twitter.com/iamkanwalshah/status/1313813540151668737?s=20

    ویب سیریز ’چڑیلز‘ کی ٹیم پر فرانسیسی آرٹسٹ کا خاکہ کاپی کرنے کا الزام

    ’چڑیلز‘ شوہروں کی بے وفائی سے پردی اٹھاتیں ذہین بولڈ بہادر اور خوبصورت خواتین کی کہانی

    پاکستان کی پہلی اوریجنل ویب سیریز ’چڑیلز‘ کا ٹریلر جاری

    پاکستانی بہادر ،بولڈ اور ذہین ’چڑیلز‘ کی دنیا بھر میں دھوم

  • سوشل میڈیا پیغام میں ماہرہ خان نے اپنے پہلے پیار کا نام بتا دیا

    سوشل میڈیا پیغام میں ماہرہ خان نے اپنے پہلے پیار کا نام بتا دیا

    پاکستان شوبز انڈسٹری کی ورسٹائل اور صف اول کی اداکارہ ماہرہ خان نے آخر اپنے مداحوں کو بتا ہی دیا کہ اُن کا پہلا پیار کون ہے۔

    باغی ٹی وی:ماہرہ خان سوشل میڈیا کے ذریعے ہمیشہ دوسورن کی خوشیوں اور گم میں برابر کی شریک رہتی ہیں اور موقع کی مناسبت سے اپنے پیغامات جاری کرتی ہیں کسی کی بھی سالگرہ ہو یا کوئی بھی خوشی کی خبر ماہرہ خان کبھی بھی نیک خواہشات کا اظہار کرنا نہیں بھولتیں اسی طرح کسی ناخوشگوارواقعے یا کسی غم کی خبر سامنے آنے پر بھی اُن کی طرف سے ہمیشہ پیغام جاری کیا جاتا ہے۔

    تاہم ہمیشہ کی طرح اب بھی اداکارہ نے اپنی دوست انیسہ فیصل کی سالگرہ پر ایک خوبصورت پیغام جا ری کرتے ہوئے سالگرہ کی مبارکباد دی ہے –
    https://www.instagram.com/p/CGCZR-7BcEp/?utm_source=ig_embed
    اداکارہ ماہرہ خان نے سماجی رابطے می ویب سائٹ انسٹاگرام پر ایک تصویر اور ایک ویڈیو شیئر کی ہے تصویر میں وہ اپنی ایک دوست کے ہمراہ موجود ہیں اور دونوں ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکرا رہی ہیں۔

    دوسری جانب ویڈیو میں ایک لڑکا اور ایک لڑکی ساتھ کھڑے ہیں جبکہ بیک گراؤنڈ میں خوبصورت گانا ’کھو گئے ہم کہاں‘ چل رہا ہے۔

    انسٹاگرام پر شیئر کردہ تصویر کرتے ہوئے کیپشن میں ماہرہ خان نے لکھا کہ میری انسیہ دوست نہیں پہلا پیار ہو تم جان سے زیادہ عزیز ہو تم، میرے جگر کا ٹکراہو تم ہمیشہ خوش رہو۔

    اداکارہ نے اپنی سہیلی انسیہ فیصل کو مخاطب کرتے ہوئے مزید لکھا کہ سالگرہ مبارک ہو، صرف تمہاری ماہرہ۔

    ماہرہ خان نے اپنے کیپشن میں شیئر کردہ ویڈیو کے حوالے سے لکھا کہ یہ گانا اور یہ تصویر مجھے ہم دونوں کی یاد دلاتی ہے جب ہم آپ کی بالکونی میں کھڑے ہوکر ہماری زندگیوں کے بارے میں بات کررہے ہوتے تھے ہم ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ رہیں گے۔

  • انٹر نیٹ پر ان معروف شخصیات کو سرچ کرنا مہنگا پڑ سکتا ہے

    انٹر نیٹ پر ان معروف شخصیات کو سرچ کرنا مہنگا پڑ سکتا ہے

    اپنی پسندیدہ معروف شخصیات کو انٹر نیٹ پر سرچ کرنا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے-

    باغی ٹی وی : مداح اپنی پسندیدہ شخصیات کے بارے میں جاننے کے لیے انٹرنیٹ پر سرچ کرتے ہیں ویسے تو یہ عام سی بات ہے لیکن ان معروف شخصیات کے بارے میں انٹرنیٹ پر سرچ کرنا اب خطرناک بھی ثابت ہوسکتا ہے۔ کیونکہ اس سے سائبر تھریٹس یا وائرس کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

    بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق انٹرنیٹ پر نئے بگز اور وائرس سے سیکورٹی فراہم کرنے والی کمپنی ’میکافی‘ نے حال ہی میں بھارت کی ’موسٹ ڈینجرس سیلیبرٹی لسٹ 2020‘ یعنی رواں سال کے لیے خطرناک ترین سیلبرٹی فہرست کا 14 واں ایڈیشن جاری کیا ہے۔اس میں سرفہرست معروف فٹبالر کرسٹیانو رونالڈو ہیں جبکہ اداکارہ تبو دوسرے نمبر پر ہیں۔

    لاک ڈاؤن کے دوران دنیا بھر میں انٹرنیٹ کے استعمال میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ چنانچہ ہیکرز نے صارفین کو پھنسانے کے لیے ایسی شخصیات اور ناموں کا استعمال کیا جو عموماً زیادہ سرچ کیے جاتے ہیں صارفین کے سامنے ہیکرز ایسی سائٹس پیش کرتے ہیں جو باآسانی کسی کے بھی پھنسنے کا باعث بن سکتی ہیں سیکیورٹی کمپنی ’میکایفی‘ ہر سال خطرناک ترین افراد کی فہرست جاری کرتی ہے۔

    اس میں سرفہرست معروف فٹبالر کرسٹیانو رونالڈو ہیں جبکہ بھارتی اداکارہ تبو دوسرے نمبر پر ہیں تیسرے نمبر پر سب سے زیادہ خطرناک شخصیت اداکارہ تاپسی پنوں ہیں-

    جبکہ ’میکافی‘ کی فہرست کے مطابق چوتھے نمبر پر اداکارہ انوشکا شرما اور پانچویں نمبر پر سوناکشی سنہا کے پرستاروں کو انتباہ کیا گیا ہے جن کے بارے میں سرچ کرنے کے دوران خطرناک وائرس آپ کے اسمارٹ فون یا کمپیوٹر میں جگہ بنا سکتے ہیں۔

    اسی طرح گلوکار ارمان ملک کو سرچ کرنا بھی آپ پر بھاری پڑسکتا ہے کیونکہ وہ خطرناک شخصیات کی فہرست میں چھٹے نمبر پر موجود ہیں۔

    اداکارہ سارہ علی خان ساتویں نمبر پر جبکہ بھارت کی ٹی وی اداکارہ دیویانکا ترپاٹھی کا نمبر آٹھواں ہے جو خطرناک ترین سیلیبرٹی ثابت ہو سکتی ہیں-

    اس طرح اس فہرست میں بالی ووڈ کنگ خان شاہ رخ خان نویں اور گلوکار ارجیت سنگھ دسویں نمبر پر موجود ہیں جو حقیقی زندگی میں جتنے بھی اچھے ہوں مگر آن لائن ورلڈ میں ان کے بارے میں سرچ کرنا تباہ کن ثابت ہوسکتا ہے۔
    1:کرسٹیانو رونالڈو

    2: تبو

    3:تاپسی پنو

    4:انوشکا شرما

    5: سوناکشی سنہا

    6:ارمان ملک

    7:سارہ علی خان

    8:دیوینیکا ترپاٹھی

    9:شاہ رخ خان

    10:ارجیت سنگھ

    معروف شخصیات کو انٹرنیٹ پر سرچ کرنا خطرناک ثابت ہوسکتا ہے