Baaghi TV

Category: شوبز

  • علی ظفر کے خلاف کوئی کیس نہیں یہ انتہائی بدقسمتی ہے کہ حقوق نسواں کی علمبردار تنظیمیں دوسروں کے حقوق غضب کررہی ہیں اور بدنام کرنے کی مہم کا حصہ بن رہی ہیں

    علی ظفر کے خلاف کوئی کیس نہیں یہ انتہائی بدقسمتی ہے کہ حقوق نسواں کی علمبردار تنظیمیں دوسروں کے حقوق غضب کررہی ہیں اور بدنام کرنے کی مہم کا حصہ بن رہی ہیں

    پاکستانی گلوکار و اداکار علی ظفر کی وکیل نے خواتین کے حقوق کی علمبردار تنظیموں کی جانب سے صدر مملکت اور وزیراعظم کو لکھے گئے خط کا جواب دے دیا-

    باغی ٹی وی : یوم آزادی 2020 کے موقع پر صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی جانب سے مختلف شعبہ جات میں نمایاں خدمات سر انجام دینے والی 184 ملکی اور غیر ملکی شخصیات کو پاکستان کے اعلیٰ سول ایوارڈز سے نوازنے کا اعلان کیا گیا تھا یہ ایوراڈز آئندہ سال 23 مارچ کو یوم پاکستان پر نوازے جائیں گے-

    صدر مملکت کی جانب سے 24 شخصیات کے لیے ستارہ شجاعت، 27 کے لیے ستارہ امتیاز، 23 کے لیے تمغہ شجاعت، 46 کے لیے تمغہ امتیاز، 7 کے لیے نشان امتیاز، 2 کے لیے ہلال امتیاز، ایک کے لیے ہلال قائد اعظم، 2 کے لیے ستارہ پاکستان، 6 کے لیے ستارہ قائد اعظم، ایک کے لیے ستارہ خدمت، ایک کے لیے تمغہ پاکستان، ایک کے لیے تمغہ قائد اعظم جبکہ 44 شخصیات کے لیے صدارتی تمغہ حسن کارکردگی کا اعلان کیا گیا تھا۔

    صدر مملکت نے غیر ملکی شخصیات کے علاوہ میوزک، اداکاری، ادب اور دیگر فنون لطیفہ کے شعبہ جات سے بھی متعدد شخصیات کو ایوارڈز کے لیے نامزد کیا ہے ان میں گلوکار علی ظفر بھی شامل ہیں۔

    علی ظفر نے حکومت پاکستان کی جانب سے صدارتی تمغہ حسن کارکردگی کے لیے نامزدگی پر خوشی کا اظہار بھی کیا تھا اور نامزدگی کو بہت بڑا اعزاز قرار دیا تھا۔

    پاکستان کے اعلیٰ سول ایوارڈ کے لیے نامزد ہونے والے فنکار نےپاکستان کے اعلیٰ سول ایوارڈ کے لیے نامزد ہونے پر سماجی رابطے کی ویب سائٹ انسٹا گرام پوسٹ کے ذریعے اللہ تعالیٰ اور حکومت پاکستان کا شکریہ ادا کیا تھا ۔

    اس کے چند روز بعد اداکارہ عفت عمر نے سول ایوارڈز کی نامزدگی سے متعلق ایک تنقیدی ٹوئٹ کی تھی لیکن کسی کا نام نہیں لیا تھا۔

    عفت عمر نے لکھا تھا کہ صرف پاکستان میں یہ ممکن ہے کہ حکومت کی طرف سے مبینہ طور پر ہراسانی میں ملوث شخص کو ایوارڈ دیاجائے۔


    انہوں نے اپنے ٹوئٹ میں یہ واضح نہیں کیا تھا کہ وہ کس شخص کے حوالے سے بات کررہی ہیں تاہم لوگوں نے اندازہ لگاتے ہوئے کہا تھا کہ عفت عمر گلوکار علی ظفر کے بارے میں بات کررہی ہیں۔جس پر سوشمل میڈیا صارفین نے علی ظفر کی مایت کرتے ہوئے عفت عُمر کو خوب سُنائیں تھیں-

    جس کے بعد عورت مارچ، عورت آزادی مارچ، ویمن ایکشن فورم اور تحریک نسواں کی جانب سے صدر مملکت عارف علوی اور وزیراعظم عمران خان کو لکھے گئے خط میں علی ظفر کو سول ایوارڈ دینے سے متعلق فیصلے پر نظر ثانی کرنے کو کہا گیا تھا۔


    اس حوالے سے لکھے گئے خط میں کہا گیا تھا کہ ہم پاکستانی معاشرے کو مزید مساوی بنانے کے لیے کام کررہے ہیں کہ جنسی ہراسانی کا سامنا کرنے والی خواتین کو انصاف فراہم کیا جائے اور کام کی جگہ پر تشدد کا خاتمہ اولین ترجیح ہونا چاہیے۔

    خط میں کہا گیا تھا کہ ہمارا ماننا ہے کہ موجودہ حکومت تمام سیاسی اداروں اور مشینری میں برابری اور انصاف کو شامل کرنے کے مینڈیٹ پر کام کررہی ہے اور پاکستانی خواتین، ٹرانس ویمن اور دیگر پسماندہ طبقات کے تحفظ ان کا خصوصی فرض ہے۔

    اس میں کہا گیا تھا کہ صدارتی دفتر کی جانب سے علی ظفر کو تمغہ حسن کارکردگی دینے کے فیصلے پر ہمیں شدید تشویش ہے کیونکہ علی ظفر پر جنسی ہراسانی کے الزامات عائد ہیں اور اس حوالے سے مقدمات تاحال جاری ہیں علی ظفر کے خلاف سپریم کورٹ میں ہراسانی اور ہتک عزت کا ایک مقدمہ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ کورٹ لاہور میں زیر التوا ہے- جبکہ اس دوران یہ اعزاز دیے جانے کا وقت انتہائی پریشان کن اور بے حسی ہے۔

    خط میں کہا گیا کہ تھا ہم اس تمغے کے عزت و احترام کو داغدار ہوتا نہیں دیکھنا چاہتے۔

    خط میں کہا گیا تھا کہ پاکستان بھر میں حقوق نسواں نے علی ظفر کو پرائیڈ آف پرفارمنس دینے کے حالیہ فیصلے کی مذمت کرتی ہے۔ریاست ایک مبینہ ہراسانی کے الزامات کا سامنا کرنے والے شخص کے ساتھ کھڑی ہے

    ہم ریاست سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ اس سال کے انتخاب پر دوبارہ غور کریں انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان کے دفاتر کو امتیازی نظاموں، علامات، معیار سے وابستہ نہیں ہونا چاہیے۔

    ساتھ ہی وزیراعظم سے ملازمت کی جگہوں کو ہراسانی سے پاک بنانے پر غور کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

    تاہم تنظیموں کے وزیر اعظم اور صدر عارف علوی کو لکھے گئے اس خط کے بعد علی ظفر کی وکیل بیرسٹر عنبرین قریشی سامنے آئیں اور خط پر ردعمل دیا-

    بیرسٹر عنبرین نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے ٹویٹ میں ایک نوٹ شئیر کرتے ہوئے لکھا کہ حقائق بمقابلہ افسانہ: علی ظفر کو دیئے گئے پرائڈ آف پرفارمنس ایوارڈ کے حوالے سے صدر کو ارسطو مارچ آرگنائزیشن کی جانب سے لکھے گئے خط کا ہمارا جواب۔


    بیرسٹر عنبرین نے نوٹ میں لکھا کہ یہ انتہائی بدقسمتی ہے کہ خواتین کے حقوق کے لیے لڑنے والی تنظیمیں دوسروں کے حقوق غضب کررہی ہیں اور بدنام کرنے کی مہم کا حصہ بن رہی ہیں۔

    علی ظفر کی وکیل نے لکھا کہ مس شفیع کی جانب سے جنسی ہراسانی کی شکایت پنجاب محتسب کے بعد گورنر پنجاب اور یہاں تک کہ لاہور ہائی کورٹ بھی خارج کرچکی ہے اور سپریم کورٹ نے اب تک لاہور کی عدالت عالیہ کے فیصلے کے خلاف اپیل کی اجازت نہیں دی۔

    بیرسٹر عنبرین نے لکھا کہ میشا شفیع کی جانب سے ہتک عزت کا نام نہاد کیس بھی عدالت نے علی ظفر کے کیس کے فیصلے تک روک دیا ہے جس میں انہوں نے میشا شفیع کے خلاف ایک ارب ہرجانے کا دعویٰ دائر کیا تھا لہذا ان کے خلاف زیر التوا کیسز کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا-

    انہوں نے لکھا کہ وہ تنظیم جو انصاف کے عالمی قانون کہ قصوروار ثابت ہونے تک ہر شخص بے گناہ ہوتا ہے کی حامی ہے وہ صدر پاکستان کو لکھے گئے خط میں کیس کے حقائق کو غلط انداز میں پیش کررہی ہے۔

    علی ظفر کی وکیل نے لکھا کہ علی ظفر کی جانب سے میشا شفیع کے خلاف زیر التوا مقدمات کی نوعیت سول اور مجرمانہ ہے ان میں ایف آئی اے کے سائبر کرائم سیل میں مسٹر ظفر کے خلاف مذموم مہم کا حصہ بننے والوں کے خلاف بھی کیسز دائر ہیں علاوہ ازیں اس حوالے سے ایف آئی اے سائبر کرائم میں الیکٹرونک کرائمز ایکٹ کے تحت ایک تفتیش زیر التوا ہے۔

    انہوں نے لکھا کہ حقوق نسواں کی تنظیم کا بیان بھی اسی زمرے میں آتا ہے جو حکومت پاکستان کی جانب سے علی ظفر کی قابل ذکر کامیابیوں پر انہیں ‘تمغہ حسن کارکردگی’ کے لیے نامزد کرنے کے دوران گلوکار کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کا بیانیہ ہے جس میں ‘زیر التوا مقدمات’ کا جھوٹ شامل ہے لہذا اس جھوٹی غلط بیانی اور کسی کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کے جُرم پر سزا دی جائے ایک ملین ہرجانے کا نوٹس بھجوایا جائے-

    علی ظفر کی وکیل نے لکھا کہ معزز عدالت نے میشا شفیع کی جانب سے عدالت میں پیش نہ ہونے پر جرمانہ بھی عائد کیا تھا اور علی ظفر کی حمایت میں 9 عینی شاہدین کے ان کے خلاف بیانات قلمبند کے بعد عدالت میں ان کے پیش ہونے کا انتظار ہے۔

    بیرسٹر عنبرین قریشی نے لکھاکہ میڈیا اور دیگر افراد حقائق کا جائزہ لیے بغیر دھوکا دہی اور بدنام کرنے سے متعلق بیانیے پر مبنی غیر ذمہ دار بیانات کا شکار نہ بنیں۔

    واضح رہے کہ 2018 میں گلوکارہ میشا شفیع نے علی ظفر پر جنسی ہراسانی کا الزام لگایا تھا جس کے بعد دونوں کے درمیان طویل قانونی جنگ ہوئی۔ بعد ازاں علی ظفر نے دعویٰ کیا کہ میشا شفیع اپنے الزامات کو ثابت نہیں کرسکیں عدالت نے ان کا کیس خارج کردیا اور علی ظفر یہ کیس جیت چکے ہیں۔

    جبکہ علی ظفر پر ہراسانی کے الزامات لگانے والی خواتین میں سے 2 معافی بھی مانگ چکی ہیں جن میں صوفی نامی ٹوئٹر صارف اور خاتون بلاگر و سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ مہوش اعجاز شامل ہیں۔

    علی ظفر کے خلاف پروپیگنڈہ پر سوشل میڈیا صارفین نے عفت عمر کو کھری کھری سنا دیں

    حکومت پاکستان کی جانب سے پرائیڈ آف پرفارمنس ملنا میرے لئے بہت بڑے اعزاز کی بات ہے ہمایوں سعید

    میوزک، اداکاری، ادب سمیت 184 ملکی اورغیر ملکی شخصیات کو پاکستان کے اعلیٰ سول ایوارڈز دینے کا اعلان

    خواتین کے حقوق کی علمبردار تنظیموں کا علی ظفر کو ایوارڈ کے لئے نامزد کرنے پر شدید ردعمل

  • ایمزون پرائم ویڈیو کی پاکستانی اداکار حسن خان کے ساتھ سوشانت سنگھ پر فلم بنانے کی تردید

    ایمزون پرائم ویڈیو کی پاکستانی اداکار حسن خان کے ساتھ سوشانت سنگھ پر فلم بنانے کی تردید

    ایمز ون پرائم ویڈیو نے پاکستان شوبز انڈسٹری سے تعلق رکھنے والے اداکار حسن خان کے ساتھ بالی وڈ آنجہانی اداکارسوشانت سنگھ راجپوت کی زندگی پر فلم بنانے کی تردید کردی۔

    باغی ٹی وی : چند روز قبل یہ خبریں زیر گردش تھیں کہ جلد ہی ایمزون پرائم ویڈیو سوشانت کی زندگی پر ویب سیریز بنانے کا آغاز کردے گا اور مذکورہ فلم میں پاکستانی اداکار حسن خان سوشانت سنگھ کا کردار نبھائیں گے-

    میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ خبریں اُس وقت وائرل ہوئیں جب حسن خان نامی پاکستانی اداکار نے  فیس بک  سمیت دیگر سوشل میڈیا ویب سائٹس پر دعویٰ کیا کہ اُنہیں سوشانت کی زندگی پر بننے والی فلم میں کاسٹ کرلیا گیا ہے۔
    https://www.instagram.com/p/CD_-eIEJkUs/?utm_source=ig_embed
    حسن خان نے اپنی اور سوشانت سنگھ کی ایک تصویر شیئر کرتےہوئے دعویٰ کیا تھا کہ کہ الحمد اللہ مجھے وہ پروجیکٹ مل گیا ہے جوکہ میرے دل کے انتہائی بہت قریب تر ہے کیوں کہ میں اس سوشانت سنگھ کا کردار ادا کروں گا۔

    حسن خان کی اس پوسٹ پر کراچی میں موجود’ نیشنل اکیڈمی آف پرفارمنگ آرٹ‘ (ناپا) کے نام سے بنے ٹوئٹر ہینڈل نے بھی اُنہیں مبارک باد پیش کی۔

    مذکورہ پوسٹ کے بعد بھارتی میڈیا نیوز 18 نے رپورٹ شائع کی کہ ممکنہ طور پر پاکستانی اداکار سوشانت سنگھ کی زندگی پر بنائی جانے والی فلم میں کام کرتے دکھائی دیں گے۔ جس کے بعد اب پرائم ویڈیو نے حسن خان کے ساتھ سوشانت کی زندگی پر ویب سیریز بنائے جانے کی خبروں کی تردید کردی ہے۔

    نیوز 18 نے بتایا کہ سرکاری بیان کے مطابق”ایمزون پرائم ویڈیو نے اداکار حسن خان کے ساتھ مرحوم سوشانت سنگھ راجپوت یا کسی اور کے ساتھ کسی بھی پروجیکٹ کو لائسنس نہیں دیا ہے۔

    میڈیارپورٹس کے مطابق ایمازون پرائم ویڈیو کی جانب سے جاری مختصر بیان میں کہا گیا ہے کہ کمپنی سوشانت سنگھ کی زندگی پر کسی طرح کی ویب سیریز پاکستانی اداکار کے ساتھ نہیں بنا رہا-

    واضح رہے کہ بالی وڈ کے نوجوان اداکار سوشانت سنگھ راجپوت نے رواں ماہ 14 جون کو ممبئی کے علاقہ باندرہ میں اپنی رہائش گاہ پر خود کُشی کر کے اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا تھا۔خود کشی کی وجہ اداکار کو ذہنی ڈپریشن میں مبتلا قراردیا تھا تاہم اداکار کی موت کی تحقیقات تو ابھی تک جاری ہے لیکن اب تک خودکشی کرنے کی کوئی اور وجہ سامنے نہیں آئی اور اب اُن کی خودکشی کی وجوہات جاننے کے لیے بھارت کی مرکزی تفتیشی ایجنسی سینٹرل بیورو انویسٹی گیشن (سی بی آئی) اس معاملے کی تفتیش کر رہی ہے۔

    بھارتی اداکار سوشانت سنگھ راجپوت نے خودکشی کر لی

    ویویک اوبرائے نے بھی سوشانت سنگھ کی موت کا ذمہ دار بالی وڈ کو قرار دیا

    بھارتی اداکار سوشانت سنگھ راجپوت کی 50 خواہشات

    بھارتی آنجہانی اداکار سوشانت سنگھ راجپوت کی زندگی پر بنائی جانے والی فلم میں پاکستانی اداکار حسن خان مرکزی کردارادا کریں گے

    بھارتی لیجنڈری اداکار نصیرالدین شاہ نے بالی وڈ میں اقربا پروری اور مافیا کی بحث کو…

    سوشانت سنگھ راجپوت کے قریبی دوست کا سوشانت اور سارہ علی خان کے درمیان تعلقات کا…

    اداکارہ اشنا شاہ نے فیشن بلاگر ڈاکٹر ماہا شاہ کی خودکشی کو قتل قرار دیا

  • حکومت اگر مالی سپورٹ کرے تو پاکستان میں بھی ’ارطغرل غازی‘ جیسے ڈرامے بنائے جا سکتے ہیں ہمایوں سعید

    حکومت اگر مالی سپورٹ کرے تو پاکستان میں بھی ’ارطغرل غازی‘ جیسے ڈرامے بنائے جا سکتے ہیں ہمایوں سعید

    پاکستان شوبز انڈسٹری کے سُپر اسٹاراور پروڈیوسر ہمایوں سعید کا کہنا ہے کہ اگر پاکستانی حکومت مالی طور پر سپورٹ کرے تو ہم بھی ’ارطغرل‘ جیسے تاریخی ڈرامے بنا سکتے ہیں۔

    باغی ٹی وی :تُرک ڈراموں اور فلموں کو دنیا بھر میں پسند کیا جاتا ہےمگر جو مقبولیت ترک مسلمانوں کی تیرہویں صدی میں اسلامی فتوحات پر مبنی ترکش ڈرامہ سیریل ’’ارطغرل غازی‘‘ جسے ترکی کا گیم آف تھرونز بھی کہا جاتا ہے کو ملی اس کی مثال نہیں ملتی۔ اسے دنیا کے کم و بیش ساٹھ ( 60 ) ممالک میں ڈب کر کے دکھایا گیا ہے-

    نیا کے متعدد ممالک میں نشر ہونے کے بعد اب یہ پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی ) یکم رمضان سے پاکستانی وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر نشر کیا جارہا ہے اور اس کا سیزن 1 چل رہا ہے جبکہ اس کے مجموعی طور پر 5 سیزن ہیں۔

    پہلے سیزن کی کہانی میں تیرھویں صدی کا زمانہ دکھایا گیا ہے اور قائی قبیلہ منگولوں کے حملوں سے بچنے کے لیے نئی منزل تلاش کرتا ہے جس کے لیے قبیلے کے سردار کا بیٹا ارطغرل آگے بڑھ کر کردار ادا کرتا ہے-

    یورپ، مڈل ایسٹ، افریقہ اور یورپ سے 700 ملین ناظرین کو اپنے سحر میں گرفتار کرنے والا ڈراما غازی ارطغرل آذربائیجان، ترکمانستان، قازقستان، ازبکستان، البانیہ، پولینڈ، سربیا، بوسنیا، ہزروگوینا، ہنگری اور یونان میں ریکارڈ توڑنے کے بعد اب پاکستان میں بھی یکم رمضان سے پی ٹی وی پر نشر کیا جا رہا ہے جسے لوگ بہت شوق سے دیکھ رہے ہیں اور دوسروں کو بھی دیکھنے کا مشورہ دے رہے ہیں-

    ارطغرل غازی کو پی ٹی وی رواں برس اپریل سے وزیر اعظم عمران خان کی ہدایت پر پی ٹی وی پر نشر کرنے پر شوبز شخصیات منقسم دکھائی دیں جہاں اس ڈرامے کو شوبز شخصیات پی ٹی وی پر نشر کئے جانے کی حامی ہیں کچھ فنکار مذکورہ ڈرامہ پی ٹی وی پر نشر کرنے کے پر ناراض دکھائی دیئے اور تاحال اس پر اداکاروں کی مختلف رائے سامنے آ رہی ہے۔جبکہ پاکستانی عوام کی جانب سے اس ڈرامے کو بے حد پسند کیا جارہا ہے-

    ترک ڈرامے جو پسند کرنے والوں میں پاکستانی معروف اداکار و پروڈیوسر پمایوں سعید بھی شامل ہیں انہوں نے حال ہی میں کراچی میٰ میک اے وش کی جانب سے منعقد کی گئی تقریب میں انجین التان کے ساتھ کی گئی لائیو ویڈیو گفتگو میں کہا کہ انہیں ارطغرل ڈرامہ پسن ہے اور انہوں نے اس ڈرامے کی تمام اقساط ارطغرل کی وجہ سے دیکھی ہیں کیونکہ انہیں ان کی اداکاری بہت اچھی لگی ہے-

    تاہم اب سوشل میڈیا پر ایک ہمایوں سعید کے انٹر ویو ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہورہی ہے جس میں وہ ایک نجی چینل کے میزبان سے ڈرامہ سیریل ’ارطغرل غازی‘ کے بارے میں بات کرتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ میزبان نے ہمایوں سعید سے پوچھا کہ ’ارطغرل‘ ڈرامہ جس طرح سے پاکستان میں پسند کیا گیا اس کے بعد کیا اب ہماری انڈسٹری بھی سوچ رہی ہے اسلامی تاریخ پر اسی طرح کے مزید ڈرامے بنانے کے بارے میں؟
    https://www.instagram.com/p/CELbtMah7rV/?igshid=fyezddrsyrp4
    اس سوال کے جواب میں ہمایوں سعید نے کہا اگر ہماری انڈسٹری ’ارطغرل‘ جیسے ڈرامے بنانے کے بارے میں نہیں سوچ رہی تو سوچنا چاہئے اور ہمیں اس طرح کے ڈرامے بنانے چاہئیں۔

    ہمایوں سعید نے کہا پہلے ہمارے یہاں اسلامی تاریخ پر مبنی ڈرامے بنتے تھے جیسے ’ٹیپو سلطان‘، ’بابر‘ اور ’محمد بن قاسم‘ وغیرہ بنے، تاہم انہیں بنے ہوئے بہت عرصہ ہوگیا ہے اور یہ تقریباً 30 ، 40 سال پرانی بات ہے۔ لیکن آج کے دور میں پروڈکشن کا معیار جہاں پہنچ گیا ہے اس میں بہت بڑی لاگت کے ڈرامے بنتے ہیں اور پروڈکشن ہاؤسز کو مالی سپورٹ کی ضرورت ہوتی ہے۔

    ہمایوں سعید نے کہا اگر میں ’ارطغرل‘ جیسا ڈرامہ بنانا چاہوں تو میں کوشش کرسکتا ہوں لیکن پیسوں کی وجہ سے اکیلے اس طرح کے میگا پروجیکٹ نہیں بنا سکتا۔ ڈرامہ سیریل ’ارطغرل‘ کو بھی بنانے میں ترک حکومت نے سپورٹ کی تھی۔ لہذا اگر ہماری حکومت بھی ہماری مالی طورپر سپورٹ کرے اور صرف میری ہی نہیں بلکہ کسی اور اچھے پروڈیوسر کی مدد کرے اور کرنی بھی چاہئے تاکہ ہم بھی اس قسم کی پروڈکشن کرسکیں۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل پاکستان کی سینئیر اداکارہ لیلیٰ زبیری نے ارطغرل ڈرامے کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ سمجھتی ہیں کہ ارطغرل ایک اسلامی تاریخ پر بنایا گیا ڈرامہ ہے اور اچھی بات ہے کہ ہمیں اسلامی تاریخ کا پتہ ہونا چاہیے، اگر ارطغرل غازی جیسے ڈرامے دکھائیں تو اِس پر اُنہیں کوئی اعتراض نہیں ہے۔
    https://www.instagram.com/p/CDbimzUFpi7/?utm_source=ig_embed
    لیلیٰ زبیری کا کہنا تھا کہ ہمارے لیے یہ ڈرامہ ایک طرح سے سبق ہے اور ہمارے ڈراموں کے لیے رول ماڈل ہے ہمیں بھی ایسے ڈرامے بنانے چاہیے، ہمارے پاس اتنا بڑا بجٹ نہیں مگر کوشش تو کی جا سکتی ہے

    اُن کا کہنا تھا کہ ارطغرل ڈرامہ بہت مشہور ہو رہا ہے اس کا مطلب ہے آپ یسی چیزیں بنائیں تو لوگ دیکھیں گے لوگ دیکھنا چاہیں گے عوام ایسا ڈرامہ دیکھنا چاہتی ہے ہمیں بھی ایسے ڈرامے بنانے چاہئیں بجائے اس کے کہ فضول قسم کے پیار، محبت اور افیئرز سے ہٹ کر ہمیں ایسے موضوع پر کام کرنا چاہیے۔

     

    ترکی کا معروف ڈرامہ ارطغرل گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ کیلئے منتخب

    پاکستان میں ڈرامہ سیریل ارطغرل غازی کی مقبولیت توقع سے زیادہ ہے ترگت الپ

    ارطغرل غازی ہمارے ڈراموں کے لیے رول ماڈل ہے لیلٰی زبیری

    شہرہ آفاق سیریز ارطغرل غازی کے اداکاروں کا بیروت میں ہونے والے خوفناک دھماکوں پر…

  • اداکارہ عتیقہ اوڈھو،شراب کیس،9 برس بعد عدالت نے فیصلہ سنا دیا

    اداکارہ عتیقہ اوڈھو،شراب کیس،9 برس بعد عدالت نے فیصلہ سنا دیا

    اداکارہ عتیقہ اوڈھو،شراب کیس،9 برس بعد عدالت نے فیصلہ سنا دیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سول عدالت راولپنڈی نے اداکارہ عتیقہ اوڈھو کو 9 سال بعد شراب کیس میں باعزت بری کر دیا

    عدالت نے فیصلے میں کہا کہ اداکارہ عتیقہ اوڈھو کےخلاف کوئی ثبوت نہیں انہیں بری کیا جاتا ہے،سول جج یاسر چوہدری نے میرٹ پر فیصلہ سنایا۔

    عتیقہ اوڈھو کے خلاف ایف آئی آر سپریم کورٹ کے ہیومن رائٹس سیل کی جانب سے متعلقہ حکام کو ہدایات جاری کیے جانے کے بعد درج کی گئی تھی۔ عدالت کے ہیومن رائٹس سیل نے مقامی اخبار کے چیف ایڈیٹر کی جانب سے خبر کی اشاعت اور درخواست دیے جانے پر نوٹس لیا تھا۔

    مایا علی جلد ہی نئے ڈرامے میں جلوہ گر ہوں گی

    پاگلوں سے دوستی کرنا پسند ہے مصیبت میں کوئی سمجھدار ساتھ نہیں دیتا نعمان اعجاز

    سوہائے ابڑو اور فرحان سعید کے نئے ڈرامے پریم گلی کا پہلا ٹیزر جاری

    عتیقہ اوڈھو پر الزام تھا کہ اسلام آباد سے کراچی جاتے ہوئے ان کے بیگ سے شراب کی 2 بوتلیں برآمد ہوئی تھیں۔ سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کے سوموٹو حکم پر 7 جون 2011 کو اداکارہ کے خلاف تھانہ ایئرپورٹ پولیس نے مقدمہ درج کیا تھا، اس مقدمہ میں 210 پیشیاں ہوئیں اور 16 جج تبدیل ہوئے۔

    اداکارہ عتیقہ اوڈھو نے عدالت کا فیصلہ آنے کے بعد بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ دیر سے سہی انصاف مل گیا.

    اپنے رب کی شکر گزار ہوں جس نے بطور اداکارہ اتنی عزت و احترام دیا عتیقہ اوڈھو

  • دلیپ کمار کے چھوٹے بھائی اسلم خان کا انتقال

    دلیپ کمار کے چھوٹے بھائی اسلم خان کا انتقال

    نامور اداکار دلیپ کمار کے چھوٹے بھائی اسلم خان کا انتقال ہو گیا ہے۔ انہوں نے آج صبح دنیا کو الوداع کہا۔ انہیں ذیابیطس، ہائی بلڈ پریشر اور دل کی بیماری تھی اور وہ کورونا وائرس مثبت پائےگئے تھے۔اسلم خان کی عمر تقریبا 88 سال تھی۔ پچھلے کچھ دنوں سے وہ ممبئی کے لیلاوتی اسپتال میں داخل تھے۔
    ان کے انتقال کی خبر سے کنبے کو گہرا صدمہ پہنچا ہے۔ اسلم خان کے بھائی احسان خان بھی لیلاوتی اسپتال میں بھرتی ہیں۔ وہ بھی کورونا سے متاثر ہیں۔ احسان خان کی حالت بھی سنگین بتائی جا رہی ہے۔ انہیں وینٹی لیٹر پر رکھا گیا ہے۔
    دلیپ کمار کے چھوٹے بھائی احسان خان اور اسلم خان دونوں کا COVID-19 ٹیسٹ حال ہی میں کروایا گیا تھا جس میں وہ دونوں ہی مثبت آئے تھے۔ اس کے بعد ہی انہیں ممبئی کے لیلاوتی اسپتال میں داخل کروایا گیا تھا۔ اسلم اور احسان خان دونوں کو ہی سانس پھولنے کی شکایت تھی۔

  • اداکارہ اشنا شاہ نے فیشن بلاگر ڈاکٹر ماہا شاہ کی خودکشی کو قتل قرار دیا

    اداکارہ اشنا شاہ نے فیشن بلاگر ڈاکٹر ماہا شاہ کی خودکشی کو قتل قرار دیا

    پاکستان شوبز انڈسٹری سے تعلق رکھنے والی مقبول اداکارہ اُشنا شاہ نے ڈاکٹر ماہا شاہ کی موت کو قتل قرار دیتے ہوئے اس کے لئے انصاف کا مطالبہ کر دیا-

    باغی ٹی وی :اُشنا شاہ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ٹوئٹ میں لکھا کہ کسی کےسر کے پیچھے گولیوں کا زخم یہ واضح کرتا ہے کہ یہ خودکشی نہیں ہے-
    https://twitter.com/ushnashah/status/1296267332105445380?s=20
    اپنے ایک اور ٹوئٹ میں اُشنا شاہ نے لکھا کہ پاکستان میں یہ بات غیر معمولی ہے کہ کسی بھی عورت کو غیرت کے نام پر یا گھریلو تنازع پر قتل کردیا جائے اور اسے خودکشی کا نام دے دیا جائے۔
    https://twitter.com/ushnashah/status/1296271163325329409?s=20
    انہوں نے لکھا کہ ایسے میں مقتولہ کو انصاف ملنے کا کوئی جواز باقی نہیں رہتا۔ براہ کرم اس اعدادوشمار میں اس نوجوان ڈاکٹر کو شامل نہ ہونے دیں۔

    اداکارہ نے اپنے ٹوئٹ میں ہیش ٹیگ ماہا شاہ کا بھی استعمال کیا۔

    واضح رہے کہ فیشن بلاگر ڈاکٹر ماہا شاہ سے متعلق کہا جارہا تھا کہ انہوں نے گھر کے واش روم میں خود کو بند کر کے خودکشی کرلی ہے تاہم اس معاملے نے اُس وقت ایک نیا رخ اختیار کیا جب یہ انکشاف ہوا کہ مقتولہ ماہا علی کے سر کے پیچھے گولی لگی۔

    ذرائع کے مطابق ڈاکٹر ماہا علی کے والدین میں علیحدگی ہو چکی تھی جبکہ دونوں نے دوسری شادیاں کر رکھی تھیں ان تمام وجوہات کی بنا پر ڈاکٹر ماہا علی ذہنی دباؤ کا شکار تھی ڈاکٹر ماہا علی کے ورثا نے قانونی کارروائی سے انکار کر دیا۔

    ڈرامہ سیریل ’لوگ کیا کہیں گے‘ میں خودکشی کے سین کے دوران حقیقت میں پھندا لگ گیا…

    جنسی زیادتی میں ملوث افراد کو سرعام پھانسی دینی چاہئیے تاکہ انہیں دوسروں کے لیے…

  • اپنے سُپر مین خود بنیں علی رحمٰن کی مداحوں کو نصیحت

    اپنے سُپر مین خود بنیں علی رحمٰن کی مداحوں کو نصیحت

    پاکستان شوبزانڈسٹری کے پُرکشش اور معروف اداکار علی رحمٰن خان نے سوشل میڈیا پر اپنے مداحوں کو نصیھت کی کہ وہ دوسروں سے سہارا لینے کی بجائے اپنے سُپر مین خود بنیں-

    باغی ٹی وی : پاکستان کے معروف اداکار علی رحمٰن خان نے سوشل میڈیا ویب سائٹ انسٹاگرام پر اپنی ایک دلچسپ تصویر شیئر کی ہے شئیر کی گئی تصویر میں اداکار علی رحمٰن زمین پر کحرے ہونے کی بجائے ہوا مین لٹک رہے ہیں-

    تصویر دیکھ کر ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ جیسے علی رحمٰن خان بالکل سپاٹ چہرہ لئے ہوا میں معلق کوئی بُت ہیں اُن کے چہرے پر کسی قسم کا کوئی تاثر بھی نہیں ہے-
    https://www.instagram.com/p/CEE39PThK9N/?igshid=1r6gly9gpx1gs
    علی رحمٰن نے اپنی تصویر شیئر کرتے ہوئے ساتھ میں اپنے مداحوں کو نصیحت کی کہ اپنے سُپر مین خود بنیں-

    علی رحمٰن نے لکھا کہ دوسروں کا سہارا بننےاور کسی دوسرے کی مدد کا انتظار کرنے کی بجائے اپنا سہارا خود بنیں اور اپنی تماما مشکلات خود حل کریں-

    علی رحمٰن کی جانب سے شیئر کی گئی اس تصویر اور نصیحت کو صارفین کی جانب سے خوب سراہا جا رہا ہے-


    علی رحمٰن خان اسکرین شاٹس

    مہوش حیات کا مداحوں کے لیے معنی خیز پیغام

     

    جن چیزوں کو ہم پیچھے چھوڑ دیتے ہیں ان سے کئی زیادہ بہتر چیزیں ہمیں آگے مل جاتی…

    ظاہری خوبصورتی کی بجائے اندرونی خوبصورتی کو ترجیح دیں حرامانی

  • حرامانی نے اپنی پُراعتماد شخصیت کا راز بتا دیا

    حرامانی نے اپنی پُراعتماد شخصیت کا راز بتا دیا

    پاکستان ٹی وی انڈسٹری کی خوبرو اور چُلبلی طبعیت کی مالک اداکارہ حرامانی کا کہنا ہے کہ اُن کی پُراعتماد شخصیت کا راز میک اپ ہے۔

    باغی ٹی وی : :کم عرصے میں شوبز میں اپنی الگ شناخت بنانے والی اور کامیابیوں کے جھنڈے گاڑنے والی اداکارہ حرا مانی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ انسٹاگرام پر اپنی دلکش تصاویر شیئر کیں –
    https://www.instagram.com/p/CD_mC5dHj5E/?igshid=1qlnhswv10b0v
    تصاویر شئیر کرتے ہوئے اداکارہ نے لکھا کہ مجھے اس اعتماد سے محبت ہے جو مجھے میک اپ دیتا ہے-

    اس سے قبل حرا مانی نے انسٹاگرام پر اپنی دلکش تصاویر شیئر کیں جس میں انہوں نے سفید رنگ کا لباس زیب تن کر رکھا ہے کیپشن میں اداکارہ نے بتایا تھا کہ اُن کی آنکھوں کے گرد گہرے حلقے موجود ہیں اور وہ یہ بات سب کے سامنے تسلیم کرتی ہیں۔
    https://www.instagram.com/p/CD8cl-uHErY/?utm_source=ig_embed
    انہوں نے کہا تھا کہ وہ اس بات کو بھی تسلیم کرتی ہیں کہ کوئی بھی شخص پرفیکٹ نہیں ہوتا ہمیں چاہئے کہ ہم ظاہری خوبصورتی کی بجائے باطنی خوبصورتی کو ترجیح دیں-

    انہوں نے ایک شعر بھی لکھا تھا کہ کتنے گہرے حلقے شام کے رنگ ہیں چھلکے –

    کم عرصے میں شوبز انڈسٹری میں کامیابیاں سمیٹنے والی اداکارہ حرا اکثر وبیشتر سوشل میڈیا پر مداحوں کے ساتھ ماضی کی تصاویر شیئر کرتی رہتی ہیں جنہیں مداحوں کی طرف سے بھی خوب سراہا جاتا ہے اور مداح تصویروں پر تعریفوں بھرے مختلف دلچسپ تبصرے کرتے ہیں-

    واضح رہے کہ 31 سالہ حرا مانی نے اداکاری کے کرئیر کا آغاز2013 میں تیری میری کہانی کے ساتھ کیا تھا وہ اس کے بعد یقین کا سفر، دل موم کا دیا، آنگن، بندش اور میرے پاس تُم ہو جیسے ڈراموں میں کام کرچکی ہیں-

    ظاہری خوبصورتی کی بجائے اندرونی خوبصورتی کو ترجیح دیں حرامانی

    عفان وحید اور حرامانی ایک بار پھر کسی پروجیکٹ میں ایک ساتھ نظر آئیں گے؟

  • نیٹ فلکس کے کامیڈی ٹاک شو پیٹرائٹ ایکٹ کے اچانک ختم ہو نے پر مداحوں کا شدید ردعمل

    نیٹ فلکس کے کامیڈی ٹاک شو پیٹرائٹ ایکٹ کے اچانک ختم ہو نے پر مداحوں کا شدید ردعمل

    نیٹ فلکس کے پرائم ٹائم میں نشر ہونے والا کامیڈی ٹاک شو پیٹرائٹ ایکٹ کے اچانک ختم ہو نے پر مداحوں نے شدید غحم و غصے کا اظہار کیا-

    باغی ٹی وی : کامیڈی ٹاک شو پیٹرائٹ ایکٹ کے میزبان بھارتی نژاد مسلمان حسن منہاج نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیٹرائٹ ایکٹ کے مداحوں کو الوداع کہتے ہوئے مذکورہ شو کے ختم ہونے کا اعلان کیا-

    حسن منہاج نے اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ پیٹرائٹ ایکٹ اپنے اختتام کو پہنچ گیا مجھے بہترین لکھاریوں، پروڈیوسرز، محققین اور اینیمیٹرز کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا۔
    https://twitter.com/hasanminhaj/status/1295726954751168517
    انہوں نے لکھا کہ اس دوران میرے 2 بچے پیدا ہوئے اور شو کے ساتھ بڑے ہوئے-

    حسن منہاج نے نیٹ فلکس اور پروگرام دیکھنے والوں کا شکریہ بھی ادا کیا اور کہا کہ اب وقت آ گیا ہے بہترین الوداع کہنے کا-

    حسن منہاج کے اس ٹوئٹ پر مداحوں نے حیرت اور غصے کا اظہار کیا اور میمز بنائیں –


    https://twitter.com/sam__omar/status/1295748363787350017?s=20


    ٹوئٹر صارف نے لکھا کہ مجھے سمجھ نہیں آیا کہ نیٹ فلکس نے ایسا شو کیوں بند کیا جو سماجی اور سیاسی مسائل کی کوریج دیتا ہے جسے اکثر مین اسٹریم میڈیا میں نہیں دکھایا جاتا۔
    https://twitter.com/OnniTokki/status/1295903178387533824?s=20
    ایک صارف نے لکھا کہ شو ختم ہونے پر بہت اداس ہوں حسن منہاج وہاں کی واحد ایشین آواز میں سے ایک ہیں جو اس طرح سچ بولنے کی جرات رکھتے تھے جس نے اس وقت جس پاگلپن میں ہم رہ رہے ہیں اس سے احساس ہوا۔


    ایک صارف نے لکھا کہ میں12 سال کی عمر سے یہ شو دیکھ رہی ہوں مجھے ایمانداری کے ساتھ معلوم نہیں ہے کہ منہاج اس طرح کے شوق اور طنز کے ساتھ اتنی اچھی طرح سے تحقیق شدہ اور باخبر مواد فراہم کرے گا۔


    ایک صارف نے لکھا کہ یہ سمجھ سے باہر ہے۔ موہن لاکھوں لوگوں سے ایسی اہم معلومات فراہم کررہا ہے اور بول رہا ہے۔ نیٹ فلکس کیسے غیر حساس ہوسکتا ہے؟


    ایک صارف نے لکھا کہ ایک اور صارف نے لکھا کہ حسن منہاج جنوبی ایشیا کا واحد کامیڈین ہے جس نے کبھی اپنے والد کی نقل کرتے وقت جعلی لہجہ اختیار نہیں کیا وہ ہماری کمیونٹی سے متعلق نہیں بلکہ اس کے لیے لطائف بناتے ہیں۔
    https://twitter.com/HCasterSugar/status/1295974110481326082?s=20
    ایک صارف نے لکھا کہ ہیلو بیڈ مارننگ ، میں ابھی بھی محب وطن ایکٹ کے منسوخ ہونے کے بارے میں غمزدہ ہوں-
    https://twitter.com/badawy10/status/1295844210596368389?s=20
    ایک صارف نے لکھا کہ عالمی رہنماؤں نے نیٹ فلکس کو ایسا کرنے پر مجبور کیا کیونکہ وہ اس سے نمٹ نہیں سکتے تھے۔
    https://twitter.com/time2ryot/status/1295764497659858945?s=20
    ایک صارف نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ شو اس لیے ختم کیا گیا کیونکہ حسن منہاج اور ان کی ٹیم نے خطرات مول لیے اور لوگوں کو غیر آرام دہ کیا جو نیٹ فلکس کے لیے بہت زیادہ تھا۔

    جہاں مداحوں نے غم و غصے کا اظہار کیا وہیں چینج ڈاٹ او آر جی نے اس شو کو واپس لانے کے لئے آن لائن پٹیشن دائر کی ہے جس پر ساڑھے 6 ہزار سے زائد مداح دستخط کرچکے ہیں-

    واضح رہے کہ پیٹرائٹ ایکٹ 2018 میں شروع ہوا تھا جو سیزنز پر مشتمل تھا اور اب تک اس کی 39 قسط نشر ہوچکی ہیں اور یہ اب تک مختلف اعزازات اپنے نام کر چُکا ہے-

    امریکی گلوکارہ ٹیلر سوئفٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو غیر موثرصدر قرار دیا

    اسپائیڈرمین کے بعد اب شائقین جلد ہی اسپائیڈر وومن کی مہارتوں سے بھی محفوظ ہوسکیں گے

    شہزادہ ہیری اور میگھن مارکل ہالی وڈ پروڈکشن میں کام کرنے جا رہے ہیں؟

  • ‘ارطغرل غازی ‘ کے کردار کا عبدالرحمٰن پشاوری کو خراج عقیدت،پاکستان کی ترکوں سے محبت کا منہ بولتا ثبوت

    ‘ارطغرل غازی ‘ کے کردار کا عبدالرحمٰن پشاوری کو خراج عقیدت،پاکستان کی ترکوں سے محبت کا منہ بولتا ثبوت

    انقرہ: ‘ارطغرل غازی ‘ کے کردار کا عبدالرحمٰن پشاوری کو خراج عقیدت،پاکستان کی ترکوں سے محبت کا منہ بولتا ثبوت ،اطلاعات کے مطابق پاکستان کے سرکاری نشریاتی پی ٹی وی پر اردو ترجمے کے ساتھ نشر ہونے والے اسلامی فتوحات پر مبنی ترکی کے مقبول ڈرامے ‘ارطغرل غازی’ کے اداکار نے سلطنت عثمانیہ کی فوج میں حصہ لینے والے عبدالرحمٰن پشاوری کو خراج عقیدت پیش کیا ہے۔

    ارطغرل ٖغازی میں عبدالرحمٰن الپ کا کردار ادا کرنے والے جلال الا نے فیس بک کی فوٹو شیئرنگ ایپ انسٹاگرام اسٹوری میں عبدالرحمٰن پشاوری کو خراج عقیدت پیش کیا۔

    انہوں نے لکھا کہ عبدالرحمٰن پشاوری ایک پاکستانی شیر تھے جنہوں نے اپنی کتابیں اور جیکٹ فروخت کرکے ایک مشکل سفر کرنے کے بعد جنگِ بلقان کے وقت سلطنت عثمانیہ کی فوج میں شمولیت اختیار کی تھی۔

    انہوں نے مزید لکھا کہ جب ان کی والدہ نے جنگ سے واپس آنے کی درخواست دی تھی تو عظیم ہیرو نے جواب دیا تھا کہ ترک مشکل ہیں میں واپس نہیں آسکتا۔

    جلال نے لکھا کہ وہ جنگجو جو لگاتار 3 مرتبہ ٖغازی رہنے کے باوجود گیلی پولی کے محاذ پر ڈٹے رہے اب استنبول کے قبرستان میں مدفون ہیں۔

    عبدالرحمٰن پشاوری 1886 میں پشاور کے امیر گھرانے صمدانی خاندان میں پیدا ہوئے تھے، وہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں زیر تعلیم تھے لیکن جنگ بلقان کے دوران ترکی کی مدد کے لیے اپنے پڑھائی ترک کرکے انہوں نے وہاں جانے والے پیرامیڈیکس کے وفد میں شمولیت اختیار کی تھی

    رواں برس انادولو ایجنسی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ان کے بھتیجے سلیم جان نے بتایا تھا کہ وفد کے دیگر اراکین 8 ماہ بعد واپس آگئے تھے لیکن وہ ترکی میں مقیم رہے اور عثمانی فوج میں شمولیت اختیار کی۔

    انہوں نے بیروت میں جنگ لڑی اور جنگ عظیم اول کے دوران گیلی پولی مہم کا حصہ بھی رہے۔وہ ترکی میں لالہ ترکی اور چاچا ترکی کے نام سے بھی جانے جاتے تھے۔

    بعدازاں پشتو، فارسی اور انگریزی زبانوں پر عبور کی وجہ سے انہیں 1920 سے 1922 کے درمیان افغانستان میں ترک سفیر بھی تعینات کیا گیا تھا۔انہوں نے مصطفیٰ کمال اتاترک کے ہمراہ ترکی کی جنگ آزادی بھی لڑی تھی، وہ 3 مرتبہ زخمی ہوئے تھے اور 1925میں استنبول میں شہید ہوئے تھے۔

    جب میڈیا کی اہمیت کے باعث ترک رہنماؤں نے انادولو نے 100 برس قبل 6 اپریل 1920 کو انادولو ایجنسی کی بنیاد رکھی تی تو عبدالرحمٰن پشاوری کو اس کے اولین رپورٹر ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہوا تھا۔

    انہوں نے بتایا تھا کہ ترک صدر رجب طیب اردوان نے عبدالرحمٰن پشاوری کے کردار سے متعلق بات کی تھی جس کے باعث لوگوں کے درمیان لوگوں کو ان سے متعلق جاننے میں دلچسپی پیدا ہوئی تھی۔