کراچی :معروف گلوکارعلی ظفر کا فنکاروں کی مدد کرنےکا اعلان ،اطلاعات کے مطابق فطمعروف گلوکار علی ظفر نے کراچی آرٹس کونسل کے ساتھ مل کر فنکاروں کی مدد کا اعلان کردیا
پاکستان کے معروف گلوکار و اداکار علی ظفر نے کہا ہے کہ کرونا کی وباء کے باعث سینکڑوں فنکار، موسیقار اور ٹیکنیشنز مشکلات کا شکار ہیں،تقریبات نہ ہونے کی وجہ سے لوگ بے روزگار ہو گئے ہیں۔
ایسی صورت حال میں کراچی آرٹس کونسل فنکاروں کی مالی معاونت میں اہم کردار ادا کر رہا ہے، کراچی آرٹس کونسل اور علی ظفر فاونڈیشن مل کر مستحق فنکاروں کی مدد کریں گے۔
علی ظفر نے کہا کہ اس سلسلے میں کراچی آرٹس کونسل کے ساتھ رابطے میں ہوں اور مستحق افراد کا ڈیٹا جمع کیا جا رہا ہے کوشش ہے کہ جلد از جلد ان کی مدد کی جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کسی بھی فنکار کی عزت نفس مجروح کیے بغیر گھر بیٹھے ان کی مدد کی جائے گی۔
لوگوں کے درمیان یہ بات معروف ہے کہ اس دنیا میں ہر انسان کے کم از کم 7 ہم شکل افراد موجود ہوتے ہیں اور ان میں سے کم از کم 2 افراد ایسے ہوتے ہیں جو ہوبہو ایک دوسرے جیسے ہوتے ہیں۔ایسے ہی پاکستان میں موجود ارطغرل کے دوسرے بڑے کردار ترگت کی ہو بہو مشابہت رکھنے والے پاکساتی نوجوان کے بھی چرچے ہو رہے ہیں-
باغی ٹی وی : پاکستان میں موجود مسلمانوں کی اسلامی فتوحات پر مبنی سیریز ارطغرل کے دوسرے بڑے کردار ترگت کی ہو بہو مشابہت رکھنے والے پاکساتی نوجوان کے بھی سوشل میڈیا پر چرچے ہو رہے ہیں –
حال ہی میں باغی ٹی وی کو دیئے گئے انٹرویو میں پاکستانی ترگت (حافظ محمد علی خان) کا کہنا تھا کہ وہ انٹر نشنل لیول کے کھلاڑی ہیں وہ اپنا باکسنگ کلب چلا رہے ہیں-
حافظ محمد علی خان پاکستانی تُرگتنے بتایا کہ انہیں لگتا تھا ان کا فیس لُک ارطغرل سے ملا ہے لیکن میرے دستوں کے مطابق میرا فیس تُرگت سے ملتا ہے-
انہوں نے بتایا جب میرے بال بڑے یو گئے تو سوسائٹی کے لوگوں اور فیس بُک پر میری تصویریں دیکھ کر لوگ مجھے ترگت کہنے لگے-
ڈراموں اور فلموں میں آفر ہونے کے بارے میں سوال پوچھنے پر پاکستانی ترگت نے بتایا کہ ابھی تک انہیں کوئی فلم یا ڈرامے کی آفر تو نہیں تاہم ان کے انٹر ویز کافی ہو چکے ہیں اور ابھی بھی انٹر ویوز کے لئے کالز آئی ہیں ابھی فی الحال آفرزنہیں ہوئی صرف انٹر ویوز ہو رہے ہیں-
باغی ٹی وی کے میزبان کی طرف سے پوچھے گئے سوال کہ ترگت نے ایک سو پچیس سال عمر پائی تھی لیکن شادی نہیں کی تھی آپکا اس بارے میں کیا ذہن ہے
اس پر پاکستانی ترگت نے کہا کہ میں نے کتاب تو نہیں پڑھی لیکن ڈرامے میں انہوں نے د وشادیاں کی تھیں اور انہوں نے عمر ایک سو پچیس سال پائی تھی اور وہ ساری عمر جہاد کرتے رہے ہیں اور وہ خلافت عثمانیہ کے پہلے چیف کمانڈر بھی تھے انہون نے کہا ابھی تک تو پتہ نہیں یہ قسمت کا کھیل ہے ایک بھی شادی ہوتی ہے یا نہیں اگر اللہ نے موقع اور مال دیا تو دو نہیں چار شادیاں بھی کر لیں گے-
میزبان نے سوال پوچھا کہ کیا کسی نے ان سے رابطہ کیا کہ وہ انہیں ارطغرل کی ٹیم سے ملوائیں گے یا ارطغرل کی ٹیم میں سے کسی نے ان سے رابطی کیا-
اس پر حافظ محمد علی خان نے کہا کہ ٹی وی چینل والے بتا رہے پہین نیٹ پر بھی وائرل ہے کہ ارطغرل کی ٹیم پاکستان آ ئے گی تو اگر وہ آئیں ے تو وہ ان سے ملنے کے ضرور خواہشمند ہوں گے-
ارطغرل کے کردار کا مین چیز ان کا کلہاڑا ہے جس سے انہوں نے بہت گردنیں اڑائی ہیں آپ نے اپنے کلہاڑے سے ایسا کوئی کارنامہ سرانجام دیا ہے
اس پر انہوں نے کہا کہ اگر اللہ تعالی انہیں جہاد کا موقع دیں گے تو سب کی گردنیں اڑائیں گے جو مخالف ہیں لیکن ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ وہ اپنے اس کلہاڑے سے اس وقت جن کی گردن اڑانا چاہیں گے وہ ایک ہی نفرت آمیز شخصیت بھارتی وزیراعظم مودی ہیں-
پاکستانی نے کہا کہ پمارے پاکستان میں بھی ایسے اسلامی ڈارمے بننے چاہیئں جیسے محمد بن قاسم وغیرہ تو ایسا کوئی ڈرامہ بنا ار آفر ہوئی تو وہ ضرور کام کریں گے-
میزبان نے پوچھا کہ آپ شکل سے ہی ترگت ہیں یا کچھ ایسا آتا بھی ہے؟ آپ کو اس پر پاکستانی ترگت نے کہا کہ انہیں کلہاڑے کے کچھ موومنٹ آتی ہیں اور ابھی پریکٹس کرنی بھی ہے یہ کلہاڑا مجھے گفٹ آیا تھا اور تھوڑا اچھے طریقے سے بنا نہیں ہوا اس سے پریکٹس صحیح سے یو تی نہیں تو اس وجہ سے میری پریکٹس رہ گئی کلہاڑے کی-
انہوں نے کہا مجھے کچھ موومنٹ آتی بھی ہے کلہاڑے کی جیسے کلہاڑے کو ترگت گھماتا ہے پاکستانی ترگت نے کلہاڑے کی موومنٹ بھی کر کے دکھائیں-
حافظ محمد علی خآن نے کہا کہ میں ہمیشہ ترگت کے گیٹ میں نہیں رہتا بلکہ کسی بھی گیٹ اپ میں ہوں ارطغرل دیکھنے والے لوگ دیکھ کر پھر بھی پہچان لیتے ہیں
انہوں نے کہا کہ وہ اپنا کلب چلاتے ہیں جس میں چائینیز مارشل آرٹ کی کلاسز دیتے ہین انہوں نے کہا ہماری حکومت بالکل بھی تعوان نہیکرتی وہ بس کرکٹ ٹیم کو سپورٹ کرتی ہے –
پاکستانی ترگت نے کہا کہ وہ باغی ٹی وی کے توسط سے حکومت کو کہنا چاہتے ہیں کہ وہ کرکٹ کی طرح باقی کھیلوں پر بھی توجہ دیں-
انہوں نے آخر میں والدین کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ والدین کو اپنے بچوں کو کسی نہ کسی گیم کے ساتھ ضرور منسلک کرنا چاہیئے ایسے بچے بہت سی براےیں سے دور رہتے ہیں اور کئی بیماریوں سے نجات ملتی ہے اور وقت مدافعت میں اضافہ ہوتا ہے-
واضح رہے کہ اس سے قبل سوشل میڈیا پر مداحوں نے پاکستان ٹیلی وژن (پی ٹی وی) پر چلنے والے ترک ڈرامے ارطغرل غازی کی اداکارہ برسین عبداللہ سے متعلق دعویٰ کیا تھا کہ وہ پاکستانی اداکارہ حمیمہ ملک کی ہم شکل ہیں۔
وہ تنہا رہ گئی تھی،عذاب مسلسل نے اسے زندہ لاش بنا دیاتھا۔اسے یقین تھا کہ مصیبت میں کوئی اس کی مدد کو پہنچے گا شاید اسے معلوم نہیں تھا کہ جن پہ وہ تکیہ کر رہی ہے وہ پتے تو کب کے سوکھ چکے ہیں وہ اب کسی کو ہوا دینے کے قابل نہیں رہے ۔
وادی میں موت کا راج تھا۔ دن کا چین اور رات کا سکون موت کا فرشتہ یہاں سے کہیں بہت دور لے جا چکا تھا۔
وہ زندگی کو موت کی امانت سمجھ کر سانس لے رہی تھی۔
اسے ان مہربانوں پر بہت غصہ تھا جو گلے پھاڑ پھاڑ کر کھوکھلے نعروں سے کام چلا رہے تھے لیکن عملی طور پر کچھ نہیں کر رہے تھے،وہ انہیں وقت کا منافق سمجھتی تھی۔
اسے معلوم تھا کہ کوئی لمحہ اس کی موت کا انتظار کر رہا ہے اور وہ کسی بھی وقت اس لمحے کے سپرد ہوسکتی ہے ۔اس نے وقت کے منافقوں اور بے حسوں کے نام ایک تحریر لکھنے کا فیصلہ کیا۔اس نے کاغذ قلم پکڑا اور کچھ لکھنے لگی لیکن وہ رک گئی اور کچھ سوچنے لگی۔سوچتے سوچتے وہ اس نتیجے پر پہنچی کہ اسے تحریر لکھنے کا کیا فائدہ ہوگا، جن کے نام وہ تحریر لکھے گی ان تک کون پہنچائے گا، بالفرض اگر پہنچ بھی جاتی ہے تو وہ اس پر کیا ررعمل ظاہر کریں گے۔
بالآخر اس نے ہوا کو ضامن بنایا اور ایک تحریر لکھ کر اس کے سپرد کر دی۔
"کشمیر کی موجودہ صورت حال اس قدر درد ناک ہے کہ اسے وہی لوگ محسوس کر سکتے ہیں جن کے دل میں درد ہو اور مسلمان کو مسلمان کا بھائی سمجھتے ہوں اور اس حدیث مبارکہ پر عمل پیرا ہوں کہ اگر کسی مسلمان بھائی کو کاٹنا چبھے تو دوسرا بھائی اس کا درد محسوس کرے۔
میں تنہا بیٹھی گھر کے درودیوار کو گھور رہی ہوں۔میرے سامنے میرے پیاروں کے لاشے پڑے ہیں جن میں میرے بوڑھے ماں باپ اور بہن بھائی شامل ہیں۔ہمیں گھروں میں قید کر دیا گیا ہے۔ہر طرح کی سہولتیں اور آسانیاں چھین لی گئی ہیں،نہ کھانے کو اناج ہے اور نہ پینے کے لئے پانی اور نہ بیماروں کے لئے دوائیاں۔
میرا معصوم بھائی جو ایک پل بھوک برداشت نہیں کر سکتا تھا کئی دنوں کی بھوک پیاس سے سسک سسک کر شہید ہوگیا۔
چھوٹے بھائی کی دردناک شہادت کا منظر میری چھوٹی بہن کے دل ودماغ پر نقش ہو کر گیا اور وہ اسی غم میں اللہ کو پیاری ہو گئی۔
میرا جواں سال بھائی اپنے بیمار ماں باپ کے لئے دوائیاں اورکھانے پینے کا سامان لینے کےلئے بھوکا پیاسا باہر نکلا،کچھ ہی لمحے بعد گولیوں کی تڑتڑاہٹ کی آوازیں آئیں میں نے دروازے کے سوراخ سے دیکھا تو میرا بھائی خون میں لت پت پڑا تھا۔میں بے بسی کے عالم میں بے جان وجود کے ساتھ اسے دیکھتی رہی۔ آنکھیں آنسوؤں سے خشک تھیں وجود میں پانی کا ایک قطرہ بھی نہیں تھا آخر روتی تو کیسے روتی۔
رات کے اندھیرے میں چپکے سے بھائی کی لاش کو پاؤں سے گھسیٹ کر گھر میں لائی،اٹھانے کی سکت نہیں تھی ورنہ بھائی کی لاش کی یوں بے حرمتی نہ کرتی۔
میں روازنہ رات کو گھر میں تھوڑی تھوڑی زمین کھودتی رہی تاکہ ان کو دفنانے کے لئے قبر تیار ہوجائے۔
اب میں تھی اور میرے بوڑھے ماں باپ۔۔۔۔۔!
میرے سامنے میرے دو بھائیوں اور ایک بہن کی لاشیں پڑی تھیں۔میرے بیمار اور بوڑھے ماں باپ بھی سب کچھ دیکھ رہے تھے لیکن ان میں اتنی سکت نہیں تھی کہ وہ اٹھ کر ان کے پاس آتے اور ان کی شہادت کو نذرانے کے طور چند آنسو پیش کرتے۔
چند لمحوں بعد دو لاشوں کا اور اضافہ ہو گیا.
میں نے پانچ لاشوں کو ایک ہی قبر میں دفن کر دیا۔
اب میں ہوں اور میرا سایہ ہے۔
میرا سایہ سرگوشی میں مجھ سے پوچھتا ہے کہ تمہارے غیرت مند بھائی آ رہے ہیں نا؟؟
تمہارے دو بھائی تو شہید ہو گئے ہیں تو کیا ہوا ،تمہارے کروڑوں بھائی تو زندہ ہیں نا؟؟؟
تمہارا ایک بھائی تم سب کی بھوک،پیاس اور بیماری کو برداشت نہیں کر سکا تھا اور تمہارے لیے اپنی جان خطرے میں ڈال کر نکل پڑا تھا. وہ نہیں لا سکا تو کیا ہوا باقی بھائی دیکھنا ضرور لائیں گے کچھ نہ کچھ۔
اپنے سائے کی باتیں اور طفل تسلیاں سن کر میں سکتے میں آ گئی ۔
کئی گھنٹے بعد اچانک مجھے سرگوشی سنائی دی کہ تمہاری مدد کے لئے بہت سارے بھائی آ رہے ہیں. مگر میں اسے جواب نہیں دے سکتی تھی. میں بھی تو بھوکی پیاسی تھی نا. میں اسے کیسے بتاتی کہ اسے سراب نظر آ رہا ہے؟
اسے کیسے بتاؤں کہ کوئی نہیں آ رہا ہے !
سائے کی باتوں نے مجھے پاگل کر دیا تھا ۔میں اچانک چیخ مار کر اٹھی. اور کہا کہ دیکھو میرے بھائی دروازے پر دستک دے رہے ہیں. میرے لیے میرے بھائی آ گئے ہیں. اتنا کہہ کر دروازے کی طرف دوڑی. دروازہ کھولا. دہلیز پر گری. اپنے نہ آنے والے بھائیوں کی راہ تکتے ہوئے نظریں سڑک پر تھیں اور جسم بے جان ہو گیا. مجھے یوں لگا جیسےچراغوں میں روشنی نہ رہی
میرے بہت سے نو جوان کشمیری بھائی کئی دنوں سے پولیس کی حراست میں ہیں جن میں میرا ایک سگا بڑا بھائی بھی شامل ہے، وہ زندہ بھی ہے یا نہیں کچھ خبر نہیں. سنا ہے یہاں کہ ہر گھر سے ایک ایک فرد کو گرفتار کیا گیا ہے اور کچھ مہینوں بعد چھوڑ دیا جائے گا. مگر جب بھائی قید کی سزا اور تشدد برداشت کر کے نڈھال وجود کے ساتھ سکون حاصل کرنے گھر واپس آئیں گے تو پتہ نہیں ویران گھر دیکھ کر کیا سوچیں گے.
اب میں گھر میں اکیلی بچی ہوں.میں زندگی میں کبھی ایک دن بھی تنہا نہیں رہی تھی مگر اب اس پوری دنیا میں ہمیشہ کے لیے تنہا ہو گئی ہوں. سوچ رہی ہوں کہ میرے بھائی جو کروڑوں میں ہیں ان کو آنے میں کتنے مہینے لگیں گے؟
کیا کشمیر اتنا زیادہ دور ہے کہ کئی مہینے گزرنے کے بعد بھی کوئی نہیں پہنچ پایا.
میری قوم میں تو بہت غیرت مند لوگ تھے جو اتنے بہادر اور سورما تھے کہ اسٹیج پر کھڑے ہو کرحکومت وقت کو للکارا کرتے تھے. اتنے دلیر تھے کہ اگر کسی مذہبی و سیاسی جلوس پر پابندی لگ جاتی تو پوری دنیا کو ہلا دینے کی بات کرتے تھے. اب تو معاملہ جلسے جلوس کا نہیں بلکہ زندگیوں کا ہے. یقیناً ان کی غیرت میں بھونچال آ گیا ہو گا. اور وہ ہماری مدد کو آ ہی رہے ہوں گے.
کیا کشمیر اتنا دور ہے کہ آنے میں کئی مہینے لگ جائیں ؟
نہیں.۔۔۔۔ کشمیر اتنا دور تو نہیں ہے کہ یہاں پہنچنے کے لئے مہینے درکار ہوں۔
میں نے تو پیارے آقا کریم، خاتم النبیین، محمد الرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث پاک پڑھی ہوئی ہے جس کا مفہوم کچھ یوں ہے کہ میری امت ایک جسم کی مانند ہے. جس کے ایک عضو میں تکلیف ہوتی ہے تو درد پورے جسم کو ہوتا ہے.
مسلم امت کے جسم کا ایک حصہ کشمیر لہو لہو ہے. یقیناً حدیث پاک کے مطابق درد تو پورے جسم کو ہو گا نا؟
لیکن محسوس ہو رہا ہے بلکہ دکھائی دے رہا ہے کہ امت میں وہ دردنہیں رہا اگر درد ہوتا تو بے چینی بھی ہوتی. ہماری بھوک، پیاس، بیماری، لاچاری سب جذبات کو پورا جسم محسوس کرتا۔
میں یہ کہنے میں حق بجانب ہوں کہ میرے کروڑوں مسلمان بھائی بہن گہری نیند میں ہیں اور خواب خرگوش کے مزے لے رہے ہیں،کیوں کہ ان کے اپنے گھر محفوظ ہیں شاید اس لیے. مجھے اس طرح شور نہیں مچانا چاہیے ورنہ ان کی نیند ٹوٹ جائے گی تو وہ غصہ کریں گے ۔
اگر کسی کو گہری نیند سے جگا دیا جائے تو اسے غصہ تو آتا ہے اور ساتھ ہی دل کرتا ہے کہ جگانے والے کی آواز دبا کر اس کا گلہ گھونٹ دیا جائے۔
یا رب العالمین…!!! آج تک کربلا کو کتابوں میں پڑھا اور سنا تھا. آج تونے دکھا دیا ہے۔اے پروردگار میں تیری شکر گزار ہوں کہ آج کے کربلا میں تونے ہمیں بھوک پیاس برداشت کرنے والوں اور شہید ہونے والوں میں سے رکھا ہے.
تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے میرے مولا کہ تونے مجھے یزیدی لشکر میں ظالم بنا کر نہیں رکھا اور باقی کی قوم میں کوفیوں کی طرح بے حس اور خاموش بننے والوں میں شامل نہیں کیا.تیرا بے حد شکر ہے کے تونے اہل بیت کی سنت ادا کرنے والوں میں شامل کیا ۔
کئی مہینے تک امت مسلمہ کی اور بالخصوص اکابرین کی خاموشی بتاتی ہے کہ میں نے بالکل صحیح سوچا ہے.
بس ایک کام کرنا جو میں آپ لوگوں سے التجا کی صورت میں کہہ رہی ہوں۔
اگر تمہارے آنےسے پہلےمیں شہید ہو گئی تو انا للہ و انا الیہ راجعون پڑھ لینا اور مجھے اسی حالت میں دفن کردینا. کل روز محشر میں اسی حالت میں میزان پر جانا چاہتی ہوں، کیوں کہ بہت حساب کتاب باقی ہے۔
ہوا اس تحریر کو امانتاً اپنے ساتھ ساتھ لئے پھررہی ہے۔ابھی تک اسے کوئی ایسا مسلمان ملک نہیں ملاجہاں وہ یہ تحریر پھینک کر امانت سے سبکدوش ہو جائے۔
پاکستان شوبز انڈسٹری کے نامور اداکار شان شاہد نے ’مائنس آل‘ کا فارمولا پیش کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کی بھر پور حمایت کاا علان کر دیا-
باغی ٹی وی : اداکار شان شاہد نے مائنس ان کے فارمولا کو مسترد کرتے ہوئے مائنس آل کا فارمولا پیش کرتے ہوئے عمران خان کی حمایت کا اعلان کر دیا-سماجی رابطے کی ویب سایٹ ٹویٹر پر اداکار نے عمران خان کی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ وزیراعظم اس وقت ملک میں حق کی راہ پر اکیلے ہی چل رہے ہیں۔
انہوں نے لکھا کہ عمران خان جس راہ پر گامزن ہیں اُس پر بدعنوانی کرنے والے گر پڑیں گے جبکہ کمزور اٹھ کھڑا ہوگا۔
https://twitter.com/mshaanshahid/status/1278251578194112512?s=20
شان نے وزیر اعظم کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے لکھا کہ عمران خان آپ ثابت قدم رہیں کیونکہ کوئی بھی طوفان ن کسی جہاز کو نہیں ڈوب سکتا جس کی منزل ساحل تک پہنچنا ہے-
شان شاہد نے لکھا کہ ہم وزیر اعظم کے ساتھ ہیں، اللہ عمران خان کا حامی و ناصر ہو۔
اپنے ٹویٹ میں انہوں نے ہیش ٹیگ ’پاکستان زندہ آباد‘ ’پلس ون ‘ اور ’مائنس آل‘ استعمال کیا۔
https://twitter.com/sufisal/status/1278412643108294660?s=20
دوسری جانب گلوکار سلمان احمد نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر عمران خان کو نمبر ون قراردیتے ہوئے ان کی بھر پور حمایت کی لکھا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان دنیا کے واحد لیڈر ہیں جو بار بار مظلوم کشمیریوں کے حق میں کھڑے ہوئے، ہم عمران خان کا مرتے دم تک ساتھ دیں گے، عمران خان ہمیشہ نمبر 1 رہیں گے-
بریسٹ کینسر میں مبتلا پاکستان کی نامور اداکارہ و سماجی کارکن نادیہ جمیل کی آخری کیموتھراپی کل ہوگی۔
باغی ٹی وی : سماجی رابطے کی ویب سایٹ ٹویٹر پر نادیہ جمیل نے مداحوں سے دعاؤں کی درخواست کرتے ہوئے بتایا کہ کل اُن کی آخری کیموتھراپی ہوگی۔
Blood tests before chemo. And I can't get over how kind the nurses in the oncology & hematology day units at Addenbrooks are. Kind, professional champions. Everyone in the world could learn a bit about patience,commitment & caring from them. Tomorrow is my last chemo! InshaAllah pic.twitter.com/eBYbTbhz8f
کینسر کے علاج کی غرض سے لندن میں مقیم نادیہ جمیل نے اپنے ڈاکٹروں اور نرسوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ یہاں کا اسٹاف اپنے پیشے میں ماہر اور بے انتہا مہربان اور پُرخلوص ہے۔
ایڈن بروکس اسپتال میں زیرعلاج نادیہ جمیل نے آنکولوجی اور ہیماٹولوجی ڈپارٹمنٹ کی تعریف کرتے ہوئے لکھا کہ دنیا بھر کا پیرامیڈیکل اسٹاف ایڈن بروکس اسپتال کے اسٹاف سے صبر، عزم اور دیکھ بھال کے بارے میں تھوڑا بہت سیکھ سکتا ہے۔
اداکارہ نے بتایا کہ انشاءاللہ کل کیموتھراپی کا آخری سیشن ہے۔
نادیہ جمیل مارچ میں کینسر کی تشخیص کے بعد سے علاج کی غرض سے لندن میں مقیم ہیں، وہ سوشل میڈیا پرمداحوں کو اپنی صحت اور علاج کے حوالے سے آگاہ کرتی رہتی ہیں۔
نادیہ نے کہا تھا کہ یہ ایک طے شدہ حقیقت ہے کہ ہم ایک ترتیب سے اپنی زندگی گزارتے ہوئے اپنے اختتامی سفر کی طرف رواں دواں ہیں۔ ہماری زندگیوں کا سب سے دلچسپ پہلو یہ ہے کہ ہم اپنی ندگی میں آئی ہوئی رکاوٹوں سے کیسے نپٹتے ہیں اور یہ ہی رکاوٹیں ہمیں یاد دہانی کرواتی رہتی ہیں کہ زندگی ابھی ختم نہیں ہوئی وہ صبر سیکھنے اور اپنی زندگی کے ممکنہ خدشات سے نبردآزما ہونے کیلئے مسلسل کوشش میں ہیں جن میں فتح یاب ہونا ضروری ہے۔
اس سے قبل نادیہ جمیل نے اپنے ٹویٹ میں لکھا تھا کہ کینسر میری زندگی کا اختتام نہیں ایہک دن ہم سب کی زندگیاں ختم ہو جانی ہیں-
شوبز دنیا کے معتبر ایوراڈ آسکرز ایوارڈ کی فہرست جاری کر دی گئی ہے-
باغی ٹی وی : ’آسکرز‘ 2020 کی فہرست میں انڈسٹری کے تمام شعبوں سے وابستہ افراد ، بشمول پروموشن سے لے کر لباس کے ڈیزائن تک مختلف افراد شامل ہیں۔ آسکر ز انتظامیہ نے منگل کو نئے دعوت ناموں کا اعلان کیا۔
ایسوسی ایٹ پریس کی اطلاعات کے مطابق سنتھیا ایریو ، جان ڈیوڈ واشنگٹن ، ایوا لونگوریا ، زندایا اوکوافنن ، اور بھارتی اداکارہ عالیہ بھٹ اور اداکار ہریتک روشن ان 819 افراد میں شامل ہیں جنھیں اکیڈمی آف موشن پکچر آرٹس اینڈ سائنسز میں شامل ہونے کے لئے مدعو کیا گیا ہے۔ .
مدعو اداکاروں میں انا ڈی آرماس (Knives Out) ، برائن ٹائر ہنری (If Beale Street Could Talk) ، فلورنس پگ (Little Women) ، لیکتھ اسٹین فیلڈ (Sorry to Bother You) ، بیانی فیلڈسٹین (Booksmart) ، ہریتک روشن (Super 30) شامل ہیں۔ اور عالیہ بھٹ (Gully Boy) اور کانسٹنس وو (Crazy Rich Asians)۔ شامل ہیں-
اس فہرست میں ڈائریکٹر لولو وانگ (The Farewell) ، ایری اسٹر (Midsommar) ، ٹیرنس ڈیوس (The House of Mirth) اور میتھیو وان (Layer Cake) شامل ہیں۔
اکیڈمی نے کہا کہ 49 فیصد نئے دعوت نامے بین الاقوامی ہیں اور کچھ 68 ممالک کی نمائندگی کرتے ہیں۔
پچھلے سال کی بہترین فلم کا ایوارڈ جیتنے والی فلم ‘پیراسیائٹ’ جنگ ہائی جن ، جو ییو جونگ ، پیرک سوڈم ، اور لی جنگ ایون کے اداکاروں کو بھی اس میں شامل ہونے کے لئے مدعو کیا گیا ہے۔
دوسرے قابل ذکر مدعو افراد میں ٹی وی موگول ریان موفی شامل ہیں ، جنھوں نے اے سیکریٹ محبت نامی دستاویزی فلم تیار کی ، ملک کے گلوکار ٹم میک گرا ، جو بلائنڈ سائیڈ میں تھے اور گائیکی نگار برنی تاؤپِن ، جس نے ایلٹن جان بائیوپک راکٹ مین میں حصہ لیا تھا۔
واضح رہے کہ ‘آسکر’ ایوارڈ دینے والے ادارے دی اکیڈمی آف موشن پکچرز آرٹس اینڈ سائنس اور اے بی سی ٹیلی وژن نیٹ ورک نے کورونا کی وبا کے باعث ‘آسکر’ ایوارڈز کی تقریب کو 2 ماہ کے لئے موخر کر دیا –
یہ پہلا موقع ہے کہ آسکر ایوارڈز کی تقریب کسی بیماری کے باعث منسوخ کی گئی ہے، تاہم اس سے قبل بھی کم از کم تین مواقع پر آسکر ایوارڈز کی تقریب ملتوی یا منسوخ کی جا چکی ہے 93 ویں ‘آسکر’ ایوارڈز کی تقریب فروری کے آخر میں منعقد ہونا تھی، تاہم اب اسے 25 اپریل 2021 کو منعقد کیا جائے گا-
مقبوضہ کشمیر میں ظالم بھارتی فوج کی بریریت اور ظلم نے فنکاروں کو بھی جھنجھوڑ دیا اور انہوں نے بھارتی فوج کے خلاف آواز اٹھائی ہے۔
باغی ٹی وی : گزشتہ روز مقبوضہ کشمیر میں ظالم بھارتی فوج نے 3 سالہ ننھے بچے کےسامنے اس کے نانا کو شہید کردیا تھا۔ بچے کی اپنے نانا کی لاش پر روتے ہوئے تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی اور اس بے بسی نے پاکستانی فنکاروں کو بھی جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔
The sheer heartlessness of today's incident in #Sopore defines the world's indifference towards #Kashmir, its people and their plight!
My heart goes out to the family of the slain Bashir sahab & his 3 year old grandson Suhail who was witness to such a mammoth tragedy. Prayers.
گلوکار فرحان سعید سماجی ربطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے ٹویٹ میں کہا کہ کشمیر میں بے رحمانہ واقعے پر دنیا کی کشمیریوں کی حالت زار پر بے حسی ظاہر کرتی ہے، میری ہمدردیاں بشیر اور 3 سالہ بچے سہیل کے اہل خانہ کے ساتھ ہیں جو اس طرح کے بڑے سانحے سے گُزر رہے ہیں-
This is no longer a Pakistan vs India issue. This is an issue for humanity, for families, for the greater good. Either you side with good or evil.
گلوکارہ حدیقہ کیانی نے لکھا کہ مزید خونریزی نہیں! اس کو ایک اور کہانی نہ بننے دیں ۔ ہم نا انصافی کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔ ہمیں امن کی ضرورت ہے ، ہمیں کشمیری عوام کو تحفظ فراہم کرنے کی ضرورت ہے ، ہمیں دونوں اطراف سے ایک حل کی ضرورت ہے ، ایک ایسا حل جس سے کشمیر میں پھیلی ہوئی برائیوں کا خاتمہ ہو۔
حدیقہ کیانی نے مزید لکھا کہ اب یہ پاکستان بمقابلہ ہندوستان کا مسئلہ نہیں رہا۔ یہ انسانیت کے لئے ، کنبوں کے لئے ، زیادہ سے زیادہ بھلائی کا مسئلہ ہے۔ یا تو آپ اچھائی یا برائی کا ساتھ دیں۔
اداکار شان نے بھی سوپور میں پیش آئے افسوسناک واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کیا بھارت اس شرم ناک واقعے پر شرمندہ نہیں، ان لوگوں پر بھی افسوس ہوتا ہے جو اس نسل کشی کے وقت خاموش رہے، کشمیر میں انسانوں پر جاری ظلم کو ختم کیا جائے۔
ڈاکٹر عامر لیاقت کی اہلیہ سیدہ طوبی عامر نے بھی اس افسوسناک واقعے پر غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کے پاس کوئی الفاظ نہیں ہیں-
PM @ImranKhanPTI , Is the only world leader who has repeatedly stood up for the suffering & suffocated people of #Kashmir. We have & will defend you to our dying day.We stay vigilant & watchful around you when sneaking whisperers try to harm you. You will always be #1 🇵🇰 pic.twitter.com/t4kX27Xzzf
گلوکار سلمان احمد نے کہا وزیر اعظم عمران خان دنیا کے واحد لیڈر ہیں جو بار بار مظلوم کشمیریوں کے حق میں کھڑے ہوئے، ہم عمران خان کا مرتے دم تک ساتھ دیں گے، عمران خان ہمیشہ نمبر 1 رہیں گے-
“Little child dry your crying eyes How can I explain the fear u feel inside 'Cause u were born into this evil world Where man is killing man and no one knows just why What have we become just look what we have done”#KashmirLivesMatter @narendramodi #BJP#RSS @UN pic.twitter.com/GEbgVR5PXZ
سلمان احمد نے اس واقعے پر افسوس کرتے ہوئے مزید کہا کہ چھوٹا بچہ آپ کی روتی آنکھیں خشک کردے میں اپنے اندر ہونے والے خوف کی کیسے وضاحت کرسکتا ہوں’کیوں کہ آپ اس بری دنیا میں پیدا ہوئے تھےجہاں انسان انسان کو مار رہا ہے اور کوئی نہیں جانتا ہے کہ اس کی وجہ کیا ہےہم کیا ہو گئے ہیں جو ہم نے کیا کیا نظر آتے ہیں۔
اس قبل اداکارہ اور تمغہ امتیاز مہوش حیات نے بھی سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر مقبوضہ کشمیر کے ضلع بارہ مولہ میں ماڈل ٹاؤن علاقے سوپور میں پیش آنے والے واقعے کی تصویریں شیئر کیں تھیں جس میں 3سالہ ننھا بچہ خون میں لت پت اپنے نانا کی لاش پر بیٹھا ہوا تھا اور انہیں جگانے کی کوشش کررہا ہے۔
مہوش حیات نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے ظلم اور بر بریت کو لمحہ فکریہ قرار دیتے ہوئے لکھا تھا کہ اگر یہ واقعہ بھی آپ کو جھنجوڑ نہیں رہا تو مجھے نہیں معلوم کہ آپ کس چیز کا انتظار کررہے ہیں دنیا کس طرح چُپ چاپ تماشہ دیکھ سکتی ہے، اور ہندوستانی افواج کو اس طرح کی استثنیٰ سے کام لینے کی اجازت دے سکتی ہے کشمیریوں کی زندگیاں بھی اہم ہیں-
واضح رہے کہ گزشتہ روز ہونے والے واقعے کے بعد سامنے آنے والی تصاویر اور ویڈیوز نے دنیا کو جنجھوڑ کر رکھ دیا جس میں ایک تقریباً 3 سالہ بچہ خون میں لت پت اپنے نانا کی لاش کے اوپر بیٹھا ہوا ہے اور اس کے پاس سیکورٹی اہلکار کھڑے ہیں۔
گذشتہ ماہ 14 جون کو 34 سالہ بھارتی اداکار سوشانت سنگھ راجپوت کی خودکشی کے بعد سے شوبز انڈسٹری میں اقربا پروری اور ڈپریشن کے باعث خودکشی پر بحث چل رہی ہے اور ہر اداکار جو اقربا پرور کا شکار ہو چکا ہے اس پر کھل کر بات کر رہا ہے بھارتی ریاست بہار سے تعلق رکھنے والے اداکار منوج باجپائی نے بھی اپنی خودکشی کے حوالے سے اہم انکشاف کیا ہے معروف بھارتی اداکار منوج باجپائی کا کہنا ہے کہ انہوں نے خودکشی کرنے کا سوچ لیا تھا لیکن اُن کے دوستوں نے انہیں خودکشی کرنے سے روک دیا۔
باغی ٹی وی : انسٹاگرام پر ایک ’official humans of bombay ‘ نامی اکاؤنٹ کی جانب سے منوج باجپائی کی ایک تصویر شیئر کی گئی ہے اور اُن ہی کی طرف سے کیپشن میں لکھا گیا کہ میں ایک کسان کا بیٹا ہوں، میری پرورش بہار کے ایک گاؤں میں ہوئی ہے، ہم پانچ بہن بھائی ہیں ہم ایک چھوٹے سے سکول میں پڑھنے جایا کرتے تھے ہم نے نہایت سادہ زندگی گزاری ہے لیکن اس کے باوجود ہم جب بھی شہر جاتے تو تھیٹر لازمی جایا کرتے تھے۔
https://www.instagram.com/p/CCGXE0JBBZt/
منوج باجپائی نے بتایا کہ میں بچپن سے امیتابھ بچن کا بہت بڑا مداح تھا اور اُن ہی کی طرح بننا چاہتا تھا۔ 9 سال کی عمر میں جانتا تھا کہ اداکاری کرنا میرا مقدر ہے۔ اداکاری میری منزل تھی لیکن میں اداکار بننے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کیونکہ پڑھائی کے لیے میرے پاس پیسے نہیں تھے پھر میرے ذہن نے کسی اور چیز پر توجہ دینے سے انکار کردیا-
انہوں نے کہا کہ 17 سال کی عمر میں میں یو ای کے لئے روانہ ہو گیا وہاں میں نے تھیٹر کیا لیکن میرے اہل خانہ کو کچھ پتہ نہیں تھا۔ آخر میں ، میں نے اپنے والد صاحب کو ایک خط لکھا اور اُن سے 200 روپے مانگے اپنی فیس کے لیے جو انہوں نے مجھے دے دیے اور غصہ بھی نہیں کیا۔
منوج باجپائی نے مزید بتایا کہ میں انڈسٹری میں باہر سے آیا تھا اور یہاں فِٹ ہونے کی کوشش کررہا تھا جس کے بعد انہوں نے انگریزی اور ہندی سیکھی تاکہ وہ فلموں میں کام کرسکیں کیونکہ میری زبان بھوج پوری تھی- اس دوران میں نے نیشنل اسکول آف ڈرامہ میں درخواست دی لیکن تین بار مسترد کردی گئی۔ جس کے بعد میں نے خود کشی کرنے کا سوچ لیا تھا ایسے وقت میں میرے دوستوں نے میرا بہت ساتھ دیا۔
منوج نے کہا کہ میرے دوست میرے ساتھ سوتے تھے ، مجھے کبھی اکیلا نہیں چھوڑتے تھےکہ میں کچھ کر نہ بیٹھوں وہ اُس وقت تک میرے ساتھ رہے جب تک مجھے انڈسٹری میں قبول نہیں کیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ اس سال ، میں ایک چائے کی دکان پر تھا جب تگمانشو اپنے کھٹارا اسکوٹر پر مجھے ڈھونڈنے آیا – شیکھر کپور مجھے ڈاکو ملکہ میں ڈالنا چاہتا تھا! تو مجھے لگا کہ میں تیار ہوں اور ممبئی چلا گیا۔
منوج نے بتایا کہ ابتدائی طور پر ، یہ مشکل تھا – میں نے 5 دوستوں کے ساتھ ایک چال کرائے پر لی اور کام کی تلاش میں ، لیکن کوئی کردار نہیں ملا۔ ایک بار ، ایک AD نے میری تصویر پھاڑ دی اور میں ایک دن میں 3 پروجیکٹ کھو چکا تھا۔
اداکار نے بتایا کہ 4 سال کی سخت محنت کے بعد مجھے مہیش بٹ کے ایک ٹی وی سیریل میں کام مل گیا، جس کی ایک قسط کے مجھے 1500روپے ملتے تھے۔ جس کے بعد انہیں بالی ووڈ کی پہلی فلم ’ستیا‘ ملی -پھر میں نے اپنا پہلا مکان خریدا اور جانتا تھا کہ… میں یہاں رہنے کے لئے آیا تھا۔جس کے بعد میں نے مزید 67 فلمیں کیں اور آج میں یہاں ہوں-
منوج نے کہا کہ یہی بات خوابوں کی ہے جب ان کو حقیقت میں بدلنے کی بات آتی ہے تو ، مشکلات سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ اس 9 سالہ بہاری لڑکے کا اعتقاد ہے اور کچھ نہیں۔
اقربا پروری پر منوج باجپائی کا کہنا تھا کہ اقربا پروری ہمیشہ ہی رہے گی اور بالی وڈ میں میرا وجود ہی اقربا پروری کو چیلنج ہے۔
خیال رہے کہ اداکار منوج باجپائی کا شمار بالی ووڈ کے بہترین اداکاروں میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی اداکاری کی بدولت انڈسٹری میں مقام بنایا ہے۔
منوج باجپائی کے کیریئر میں ’ستیا‘، ’گینگ آف واسے پور‘ اور ’علی گڑھ‘ جیسی کامیاب فلمیں موجود ہیں اور اب تک یہ 2 بار نیشنل فلم ایوارڈ سمیت دیگر فلمی ایوارڈز بھی جیت چکے ہیں۔ پریانکا چوپڑا نے بھی نیپوٹزم کے خلاف آواز بُلند کر دی
پاکستان شوبزانڈسٹری کی معروف ماڈل و اداکارہ منال خان نے اپنی شادی کی حوالے سے کہنا ہے کہ جب کڑکا مل گیا اور میں راضی ہو گئی تو تین چار سال بعد شادی کر لوں گی میری شادی کی ابھی عمر نہیں-
باغی ٹی وی : سماجی رابطے کی ویب سائٹ انسٹاگرام پر آئمہ بیگ کے لائیو سیشن میں گفتگو کرتے ہوئے منال خان نے اپنی زندگی کی بہت سے باتیں مداحوں کو بتائیں اور ساتھ ہی شادی کے حوالے سے بھی تمام جوابات دئیے۔
آئمہ بیگ نے منال کی بہن ایمن کی شادی اور بیٹی امل کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ایمن نے تو ہمیں امل دے دی ، منال کب شادی کرے گی؟
منال نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ شادی کیلئے لڑکا ہونا چاہئے ایمن کو تو مل گیا منیب اس نے فٹ سے شادی کر لی جب منیب بٹ جیسا اچھا لڑکا مل جائے گا اور میں راضی ہوجاؤں گی تو شادی بھی ہوجائے گی اور بچہ بھی ہوجائے گا۔
منال خان نے بہن ایمن کے شوہر منیب کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انہیں بھی منیب جیسے لڑکے کی تلاش ہے کیونکہ منیب جیسے لڑکے ہر جگہ تو موجود نہیں ہوتے۔
انہوں نے کہا کہ جب لڑکا مل گیا اور میں اس سے راضی ہوگئی تین چار سال بعد شادی ہوگی کیونکہ مجھے لگتا ہے کہ میری شادی کی ابھی عمر نہیں۔
منال نے کہا کہ ایمن نے شادی کر کے بچہ دے دیا مجھے امل میری بیٹی ہے میری ساری خواہش پوری ہو گئی ہے
واضح رہے کہ سوشل میڈیا سائٹس پر منال خان مداحوں سے رابطے میں رہتی ہیں اداکارہ آج کل ڈرامہ ’جلن‘ میں اداکاری کے جوہر دکھا رہی ہیں۔
پاکستان شوبز انڈسٹری کے معروف گلوکار و اداکار فرحان سعید نے اپنی اہلیہ و اداکارہ عروہ حسین کی سالگرہ کے موقع پر اُن کے لیے سوشل میڈیا پر محبت بھرا پیغام جاری کیا کہا کہ عروہ میری بہترین دوست اور میری روح کی ساتھی اور سب سے بڑی طاقت ہے-
باغی ٹی وی : سوشل میڈیا ویب سائٹ انسٹاگرام پر فرحان سعید نے اپنی اور عروہ کی کچھ تصاویر شیئر کی ہیں اور ساتھ ہی انہیں سالگرہ کی مبارک باد بھی دی ہے۔
https://www.instagram.com/p/CCHEMR5llys/
انسٹاگرام پر شیئر کردہ اپنی پوسٹ میں فرحان سعید نے لکھا کہ سالگرہ مبارک ہو عروہ، آپ میری زندگی میں آنے والی اب تک کی سب سے بہترین چیز ہیں۔ آپ میری بہترین دوست، میری روح کی ساتھی اور میری سب سے بڑی طاقت ہیں۔
فرحان سعید نے اپنی پوسٹ میں مزید لکھا کہ آپ بہترین ہیں اور بہترین کی مستحق ہیں! انہوں نے اپنی اہلیہ کو دعا دیتے ہوئے لکھا کہ اللہ آپ کی ہر خواہش پوری کرے! آپ بہت قیمتی ہیں اور میں آپ سے محبت کرتا ہوں۔
مداحوں کی جانب عروہ کو سالگرہ کی مبارکباد دینے کے ساتھ اس جوڑے کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار بھی کیا جارہا ہے۔