Baaghi TV

Category: شوبز

  • بالی وڈ گلوکارہ نہیا ککڑ کے مزاحیہ ڈانس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل

    بالی وڈ گلوکارہ نہیا ککڑ کے مزاحیہ ڈانس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل

    بھارتی نامور گلوکارہ نہیا ککڑ کی پاکستان کے نامور اداکار و میزبان فہد مصطفی کے شو جیتو پاکستان پر ایکٹنگ کرنے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے-

    باغی ٹی وی :بالی وڈ گلوکاری نہیا ککڑ کا سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو کلپ وائرل ہو رہا ہے جس میں گلوکارہ فہد مصطفی کے شو جیتو پاکستان کے ایک کلپ پر مزاحیہ ایکٹنگ کرتے ہوئے دکھائی دے رہی ہیں –
    https://www.instagram.com/p/CBk_T0IlB-f/?igshid=pqapspbgaq6l
    ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ گلوکارہ کے ساتھ ویڈیو میں موجود ساتھی اداکار فہد مصطفی بن کر نیہا ککڑ سے ائیر فریشنر کو مائیک کی جگہ استعمال کرتے ہوئے پوچھتے ہیں کیا نام ہے آپ کا جس پر نہیا ککڑ شرماتے ہوئے جواب دیتی ہیں زُفرا-

    جس پرگلوکارہ کو گانا سنانے کو کہتے ہیں تو نہیا ککڑ شرماتے ہوئے تھوڑا سا گانا سناتی ہے اور پھر مزاحیہ انداز میں شرمانا شروع کر دیتی ہیں

    گلوکارہ کی اس ویڈیو کو بہت پسند کیا جا رہا ہے اور لوگ دلچسپ اور مزاحیہ کمنٹس کر رہے ہیں-

    ول اسمتھ تشدد زدہ غلام کی زندگی پر بنائے جانے والے ڈرامے میں جلوہ گر ہوں گے؟

    کورونا وائرس: فلمی دنیا کے سب سے معتبر ایوارڈ کی تقریب 2 ماہ کے لئے موخر

  • طارق عزیز اپنی تمام جائیداد پاکستان کے نام کر گئے

    طارق عزیز اپنی تمام جائیداد پاکستان کے نام کر گئے

    گزشتہ روز انتقال کر جانے والے پاکستان ٹی وی کے ماضی کے معروف کمپئیر، میزبان،سیاستدان اور اداکار طارق عزیز نے وفات سے 2 سال قبل اپنی وصیت میں تمام اثاثے جائیداد پاکستان کے نام کردیئے تھے۔

    باغی ٹی وی : گزشتہ روز انتقال کر جانے والے پاکستان ٹی وی کے ماضی کے معروف کمپئیر، میزبان،سیاستدان اور اداکار طارق عزیز نے وفات سے 2 سال قبل اپنی وصیت میں اپنی تمام جائیداد پاکستان کے نام کر دی تھی-

    دو سال قبل سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر اپنے ایک ٹویٹ میں طارق عزیز نے اعلان کیا تھا کہ ان کی کوئی اولاد نہیں ہے تو وہ اپنی ساری جائیداد وفات کے بعد پاکستان کے نام کرتے ہیں-
    https://www.instagram.com/p/CBiI_RYh3Tu/?igshid=12lp433xg2mcg
    طارق عزیز نے اپنی وصیت میں لکھا تھا کہ اللہ پاک نے مجھے اولاد نہیں دی یہ خدا کی قدرت ہے جسے چاہے دے جسے چاہے نہ دے اور جسے چاہے دے کر لے لے-

    انہوں نے لکھا تھا کہ میں مرنے کے بعد اپنی ساری جائیداد پاکستان کے نام کرتا ہوں-

    انہوں نے مزید ایک اور ٹویٹ میں لکھا تھا کہ میرا سب کچھ میرے مرنے کے بعد پاکستان کا ہے-

    واضح رہے کہ گزشتہ روز طارق عزیز حرکت قلب بند ہونے کی وجہ سے انتقال کر گئے تھے-

    ہمارے بچپن کو یادگار بنانے والے رخصت ہو گئےطارق عزیز کی وفات پر شوبز فنکار اور معروف شخصیات غمزدہ

  • سوشانت سنگھ کی موت کے بعد عالیہ بھٹ اور کرن جوہر کو سوشل میڈیا پر بڑی ناکامی

    سوشانت سنگھ کی موت کے بعد عالیہ بھٹ اور کرن جوہر کو سوشل میڈیا پر بڑی ناکامی

    34 سالہ بھارتی اداکار سوشانت سنگھ راجپوت نے اتوار کے دن بارہ بجے کے قریب ممبئی کے علاقہ باندرا میں اپنی رہائش گاہ پر خودکشی کرلی تھی بھارتی عوام سوشل میڈیا پر غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے اداکار کی خود کشی کی ذمہ دار بالی وڈ انڈسٹری کو ٹھہرا رہی ہے

    باغی ٹی وی : 34 سالہ بھارتی اداکار سوشانت سنگھ راجپوت نے اتوار کے دن بارہ بجے کے قریب ممبئی کے علاقہ باندرا میں اپنی رہائش گاہ پر خودکشی کرلی تھی پولیس کے مطابق اداکار نے خودکشی ڈپریشن کی وجہ سے کی تھی-

    اداکار کی پوسٹ مارٹم کی رپورٹ کے مطابق بھی اداکار کی موت دم گھٹنے کی وجہ سے ہی ہوئی تھی اور 15 جون ان کی آخری رسومات ادا کردی گئی تھیں۔

    سوشانت سنگھ راجپوت کی اچانک خودکشی کے بعد جہاں بھارت کے سیاسی، سماجی اور شخصیات صدمے میں ہیں، وہیں عوام میں بھی ان کی خودکشی کے حوالے سے سوشل میڈیا پر غم و غصہ کا اظہار کر رہے ہیں ۔ اداکار کے مداح لڑکے لڑکیاں غم میں خودکشی ک رہے ہیں-

    تاہم زیادہ تر بھارتی عوام کسی حد تک سوشانت سنگھ کی خودکشی کا ذمہ داربالی انڈسٹری کو بھی ٹھہرا رہی ہے اور چند بالی وڈ شخصیات پر تو براہ راست ان کی خودکشی کے الزامات بھی لگائے جا رہے ہیں۔

    تاہم رواں ہفتے 16 جون کو بھارت سمیت پاکستان میں ٹوئٹر پر بائیکاٹ کرن جوہر گینگ مووی سب سے ٹاپ ٹرینڈ رہا اور اس ٹرینڈ کے تحت بھارتی عوام کی جانب سے فلم ساز کرن جوہر اور اداکارہ عالیہ بھٹ سمیت دیگر شوبز شخصیات کو اقربا پروری اور سوشانت سنگھ راجپوت جیسے اداکاروں کو نظر انداز کرنے کے الزامات لگائے۔

    بھارتی اخبار انڈیا ٹوڈے کے مطابق مذکورہ ٹرینڈ اس وقت ٹوئٹر پر ٹاپ بن گیا جب کرن جوہر اور عالیہ بھٹ نے سوشانت سنگھ راجپوت کی اچانک خودکشی پر اظہار افسوس کرتے ہوئے ٹوئٹس کیں۔

    تاہم اب عالیہ بھٹ اور کرن جوہر کی سوشل میڈیا پر پاپولیرٹی اورفین فالونگ بھی دن بہ دن کم ہو رہی ہے ان کی عالیہ بھٹ کی رواں ماہ 14 جون 2020 کو سوشل میڈیا پر مداحوں کی تعداد 4 کروڑ 87 لاکھ51 ہزار 4 سو 80 تھی اور اس دن ان کو 103891 لوگوں نے مزید فولو کیا جبکہ 15 جون 2020 کو ان کو 4 ہزار 9 سو 19 لوگوں نے مزید فولو کیا جس پر 4کروڑ 79 لاکھ 3 سو 99 ہو گئی-

    سوشانت سنگھ کی موت پر ان کے خلاف چلائے گئے ٹریںڈ اور ان کو سوشانت کی خودکشی کی ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے ان کو مداحوں نے ان فولو کرانا شروع کر دیا جس کی وجہ سے انسٹا گرام اکاؤنٹ پر 16 جون 2020 کو ان کو 2 لاکھ 56 ہزار 1 سو 17 لوگوں نے ان فولو کیا تو ان تعداد 4 کروڑ 85 لاکھ 42 ہزار 282 ہوگئی- جبکہ گذشتہ روز 17 جون 2020 کو بھی 2 لاکھ 28 ہزار 900 لوگوں نے اداکارہ کو ان فولو کیا جس پر تعداد 4 کروڑ 83 لاکھ 13 ہزار 382 رہ گئی مداحوں کا اداکارہ کو سوشل میڈیا پر ان فولو کرنے کا سلسلہ جاری ہے اور آج 18 جون 2020 کو مزید 1 لاکھ پچاس ہزار 2 سو 20 لوگوں نے ان فولو کیا جس پر اداکارہ کو فولو کرنے والوں کی تعداد 4 کروڑ 81 لاکھ 63 ہزار 1 سو 62 رہ گئی ہے-

    عالیہ بھٹ کے علاوہ جرن جوہر کی فین فالونگ میں بھی کمی دیکھنے میں آرہی ہے لوگ اپنے پسندیدہ پروڈیوسر کو ان فولو کر رہے ہیں فلمساز کرن جوہر کے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر فالورز کی تعدام 11 ملین سے 10.6ملین ہوگئی ہے –

    جبکہ دوسری جانب مبینہ خودکشی کر کے موت کو گلے لگانے والے اداکار سوشانت سنگھ کے لئے انسٹا گرام اکاؤنٹ پر سوشل میڈیا فالوورز کا اضافہ ہو گیا ہے گزشتہ دنوں سے آنجہانی اداکار کی فولونگ 9 ملین سے 12.2 ملین ہوگئی۔

    سوشانت سنگھ کی موت کی ذامہ دار بالی وڈ انڈسٹری ہے بھارتی عوام

  • بہترین پاکستانی اداکاروں کے مداحوں کو مایوس کر دینے والے بدترین ڈرامے

    بہترین پاکستانی اداکاروں کے مداحوں کو مایوس کر دینے والے بدترین ڈرامے

    وہ پاکستانی اداکار جنہوں نے اپنا نام بنانے کے لئے کافی سخت محنت کی ہے وہ یقینی طور پر اپنی ساکھ کو برقرار رکھنے کی پوری کوشش کریں گے۔ پھر بھی ، بعض اوقات ایسے مواقع آتے ہیں جب وہ کچھ ایسے انتخاب کرتے ہیں جو ان کے دیکھنے والوں کو حیران کردیتے ہیں۔ جب یہ اداکار کام کرنے کے لئے غیر معیاری ڈراموں کا انتخاب کرتے ہیں تو ، ان کے مداح حیران رہ جاتے ہیں کہ انہوں نے اسکرپٹ کا انتخاب کیوں کیا؟ ان اداکاروں میں سے کچھ نے انٹرویوز میں اعتراف بھی کیا ہے کہ وہ محض تفریح ​​کے لئے کچھ ڈرامے کرتے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ان کے انتخاب بعض اوقات انڈسٹری میں اس حیثیت کے مترادف نہیں ہوتے ہیں۔

    باغی ٹی وی: یہاں کچھ معروف پاکستانی اداکار ہیں جنہوں نے ٹیلی ویژن کے بدترین ڈراموں میں سے کچھ کا حصہ بننے کا انتخاب کیا ہے۔

    عدنان صدیقی (جنم) :عدنان صدیقی ایک شاندار اداکار ہیں اور وہ عام طور پر ان پروجیکٹس کا انتخاب کرتے ہیں جن میں وہ دانشمندی سے کام کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ اگر وہ منفی کردار ادا کرنے کا انتخاب کرتے ہیں تو بھی ، وہ اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ جس پروجیکٹ میں وہ کام کررہے ہیں اس کی کچھ کلاس ہوگی۔ جنم بالکل مختلف کہانی تھی! یہ ایک بدترین کہانی کا ڈرامہ تھا اور صبا قمر اور عدنان صدیقی کی اداکاری کی وجہ سے یہ چل گیا تھا۔جانم یقینی طور پر اس قسم کا ڈرامہ نہیں تھا جس کی آپ توقع کریں گے کہ عدنان صدیقی جیسے اداکار اس میں کام کریں گے جنم ان کے کیرئیر کا بدترین ڈرامہ تھا جس میں انہوں نے کام کیا –

    عفان وحید ( میں نا جانوں) : عام طور پر عفان وحید بہترین ڈراموں میں اپنی انتہائی جذباتی پرفارمنس دیتے نظر آتے ہیں۔ یہاں تک کہ اگر وہ ناقص شوہر کا کردارکرتے ہیں تو بھی ، وہ اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ وہ جس ڈرامے کا حصہ ہیں اس کا اسکرپٹ اچھا ہے عفان نے مقبول ڈرامہ سیریل دو بول میں اپنی اداکاری سے ناظرین کو اپنا گروہدہ کر لیا ، لیکن ڈرامہ میں نا جانوں میں اپنی ناقص کارکردگی سے ناظرین کو حیران پریشان کر دیا۔

    مذکورہ ڈرامے میں ان کے ناکارہ کردار اور ناقص اداکاری سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ بعض اوقات بہترین اداکار بھی بدترین انتخاب کر سکتے ہیں! انہوں نے یقینی طور پر غلطی میں کام کرکے خود کو چھڑا لیا لیکن میں نا جانوں ہمیشہ ان کا بدتر ین پروجیکٹ ہوگا۔ عفان وحید کے علاوہ صنم جنگ اور زاہد احمد کے کیرئیر کا بھی بدترین انتخاب تھا-

    فواد خان(نم، اشک): فواد خان کو ڈرامہ ہمسفر سے بے پناہ مقبولیت ملی نہ صرف پاکستان میں بلکہ بھارت میں بھی ان کے مداحوں می اضافہ ہوا اور اسی ڈرامے نے ان کے لئے بالی وڈ انڈسٹری میں راہیں ہموار کیں۔ ہمسفر کے بعد ان کے مداح ان کی طرف سے مزید حیرت انگیز ڈرامے دیکھنے کا شدت سے انتظار کر رہے تھے۔ تاہم ہمسفر کے بعد آنے والے ڈراموں میں فواد خان نے مرکزی کردار ادا کرتے ہوئے پاکستانی ڈراموں کی تاریخ کی سب سے بڑی تباہی کی تھی۔

    ڈرامہ سیریل اشک کی کہانی بدترین تھی کسی نے بھی ڈرامہ کو سنجیدگی سے نہیں لیا ، زیادہ تر لوگوں نے اسے فواد خان کے لئے دیکھا لیکن خود فواد نے بھی ایسا لگتا ہے کہ اس پروجیکٹ کو سنجیدگی سے نہیں لیا کیوں کہ اس ڈرامے میں ان کی کارکردگی اور کردار مایوس کن تھے۔ فواد کی اداکاری میں نم ایک اور خوفناک ڈرامہ تھا جس کی وجہ سے دیکھنے والوں کومایوس کر دیا تھا۔ ایک ایسا ڈرامہ جس نے ایک اہم سماجی مسئلے کے بارے میں وعدہ کیا تھا وہ ایک لطیفہ نکلا! ناظرین نے فواد سے بہتر توقع کی تھی لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان کے پاس صرف ایک دو اچھے ڈرامے ہیں۔

    ہمایوں سعید: (بن روئے):اداکارہمایوں سعید زیادہ تر ایسے کردار ادا کرنے کا انتخاب کرتے ہیں جن میں کارکردگی کے لئے کافی گنجائش ہو اور جو کہانی کا مرکزی مقام ہو۔ بن روئے میں ان کا کردار نقش نگاری کے علاوہ کچھ نہیں تھا۔ بن روئے پاکستانی ڈرامہ کی تاریخ کا واحد ڈرامہ تھا جو بطور فلم بطور اور ٹیلی ویژن پر بطور سیریل بظاہر بڑے پردے پر پیش کیا گیا تھا۔

    اس ڈرامے سے بڑی توقعات وابستہ تھیں کیونکہ اس کے ساتھ شوبز کے بڑے نام وابستہ ہیں۔ یہ فلم اور ڈرامہ کا ایک عجیب و غریب مرکب تھا۔ ترمیم کی بہت ساری غلطیاں تھیں ، کہانی میں قطعاً کوئی چنگاری نظر نہیں آتی تھی اور ہمایوں سعید کا ادا کردہ ارتضی کا کردار ایک انتہائی ناگوار مردانہ لیڈ تھا-

    اقراء عزیز (جھوٹی): اقرا عزیز پہلے سے کہیں زیادہ مشہور ہوگئیں جب انہوں نے رانجھا رانجھا کردی میں مرکزی کردار ادا کیا۔ بس جب اکثر ناظرین نے انہیں سنجیدہ اداکارہ کے طور پر پہچانا تو اقرا عزیز نے ایک ایسے ڈرامے پر دستخط کیے جس نے سب کو مایوس کردیا۔ جھوٹی ایک اور ڈرامہ نکلا جو منطق سے عاری تھا۔ جھوٹی ڈرامے میں اقرا کا منفی کردار کچھ نہیں تھا جیسا کہ رنجھا رانجھا کردی میں انھوں نے ادا کیا تھا۔ جہاں رانجھا رانجھا کردی کو بہت سارے لوگوں نے سراہا ، جھوٹی کو اس کی مضحکہ خیز کہانی کی وجہ سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

    عمران اشرف (کہیں دیپ جلے) : عمران اشرف کی دل لگی میں پرفارمنس ، الف اللہ اور انسان ، اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ رانجھا رانجھا کردی نے انہیں بے مثال فین فالوونگ دی ناظرین کو صرف اتنا یقین تھا کہ آئندہ منصوبوں کا انتخاب کرتے ہوئے عمران واقعی اچھا انتخاب کریں گے۔ جبکہ انکار ایک بامعنی ڈرامہ نکلا ، کہیں دیپ جلے اس سال کے بدترین ڈراموں میں سے ایک تھا۔

    کہیں دیپ جلے میں نہ صرف یہ کہ عمران اشرف کے کردار اور اداکاری نے ہی اپنے مداحوں کو حیران کردیا۔ ہر کوئی یہ سوچ کر رہ گیا تھا کہ عمران نے کسی ڈرامے کا حصہ بننے کا انتخاب کیوں کیا جس میں ریٹنگ مل گئی لیکن اس میں اچھے مواد کی کمی ہے۔

    مایا علی ( صنم ، من مائل اور ضد ):مایا علی بہترین پاکستانی ڈراموں میں سے کچھ کا حصہ رہی ہیں لیکن انہوں نے کچھ واقعی بدترین انتخاب بھی کیے ہیں! ایک سے زیادہ مرتبہ ، وہ ڈراموں کا حصہ رہی ہے اور اس نے ایسے کردار ادا کیے ہیں جن کا کوئی مطلب نہیں ہے۔ ان کرداروں نے دیکھنے والوں کو ناراض کردیا اور مایا علی کی اسٹار پاور اس دن کو نہیں بچا سکی۔ڈرامہ سیریل صنم ، من مائل اورضد مایا علی کے بدترین انتخاب تھے۔ یہ سارے ڈرامے اتنے بورنگ تھے کہ زیادہ تر لوگوں کو انھیں دیکھنے میں مشکل پیش آتی تھی۔ اگرچہ من مائل ایک زبردست ہٹ فلم تھی ، لیکن منو کا کردار کسی لطیفے سے کم نہیں تھا! بعض اوقات یہ یقین کرنا مشکل ہے کہ مایا نے اس طرح کے خوفناک انتخاب کیے۔

    سجل علی (نور العین اور چپ رہو): سجل علی کی اداکاری کی شاندار صلاحیتوں نے بہت سوں کو متاثر کیا لیکن بالکل اسی فہرست میں جتنے بھی اداکار ہیں انھوں نے بھی کچھ ایسے انتخابات کیے ہیں جو زیادہ دانشمندانہ نہیں تھے۔ نور العین اور چپ رہو ایسے دو ڈرامے تھے جو محض بدترین تھے۔ ڈرامہ نور العین نہ صرف ایک بالی وڈ فلم کی مکمل کاپی تھا بلکہ یہ سب سے بدترین ڈرامہ تھا جس میں سجل نے اپنےپورے کیریئر میں کام کیا ہے۔چپ رہو ایک ڈرامہ تھا جس میں ایک اہم سماجی مسئلے پر توجہ دی گئی لیکن یہ ایک لطیفہ نکلا۔ ولن کو کسی دوسرے کردار سے زیادہ اسکرین ٹائم دیا گیا تھا اور رامین (سجل کے کردار) نے دوسرے کے بعد ایک غیر مناسب کام کیا تھا۔ یہ دونوں ڈرامے سجل نے کیے ہوئے بدترین انتخاب تھے-

    عائزہ خان (شہرناز): عائزہ خان پیارے افضل کے بعد پہلے سے کہیں زیادہ مشہور ہوگئیں۔ بس جب اس کے مداح اسے دوبارہ اسکرین دیکھنے کے بے تاب تھے تو ان کی شادی ہوگئی اور کچھ دیر کے لئے ٹیلی ویژن اسکرین سے غائب ہوگئیں۔ جب انہوں نے واپسی کی تو مداحوں نے خوشی کا اظہار کیا۔ اس کے ساتھ انہوں نے جو پلے بیک کیا تھا وہ اب تک کی سب سے بڑی مایوسی ثابت ہوئی۔

    عائزہ خان کو ایک سٹرونگ کردار میں دیکھنے کے منتظر ناظرین حیرت زدہ رہ گئے کہ عائزہ نے اس کردار کا انتخاب کیوں کیا- شہرناز دانش تیمور کی اپنی پروڈکشن تھی لہذا یہ اندازہ کرنا آسان ہے کہ عائزہ خان نے ایسے غیر معیاری ڈرامے کا حصہ بننے کا فیصلہ کیوں کیا؟ اگرچہ عائزہ بہت سارے اوسط ڈراموں کا حصہ رہی ہیں اور کافی دقیانوسی کردار ادا کئے ہیں ، لیکن انہوں نے اپنے کیریئر میں جو بھی کردار ادا کیا وہ شہ ناز کی طرح خراب نہیں تھا۔

    ثنا جاوید(رومیو ویڈز ہیر اور ڈر خدا سے): ثنا جاوید کو خانی سے کامیابی ملی وہ کسی اور سے نہیں۔ ڈرامہ سیریل میں انہوں نے جو مضبوط کردار ادا کیا تھا اس نے ان کے بہت سے مداح جیت لئے۔ دیکھنے والے توقع کر رہے تھے کہ ثناء جاوید مستقبل میں اس طرح کے مزید ڈراموں میں کام کریں گے۔ انہوں نے خانی کے بعد کچھ معیاری منصوبوں میں کام کیا لیکن انہوں نے کچھ ایسے انتخابات بھی کیے جو قابل تعریف نہیں تھے۔رومیو ویڈز ہیر نے خانی لیڈ جوڑی کی کامیابی کو کمانے کی ایک کوشش کی تھی۔ ڈرامہ نہ تو مضحکہ خیز تھا اور نہ ہی دل لگی تھا لیکن پھر بھی اس کی تشہیر کی گئی جیسے اگلی بڑی چیز تھی۔ ڈر خدا سے ایک اور ڈرامہ تھا جس نے اب دیکھو خدا کیا کرتا ہے کی کہانی کی نقل تیار کی تھی اور ایسا کرنا انتہائی بے معنی تھا-

    سارہ خان (بند کھڑکیاں ، دیوار شب،میرے بے وفا) سارہ خان ایک اور معروف پاکستانی اداکارہ ہیں جن کی مداحوں کی زبردست فین فالوونگ ہے۔ وہ اکثر اچھے ڈراموں کا بھی انتخاب کیا لیکن انہوں نے کچھ واقعی برے ڈرامے بھی منتخب کئے ہیں میرے بیوفا ایک ڈرامہ تھا جس میں انہوں نے انتہائی مظلوم بیوی کا کردار ادا کیا تھا جو ڈرامہ کے دوران ان کے شوہر کی طرف سے بدسلوکی کی جاتی ہے لیکن اس نے آخر میں اسے معاف کردیا جیسے اس نے کچھ غلط نہیں کیا!

    ڈرامہ سیریل بند کھڑکیاں میں ، سارہ خان کا کردار اور خود ڈرامہ بھی اتنا ہی مضحکہ خیز تھا جیسے میرا بیوفا تھا۔ دیوارِ شب ایک اور حالیہ ڈرامہ تھا جس میں سارہ خان بہت خوبصورت لگ رہی تھیں لیکن ان کے کردار میں گہرائی کا فقدان تھا۔ ڈرامہ خود بھی تھوڑی بہت تیزی سے آگے بڑھا۔ یہ یقینی طور پر سارہ خان کے ذریعہ کیے گئے بہترین انتخاب نہیں تھے۔

    یمنی زیدی(آپ کی کنیز): یمنی زیدی نے ان تمام سالوں میں خود کو ایک بہترین اداکارہ کے طور پر منوایا ہے۔ وہ ایسے ڈراموں کا انتخاب کرتی ہیں جس میں وہ زبردست کچھ پیش کرتے ہیں لیکن وہ ایک خاص ڈرامے کا حصہ تھی جس نے اسے ٹیلی ویژن کی سکرینوں پر سب سے زیادہ بےچاری کردار میں دکھایا۔ آپ کی کنیز اس کے لقب کی طرح ہی تھا۔ یمنی زیدی نے کام کرنے کے لئے اس طرح کے ایک بدترین ڈرامے کا انتخاب کرتے ہوئے شائقین کو حیرت زدہ کردیا۔
    صباقمر(اضطراب،جنم ، کیست تم سے کہوں): صبا قمر انتہائی ٹیلنٹڈ اداکارہ ہیں جنہوں نے ماضی میں کچھ بدترین انتخاب کیےجسکا اعتراف انہوں نے ایک انٹرویو میں بھی کیا ان کا پروجیکٹ میں کیا تم سیےکہوں یہ اتنا کم اوسط ڈرامہ تھا کہ زیادہ تر لوگوں نے اسے نہیں دیکھا۔اضطراب اور جنم صبا قمر کے دو اور ڈرامے ہیں جنہیں اپنے دور کے بدترین سیریل کہا جاسکتا ہے-

    پاکستانی اداکار جو ڈاکٹر بھی ہیں

    وہ ڈرامے جنہوں نے فنکاروں کو نئی پہچان اور شہرت دی

    پاکستانی ڈرامے مقدس رشتوں کی پامالی کے زمہ دار !!! جلن ڈرامے میں اخلاقی اقدار کو بری طرح سے پامال کیا جائے گا تحریر: غنی محمود قصوری

  • پاکستانی اداکار جو ڈاکٹر بھی ہیں

    پاکستانی اداکار جو ڈاکٹر بھی ہیں

    پاکستان شوبز انڈسٹری میں بہت سارے اعلی تعلیم یافتہ افراد ہیں جنہوں نے اعلی ڈگری رکھنے کے باوجود شوبز کا انتخاب کیا حالانکہ ان کے پاس مختلف کیریئر کے حصول کا اختیار موجود تھا۔ کچھ لوگوں کو شاید یہ معلوم ہی نہ ہو کہ کچھ مشہور پاکستانی اداکار بھی ہیں جو ڈاکٹر بھی ہیں۔ ڈاکٹر بننے کو کل وقتی ملازمت سمجھا جاتا ہے اور اداکار ہونے کے لئے بھی بہت زیادہ کام اور وقت کی ضرورت ہوتی ہے۔ تب بھی ان اداکاروں نے اپنے میدانوں میں عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔

    باغی ٹی وی : مندرجہ ذیل پاکستانی اداکار جو ڈاکٹر ہیں۔

    1 شائستہ لودھی
    2 عائشہ گل
    3 نادیہ حسین
    4 مزنا ابراہیم
    5 سید جبران
    6 عدیل چودھری
    7 فہد مرزا

    سید جبران: سید جبران پاکستان کے بہترین مرد اداکاروں میں سے ایک ہیں۔ رانجھا رانجھا کردی میں ان کی کارکردگی کی وجہ سے انہیں بہت سراہا گیا۔ بہت سے لوگوں کو یہ معلوم نہیں ہوگا کہ سید جبران نے راولپنڈی میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کیا تھا لیکن انہوں نے ڈاکٹر کے بجائے اداکار بننے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے کبھی بھی شوبز میں آنے کا ارادہ نہیں کیا تھا لیکن وہ اکثر اس بارے میں سوچتے تھے۔ ان کے دوست نے انہیںکمرشل کیلئے آڈیشن دینے کے لئے چیلنج کیا ، اس بچکانہ شرط تھا جس کی وجہ سے وہ اداکار بن گیا-
    https://www.instagram.com/p/B_uuzsSni44/?igshid=1a9ntj9mpwvf1
    انہیں پی ٹی وی کی طرف سے پہلی بار ایک ڈرامے میں اداکاری کرنے کے لئے کال موصول ہوئی اس وقت وہ میڈیکل کے چوتھے سال میں تھے۔ ان کے والدین نے کہا کہ وہ اپنی تعلیم مکمل کرے اور پھر وہ جو چاہے کر سکتے ہیں- انہوں نے بس ایسا ہی کیا! جب اداکاری کا آغاز کیا تو انہوں نے اسی کیرئیر کو لے کر آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا!

    فہد مرزا: فہد مرزا ایک پلاسٹک سرجن اور اداکار ہیں۔ وہ ان دونوں پیشوں کو یکساں طور پر سنجیدگی سے لیتے ہیں اور ان دونوں کے مابین توازن برقرار رکھنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ فہد مرزا نے ٹیلی ویژن پر زیادہ کام نہیں کیا ہے لیکن انہوں نے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ وہ شوبز کے میدان میں خود کو متعلقہ رکھنے کے لئے کچھ نہ کچھ کرتے رہیں۔ پلاسٹک سرجری کے میدان میں جو کچھ انہوں نے حاصل کیا اس پر فہد مرزا کو واقعی فخر ہے۔ وہ اپنے کاموں کو پسند کرتےہیں اور اسی وجہ سے اکثر وہ اپنے بہترین کام کو سوشل میڈیا پر پوسٹ کرتے رہتے ہیں۔
    https://www.instagram.com/p/CAU-JhyJ_h6/?igshid=1wk2hce5rzaa5
    https://www.instagram.com/p/CAVVZXeJH6h/?igshid=11sotjpjv5wbr
    عدیل چودھری: زیادہ تر لوگ عدیل چوہدری کو بطور گلوکار ،سونگ رائٹرز ، اور اداکار کے طور پر ہی جانتے ہیں لیکن بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ وہ ڈینٹسٹ بھی ہیں۔ ہندوستان میں اپنے ماڈلنگ کے پہلے منصوبے کے بعد ، عدیل چودھری واپس آئے اور لاہور کے ایک معروف میڈیکل کالج سے ڈینٹسٹ کی ڈگری حاصل کی۔ اس نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ وہ ایک مصدقہ دانتوں کا ڈاکٹر ہے جو چاہے تو جڑ کی نہر سرانجام دے سکتا ہے! بعد میں ، انہیں بطور گلوکار اور ایک اداکار کی حیثیت سے ہندوستان میں مزید کام کرنے کی پیش کش مل گئی۔ یہی وجہ ہے کہ جب انہیں احساس ہوا کہ وہ فنون لطیفہ کی طرف زیادہ مائل ہے اور انہوں نے کبھی بھی پیشہ کے طور پر دندان سازی کا انتخاب نہیں کیا۔
    https://www.instagram.com/p/B-9FXAkJ4yS/?igshid=19uerytvuj196
    شائستہ لودھی : شائستہ لودھی نے شوبز میں اپنے کیریئر کی شروعات بطور میزبان کی تھی اور کئ سالوں سے وہ معروف چینلز کے سب سے بڑے شوز کی میزبانی کرتی تھیں۔ حال ہی میں ، شائستہ لودھی نے بھی اداکاری کے جوہر دکھائے۔ شائستہ لودھی جب شوبزکرئیر کا اغاز کیا تھا تو وہ ہاؤس جاب کرتی تھیں۔ ایک بار جب وہ شوبز کا پیشہ اپنا لیا تو تو ، وہ واقعی میں یہ پیشہ ان کو بھا گیا اور اپنا زیادہ تر وقت اس کے لئے وقف کردیا۔ اب برسوں شوبز انڈسٹری فعال طور پر کام کرنے کے بعد شائستہ لودھی نے ایک بار پھر اپنے دوسرے پیشے کو شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور وہ اس میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کررہی ہیں-
    https://www.instagram.com/p/CBffvVajvP4/?igshid=1xw66ql3pj9un
    شائستہ لودھی کی اپنی کاسمیٹک سرجری اور جلد کا کلینک ہے۔ وہ ایسی تصاویر پوسٹ کرتی رہتی ہے جس میں وہ اپنے مریضوں کا علاج کرتی نظر آتی ہے۔ شائستہ اپنے کاموں سے محبت کرتی ہے ، ایسی چیز جو اس کی حوصلہ افزائی کرتی اور چلتی رہتی ہے۔ حال ہی میں ، اس نے اپنی اسکین کیئر کی رینج بھی شروع کی ہے-
    https://www.instagram.com/p/CBIpqRHpLB_/?igshid=1ubr0ectdfzci
    عائشہ گُل: عائشہ گل ایک معروف اداکارہ ہیں انہوں نے کرغیز اسٹیٹ میڈیکل اکیڈمی سے میڈیکل ڈگری حاصل کی۔ عائشہ گل اپنی تعلیم مکمل کرنے کے لئے ہائی اسکول کرنے کے بعد دبئی سے کرغزستان گئیں۔ وہ دبئی میں مقیم ہیں لیکن وہ پاکستانی شوبز انڈسٹری کا حصہ بننا پسند کرتی ہیں۔ عائشہ گل ان اداکاروں میں سے ایک ہیں جنہوں نے اپنے طبی پیشے کو مکمل طور پر پیچھے چھوڑ دیا اور اداکاری ان کی پہلی پسند بن گئی۔ ایک انٹرویو میں ، انہوں نے بتایا کہ اگر وہ شوبز میں نہ آتیں تو وہ پلاسٹک سرجن بن جاتیں۔ عائشہ گل شاید اب بھی کاسمیٹک سرجری کا آغاز کریں گی جب وہ شوبز کو خیر با کہیں گی۔
    https://www.instagram.com/p/CBkL-jzp-hC/?igshid=2dkgje7fsten
    نادیہ حسین: نادیہ حسین ماڈلنگ کی دنیا میں بڑا نام بنانے کے بعد اب وہ اداکاری میں بھی اپنا سکہ جمانے میں کامیاب ہو گئیں ہیں۔ وہ ایک ڈینٹسٹ ہونے کے ساتھ ایک کاسمیٹک سرجن بھی ہیں۔ نادیہ حسین نے اپنی اے لیول مکمل کرنے کے بعد اتفاق سے ماڈلنگ کا آغاز کیا۔ اس نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ وہ اس ماڈلنگ کیریئر کو کل وقتی ملازمت کے طور پر گزاریں گی۔ انہوں نے اپنے ڈاکٹری کے پیشے کو پیچھے چھوڑا اور ماڈلنگ ان کا جنون بن گیا۔ نادیہ حسین نے اب اپنا سیلون کھول لیا ہے اور وہ کاسمیٹک طریقہ کار بھی کرتی ہیں۔ ان کی اپنی میک اپ لائن بھی ہے۔
    https://www.instagram.com/p/CBiy6L8Jr7y/?igshid=12r8fjhist5rt
    مزنہ ابراہیم: مزنا ابراہیم ایک اور اداکارہ ہیں جو نہ صرف ڈاکٹر ہیں بلکہ عوامی اسپیکر بھی ہیں جنہوں نے حال ہی میں کارپوریٹ دنیا سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی تربیت کا آغاز کیا۔ انہوں نے اپنی مہارت اور معلومات کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی اسکین اسپیر لائن بھی شروع کردی ہے۔ مزنا ابراہیم نے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ وہ اپنی ڈگری کو زندگی کے مختلف شعبوں میں جس بھی طریقے سے کرسکتی ہیں ، میں اپنا حصہ ڈالنے کے لئے استعمال کریں گی۔ وہ ایک پر اعتماد اور پُرجوش خاتون ہیں جو مسلسل آگے بڑھنے میں یقین کرتی ہیں اسی لئے وہ ہمیشہ کسی نئی چیز کی طرف راغب ہوتی رہتی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ مزنا کے لئے ڈاکٹر اور اداکار ہونا کافی نہیں ہے ، انہیں یقین ہے کہ وہ اور بھی کچھ کر سکتی ہے
    https://www.instagram.com/p/CBh47nkDxQY/?igshid=7beugnjvelsl

    وہ ڈرامے جنہوں نے فنکاروں کو نئی پہچان اور شہرت دی

    پاکستانی ڈرامے مقدس رشتوں کی پامالی کے زمہ دار !!! جلن ڈرامے میں اخلاقی اقدار کو بری طرح سے پامال کیا جائے گا تحریر: غنی محمود قصوری

    صبا قمر کی یو ٹیوب پر بڑی کامیابی

  • ایک بار طارق عزیز کی یادگار تقریر دل کے کانوں سے سنیں، طارق عزیز کا امت مسلمہ کو بیدار کرنے کیلئے اہم پیغام

    ایک بار طارق عزیز کی یادگار تقریر دل کے کانوں سے سنیں، طارق عزیز کا امت مسلمہ کو بیدار کرنے کیلئے اہم پیغام

    پاکستان کے معروف اداکار کمپئیر میزبان اور سیاستدان طارق عزیز کا آج انتقال ہو گیا ہے جس پر پاکستانی عوام سمیت معروف شخصیات غمزدہ ہیں اور سوشل میڈیا پر اپنے غم کا اظہار کر ہی ہے-

    باغی ٹی وی : پاکستان کے معروف اداکار کمپئیر میزبان اور سیاستدان طارق عزیز کا آج انتقال ہو گیا ہے جس پر پاکستانی عوام غمزدہ ہے اور سوشل میڈیا پر اپنے غم کا اظہار کر ہی ہے سوشل میڈیا پر طارق عزیز کے ایک یاد گارخطاب کی ویڈیو وائرل ہو رہی ہے جس میں وہ پاکستان میں تعلیم کے نظام اور پاکستانی معشیت پر بات کرتے نظر آ رہے ہیں-

    طارق عزیز نےاپنے ایک خطاب میں تعلیم کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت دنیا میں مسلمانوں کی تعداد ایک ارب اور پچاس کروڑ کے قریب ہے گویا دنیا کا ہر پانچواں یا چھٹا آدمی مسلمان ہے اور اس کے مقابلے میں یہودی چند کروڑ ہیں دو یا تین کروڑ ہیں ہم ایک ارب پچاس کروڑ اور وہ پانچ کروڑ اور پچھلے 100 سال میں 200 میں سے 180 نوبل پرائز یہودیوں کے پاس ہیں اور آپ کے پاس صرف تین ہیں اب اس کے بعد رونے کو جی نہ چاہے تو پھر آدمی کیا کرے-

    انہوں نے افسوس کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف ایک ارب پچاس کروڑ وہ تین نوبل پرائز حاصل کرتے ہیں اور دوسری طرف بہت ہی واجبی پانچ کروڑ وہ 180 پرائز حاصل کرتے ہیں معشیت ان کے ہاتھ میں ہے کارل ماس یہودی تھا پینسلین بنانے والا یہودی تھا دنیا کی اکنامکس کو اس وقت یہودی کنٹرول کر رہے ہیں-

    انہوں نے خطاب میں موجود لوگوں کو مخاب کرتے ہوئے کہا کہ ایک بات ذہن میں رکھئے گا آپ کے بچوں کا دودھ تک یہ ملٹی نیشنل کمپنیاں اس پر قبضہ کر چکی ہیں جس دن چاہیں گے آپ کے بچوں کو بھوکا مار دیں گے اور پاکستان دنیا میں دودھ پیدا کرنے والا پانچواں مُلک ہے لیکن آتا سب کچھ ادھر سے ہی ہے بسکٹ گندم بھی ادھر سے آتے ہیں –

    انہوں نے کہا میرے پاس وقت کم ہے اور زخم زیادہ ہیں انہوں نے بچوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا مستقبل ادھر بیٹھا ہے یہ ہاتھ اگر مضبوط ہوئے یہ ذہن اگر پڑھے لکھے اور طاقتور ہوئے تو پاکستان طاقتور بنے گا پاکستان میں بلوچستان کے گوادر سے لے کر چترال کے گاؤں کے بچے تک ایک ہی اگر نظام تعلیم ہو جائے تو میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ پاکستان 10 ، 20 سال میں اقوام عالم کو پیچھے چھوڑ دے گا لیکن شرط یہ ہے کہ 18 کروڑ میں سے صرف پانچ فیصد کو حاکمانہ غرور نہ دو پچانوے فیصد کو غربت ور جہالت نہ دو ان کو اردو میڈیم کہہ کر نفرت نہ دو تمہاری اپنی زبان ثقافت ادب ہر چیز تمہاری یہ پانچ فیصد کھا رہے ہیں گدھوں کی طرح نوچ رہے ہیں اور پچانوے فیصد کے پاس رات کو کھانے کے لئے نہ روٹی ہے نہ ان کے گھر دیا جلتا ہے-

    طارق عزیز نے کہا کہ پاکستان زرعی ملک ہے لیکن گندم باہر سے آتگی ہے زرعی ملک ہے چاول اور دودھ باہر سے آتا ہے اور زرعی ملک ہے لیکن کسان کے چہرے پر خوشی نہیں ہے آنکھوں میں روشنی نہیں ہے اس کا بچہ سکول نہیں جا سکتا-

    ماضی کے معرف کمپئیر طارق عزیز انتقال کر گئے

    ہمارے بچپن کو یادگار بنانے والے رخصت ہو گئےطارق عزیز کی وفات پر شوبز فنکار اور معروف شخصیات غمزدہ

  • ہمارے بچپن کو یادگار بنانے والے رخصت ہو گئےطارق عزیز کی وفات پر شوبز فنکار اور معروف شخصیات غمزدہ

    ہمارے بچپن کو یادگار بنانے والے رخصت ہو گئےطارق عزیز کی وفات پر شوبز فنکار اور معروف شخصیات غمزدہ

    پاکستان شوبز اںڈسٹری کے ماضی کے معروف اداکار کمپئیر اور ہر دلعزیز طارق عزیز شو کے میزبان طارق عزیز اس دنیا سے رخصت ہو گئے ہیں ان کی وفات پر شوبز فنکار، کرکٹر اور معروف شخصیات اپنے غم کا اظہار کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر ان کے اہل خانہ سے تعزیت اور پی ٹی وی کیلئے ان کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں خراج تحسین پیش کررہے ہیں۔

    باغی ٹی وی : مسحور کن شخصیت کے مالک اور ناظرین و حاضرین کو اپنی گفتگو کے سحر میں جکڑ لینے والی ہر دلعزیز شخصیت کی وفات سے ایک خلا پیدا ہو گیا ہے جسے پُر کرنا ناممکن ہو گا-ان کی وفات پر جہاں ان کے مداح غمگین ہیں وہیں شوبز شخصیات سمیت پاکستانی کرکٹر اور معروف شخصیات بھی غمزدہ ہیں اور اپنے غم کا اظہات اپنے سوشل میڈیا پیغامات کے ذریعے کر رہی ہیں –


    علی ظفر نے اٹویٹر پر اپنے پیغام میں لکھا کہ اللہ آپ کی روح کو سکون دے آپ نے ہمیں یادوں سے بھرا بچپن تحائف اور بہت کچھ دیا-گلوکار نے لکھا کہ ہماری قوم اپنے ہیروز کو بہت جلد بھول جاتی ہے لیکن طارق عزیز کی شخصیت کبھی نہیں بھلائی جائے گی۔آپ کے ساتھ ہی ایک عہد بھی اختتام پزیر ہوا ہے-


    معروف میزبان و اداکار واسع چوہدری نے ابھی طارق عزیز کو خراج عقیدت پیش کیا۔


    اداکارہ ماورہ حسین نے اپنے پیغام میں لکھا کہ’میرے بچپن کو یادگار بنانے میں اہم کردار ادا کرنے والے طارق عزیز آج دنیا سے رخصت ہوگئے، اللہ آپ کو دائمی سکون عطا کرے۔ ہمیں اپنے گیم شوز اور اس سب کے لئے جس سے اپ نے ہمیں لطف اندوز کیا آپ کا شکریہ انہوں نے طارق عزیز کا معروف ڈائیلاگ ’دیکھتی آنکھوں اور سنتے کانوں کو طارق عزیز کا سلام‘ بھی تحریر کیا-


    اداکارہ صبا قمر نے لکھا کہ ایک اور دن ایک اور بڑا نقصان انہون نے لکھا کہ وہ طارق عزیز کی وفات کی خبر سننے کے بعد شدید دل شکستہ ہیں۔


    اداکار بلال اشرف نے طارق عزیز کی موت کو ایک بڑا نقصان قرار دیتے ہوئے لکھا کہ طارق عزیز کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔


    علی رحمن خان نے لکھا کہ میری زندگی کی نہایت معزز اور دل چسپ شخصیات میں سے ایک طارق عزیز اب ہم میں نہیں ہیں اللہ ان کی روح کو سکون دیں ہمیشہ ہمارے دلوں میں زندہ رہیں گے-


    اداکارہ منشا پاشا نے بھی طارق عزیز کو خراج عقیدت پیش کیا-


    اداکارہ ماہرہ خان نے طارق عزیز کی وفات پر گہرے دُکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ طارق عزیز کی پاکستان کیلئے کی گئی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں۔ لیجنڈ طارق عزیز نے طویل عرصے تک پاکستان کی خدمت کی جس کے ہم سب مقروض ہیں۔ طارق عزیز کی وفات کے ساتھ ہی فن کی دنیا کا ایک عہد اختتام پذیر ہوا ہے۔
    https://twitter.com/AftabIqbaI/status/1273178836667154433?s=19
    آفتاب اقبال نے لکھا کہ پاکستان نے آج ایک ہیرا کھودیا ہے افسوس اس ملک میں ہیروں کی قدر تب ہوتی ہے جب وہ اس دنیا فانی سے کوچ کر جاتے ہیں پاکستان ٹیلی ویژن پر سب سے پہلی سنے جانے والی آوز طارق عزیز کی تھی وہ اکیلا شخص ہی پوری ٹیلی ویژن انڈسٹری تھا اللہ انکو جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے آمین-


    اداکار فیروزخان نے بھی افسوس کا اظہار کیا-


    ڈاکٹر شائستہ لودھی نے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے طارق عزیز کا مشہور ڈائیلاگ لکھا وہ تالیوں کی گونج میں دوڑتا ہوا آتا شروع اللہ کے نام سے کرتا، سُنتے کانوں اور دیکھتی آنکھوں کو سلام کرتا، عوام میں خوشیاں اور معلومات بانٹتا، پاکستان پائندہ باد کا نعرہ لگا کر آئندہ ملاقات کا وعدہ کرکے چلا جاتا۔۔
    https://twitter.com/ushnashah/status/1273178220725141504?s=19
    اداکارہ اشنا شاہ نے طارق عزیز کے دوستوں اور اہل خانہ کے ساتھ تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے ان کے لئے دائمئ سکون کی دعا کی-


    گلوکار ابرارالحق نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ الوداع طارق عزیز صاحب-


    اداکارہ وینا ملک نے اپنے تعزیتی پیغام میں طارق عزیز کو ان کی خدمات کے صلے میں سرکاری اعزاز کے ساتھ دفنانے کا مطالبہ کیا اور لکھا کہ افسوس جب وہ زندہ تھے تب ہم نے انکی قدر نا کی۔ انکی خدمات کے بدلے انہیں قومی سبز ہلالی پرچم میں سپرد خاک کیا جانا چاہیئے وہ اپنے پروگرام کے آخر میں جس جوش اور محبت سے پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگواتے تھے وہ کبھی نہیں بھولےگا-اللہ انکو جنت میں اعلی مقام عطا فرمائے۔آمین


    رابی پیرزادہ نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ طارق عزیز مجھے ہمیشہ کہتے تھے کہ شوبز تمہارے لئے نہیں اور شاید وہ صحیح کہتے تھے-


    جرنلسٹ جویریہ صدیقی نے لکھا کہ میزبانی کا عہد ختم ہوا –


    صنم جنگ نے لکھا کہ طارق عزیز کے انتقال کے بارے میں سن کر انتہائی افسوس ہوا –


    کرکٹر حسن علی نے اپنے تعزیتی پیغام میں لکھا کہ ہم آپ کی جادوئی آواز کو ہمیشہ یاد رکھیں گے اللہ آپ کے درجات بلند کرے اور جنت میں اعلی مقام عطا فرمائے-


    جرنلسٹ احتشام الحق نے اپنے پیغام میں لکھا کہ طارق عزیز صاحب انتقال فرماگئے ھیں۔اللہ ان کے درجات بلند فرمائے ۔آمین


    سابق کرکٹر شعیب اختر نے لکھا کہ آج صبح لیجنڈری اینکر طارق عزیز صاحب کی افسوس ناک خبر سنی۔ اللہ ان کا آگے کا سفر آسان بنائے۔ وہ پاکستان ٹیلی وژن کا پہلا چہرہ تھے۔


    اداکار عمران عباس نے ایک طویل تعزیتی نوٹ شئیر کیا اور لکھا کہ دیکھتیآنکھوں سنتے کانوں آج جیسے پاکستان ٹیلی ویژن کے سر سے کسی بزرگ کا سایہ اٹھ گیا ہے-انہوں نے لکھا طارق عزیز صاحب آپ جیسا کوئی اب کوئی نہیں آئے گا انہوں نے ایک شعر بھی لکھا کہ :ہم وہ سیاہ بخت ہیں طارق کے شہر میں ، کھولیں دوکان کفن کی تو سب مرنا چھوڑ دیں-


    عدنان صدیقی نے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ طارق عزیز صاحب کا نام آتے ہی ہیں میرے ذہن میں نیلام گھر آجاتا ہے اور وہ آواز گونجنے لگتی ہے جو طارق عزیز صاحب اپنے پروگرام کے ابتدا میں کہتے تھے۔ ”دیکھتی آنکھوں سنتے کانوں کو طارق عزیز کا سلام”۔ اب نہ وہ دیکھتی آنکھیں رہیں اور نہ ہی وہ سنتے کان رہے۔ طارق عزیز صاحب رخصت ہوگئے-


    ہمایوں سعید نے تعزیتی پیغام میں لکھا کہ طارق عزیز صاحب ایک سچے لیجنڈ اور قوم کی شبیہہ تھے۔ انکی روح کو سکون ملے آمین-

    یاد رہے کہ آج صبح ماضی کے معروف اور لیجنڈری اداکار و میزبان کمپئیر اور سیاستدان طارق عزیز کا انتقال ہو گیا تھا ان کا نماز جنازہ گارڈن ٹاؤن میں بعد نماز عصر ادا کیا جائے گا-

    طارق عزیز شو بز اور ادب کی دنیا کا لیجنڈ بقلم:محمد نعیم شہزاد

    "یوں لگتا ہے جیسے وقت تھم گیا ہو” چند گھنٹے قبل ٹویٹ کرنے والے طارق عزیز کیلئے وقت تھم گیا از طہ منیب

    ماضی کے معرف کمپئیر طارق عزیز انتقال کر گئے

  • نادیہ جمیل علاج کے لئے پھر ہسپتال میں داخل

    نادیہ جمیل علاج کے لئے پھر ہسپتال میں داخل

    بریسٹ کینسر جیسے خطرناک مرض میں مبتلا پاکستان شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ و سماجی کارکن نادیہ جمیل اپنے علاج کے لیے ایک بار پھر ہسپتال میں داخل ہوگئی ہیں۔

    باغی ٹی وی : انسٹاگرام پر نادیہ جمیل نے اپنی ایک تصویر پوسٹ کی جس میں اداکارہ ہسپتال کے کمرے میں موجود ہیں اور اُن کے ہاتھ پر ڈرپ لگی ہوئی ہے۔

    تصویر پوسٹ کرتے ہوئے نادیہ جمیل نے لکھا کہ دس گھنٹے بعد مجھے ہسپتال کے ایک کمرے میں داخل کیا گیا ہے جہاں میرے لیے بیڈ کے ساتھ تکیہ اور کمبل موجود ہے اورمیں اس کے لیے اللہ تعالی کی شُکر گزار ہوں۔
    https://www.instagram.com/p/CBeGembh8i2/?igshid=1h5ukdkgxtcp9
    نادیہ جمیل نے لکھا کہ مجھے نہیں معلوم کہ کیا ہو رہا ہے بس اتنا جانتی ہوں کہ ڈاکٹرز کو میرے اندر انفیکشن کا شبہ ہوا ہےاور وہ نہیں سمجھتے کہ یہ انفیکشن کوویڈ 19 ہے

    انہوں نے لکھا کہ میرے دل کی دھڑکن تیز ہوتی جارہی ہے میں نے ابھی تک کچھ نہیں کھایا ہے، مجھے متلی محسوس ہورہی ہے اور ٹانگوں میں بھی تکلیف ہے لیکن میں پھر بھی اپنے رب کا شکر ادا کرتی ہوں کہ میں اپنے کمرے کی کھڑکی سے اُس کا تخلیق کیا گیا خوبصورت آسمان دیکھ سکتی ہوں۔

    نادیہ نے لکھا کہ مجھے اُمید ہے کہ بہت جلد مجھے گرم کھانا اور پانی دیا جائے گا-

    انہوں نے لکھا کہ کچھ گھنٹوں بعد مجھے گرم کھانا اور پانی دیا جائے گا تب تک میں اس نرم بستر کے لیے اللہ تعالی کا شکر ادا کرتی ہوں۔

    نادیہ جمیل نے لکھا کہ کوویڈ 19 نے واقعی اسپتالوں کو مغلوب کر دیا ہے۔

    اداکاری و سماجی کارکن نے مزید لکھا کہ مجھے اپنی جیب سے کچھ جیلی بینز ملی ہیں اور اب میں ان کو کھاتے ہوئے لطف اندوز ہوں گی۔

  • واسع چوہدری کورونا وائرس سے صحتیاب ہو گئے

    واسع چوہدری کورونا وائرس سے صحتیاب ہو گئے

    پاکستان شوبز انڈسٹری کے معروف اداکار و میزبان واسع چوہدری کورونا سے صحتیاب ہو گئے ہیں-

    باغی ٹی وی :پاکستان شوبز انڈسٹری کے معروف اداکار و میزبان واسع چوہدری کورونا سے صحتیاب ہو گئے ہیں- سوشل میڈیا ویب سائٹ ٹویٹر پر واسع چوہدری نے مداحوں اور دوستوں کو اپنی صحت سے آگاہ کرتے ہوئےلکھا کہ الحمداللہ میرا کورونا ٹیسٹ منفی آیا ہے۔


    اداکار و میزبان نے مداحوں کے دُعائیہ پیغامات کا شکریہ ادا کرتے ہوئے لکھا کہ میں میرے لئے کی گئیں آپ سب کی دُعاؤں، پیغامات اور نیک خواہشات کے لئے بہت زیادہ مشکُور ہوں۔

    اداکار کی طرف سے یہ ٹویٹ سامنے آنے کے بعد جہاں ان کے مداحوں نے خوشی کا اظہار کیا وہاں معروف شخصیات نے بھی مبارکباد دی-


    معروف اینکر اجمل جامی نے لکھا کہ آکر کار آپ ٹھیک ہو گئے ماشاءاللہ سُن کر بہت خوشی ہوئی اپنے اردگرد لوگوں کا خاص خیال رکھیں-


    ترجمان پی آئی اے دانیال گیلانی نے بھی خوشی کا اظہار کیا-

    واضح رہے کہ رواں ماہ 8 جون کو واسع چوہدری نے اپنے ایک ٹویٹ میں بتایا تھا کہ اُن کا کورونا ٹیسٹ مثبت آیا ہے جس کے بعد انہوں نے خود کو قرنطینہ کرلیا تھا۔

    واسع چوہدری نے بتایا تھا کہ انہیں کورونا کی کوئی علامات ظاہر نہیں ہوئی تھیں، اہلخانہ کا بھی کورونا ٹیسٹ کروایا تھا سب کے نتائج منفی آئے۔

    یاد رہے کہ اس سے قبل ندا یاسر ، یاسر نواز، روبینہ اشرف ، نوید رضا ، شفاعت علی ،پاکستانی کرکٹر شاہد آفریدی ، ابراالحق اور رحیم شاہ بھی کوویڈ 19 کا شکار ہیں انہوں نے کورونا پوزیٹیو آنے پر خود کو گھروں میں قرنطینہ کر لیا ہے-

    اداکار واسع چوہدری بھی کورونا وائرس کا شکار ہو گئے

    ندا یاسر ،اپنے شوہر کے ہمرا کرونا کا شکار

    اداکار نوید رضا کا کورونا وائرس کی تصدیق کرتے ہوئے خصوصی پیغام جاری

    معروف ٹی وی میزبان شفاعت علی بھی کورونا وائرس کا شکار ہو گئے

    روبینہ اشرف کی صحت سے متعلق زیر گردش خبریں بے بنیاد ہیں ڈاکٹر عامر لیاقت

    ابرارالحق کے بعد ایک اور گلوکار کورونا وائرس کا شکار ہو گئے

  • طارق عزیز شو بز اور ادب کی دنیا کا لیجنڈ   بقلم:محمد نعیم شہزاد

    طارق عزیز شو بز اور ادب کی دنیا کا لیجنڈ بقلم:محمد نعیم شہزاد

    طارق عزیز شو بز اور ادب کی دنیا کا لیجنڈ
    محمد نعیم شہزاد

    "ابتدا ہے رب جلیل کے نام سے جو دلوں کے بھید خوب جانتا ہے۔ دیکھتی آنکھوں، سنتے کانوں کو طارق عزیز کا سلام پہنچے”
    زمانہ طالب علمی میں پاکستان ٹیلی ویژن سے نشر کیے جانے والے سوال و جواب کے انعامی شو نیلام گھر کے میزبان طارق عزیز کے یہ الفاظ آج بھی کانوں میں گونجتے ہیں۔ طارق عزیز 28 اپریل 1936ء کو جالندھر، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ جالندھر کی آرائیں گھرانے سے ان کا تعلق ہے۔ ان کے والد میاں عبد العزیز پاکستانی 1947 میں پاکستان ہجرت کر آئے۔ ان کی پاکستان سے والہانہ محبت اور لگاؤ کا یہ عالم تھا کہ وہ پاکستان بننے سے پہلے سے ہی اپنے نام کے ساتھ پاکستانی لکھتے تھے۔آپ نے اپنا بچپن ساہیوال 142/9L میں گزارا۔ طارق عزیز نے ابتدائی تعلیم ساہیوال سے ہی میں حاصل کی۔ اس کے بعد انہوں نے ریڈیو پاکستان لاہور سے اپنی پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز کیا۔ اپنی مایہ ناز صداکاری کے لیے بہت عروج پایا اور یہی وجہ تھی کہ جب 1964ء میں پاکستان ٹیلی وژن کا قیام عمل میں آیا تو طارق عزیز ہی پی ٹی وی کے سب سے پہلے مرد اناؤنسر تھے۔ تاہم 1975 میں شروع کیے جانے والے ان کے سٹیج شو نیلام گھر نے ان کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔ یہ پروگرام کئی سال تک جاری رہا اور اسے بعد میں بزمِ طارق عزیز شو کا نام دے دیا گیا۔

    طارق عزیز ہمہ جہت شخصیت کے حامل اور صاحب کمال تھے۔ انہوں نے ریڈیو اور ٹی وی کے پروگراموں کے علاوہ فلموں میں بھی اداکاری کی۔ ان کی سب سے پہلی فلم انسانیت (1967 ) تھی اور ان کی دیگر مشہور فلموں میں سالگرہ، قسم اس وقت کی، کٹاری، چراغ کہاں روشنی کہاں، ہار گیا انسان قابل ذکر ہیں۔

    انہیں ان کی فنی خدمات پر بہت سے ایوارڈ مل چکے ہیں اور حکومتِ پاکستان کی طرف سے 1992ء میں حسن کارکردگی کے صدارتی تمغے سے بھی نوازا گیا۔ طارق عزیز نے سیاست میں بھی حصہ لیا 1970 کے دور میں ذوالفقار علی بھٹو کی سیاست میں ان کافعال کردار تھا۔ بعدازاں وہ اپنی پی ٹی وی اور فلم کی مصروفیات کے باعث سیاست کو وقت نہ دے سکے۔ بھٹو کے وارثان و قائمقامان کی سیاست سے دل برداشتہ ہو گئے اور پی پی پی سے اپنی وابستگی ختم کر دی۔ بعدازاں میاں نواز شریف کی قیادت پر اعتماد کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ میں شامل ہو گئے اور 1997ء میں لاہور سے ایم این اے منتخب ہوئے۔ طارق عزیز علم و ادب اور کتاب سے محبت کرنے والے انسان ہیں۔ وسیع مطالعہ والے اور صاحب قرطاس ہیں
    ان کے کالموں کا ایک مجموعہ ’’داستان‘‘ کے نام سے اورپنجابی شاعری کا مجموعہ کلام ’’ہمزاد دا دکھ‘‘ شائع ہو چکا ہے۔ انہوں نے نہ صرف اردو بلکہ اپنی مادری زبان پنجابی میں بھی شاعری کی ہے۔

    نمونہ کلام: پنجابی غزل

    گناہ کیہ اے، ثواب کیہ اے ایہہ فیصلے دا عذاب کیہ اے
    میں سوچناں واں چونہوں دِناں لئی ایہہ خواہشاں دا حباب کیہ اے
    جے حرف اوکھے میں پڑھ نئیں سکدا تے فیر جگ دی کتاب کیہ اے
    ایہہ سارے دھوکے یقین دے نے نئیں تے شاخ گلاب کیہ اے
    ایہہ ساری بستی عذاب وچ اے
    تے حکم عالی جناب کیہ اے

    نمونہ کلام از اردو شاعری: آزاد نظم سے اقتباس

    دوست یہ تو کی ہے تو نے بچوں کی سی بات
    جو کوئی چاہے پا سکتا ہے خوشبووں کے بھید
    اس میں دل پر گہرے درد کا بھالا کھانا پڑتا ہے
    ہنستے بستے گھر کو چھوڑ کے بن میں جانا پڑتا ہے
    تنہائی میں عفریتوں سے خود کو بچانا پڑتا ہے
    خوشبوگھر کے دروازوں پر کالے راس رچاتے ہیں
    جو بھی واں سے گزرے اس کو اپنے پاس بلاتے ہیں
    زہر بھری پھنکار سے اس کے جی کو خوب ڈراتے ہیں
    جو کوئی چاہے پا سکتا ہے خوشبووں کے بھید

    طارق عزیز مسحور کن شخصیت کے مالک تھے اور ناظرین و حاضرین کو اپنی گفتگو کے سحر میں لینے کا ملکہ رکھتے تھے۔ پی ٹی وی کراچی کے سابق جی ایم قاسم جلالی نے طارق عزیز کی بحیثیت پروگرام کمپئیر فنی صلاحیتوں کا ان الفاظ میں اعتراف کیا ہے۔

    "ان دنوں جبکہ پروگرام ریکارڈ کرنے کی بجائے براہ راست چلائے جاتے تھے،طارق عزیز کو سخت محنت کرنا پڑتی تھی۔پروگرام شروع کرنے کے بعد کسی اداکار یا کردار نے آنا ہوتا تھا اور اسے آنے میں تاخیر ہوجاتی تو طارق عزیز دیکھنے والوں کو اپنی ایسی باتوں میں لگا لیتے کہ تاخیر محسوس ہی نہیں ہوتی تھی ، یوں تاخیر کا عرصہ کمال خوبی سے ازخود نکل جاتا تھا۔”

    علم و ادب اور فن اداکاری و صداکاری کی عہد ساز شخصیت 84 برس کی عمر میں چاہنے والوں کو سوگوار چھوڑ کر خالق حقیقی سے جا ملی اور اس دار فانی کو خیر باد کہہ دیا۔