Baaghi TV

Category: شوبز

  • پی ٹی وی نے عوام سے اربوں روپے کا ٹیکس وصول کیا لیکن وہ کوئی ایسا شاہکار نہ بنا سکا جس پر ہمیں فخر ہو شان شاہد

    پی ٹی وی نے عوام سے اربوں روپے کا ٹیکس وصول کیا لیکن وہ کوئی ایسا شاہکار نہ بنا سکا جس پر ہمیں فخر ہو شان شاہد

    پاکستان کے معروف اداکار شان شاہد کا کہنا ہے کہ وہ تُرک سیریز کے پاکستان میں نشر کرنے کے مخالف نہیں بلکہ پی ٹی وی پر نشر کرنے کے مخالف ہیں۔

    باغی ٹی وی : مسلمانوں کی تیرھویں صدی کی اسلامی فتوحات پر مبنی تُرک سیریز ’دیرلیش ارطغرل‘ کو وزیر اعظم عمران خان کی ہدایت پر اردو میں ڈب کر کے سرکاری ٹی وی چینل پر یکم رمضان سے ’ارطغرل غازی‘ نشر کی جارہی ہے- اور اسے نہ صرف مقبولیت حاصل ہو ئی بلکہ یہ پاکستانیوں کا پسندیدہ ڈرامہ بن گیا ہے اس ڈرامے کو پاکستان ٹیلی ویژن پر نشر کرنے کی مخالفت سب سے پہلے اداکار شان شاہد نے کی تھی-انہوں نے کہا تھا کہ ہماری تاریخ اور ہمارے ہیروز کو تلاش کرنے کی کوشش کریں –

    اداکار شان کے اس بیان کے بعد سے ایک تنازع کی صورتحال پیدا ہوگئی تھی اور سوشل میڈیا صارفین ارطغرل کے مداحوں سمیت مشہور شخصیات نے بھی اداکار کے اس بیان کی مذمت کرتے ہوئے اداکار کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا-

    جس کےبعد پاکستانی اداکار نے 14 جون کو کی گئی اپنی ایک ٹویٹ میں ’ارطغرل غازی ‘ کو ایک شاہکار سیریز قرار دیتے ہوئے لکھا کہ وہ ’ارطغرل غازی‘ دیکھ کر ابھی فارغ ہوئے ہیں، بلاشبہ یہ ایک کلاسک شاہکار ہے۔

    اداکار نے اپنی ٹویٹ میں ڈرامے کے پروڈیوسرز کا اتنا اچھا ڈرامہ بنانے پر خصوصی طور پر شکریہ اد اکرنے کے ساتھ ساتھ کاسٹ اور تکنیکی ماہرین کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے اس سیریز کو شاہکار بنانے کے لئے انتھک محنت کی-انہوں نے اپنی ٹویٹ میں بتایا تھا کہ یہ ڈرامہ انہوں نے نیٹ فلکس پر دیکھا ہے-

    شان شاہد کی جانب سے ترک ڈرامے کو کلاسک قرار دینے پر کئی لوگ حیران رہ گئے تھے، کیوں کہ سب سے پہلے انہوں نے ہی اس ڈرامے کو سرکاری ٹی وی پر نشر کرنیکی مخالفت کی تھی۔

    تاہم شان شاہد کی جانب سے ڈرامے کی تعریف کیے جانے پر لوگوں نے انہیں تنقید کا نشانہ بنایا تھا اور کہا تھا کہ پہلے انہوں نے دیکھے بغیر ہی ڈرامے کی مخالفت کی اور اب تعریفیں کر رہے ہیں۔

    شان شاہد نے خود پر ہونے والی تنقید کے بعد ٹویٹر پر وضاحتی نوٹ شئیر کیا اور بتایا کہ وہ اب بھی ڈرامے کو سرکاری ٹی وی پر نشر کرنے کے مخالف ہیں۔


    شان شاہد نے لکھا کہ ان کی جانب سے ڈرامے کی تعریف کو غلط سمجھا گیا اور انہوں نے جو پہلے ڈرامے پر ٹویٹ کی تھیں وہ ڈرامے کے خلاف نہیں بلکہ اسے سرکاری ٹی وی پر نشر کرنے کی مخالفت میں تھیں۔

    اداکار نے لکھا کہ سرکاری ٹی وی نے گزشتہ 25 سال سے عوام سے اربوں روپے کا ٹیکس وصول کیا مگر کوئی بھی ایسا شاہکار نہیں پیش کرسکی جس پر ہمیں فخر ہو۔ لیکن وہ اس ڈرامے یعنی ارطغرل غازی کے مخالف کبھی بھی نہیں تھے-

    انہوں نے لکھا کہ پچھلے چند ہفتوں سے وہ سوشل میڈیا پر دیکھ رہے ہیں کہ ہم سب نفرت، بغیر کسی وجہ تنقید اور دوسروں پر ملامت کرنے کی بیماری میں مبتلا ہوچکے ہیں اور بغیر کسی وجہ سے دوسروں پر ملامت کرنے کے لئے تیا ر رہتے ہیں-

    شان نے لکھا کہ پی ٹی وی پر اپنے ملک کے نظریے اور ہیروز کے فروغ سمیت دیگر بھاری ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں جو وہ اب تک پوری کرنے میں بُری طرح ناکام ہے۔

    اداکار نے لکھا کہ ماضی میں نجی چینلز غیر ملکی مواد نشر کرتے آئے ہیں لیکن انہوں نے کبھی اس کی مخالفت نہیں کی نہ کریں گے، مسئلہ صرف سرکاری چینل پر دوسرے ملک کی پروڈکشن نشر کرنے سے ہے۔

    شان شاہد نے ارطغرل غازی کو کلاسک شاہکار قرار دیا

  • "یوں لگتا ہے جیسے وقت تھم گیا ہو” چند گھنٹے قبل ٹویٹ کرنے والے طارق عزیز کیلئے وقت تھم گیا از طہ منیب

    "یوں لگتا ہے جیسے وقت تھم گیا ہو” چند گھنٹے قبل ٹویٹ کرنے والے طارق عزیز کیلئے وقت تھم گیا از طہ منیب

    خواہش تھی کہ طارق عزیز مرحوم کے ساتھ ملاقات ہو، بس سستی کی وجہ سے ملاقات رہ گئی، جانے والے کہاں رکتے ہیں، انکے پروگرام نیلام گھر سے بچپن کی یادیں وابستہ ہیں، کیا خوبصورت، ادب، معلومات ، مزاح سے بھرپور پروگرام ہوتا تھا جو دہائیوں تک یاد رہے گا۔ اپنے مخصوص انداز "دیکھتی آنکھوں، سنتے کانوں کو طارق عزیز کا سلام پہنچے” سے پروگرام کا آغاز کرنے والے طارق عزیز آج کچھ دیر قبل چل بسے۔ 1936 کو جالندھر میں پیدا ہوئے ، قیام پاکستان پر پاکستان تشریف لائے ، اداکار ، میزبان ، ادیب ، سیاستدان جیسے متعدد کرداروں کے حوالے پہچان بنائی۔ بڑی سنجیدہ اور باوقار شخصیت کے مالک تھے۔

    ابو نے 1997 کی الیکشن مہم کا ایک واقعہ سنایا کہ الیکشن سے قبل نواز شریف کا دورہ ملتان تھا، جلسہ گاہ قلعہ کہنہ قاسم باغ کھچا کھچ بھرا ہوا تھا ، میں بھی اس جلسے میں تھا ، طارق عزیز کی دس منٹ کی تقریر نے مجمع جما بھی دیا تھا اور تقریر ختم ہوتے ہی پنڈال خالی ہونا شروع ہوگیا جیسے عوام نواز شریف نہیں طارق عزیز کو سننے آئی ہو، جبکہ نواز شریف سٹیج پر موجود تھے، نواز شریف کی اپیل پر طارق عزیز دوبارہ مائک پر آئے کچھ منٹ مزید گفتگو کی۔

    پی ٹی وی کی نشریات کے آغاز کا اعزاز آپکو حاصل ہے، طارق عزیز نے 1974 میں نیلام گھر نامی کوئز پروگرام کا آغاز کیا جو تقریباً چار دہائیوں تک جاری رہا۔ 1997 تا 1999 مسلم لیگ کی طرف سے دو سال ایم این اے بھی رہے۔ اٹھارہ گھنٹے قبل ٹویٹر پر ٹویٹ کی کہ یوں لگتا ہے جیسے وقت تھم گیا ہے اور اٹھارہ گھنٹوں بعد واقعی وقت تھم گیا۔ موت ایک حقیقت ہے، سال دو ہزار بیس بہت جان لیوا ثابت ہوا ہے، جہاں لوگوں کی بڑی تعداد وبا کی وجہ سے موت کی آغوش میں گئی وہاں بڑے بڑے نام بھی اس سال داغ مفارقت دے گئے ، طارق عزیز مرحوم بھی انہیں میں سے ایک ہیں ، اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے۔ آمین

  • فیصل قریشی کا سوشانت کی خودکشی پر معنی خیز پیغام

    فیصل قریشی کا سوشانت کی خودکشی پر معنی خیز پیغام

    پاکستان شوبز انڈسٹری کے معروف اداکار و میزبان فیصل قریشی نے سوشل میڈیا پر بھارتی اداکار سوشانت سنگھ کی موت کے بعد ایک معنی خیز پیغام جاری کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : رواں ماہ اتوار کو باندرا میں اپنے فلیٹ میں گلے میں پھانسی کا پھندہ ڈال کر خودکشی کرنے والے 34 سالہ نوجوان بھارتی اداکار سوشانت سنگھ کی موت کے بعد سے سوشل میڈیا پر ٹرینڈ چل رہا ہے جس میں صارفین اُن کے بارے میں جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آخر سوشانت سنگھ کی موت کی وجہ کیا تھی اور ساتھ ہی وہ بالی وڈ کو سوشانت سنگھ کی موت کا مورد الزام ٹھہرا رہے ہیں جبکہ چند شوبز ستاروں پر براہ راست بھی الزام تراشی کر چکے ہیں –

    سوشانت سنگھ کی خودکشی نے جہاں بھارتی فنکاروں کو غمزدہ کیا ہے وہیں پاکستانی فنکار بھی ورطہ حیرت میں ہیں اور سوشل میڈیا پر اظہار تعزیت کرتے ہوئے مختلف پیغام شئیر کر رہے ہیں-


    پاکستان کے نامور اداکار و میزبان فیصل قریشی نے ٹوئٹر پر ایک پیغام جاری کیا ہے جس میں اُنہوں نے لکھا کہ کسی انسان کے مرنے کے بعد ہم اس کے بارے میں جتنا جانتے ہیں کاش ہم اُس کی زندگی میں اُس انسان کو آدھا ہی جان پائیں-

    اداکار نے لکھا کہ اس طرح ھمارے کندھے مسکراھٹ میں چھپے آنسو ھی ڈھوئیں گیں۔جنازے نہیں-


    اداکار و میزبان کی اس ٹویٹ پر اداکار اعجاز اسلم نے بھی اتفاق کیا-

    واضح رہے کہ اس سے قبل اداکار عمران عباس نے بھی اپنے ایک پیغام میں کہا تھا کہ ڈپریش حقیت ہے مذاق نہیں براہ کرم اسے سنجیدہ لیں اور اپنوں کو اکیلا مت چھوڑیں اس سے قطع نظر کہ وہ زندگی میں کتنے خوش اور مطمئن نظر آتے ہیں-

    یاد رہے کہ اس سے قبل معروف اداکارہ حرا مانی نے اپنی ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا تھا کہ جب کوئی ہمارے درمیان موجود ہوتا ہے تو ہمیں اس کی قدر نہیں ہوتی لیکن لوگوں کے دنیا سے چلے جانے کے بعد ہمیں اُن کی قدر ہوتی ہے۔انہوں نے کہا تھا کہ دوسروں کے ساتھ نرمی اختیار کریں اور ان کا خیال رکھیں جن کے دل میں رحم ہوتا ہے ان کے دل میں خدا ہوتا ہے-

    واضح رہے کہ سوشانت سنگھ کی خودکشی کے واقعے کی تحقیقات کے دوران پولیس کو ان کے گھر سے کچھ دستاویزات موصول ہوئے تھے جن کے مطابق سوشانت سنگھ ڈپریشن کا علاج کروا رہے تھے اور اُن کے قریبی دوستوں کا بھی کہنا تھا کہ اداکار ذہنی تناؤ کا شکار تھے لیکن ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ اُن کے ڈپریشن کی وجہ کیا تھی-

    ڈپریشن حقیقت ہے مذاق نہیں براہ کرم اسے سنجیدہ لیں عمران عباس

    جن کے دل میں رحم ہوتا ہے ان کے دل میں خدا ہوتا ہے حرامانی

  • پاکستانی اداکارہ ماہرہ خان کی عائزہ سے شادی کی خواہش

    پاکستانی اداکارہ ماہرہ خان کی عائزہ سے شادی کی خواہش

    ماہرہ خان اور عائزہ خان کو کسی تعارف کی ضرورت نہیں- یہ دونوں بے حد باصلاحیت اور حیرت انگیز اداکارہ ہیں۔ جب کہ ماہرہ نے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کی ہے ، عائزہ نے محض اپنے ڈراموں کے پاکستانیوں سمیت دنیا بھر میں مداحوں کے دل جیت لئے ہیں۔

    باغی ٹی وی : اگرچہ عائزہ اور ماہرہ نے ابھی تک کسی بھی پروجیکٹ میں ساتھ کام نہیں کیا ہے ، ایسا لگتا ہے کہ ماہرہ عائزہ کی مداح ہیں۔ ایک حالیہ براہ راست انٹرویو میں جہاں ماہرہ نے سجل الی کی تعریف کی ، وہیں ماہرہ نے یہ بھی بتایا کہ وہ عائزہ انہیں انتہائی خوبصورت لگتی ہیں اور اگر اس کی شادی دانش تیمور سے نہ ہوتی تو وہ اس سے شادی کرلیتی۔

    ماہرہ عائزہ خان کے بارے میں اپنی محبت کا اظہار دل میں بغیرکسی قسم کا تعصب رکھے کیا ہمیں خوشی ہے کہ ہماری اداکارائیں کس طرح پیشہ ورانہ رقابت سے بالاتر ہو چکی ہیں اور اب ایک دوسرے کے بارے میں بغیر کسی تعصب کےکھل کر بات کرتی ہیں ، ایک دوسرے کی کُھلے دل سے تعریف کرتی ہیں-

  • ماضی کے معرف کمپئیر طارق عزیز انتقال کر گئے

    ماضی کے معرف کمپئیر طارق عزیز انتقال کر گئے

    ماضی کے معروف کمپیئر،اداکار ،میزبان اور سیاستدان طارق عزیز انتقال کر گئے-

    باغی ٹی وی : ماضی کے مقبول ٹی وی شو نیلام گھر کے میزبان اور کمپئیر طارق عزیز آج انتقال کر گئے-طارق عزیز 28 اپریل 1936 کو جالندھر میں پیدا ہوئے – اور اپنی ابتدائی تعلیم جالندھر سے ہی حاصل کی انہوں نے اپنے فنی کرئیر کا اغاز ریڈیو پاکستان لاہور سے کیا انہوں نے اپنے ٹی وی پر اپنے فنی کیرئیر کا اغاز 1964 میں کیا-

    جب پاکستان میں لاہور میں ٹیلی ویژن پر ابتدائی نشریات کا آغاز نومبر 1964 کو ہوا تو طارق عزیز پی ٹی وی کے پہلے میل اناؤنسر تھے- پی ٹی وی پر نشریات میں دیکھے جانے والے پہلے آدمی تھے-

    طارق عزیز نے 1967 میں اپنی فلمی کیرئیر کا اغاز اداکار وحید مراد اور اداکارہ زیبا کے ساتھ فلم انسانیت سے کیا اس کے عالوہ انہوں نے فلم ہار گیا انسان میں بھی اداکاری کی- عالوہ ازیں طارق عزیز متعدد لوکل ٹی وی پروگرامز اور مارننگ شو بھی کئے-

    انہوں نے ٹیی تھون کے نام سے ایک چیریٹی تنظیم بھی بنائی-

    طارق عزیز کو ان کے شو بزم طارق عزیز سے شہرت ملی-

    ان کو پہچان ٹی وی شو نیلام گھر سے ملی جس کا آغاز 1974 میں ہوا تھا بعد میں یہ ٹی وی کوئز شو طارق عزیز شو اور پھر بزم طارق عزیز کے نام سے نشر کیا جانے لگا-

    طارق عزیز نے 1960 سے 1970 تک کئی فلموں میں سائڈ رول بھی ادا کئے ان کی مشہور فلموں میں تھی جو 1969 میں ریلیز ہوئی تھی اور اس فلم نے دو نگار ایوارڈ بھی اپنے نام کئے تھے

    طارق طارق اپنے طالبعلمی کے زمانے سے ہی سیاست میں دلچسپی رکھتے تھے اپنے کالج میں بھی سایسی سرگرمیوں می‌حصہ لیتے تھے انہوں نے 1970میں ذوالفقار علی بھٹو کی جماعت پی پی پی جوائن کی بعد میں 1996 میں انہوں نے مسلم لیگ ن جوائن کی اور اس جماعت کے رُکن کی حیثیت سے لاہور سے نیشنل اسمبلی میں منتخب ہوئے اور 1997 سے 1999 تک پاکستان نیشنل اسمبلی کے رُکن رہے – بعد ازاں پریذیڈنٹ پرویز مشرف کے دور اقتدار میں مشرف کی سیاسی پارٹی پہاکستان مسلم لیگ ق میں چلے گئے-

    طارق عزیز کو ان کی فنی صلاحیتوں اور اعلی کاگردگی پر 1992 میں حکومت کی طرف سے پرائیڈ آف پرفارمنس کے اعزاز سے نوازا گیا-

    پاکستانی ڈرامے مقدس رشتوں کی پامالی کے زمہ دار !!! جلن ڈرامے میں اخلاقی اقدار کو بری طرح سے پامال کیا جائے گا تحریر: غنی محمود قصوری

  • ویویک اوبرائے نے بھی سوشانت سنگھ کی موت کا ذمہ دار بالی وڈ کو قرار دیا

    ویویک اوبرائے نے بھی سوشانت سنگھ کی موت کا ذمہ دار بالی وڈ کو قرار دیا

    بھارتی اداکار ویویک اوبرائے کا کہنا ہے کہ سوشانت کی آخری رسوامات ادا کرتے وقت دیکھے گئے مناظر اور اُن کی بہن اور اُن کے والد کی آنکھوں میں دیکھی گئی دُکھ کی شدت بیان کرنا ناممکن ہے۔

    باغی ٹی وی : اتوار کے روز باندرا میں اپنے گھر میں خودکشی کرنے والے 34 سالہ بھارتی اداکار سوشانت سنگھ کی آخری رسومات میں شریک ویویک اوبرائے نےبتایا کہ وہ سوشانت کے والد کی آنکھوں میں دکھ کی شدت نا قابل بیان تھی۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک تفصیلی پیغام شیئر کرتے ہوئے ویویک اوبرائے نے لکھا کہ سوشانت سنگھ کی موت کی خبر بہت دل توڑنے والی تھی-


    ویویک اوبرائے نے لکھا کہ میری شدید خواہش ہے کہ کاش میں سوشانت کو اپنے تجربے سے سکھا پاتا اور اس کی تکلیف دور کرتا لیکن ایسا نہیں ہو سکا۔انہوں نے لکھا میں خود اس درد سے گزر چُکا ہوں یہ بہت مایوس کن اور تنہا محسوس ہوتا ہے-لیک موت اس کا جواب نہیں اور خودکشی ہر مسئلے کا حل نہیں-

    ویویک نے لکھا کاش وہ اپنے ساتھ آج یہ دیکھ پاتا کہ فرینڈز ،والدین ،فیملی اور لاکھوں مداحوں کو اس المناک حادثے نے کتنا دُکھ پہنچایا ہے تو اسے احساس ہوتا کہ سب لوگ اس کی کتنی کئیر کرتے ہیں-

    انہوں نے سوشانت کی آخری رسومات کے حوالے سے لکھا کہ جب ان کے والد آخری رسومات ادا کررہے تھے تو جو غم ان کی آنکھوں میں تھا اور جس طرح سوشانت کی بہن ان کی لاش کی منتیں کر رہی تھی کہ بھائی واپس آ جاؤ، وہ سب ناقابل بیان ہے۔

    اداکار نے بالی وڈ کوسوشانت کی موت کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ فلم انڈسٹری ایک ایسی جگہ ہونی چاہیے جہاں ٹیلنٹ کی پرورش ہو نا کہ اسے کچل دیا جائے۔

    ویویک نے مزید کہا کہ بالی ووڈ خود کو ایک فیملی تو کہتی ہے لیکن اس فیملی کو سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے خود بینی کی ضرورت ہے، یہاں انا اور طاقت کا زیادہ زور چلتا ہے، صلاحیتوں کی کوئی اہمیت نہیں لیکن موت ان سب سازشوں کا جواب نہیں ہے۔

    دوسری جانب بھارتی میڈیا چینل ٹائمز آف انڈیا نے بتایا کہ سوشانت سنگھ کی خودکشی کے بعد جہاں ان کے اہل خانہ اور ملک صدمے میں ہے، وہیں ان کے کزن کی بیوی بھی اداکار کے صدمے میں چل بسیں۔

    رپورٹ کے مطابق سوشا نت سنگھ کے کزن کی اہلیہ نے اداکار کی خودکشی کی خبر سننے کےبعد لوگوں سے بات چیت کم کردی تھی اور وہ اس قدر صدمے میں چلی گئی تھیں کہ انہیں کھانے پینے کا بھی احساس نہیں رہا تھا۔

    واضح رہے کہ ویویک اوبرائے سے پہلے اداکارہ کنگنا رناوت اور بھارتی عوام نے بھی سوشانت سنگھ کی موت کا ذمہ دار بالی وڈ انڈسٹری کو قرار دیا تھا یہاں تک کہ بھارتی عوام نے چند شوبز ستاروں کو براہ راست نشانہ بنایاتھا-

    سوشانت سنگھ کی موت کی ذامہ دار بالی وڈ انڈسٹری ہے بھارتی عوام

    اداکارہ کنگنا رناوت نے سوشانت سنگھ کی افسوسناک موت کے حوالے سے فلم انڈسٹری کی جانب سے پھیلائے گئے پروپیگنڈے کو بے نقاب کردیا

  • بھارتی اداکار سوشانت سنگھ راجپوت کی 50  خواہشات

    بھارتی اداکار سوشانت سنگھ راجپوت کی 50 خواہشات

    بھارتی اداکار سوشانت سنگھ راجپوت اپنی زندگی میں 50 خواہشات رکھتے تھے جنہیں اداکار نے خود لکھ کر اپنی موت سے قبل سوشل میڈیا پر شئیر کیا تھا۔

    باغی ٹی وی :34 سالہ بھارتی اداکار سوشانت سنگھ راجپوت نے رواں ہفتے اتوار کے دن تقریباً دوپہر 12 بجے کے قریب بھارتی شہر ممبئی کے علاقہ باندرا میں اپنے گھر میں خودکشی کر کےاپنی زندگی کا خاتمہ کرلیا تھا ان کی پھندا لگی لاش ممبئی میں ان کے گھر کے ایک بند کمرے سے ملی تھی۔

    ان کی موت پر ان کے مداحوں سمیت شوبز انڈسٹری سے تعلق رکھنے والے افراد غمزدہ ہیں، اور ان کے اہل خانہ کے لیے تعزیتی پیغام بھیج رہے ہیں۔

    ایسے میں سوشل میڈیا پر سوشانت سنگھ راجپوت کی لکھی گئی 50 خواہشات بھی گردش کر رہی ہیں جنہیں اداکار نے خود لکھ کر اپنی موت سے قبل سوشل میڈیا پر شئیر کیا تھا کرتے ہوئے اپنے مداحوں کو بتایا تھا کہ وہ انہیں پورا کرنے کی خواہش رکھتے تھے۔


    سوشانت سنگھ کی سب سے بڑے خواہش طیارہ اڑانا اور بائیں ہاتھ سے کرکٹ کھیلنا بچوں کی سپیس کے بارے میں سیکھنے میں مدد کرنا اور چیمپئن کے ساتھ ٹینس کھیلنا تھی-


    علم فلکیات حاصل کرنا ،بلیو ہول میں غوطہ لگانا،دہلی کے انجنئیرنگ کالج کے ہاسٹل میں شام گزارنا اور 100 پودے اور درخت لگانا بھی انکی خوہش تھی-


    ناسا کی کوئی ایک ورکشاپ اٹینڈ کرنا ،جنگل میں ایک پفتہ گزارنا اور مختلف کھیلوں میں حصہ لینا بھی اداکار کی خواہشات میں شامل تھا-


    اداکار 10 ڈانس فورم پر ڈانس سیکھانے اور بچوں کو فری تعلیم دلوانے اور تعلیم عام کرنے کا بھی جذبہ رکھتے تھےاور انٹارکٹکاکی سیر کرنے کی بھی خواہش تھی-


    اداکار بچوں کو ڈانس سکھانا چاہتے تھے وہ خود بھی ایک بیک گراؤنڈ ڈانسر تھے اپنے پچاس پسندیدہ گانوں کے دھنوں کا گٹار سیکھنے،چیمپئین کے ساترھ چیس کھیلنے اور اپنی لیمبو گینی خریدنے کی خواہش رکھتے تھے-


    انڈین ڈیفینس فورسز کے لئے طلباء کو تیار کرنے،سوامی ویوکنندا پر ڈاکومینٹری بنانے اورپورے یورپ کا ٹرین سے دورہ کرنیکے بھی خواہش مند تھے-

    اداکارہ کنگنا رناوت نے سوشانت سنگھ کی افسوسناک موت کے حوالے سے فلم انڈسٹری کی جانب سے پھیلائے گئے پروپیگنڈے کو بے نقاب کردیا

    سوشانت سنگھ کی موت کی ذامہ دار بالی وڈ انڈسٹری ہے بھارتی عوام

  • سوشانت سنگھ کی موت کی ذامہ دار بالی وڈ انڈسٹری ہے  بھارتی عوام

    سوشانت سنگھ کی موت کی ذامہ دار بالی وڈ انڈسٹری ہے بھارتی عوام

    34 سالہ بھارتی اداکار سوشانت سنگھ راجپوت نے اتوار کے دن بارہ بجے کے قریب ممبئی کے علاقہ باندرا میں اپنی رہائش گاہ پر خودکشی کرلی تھی بھارتی عوام سوشل میڈیا پر غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے اداکار کی خود کشی کی ذمہ دار بالی وڈ انڈسٹری کو ٹھہرا رہی ہے-

    باغی ٹی وی : 34 سالہ بھارتی اداکار سوشانت سنگھ راجپوت نے اتوار کے دن بارہ بجے کے قریب ممبئی کے علاقہ باندرا میں اپنی رہائش گاہ پر خودکشی کرلی تھی پولیس کے مطابق اداکار نے خودکشی ڈپریشن کی وجہ سے کی تھی-

    اداکار کی پوسٹ مارٹم کی رپورٹ کے مطابق بھی اداکار کی موت دم گھٹنے کی وجہ سے ہی ہوئی تھی اور 15 جون ان کی آخری رسومات ادا کردی گئی تھیں۔

    سوشانت سنگھ راجپوت کی اچانک خودکشی کے بعد جہاں بھارت کے سیاسی، سماجی اور شخصیات صدمے میں ہیں، وہیں عوام میں بھی ان کی خودکشی کے حوالے سے سوشل میڈیا پر غم و غصہ کا اظہار کر رہے ہیں ۔

    تاہم زیادہ تر بھارتی عوام کسی حد تک سوشانت سنگھ کی خودکشی کا ذمہ داربالی انڈسٹری کو بھی ٹھہرا رہی ہے اور چند بالی وڈ شخصیات پر تو براہ راست ان کی خودکشی کے الزامات بھی لگائے جا رہے ہیں۔

    آج ٹوئٹر پر بائیکاٹ کرن جوہر گینگ مووی سب سے ٹاپ ٹرینڈ رہا اور اس ٹرینڈ کے تحت بھارتی عوام کی جانب سے فلم ساز کرن جوہر اور اداکارہ عالیہ بھٹ سمیت دیگر شوبز شخصیات کو اقربا پروری اور سوشانت سنگھ راجپوت جیسے اداکاروں کو نظر انداز کرنے کے الزامات لگائے۔
    https://twitter.com/DubeArsh/status/1272810493393031169?s=20
    بھارتی اخبار انڈیا ٹوڈے کے مطابق مذکورہ ٹرینڈ اس وقت ٹوئٹر پر ٹاپ بن گیا جب کرن جوہر اور عالیہ بھٹ نے سوشانت سنگھ راجپوت کی اچانک خودکشی پر اظہار افسوس کرتے ہوئے ٹوئٹس کیں۔
    https://twitter.com/karanjohar/status/1272111382905802753
    کرن جوہر نے اپنی ٹویٹ میں سوشانت سنگھ کی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ یہ بہت افسوس ناک اور دل کو تکلیف دینے والی بات ہے کہ سوشانت چلے گئے انہوں نے لکھا کہ انہیں اداکار کے ساتھ گزارے گئے لمحات ہمیشہ یاد رہیں گے۔


    عالیہ بھٹ نے بھی اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ وہ سوشانت سنگھ کی موت کا سن کر صدمے میں ہیں انہیں سمجھ نہیں آ رہا کہ کیا ہو رہا ہے اور وہ اس پر کیا لکھیں اداکارہ نے سوشانت کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار بھی کیا۔

    دونوں کی ٹویٹس پر مداحوں نے انہیں تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ جب سوشانت سنگھ زندہ تھے تو وہ ان کا مختلف تقاریب اور پروگرامات میں مذاق اڑاتے تھے اور اب مگر مچھ کی طرح جھوٹے آنسوں نکال رہے ہیں۔


    https://twitter.com/sakshie6/status/1272442630723403776?s=20
    https://twitter.com/Mr_Inexpugnable/status/1272208183025643522?s=20
    https://twitter.com/Manoj28345898/status/1272249138759991296?s=20
    https://twitter.com/prashant012318/status/1272312424197091330?s=20


    https://twitter.com/Sammyass888/status/1272309976329936896?s=20
    https://twitter.com/thinkingcraftsm/status/1272247480281755648?s=20
    کرن جوہر کی ٹویٹ پر بھی لوگوں نے بھر پور تنقید کا نشانہ بنایا-
    https://twitter.com/Saffron_Kashmir/status/1272399488691236864?s=20
    https://twitter.com/Actionholic2/status/1272249123526201346?s=20
    https://twitter.com/Actionholic2/status/1272421973235167233?s=20
    انڈیا ڈاٹ کام کی رپورٹ کے مطابق سوشانت سنگھ راجپوت کی خودکشی کے بعد بھارت میں ٹوئٹر پر کرن جوہر از بلی سمیت دیگر ٹرینڈز ٹرینڈ کرنے لگے اور لوگوں نے کرن جوہر، عالیہ بھٹ، سونم کپور اور دیگر شوبز شخصیات اور ان کے اداکار بچوں کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

    کئی صارفین کا کہنا تھا کہ سونم کپور، عالیہ بھٹ اور سوناکشی سنہا جیسی اداکاراؤں کی نہ تو ذہانت اچھی ہے اور نہ ہی انہیں اداکاری آتی ہے، تاہم انہیں اداکاروں کے بچے ہونے کی وجہ سے انڈسٹری میں اہم مقام حاصل ہے اور سوشانت سنگھ جیسے ٹیلنٹڈ اداکار پریشانی کا شکار بن کر زندگی کا خاتمہ کر دیتےہیں۔


    انڈیا ڈاٹ کام نے اپنی ایک اور رپورٹ میں بتایا کہ ٹویٹر پر لوگ سوشانت سنگھ کی سابق گرل فرینڈ اداکارہ انکتا لوکھنڈے کو ان کی خودکشی کا سبب قرار دے رہے ہیں جس پر اداکارہ سونم کپور نے ٹویٹر پر اپنے ٹویٹ میں برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ ایسے بیہودہ الزامات لگانے کا سلسلہ بند کیا جائے۔
    https://www.india.com/entertainment/bollywood-news-netizens-brutally-roast-sonam-kapoor-for-her-tweet-on-sushant-singh-rajputs-death-trend-karanjoharisbully-4059237/
    واضح رہے کہ بھارتی عوام کے علاوہ کنگنا رناوت بھی سوشانت سنگ کی موت کو خود کشی نہں بلکہ مرڈر قرار دیا –

    اداکارہ کنگنا رناوت نے سوشانت سنگھ کی افسوسناک موت کے حوالے سے فلم انڈسٹری کی جانب سے پھیلائے گئے پروپیگنڈے کو بے نقاب کردیا

  • ول اسمتھ تشدد زدہ غلام کی زندگی پر بنائے جانے والے ڈرامے میں جلوہ گر ہوں گے؟

    ول اسمتھ تشدد زدہ غلام کی زندگی پر بنائے جانے والے ڈرامے میں جلوہ گر ہوں گے؟

    ول اسمتھ ایک تاریخی ڈرامے میں تشدد زدہ غلام کے کردار میں نظر آئیں گے ۔

    باغی ٹی وی : آسکر نامزد اداکار ول اسمتھ ایک تشدد زدہ غلام کی تصویر سے متاثر ایک تاریخی ڈرامہ میں اداکاری کے لئے ہدایتکار انٹون فوکا کے ساتھ کام کرنے کو تیار ہیں۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق ، آزادی کے نام سے بننے والی اس فلم میں اسمتھ کو پیٹر نامی ایک بھگوڑے غلام کے طور پر دکھایا جائے گا ، جس نے 1860 کی دہائی میں شکاریوں اور لوزیانا کے خطرناک دلدلوں سے بچ کر آزادی حاصل کی تھی۔

    یہ کہانی ، ولیم این کولیج کی لکھی گئی ہے ، طبی معائنے کے دوران پیٹر کی کمر سے لی گئی تصاویر پر مبنی ہے ، جس میں اس کے سفاک مالکان کی وجہ سے ہونے والے زخموں سے چونکانے والے نشانات ظاہر ہوئے ہیں۔

    شاٹ سب سے پہلے مئی 1863 میں دی انڈیپنڈنٹ میں شائع ہوا اور غلامی کی لرزہ خیز حقیقتوں کی علامت کی حیثیت سے چلا گیا۔

    ڈیڈ لائن سے بات کرتے ہوئے ، فوکا نے کہا کہ اس تصویر پر دنیا پر پڑنے والے اثرات سے وہ متوجہ ہو گیا: “یہ دنیا کی غلامی کی بربریت کا پہلا وائرل امیج تھا ، جو آپ کو آج اور سوشل میڈیا کے ساتھ تناظر میں رکھتے ہیں۔ اور ایک بار پھر دنیا کیا دیکھ رہی ہے۔ ”

    فوکا نے مزید کہا کہ وہ اسمتھ کے ساتھ تعاون کرنے پر بہت خوش ہیں انہوں نے سمتھ کو سراہتے ہوئے کہا کہ "وہ ایک قابل اور منجھے ہوئے اداکار اور پروڈیوسر ہیں”

  • پاکستانی ڈرامے مقدس رشتوں کی پامالی کے زمہ دار !!! جلن ڈرامے میں اخلاقی اقدار کو بری طرح سے پامال کیا جائے گا  تحریر: غنی محمود قصوری

    پاکستانی ڈرامے مقدس رشتوں کی پامالی کے زمہ دار !!! جلن ڈرامے میں اخلاقی اقدار کو بری طرح سے پامال کیا جائے گا تحریر: غنی محمود قصوری

    موجودہ دور الیکٹرونک و پرنٹ میڈیا کا ہے ہم سب باخبر رہنے کیلئے ان کا سہارا لیتے ہیں جو کہ وقت کی ضرورت بھی ہے
    ایک مہذب معاشرے کی پہچان اس کے افراد اور مہذب افراد کی پہچان ان کے کردار سے ہوتی ہے
    پاکستانی پرنٹ میڈیا پر انتہائی گندے اور غیر مہذب اشتہار دیکھنے کو ملتے ہیں ایسے ہی پاکستانی الیکٹرونک میڈیا پر مختلف چینلز پر اشتہارات اور ڈراموں کی شکل میں قوم کی غیرت کا جنازہ نکالا جا رہا ہے
    افسوس کہ اس وقت ان پر مثبت کی بجائے منفی پہلو زیادہ اجاگر کئے جا رہے ہیں خاص طور پر پاکستانی ٹیلی میڈیا ہماری نسلوں کو ڈرامے دکھا کر اسلام سے دور کر رہا ہے
    پکستانی ڈرامہ انڈسٹری نے ماضی میں کئی ڈرامے ایسے بنائے اور دکھائے گئے جن میں مقدس رشتوں جیسے،دیور،بھابھی،ساس کی پامالی کی جاتی رہی جس کے دیکھنے سے پاکستانی معاشرے پر بہت برے اثرات پڑے اب ایک بار پھر ایسا ہی جلن نامی ڈرامہ نجی ٹی وی چینل پر 17 جون سے دکھایا جائے گا جس میں بہن اپنے بہنوئی یعنی بہن کے خاوند پر فریفتہ ہے ،آفس میں کام کرنے والی کی بیوی پر آفس کا باس دل پھینک چکا جبکہ اللہ معاف کرے سسر اپنی بہو پر فدا ہے افسوس کی بات ہے کہ ان پاکستانی چینلز کو کنٹرول کرنے کیلئے پیمرا نامی ادارہ بھی موجود ہے مگر ماضی میں بھی اس ادارے کی جانب سے کوئی خاص قابل ذکر کاروائی نا سامنے آئی اور اب جبکہ اس جلن ڈرامے کا ٹریلر جاری کر دیا گیا ہے تب بھی اس ادارے کی طرف سے کوئی بھی ایکشن سامنے نہیں آیا جس پر اس ادارے کے کردار پر شکوک وشبہات مذید بڑھ رہے ہیں
    اللہ معاف فرمائے کہ سالی اور بہنوئی کا ایک مقدس رشتہ ہے اور سالی بہنوئی کیلئے غیر محرم ہے اور سالی کا اپنے بہنوئی سے پردہ لازم ہے
    اسلام نے ایک وقت میں چار بیویاں رکھنے کی اجازت دی ہے مگر سگی بہنوں کا خیال رکھتے ہوئے ایک ہی وقت میں دو بہنوں سے نکاح حرام قرار دیا ہے جس کا مقصد ایک بہن کے ہوتے ہوئے دوسری کو اس کی سوتن بننے سے بچانا ہے تاکہ بہنیں آرام اور سکون سے زندگی بسر کر سکیں
    اسی لئے اللہ تعالی نے قرآن میں ارشاد فرمایا۔۔
    اور یہ حرام کیا گیا کہ تم دو بہنوں کو نکاح میں جمع کرو ۔۔سورہ النساء آیت 32
    فطری طور پر ہر عورت کو اپنی سوتن سے جلن محسوس ہوتی ہے اسی لئے بہنوں میں بگاڑ سے بچاؤ کیلئے اللہ نے دو بہنوں کو بیک وقت ایک مرد کے نکاح میں حرام کر دیا مگر یہاں پاکستانی چینل اس مقدس رشتے کو پامال کرتے ہوئے دکھا رہے ہیں بیوی کے زندہ اور نکاح میں ہونے تک بیوی کی بہن یعنی سالی نکاح کیلئے حرام ہے یعنی بہنوں کی طرح ہے مگر افسوس کہ یہاں اسی بہن کیساتھ عاشقی معشوقی دکھائی جارہی ہے جس کا زیادہ تر اختتام زنا پر ہوتا
    اور پھر ڈرامے کا نام بھی رکھا ہے جلن یعنی کہ بہن کو بہن سے جلن ہے.
    سسر وہ رشتہ ہے کہ جس میں بہو اپنے والد کے بعد سسر کو ابو یا ابا جان کہتی ہے اور سسر بہو محرم ہیں بہو خاوند کی غیر موجودگی میں سسر کیساتھ سفر کر سکتی ہے اس کیساتھ حج و عمرہ پر جا سکتی ہے کیونکہ بیٹی کے بعد بیٹی بہو ہوتی ہے مگر افسوس کہ اس مقدس ترین رشتے کی بھی پامالی دکھائی جانے لگی اور لوگوں کو گمراہ کر کے اسلام سے دور کیا جانے لگا ہے مگر افسوس کہ آزاد مملکت پاکستان میں اس سرعام اسلام سے دوری کرنے پر کوئی ایکشن لینے والا نہیں خاص کر پیمرا کو چاہیے کہ اس ڈرامے کو رکوائے تاکہ مقدس رشتوں کی پامالی ہونے سے بچ جائے اور ہمارا پاکستانی معاشرہ دین اسلام کی روشنی میں گزر بسر کر سکے
    کچھ لوگ کہتے ہیں جی ایسا کچھ تو انڈین فلموں ڈراموں میں بھی دکھایا جاتا ہے تو ان سے عرض ہے کہ وہ تو ایک کافر ملک ہے وہاں کے پروڈیوسر ہدایتکار،گلوکار،فنکار غرضیکہ زیادہ تر کافر ہیں اور ان میں سزا ،جزاء،قبر قیامت کا تصور نہیں تو پھر ان پر گلہ کیسا گلہ تو اپنوں پر ہے جو اسلام کے نام لیوا ہیں اور کام کفار جیسا کرتے ہیں