Baaghi TV

Category: شوبز

  • اداکار نوید رضا کا کورونا وائرس کی تصدیق کرتے ہوئے خصوصی پیغام جاری

    اداکار نوید رضا کا کورونا وائرس کی تصدیق کرتے ہوئے خصوصی پیغام جاری

    پاکستان شوبز انڈسٹری کے نامور اداکار نوید رضا نے کورونا کی تصدیق کرتے ہوئے کورونا کے حوالے سے خصوصی پیغام جاری کر دیا-

    باغی ٹی وی : کورونا وائرس کا شکار اداکار نوید رضا نے سوشل میڈیا پر اپنے ساتھ اداکاروں کے لیے ایک خصوصی ویڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ میری اس ویڈیو کا مقصد یہ ہے کہ میں اپنے ڈرامہ سیریل کے ساتھی اداکاروں کو خود میں ظاہر ہونے والی کورونا علامات سے آگاہ کر سکوں۔

    ڈرامہ سیریل میرا دل میرا دشمن کے اداکار نے کہا کہ پہلے دن مجھے سر اور جسمانی درد کے ساتھ پانی کی کمی محسوس ہوئی جبکہ اُس کے اگلے دن مجھے بخار کے ساتھ ہی کمزوری بھی محسوس ہونے لگی لیکن اس کے ساتھ نہ مجھے فلو ہوا اور نہ ہی گلا خراب ہوا۔

    نوید رضا نے بتایا کہ تیسرے دن بھی میرے یہ ہی حالت رہی اور اُس کے بعد میں نے اپنا کورونا ٹیسٹ کروایا جو کہ مثبت آیا۔

    اداکار نے اپنے ویڈیو پیغام میں ہدایتکار، پوڈیوسرز اور دیگر اداکاروں کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر آپ شوٹنگ کے لیے سیٹ پرجاتے ہیں تو براہ مہربانی احتیاطی تدابیر کا خیال رکھیں کیونکہ ہم ہی ایک دوسرے کو اس وائرس سے بچا سکتے ہیں۔
    https://www.instagram.com/p/CAkyC6ZgMA4/?igshid=lj03nidv7ln
    انسٹا گرام پر شئیر کی گئی اپنی اور اہلیہ کی تصویر کے ساتھ کیپشن میں لکھا کہ وقت اچھا ہو یا بُرا گزر ہی جاتا ہے

    اداکار نے مداحوں سے ان کو اور انکی فیملی کو دعاؤں میں یاد رکھنے کی بھی درخواست کی-

    نادیہ جمیل کا بریسٹ کینسر کی کیمو تھراپی کا دوسرا مرحلہ بھی مکمل

    دنیا بھر میں کورونا سے متاثرہ ممالک میں امریکہ پہلے اور برازیل دوسرے نمبرپر،بھارت دسویں اورپاکستان اٹھاروہویں نمبرپرآگیا

    پاکستان میں‌ کرونا کی سپیڈ جاری، 24 گھنٹوں میں‌2 ہزار سے زائد نئے مریض، اموات میں بھی اضافہ

    ندا یاسر ،اپنے شوہر کے ہمرا کرونا کا شکار

  • جو آپ کو سپورٹ کریں اُن کی ہمیشہ قدر کریں  نادیہ جمیل

    جو آپ کو سپورٹ کریں اُن کی ہمیشہ قدر کریں نادیہ جمیل

    پاکستان کی نامور اداکارہ اور سماجی کارکن نادیہ جمیل نے کہا کہ کینسر کے علاج کے دوران ان کے لیے دعائیں اور نیک خواہشات کا اظہار کرنے والوں کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ایسے پیغامات کی وہ بہت قدر کرتی ہیں

    باغی ٹی وی : سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر نادیہ جمیل نے اپنے ایک ٹوئٹ میں کینسر کے علاج کے دوران ان کے لیے دعائیں اور نیک خواہشات کا اظہار کرنے والوں کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ایسے پیغامات کی وہ بہت قدر کرتی ہیں


    نادیہ جمیل نے لکھا کہ کہ اس بیماری کے دوران انہیں ایسی کمزوریوں کا سامنا کرنا پڑا جیسا زندگی میں پہلے کبھی نہیں کیا تھا۔

    اداکارہ نے مزید لکھا کہ اس بیماری سے انہوں نے دو باتیں سیکھی ہیں کہ جو آپ کو سپورٹ کریں اُن کی ہمیشہ قدر کریں اور جو آپ کو چھوٹا، بُرا اور غیر محفوظ محسوس کروائیں، ایسے لوگوں کو اپنی زندگی میں کوئی جگہ نہ دیں۔

    نادیہ جمیل نے لکھا کہ یہی فیصلے کا وقت ہے۔

    واضح رہے کہ نادیہ جمیل نے 3 اپریل کو ایک ٹوئٹ کے ذریعے اپنے مداحوں کا اِس بات سے آگاہ کیا تھا کہ اُن کو بریسٹ کینسر کی تشخیص ہوئی ہے جس کا علاج انہوں نے شروع کروالیا ہے انہوں نے مداحوں سے خصوصی دعاؤں کی بھی درخواست کی تھی-

    نادیہ کی دوست نے پچیس سالہ دوستی کی لاج رکھ کر اپنے سر کے بال منڈوا دئیے

    نادیہ جمیل کا بریسٹ کینسر کی کیمو تھراپی کا دوسرا مرحلہ بھی مکمل

  • سوشل میڈیا پر مشہور شخصیات کو کیوں تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے؟ عائزہ خان

    سوشل میڈیا پر مشہور شخصیات کو کیوں تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے؟ عائزہ خان

    پاکستان شوبز انڈسٹری کی نامور اداکارہ عائزہ خان نے دوسروں پر تنقید کرنے والوں پر سوال اُٹھایا کہ سوشل میڈیا پر مشہور شخصیات کو کیوں تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے؟‘

    باغی ٹی وی : سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر سیلیبرٹیز کو تنقید کا نشانہ بنانے والوں کے کیخلاف آواز بلند کرتے ہوئے عائزہ خان نے کہا کہ سوشل میڈیا پر مشہور شخصیات کو کیوں تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے؟


    اداکارہ صارفین سے سوال کیا کہ کیا اب ہم دوسروں کو فیصلہ کرنے دیں کہ ہمیں اپنی زندگی کس طرح سے گُزارنی ہے اور ہمیں اپنی زندگی میں کیا کیا کرنا چاہیے؟

    عائزہ خان نے کہا کہ آپ کے تنقید بھرے تبصروں سے ہمیں بہت تکلیف ہوتی ہے جو ہمیں اندرونی طور پر توڑ دیتے ہیں۔


    اداکارہ نے اپنے ایک اور ٹوئٹ میں لکھا کہ ہم اپنے اردگرد موجود لاکھوں لوگوں کو اپنے کام سے تفریح فراہم کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور ہم اپنے مداحوں کو خوش کرنے کے لیے اور اُن کی منفی سوچ کو ختم کرنے کے لیے اپنی صلاحیت کے مطابق کام کرتے ہیں۔


    عائزہ خان نے اپنے یک اور ٹوئٹ میں صارفین کو عالمی وبا کی اس مشکل گھڑی میں مثبت رہنے کی ہدایت کی کہا کہ ’انشااللہ ہم سب مل کر اس مشکل دور سے گُزر جائیں گے ہم سب کو پُرسکون اور مثبت رہنے کی ضرورت ہے۔

    بہت دکھ کی بات ہے کہ قوم آج 100 جنازوں کے ساتھ عید منائے گی

  • پاکستانی گلوکاروں نے کورونا وائرس پر خصوصی گانا جاری کر دیا

    پاکستانی گلوکاروں نے کورونا وائرس پر خصوصی گانا جاری کر دیا

    پاکستانی گلوکاروں نے کورونا وائرس کی مشکل گھڑی میں عوام کا حوصلہ بلند کرنے کے لیے خصوصی گانا جاری کردیا۔

    باغی ٹی وی : دنیا بھر میں پھیلی عالمی وبا کورونا وائرس کے پاکستان میں دن بہ دن بڑھتے کیسز کی وجہ سے عوام خوفزدہ اور پریشان ہے ہے ایسے میں پاکستانی عوام کا حوصلہ بلند کرنے کے لیے پاکستان میوزک انڈسٹری کے معروف گلوکار وں نے خصوصی گانا جاری کرد یا ہے جو حکومت پاکستان کے تعاون سے کورونا کورونا کے لئے بنایا گیا ہے گانے کی ویڈیو گلوکار و اداکار علی ظفر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے ٹویٹڑ اکاؤنٹ پر شئیر کی ہے

    ٹوئٹر پر 46 سیکنڈ پر مشتمل شیئر کردہ ویڈیو میں علی ظفر، حدیقہ کیانی، ساحر علی باگا ،عاصم اظہر،شفقت امانت علی، اور نبیل شوکت اپنی خوبصورت آوازوں میں کورونا کا خصوصی گانا گا رہے ہیں۔


    پاکستانی گلوکاروں کے گائے گئے گانے کی بول کچھ اس طرح ہیں:

    آزمائش میں سارا جہاں ہے
    یہ مصیبت تو اِک امتحاں ہے

    نکلو باہر، کرو پہلے وعدہ
    احتیاط ہوگی پہلے سے زیادہ

    ہاتھ دھونا ہے لازِم وبا میں
    فاصلہ رکھنا ہے درمیاں میں

    مل کے مشکل یہ پل گزاریں گے
    پاکستانی نہ ہارے، نہ ہاریں گے

    مل کے مشکل یہ پل گزاریں گے
    پاکستانی نہ ہارے، نہ ہاریں گے

    ویڈیو شیئر کرتے ہوئے علی ظفرنے کیپشن میں لکھا کہ ’ہمیں کورونا وائرس کو سنجیدگی سے لینا چاہیے اگر ہمیں کورونا کو شکست دینی ہے تو درست اقدامات کرنے ہوں گے۔ انہوں نے لکھا کہ آپ کے لئے ہمارا پیغام- انہوں نے ہیش ٹیگ کوویڈ 19 بھی استعمال کیا

  • آمنہ عثمان کا موقف سنا تو حق پر نظر آئیں لیکن ان کا طریقہ کار غلط تھا  مونا خان

    آمنہ عثمان کا موقف سنا تو حق پر نظر آئیں لیکن ان کا طریقہ کار غلط تھا مونا خان

    کرائم اور کورٹ جرنلسٹ مونا خان کا کہنا ہے کہ ایک بیان سنو تو ہمدریاں اُدھر جب دوسرا آمنہ عثمان کا موقف سنا تو وہ بھی حق پہ نظر آئی لیکن ان کا طریقہ کار بلکل غلط تھا۔

    باغی ٹی وی : سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر کرائم اینڈ کورٹ جرنلسٹ مونا خان نے عظمی خان اور ان کی بہن پر تشدد کرنے والی خاتون آمنہ عثمان کی ویڈیو شئیر کی جس میں وہ خاتون کہہ رہی ہیں کہ ان کا ملک ریاض کے ساتھ کوئی تعلق نہیں وہ ان کی کچھ نہیں لگتیں یہ سب ڈرامہ ان سے پیسے وصول کرنے کے لئے کیا گیا ہے

    آمنہ عثما ن نے اپنی ویڈیو میں کہا کہ یہ سب انہوں نے اپنی تیرہ سالہ شادی شدہ زندگی بچانے کے لئے کیا ہے اور ان ایک گیارہ سالہ بیٹا بھی ہے

    خاتون نے کہا کہ میں نے ان لڑکیوں کو کافی مرتبہ وارننگ بھی دی تھی لیکن وہ باز نہیں آئی پھر میں ان کا پیچھا کرتے ہوئے گھر پہنچی جو کہ ان نہیں ہے بلکہ ان کے شوہر عثمان کا دوسرا گھر ہے

    آمنہ عثمان کے مطابق جب وہ وہاں پہنچیں تو کوکین کی لائن لگی ہوئی تھی اور شراب نوشی کی جا رہی تھی جبکہ عظمی خان اور اس کی بہب کے مطابق وہ اعتکاف 10:30 بجے اعتکاف سے اٹھیں لیکن وہ 3 دن سے میرے شوہر سے مل رہیں تھیں آمنی شیخ نے دعوی کیا کہ ان کے پاس اس بات کے ثبوت بھی ہیں انہوں نے مزید کہا کہ ان پر کوئی کیروسین آئل نہیں ڈالا گیا تھا بلکہ وہ شراب ڈالی گئی تو جو وہ وہاں استعمال کر رہیں تھیں
    https://twitter.com/mona_qau/status/1265711622502461440?s=08
    آمنہ عثمان کی اس ویڈیو کو شئیر کرتے ہوئے جرنلسٹ مونا خان نے لکھا کہ ایک بیان سنو تو ہمدریاں اُدھر جب دوسرا آمنہ عثمان کا موقف سنا تو وہ بھی حق پہ نظر آئی لیکن ان کا طریقہ کار بلکل غلط تھا۔

    مونا خان نے مزید لکھا کہ پولیس کو ساتھ لے جاتی فحاشی کا پرچہ کروا دیتی قانونی طریقے سے بھی چھاپہ مار سکتی تھی لیکن جسطرح لڑکیوں کو مارا پیٹا گیا وہ اب سب کے لیے مظلوم بن چکی ہیں

  • کشمیرتب آزاد ہو گا جب ہم اپنی جھوٹی اناؤں سےآزاد ہوں گے  اقرار الحسن

    کشمیرتب آزاد ہو گا جب ہم اپنی جھوٹی اناؤں سےآزاد ہوں گے اقرار الحسن

    پاکستان کے معروف اور نامور صحافی اقرارالحسن کا کہنا ہے کہ کشمیرتب آزاد ہو گا جب ہم اپنی جھوٹی اناؤں سےآزاد ہوں گے-

    باغی ٹی وی : پاکستان میں کئی سالوں سے مختلف ڈراموں کو اردو ڈبنگ کے ساتھ چینلز پر نشر کیا جارہا ہے مگر جو مقبولیت ترک مسلمانوں کی تیرہویں صدی میں اسلامی فتوحات پر مبنی ترکش ڈرامہ سیریل ’’ارطغرل غازی‘‘ جسے ترکی کا گیم آف تھرونز بھی کہا جاتا ہے ملی اس کی مثال نہیں ملتی۔

    ڈرامہ سیریل کو وزیراعظم پاکستان عمران خان کی خصوصی ہدایت پر پاکستان ٹیلی ویژن پر یکم رمضان المبارک سے نشر کیا گیا اس ڈرامے نے پاکستان میں ہر عمر کے افراد کو اپنے سحر میں جکڑ رکھا ہے اور اس کے اندر جہاد اور اسلام کے لئے مسلسل جدو جہد نے مسلمان نوجوانوں میں جہاد کے جذبے کو بلند کیا ہے اور ان میں اسلامی اقدار اور جذبے کے نئی روح بیدار کی ہے


    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر یاسر شاہ نامی صارف نے صارفین نے سے سوال کرتے ہوئے لکھا کہ ارطغرل ڈرامہ دیکھ کر کس کس کو کشمیر میں جہاد کر کے آذاد کروانے یا شہید ہونے کا خیال آیا؟


    یاسر شاہ نامی صارف کے اس ٹویٹ کے جواب میں سید اقرا رالحسن نے لکھا کہ پہلے ہم خود سے جہاد کرنا تو سیکھ لیں شاہ جی۔ پاکستان کی عظمت کے سفر میں اپنی اناؤں، گلوں شکووں سےجہاد، جھوٹ سے جہاد، لوٹ کھسوٹ سے جہاد، بے ایمانی اور بدعنوانی سے جہاد۔۔۔ہمیں اپنی اناوؤں کو مارنا تھا، ہم نے اپنےضمیر مار دیئے۔ کشمیرتب آزاد ہو گا جب ہم اپنی جھوٹی اناؤں سےآزاد ہوں گے

    واضح رہے کہ اس ڈرامے کی کہانی 13ویں صدی میں ’سلطنت عثمانیہ‘ کے قیا م سے قبل کی ہے۔ ڈرامے کی مرکزی کہا نی ’ارطغرل‘ نامی بہادر مسلمان سپہ سالار کے گرد گھومتی ہے جنہیں ’ارطغرل غازی‘ بھی کہا جاتا ہے ڈرامے میں دکھایا گیا ہے کہ کس طرح 13ویں صدی میں ترک سپہ سالار ارطغرل نے منگولوں، صلیبیوں اور ظالموں کا بہادری سے مقابلہ کیا اور کس طرح اپنی فتوحات کا سلسلہ برقرار رکھا۔

    ارطغرل غازی: لوگوں کو سرحدوں کی بجائے مواد پر فوکس کرنا چاہیئے نیلم منیر

    ارطغرل غازی سیریز میں یہ چار چیزیں نہ سیکھیں تو کچھ نہیں سیکھا

  • سنیما گھروں کے لئے آن لائن اسٹریمنگ پلیٹ فارمز، ایک نیامسئلہ

    سنیما گھروں کے لئے آن لائن اسٹریمنگ پلیٹ فارمز، ایک نیامسئلہ

    بھارت میں کو رونا وائرس کے باعث جاری لاک ڈاؤن کے دوران امیتابھ بچن اور آیوشمان کھرانہ کی نئی فلم ‘گلابو ستابو’ سنیما گھروں کے بجائے اب آن لائن اسٹریمنگ پلیٹ فارم پر ریلیز ہو رہی ہے۔ اس فلم کے ساتھ ساتھ کچھ اور فلمیں ہیں، جو اب انہیں پلیٹ فارمز پر ریلیز ہونے والی ہیں۔ ایسے میں سنیما گھروں کے سامنے آن لائن اسٹریمنگ پلیٹ فارمز نے نیامسئلہ کھڑا کر دیا ہے۔ کو رونا وائرس کے پیش نظر پورے بھارت میں 25 مارچ سے لاک ڈاؤن نافذکیا گیا تھا اور اب اس میں مسلسل چوتھی باراضافہ کرتے ہوئے اسے31 مئی تک بڑھا دیا گیا ہے.لاک ڈاؤن نافذ کرنے سے ہفتہ دس دن پہلے ہی وائرس سے تحفظ کی کوششوں کے
    تحت لوگوں کو ایک جگہ جمع ہونے سے روکنے کے لیے مختلف ریاستوں میں دفعہ 144 نافذ کر دیا گیا تھا۔ ساتھ ہی احتیاط کے تحت مختلف ریاستوں میں سنیما گھراورملٹی پلیکس بھی بند کردیےگئے تھے۔ اس طرح سنیما گھر اور ملٹی پلیکس کو بند ہوئے تقریباً تین مہینے سے کچھ زیادہ وقت گزر چکا ہے۔ لاک ڈاؤن کی وجہ سے دوسرے کاروبار کی طرح دنیا کی دوسری بڑی فلم انڈسٹری بھی بری طرح متاثر ہے۔اسی دوران انڈسٹری سے ایک خبر آئی کہ امیتابھ بچن اور آیوشمان کھرانہ کی ایکٹنگ سے سجی اور شوجیت سرکار کی ہدایت میں بنی فلم ‘گلابو ستابو’ سنیما گھروں کےبجائے اب آن لائن اسٹریمنگ پلیٹ فارم امیزان پرائم پر ریلیز ہو رہی ہے۔اس خبر نے ایک بار پھریہ سوال اٹھا دیا ہے کہ ملٹی پلیکس کی وجہ سے جس طرح سنگل اسکرین سنیما گھر لگ بھگ ختم ہو گئے، کیا نیٹ فلیکس، امیزان پرائم، ڈزنی ہاٹ اسٹار جیسے آن لائن اسٹریمنگ پلیٹ فارم آنے کی وجہ سے کچھ ویسا ہی مستقبل اس کا ہونے والا ہے؟ گزشتہ چار مئی کو ہی دی ملٹی پلیکس ایسوسی ایشن آف انڈیا(ایم اے آئی)نے اسٹوڈیو پارٹنر، پروڈیوسر، اداکاروں اور فلم انڈسٹری میں اپنی خدمات دینے والے دوسرے لوگوں سے اپیل کی تھی کہ وہ اپنی فلموں کی ریلیزکو روک کر رکھیں اور ایک بار جب سنیما گھر کھل جائیں تو وہیں ریلیز کریں۔ تنظیم کی یہ اپیل ان قیاس آرائیوں کے بعد آئی تھی، جس میں کہا جا رہا تھا کہ اکشے کمار کی فلم ‘لکشمی بامب’ سمیت کچھ فلموں کو سیدھے ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر ریلیز کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ گلابو ستابو کے ڈیجیٹل ریلیز کے اعلان پربھارت کے سب سے بڑے آئی ناکس اور پی وی آر جیسے ملٹی پلیکس چین نے بھی مایوسی کا اظہار کیا ہے۔آئی ناکس کی جانب سے کہا گیا ہے کہ سنیما اوراس کو بنانے والے ہمیشہ باہمی منافع کی خاطر کام کرتے ہیں. ایک بیان میں آئی ناکس نے کہا ہے کہ اس مشکل وقت میں ایک دوسرے کے شیئر ہولڈرز میں سے ایک کے ذریعے اس طرح کا قدم اٹھانا پریشان کن ہے۔بالخصوص اس وقت جب ایک دوسرے کے ساتھ کندھے سے کندھا ملاکر کھڑے ہونے کی ضرورت ہے۔ پی وی آر پکچرز کے سی ای او کمل گیان چندانی نے کہا ہے ہماری اپیل کے بعد بھی فلم کے پروڈیوسرزکی طرف سے فلم گلابو ستابو کو ڈیجیٹل ریلیز کئے جانے کے فیصلے سے ہمیں بے حد مایوسی ہوئی ہے۔
    یہ پہلی بارنہیں ہے کہ کوئی فلم براہ راست امیزان یا نیٹ فلکس پر ریلیز ہو رہی ہے۔ اس سے پہلے رشی کپور کی فلم ‘راجما چاول’ اور ‘مرد کو درد نہیں ہوتا’ جیسی لو بجٹ فلمیں سیدھے آن لائن پلیٹ فارم پر ریلیز ہوئی ہیں۔گلابو ستابو بڑی فلم ہے۔ کہا جارہا تھا کہ لاک ڈاؤن کے بعد اس فلم کی ریلیز سے سنیما گھروں کو نئی جان مل سکتی تھی۔ انڈین ایکسپریس سے بات چیت کرتے ہوئے فلم ایکزبٹر اکشے راٹھی نے کہا کہ گلابو ستابو کی اسٹار کاسٹ بڑے پردے پر جادو جگا دیتی۔ وہ کہتے ہیں، ‘فلم میں امیتابھ بچن اورآیوشمان کھرانہ ایک ساتھ آ رہے ہیں۔ یہ فلم باکس آفس پر 100 کروڑ روپے کی حد پار کر لیتی۔ راٹھی نے کہا یہ صحیح ہے کہ کوئی بھی فلم اس کے پروڈیوسر کے بیٹے کی طرح ہوتی ہے اور اس کو اختیار ہوتا ہے کہ وہ اس کو جہاں مرضی ریلیز کر دے، لیکن یہ ایک مثال ہے، جس کا بڑے پردے پر سنیما دکھانے کی روایت منفی اثرمرتب ہوگا۔ واضح رہے کہ اچانک لاک ڈاؤن کی وجہ سے جہاں عرفان خان کی آخری فلم ‘انگریزی میڈیم’ اور ‘باغی 3’ کا کاروبار بری طرح متاثر ہوا تھا، جس کے بعد انہیں فوراً آن لائن اسٹریمنگ پلیٹ فارمز پر ریلیز کر دیا گیا۔اس لیگ میں ‘گلابو ستابو’ اکیلی فلم نہیں ہے۔ ودیا بالن کی فلم ‘شکنتلا دیوی: ہیومن کمپیوٹر’، ساؤتھ انڈین اداکارہ جیوتیکا کی فلم ‘پونمگل وندھل’، تمل فلم ‘پینگئن’، کنڑ فلم ‘آل’ اور ‘فرینچ بریانی’، ملیالم فلم ‘سوفیم سجاتیم’ بھی امیزان پرائم پر ریلیز ہونے والی ہیں۔

  • ارطغرل کے اسلام پر سوال اٹھانے والے پنجاب یونیورسٹی کے پروفیسر کی تحقیق کا جواب ، شاہ رخ خان

    ارطغرل کے اسلام پر سوال اٹھانے والے پنجاب یونیورسٹی کے پروفیسر کی تحقیق کا جواب ، شاہ رخ خان

    ارطغرل کے اسلام پر سوال اٹھانے والے پنجاب یونیورسٹی کے پروفیسر کی تحقیق کا جواب ، شاہ رخ خان

    جب کبھی اسلام پر حملہ مقصود ہو تو اسلامی شخصیات کو متنازع بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اب وہ روافض کے صحابہ پر الزامات ہو، یا کسی بھی اسلامی تاریخی شخصیت کے کردار پر اتھامات جیسے محمد بن قسم کا حال ہی کا واقعہ۔

    ہمیشہ اس شخص کو کہ جسکی اسلام کے بارے مین بہت سی خدمات رہی ہو اس پر مختلف اعتراضات کر کے مسلمانوں میں انتشار پھیلایا جاتا ہے۔

    حال ہی میں ترکی سے نشر ہونے والے ایک ڈرامے کی مرکزی کردار سلطان ارطغرل بن سلیمان شاہ کے اسلام کو مشکوک بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ اور دراصل یہ کاروائی پہلی مرتبہ نہیں ہوئی بلکہ اس سے پہلے بھی کچھ غیر مسلموں کی جانگ سے ایسی کوششیں کی گئی ہے۔

    اس میں سب سے زیادہ نام پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ تاریخ کے ایک پروفیسر کا سامنے آرہا ہے جنکا ایک کالم اسوت انٹرنیٹ پر گردش کر رہا ہے، موصوف نے کچھ مسشرقین اور ایک برصغیری کے مورخ ڈاکٹر محمد عزیر کی دو جلدوں پر مشتمل ’دولتِ عثمانیہ‘کی کتاب کو اپنے مدعی کا مرجع و ماخذ بنایا ہے۔

    کیا ارطغرل مسلمان تھا ؟ پروفیسر ڈاکٹر فراز انجم شعبہ تاریخ پنجاب یونیورسٹی کی تحقیق

    اب آئیے قدیم مسلمان مورخ کی جانب:

    دمشق کے ثقہ عالم ِدین، قاضی اور مورخ شیخ احمد بن یوسف قرمانی رحمہ اللہ، جنکی وفات: 1019 ھجری بمطابق 1610 عیسیوی میں ہوئی، چنانچہ وہ اپنی کتاب:
    اخبار الدول و آثار الاول فی التاریخ: ج 3، ص 6،7 پر سلیمان شاہ کا ذکر کرتے ہیں کہ کس طرح انہوں نے سلطان علاء الدین سے مل کر تاتاری اور دیگر کفار کے خلاف لڑائی کی اور انکی وفات کے بعد انکے بیٹے ارطغرل نے اسی طرح سلطان علاء الدین کے ساتھ مل کر کفار کے خلاف جہاد کیا اور کئی علاقے فتح کیئے یہاں تک اللہ کے راستے میںلڑتے ہوئے ہی وفات پائی۔ جب سلطان کو انکی وفات کا علم ہوا تو سلطان علاء الدین نے افسوس کا اظھار کیا اور انکے بیٹے عثمان کو انکی جائے گا مقرر کیا۔

    عربی الفاظ نیچے دیئے گئے اسکرین شاٹ میں دیکھیں، یہاں احمد قربانی ارطغرل کو کفار کے خلاف جہاد کرنے والا، مال ِ غنیمت حاصل کرنے والا، اور اللہ کے راستے میں لڑتے ہوئے دنیا سے رخصت ہونے والا کہہ رہے ہیں جو انکے نزدیک ارطغل کے نا صرگ مسلمان ہونے کی دلیل ہے بلکہ ایک نیک صالح مجاھد ہونے کی بھی دلیل ہے۔


    اسی طرح معروف مصری مورخ محمد بن محمد بن أبى السرور البكرى (المتوفی: 1650 ع) اپنی کتاب منح الرحامنیة فی الدولة العثمانیة میں لکھتے ہیں کہ سلیمان شاہ کے چار بیٹے تھے جن میں سے دو نے عجم کا رخ کرلیا اور دو سلطان علاء الدین کے پاس آکر ان سے اجازت مانگ کر انکے علاقے مین رہنے گے، نیز انکی اجازت سے کفار کے خلاف جہاد کرنے میں مصروف ہوگئے یہاں تک کہ اسی مصروفیت کے ساتھ دنیا سے رخصت ہوگئے۔

    انہوں نے بھی ارطغرل کے لیئے جہاد اور کفار کے خلاد جنگوں کے الفاظ استعمال کیئے ہیں انکی کتاب کے مخطوطے کا عکس نشانات کے ساتھ پوسٹ میں ملاحظہ کیجیئے۔

    اسی طرح ایک تونسی مورخ حسین خوجة اپنی کتاب بشائر اهل الايمان بفتوحات ال عثمان نے بھی اپنی کتاب میں ارطغرل کا ایسا ہی تذکرہ کیا ہے۔ انکی وفات: 1145 ھجری میں ہوئی۔

    جس سے ثابت ہوا کہ ارطغرل رحمہ اللہ کو مسلمان مورخین نے جنکا تعلق بھی مختلف علاقوں سے تھا، انہوں نے ارطغرل کو اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والا نیک مسلمان بتایا ہے۔ نیز کچھ قرائن جیسے:
    اپنے بیٹے کا نام عثمان رکھنا، مسلمانوں کے ساتھ مل کر مسلسل تاتاریوں سے اور صلیبی کفار سے لڑکر مختلف علاقہ جات آزاد کروانا، انلے بیٹے کا خلافت قائم کرنا اور اپنی باپ کو خراج ِ تحسین پیش کرتے ہوئے اپنی سلطنت کے سکوں پر انکی تصویر نقش کروانا۔ آج تک غازی ارطغرل کے نام سے معروف ہیں اور انکا مقبرہ بھی معروف ہے۔

    یہ سب ثابت کرتا ہے ہے کہ ارطغرل ایک عظیم مجاھد تھے، جنکے بیٹے نے ان سے متاثر ہوکر باقاعدہ اسلامی سلطنت کا قیام کیا اور اپنے والد کو یاد رکھنے کے لیئے انکا ذکر تمام کرنسی پر عام کردیا۔ نیز تواتر سے مختلف اسلامی ادیب اور مورخین کے ہاں ارطغرل کو ایک نیک مرد مجاھد کے نام سے ہی یاد کیا جاتا را ہے۔ علامہ اقبال کے دور کے بعض اردو مضامین جن میں ارطغرل رحمہ اللہ کا تذکرہ ہے اس میں بھی انہیں ذکر ِ کیر سے ہی یاد کیا گیا ہے۔

    ارطغرل کے مسلمان نا ہونے کا شوشہ سب سے پہلے ایک امریکی جرنلسٹ
    Herbert Adams Gibbons نے اپنی کتاب foundation of the Ottoman empire میں چھوڑا پھر اسکو تقویت Cambridge History of Turkey نامی کتاب میں دی گئی جسکی طباعت غالبا 2006 میں ہوئی ہے۔

    اور برصغیر کے ایک مسلمان مورخ ڈاکٹر محمد عزیر صاحب رحمہ اللہ نے اپنی کتاب دولت ِ عثمانیہ میں اس طرح کا خدشہ ظاھر کیا ہے۔ یہ کتاب تقریاب 1358 ھجری بمطابق 1939 عیسوی میں لکھی گئی اور افسوس کے ساتھ اس میں بھی امریکی جرنلسٹ Herbert Adams Gibbons کے پراپیگنڈے کو دہرایہ گیا اور تحقیق سے کام نا لیا گیا۔ یاد رہے Herbert Adams Gibbons ایک متعصب مصنف ثابت ہوا جس نے سلطنت عثامنیہ پر بہت سے الزامات بھی گائے ہے اور اپنی حسد کا اظھار کیا ہے جسکی مختلف اوقات میں اھل ترک کی جانب سی کی جاتی رہی ہیں۔ جبکہ قدیم مسلمان مورخین جنکی تاریخ ان سے تقریبا ڈیرھ دو صدیاں قبل کی لکھی گئی ہیں، انہوں نے ارطغرل کو مجاھد ِ اسلام کے طور سے درج کیا ہے۔

    اگر آپ لبرل نہیں ہے لیکن پھر بھی آپ کی ارطغرل ڈرامے کی مقبلویت صرف اسا لیئے برداشت نہین ہورہی کہ آپ سعودیہ کی محبت میں حد سے زیادہ بڑھ جاتے ہیں تو یاد رکھے کہ کسی بھی مسلمان کو کافر ثابت کرنا آپ کی عاقبت برباد کرسکا ہے نیز آپ کی طیب اردگان سے لڑائی میں دولت ِ عثمانیہ کا کوئی قصور نہیں بلکہ وہ تو مسلمانوں کی مشترکہ میراث اور اسلامی تاریخ کا ایک خوبصورت باب ہے۔

    ارطغرل غازی کی مقبولیت، وائس آف پاکستان نے آن لائن تقریری مقابلے کا اعلان کردیا

    ارطغرل غازی سیریز میں یہ چار چیزیں نہ سیکھیں تو کچھ نہیں سیکھا

    ہم پاکستان سے محبت کرتے ہیں یہ ہمارا دوست اور بھائی ملک ہے تُرک اداکار

  • عظمی تشدد کیس ، تعلق رشتہ داری ذاتی جبکہ قانون پبلک چیز ہے، زمہ داروں کو سزا دی جائے، اداکارہ ارمینا خان

    عظمی تشدد کیس ، تعلق رشتہ داری ذاتی جبکہ قانون پبلک چیز ہے، زمہ داروں کو سزا دی جائے، اداکارہ ارمینا خان

    پاکستان شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ ارمینہ خان نے اداکارہ و ماڈل عظمی خان اور اس کی بہن کو ہراساں کرنے پر افسوس کرتے ہوئے اس واقعے کی شدید مذمت کی-

    باغی ٹی وی : سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اداکارہ ارمینہ خان نے اس اداکارہ و ماڈل عظمی خان اور اس کی بہن پر تشدد کرنے کے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے لکھا کہ تعلقات نجی ہیں لیکن قانون عوامی ہے۔ جہاں اس حد کو عبور کیا جاتا ہے جب قانونی رٹ کے بغیر مسلح افراد نے نجی رہائش گاہ پر حملہ کیا اور نہتے شہریوں پر تشدد کیا۔ یہ پورے افسوسناک واقعے کے سب سے زیادہ اہم پہلو سے ہے۔
    https://twitter.com/ArmeenaRK/status/1265669332895481856
    اس سے قبل سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے اقرارالحسن کا کہنا تھا کہ پھر کہوں گا کہ #کرنل_کی_بیوی ہو یا # ٹھیکیدار _ کی_بیٹی، ائیر لائن کے اعلٰی افسر ہوں یا اسکولوں میں گدھے بندھے ہونے کے ذمے دار سیاستدان (چاہے سندھ ہو یاکے پی کے، بلوچستان اورپنجاب) جب تک سب کوقانون کےمطابق یا سخت قانون بنا کر نشانِ عبرت نہیں بنایا جاتا، قوم ٹرینڈ ہی بناتی رہےگی


    واضح رہے کہ ملک ریاض کی بیٹی کی جانب سے اداکاراؤں پر تشدد اور پٹرول چھڑکنے کے واقعہ کے بعد سوشل میڈیا پر ٹرینڈ چلایا گیا اس سے قبل کرنل کی بیوی کی جانب سے پولیس اہلکاروں کے ساتھ بد تمیزی کی ویڈیو وائرل ہونے پر بھی کرنل کی بیوی کا ٹرینڈ چلایا گیا تھا

    جب تک قانون کے مطابق سخت سزا نہیں دی جائے گی، قوم کرنل کی بیوی اور ٹھیکیدار کی بیٹی جیسے ٹرینڈ بناتی رہے گی۔ اقرار

    عظمیٰ تشدد کیس میں عظمیٰ کے وکیل حسان نیازی گرفتار

    عظمی تشدد کیس ، ملک ریاض کی بیٹی کے خلاف ایف آئی آر درج

    مٹی کا تیل نہیں شراب تھی، عظمی تشدد کیس کہانی کا دوسرا رخ سامنے آ گیا

  • ارطغرل غازی تُرکی کی طرف سے پاکستان کے لئے تحفہ ہے  ڈاکٹر شہباز گل

    ارطغرل غازی تُرکی کی طرف سے پاکستان کے لئے تحفہ ہے ڈاکٹر شہباز گل

    وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے سیاسی روابط ڈاکٹر شہباز گل نے دعوی کیا ہے کہ پاکستان ٹیلی وژن (پی ٹی وی) پر نشر ہونے والے ترکی کے معروف ڈرامے ‘ارطغرل غازی ‘ کو پیسوں سے نہیں خریدا گیا بلکہ ترکی نے بطور تحفہ دیا ہے-

    باغی ٹی وی :وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے سیاسی روابط ڈاکٹر شہباز گل نے اپنی ایک ٹوئٹ میں انگریزی اخبار کو دیے گئے اداکارہ ثانیہ سعید کے انٹرویو کی تصویر اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر شیئر کرتے ہوئے دعوی کیا کہ پی ٹی وی نے ترک ڈرامے کو خریدا نہیں بلکہ ترکی نے ڈرامے کو تحفے کے طور پر پاکستان کو دیا


    ڈاکٹر شہباز گل نے اپنے ٹویٹ میں کہا کہ ثانیہ جی پی ٹی وی نے اسے خریدا نہیں۔ برادر ملک ترکی کی طرف سے یہ تحفہ پاکستان کے لئیے۔

    شہباز گل نے اداکارہ ثانیہ سعید کو کہا کہ آپ بھی پہلے کی طرح پھر اچھا کام کریں انشاللہ وہ بھی ائیر ہوگا۔

    انہوں نے مزید کہا کہ بات کرنے سے پہلے تحقیق ضروری ہے۔ آرٹ اور کلچر کے لوگوں کے دل کھلے ہونے چاہئیے۔ یہاں بھارت کے مواد کی بہتات تھی شکر ہے بہتر مواد آیا

    ارطغرل غازی کی مقبولیت، وائس آف پاکستان نے آن لائن تقریری مقابلے کا اعلان کردیا

    ارطغرل غازی سیریز میں یہ چار چیزیں نہ سیکھیں تو کچھ نہیں سیکھا