Baaghi TV

Category: شوبز

  • ارطغرل غازی پر تنقید کے جواب میں ہم نیوز کے سنئیر پروڈیوسر نے شان شاہد کو کھری کھری سنا دیں

    ارطغرل غازی پر تنقید کے جواب میں ہم نیوز کے سنئیر پروڈیوسر نے شان شاہد کو کھری کھری سنا دیں

    اسلامی فتوحات کی تاریخ پر مبنی ترکی کے شہرہ آفاق ڈرامے ’دیریلیش ارطغرل‘ جسے ترکی کا ’گیم آف تھرونز‘ بھی کہا جاتا ہے نے پاکستان میں دھوم مچائی ہوئی ہے جہاں پاکستان میں لوگ اس ڈرامے کے دیوانے ہوگئے ہیں وہیں یہ ڈرامہ اپنی پہلی قسط سے ہی تنقید کی زد میں بھی ہے

    باغی ٹی وی : وزیراعظم عمران خا ن کی ہدایت پر ترک ڈرامے’’ارطغرل غازی‘‘کو اردو میں ڈب کرکے یکم رمضان سے پاکستان کے سرکاری ٹیلی ویژن سے نشر کیا جارہا ہے اور اسے نہ صرف مقبولیت حاصل ہو ئی بلکہ یہ پاکستانیوں کا پسندیدہ ڈرامہ بن گیا ہے

    سینیٹر فیصل جاوید نے ٹوئٹر پر ’’ارطغرل غازی‘‘ کا یوٹیوب لنک شیئر کرتے ہوئے کہا تھا پی ٹی وی اور ترکی چینل ٹی آر ٹی کے اشتراک سے یہ ڈرامہ یوٹیوب پر پیش کیا جارہا ہے ‘ کی حمایت کی اور شان پر تنقید ک

    اسلامی فتوحات کی تاریخ پر مبنی ترکی کے شہرہ آفاق ڈرامے ’دیریلیش ارطغرل‘ جسے ترکی کا ’گیم آف تھرونز‘ بھی کہا جاتا ہے نے پاکستان میں دھوم مچائی ہوئی ہے پاکستان میں لوگ اس ڈرامے کے دیوانے ہوگئے ہیں سوشل میڈیا ڈرامے کی کہانی اور کرداروں کی تعریفوں سے بھرا پڑا ہے عام لوگوں کے ساتھ فنکار بھی اس کے سحر میں مبتلا نظر آتے ہیں

    تاہم جہاں لوگ اور فنکار اس کے سحر میں مبتلا ہیں وہیں کچھ لوگ فنکاروں سمیت اس پر تنقید بھی کر رہے ہیں جبکہ کچھ لوگ ان کی کی تنقید بھرے جواب میں اس ڈرامے کی حمایت کرتے نظر آ رہے ہیں یا یو ں کہا جائے کہ سوشل میڈیا پر ارطغرل غازی کے چاہنے والوں اور تنقید نگاروں کے درمیان ایک جنگ چھڑی ہو ئی ہے تو بجا ہو گا

    پاکستان شوبز انڈسٹری کے معروف اداکار اور سپر اسٹار شان شاہد نے گذشتہ دنوں ترکی کے مقبول ڈرامے ’’ارطغرل غازی‘‘کو پاکستان میں نشر کرنے پرپاکستان ٹیلی ویژن( پی ٹی وی) کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ ہماری تاریخ اور ہمارے ہیروز کو تلاش کرنے کی کوشش کریں

    شان کی اس تنقید بھری ٹوئٹ پر سوشل میڈیا صارفین ’’ارطغرل غازی‘‘ کی حمایت کی اور شان پر تنقید کی تھی خود پر کی گئی تنقید پر اداکار بھی چُپ نہ رہے اور دو بدو صارفین کو جواب دیا

    اور مختلف ٹویٹس کر کے اپنے موقف پر قائم رہے اور خیالات کا اظہار کیا ایک ٹویٹ میں شان شاہد لے لکھا تھا کہ ہماری لیجنڈز اور ہمارے تاریخی ہیروز پر ڈرامے اور فلمیں بننی چاہیئں تاکہ ہمارے بچوں کو اپنے ہیروز اپنی تاریخ اور کامیابیوں کے بارے میں جان سکیں اور ہماری تاریخ کو نہ بھولیں


    شان شاہد کی اس ٹویٹ پر ہم نیوز کے ایک سینئر پروڈیوسر اداکار ، بریک فاسٹ شو کے ہوسٹ اویس مانگلوالا نے بھی ردعمل دیتے ہوئے تنقید بھرے انداز میں کہا کہ جب پاکستانی نوجوان غلاظت سے بھری گیم آف تھرونز دیکھتے تھے تب کسی شان دار انسان کو خیال نہیں آیا کہ اس سیریز کی شان میں کچھ کہے یا اس کی مذمت کرے. اب ایک صاف ستھری تاریخی سیریز ارطغرل دکھائی جا رہی ہے تو اعتراض اٹھ رہے ہیں. اعتراض کرنے سے بہتر ہے کہ خود ایک شان دار سیریز بنائیں!

    اس سے قبل حمزہ علی عباسی کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں انہوں نے انتہائی منفرد انداز میں سے اپنی محبت کا اظہارکرتے ہوئے گٹار پر ارطغرل غازی کی دھن بجا رہے تھے

    و اضح رہے کہ اسلامی فتوحات کی تاریخ پر مبنی ترکی کے شہرہ آفاق ڈرامے ’دیریلیش ارطغرل‘ جسے ترکی کا ’گیم آف تھرونز‘ بھی کہا جاتا ہے اس وقت دنیا بھر میں دیکھا جا رہا ہے اس ڈرامے کو 13 ویں صدی میں اسلامی فتوحات کے حوالے سے انتہائی اہمیت حاصل ہے

    دیریلیش ارطغرل‘ ڈرامے کی کہانی 13 ویں صدی میں ’سلطنت عثمانیہ‘ کے قیام سے قبل کی کہانی ہے اور اس ڈرامے کی مرکزی کہانی ’ارطغرل‘ نامی بہادر مسلمان سپہ سالار کے گرد گھومتی ہے جنہیں ’ارطغرل غازی‘ بھی کہا جاتا ہے ڈرامے میں دکھایا گیا ہے کہ کس طرح 13 ویں صدی میں ترک سپہ سالار ارطغرل نے منگولوں، صلیبیوں اور ظالموں کا بہادری سے مقابلہ کیا اور کس طرح اپنی فتوحات کا سلسلہ برقرار رکھا۔ڈرامے میں سلطنت عثمانیہ سے قبل کی ارطغرل کی حکمرانی، بہادری اور محبت کو دکھایا گیا ہے

    ہمیں اپنی تاریخ اور ہیروز کو تلاش کرنا چاہیئے ارطغرل غازی کو پی ٹی وی پر نشر کرنے پر شان شاہد کی تنقید

    حمزہ علی عباسی بھی ترک ڈرامے ارطغرل غازی کے مداحوں میں شامل

  • رشی کپور ’لیجنڈ آف مولا جٹ ‘ کی ریلیز میں دلچسپی رکھتے تھے ، عمارہ حکمت

    رشی کپور ’لیجنڈ آف مولا جٹ ‘ کی ریلیز میں دلچسپی رکھتے تھے ، عمارہ حکمت

    پاکستانی فلم ’لیجنڈ آف مولا جٹ ‘ کی پروڈیوسر عمارہ حکمت نے انکشاف کیا ہے کہ چند روز قبل وفات پانے والےبھارتی اداکار رشی کپور ان کی فلم کے بارے میں پوچھا کرتے تھے اور اپنی نیک خواہشات کا اظہار کرتے تھے

    باغی ٹی وی: پاکستانی فلم’لیجنڈ آف مولا جٹ ‘کی پروڈیوسر عمارہ حکمت نے ماضی میں ٹوئٹر پر رشی کپور سے اپنی فلم کے حوالے سے کی گئی گفتگو کے بارے میں بتایا کہ بھارتی سینئیر اداکار رشی کپور اکثر فلم ’دی لیجنڈ آف مولا جٹ‘ کی ریلیزمیں دلچسپی رکھتے تھے اور اپنی نیک خواہشات کا اظہار کرتے تھے

    عمارہ حکمت کا کہنا تھا کہ جب انہوں نے رشی کپور کی اچانک موت کی خبر سنی تو وہ بہت دُکھی ہوگئیں تھیں

    فلم پروڈیوسر نے بتایا کہ وہ رشی کپور سے کی گئی گفتگو دیکھنے ٹوئٹر چیک کیا تو یہ دیکھ کر حیران رہ گئیں کہ گذشتہ ماہ رشی کپور نے ان سے بذریعہ ٹوئٹر رابطہ کرنے کی کوشش کی تھی

    عمارہ حکمت نے افسوس کرتے ہوئے کہا کہ ٹوئٹر پر مستقل غیر فعالی کے باعث وہ یہ پیغام نہ دیکھ سکیں، اور انہیں رشی کپور کے پیغامات کا جواب نہ دینے کا دُکھ ہمیشہ رہے گا

    واضح رہے کہ فلم لیجنڈ‌آف مولو جٹ رواں سال عیدالفطر کے موقع پر پیش کی جائے گے اس میں حمزہ علی عباسی ،فواد خان،ماہرہ خان اور حمائمہ ملک مرکزی کرداروں میں نظر آئیں گے

    رشی کپور کا وفات سے قبل آخری پیغام

    رشی کپور کو آنسوؤں سے نہیں ہمیشہ مسکراہٹ کے ساتھ یاد رکھیں گے اہلخانہ

  • کرونا سے خوف یا کوئی اور وجہ اب فلمیں‌خلا میں بنانے کی منصوبہ بندی شروع ہوگئی

    کرونا سے خوف یا کوئی اور وجہ اب فلمیں‌خلا میں بنانے کی منصوبہ بندی شروع ہوگئی

    نیویارک :کرونا سے خوف یا کوئی اور وجہ اب فلمیں‌خلا میں بنانے کی منصوبہ بندی شروع ہوگئی ،اطلاعات کے مطابق ہولی وڈ اسٹار ٹام کروز کا نام دیا کے یے نیا جو اپنے خطرناک اسٹنٹس خود کرنے کے حوالے سے بھی شہرت رکھتے ہیں مگر اب وہ ایسا اعزاز حاصل کرنے والے ہیں جو اب تک کسی فلمی ستارے نے حاصل نہیں کیا، وہ ہے ایک فلم خلا میں بنانا۔

    ایک رپورٹ کے مطابق ٹام کروز اس وقت ایلون مسک کی کمپنی اسپیس ایکس کے ساتھ مذاکرات کررہے ہیں جس میں ایک فیچر فلم خلا میں فلمانے کے امکان پر بات کی جارہی ہے جس میں امریکی خلائی ادارے ناسا کو بھی شامل کای گیا ہے۔اس منصوبے کو ابھی حتمی شکل نہیں دی گئی اور ابتدائی بات چیت جاری ہے مگر رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ یہ کافی سنجیدہ مذاکرات ہیں۔یہ منصوبہ ٹام کروز کے جان لیوا اسٹنٹس کرنے کی شوقین شخصیت سے مطابقت بھی رکھتا ہے خاص طور پر مشن امپاسبل سیریز میں ان کے اسٹنٹس لوگوں کو اب تک یاد ہیں۔

    ابھی یہ واضح نہیں کہ خلا میں فلم کو کیسے شوٹ کیا جائے گا مگر اسپیس ایکس کو پہلے انسان بردار خلائی طیارے کو بھیجنے کی منظوری مل چکی ہے اور 27 مئی کو یہ اسپیس کرافٹ ناسا کے خلابازوں کوو لے کر جائے گا۔اس کے بعد اس خلائی طیارے کو دیگر خلائی آپریشنز کے لیے بھی استعمال کیا جائے گا۔

    یہ کمپنی ایک اسپیس کرافٹ اسٹار شپ کی تیاری پر بھی کام کررہی ہے جو کئی بار استعمال ہونے والا خلائی طیارہ ہوگا اور اس میں اتننی جگہ ہوگی کہ کسی فلمی عملے کو اپنے ساتھ لے جاسکے۔اس کی تیاری میں ابھی کئی سال درکار ہیں مگر ناسا نے اسے اپنے مستقلب کے چاند پر بھیجے جانے والے انسانی مشنز کا حصہ بنایا ہوا جن کا آغاز 2024 کو ہوگا۔

  • کامیڈین محمود کے والد، کریکٹرایکٹر اور ڈانسر ممتاز علی کی 46 ویں برسی آج

    کامیڈین محمود کے والد، کریکٹرایکٹر اور ڈانسر ممتاز علی کی 46 ویں برسی آج

    [advanced_iframe src=”//www.tinywebgallery.com/blog/advanced-iframe” width=”100%” height=”600″]بھارتی فلمی صنعت کے ماضی کے کریکٹرایکٹر اور ڈانسر ممتاز علی کی 46ویں برسی آج منائی جا رہی ہے۔بھارتی فلمی صنعت کے ابتدائی دور میں اداکارہ کا ڈانس کرنا معیوب سمجھا جاتا تھا اس لئے تقریباً ہر فلم میں ایک مرد ڈانسر کا کردار ضرورشامل کیا جاتا تھا۔یہ سلسلہ تقسیم ہند کے بعد بھی جاری رہا۔ ممتاز علی کا شمار بھی ایسے ہی ڈانسروں میں ہوتا تھا جو فلم میں مزاحیہ گانوں پر ڈانس کرتے تھے۔ ممتاز علی 15مارچ1905کو مدراس میں پیدا ہوئے ابھی ان کی عمر 7سال ہی تھی کہ ایک حادثے میں ان کی ماں اور باپ دونوں انتقال کر گئے جس کے بعدوہ اور ان کی بہن 9سالہ کریم النساء بالکل اکیلے رہ گئے۔ ان کے پاس کھانے پینے کے لئے بھی پیسے نہ تھے۔دونوں بمبئی کی گلیوں میں پھرتے رہتے۔ اور اگر کچھ کھانے کو مل جاتا تو کھا لیتے ورنہ بھوکے ہی سو جاتے۔ انہیں گانا گانے کا بھی شوق تھا۔ اسی شوق کو پورا کرنے کے عوض انہیں لوگ کچھ پیسے اور کھانا وغیرہ دے دیتے تھے۔ بمبئی کی گلیوں میں ان کی ملاقات معروف برطانوی صحافی اورانڈین سنیما کے مقبول اخبار بمبئے کرونیکل کے پبلشربینجمن جی ہورنیمین سے ہوئی جو انہیں اپنے گھر لے گئے اور انہیں اپنا ملازم رکھ لیا۔ اس کے ساتھ وہ ان کی مالی مدد بھی کیا کرتے تھے۔1933میں بینجمن نے انہیں اپنے ایک دوست ہیمانشو رائے سے ملوایا جو اس وقت اپنی نئی فلم کمپنی بمبئے ٹاکیز بنا رہے تھے۔انہوں نے ممتاز علی کو نوکری دے دی اور یوں ممتاز علی بمبئے ٹاکیز کے پہلے ملازمیں میں شمار ہوئے۔ ممتاز بمبئے ٹاکیز کے بینر تلے بننے والی پہلی فلم جوانی کی ہوا کی پروڈکشن ٹیم کا حصہ بن گئے۔ ہیمانشو رائے انہیں اپنی فلموں میں معولی سا رول دے دیتے تھے۔ ان کی پہلی فلم 1937میں بننے والی فلم جنم بھومی تھی۔ پریم کہانی، ساوتری، جیون پربھات، وچن، نرملا وغیرہ ان کی ابتدائی فلمیں تھیں۔1941میں انہوں نے فلم جھولا میں ایک گانا گایا اور اس کے ساتھ ڈانس بھی کیا۔ گانے کے بول تھے ‘میں تو دلی سے دلہن لایا رے’یہ گانا اس وقت برصغیر کی ہر شادی بیاہ میں بجایا جانے لگا۔اس دوران ہیمانشو رائے کے بھائیوں نے بمبئے ٹاکیز کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کا فیصلہ کیا جس کے بعد 1941 میں ممتاز علی نے بمبئے ٹاکیز کو خیرباد کہہ دیا۔ ممتاز علی نے اپنی فلمی زندگی میں 28فلموں میں کام کیا جن میں ہماری بات، بسنت، شہنائی، کھڑکی، سنگیتا، نرالا،قافلہ وغیرہ بے حد مشہور ہوئیں۔ان کی آخری فلم 1974میں بننے والی فلم کنوارہ باپ تھی۔ ممتاز علی6مئی 1974کو69سال کی عمر میں بمبئی میں انتقال کر گئے.ممتاز علی نے اکتوبر 1929میں لطیف النساء سے شادی کی۔ ان کے ہاں آٹھ بچے پیدا ہوئے جن کے نام حسینی، محمود، خیرالنساء، عثمان، ملک النساء، زبیدہ، شوکت اور انور تھے۔ ان کا دوسرا بڑا بیٹا محمود بھارتی فلمی صنعت کا سب سے کامیاب کامیڈین بنا۔ محمود نے اپنی فنی زندگی کا آغاز 1943 کی شہرہ آفاق فلم قسمت سے کیا۔محمود نے اداکاہ مینا کماری کی بہن ماہ لقا سے شادی کی۔ ممتاز کی ایک بیٹی ملک النساء 1950کی دہائی کی معروف ڈانسر بنی۔ ان کا فلمی نام مینو ممتاز تھا۔

  • حمزہ علی عباسی بھی ترک ڈرامے ارطغرل غازی کے مداحوں میں شامل

    حمزہ علی عباسی بھی ترک ڈرامے ارطغرل غازی کے مداحوں میں شامل

    پاکستان شوبز انڈسٹری کے سابق اداکارحمزہ علی عباسی کی گٹار پر ترکی کے مقبول تاریخی ڈرامے ’’ارطغرل غازی‘‘ کی دھن نہایت خوبصورتی سے بجانے ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہورہی ہے

    باغی ٹی وی :اسلامی فتوحات کی تاریخ پر مبنی ترکی کے شہرہ آفاق ڈرامے ’دیریلیش ارطغرل‘ جسے ترکی کا ’گیم آف تھرونز‘ بھی کہا جاتا ہے نے پاکستان میں دھوم مچائی ہوئی ہے پاکستان میں لوگ اس ڈرامے کے دیوانے ہوگئے ہیں سوشل میڈیا ڈرامے کی کہانی اور کرداروں کی تعریفوں سے بھرا پڑا ہے عام لوگوں کے ساتھ فنکار بھی اس کے سحر میں مبتلا نظر آتے ہیں
    https://www.instagram.com/p/B_yUaK7Bwti/?igshid=1xk06jt4qw739
    ’ارطغرل غازی‘‘ کے مداحوں میں اداکار حمزہ علی عباسی بھی شامل ہیں اداکار حمزہ علی عباسی نے حال ہی میں انتہائی منفرد انداز میں شو سے اپنی محبت کا اظہار کیا۔ اپنی اہلیہ نمل خاور کے ذریعہ ریکارڈ کردہ ایک ویڈیو میں عباسی گٹار پر شو کا تھیم سانگ چلا رہے ہیں۔ جن کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہورہی ہے حمزہ علی عباسی اتنی خوبصورتی سے دھن بجارہے ہیں کہ مداح ان کا یہ نیا ٹیلنٹ دیکھ کر حیرانی اور خوشی کا اظہار کر رہے ہیں

    خیال رہے کہ دیریلیش ارطغرل‘ کو پی ٹی وی پر نشر کیے جانے کے موقع پر وزیر اعظم عمران خان نے بھی خصوصی پیغام جاری کیا تھا اور انہوں نے ترک ڈرامے کو نہ صرف اسلامی بلکہ پاکستانی ثقافت و تاریخ کے بھی قریب قرار دیا تھا وزیر اعظم عمران خان نے اپنی خصوصی ویڈیو میں ’دیریلیش ارطغرل‘ کو نشر کیے جانے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ لازم ہوگیا تھا کہ اسلامی فتوحات کی تاریخ پر مبنی ڈرامے کو پی ٹی وی پر نشر کیا جائے تاکہ پاکستان کی نئی نسل اپنی تاریخ سے وابستہ ہو۔

    و اضح رہے کہ اسلامی فتوحات کی تاریخ پر مبنی ترکی کے شہرہ آفاق ڈرامے ’دیریلیش ارطغرل‘ جسے ترکی کا ’گیم آف تھرونز‘ بھی کہا جاتا ہے اس وقت دنیا بھر میں دیکھا جا رہا ہے اس ڈرامے کو 13 ویں صدی میں اسلامی فتوحات کے حوالے سے انتہائی اہمیت حاصل ہے

    دیریلیش ارطغرل‘ ڈرامے کی کہانی 13 ویں صدی میں ’سلطنت عثمانیہ‘ کے قیام سے قبل کی کہانی ہے اور اس ڈرامے کی مرکزی کہانی ’ارطغرل‘ نامی بہادر مسلمان سپہ سالار کے گرد گھومتی ہے جنہیں ’ارطغرل غازی‘ بھی کہا جاتا ہے ڈرامے میں دکھایا گیا ہے کہ کس طرح 13 ویں صدی میں ترک سپہ سالار ارطغرل نے منگولوں، صلیبیوں اور ظالموں کا بہادری سے مقابلہ کیا اور کس طرح اپنی فتوحات کا سلسلہ برقرار رکھا۔ڈرامے میں سلطنت عثمانیہ سے قبل کی ارطغرل کی حکمرانی، بہادری اور محبت کو دکھایا گیا ہے

    ارطغرل ڈرامہ سیریل میں حلیمہ کون ہے ؟

    وزیراعظم عمران خان نے ارطغرل غازی کے علاوہ ایک اور ترک ڈرامے کو پاکستان میں نشر کرنے کی خواہش کا اظہار کر دیا

  • وزیر پارلیمانی امور علی محمد خان کا حمزہ علی عباسی کو جواب

    وزیر پارلیمانی امور علی محمد خان کا حمزہ علی عباسی کو جواب

    پاکستان شوبز انڈسٹری کے معورف اداکار حمزہ علی عباسی کی احمدیوں کے حق میں کی گئی ٹویٹ پر پی ٹی آئی رہنما اور وزیر پارلیمانی امور علی محمد خان کا کرارا جواب

    باغی ٹی وی :پاکستان شوبز انڈسٹری کے معروف اداکار ضمزہ علی عباسی نے گذشتہ دنوں سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر قائداعظم کے تاریخی الفاظ پر مبنی ایک نوٹ شئیر کیا

    حمزہ علی عباسی کی طرف سے شئیر کئے گئے نوٹ پرلکھا تھا کہ 23 مئی 1944 کو قائداعظم محمد علی جناح نے کشمیر کے دورے کے موقع پر پریس کانفرنس میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ احمدی مسلمان ہیں اور مسلم کانفرنس پر مشتمل تنظیم میں شامل ہونے کے حقدار ہیں۔ ہم ذیل میں اردو کتاب تاریخ حریت کشمیر سے اقتباس کرتے ہیں ہسٹری آف انڈیپینڈینس موومنٹ ان کشمیر والیوم 2 ، 1936-1945 صفحہ نمبر 291:


    اخباری نمائندوں نے قائداعظم سے مرزا ئیوں کے بارے میں ایک سوال پوچھا کہ انہیں مسلم کانفرنس میں شرکت کی اجازت نہیں دی جارہی ہے کیونکہ وہ غیر مسلم سمجھے جاتے ہیں۔آپ کا اس کے بارے میں کیا موقف ہے؟ مسٹر جناح نے جواب دیا میں ایسے شخص کو غیر مسلم قرار دینے والا کون ہوں جو اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہو؟

    نوٹ میں لکھا تھا کہ اس مقام پر کتاب کا ایک مخصوص پوائنٹ سوال کے پس منظر کی وضاحت کرتا ہے:مسلم کانفرنس کی بحالی کے موقع پر اس کا آئین فلیکسیبل بنا دیا گیا ہے تاکہ کوئی احمدی کانفرنس کا ممبر نہ بن سکے۔

    یہ نوٹ شئیر کرتے ہوئے حمزہ علی نے اپنی پوسٹ کے کیپشن میں لکھا کہ اللہ کے آخری نبی/رسول صل اللہ علیہ وسلم نےجو دین دیا اس میں انسانوں کو ایک دوسرے کی اصلاح کی کوشش کا اختیاریے لیکن کوئی فرد/گروہ، جو اپنے آپ کو مسلمان کہے، اس کی دلیل قرآن و سنت سے دے، اسے غیر مسلم ڈکلیر کرنے کا اختیار رسول اللہ کے دنیاسے رخصت ہونے کے بعد کسی انسان کے پاس نہیں.


    حمزہ علی عباسی کی اس ٹویٹ کا پی ٹی آئی رہنما اور وزیر پارلیمانی امور علی محمد خان نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ بھائی کوئی شخص تب تک مسلمان ہو ہی نہیں سکتا جب تک وہ عقیدہ ختم نبوت حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسّلم پہ کامل ایمان نہ رکھے کہ محمد(ص)اللہ کے آخری نبی اور رسول ہیں اور ان کے بعد نہ کوئ نبی آئے گا نہ کوئ رسول۔ یہی قرآن کہتا ہے۔ یہی حدیث سے ثابت ہے اور یہی آئین پاکستان کہتا ہے

    جنت اور جہنم کیسی اور اس کے حقدار کون لوگ، رحمت ہی رحمت سحر ٹرانسمیشن

    کورونا، سندھ اور اٹھارویں ترمیم: بلاول بھٹو زرداری نے وفاقی حکومت کوایسا کیا کہ دیا؟

  • ارطغرل ڈرامہ سیریل میں حلیمہ کون ہے ؟

    ارطغرل ڈرامہ سیریل میں حلیمہ کون ہے ؟

    باغی ٹی وی : ارطغرل ترکی کی تاریخ کا ایسا شاندار ڈرامہ ہے جسے اس وقت دنیا بھر میں دیکھا جا رہا ہے یہ سلطنت عثمانیہ کی تاریخ پر بنایا گیا ہے حلیمہ سلطان کا سلطنت عثمانیہ کے قیام میں بہت اہم کردار تھا اس میں ایک اہم کردار حلیمہ خاتون کا بھی ہے حلیمہ حاتون کون تھیں ؟حلیمہ سلطان ترک قبیلے قائی کے ساردار غازی ارطغرل کی زوجہ تھیں اور سلطنت عثمانیہ کے بانی غازی عثمان کی والدہ تھیں آپ ایک سنجوگ شہزادی تھیں حلیمہ سلطان سنجوگ سلطنت کے شہزادہ نعمان کی بیٹی تھیں
    https://www.youtube.com/watch?v=Q2pp4flN3uY&feature=youtu.be
    تاریخ کی کتابوں میں ان کا ذکر حائمانا اور حلیمہ خاتون کے نام سے ہوا ہے حائمانا لفظ غازی ارطغرل کی والدہ اور بیوی دونوں کے لئے استعمال ہوا ہے ارطغرل غازی کے مصنف مہمت بزداغ تاریخ کے طالبعلم ہیں ان کے مطابق صحیح نام حلیمہ سلطان ہے اسی وجہ سے ڈراموں میں حلیمہ خاتون کے نام سے پٔکارتے ہیں

    غازی ارطغرل آغوز قبیلے سے تعلق رکھتے تھے جب ان کی شادی ہوئی تو اس شادی سے بکھرے ہوئے ترک قبائل کو اکٹھے ہونے میں کافی مدد حاصل ہوئی جس کے بعد انہوں نے بہت زیادہ کامیابیاں حاصل کیں اس شادی کے لئے حلیمہ سلطان نے شہزادی کے ٹائٹل کی قربانی دی اور اس کے بعد غازی ارطغرل کے ساتھ وفا دار رہیں اور انہوں نے غازی ارطغرل اور ان کے قبیلے اور تمام مسلمانوں کی مدد کی

    جب غازی ارطغرل کو اپنے والد کے بعد قبیلے کی سرداری ملی تو انہیں حاتون کا ٹائٹل ملا جس کے بعد انہوں نے تمام زندگی آخر دم تک وفاداری کی اور اس ٹائٹل کی لاج رکھی حلیمہ حاتون کی وفات کے بعد انہیں غازی ارطغرل کے ساتھ دفنایا گیا

    واضح رہے کہ اسلامی فتوحات کی تاریخ پر مبنی ترکی کے شہرہ آفاق ڈرامے ’دیریلیش ارطغرل‘ جسے ترکی کا ’گیم آف تھرونز‘ بھی کہا جاتا ہے اس وقت دنیا بھر میں دیکھا جا رہا ہے اس ڈرامے کو 13 ویں صدی میں اسلامی فتوحات کے حوالے سے انتہائی اہمیت حاصل ہے۔

    دیریلیش ارطغرل‘ ڈرامے کی کہانی 13 ویں صدی میں ’سلطنت عثمانیہ‘ کے قیام سے قبل کی کہانی ہے اور اس ڈرامے کی مرکزی کہانی ’ارطغرل‘ نامی بہادر مسلمان سپہ سالار کے گرد گھومتی ہے جنہیں ’ارطغرل غازی‘ بھی کہا جاتا ہے۔

    ڈرامے میں دکھایا گیا ہے کہ کس طرح 13 ویں صدی میں ترک سپہ سالار ارطغرل نے منگولوں، صلیبیوں اور ظالموں کا بہادری سے مقابلہ کیا اور کس طرح اپنی فتوحات کا سلسلہ برقرار رکھا۔ڈرامے میں سلطنت عثمانیہ سے قبل کی ارطغرل کی حکمرانی، بہادری اور محبت کو دکھایا گیا ہے-

    وزیراعظم عمران خان نے ارطغرل غازی کے علاوہ ایک اور ترک ڈرامے کو پاکستان میں نشر کرنے کی خواہش کا اظہار کر دیا

    ہمیں اپنی تاریخ اور ہیروز کو تلاش کرنا چاہیئے ارطغرل غازی کو پی ٹی وی پر نشر کرنے پر شان شاہد کی تنقید

  • وزیراعظم عمران خان نے ارطغرل غازی کے علاوہ ایک اور ترک ڈرامے کو پاکستان میں نشر کرنے کی خواہش کا اظہار کر دیا

    وزیراعظم عمران خان نے ارطغرل غازی کے علاوہ ایک اور ترک ڈرامے کو پاکستان میں نشر کرنے کی خواہش کا اظہار کر دیا

    وزیر اعظم عمران خان کی خواہش پر اسلامی فتوحات کی تاریخ پر مبنی ترکی کے شہرہ آفاق ڈرامے ’دیریلیش ارطغرل‘ کو اردو زبان میں ڈب کر کے پاکستان میں پاکستان ٹیلی وژن (پی ٹی وی) پر یکم رمضان المبارک سے ڈرامے کی نشریات شروع کی

    باغی ٹی وی : وزیر اعظم عمران خان کی خواہش پر ترکی کے شہرہ آفاق ڈرامے ’دیریلیش ارطغرل‘کی پاکستان میں پی ٹی وی پر یکم رمضان المبارک سے نشریات شروع کی گئیں دیریلیش ارطغرل‘ کو پی ٹی وی پر نشر کیے جانے کے موقع پر وزیر اعظم عمران خان نے بھی خصوصی پیغام جاری کیا تھا اور انہوں نے ترک ڈرامے کو نہ صرف اسلامی بلکہ پاکستانی ثقافت و تاریخ کے بھی قریب قرار دیا تھا

    پاکستانی وزیراعظم نے ’دیریلیش ارطغرل‘ کو نشر کیے جانے پر خوشی کا اظہار بھی کیا تھا کہ یہ لازم ہوگیا تھا کہ اسلامی فتوحات کی تاریخ پر مبنی ڈرامے کو پی ٹی وی پر نشر کیا جائے تاکہ پاکستان کی نئی نسل اپنی تاریخ سے وابستہ ہو

    پاکستان میں مذکورہ ڈرامے کی بے حد مقبولیت کو دیکھتے ہوئے وزیر اعظم نے اپنے ایک اور پسندیدہ ڈرامے کو ملک میں نشر کروانے کی خواہش کا اظہار کردیا وزیر اعظم عمران خان چاہتے ہیں کہ ترکی کا ایک اور معروف ڈرامہ ’یونس امرے‘ بھی پاکستان میں نشر کیا جائے

    سینیٹر فیصل جاوید خان نے اس بات کا انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان نے اپنی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ اسلامی تاریخ کی اہم شخصیت کی زندگی پر بنائے گئے ڈرامے ’یونس امرے‘ کو بھی پاکستان میں نشر کیا جائے تاکہ عوام اپنی تاریخ سے واقف ہوں

    یونس امرے‘ ڈرامے کو ترکی کے سرکاری ٹی وی چینل ٹی آر ٹی ون نے بنایا تھا اور اس ڈرامے کا پہلا سیزن 2015 میں جب کہ دوسرا سیزن 2016 میں نشر کیا گیا تھا اور ڈرامے کی مجموعی طور پر 41 اقساط تھیں اس ڈرامے کو بھی ترکی کے علاوہ دیگر اسلامی ممالک اور خصوصی طور پر مشرق وسطیٰ میں کافی پسند کیا گیا

    ’یونس امرے‘ ڈراما دراصل 13 ویں صدی کے ترک صوفی شاعر یونس امرے کی زندگی پر بنایا گیا ہے یونس امرے سلطنت عثمانیہ سے 200 سال قبل پیدا ہوئے تھے اور انہوں نے اناطولیہ زبان ادب و ثقافت پر گہرے اثرات چھوڑے، وہ عربی، فارسی و ترک زبان پر عبور رکھنے والے ایک شاعر گھرانے میں پیدا ہوئے اس لئے ان کا رحجان شاعری کی طرف تھا

    امید کی جا رہی ہے کہ وزیر اعظم کی جانب سے ’یونس امرے‘ ڈرامے کو پاکستان میں نشر کروانے کی خواہش کے اظہار کے بعد ممکنہ طور پر مذکورہ ڈرامے کو بھی پی ٹی وی پر نشر کیا جائے گا تاہم اس میں کافی عرصہ لگ سکتا ہے

    ترک سیریز ارطغرل غازی یکم رمضان سے پی ٹی وی پر نشر کی جائے گی

    ہمیں اپنی تاریخ اور ہیروز کو تلاش کرنا چاہیئے ارطغرل غازی کو پی ٹی وی پر نشر کرنے پر شان شاہد کی تنقید

    ارطغرل غازی کے نشر کئے جانے کے موقع پر وزیراعظم عمران خان کا خصوصی پیغام

  • "موسیقاراعظم” نوشاد علی کی 14ویں برسی آج منائی جارہی ہے

    "موسیقاراعظم” نوشاد علی کی 14ویں برسی آج منائی جارہی ہے

    بھارتی فلمی صنعت کے معروف موسیقار نوشاد علی کی 14ویں برسی آج منائی جارہی ہے۔ نوشاد5مئی2006ء کو دل کا دورہ پڑنے کے باعث 86سال کی عمر میں ممبئی میں انتقال کر گئے تھے۔25دسمبر 1919ء لکھنؤ میں پیدا ہونے والے نوشاد کے والد ایک عدالت میں منشی تھے۔والدین کی مرضی کے برخلاف نوشاد کو بچپن سے ہی میوزک سیکھنے کا شوق تھا جب کہ انہیں اس وقت کی خاموش فلموں کو دیکھنے کا بھی بڑا شوق تھا۔انہوں نے میوزک کے ایک جونیئر کلب میں شمولیت اختیارکی جہاں وہ اپنے طور پر طبلہ، ہارمونیم، وائلن، پیانو اور ستار بجایا کرتے تھے۔اس وقت کے ماہرین موسیقی استاد برکت علی خان، استاد یوسف علی خان اور استاد ببن ان کی موسیقی سیکھنے کی خواہش میں ان کی مدد کیا کرتے تھے اور ان کی غلطیوں کی نشاندہی کیا کرتے تھے۔نوشاد نے وہاں سے پیانو سیکھ لیا۔1931ء میں جب پہلی بولتی فلم عالم آرا بنی تو اس وقت نوشاد کی عمر صرف 13سال تھی۔نوشاد اپنے والدین سے چھپ کر فلم دیکھنے چلے گئے لیکن ان کے والد کو ان کا فلم دیکھنے جانے کا علم ہو گیا۔ فلم دیکھ کر نوشاد گھر آئے تو ان کے والد نے دوٹوک الفاظ میں کہہ دیا کہ وہ اگر میوزک سیکھنے اور فلم دیکھنے سے باز نہ آئے تو انہیں گھر سے نکال دیں گے۔ نوشاد نے فوری طور پر گھر چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا اور بمبئی چلے گئے۔بمبئی میں ان کے پاس رہنے کے لئے کوئی ٹھکانہ نہیں تھا اور وہ فٹ پاتھوں پر رات کو سوتے جب کہ دن کو نوکری کی تلاش کرتے۔ نوشاد چونکہ پیانو جانتے تھے انہیں بمبئی میں فلموں کے لئے پیانو بجانے والے استاد مشتاق حسین کے آرکسٹرا میں نوکری مل گئی۔موسیقار کھیم چند پرکاش نے جب نوشاد علی کا پیانو سنا تو انہیں رنجیت اسٹوڈیو لے گئے جہاں فلم کنچن بن رہی تھی۔ کھیم چند پرکاش نے نوشاد کو اس فلم کیلئے60روپے ماہوار پر اپنا اسسٹنٹ بنا لیا۔بعد میں نوشاد نے ایک انٹرویو میں کھیم چند پرکاش کو اپنا گورو قرار دیا۔ 1939ء میں نوشاد نے پہلی بار پنجابی فلم مرزا صاحب میں بطور اسسٹنٹ میوزک ڈائریکٹر کام کیا۔1940ء میں نوشاد نے فلم پریم نگر کے لئے پہلی مرتبہ ایک الگ میوزک ڈائریکٹر کی حیثیت سے میوزک دیا جس کے اکثر گانے لوک دھنوں پر مشتمل تھے۔1941ء میں نوشاد نے درشن اور مالا فلموں کے لئے موسیقی دی جس کے بعد وہ بھارتی فلمی صنعت میں بطور میوزک ڈائریکٹر پہچانے جانے لگے جس کے بعد انہوں نے نئی دنیا، شاردا، قانون، اور سٹیشن ماسٹر، نمستے، سنجوگ، گیت، جیون اور پہلے آپ جیسی مشہور فلموں میں موسیقی ترتیب دی۔ 1944میں نوشاد نے شہرہ آفاق فلم رتن کی موسیقی ترتیب دی اس فلم کے گانوں نے پورے برصغیر میں دھوم مچادی۔ رتن کی کامیاب کے بعد نوشاد علی نے پیچھے مڑکر نہیں دیکھا۔فلم رتن کے مصنف راجیش سبرامنین نے فلم کی تکمیل پر اس وقت 75ہزار روپے خرچ کئے جب کہ نوشاد نے فلم میں صرف موسیقی دینے کے لئے ان سے 25ہزار روپے لئے۔ فلم کی ریلیزکے بعد راجیش کو صرف گانوں کے گراموفون ریکارڈ فروخت ہونے سے3لاکھ روپے اکٹھے ہوئے۔نوشاد نے اپنے فلمی کیرئیر میں صرف 65فلموں کے لئے موسیقی دی جن میں سے 26فلموں نے سلور جوبلی، 8نے گولڈن جوبلی اور 4نے ڈائمنڈ جوبلی منائی۔ان کی مشہور فلموں میں انمول گھڑی، قیمت، شاہجہاں، درد، میلہ، انداز، دل لگی، چاندنی رات، دلاری، بابل، دیدار، آن، بیجو باورا، امر، شباب،مدر انڈیا، اڑن کھٹولہ، مغل اعظم وغیرہ شامل ہیں۔انہیں حکومت کی طرف سے موسیقار اعظم کا خطاب بھی ملا جب کہ انہیں بھارت کے سب سے بڑا دادا صاحب پھالیکے ایوارڈ سے بھی نوازاہ گیا.

  • ناموراداکار سہیل اصغرکے معدے کاکراچی میں آپریشن

    ناموراداکار سہیل اصغرکے معدے کاکراچی میں آپریشن

    کراچی: ماضی کے معروف فلم اورٹی وی اداکار سہیل اصغرکے معدے کا آپریشن کل مقامی ہسپتال میں ہو گا. ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ ہے.انہیں دعاوں اور پیار پربے حد یقین ہے. انہوں نے اپنے مداحوں دوستوں اور چاہنے والوں سے دعاوں کی اپیل کی ہے.سہیل اصغرنے لاہور سے اپنی فنی زندگی کا آغاز کیا. انہوں نے 1978 سے 1988 تک ریڈیو جوکی کے طور پر کام کیا . اس کے ساتھ ساتھ مقامی تھیٹر میں شوز کرتے رہے.پی ٹی وی کے پروڈیوسر نصرت ٹھاکر انہیں ٹی وی ڈرامہ میں لے کر آئے.انہوں نے اپنے ڈرامہ رات میں سہیل اصغر کو کام کرنے کا موقعہ دیا. گو کہ اس ڈرامہ میں انہوں نے مرکزی کردار ادا نہیں کیا لیکن ٹی وی ناظرین نے ان کے کردار کو بے حد سراہا. اس کے بعد انہوں نے ڈرامہ خواہش میں جو اداکاری کی اسے بے حد پذیرائی ملی. ان کے دیگر معروف ڈراموں میں لاگ، پیاس، چاندگرہن اور کاجل گھر شامل ہیں. 2003 میں انہوں فلم مراد میں کام کیا اور یوں انہوں نے چھوٹی اسکرین سے بڑی اسکرین پر پہلا قدم رکھا.2004 میں انہوں نے فلم ماہ نور میں اداکاری کے جوہر دکھائے.