پاکستان شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ مائرہ خان کا دنیا بھر میں تیزی سے پھیلتے جان لیوا کورونا وائرس کا انٹرویو لیتے ہوئے سوشل میڈیا پر دلچسپ ویڈیو وائرل ہورہی ہے جس سے صارفین خوب محفوظ ہو رہے ہیں
باغی ٹی وی : پاکستان شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ مائرہ خان کی جانب سے کورونا وائرس کا انٹرویو لینے کی دلچسپ ویڈیوانسٹاگرام پرشیئر کی گئی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ این فائیو ماسک پہنے ادکارہ کسی وائرس یا اجنبی مخلوق کا انٹرویو کر رہی ہیں
https://www.instagram.com/p/B_2VA6xgc3R/?igshid=s15hu0x3bvgj
ویڈیو میں مائرہ خان دو کردار ادا کررہی ہیں یعنی انٹرویو کرنے والی بھی وہ خود ہیں جبکہ کورونا سے مشابہہ کا کردار بھی خود ہی ادا کررہی ہیں
اداکارہ نے ویمپائرز سے مشابہہ میک اپ کرکے خود کو کورونا کے کردار میں جس خوبصورتی سے ڈھالا، قابل تعریف ہے
کورونا سے انٹرویو کرنے والی مائرہ خان کورونا وائرس سے پوچھتی ہیں کہ وہ کون ہے جس پر کورونا نے دلچسپ انداز میں اپنا نام کورونا، سرنیم وائرس، عرفیت کوویڈ، عمر 19سال، ماں کا نام چین، حالیہ دوست امریکا جبکہ سابقہ دوست اٹلی بتایا
اپنے طرز کی یہ منفرد ویڈیو سوشل میڈیا پر بڑی تعداد میں وائرل ہو رہی ہے مداحوں کی جانب سے پسند کیا جارہا ہے اور دلچسپ تبصرے کئے جارہے ہیں
بر صغیر پاک و ہند کے منفرد غزل گائیک اور اداکار طلعت محمود کی 22ویں برسی آج منائی جا رہی ہے۔ مخملی آواز کے مالک طلعت محمود 9مئی 1998کو 74سال کی عمر میں اس دنیا فانی سے کوچ کر گئے تھے۔ کنگ آف غزل کا خطاب پانے والے طلعت محمود 24فروری 1924کو لکھنؤ میں پیدا ہوئے۔آپ کے والد منظور محمود ایک کٹر مذہبی مسلمان تھے۔ طلعت محمود نے ہوش سنبھالا تو انہیں میوزک سے لگاؤ پیدا ہو گیا لیکن ان کے والد کو اپنے بیٹے کا میوزک کی طرف مائل ہونا بالکل پسند نہیں تھا۔ لیکن اپنے چھ بچوں میں سے وہ سب سے زیادہ پیار طلعت کو کرتے تھے۔ طلعت ساری ساری رات اس وقت کے مقبول کلاسیکی اساتذہ کا میوزک سنتے رہتے تھے اس لئے میوزک کے اتار چڑھاؤ انہوں نے کافی حد تک سیکھ لئے تھے۔جلد ہی انہوں نے موریس میوزک کالج میں داخلہ لے لیا۔طلعت محمود کی عمر صرف 16سال تھی جب انہوں نے آل انڈیا ریڈیو لکھنؤپر مرزا غالب، داغ اور خواجہ میر درد کا کلام پڑھنا شروع کر دیا۔ناقدین کا کہنا ہے کہ ان کی آواز اس وقت کے دوسرے گلوکاروں سے قدرے مختلف تھی جس کااس وقت کی سب سے بڑی میوزک کمپنی ایچ ایم وی نے سنجیدگی سے نوٹس لیا۔1941میں انہوں نے طلعت کا پہلا گراموفون ریکارڈ بنایا جس کے بول تھے’سب دن ایک سمان نہیں تھا، بن جاؤں گا کیا سے کیا میں، اس کا تو کچھ دھیان نہیں تھا’۔معروف شاعر فیاض ہاشمی کی لکھی اس غزل نے طلعت کوسنگر اسٹار بنا دیا۔ اس کے گراموفون ریکارڈ نے فروخت کے بھی نئے ریکارڈ قائم کر دئیے۔1944میں ایچ ایم وی نے طلعت سے ایک اور غزل گانے کا معاہدہ کیا۔ ‘تصویر تیری دل میرا بہلا نہ سکے گی، یہ تیری طرح مجھ سے تو شرما نہ سکے گی’۔ فیاض ہاشمی کی ہی لکھی غزل نے برصغیر میں دھوم مچا دی۔ بر صغیر میں اب تک کسی غیر فلمی غزل نے اتنی مقبولیت حاصل نہیں کی تھی۔اس غزل کے بعد کلکتہ کی فلمی صنعت کے فلمسازوں نے بھی طلعت محمود کی طرف رخ کیا اور انہیں فلموں کے لئے گانے کی پیشکش کر دی لیکن طلعت محمود نے شرط رکھ دی کہ وہ فلم میں گانے کے ساتھ ساتھ اداکاری بھی کریں گے۔1945میں ریلیز ہونے والی فلم راج لکشمی وہ پہلی فلم تھی جس میں طلعت نے اداکاری بھی کی اور پہلا فلمی گانا بھی گایا۔ اس فلم کے لئے طلعت محمود کو تپن کمار کا فلمی نام دیا گیا۔ نغمہ نگار سریش چوہدری کے لکھے اس گیت کے بول تھے، اس جگ میں کچھ آس نہیں۔ موسیقی ترتیب دی تھی موسیقار ڈی ایم روبن نے۔ فلم باکس آفس پر بری طرح ناکام ہوئی۔ لیکن طلعت کی آواز میں مزید نکھار پیدا کر گئی۔کلکتہ میں طلعت نے فلم تم اور میں اور سمپتی میں کام بھی کیا اورگانے بھی گائے جس کے بعد 1949میں برصغیر کے فلمی مرکز بمبئی کی طرف رخ کیاجہاں پہلے ہی ان کے نام کی گونج سنائی دے رہی تھی۔ 1949میں موسیقار انیل بسواس نے اپنی فلم آرزو میں دلیپ کمار پر فلمائے گئے گیت کے لئے طلعت کی آوازکا انتخاب کیا جس کے بول تھے، اے دل مجھے ایسی جگہ لے چل جہاں کوئی نہ ہو، اس گیت کے بعد طلعت محمود کے لئے فلموں کی لائین لگ گئی۔طلعت محمود نے اپنی فلمی زندگی میں 478گانے گائے، ان کی غیرفلمی غزلوں کی تعداد192ہے جب کہ دیگر زبانوں میں انہوں نے 89 گانے گائے۔طلعت محمود نے پاکستانی فلم چراغ جلتا رہا میں دو گانے گائے جب کہ موسیقار سہیل رانا کے لئے بھی انہوں نے تین گانے ریکارڈ کروائے۔ طلعت محمود نے گلوگاری کے ساتھ ساتھ 14فلموں میں اداکاری کی لیکن وہ ایک کامیاب ہیرو نہ بن سکے۔ان کی بطور اداکار آخری فلم سونے کی چڑیا تھی جس میں ان کی ہیروئن نوتن تھی۔ طلعت محمود نے اپنی فلمی زندگی کا آخری گانا 1985میں فلم ولی اعظم کے لئے گایا جس کے بول تھے میرے شریک سفر۔ جسے احمد وارثی نے لکھا تھا۔طلعت محمود نے 1946میں ایک بنگالی عیسائی خاتون لاتیکا ملک سے شادی کی لیکن وہ شادی زیادہ عرصہ نہ چل سکی۔ 20فروری 1951کو طلعت نے گھر والوں کی مرضی سے نسرین نامی لڑکی سے شادی کی جس بطن سے1953میں ایک بیٹا خالد محمود اور1959میں بیٹی سبینا پیدا ہوئیں۔ خالد محمودآج کل امریکہ میں رہتے ہیں اور گلوکاری بھی کرتے ہیں لیکن وہ اپنے والد کی طرح نام نہیں کما سکے۔
لاہور :برطانوی ہائی کمشنر عاطف اسلم کی قوالی کے کس قدر مداح سن کر آپ حیران رہ جائیں گے ،اطلاعات کے مطابق پاکستان میں تعینات برطانوی ہائی کمشنر کرسچن ٹرنر نے عاطف اسلم کی آواز میں قوالی ’تاجدار حرم‘ کو پسندیدہ قرار دے دیا۔
تفصیلات کے مطابق سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کرسچین ٹرنر کا کہنا تھا کہ مجھے متعدد بار مشورہ دیا گیا کہ میں پاکستانی موسیقی کے بارے میں معلومات میں اضافہ کروں۔ انہوں نے بتایا کہ اس ضمن میں اُن کے ایک ساتھی نے انہیں کوک اسٹوڈیو سیزن 8 میں پڑھی جانے والی عاطف اسلم کی آواز میں معروف قوالی ’تاجدار حرم‘ سننے کی تجویز دی جس سے وہ خوب لطف اندوز ہوئے۔
کرسچین ٹرنرنے دیگر لوگوں سے بھی مزید پاکستانی موسیقی کی سفارشات مانگیں جس کے جواب میں صارفین کی بڑی تعداد اپنی من پسند موسیقی شیئر کررہے ہیں۔ کرسچن ٹرنر کے تعریفی پیغام کے جواب میں عالمی شہرت یافتہ گلوکار عاطف اسلم نے ان کا شکریہ ادا کیا۔
ملتان : پاکستان کے صدارتی ایوارڈ یافتہ چولستانی لوک فنکارکرشن لال بھیل 3 ماہ علالت کے بعد انتقال کر گئے ان کے انتقال پر صوبائی پارلیمانی سیکرٹری برائے اقلیتی امور مہندر پال سنگھ نے گہرے دکھ اور رنج کا اظہار کیا
باغی ٹی وی : پاکستان کے صدارتی ایوا رڈ یافتہ چولستانی لوک فنکار کرشن لال بھیل 3 ماہ سے علیل تھے اور نہایت کسمپرسی کی زندگی گزار رہے تھے کرشن لال بھیل نے پوری دنیا میں پاکستان کا نام روشن کیا ہے
پاکستان کے اس صدارتی ایوا رڈ یافتہ عظیم فنکار کی موت پر صوبائی پارلیمانی سیکرٹری برائے اقلیتی امور مہندر پال سنگھ نے رگہرے دکھ اور رنج کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ معروف گلوکارکرشن لال بھیل ملک کا قیمتی اثاثہ تھے
مہندر پال سنگھ نے کہا کہ کرشن لال بھیل پاکستان سمیت دنیا بھر میں بہت مقبول گلوکار تھے اور کرشں لعل بھیل نے اپنی گلوکاری سے پاکستان کا نام دنیا بھر میں روشن کیا
مہندر پال سنگھ نے مزید کہا کہ علاقائی زبانوں میں گلوکاری کرنے والوں میں ان کانام ہمیشہ زندہ رہے گا
دوسری جانب کرشن لال بھیل کے شاگرد جمیل لال بھیل کا کہنا ہے کہ کرشن لال بھیل غربت کی جنگ لڑتے لڑتے اپنی زندگی کی بازی ہار گئے کسی بھی حکومتی نمائندے نے تعاون نہیں کیا یہاں تک کہ ان کی کسی نے عیادت تک نہیں کی
واضح رہے کہ کرشن لال بھیل پاکستان کے ایک عظیم لوک فنکار تھے انہوں نے دنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن کیا انہیں انہیں دنیا کی 18 زبانوں پر عبور حاصل تھا
https://www.youtube.com/watch?v=JEmdd4AegW0&feature=youtu.be
دنیا بھرکی طرح کورونا وائرس کے باعث پاکستان میں بھی احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے لاک ڈاؤن نافذ کیا گیا ہےجس کے باعث کئی نامور گلوکاروں نے مداحوں کے لیے آن لائن کنسرٹس میں پرفام کر رہے ہیں
باغی ٹی وی : پاکستان سمیت دنیا بھر میں گلوکاروں نے اپنے گھروں میں موجود اپنے مداحوں کے لیے آن لائن کنسرٹس رکھنے میں کافی مصروف نظر آئے جس کے بعد پاکستانی گلوکاروں کی طرف سے ایک کووڈ 19 ورچیول صوفی پروگرام منعقد کرنے کا بھی اعلان کیا گیا جس کے ذریعے کورونا وائرس متاثرین کے لیے فنڈز جمع کیے جائیں گےیہ آن لائن صوفی پروگرام رواں سال 10 مئی اتوار کے روز منعقد کیا جائے گا
اس فنڈریزنگ ویگا نامی ویب سائٹ کے مطابق اس پروگرام کو حمد و نعت اور صوفی پروگرام کا نام دیا گیا
ویب سائٹ پر مزید بتایا گیا کہ علی ظفر، رفاقت علی خان، علی سیٹھی، ہارون راشد اور استاد شفقت امانت علی جیسے گلوکار اس پروگرام میں پرفارم کریں گے ان کے علاوہ خرم اقبال، جنید یوسن اور علی شیر بھی اس پروگرام کا حصہ بنیں گے
https://viga.org/covid
viga نامی ویب سائٹ کے مطابق یہ فنکار کورونا وائرس متاثرین کے لیے فنڈز جمع کرنے، ان کی ویڈیو کا لنک 10 ڈالر (1590 پاکستانی روپے) کی سبسکرپشن پر دیا جائے گا
پروگرام کی تفصیل کے حوالے سے ویب سائٹ پر مزید بتایا گیا کہ ’کورونا وائرس نے ہم سب کو ایک دوسرے سے دور کردیا ہے لیکن اس وائرس کی وجہ سے خود کو ان سے دور نہ کریں جنہیں اس وقت ہماری مدد کی سب سے زیادہ ضرورت ہے
خیال رہے کہ کورونا وائرس کے کیسز میں تیزی سے اضافے کے بعد حکومت پاکستان نے مارچ سے ملک کے کئی حصوں میں لاک ڈاؤن نافذ کردیا تھا اس لاک ڈاؤن کے باعث کئی افراد کی ملازمت خطرے میں پڑ گئی جبکہ کچھ کی نوکریاں ختم بھی ہوگئیں
https://www.youtube.com/watch?v=jVG95Ob33Z0&feature=youtu.be
بالی وڈ کی معروف اداکارہ دپیکا پڈوکون نے سوشل میڈیا پراپنی ایک پوسٹ میں میوزک ترتیب دینے والوں کا شکریہ ادا کیا ہے
باغی ٹی وی :بالی وڈ کی معروف اداکارہ دپیکا پڈوکون نے سوشل میڈیا پراپنی ایک پوسٹ میں میوزک ترتیب دینے والوں کا شکریہ ادا کیا ہے سماجی رابطے کی ویب سائٹ انسٹاگرام پر اداکارہ نے اپنے پیانو کی تصویر شیئر کرتے ہوئے موسیقی کے حوالے سے اپنے دلی جذبات کا اظہار کیا اور موسیقی کو زندگی کی اہم ضرورتوں میں سے ایک قرار دیا
دیپیکا نے اپنی ایک پوسٹ میں بہترین میوزک ترتیب دینے والوں کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ان تمام خوشیوں کے لئے شکریہ جو وہ لاتے ہیں
اداکارہ نے مداحوں کوبتایا کہ اُن کا گلوکاری کا کوئی ارادہ نہیں
انہوں نے لکھا کہ میں پوری ایمانداری سے پوچھتی ہوں اس (موسیقی ) کے بغیر کون جی سکتا ہے؟ زندگی کیا ہوگی؟
انہوں نے کہا کہ گانا یا رقص کے بغیر ، ہم کیا ہیں؟ انہوں نے لکھا کہ اس کے بغیر ہماری زندگی بے رنگ و بے معنی ہو گی
دیپیکا پڈوکون نے لکھا کہ تو میں موسیقی کے لئے آپ کا شکریہ اد اکرتی ہوں
واضح رہے کہ اس سے قبل دپیکا نے اپنے پسندیدہ گانوں کی فہرست شیئر کی تھی جس میں کوک اسٹوڈیو کے ساتویں سیزن میں شامل عابدہ پروین اور راحت فتح علی خان کی آواز میں امیر خسرو کا صوفی کلام ‘چھاپ تلک سب چھین لی‘ شامل ہے۔
یاد رہے کہ بھارت میں لاک ڈاؤن کے باعث اداکارہ شوہر رنویز سنگھ کے ساتھ قرنطینہ میں ہیں قرنطینہ میں خود کو محفوظ رکھنے کے لئے اور بہترین وقت گزاری کے لیے اپنی مصروفیات مداحوں کے ساتھ شئیر کرتے رہتے ہیں
ماضی کی نامور اداکارہ زیبا بختیار نے بھارتی لیجنڈری اداکار رشی کپور کی موت پر انہیں یاد کرتے ہوئے ایک جذباتی پیغام تحریر کیا اور ساتھ ہی فلم’حنا‘ کی کچھ تصاویر بھی شئیر کیں
باغی ٹی وی :گذشتہ ماہ بالی ووڈ کے دو لیجنڈری اداکار عرفان خان اور رشی کپور کی موت سے جہاں ان کے مداحوں سمیت بھارتی فنکارغمزدہ ہیں وہیں پاکستانی فنکار بھی اُن کی موت کی خبر سُن کر افسردہ ہوگئے ہیں اور ان کے لیے مختلف پیغامات جاری کر تے نظر آرہے ہیں
https://www.instagram.com/p/B_mESYVJ_g9/?igshid=5c04a8zjhxhz
اداکارہ زیبا بختیار نے بھی رشی کپور کی موت پر غم کا اظہار کرتے ہوئے ان سے جڑی چند خوبصورت یادیں شیئر کیں ہیں اور رشی کپور کے لیے انسٹا گرام پر نہایت جذباتی پیغام تحریر کیا ہے زیبا بختیار نے رشی کپور کے ساتھ فلم ’’حنا‘‘کی تصاویراپنےانسٹا گرام اکاؤنٹ شیئر کرتے ہوئے لکھا اپنے پیارے دوست رشی کپور کی موت کی خبر سن کر صدمے میں ہوں وقت کتنی جلدی گزرجاتا ہے ایسا لگ رہا ہے ’’حنا‘‘ کی شوٹنگ کل ہی کی بات ہو
زیبا بختیار نے لکھا کہ میں تمہیں ہمیشہ یاد کروں گی اس نقصان کو برداشت کرنا واقعی مشکل ہے۔ تم ہمارے لیے سپر اسٹار تھےمیرے چندر پرکاش تم ہمیشہ ہمارے دلوں میں رہو گے۔ تم نے فلم کی شوٹنگ کے دوران جو چیزیں مجھے سیکھائیں اس کے لیے تمہارا شکریہ میں مزید اب نہیں لکھ سکتی صرف تمہاری حنا۔
واضح رہے کہ 67 سالہ بھارتی اداکار رشی کپور گزشتہ ماہ ممبئی کے ایچ این ریلائنس ہسپتال میں زندگی کی بازی ہار گئے
پاکستان شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ و تمغہ امتیاز مہوش حیات نے شاعر مشرق علامہ اقبال سے منسوب غلط اشعار شیئر کرنے کی غلطی تسلیم کر لی
باغی ٹی وی : چند روز قبل تمغہ امیتاز خوبرو اداکارہ مہوش حیات نے ٹوئٹر پر اپنی ایک تصویر شیئر کی تھی اور اُس تصویر کو شیئر کرتے ہوئے کیپشن میں اداکارہ نے محمد اسماعیل الکرخی ندوی کی شاعری کے چند اشعار لکھے تھے لیکن مہوش حیات نےان اشعار کو شاعر مشرق ڈاکٹر علامہ محمد اقبال سے منسوب کردیا تھا
ہر شیشہ ٹوٹ جاتا ہے پتھر ک چوٹ سے پتھر ہی ٹوٹ جاۓ ، وہ شیشہ تلاش کر ۔۔
ہر شخص جل رہا ہے عداوت کی آگ میں اُس آگ کو بجھادے، وہ پانی تلاش کر ۔۔
سجدوں سے تیرے کیا ہوا صدیاں گذر گئیں دنیا تری بدل دے ، وہ سجدہ تلاش کر !
مہوش حیات کی ٹویٹ پر ڈاکٹر صائمہ راحیل قاضی نے بھی ری ٹویٹ کرتے ہوئے ان کی غلطی کی اصلاح کی اور لکھا کہ ویسے یہ علامہ اقبال کا شعر نہیں ہے
جس کے بعداداکارہ نے اپنی غلطی تسلیم ہوئے ٹوئٹر پر اپنا ایک بیان جاری کیا ہے
Correction, I have been reliably informed that these verses attributed to Allama Iqbal are in fact by Muhammed Ismail . Proves google is not always a reliable source. lol
مہوش حیات نے لکھا کہ اصلاح ، مجھے معتبر طور پر مطلع کیا گیا ہے کہ علامہ اقبال سے منسوب یہ آیات در حقیقت محمد اسماعیل کی ہیں۔ اِس سے یہ ثابت ہوا ہے کہ گوگل ہمیشہ ہمیشہ درست معلومات فراہم کرنے کا قابل اعتماد ذریعہ نہیں ہوتا ہے
واشنگٹن :انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن میں فلم : ناسا بھی اپنا موقف لےکرسامنے آگیا،اطلاعات کے مطابق گزشتہ روز خبر سامنے آئی تھی کہ اداکار ٹام کروز اسپیس ایکس اور امریکی خلائی ادارے ناسا کے ساتھ مل کر ایک ایکشن فلم بالائی خلا میں بنانے والے ہیں۔
ٹام کروز اور اسپیس ایکس کے نمائندگان نے تو اس پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا مگر ناسا کے منتظم جم برائیڈنسیٹ نے ایک ٹوئٹ میں اس کی تصدیق کی ہے۔انہوں نے ٹوئٹ میں لکھا ‘ناسا ٹام کروز کے ساتھ اسپیس اسٹیشن میں ایک فلم کی تیاری کے حوالے سے پرجوش ہے، ہمیں مقبول میڈیا کی ضرورت ہے تاکہ نئی نسل کے انجنیئرز کو سائنسدانوں کو ناسا کے منصوبوں کو حقیقت بنانے کے لیے پرعزم بناسکیں’۔
ناسا کی جانب سے اس حوالے سے مزید تفصیلات ظاہر نہیں کی گئیں۔مگر گزشتہ روز کی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ ٹام کروز اس وقت ایلون مسک کی کمپنی اسپیس ایکس کے ساتھ مذاکرات کررہے ہیں جس میں ایک فیچر فلم خلا میں فلمانے کے امکان پر بات کی جارہی ہے جس میں امریکی خلائی ادارے ناسا کو بھی شامل کیا گیا ہے۔اس منصوبے کو ابھی حتمی شکل نہیں دی گئی اور ابتدائی بات چیت جاری ہے مگر رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ یہ کافی سنجیدہ مذاکرات ہیں۔
یہ منصوبہ ٹام کروز کے جان لیوا اسٹنٹس کرنے کی شوقین شخصیت سے مطابقت بھی رکھتا ہے خاص طور پر مشن امپاسبل سیریز میں ان کے اسٹنٹس لوگوں کو اب تک یاد ہیں۔مگر یہ نئی فلم مشن امپاسبل کا کوئی سیکوئل نہیں ہوگی بلکہ کسی بھی فلم کو خلا میں بنانے کے لیے کسی فرنچائز کا نام لگانے کی ضرورت نہیں۔
ابھی یہ واضح نہیں کہ خلا میں فلم کو کیسے شوٹ کیا جائے گا مگر اسپیس ایکس کو پہلے انسان بردار خلائی طیارے کو بھیجنے کی منظوری مل چکی ہے اور 27 مئی کو یہ اسپیس کرافٹ ناسا کے خلابازوں کوو لے کر جائے گا۔اس کے بعد اس خلائی طیارے کو دیگر خلائی آپریشنز کے لیے بھی استعمال کیا جائے گا۔
یہ کمپنی ایک اسپیس کرافٹ اسٹار شپ کی تیاری پر بھی کام کررہی ہے جو کئی بار استعمال ہونے والا خلائی طیارہ ہوگا اور اس میں اتننی جگہ ہوگی کہ کسی فلمی عملے کو اپنے ساتھ لے جاسکے۔اس کی تیاری میں ابھی کئی سال درکار ہیں مگر ناسا نے اسے اپنے مستقلب کے چاند پر بھیجے جانے والے انسانی مشنز کا حصہ بنایا ہوا جن کا آغاز 2024 کو ہوگا۔
چندروز قبل پنجاب کے شہرسیالکوٹ سے تعلق رکھنے والے ٹک ٹاک اسٹار غنی ٹائیگر نے ایک ویڈیو کے ذریعے بتایا تھا کہ کچھ لوگوں نے ان کی آنکھوں کے سامنے ان کے والد کو قتل اور بھائی کو زخمی کردیا
باغی ٹی وی : غنی ٹائیگر نے ویڈیو میں روتے ہوئے بتایا تھا کہ ان کی آنکھوں کے سامنے ان کے والد کو قتل کیا گیا ان کے والد کا کوئی قصور نہیں تھا ان کے پاس لوہے کے راڈ اور اسلحہ تھا –
ٹک ٹاک اسٹار کی جانب سے ویڈیو شیئر کرنے کے بعد ٹویٹر پر ،جسٹس فار داؤد، کی مہم چلائی گئی جس میں کئی شوبز اسٹار و اہم شخصیات نے بھی حصہ لیا اور حکومت سے ٹک ٹاک سٹار کی مدد کی اپیل کی-
ٹک ٹاک اسٹار کے والد کے قتل کے خلاف معروف شخصیات کی جانب سے مہم چلائے جانے کے بعد پولیس حرکت میں آئی اور بعد ازاں وزیراعلی پنجاب کے فوکل پرسن برائے ڈیجیٹل میڈیا اظہر مشوانی نے ٹویٹر پر بتایا کہ مذکورہ واقعے میں ملوث تین ملزمان کو گرفتار کرکے ان کے خلاف مقدمہ دائر کردیا گیا جس کے بعد غنی ٹائیگر نے پولیس کی جانب سے ملزمان کو گرفتار کرنے پر پولیس کا شکریہ بھی ادا کیا
اب غنی ٹائیگر کی ایک اور ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں ٹک ٹاک اسٹار غنی ٹائیگر نے ٹی وی و سوشل میڈیا اسٹار وقار ذکا سے اپنے والد کو قتل کئے جانے کے واقعے پر کھل کر بات کی ہے جس میں انہوں نے اعتراف کیا ہے کہ ان کے والد کو دراصل بچوں کے جھگڑے کے بعد قتل کیا گیا ویڈیو میں غنی ٹائیگر نے مخالف پارٹی کے ساتھ جھگڑےاور اپنے والد کے قاتلوں کے بارے میں تفصیل سے بات کی-
وقار ذکا سے بات کرتے ہوئے غنی ٹائیگر نے بتایا کہ ماہ رمضان کے ابتدائی دنوں میں محلے کے دو بچوں کے درمیان جھگڑا ہوا جن میں سے ایک بچے کا تعلق ان کے خاندان سے تھا اور اس سے پہلے بھی ایسے واقعات پیش آ چکے تھے لیکن اس بار انہیں سمجھ نہیں آیا کہ بات اس حد تک کیسے بڑھ گئی؟
غنی ٹائیگر نے بتایا کہ بچوں کے جھگڑوں کا علم نہ صرف انہیں تھا بلکہ ان کے گھر کے دوسرے افراد کو بھی تھا اور انہوں نے ہی اپنے والد اور چچا کو بتایا کہ وہ بچوں کے جھگڑے کے معاملے پر سب میں صلح کروادیں گے
غنی ٹائیگر نے مزید بتایا کہ جس وقت ان کے والد کو قتل کیا گیا اس سے کچھ دیر قبل ہی وہ والد سے بات کر رہے تھے اور انہیں بتا رہے تھے کہ وہ بچوں کے جھگڑے کی صلح کروادیں گے اور اسی دوران ہی باہر سے لڑنے جھگڑنے کی آوازیں آئیں تو وہ گھر سے نکل آئے
جیسے ہی وہ گھر سے باہر آئے تو انہوں نے اپنے ہی ایک دوست کو گولی لگنے کے بعد زخمی حالت میں دیکھا اور پھر اچانک ان کے ایک کزن کو بھی گولی لگی اور وہ بھی زخمی ہوگئے انہیں سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ گولیاں کس طرف سے اور کون چلا رہا ہے
غنی نے بتایا کہ بچوں کی لڑائی پر دوسری پارٹی کے لڑکوں نے طلبہ تنظیم انجمن طلبہ اسلام کا نام استعمال کرکے دیگر لڑکوں کو بھی اپنے ساتھ ملایا اور تقریبا 11 لڑکے ان کے محلے میں آئے اور ان کی فائرنگ سے پورا محلہ گونج اٹھا
ٹک ٹاک سٹار نے آبدیدہ ہوتے ہوئے بتایا کہ جب ان کے ایک دوست اور کزن کو گولی لگی اور حالات مزیدہ کشیدہ ہوگئے تو ان کے والد بھی گھر سے نکل آئے اور پھر ان پر بھی کسی نے گولی چلادی اور ان کے والد زندگی کی بازی ہار گئے