Baaghi TV

Category: شوبز

  • شوبز خواتین کے لیے سب سے محفوظ جگہ ہے،سید نور

    شوبز خواتین کے لیے سب سے محفوظ جگہ ہے،سید نور

    فلمساز سید نور نےکہا ہے کہ شوبز انڈسٹری میں کاسٹنگ کاؤچ کی باتیں بکواس ہے، ایسا کچھ بھی نہیں ہوتا۔

    سید نور نے حال ہی میں ایک انٹرویو دیا، جس میں انہوں نے اپنی 53 سالہ شوبز کی زندگی پر کھل کر بات کی پوڈکاسٹ کے دوران انہوں نے عندیہ دیا کہ اب وہ ڈراموں کی طرف بھی آئیں گے، جلد ہی وہ ڈرامے بنانا شروع کریں گےانہیں اپنے شوبز کیریئر پر فخر ہے، ان کی پہچان بطور فلمی شخصیت ہوتی ہےانہیں اس بات کا افسوس ہے کہ جس طرح کی وہ فلم بنانا چاہتے ہیں، ابھی تک انہوں نے وہ فلم نہیں بنائیم53 سال گزر جانے کے باوجود بھی انہوں نے اپنی مرضی کی فلم نہیں بنائی، تاہم وہ اس بات پر خوش ہیں کہ ان کی پہچان بطور فلمی شخصیت ہوتی ہے۔

    انہوں نے مختلف ہیروئنز سے متعلق بھی بات کی اور کہا کہ اگرچہ ریشم کو انہوں نے ہی فلموں میں متعارف کرایا لیکن وہ انہیں اپنا استاد تک نہیں مانتی، جس پر انہیں کوئی دکھ نہیں، اداکارہ ریما اپنی توجہ ڈانس پر کردیتی تھی، انہوں نے اچھے کرداروں کے بجائے ڈانس کو اپنا مستقبل بنایا،میرا کا غلط استعمال ہوا، انہیں غلط کردار دیے گئے، انہوں نے تسلیم کیا کہ انہوں نے بھی میرا کو کچھ غلط کردار دیے ماضی میں ریما خان نے ان کی فلم ’زیور‘ میں اچھا کام کیا، مذکورہ فلم کی طرح کی کہانی پر بعد میں ’میرے پاس تم ہو‘ جیسے ڈرامے بھی بنے۔

    واپڈا ملک کے آبی وسائل کے تحفظ کے لیے ہمہ وقت متحرک ہے،چیئرمین واپڈا

    پوڈکاسٹ کے دوران شوبز انڈسٹری خواتین کے لیے کتنی محفوظ جگہ ہے کہ سوال پر سید نور نے دعویٰ کیا کہ شوبز انڈسٹری خواتین کے لیے سب سے زیادہ محفوظ جگہ ہےشوبز جیسی عزت خواتین کو کسی دوسری انڈسٹری میں نہیں دی جاتی، شوبز میں خواتین کو ’میڈم اور بھابھی‘ جیسے ناموں سے پکارا جاتا ہے، ان کی عزت کی جاتی ہے۔

    ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے شوبز میں کاسٹنگ کاؤچ (کام کے بدلے جنسی تعلقات) جیسے ماحول کے الزامات کو بکواس قرار دیا اور کہا کہ شوبز انڈسٹری میں ایسا کچھ نہیں ہوتا انہوں نے اپنے 53 سالہ شوبز کیریئر میں ایسا کچھ نہیں دیکھا، یہ باتیں بکواس ہیں،ایسی باتیں بھارت سمیت دیگر ممالک میں ہوتی ہوں گی، وہاں کی فلمیں بھی ایسے موضوعات پر بنی ہوئی ہیں لیکن پاکستانی شوبز انڈسٹری میں ایسا کچھ نہیں ہوتا۔

    مختلف شہروں میں نئے ٹیکس قوانین کے خلاف تاجروں کی ہڑتال جاری

  • سنگیتا بجلانی کے فارم ہاؤس پر چوری کی واردات

    سنگیتا بجلانی کے فارم ہاؤس پر چوری کی واردات

    بالی وڈ کی سابقہ اداکارہ سنگیتا بجلانی کے فارم ہاؤس پر چوری ہوگئی۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق معروف اداکارہ و ماڈل سنگیتا بجلانی کو اپنے فارم ہاؤس پر چوری کی واردات کا علم اُس وقت ہوا جب انہوں نے کئی مہینوں بعد وہاں کا دورہ کیا،سنگیتا بجلانی جب اپنی دو گھریلو ملازماؤں کے ساتھ فارم ہاؤس پہنچیں تو مین گیٹ ٹوٹا ہوا تھا جبکہ کھڑکیوں کی گرلیں زبردستی نکالنے جانے کے شواہد ملے،اداکارہ کے فارم ہاؤس سے ٹیلی ویژن غائب تھا جبکہ دیگر املاک کو بھی کافی نقصان پہنچایا گیا چوروں نے گھریلو سامان بشمول بستر، ریفریجریٹر اور سی سی ٹی وی کیمروں کو چوری کرنے کی کوشش میں نقصان پہنچایا۔

    india

    سنگیتا بجلانی نے پونا پولیس کو شکایت میں بتایا کہ میں والد کی خرابی صحت کے باعث کئی مہینوں تک فارم ہاؤس نہیں آئی تھی، جمعے کو جب وہاں پہنچی تو ہر چیز تباہ تھی،پولیس نے معاملے کی تحقیقات کا آغاز کرتے ہوئے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج کا تجزیہ لینا شروع کر دیا،پولیس کا کہنا ہے کہ تحقیقات کے لیے ایک ٹیم کو موقع پر بھیجا گیا ہے جو نقصان اور چوری ہونے والے سامنا کا تخمینہ لگا رہی ہے۔

    اہل کشمیر کی آخر کتنی نسلیں قربانی دیں،مشعال ملک

    ارمغان نے مصطفیٰ کو گاڑی میں آگ لگاکر قتل کرنے کا اعتراف کرلیا

    بجلی ایک ماہ کیلئے سستی ہونے کا امکان

  • شاہ رخ خان اپنی نئی فلم ‘کنگ’ کی شوٹنگ کے دوران زخمی

    شاہ رخ خان اپنی نئی فلم ‘کنگ’ کی شوٹنگ کے دوران زخمی

    بالِی وڈ کے سپر اسٹار شاہ رخ خان اپنی نئی فلم ‘کنگ’ کی شوٹنگ کے دوران زخمی ہوگئے ہیں۔ بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق، شاہ رخ خان ممبئی میں فلم کی شوٹنگ کے دوران ایک حادثے کا شکار ہوئے جس کے نتیجے میں انہیں فوری طبی امداد کی ضرورت پیش آئی۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ زخمی ہونے کی حالت سنجیدہ ہے اور ان کا علاج بہتر سہولیات کے لیے امریکہ منتقل کیا جائے گا۔ فلم کی پروڈکشن ٹیم اور قریبی افراد نے شاہ رخ خان کی صحت کے بارے میں تفصیلات جاری نہیں کیں، تاہم ان کے مداح اور بالی وڈ کی دنیا تشویش میں مبتلا ہے۔

    ادھر، بالی وڈ کے دیگر اداکاروں اور فینز نے سوشل میڈیا پر شاہ رخ خان کی صحت یابی کے لیے نیک تمناؤں کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ شاہ رخ خان کی جلد صحتیابی کے لیے دعاؤں کا سلسلہ زور و شور سے جاری ہے۔

  • پنجاب آرٹس کونسل کے ڈرامے اور سہولت کار۔ تحریر: یوسف

    پنجاب آرٹس کونسل کے ڈرامے اور سہولت کار۔ تحریر: یوسف

    وزیر ثقافت عظمیٰ بخاری کے آنے کے بعد سے تھیٹر سے وابستہ لوگوں کو جھوٹی تعریفیں کرتا بھی دیکھا گیا۔ اس کی وجہ نا عوام سے پوشیدہ ہے نہ اداروں کی سطح پر فعال کرداروں کے لیے یہ کوئی ان ہونی بات ہے۔ وزیر صاحبہ نے سیاسی پوائنٹ سکرونگ کے لیے جو اقدامات کیے وہ آہستہ آہستہ ان اداروں کے گلے پڑ چکے ہیں جن کا تھیٹر کے حوالے سے کبھی کلیدی کردار رہا ہے۔ یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ وزیر صاحبہ کا سیاسی ایجنڈا جب سماجی عناصر کے ہاتھوں اپنی نوک پلک سنوارتا ہے تو اس کے اثرات شہ سرخیاں بن جاتے ہیں اور ویسے بھی ان کے پاس اطلاعات کا قلم دان بھی ہے ، ایسے میں اپنی بنائی ثقافت کی اطلاع کانوں میں رس گھولتی ہے۔ فیملی تھیٹر کی بحالی کا جو ایجنڈا عظمیٰ بخاری لے کر چلیں اس کا سپہ سالار پنجاب آرٹس کونسل کو بنایا گیا جس میں رانا تنویر ماجد اور مغیث بن عزیز پیش پیش رہے۔ یہ وہی مغیث بن عزیز ہے جن کی گریڈ 19 میں مشکوک ترقی کا شور صوبائی اسمبلیوں تک گیا ہے اور نہلے پر دھیلا یہ ہے کہ پارلیمانی سیکرٹری شازیہ رضوان نے مغیث بن عزیز اور اس کے پی پی ایس سی کے ذریعے گریڈ 17 میں بھرتی رفقاء کو ہر حوالے سے نشانہ عبرت بنانے کی کوشش کی جس کی نشاندہی خود ان کے دفتر سے جاری خطوط او ر مراسلے چیخ چیخ کر کر رہے ہیں۔ یہ تو 2011ء میں پی پی ایس سی سے بھرتی افسروں کی خوش قسمتی کہ وہ 2019 ء میں بھرتی افسروں کے سیاسی و مفاداتی و ادارتی وار سے تاحال محفوظ ہیں۔ بات کدھر تھی کدھر نکل آئی۔ خیر مغیث بن عزیز نے اپنی ڈرامہ ٹیم کے ہمراہ لاہور میں فحاشی اور عریانی کے تدارک کے لیے تھیٹر کی کامیاب مانیٹرنگ کو یقینی بنایا جس پر تھیٹر مافیا سر کے بل محترمہ وزیر کے روبرو آہ و بکا کرتے نظر آئے۔ یہی تو سیاسی زندگی ہوتی ہے کسی بھی سیاسی ورکر کی۔ مغیث بن عزیز اور تنویر ماجد جیسے سرکاری افسروں کا خون چوس کر اپنی سیاسی ساکھ بنانا کوئی اچنبے کی بات نہیں ۔ جی میڈم کے ورد نے انہیں دور دراز کے تبادلےاور او ایس ڈی شپ سے بچائے رکھا ہے مگر ایسا دکھائی دیتا ہے کہ افسروں کی جنس بھی بازار کی رونق بن چکی ہے، استعمال کیا اور چلتے بنے ،

    پنجاب کی بیوروکریسی کا کم و بیش حال بھی پنجاب آرٹس کونسل کے افسران جیسا ہے۔ اب جب بادی النظر میں فتح کا علم سیاسی وزرا کے ہاتھوں میں ہے وہیں ان ہاتھوں کو مضبوط کرنے والوں کے اپنے پاؤں کے نشان گم ہو چکے ہیں اور انہی حالات میں محکمہ اطلاعات و ثقافت پر نئے آسیب وارد ہو چکے ہیں ورنہ آج تک تھیٹر ایس او پیز جاری ہو چکے ہوتے۔ یہ وہی تھیٹر ایس او پیز ہیں جن کی وجہ سے لگ بھگ ایک درجن عدالتی فیصلوں میں پنجاب آرٹس کونسل کو خفگی اٹھانی پڑی۔ نو آبادیاتی ڈرامہ ایکٹ کی بھاگ دوڑ اطلاعات و ثقافت کے ہاتھ آنے کے بعد ایک سال سے زیادہ کا عرصہ گزرنے کے باوجود ایس او پیز کا نہ ہونا خود محکمہ کی ساکھ پر سوالیہ نشان ہے۔ جہاں آرٹس کونسل کے ڈویژنل ڈائریکٹر عدالتوں میں جھوٹ بولتے پائے گئے یا عدالتوں کے آگے کسی بھی سوال پر ہمیشہ کے لیے گم سم ہو گئے۔ ان عناصر میں کئی ایک یقینی طور پر اسی پرانی روش پر تحفے تحائف کا تبادلہ کرتے ہوں گے مگر یہ سب کچھ محکمے کے بڑوں کی غفلت کا ہی شاخسانہ ہے۔ ضلع مظفر گڑھ کی حدود میں موجود خان محل تھیٹر علی پور درد سر بن چکا ہے۔ متعلقہ آرٹس کونسل کے حکام صمٌ ّبکمٌّ ہو چکے ہیں۔ اپنی نااہلی چھپانے کے لیے عدالتی فیصلوں کی غلط تشریح کر کے اس کے پیچھے چھپ رہے ہیں۔ اسی طرح صادق آباد کی ضلعی انتظامیہ نے بہاولپور آرٹس کونسل سے خلاف ورزی کرنے والے تھیٹروں کے خلاف کارروائی سے معذرت کر لی ہے۔کروڑوں روپے کی لاگت سے تیار ہونے والا ای مانیٹرنگ کا نظام فیل ہو چکا ہے۔ عدالتی فیصلوں اور سیاسی برجوں کی بے توجہی نے متعلقہ افسران کو بے دلی میں مبتلا کر دیا ہے جہاں اخباروں میں آئے روز کامیڈیا ٹرائل ان کا مقدر بن چکا ہے تو دوسری طرف ضلعی انتظامیہ اپنے اختیارات کم ہونے پر منافقت سے کام لے رہی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پنجاب آرٹس کونسل کے افسران کی ٹریننگ کی جائےاور اس کے ساتھ ساتھ محکمہ کی ذمہ داریوں کو شفاف رکھنےاور محکمے کی ساکھ کو بچانے کے لیے افسروں کے آڈٹ کرنے کی بھی ضرورت ہے ورنہ پنجاب تھیٹر صادق آباد، نور محل رحیم یار خان، کراؤن تھیٹر چشتیاں، راوی تھیٹر بہاول نگر اور شیخوپورہ ، صنوبر تھیٹر دریا خان، خان محل تھیٹر علی پور، کراؤن تھیٹر دوکوٹہ، ریکس تھیٹر ملتان کی وجہ سے سرکاری خزانے کو نقصان تو پہنچے گا ساتھ میں ریاستی رٹ اور مغیث بن عزیز جیسے ذمہ دار افسران کی محنت پر بھی پانی پھر جائے گا۔ خدارا اداروں میں سیاسی مداخلت کم کی جائے ورنہ تبادلوں کا خوف اور جی حضوری کا کلچر پاکستان خصو صاً پنجاب کو تباہی کے دھانے پر لے آئے گا۔ جہاں ترقیاتی سکیموں کا شفاف آڈٹ وقت کی ضرورت ہے وہیں تھیٹر مافیا کو محکمے میں موجود مال روڈ (بزم اقبال) کی بلڈنگ میں واقع ’’منزلِ مقصود‘‘ راستہ دیتی رہے گی جہاں آج بھی ہمدان اور بخارا سے آئے زیرک افراد کی آنکھوں میں بھی دھول جھونکی جا رہی ہے خدا نہ کرے کہ وہ اس ساری واردات میں سہولت کار نکلیں؟

    پنجاب میں تھیٹر بحران شدت اختیار کر گیا، محکمہ ثقافت اور ضلعی انتظامیہ آمنے سامنے
    پنجاب میں تھیٹر کی دنیا اس وقت شدید بدانتظامی، سیاسی مداخلت اور بدعنوانی کی زد میں ہے۔ جہاں حکومت ثقافتی سرگرمیوں کے فروغ کی دعوے دار ہے، وہیں اسٹیج تھیٹرز انتظامی بدنظمی، غیر قانونی تجاوزات اور سیاسی اثر و رسوخ کا شکار ہوتے جا رہے ہیں۔

    گزشتہ دنوں وزیرِ ثقافت نے ایک غیر رسمی تقریب میں تھیٹر کی بحالی اور خاندانی شرکت کی ضرورت پر زور دیا۔ اس موقع پر معروف فنکار قیصر پیا سمیت دیگر سینئر فنکار موجود تھے۔ وزیر موصوفہ کے بیان کے بعد پنجاب کے تاریخی اوپن ایئر تھیٹر کی بحالی کی خبر سامنے آئی، جسے ماضی میں صادقین، امان اللہ اور دیگر بڑے فنکاروں کی میزبانی کا شرف حاصل رہا ہے۔یہ مقام طویل عرصے سے بلدیاتی غفلت کا شکار رہا، یہاں تک کہ اسے آوارہ کتوں نے اپنا مسکن بنا لیا تھا۔ اب حکام کا دعویٰ ہے کہ صفائی اور بحالی کا کام مکمل کر لیا گیا ہے۔

    اداکارہ عفت عمر کو حال ہی میں محکمہ ثقافت میں بطور مشیر تعینات کیا گیا ہے، جسے کئی حلقوں نے خوش آئند قدم قرار دیا ہے۔ تاہم، ساتھ ہی پارکس اینڈ ہارٹیکلچر اتھارٹی کی اوپن ایئر تھیٹر پر بڑھتی ہوئی گرفت تشویش کا باعث بن چکی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ تھیٹر کی موجودہ انتظامیہ نہ صرف مالی طور پر بدحال ہے بلکہ اس کی حیثیت ایسے افراد جیسی ہو چکی ہے جو خود اپنا ہی گھر گرا کر اب اس کی حفاظت کے لیے امداد مانگ رہے ہیں۔ اندیشے ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ کہیں یہ تاریخی ورثہ بھی پی ایچ اے کے حوالے نہ کر دیا جائے۔

    پنجاب کے مختلف اضلاع میں تھیٹروں کی صورتحال مزید تشویشناک ہے۔ لاہور کے سوا دیگر اضلاع میں ضلعی افسران اور بعض پارلیمانی عہدیداران کی ملی بھگت سے نہ صرف شو کے اوقات کی خلاف ورزی ہو رہی ہے بلکہ تھیٹروں سے غیر قانونی وصولیوں کی بھی اطلاعات ہیں۔شیخوپورہ میں ایک پارلیمانی دفتر سے منسلک اہلکار پر روزانہ کی بنیاد پر تھیٹروں سے رقوم لینے اور پنجاب آرٹس کونسل کی اسکرپٹ سکروٹنی فیس کے علاوہ اضافی چارجز وصول کرنے کا الزام ہے۔ جب ضلعی افسر نے کارروائی کرتے ہوئے اسے ہٹانے کا حکم دیا تو مذکورہ پارلیمانی خاتون نمائندہ فوری طور پر شیخوپورہ پہنچ گئیں اور مالکان سے مذاکرات شروع کر دیے۔ذرائع کے مطابق یہ اہلکار اب بھی اپنے عہدے پر فائز ہے اور اسے سیاسی سرپرستی حاصل ہے۔

    پنجاب آرٹس کونسل پر بھی کرپشن اور اقربا پروری کے سنگین الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔ اخبار میں شائع رپورٹس کے مطابق کئی بار خلاف ضابطہ طور پر تھیٹرز کو بند کیا گیا، جب کہ قانون کے مطابق صرف محکمہ اطلاعات و ثقافت کو یہ اختیار حاصل ہے۔کئی تھیٹرز اس وقت بغیر تجدید شدہ لائسنس کے چل رہے ہیں، کیونکہ ان کا انتظامی کنٹرول ہوم ڈیپارٹمنٹ سے محکمہ ثقافت کو منتقل کیا جا چکا ہے۔ اس دوران ضلعی انتظامیہ اور آرٹس کونسل، دونوں ادارے بیک وقت اختیارات استعمال کرتے ہوئے قانون کی خلاف ورزی کے مرتکب ہو رہے ہیں۔

    راولپنڈی کے موتی محل تھیٹر میں سات غیرقانونی اسٹیج ڈرامے اس وقت منظرِ عام پر آئے، جن کے خلاف نہ کوئی نوٹس جاری ہوا اور نہ ہی ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی گئی۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا قانون صرف عام شہریوں کے لیے ہے؟ یا بیوروکریسی اور ان کے عزیز و اقارب ہر قسم کی احتسابی کارروائی سے محفوظ ہیں؟

    ثقافتی ماہرین اور تھیٹر سے وابستہ شخصیات کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں تھیٹرز محض تجارتی ادارے بن کر رہ گئے ہیں۔ سیاسی پشت پناہی کی بنا پر اگر کوئی ناقد بنے تو جھوٹی رپورٹس تیار کی جاتی ہیں، اور اگر کسی کو بچانا ہو تو قانون کی آنکھیں بند کر دی جاتی ہیں۔اب سوال یہ ہے کہ وزیرِ ثقافت کے وعدے اور دعوے صرف سیاسی بیانات تھے یا ان میں کوئی عملی قدم بھی شامل ہے؟ محکمہ ثقافت میں ایماندار افسران کی تعیناتی کب ہو گی؟ کیا پنجاب آرٹس کونسل واقعی اصلاحات کا منتظر ہے یا بدعنوان عناصر کا مرکز بن چکا ہے؟

    ڈرامہ فیسٹیول کی منسوخی پر فنکاروں کا احتجاج، سیاسی مداخلت کا الزام
    راولپنڈی پریس کلب کے باہر مقامی فنکاروں نے ایک پُرامن احتجاج کیا، جس میں اچانک منسوخ کیے گئے ڈرامہ فیسٹیول کے خلاف شدید ناراضی کا اظہار کیا گیا۔ فنکاروں نے الزام عائد کیا کہ فیسٹیول کی منسوخی سیاسی شخصیات کی ثقافتی امور میں مداخلت کا نتیجہ ہے اور یہ فنکارانہ اظہار کی آزادی کو دبانے کے مترادف ہے۔
    احتجاج کا ہدف پنجاب کی پارلیمانی سیکرٹری برائے ثقافت شازیہ رضوان تھیں۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ راولپنڈی آرٹس کونسل کے معاملات میں سیاسی مداخلت فوری طور پر ختم کی جائے۔سینئر فنکارہ اسما بٹ نے "دی رپورٹرز” سے گفتگو کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ ڈرامہ فیسٹیول کی تیاریاں دو ماہ سے جاری تھیں، اور اس کی نگرانی کے لیے سینئر فنکاروں اور تھیٹر ماہرین پر مشتمل ایک اسکرونٹی کمیٹی بھی تشکیل دی گئی تھی۔ کمیٹی کی منظوری کے بعد باقاعدہ شیڈول جاری کیا گیا تھا۔اسما بٹ نے بتایا کہ ان کا ڈرامہ ’’خالی اسٹیج‘‘ 2 جون کو راولپنڈی آرٹس کونسل میں پیش کیا جانا تھا، لیکن ایک دن پہلے آرٹس کونسل کے حکام نے انہیں مطلع کیا کہ شازیہ رضوان نے وزیرِ اطلاعات سے شکایت کی ہے اور ان کے ڈرامے کو فہرست سے نکالنے کا مطالبہ کیا ہے۔انہوں نے مزید بتایا: ’’مجھے کہا گیا کہ فیس بک پر یہ پوسٹ کردوں کہ میں بیمار ہوں اور پرفارم نہیں کر سکتی۔ میں نے انکار کر دیا اور واضح کیا کہ میں اپنی ٹیم کے ساتھ مقررہ وقت پر ڈرامہ پیش کروں گی۔ اگر روکا گیا تو میں معاملہ عوام کے سامنے لاؤں گی۔‘‘اسما بٹ کے مطابق، اس "شرمندگی” سے بچنے کے لیے آرٹس کونسل نے پورا ڈرامہ فیسٹیول ہی منسوخ کر دیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس تنازعے کے بعد راولپنڈی آرٹس کونسل کے ڈائریکٹر سجاد حسین کا تبادلہ بھی کر دیا گیا ہے۔اسما بٹ نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے واقعے کا نوٹس لینے اور ثقافتی اداروں کو سیاسی دباؤ سے بچانے کی اپیل کی ہے۔

  • بہن حمیرا کو سوچی سمجھی سازش کے تحت قتل کیا گیا،بھائی نوید کا الزام

    بہن حمیرا کو سوچی سمجھی سازش کے تحت قتل کیا گیا،بھائی نوید کا الزام

    اداکارہ حمیرا اصغر کے بھائی نوید اصغر نے انکشاف کیا ہے کہ ان کی بہن کو سوچی سمجھی سازش کے تحت قتل کیا گیا ہے۔

    معروف ماڈل اور اداکارہ حمیرا اصغر کی پراسرار موت نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا ہے، اُن کی لاش 9 ماہ بعد کراچی کے فلیٹ سے برآمد ہوئی جس کے بعد عوام اور شوبز حلقوں کی جانب سے انصاف کے مطالبے شدت اختیار کر گئے ہیں،حال ہی میں حمیرا اصغر کے بھائی نوید اصغر نے ایک انٹرویو دیتے ہوئے واقعے پر شدید شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے، انہوں نے کہا کہ اُن کی بہن کی موت حادثاتی نہیں بلکہ ایک منصوبہ بندی کے تحت کی گئی واردات ہے ، پولیس افسران نے مجھے بتایا ہے کہ جب فلیٹ کا دروازہ توڑا گیا تو پچھلا دروازہ پہلے سے کھلا ہوا تھا جبکہ چھت کی کھڑکی بھی مسلسل کھلی رہی جس کی وجہ سے بدبو نہیں پھیلی، یہ سب ایک منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا قتل لگتا ہے اور ہمیں 90 فیصد یقین ہے کہ یہ قتل ہے، میرے خیال میں اس واقعے کی مکمل اور شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں، مکان مالک کا مکمل ڈیٹا، اس کا کال ڈیٹیل ریکارڈ حاصل کیا جائے اور یہ بھی معلوم کیا جائے کہ وہ کتنے عرصے سے کراچی میں رہ رہا ہے اور کہیں اس کا لاہور سے بھی کوئی تعلق تو نہیں۔

    بھائی نے مطالبہ کیا کہ حمیرا کی ٹریول ہسٹری کی بھی مکمل چھان بین کی جائے، یہ دیکھنا ضروری ہے کہ وہ تنہا سفر کرتی تھیں یا کسی کے ساتھ، کیونکہ اس پہلو سے بھی کئی سوالات جنم لیتے ہیں، حمیرا کے آخری پروجیکٹس میں شامل ساتھی فنکار و عملہ بھی مکمل تعاون نہیں کر رہا، مجھے سمجھ نہیں آتی کہ ان کے ساتھی کھل کر بات کیوں نہیں کر رہے؟ کیا وہ کسی سے ڈر رہے ہیں؟ اگر وہ بے گناہ ہیں تو تعاون کریں تاکہ حقیقت سامنے آ سکے

  • اداکارہ حمیرا اصغر کیس: بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات سامنے، موبائل اور زیور غائب

    اداکارہ حمیرا اصغر کیس: بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات سامنے، موبائل اور زیور غائب

    کراچی کے علاقے ڈیفنس میں فلیٹ سے ملنے والی ماڈل و اداکارہ حمیرا اصغر کی لاش کے کیس میں مزید اہم انکشافات سامنے آگئے ہیں، تفتیشی حکام نے اداکارہ کے بینک اکاؤنٹ اور دیگر شواہد کی جانچ شروع کر دی ہے۔

    ذرائع کے مطابق حمیرا اصغر کے زیر استعمال نجی بینک (ایچ بی ایل) کا کرنٹ اکاؤنٹ تھا جس میں 3 لاکھ 98 ہزار روپے سے زائد کی رقم موجود ہے۔تفتیشی افسران کا کہنا ہے کہ وہ اے ٹی ایم سے کبھی 25 ہزار اور کبھی 50 ہزار روپے نکلواتی تھیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ شدید مالی بحران میں نہیں تھیں۔اداکارہ کے دیگر بینک اکاؤنٹس کی معلومات کے لیے متعلقہ اداروں کو خط ارسال کر دیا گیا ہے۔

    تحقیقات کے دوران مزید انکشافات کے مطابق فلیٹ سے کوئی زیورات یا نقدی برآمد نہیں ہوئی، جو تفتیشی حکام کے مطابق ایک اہم نکتہ ہے۔حمیرا کے زیر استعمال ایپل موبائل فون بھی غائب ہے، تاہم یہ تصدیق نہیں ہو سکی کہ وہ فون ان کے استعمال میں تھا یا نہیں۔کیس میں مختلف زاویوں سے تفتیش جاری ہے اور تحقیقاتی رپورٹ جلد اعلیٰ حکام کو پیش کی جائے گی۔

    یاد رہے کہ اداکارہ حمیرا اصغر کی لاش 8 جولائی کو کراچی کے ڈیفنس میں واقع ان کے کرائے کے فلیٹ سے برآمد ہوئی تھی، جہاں وہ 2018 سے مقیم تھیں۔ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق ان کی موت کو تقریباً 10 ماہ گزر چکے تھے، اور اکتوبر کے پہلے ہفتے میں موت واقع ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

    اسحاق ڈار کی افغان قیادت سے اہم ملاقاتیں، سیکیورٹی و بارڈر مینجمنٹ پر زور

    سانحہ سوات: سیالکوٹ کے لاپتہ بچے عبداللّٰہ کی لاش برآمد

    ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں 7 کروڑ 16 لاکھ ڈالر کی کمی

  • حمیرا اصغر کا چوکیدار،گھریلو ملازمہ،بلڈنگ انتظامیہ تفتیش میں شامل

    حمیرا اصغر کا چوکیدار،گھریلو ملازمہ،بلڈنگ انتظامیہ تفتیش میں شامل

    کراچی کے علاقے اتحاد کمرشل میں واقع فلیٹ سے اداکارہ حمیرا اصغر کی مردہ حالت میں لاش ملنے کے بعد پولیس کی تفتیش تاحال جاری ہے۔ تفتیشی حکام نے اہم انکشافات کیے ہیں جن سے معاملے کی نوعیت واضح ہونے لگی ہے۔

    تفتیشی ذرائع کا کہنا ہے کہ اداکارہ کے فلیٹ کی چابیاں تحویل میں لے لی گئی ہیں جبکہ فلیٹ کے مرکزی دروازے کی تین چابیاں اندر سے بھی مل چکی ہیں، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ دروازہ اندر سے بند تھا۔ اس حوالے سے بلڈنگ انتظامیہ، چوکیدار اور حمیرا اصغر کی سابقہ گھریلو ملازمہ کو بھی شامل تفتیش کیا گیا ہے۔ تفتیشی عملے نے ان افراد سے مفصل پوچھ گچھ کی ہے۔تفتیش کے دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ مذکورہ افراد اکتوبر 2024 تک اداکارہ سے رابطے میں تھے، جبکہ اداکارہ کی سابقہ ملازمہ نے اسی سال اپنی ملازمت چھوڑ دی تھی۔ مزید برآں، حکام نے بتایا کہ حمیرا اصغر مالی مشکلات کا شکار تھیں اور انہوں نے ستمبر 2024 میں آخری کمرشل شوٹ مکمل کیا تھا۔ اکتوبر 2024 تک وہ کام سے متعلق دیگر افراد کے ساتھ رابطے میں رہیں۔

    دوسری جانب، تفتیشی حکام نے بتایا کہ فلیٹ کے باہر اور ارد گرد سی سی ٹی وی کیمروں کا فقدان ہے، جس کی وجہ سے کسی بھی مشکوک سرگرمی کی ویڈیو ریکارڈنگ دستیاب نہیں ہے، جو تحقیقات میں رکاوٹ کا باعث بن سکتی ہے۔

    واضح رہے کہ 8 جولائی کو اداکارہ کی لاش اس وقت برآمد ہوئی جب کرائے کی عدم ادائیگی کی بنا پر مالک مکان عدالت کے حکم پر عدالتی بیلف کے ہمراہ فلیٹ پر پہنچا۔ فلیٹ کا دروازہ نہ کھلنے پر دروازہ توڑا گیا، جہاں اداکارہ کی مردہ حالت میں موجود لاش ملی۔پولیس نے واقعے کو گہری نظر سے دیکھتے ہوئے مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر رکھی ہے تاکہ موت کی اصل وجہ معلوم کی جا سکے اور اگر کوئی جرم ہوا ہے تو اس کا سراغ لگایا جا سکے۔

    اداکارہ حمیرا اصغر کی اچانک موت نے نہ صرف ان کے مداحوں کو صدمے میں مبتلا کیا ہے بلکہ شوبز حلقوں میں بھی گہری تشویش پیدا کر دی ہے۔ تفتیشی ٹیم جلد ہی مزید نتائج سامنے لانے کی کوشش کر رہی ہے۔

  • میری بہن کینسر میں مبتلا ، برطانیہ کا ویزا جاری کریں،اداکارہ میرا کی اپیل

    میری بہن کینسر میں مبتلا ، برطانیہ کا ویزا جاری کریں،اداکارہ میرا کی اپیل

    پاکستانی شوبز انڈسٹری کی معروف اور سینئر اداکارہ میرا نے برطانوی حکومت سے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر اپیل کی ہے کہ اُنہیں برطانیہ کا ویزا جاری کیا جائے تاکہ وہ لندن میں زیرِ علاج اپنی بہن کی عیادت کے لیے جا سکیں۔

    اداکارہ میرا نے اپنے ویڈیو پیغام میں برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ سے براہ راست اپیل کرتے ہوئے کہا کہ’’میری بہن لندن میں کینسر جیسے موذی مرض سے لڑ رہی ہے۔ میری فیملی اور گھر بھی وہیں ہے، میں برسوں سے ویزے کی وجہ سے لندن نہیں جا سکی۔ میری درخواست ہے کہ براہ کرم میریٹ پر غور کرتے ہوئے مجھے ویزا جاری کیا جائے۔‘‘اداکارہ نے بتایا کہ وہ اپنی بہن سے ملنے کے لیے بے چین ہیں اور اُن کی بیماری کی تمام میڈیکل رپورٹس ویزا درخواست کے ساتھ جمع کروائی جا چکی ہیں۔ میرا کا کہنا تھا کہ یہ ایک انسانی معاملہ ہے، جس پر خصوصی توجہ دی جائے۔

    واضح رہے کہ فروری 2025 میں اداکارہ کی والدہ شفقت زہرہ نے میڈیا کو بتایا تھا کہ برطانوی امیگریشن حکام نے ماضی میں میرا کو انگلش زبان سے ناواقفیت کی بنیاد پر برطانیہ میں داخل ہونے سے روک دیا تھا، اور اُن پر 10 سال کی پابندی عائد کر دی گئی تھی، جو اب ختم ہو چکی ہے۔

    اداکارہ کی والدہ کا کہنا تھا ’’میرا کو صرف اس لیے روک دیا گیا کیونکہ وہ انگلش میں مناسب طور پر بات نہیں کر سکیں، لیکن اب وہ بہتر انداز میں بولتی ہیں اور ویزے کی سابقہ پابندی کا دورانیہ مکمل ہو چکا ہے۔‘‘

    اداکارہ میرا کی اس ویڈیو اپیل کے بعد سوشل میڈیا پر اُن کے مداحوں کی جانب سے بھرپور حمایت دیکھنے میں آ رہی ہے، جن کا کہنا ہے کہ انسانی بنیادوں پر میرا کو اپنی بیمار بہن سے ملنے کا موقع ملنا چاہیے۔

  • حمیرا اصغر مالی مشکلات کا شکار تھیں،موبائل فون تک بھی تحقیقاتی ٹیم کی رسائی

    حمیرا اصغر مالی مشکلات کا شکار تھیں،موبائل فون تک بھی تحقیقاتی ٹیم کی رسائی

    اداکارہ حمیرا اصغر کی موت سے متعلق جاری تحقیقات میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ تحقیقاتی ٹیم نے اداکارہ کے فلیٹ سے تین موبائل فونز اور ایک ٹیبلٹ قبضے میں لے کر ان سے حاصل مواد کا تفصیلی جائزہ لیا ہے، جس سے کئی راز کھل کر سامنے آئے ہیں۔

    تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ حمیرا اصغر مالی مشکلات کا شکار تھیں اور ان کی موت بھی اسی بحران کے دوران واقع ہوئی۔ تفتیشی حکام کے مطابق اداکارہ کا آخری فون استعمال 7 اکتوبر 2024 کو شام 5 بجے تک ہوا، اور اسی دن انہوں نے کل 14 افراد سے رابطہ کیا، تاہم اس کے بعد ان کا کسی سے رابطہ منقطع ہو گیا۔تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ اس سے واضح ہوتا ہے کہ اداکارہ کی موت 7 اکتوبر 2024 کو ہوئی ہوگی۔ علاوہ ازیں، ان کے فلیٹ سے ان کی ڈائری اور دیگر اہم دستاویزات بھی برآمد ہوئی ہیں جو تحقیقات میں معاون ثابت ہو رہی ہیں۔اداکارہ کے نام پر تین سم کارڈز تھے جو تمام موبائل فونز میں لگی ہوئی تھیں۔ تحقیقاتی ٹیم نے بتایا کہ حمیرا اصغر کے دو فونز پر کوئی پاسورڈ موجود نہیں تھا، جس سے ان کے نجی معاملات تک رسائی آسان ہو گئی ہے۔

    تحقیقات کے دوران حمیرا اصغر کے فلیٹ سے یوٹیلیٹی بلز اور مئی 2024 تک کے کرائے کی رسیدیں بھی برآمد ہوئی ہیں۔ مزید یہ کہ پولیس کو فلیٹ سے کپڑے دھونے کے آثار بھی ملے ہیں، جو کہ ان کی موت سے کچھ عرصہ پہلے کے ہو سکتے ہیں۔لاش جس کمرے سے برآمد ہوئی، اس کے ساتھ والے واش روم کے ٹب میں کپڑے موجود تھے جبکہ اس کمرے کی بالکونی کا دروازہ کھلا ہوا تھا۔ تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ لاش بیڈروم کے ساتھ والے کمرے میں پڑی تھی، اور فلیٹ کا مرکزی دروازہ اندر سے ڈبل لاک تھا۔

    حمیرا اصغر کی موت کا امکان 7 اکتوبر 2024 کو ہے، لاش کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ لاش ڈی کمپوز کے آخری مراحل میں تھی، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ موت تقریباً 8 سے 10 ماہ پرانی ہے۔ اب میڈیکل اور کیمیکل ایگزامینیشن کے نتائج سے موت کی حتمی وجہ معلوم کی جائے گی۔

    اداکارہ کی لاش 8 جولائی کو اتحاد کمرشل کے ایک فلیٹ سے برآمد ہوئی، جب مالک مکان کرائے کی عدم ادائیگی پر عدالت میں شکایت لے کر عدالتی بیلف کے ذریعے فلیٹ کا دروازہ توڑ کر اندر گیا۔ دروازہ نہ کھولنے پر جب فلیٹ کا معائنہ کیا گیا تو اداکارہ کی لاش ملی، جس نے پورے معاملے کو منظر عام پر لا دیا۔

  • اداکارہ حمیرا اصغر کے کیس کی تحقیقات میں اہم پیشرفت

    اداکارہ حمیرا اصغر کے کیس کی تحقیقات میں اہم پیشرفت

    کراچی: ڈیفنس کے فلیٹ میں مردہ پائی جانے والی اداکارہ حمیرا اصغر کے کیس کی تحقیقات میں اہم پیشرفت ہوئی ہے۔

    تفتیشی حکام کا دعویٰ ہے کہ اداکارہ کی موت 7 اکتوبر2024 کو ہوئی تھی اور حمیرا اصغر نے اپنا فون آخری بار 7 اکتوبر کو شام 5 بجے تک استعمال کیا حمیرا نے 7 اکتوبر 2024کو 14 افراد سے موبائل پر رابطہ کیا، ان کے فلیٹ سے 3 موبائل فونز، ٹیبلیٹ، ڈائری اور ڈاکیو مینٹس ملے ہیں،اداکارہ کےنام پر 3 سمز تھیں اور تینوں فون میں لگی ہوئی تھیں جب کہ حمیرا اصغر کے 2 موبائل فونز پر کوئی پاسورڈ نہیں تھا، ان کے تینوں موبائل فونز میں 2 ہزار سے زائد نمبرز ہیں جب کہ اداکارہ کے 75 نمبروں سے مسلسل رابطے کے شواہد بھی ملے ہیں۔

    واضح رہے کہ حمیرا اصغر کی لاش 8 جولائی کو اتحاد کمرشل کے ایک فلیٹ سے اس وقت ملی جب کرائے کی عدم ادائیگی پر مالک مکان کے عدالت پہنچنے پر عدالتی بیلف ان کے گھر پہنچا اور فلیٹ کا دروازہ نہ کھولنے پر دروازہ توڑا گیا تو اداکارہ کی لاش برآمد ہوئی لاش کے پوسٹ مارٹم کی ابتدائی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ لاش ڈی کمپوز کے آخری اسٹیج پر ہے جسے دیکھ کر اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اداکارہ کی موت تقریباً 8 ماہ پرانی ہے۔