Baaghi TV

Category: شوبز

  • کرینہ کے ساتھ تعلقات کے ابتدائی دنوں میں عدم تحفظ اور حسد کا سامنا رہا،سیف

    کرینہ کے ساتھ تعلقات کے ابتدائی دنوں میں عدم تحفظ اور حسد کا سامنا رہا،سیف

    بالی وڈ کے معروف اداکار سیف علی خان نے حال ہی میں ایک انٹرویو کے دوران اپنی ذاتی زندگی سے متعلق ایک اہم اور کھلا اعتراف کرتے ہوئے بتایا ہے کہ اہلیہ کرینہ کپور کے ساتھ تعلقات کے ابتدائی دنوں میں وہ عدم تحفظ اور حسد جیسے جذبات کا شکار رہے۔

    سیف علی خان کا کہنا تھا کہ اس دور میں ان کے لیے اس صورتحال کو سمجھنا آسان نہیں تھا، خاص طور پر اس وجہ سے کہ کرینہ کپور اُس وقت اپنے کیریئر کے عروج پر تھیں۔سیف علی خان نے بتایا کہ کرینہ کپور کے ساتھ ڈیٹنگ ان کے لیے ایک بالکل نیا اور مختلف تجربہ تھا۔ ماضی کے تعلقات کے برعکس کرینہ نہ صرف بالی وڈ کی سب سے بڑی اسٹارز میں شمار ہوتی تھیں بلکہ وہ مسلسل فلموں میں مصروف رہتی تھیں، جہاں انہیں مختلف اداکاروں کے ساتھ کام کرنا پڑتا تھا۔ کامیابی، شہرت اور عوامی توجہ کا یہ دباؤ سیف کے لیے ابتدا میں خاصا مشکل ثابت ہوا۔

    اداکار نے اعتراف کیا کہ جب کرینہ دوسرے مرد اداکاروں کے ساتھ فلموں میں کام کرتی تھیں تو وہ اندرونی طور پر حسد اور عدم تحفظ محسوس کرتے تھے۔ سیف علی خان کے مطابق، اُس وقت یہ جذبات ان کے لیے الجھن کا باعث بنے رہے کیونکہ وہ اس قسم کے تعلقات کے عادی نہیں تھے، جہاں ان کی ساتھی زندگی کے ہر پہلو میں اس قدر نمایاں اور عوامی شخصیت ہو۔سیف علی خان نے انکشاف کیا کہ ایک موقع پر انہیں مشورہ دیا گیا کہ وہ اس صورتحال کو اس طرح دیکھیں جیسے وہ خود کسی ہیرو کو ڈیٹ کر رہے ہوں۔ ان کے بقول، یہ جملہ ان کے ذہن میں نقش ہو گیا۔ انہوں نے کہا کہ اس سوچ کے ساتھ انہیں یہ سمجھنے میں مدد ملی کہ فلمی دنیا میں کام کے دوران حریف اداکار بھی دراصل دوست بن جاتے ہیں، اور یہ ایک پیشہ ورانہ تقاضا ہے۔

    انٹرویو کے دوران ایک سوال کے جواب میں سیف علی خان نے مزید کہا کہ اُس وقت ان تمام جذبات سے نمٹنے کے لیے پختگی، اعتماد اور وقت کی ضرورت تھی۔ ان کے مطابق، یہ تمام خوبیاں صرف سچی وابستگی، باہمی سمجھ بوجھ اور مضبوط رشتے کے ذریعے ہی پروان چڑھتی ہیں، جو وقت کے ساتھ ساتھ مضبوط ہوتا جاتا ہے۔

    واضح رہے کہ کرینہ کپور اور سیف علی خان نے 2012 میں شادی کی تھی۔ آج یہ جوڑا بالی وڈ کے مقبول ترین اور مضبوط رشتوں میں شمار ہوتا ہے۔ ان کے دو بیٹے ہیں، جن میں بڑے بیٹے تیمور علی خان اور چھوٹے بیٹے جہانگیر علی خان شامل ہیں۔

  • بھارتی اداکارہ نے پہلگام حملے کو بھارت کی ہی سازش قرار دیدیا

    بھارتی اداکارہ نے پہلگام حملے کو بھارت کی ہی سازش قرار دیدیا

    نئی دہلی: بھارتی اداکارہ جیا بھٹا چاریہ نے پہلگام حملے کو بھارت کی ہی سازش قرار دے دیا۔

    غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق مشہور بھارتی ٹی وی سیریل “کیونکہ ساس بھی کبھی بہو تھی” میں اداکاری کے باعث شہرت حاصل کرنے والی اداکارہ جیا بھٹاچاریہ نے پہلگام حملے کو بھارت کی ہی سازش قرار دیتے ہوئے بھارتی حکومت اور سپریم کورٹ پر سخت تنقید کی۔

    جیا بھٹا چاریہ نے کہا کہ اگر اتنی ہی سیکیورٹی فراہم کی جاتی جتنی دہلی میں آوارہ کتوں کے حق میں ہونے والے احتجاج کے دوران کی گئی تو لوگوں کو نام پوچھ کر قتل نہ کیا جاتااداکارہ نے سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ آیا یہ واقعہ محض غفلت تھا یا کسی منظم سازش کا حصہ؟ اور حکومت سے اس پر جواب طلب کیا،کہا کہ سپریم کورٹ کے کندھے پر بندوق رکھ کر شکار کیا جا رہا ہے عوام کو بتایا جائے کہ حکومت دراصل کس کے ساتھ کاروبار کر رہی ہے۔

    بھارتی حکومت یا متعلقہ اداروں کی جانب سے تاحال اداکارہ کے بیان پر کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا۔

  • بھارتی اداکار انوج سچ دیوا پر پارکنگ تنازع کے دوران حملہ

    بھارتی اداکار انوج سچ دیوا پر پارکنگ تنازع کے دوران حملہ

    ممبئی: بھارتی ڈرامہ انڈسٹری کے معروف اداکار انوج سچ دیوا اور ان کے پالتو کتے کے ساتھ پارکنگ تنازع کے دوران ایک شخص نے حملہ کر دیا ہے۔ یہ واقعہ بھارتی سوسائٹی میں پیش آیا، جس کی تصدیق اداکار نے خود انسٹاگرام پر ایک ویڈیو شیئر کر کے کی۔

    انسٹاگرام پر پوسٹ کی گئی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک شخص غیر اخلاقی زبان استعمال کرتے ہوئے کہہ رہا ہے: "تو مجھے کتے سے کٹوائے گا؟” ویڈیو کے پس منظر میں کتے کے بھونکنے کی آوازیں بھی مسلسل سنائی دے رہی ہیں۔ویڈیو میں یہ بھی واضح ہے کہ حملہ آور شخص ایک ڈنڈا اٹھا کر انوج سچ دیوا کے سر پر مارتا ہے اور ساتھ ہی اداکار کو جان سے مار دینے کی دھمکیاں دے رہا ہے۔

    اس ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد سوشل میڈیا صارفین نے انوج سچ دیوا کو قانونی کارروائی کرنے کی فوری ہدایت دی ہے۔ صارفین نے حملہ آور کے خلاف سخت قانونی کارروائی کرنے کے حق میں رائے دی ہے تاکہ آئندہ ایسے واقعات سے بچا جا سکے۔واضح رہے کہ انوج سچ دیوا بھارتی ڈراموں "یہ رشتہ کیا کہلاتا ہے” اور "نبھانا ساتھیا” میں اداکاری کے جوہر دکھا چکے ہیں اور بھارتی ٹی وی کی مشہور شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔

  • پاکستانی فلم ویلکم ٹو پنجاب نے عالمی ایوارڈ جیت لیا

    پاکستانی فلم ویلکم ٹو پنجاب نے عالمی ایوارڈ جیت لیا

    پاکستانی فلم ویلکم ٹو دی پنجاب نے باکو فلم فیسٹیول میں بہترین آڈینس ایوارڈ جیت لیا-

    آذربائیجان میں 7 سے 10 دسمبر 2025 تک منعقد ہونے والے باکو سنیما بریز فلم فیسٹیول میں پاکستان نے شرکت کی،فیسٹول کے دوران تین پاکستانی فلموں کی خصوصی نمائش کی گئیں، فیسٹیول کے دوران پاکستان فلم ڈے کے موقع پر پیش کی جانے والی فلم ویلکم ٹو دی پنحاب نے بہترین آڈینس ایوارڈ اپنے نام کیا،اس فلم کے پروڈیوسر صفدر ملک جبکہ ہدایت کار شہزاد رفیق ہیں، یہ ایوارڈ عالمی سطح پر پاکستانی سینما کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کا ثبوت ہے، اس سے قبل بھی پاکستانی فلموں نے 2025 میں متعدد عالمی پلیٹ فارمز پر نمایاں کامیابیاں حاصل کیں۔

    محمد اورنگزیب کی سعودی نائب وزیرِ خزانہ سے ملاقات

    اس سے قبل چین میں منعقد ہونے والے ایس سی او فلم فیسٹیول میں فلم نایاب نے بہترین جیوری کرٹک ایوارڈ جبکہ فلم دیمک نے بہترین ایڈیٹنگ ایوارڈ اپنے نام کیے، روس میں ہونے والے یوریشیا فلم فیسٹیول میں پاکستان کی معروف اداکارہ سونیا حسین کو بہترین پرفارمنس ایوارڈ سے نوازا گیا-

    پاکستان فلم پروڈیوسرز ایسوسی ایشن نے ایگزیکٹیو ڈی جی ڈی ای ایم پی ثمینہ فرزین، ڈائریکٹر فلم سیکشن سیدہ سائرہ رضا اور ڈپٹی ڈائریکٹر سمیعہ چنا کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ انہی کی محنت کی بدولت پاکستان نے عالمی سطح پر مسلسل چوتھی کامیابی حاصل کی-

    غیر ملکی کرنسی کی خریدوفروخت کرنے والوں کی شناخت کی تصدیق نادرا سے لازمی قرار

  • رنویر سنگھ کی فلم ’’دھریندر‘‘ کو خلیجی ممالک میں پابندی کا سامنا

    رنویر سنگھ کی فلم ’’دھریندر‘‘ کو خلیجی ممالک میں پابندی کا سامنا

    رنویر سنگھ کی فلم ’’دھریندر‘‘ پر خلیجی ممالک میں پابندی عائد کر دی گئی-

    خلیجی ممالک بحرین، کویت، عمان، قطر، سعودی عرب اور یو اے ای میں دھریندر کو ریلیز نہیں کیا گیاکیونکہ فلم کو ’’اینٹی پاکستان‘‘ تصور کیا جا رہا تھااس سے پہلے بھی اسی نوعیت کی فلموں کو اس ریجن میں مشکلات کا سامنا رہا ہے ٹیم نے پھر بھی کوشش کی لیکن تمام ممالک نے فلم کے موضوع کی منظوری نہیں دی، یہی وجہ ہے کہ دھریندر کسی بھی خلیجی ملک میں ریلیز نہیں ہوسکی۔

    یہ پہلا موقع نہیں ہے جب خلیجی ممالک میں بھارتی فلموں پر پابندی لگائی گئی ہو 2024 میں ریتھک روشن اور دپیکا پڈوکون کی فلم فائٹر کو بھی ابتدا میں تمام خلیجی ممالک میں پابندی کا سامنا کرنا پڑا تھا، سوائے یو اے ای کے، فلم میں پلواما حملے کی عکاسی پر پاکستان کے بعض حلقوں نے اعتراضات اٹھائے اور اسے ’’اینٹی پاکستان پروپیگنڈا‘‘ قرار دیاریلیز کے ایک روز بعد یو اے ای نے بھی ’فائٹر‘ کی نمائش معطل کر دی فلم سازوں نے مسئلہ حل کرنے کے لیے فلم کا دوبارہ ترمیم شدہ ورژن جمع کرایا، مگر یو اے ای کی وزارت نے اسے بھی مسترد کر دیا۔

    اسی سال اکشے کمار کی ’اسکائی فورس‘ اور جان ابراہیم کی ’دی ڈپلومیٹ‘ کو بھی مشرقِ وسطیٰ کے متعدد ممالک میں پابندی کا سامنا کرنا پڑا، کیونکہ دونوں فلموں کا موضوع پاکستان سے جڑا تھااس سے قبل آرٹیکل 370 (2024) کو بھی جی سی سی سے سرٹیفکیشن نہیں ملا تھا ’ٹائیگر 3‘ (2023) کو عمان، کویت اور قطر میں بین کیا گیا، جبکہ ’دی کشمیر فائلز‘ (2022) کو بھی کئی خلیجی ممالک نے نمائش کی اجازت نہیں دی تھی البتہ بعد میں یو اے ای نے اسے صرف بالغ ناظرین کے سرٹیفکیٹ کے ساتھ ریلیز کیا۔

  • سنگیتا سے بھتہ طلبی،دھمکیاں،شیرا کوٹ تھانے میں مقدمہ درج

    سنگیتا سے بھتہ طلبی،دھمکیاں،شیرا کوٹ تھانے میں مقدمہ درج

    لاہور: فلم انڈسٹری کی معروف ہدایتکارہ سنگیتا سے بھتہ طلب کرنے، دھمکیاں دینے اور شوٹنگ کے دوران ہنگامہ آرائی پر شیراکوٹ تھانے میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

    پولیس کے مطابق ایک نامزد ملزم سمیت آٹھ افراد نے نہ صرف بھتہ طلب کیا بلکہ دھمکیاں دینے کے بعد شوٹنگ کا عمل بھی زبردستی رکوا دیا۔ یہ واقعہ اُس وقت پیش آیا جب سنگیتا اپنی پروڈکشن کی شوٹنگ میں مصروف تھیں۔ اسی دوران متعدد افراد وہاں پہنچے، عملے کو خوف و ہراس کا نشانہ بنایا، شوٹنگ کروانے سے منع کیا اور موقع پر توڑ پھوڑ بھی کی۔ اس ہنگامہ آرائی کے نتیجے میں نہ صرف قیمتی آلات متاثر ہوئے بلکہ پروڈکشن کو مالی نقصان بھی اٹھانا پڑا۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کا مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی گئی ہے جبکہ نامزد اور نامعلوم ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ تھانے کے مطابق ملزمان کو جلد از جلد گرفتار کیا جائے گا تاکہ ہدایتکارہ اور ان کی ٹیم کو انصاف فراہم کیا جا سکے۔

  • نورین اسلم  کا بالی وڈ فلم ’دھریندر ‘ پر شدید غصے کا اظہار ،قانونی کاروائی کا ارادہ

    نورین اسلم کا بالی وڈ فلم ’دھریندر ‘ پر شدید غصے کا اظہار ،قانونی کاروائی کا ارادہ

    سندھ پولیس کے شہید پولیس افسر چوہدری اسلم کی بیوہ نورین اسلم نے بالی وڈ فلم ’دھریندر ‘ پر شدید غصے کا اظہار کرتے ہوئے قانونی چارہ جوئی کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔

    نورین اسلم نے چند روز قبل جیو ڈیجیٹل سے گفتگو کے دوران بالی و ڈ فلم ’دھریندر‘ کے ٹریلر میں چوہدری اسلم کے کردار اور رحمان ڈکیت سمیت پاکستان پیپلز پارٹی کی مبہم عکاسی پر بھی گفتگو کی۔اداکار نے فلم کی ریلیز سے قبل جاری کیے گئے ٹریلر میں نامناسب ڈائیلاگ پر غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’فلم کے ٹریلر میں کہا گیا کہ شیطان اور جن سے پیدا ہونے والے بچے کو چوہدری اسلم کہتے ہیں، میرے نزدیک اس جملے سے چوہدری کی والدہ کی کردار کشی ہوتی ہے، ہم مسلمان ہیں اور ایک اسلامی ملک میں رہتے ہیں، ہمارے یہاں شیطان اور جنوں سے عورتوں کے تعلقات نہیں بنتے، چوہدری کی والدہ پاکیزہ اور پردہ دار خاتون تھیں، اگر فلم میں چوہدری کے خلاف کوئی پروپیگنڈا کرنے کی کوشش کی تو ہم چوہدری کے حق دار ہیں، قانونی چارہ جوئی کا حق رکھتی ہوں، اداکار کبھی غلط نہیں ہوتا یہ رائٹر کا کمال ہے، بھارتی رائٹرز نے ہمیشہ پاکستان کو دہشتگرد ملک دکھایا ہے اور اُس وقت گرفتار کیے گئے بھارتی کرنل پر خاموشی اختیار کی جس نے اعتراف کیا تھا کہ اس نے چوہدری اسلم پر جوا کھیلا ہے، چوہدری ہیرو ہے یا وِلن یہ سب کا اپنا اپنا نظریہ ہے مجھے اس سے اختلاف نہیں لیکن چوہدری نے اپنی مٹی سے وفا کی ہے،

    دوسری جانب فلم میں رحمان ڈکیت کے کردار پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی سطح پر ٹی ٹی پی دہشتگرد تنظیم ہے، رحمان ڈکیت اتنا بڑا دہشتگرد نہیں تھا جتنا بڑا اسے دھریندر میں دکھایا گیا، چوہدری نے رحمان سے بڑے بڑے دہشتگردوں کا انکاؤنٹر کیا ہے،فلم دیکھنے پر پتا چلے گاکیا ٹی ٹی پی کا ترجمان سنجے دت کو کال کرتا ہے یا نہیں اور اگر کرتا ہے تو وہ اس کا کیا جواب دیتے ہیں؟ کیونکہ چوہدری نے کیا کہا تھا وہ تو پوری دنیا جانتی ہے آج بھی وہ کلپ یوٹیوب پر موجود ہے،دنیا تسلیم کرتی ہے کہ چوہدری ایک دلیر شخصیت تھے،

  • بھارتی فلم ساز وکرم بھٹ اور اہلیہ دھوکہ دہی کے الزام میں گرفتار

    بھارتی فلم ساز وکرم بھٹ اور اہلیہ دھوکہ دہی کے الزام میں گرفتار

    بالی ووڈ کے معروف فلم ساز وکرم بھٹ کو ان کی اہلیہ شویتا مبری بھٹ سمیت بڑے مالیاتی فراڈ کے الزام میں پولیس نے حراست میں لے لیا ہے۔

    ان کی گرفتاری گزشتہ روز ممبئی میں عمل میں آئی، جس کے بعد انہیں عدالت میں پیش کرکے 9 دسمبر تک کا ٹرانزٹ ریمانڈ حاصل کرلیا گیا ہے۔بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق اُدے پور پولیس کی خصوصی ٹیم کئی ہفتوں سے اس مالیاتی فراڈ کیس کی تفتیش کر رہی تھی۔ دونوں میاں بیوی کی گرفتاری ممبئی کے ایک مقام سے عمل میں آئی، جس کے فوراً بعد انہیں عدالت میں پیش کیا گیا۔مقدمے کے مطابق وکرم بھٹ، ان کی اہلیہ اور 6 دیگر افراد پر الزام ہے کہ انہوں نے ڈاکٹر انڈیرا گروپ آف کمپنیز کے بانی اجے مردیا کو تقریباً 30 کروڑ روپے کے مبینہ فراڈ کا نشانہ بنایا۔

    شکایت کنندہ اجے مردیا کا کہنا ہے کہ ان سے ان کی مرحومہ اہلیہ کی زندگی پر مبنی بائیوپک بنانے کے نام پر رقم لی گئی۔مزید دیگر فلموں کی تیاری کا لالچ بھی دیا گیا، جن پر بھاری منافع کے وعدے کیے گئے۔مگر نہ منصوبے مکمل کیے گئے، نہ رقم واپس کی گئی۔پولیس کے مطابق مئی 2024 میں مردیا اور بھٹ خاندان کے درمیان چار فلموں کی تیاری کا معاہدہ ہوا تھا، جس کی مجموعی مالیت 47 کروڑ روپے رکھی گئی تھی۔

    ابتدائی دو پروجیکٹس کے مکمل ہونے کا دعویٰ کیا گیا،مگر باقی فلمیں کبھی تیار نہیں ہوئیں،تفتیشی حکام کے مطابق جعلی وینڈرز کے نام پر فرضی بلز تیار کیے گئے،اخراجات کو بڑھا چڑھا کر دکھانے کے لیے غیر حقیقی دستاویزات جمع کرائی گئیں،اس طریقۂ کار سے مردیا کو تقریباً 30 کروڑ روپے کا نقصان پہنچا

    گرفتاری کے بعد عدالت میں پیشی کے دوران وکلا نے مؤقف اختیار کیا کہ پولیس نے بغیر مناسب قانونی طریقۂ کار کے گرفتاری کی،ملزمان پر دباؤ ڈال کر خالی تاریخ اور وقت کے بغیر ایک کاغذ پر دستخط کروائے گئے،راجستھان لے جا کر تشدد کی دھمکی بھی دی گئی،دونوں جانب کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے وکرم بھٹ اور ان کی اہلیہ کا ٹرانزٹ ریمانڈ 9 دسمبر تک منظور کرلیا ہے، جس کے بعد انہیں راجستھان منتقل کیا جائے گا جہاں کیس کی مکمل تفتیش جاری ہے۔

  • بھارتی فلم دھورندھر میں بے نظیر بھٹو کی تصویر کے استعمال پر پاکستان میں شدید ردِعمل

    بھارتی فلم دھورندھر میں بے نظیر بھٹو کی تصویر کے استعمال پر پاکستان میں شدید ردِعمل

    بالی وڈ فلم دھورندھر نے پاکستان میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے، جہاں فلم میں پاکستانی سیاسی شخصیات اور جماعتوں کے براہِ راست حوالوں نے شدید ردِعمل پیدا کر دیا ہے۔ فلم کے ٹریلر اور چند مناظر میں بے نظیر بھٹو کی تصاویر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے سیاسی بینرز کا استعمال پاکستانی ناقدین اسے ’’جانبدارانہ سیاسی پیشکش‘‘ قرار دے رہے ہیں۔

    فلم میں دکھائے گئے بعض سیاسی پوسٹرز، تصاویر اور حوالوں کو پاکستانی تجزیہ کاروں نے اس کوشش کے طور پر دیکھا ہے کہ پاکستان کے داخلی سیاسی ماحول ، بالخصوص ماضی کی قیادت کو ایک ایسے بیانیے کے ساتھ جوڑا جائے جو فلم کے کرائم اور خطے کی کشیدگی سے متعلق پلاٹ کا حصہ ہے۔ ناقدین کے مطابق یہ منظرنامہ نہ صرف پاکستان کی سیاسی تاریخ کو مسخ کرتا ہے بلکہ حقیقی سیاسی جماعتوں کو ایک فلمی تناظر کے منفی خاکے میں پیش کرتا ہے۔

    پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے غیر رسمی گفتگو میں کہا کہ بے نظیر بھٹو کی تصویر کا استعمال نامناسب اور سیاسی طور پر اشتعال انگیز ہے۔ ان حلقوں کے مطابق فلم نے ایک ایسی قومی شخصیت کو جو جمہوری جدوجہد کی علامت سمجھی جاتی ہیں، ایک ایسے اسکرپٹ میں شامل کیا ہے جس کا مقصد محض پس منظر میں سیاسی سنسنی خیزی پیدا کرنا ہے۔

    اسی دوران سابق کراچی پولیس افسر چودھری اسلم کے کردار سے مشابہہ رول کو بھی پاکستان میں تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ان کی بیوہ کی جانب سے فلم میں کردار کی غلط اور توہین آمیزعکاسی پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے، جس کے بعد فلم پر قانونی کارروائی کا امکان بھی پیدا ہو گیا ہے۔ اس احتجاج کے بعد یہ تاثر مضبوط ہوا ہے کہ فلم کو حساس پاکستانی اداروں، شخصیات اور سیاسی علامات کو تجارتی کامیابی بڑھانے کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔

    سیاسی مبصرین کے مطابق بالی وڈ میں پاکستان سے متعلق منفی بیانیہ کوئی نئی بات نہیں، لیکن دھورندھر میں پاکستانی سیاستدانوں کے نام، تصاویر اور جماعتی علامتوں کا براہِ راست استعمال دونوں ملکوں کے درمیان تلخی کو مزید بڑھاسکتا ہے۔ ان کے مطابق فلمی پلاٹ کے ذریعے پاکستان کے داخلی معاملات کو غیر ضروری طور پر شدت اور تنازع سے جوڑتی ہے۔

    پاکستانی فلمی ناقدین کا کہنا ہے کہ تکنیکی معیار بلند ہونے کے باوجود فلم کا سیاسی مواد غیر ضروری، جانبدارانہ اور سفارتی حساسیت سے عاری محسوس ہوتا ہے۔ عوامی حلقوں میں بھی یہ تاثر زور پکڑ رہا ہے کہ بھارتی فلمیں ایک مرتبہ پھر پاکستان کے سیاسی ماحول اور شخصیات کو محض سینما کی سنسنی کے طور پر استعمال کرتی ہیں۔

    پاکستانی وزارتِ اطلاعات کی جانب سے اس حوالے سے کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا، تاہم حکومتی اور اپوزیشن حلقوں میں اتفاق پایا جاتا ہے کہ فلم میں دکھائے گئے سیاسی حوالوں سے دونوں ممالک کے درمیان پہلے سے موجود بیانیاتی خلیج مزید گہری ہو سکتی ہے۔

  • جدہ میں ریڈ سی انٹرنیشنل فلم فیسٹیول کاآغاز

    جدہ میں ریڈ سی انٹرنیشنل فلم فیسٹیول کاآغاز

    جدہ میں ریڈ سی انٹرنیشنل فلم فیسٹیول کے پانچویں ایڈیشن کا شاندار افتتاح ہوگیا، جہاں سرخ قالین پر دنیا بھر کے نامور فنکاروں نے جلوے بکھیرے۔ پاکستان کے معروف اداکاروں اور فلم سازوں نے بھی اس عالمی میلے میں بھرپور شرکت کی، جس سے پاکستانی شوبز انڈسٹری کی نمائندگی مزید مضبوط انداز میں سامنے آئی۔

    افتتاحی تقریب کے دوران روایتی عربی موسیقی، روشنیوں کی چمک اور فنونِ لطیفہ کی دلکش جھلک نے ماحول کو یادگار بنا دیا۔ دنیا بھر سے آئے فنکاروں نے ریڈ کارپٹ پر شرکت کو اپنے لیے اعزاز قرار دیا، جبکہ فیسٹیول کے لیے مخصوص ’’ریڈ سی تھیٹر‘‘ میں موجود شائقین نے بھی ستاروں سے بھرپور اس تقریب کو بے حد سراہا۔فیسٹیول میں پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے معروف اداکارہ عتیقہ اوڈھو, اداکار و اسکرپٹ رائٹر توثیق حیدر اور نامور فلم ساز و اداکار شہزاد نواز نے خصوصی شرکت کی۔ پاکستانی فنکاروں نے بین الاقوامی پلیٹ فارم پر پاکستان کی فلمی صنعت اور اس کی صلاحیتوں کو اجاگر کیا اور مختلف عالمی شخصیات کے ساتھ تبادلہ خیال بھی کیا۔

    فیسٹیول کا افتتاح کرتے ہوئے سعودی وزیرِ ثقافت شہزادہ بدر بن عبداللّٰہ بن فرحان نے کہا کہ یہ فیسٹیول نہ صرف سعودی عرب میں فلمی صنعت کو فروغ دے رہا ہے بلکہ عالمی سطح پر مملکت کو ایک اہم سینما ڈیسٹینیشن کے طور پر مستحکم کر رہا ہے۔ ریڈ سی انٹرنیشنل فلم فیسٹیول مملکت کی ثقافتی ترقی کے ساتھ ساتھ اقتصادی سرگرمیوں کو بھی تقویت دیتا ہے۔ ان کے مطابق یہ پلیٹ فارم دنیا بھر کے فلم سازوں، اداکاروں اور تخلیقی ذہنوں کو ایک ساتھ لاتا ہے، جو نہ صرف ثقافتی تبادلے کو فروغ دیتا ہے بلکہ سعودی عرب کو عالمی فلمی نقشے پر نمایاں مقام بھی فراہم کرتا ہے۔

    افتتاحی تقریب کے بعد دنیا بھر کے فلم سازوں کی تخلیقات پر مبنی فلموں کی نمائش شروع ہوگئی، جن میں مشرقِ وسطیٰ، ایشیا، یورپ اور افریقہ کے فلمی منصوبے شامل ہیں۔ فیسٹیول کے دوران ورکشاپس، ماسٹر کلاسز اور فلم مارکیٹ بھی منعقد کی جائیں گی، جن میں بین الاقوامی ماہرین شرکت کریں گے۔