Baaghi TV

Category: شوبز

  • میکال ذوالفقار کی پروڈکشن میں  رستم زمان گاما پہلوان کی زندگی بنے گی

    میکال ذوالفقار کی پروڈکشن میں رستم زمان گاما پہلوان کی زندگی بنے گی

    رستم زمان گاما پہلوان کی زندگی پر اب فلم بنے گی اس فلم کو "زیسکو فلمز” پروڈیوس کرے گی جس کے پروڈیوسر میکال ذوالفقار اور شایان ہیں جو اس سے پہلے”نہ بینڈ نہ باراتی”اور”منی بیک گارنٹی” جیسی فلمیں بناچکے ہیں. ان دونوں کا حال ہی میں انٹرویو کیا گیا شایان اور میکال نے بتایا کہ وہ دونوں بہت جلد رستم زمان گاما پہلوان کی زندگی پر فلم بنانے جا رہے ہیں. ان دونوں‌ نے کہا کہ فلم کا سکرپٹ مکمل ہو چکا ہے لیکن باقی چیزوں پر کام ہو رہا ہے. گاما پہلوان جن کا اصل نام غلام محمد بخش بٹ 22 مئی 1878ء امرتسر میں پیدا ہوئے تھے جبکہ ان کی وفات 23 مئی 1960کو لاہور میں ہوئی تھی۔ انہوں نے ورلڈ چیمپئن کا مقابلہ جیتا اس لیے انہیں “رستمِ زماں” بھی کہا جاتا ہے، وہ قدیم فنِ پہلوانی کے بانیوں میں سے تھے۔ان کا قد 5 فٹ اور 7 انچ تھا، گاما کے بڑے بھائی امام بخش بھی مشہور پہلوان تھے۔ تعلق کشمیری خاندان سے تھا۔ گاما اور ان کے بھائی

    کی پہلوانی کے اخراجات پٹیالہ کے مہاراجہ نے کی۔گاما پہلوان روزانہ 5000 بیٹکیں اور 3000 ڈنڈ لگاتے تھے۔ گاما بیٹھکیں لگانے کیلیئے 95 کلو وزنی بھاری ڈِسک اٹھاتے اور ورزش کرتے تھے۔ نیشنل انسٹیٹیوٹ آف سپورٹس میوزیم، پٹیالہ، پنجاب، بھارت میں آج بھی یہ ڈِسک موجود ہے۔گاما نے 1902ء میں 22 سال کی عمر میں 1200 کلو وزنی پتھر اٹھایا اور اپنے سینے تک لایا اور کچھ قدم چلا بھی یہ پتھر آج بھی بھارت کے بارودا میوزیم سایاجی باغ میں پڑا ہوا ہے اور اس پر لکھا ہے “یہ پتھر 23 دسمبر 1902ء کو گاما نے اٹھایا”۔یاد رہے کہ میکال اور شایان آج کل ویب سیریز منڈی میں اہم کردار ادا کررہے ہیں اس کی شوٹنگ لاہور میں جاری ہے.

  • سلمان خان کے علاوہ کسی خان کے ساتھ کام کرنے کا موقع میسر نہیں آیا  تبو

    سلمان خان کے علاوہ کسی خان کے ساتھ کام کرنے کا موقع میسر نہیں آیا تبو

    فلمسٹار تبو اور جوہی چاولہ نے حال ہی میں ایک انٹرویو دیا ہے اس انٹرویو میں تبو نے کہا ہے کہ ویسے تو تمام خانز نے بہت ساری ہیروئنز کے ساتھ کام کیا لیکن میرے پاس سلمان خان کے ساتھ ایک فلم آئی جس کا نام تھا ہم ساتھ ساتھ ہیں . کسی بھی خان کے ساتھ کام کرنے کا یہ پہلا اور آخری موقع تھا. کسی پرڈیوسر نے کبھی مجھے کسی خان کے ساتھ ہیروئین کے لئے کاسٹ ہی نہیں‌کیا تو میں کیا کرتی . ایک سوال کے جواب میں تبو نے کہا کہ بہت بار ایسا ہوا ہے کہ پیسے کے لئے کام کیا. پیسہ اچھا ملنے کے بعد کبھی پچھتاوا نہیں ہوا کہ میں نے پیسے کے لئے کام کیا . ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میرے پاس اب ہیرو اور ہیروئین کی ماں بننے کے رولز ہی آتے ہیں. میں کر لیتی ہوں عمر کے اس حصے میں اب

    ایسے ہی کردار آئیں گے اور ایسے ہی کردار کرنے پڑیں گے لہذا میں کر لیتی ہوں مجھے کوئی مسئلہ نہیں‌ہے. اس جواب پر جوہی چاولہ نے کہا کہ تم ہر ہیرو اور ہیروئین کی ماں کا کردار کرلیتی ہوں یہی وجہ ہے کہ ہم پر بھی اس چیز کا پریشر آجاتا ہے اور ہمارے پاس بھی ماں کے کردار آتے ہیں‌. تبو نے کہا کہ اور اس عمر میں اور کس قسم کے کردار کرنے ہیں .

  • دل تو پاگل میں کرشمہ کا کردار ملا تو میں نے بولا میں اور مادھوری کے ہوتے ہوئے سیکنڈ ہیروئین کیوں بنوں جوہی چاولہ

    دل تو پاگل میں کرشمہ کا کردار ملا تو میں نے بولا میں اور مادھوری کے ہوتے ہوئے سیکنڈ ہیروئین کیوں بنوں جوہی چاولہ

    اداکارہ جوہی چاولہ نے اپنے ایک انٹرویو میں‌ بتایا ہے کہ بہت ساری ایسی فلمیں تھیں جن کو میں نے چھوڑا اور وہ سپرہٹ‌ہوئیں . ایسی ہی ایک فلم تھی دل تو پاگل ہے ، جس کو میں‌نے منع کیا اور یہ سپر ہٹ رہی . اس میں مجھے کرشمہ کپور کا کردار آفر ہوا تھا لیکن میں نے یہ کہہ کر منع کر دیا کہ مادھوری کے ہوتے ہوئے میں‌سیکنڈ‌ ہیروئین کا کردار کیوں‌کروں. جوہی چاولہ نے مزید کہا کہ میں‌نے اپنے کیرئیر کے شروع میں بہت سارے ہیروز کے ساتھ کام کرنے سے منع کیا لیکن اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ سلمان خان نے میرے ساتھ کام کرنے سے منع کر دیا . انہوں نے کہا کہ میں نے قیامت سے قیامت تک میں عامر خان کے ساتھ کام کیا میں ان کی شخصیت اور خوبصورتی سے بہت متاثر تھی . مجھے یاد ہے کہ میرے پاس جب

    راجو بن گیا جنٹلیمن آئی تو مجھے پرڈیوسر نے کہا کہ تمہارے ساتھ جو لڑکا ہیرو آرہا ہے وہ ڈرامہ سیریل فوجی میں‌کام کررہا ہے. وہ عامر خان کے جیسے لگتا ہے میں بہت خوش ہوئی اور فلم کرنے کےلئے ہاں کر دی . جب پہلے دن سیٹ پر گئی تو میں‌نے دیکھا ایک دبلا پتلا اور برائون سا لڑکا وائٹ شرٹ میں کھڑا ہے میں نے پرڈیوسر سے احتجاج کے انداز سے کہا کہ یہ عامر خان کس اینگل سے لگتا ہے. میں کیا کرتی فلم سائن کر چکی تھی کرنی پڑی اور فلم سپر ہٹ ہوئی اس کے بعد میری اور شاہ رخ خان کی ایسی دوستی ہوئی جو کہ آج تک قائم ہے.

  • مجھے ماہرہ کی پنجابی ایسی ہی لگی جیسی ان کو میری اردو لگتی ہو گی قیصر پیا

    مجھے ماہرہ کی پنجابی ایسی ہی لگی جیسی ان کو میری اردو لگتی ہو گی قیصر پیا

    دا لیجنڈ آف مولا جٹ جب سے ریلیز ہوئی ہے کامیابیاں سمیٹ رہی ہے اس میں تمام اداکاروں کی جہاں اداکاری کو بہت زیادہ سراہا جا رہا ہے وہیں ماہرہ خان نے جو پنجابی بولی ہے وہ بنی ہوئی ہے موضوع بحث . حال ہی میں معروف کامیڈین قیصر پیا نے ایک انٹرویو دیا ہے اس میں ان سے سوال ہوا کہ آپ کو دا لیجنڈ آف مولا جٹ میں ماہرہ خان کی پنجابی کیسی لگی تو انہوں نے کہا کہ مجھے ماہرہ خان کی پنجابی ایسی ہی لگی جیسی ان کو میری اردو لگتی ہو گی . انہوں نے کہا کہ بڑی مہربانی ماہرہ خان کی کہ انہوں نے پنجابی زبان سیکھی اور بولی ورنہ تو ہمارے ہاں بہت سارے ایسے آرٹسٹ ہیں جو پنجابی بولنے میں شرمندگی محسوس کرتے ہیں . وہ پنجابی زبان سے باقاعدہ نفرت کرتے ہیں. حالانکہ یہ زبان بہت

    میٹھی اور محبت والی زبان ہے میرے حساب سے اس زبان کو سکولوں میں‌پڑھایا جانا چاہیے. انہوں نے کہا کہ میری اہلیہ بچوں کے ساتھ گھر میں انگلش اور اردو بولتی ہے لیکن میں اپنے بچوں کے ساتھ پنجابی زبان بولتا ہوں ، اردو ہماری مادری زبان ہے یہ انٹرنیشنل لینگوئج ہے تاہم پنجابی محبت کی زبان ہے اسے بولنے میں کسی کو بھی شرمندگی محسوس نہیں‌کرنی چاہیے. انہوں نے مزید کہا کہ ہر فنکار کو اسکی زندگی میں سراہا جانا چاہیے.

  • لائف ٹائم اچیومنٹ‌ ایوارڈ ملنے  پر انجمن مشکور

    لائف ٹائم اچیومنٹ‌ ایوارڈ ملنے پر انجمن مشکور

    گزشتہ شب لاہور میں لکس سٹائل ایوارڈز کا انعقاد کیا گیا اس تقریب میں جہاں بہت ساری سلیبرٹیز کو ان کے بہترین کام کی وجہ سے ایوارڈ سے نوازا گیا وہیں سینئر اداکارہ انجمن کو بھی لائف ٹائم اچیومنٹ سے نوازا گیا . انجمن نے اس حوالے سے کہا ہے کہ میں بہت شکر گزار ہوں لکس سٹائل ایوارڈ کی جیوری کی جنہوں نے مجھے یہ اعزاز بخشا انہوں نے کہا کہ مجھے زندگی میں ایوارڈ لیٹ ملے ہیں لیکن پھر بھی میں خوش ہوں کہ میری فن کے لئے خدمات کو سراہا تو جاتا ہے . انہوں نے کہا کہ سنگیتا بیگم نے خاص کر کے ان ایوارڈز میں میرے لئے شرکت کی وہ میری دکھ سکھ کی ساتھی ہیں ہماری دوستی فلم مہندی سے شروع ہوئی تھی اور آج تک جاری ہے. ہمارے درمیان کبھی بھی تلخی والا معاملہ نہیں ہوا .

    انہوں نے یہ بھی کہا کہ میں نوجوان نسل کے نمائندہ فنکاروں کی بھی شکر گزار ہوں کہ وہ میرے کام کو سراہتے ہیں. فہد مصطفی اور علی ظفر نے میرے لئے جو الفاظ استعمال کئے ہیں جس طرح‌سے میرے کام اور میری خوبصورتی کی تعریف کی ہے میں ان کی شکر گزار ہوں انہوں نے اتنے اچھے الفاظ کا استعمال کرکے میری نہیں بلکہ اپنی عزت بڑھائی ہے. میں ان سب کی دل سے مشکور ہوں جو مجھ سے پیار کرتے ہیں اور مجھے عزت دیتے ہیں .

  • معروف مزاحیہ اداکار اسماعیل تارا کی وفات پر صدر،وزیراعظم و دیگر کا اظہار افسوس

    معروف مزاحیہ اداکار اسماعیل تارا کی وفات پر صدر،وزیراعظم و دیگر کا اظہار افسوس

    پاکستان کے معروف مزاحیہ اداکار اسماعیل تارا 73 برس کی عمر میں کراچی میں انتقال کر گئے

    سن 1949 کو لاہور میں پیدا ہونے والے اسماعیل تارا نے 1964 میں فنکارانہ سفر شروع کیا نماز جنازہ شہید ملت روڈ پر میمن پہاڑی مسجد میں ادا کی جائے گی ، اسماعیل تارا تین روزسے کراچی کے ایک نجی اسپتال میں زیر علاج تھے. کامیڈی اسماعئل تارا کی پہچان تھی. انہوں نے بطور مزاحیہ اداکار کئی برس تک شائقین کو اپنے سحر میں مبتلا رکھا. انہوں نے کئی اسٹیج ڈراموں، ٹیلی وژن ڈراموں اور فلموں میں کام کیا۔ پاکستان ٹیلی وژن کے پروگرام ففٹی ففٹی سے ان کو ایسی شہرت ملی کہ ان کا شمار دیکھتے ہی دیکھتے ٹاپ کے اداکاروں میں ہونے لگا. انہیں ان کی خدمات کے اعتراف میں متعدد مرتبہ ایوارڈز بھی ملے. ان کی مزاحیہ اداکاری کے لئے ان کو نگار ایوارڈز کئی بار ملے . ۔اسماعیل تارا کی اداکاری کی دنیا میں وجہ شہرت پی ٹی وی کے مزاحیہ خاکوں پر مبنی سلسلہ ففٹی ففٹی ہے۔ جس میں انہوں نے اداکاری کے علاوہ بعض خاکے بھی لکھے۔ اس ڈرامے میں انہوں نے مزاحیہ اداکار ماجد جہانگیر کے ساتھ مل کر بہاری لہجے میں منوا اور ببوا کے لازوال کردار تخلیق کیے۔ یہی دو کردار ایکسپریس ٹی وی پر پھر شروع کیا گیا “عجب کہہ رہا ہے بھئی “ کے نام سے ۔اسماعیل تارا کو بہترین اداکاری پر 5 بار نگار ایوارڈز سے نوازا گیا. اسماعیل تارا کی وفات یقینا شوبز انڈسٹری کا ایک بہت بڑا نقصان ہے.

    اسماعیل تارا کی وفات پر صدر مملکت، وزیراعظم سمیت اہم شخصیات نے افسوس کا اظہار کیا ہے،صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے معروف اداکارو کامیڈین اسماعیل تارا کے اِنتقال پر اظہارِتعزیت کیا ہے۔ صدر مملکت نے اداکاری اور مزاح کے شعبے میں اسماعیل تارا کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ اسماعیل تارا ایک اچھے اداکار اور کامیڈین تھے انہوں نے اپنی اداکاری سے مسکراہٹیں اور خوشیاں بکھیریں

    وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان ٹیلی ویژن اور فلم کے مقبول اداکار اسماعیل تارا کے انتقال پر گہرے رنج اور افسوس کا اظہار کیا ہے وزیراعظم شہباز شریف نے مرحوم اسماعیل تارا کے اہل خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے مرحوم کی بلندی درجات کے لیے دعا کی ،وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ مرحوم اسماعیل تارا مزاحیہ اداکاری میں منفرد مقام رکھتے تھے انہوں نے پاکستان میں مزاح کو آرٹ کی ایک صنف کے طور پر مقبول کرنے میں اہم کردار ادا کیا پاکستان ٹیلی ویژن اور فلم کے ناظرین کے ذہنوں پر ان کی اداکاری کے ان مٹ نقوش ہیں خصوصاً پاکستان ٹیلی ویژن کے پروگرام ففٹی ففٹی میں ان کی اداکاری یادگار رہےگی اور ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جایئں گی

    وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے اسٹیج اور ٹی وی کے معروف اداکار اسماعیل تارا کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسماعیل تارا مرحوم نے مشہور ڈراموں ففٹی ففٹی، ربر بینڈ، ون وے وکٹ سمیت متعدد اسٹیج ڈراموں، ٹی وی ڈراموں اور فلموں میں اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے، ان کے انتقال سے فلم اور ڈرامہ انڈسٹری میں پیدا ہونے والا خلا کبھی پُر نہیں ہو سکے گا فلم اور ڈرامہ انڈسٹری کیلئے اسماعیل تارا کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم اسماعیل تارا کو اپنے جوار رحمت میں اعلیٰ مقام اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے

    وزیر اعلی پنجاب چودھری پرویزالٰہی نے معروف اداکار اسماعیل تارا کے انتقال پر دکھ اور افسوس کا اظہارکیا، وزیر اعلی چودھری پرویزالٰہی نے سوگوار خاندان سے دلی ہمدردی و تعزیت کا اظہار کیا اور کہا کہ اسماعیل تارا مرحوم کا مقبول ترین ٹی وی ڈرامہ ففٹی ففٹی آج بھی پرستاروں کو یاد ہے۔ اسماعیل تارا نے منفرد اداکاری سے ففٹی ففٹی کو امر کیا۔ اسماعیل تارا مرحوم اپنے فن میں نمایاں مقام رکھتے تھے۔ پاکستانی کامیڈی کی تاریخ اسماعیل تارا کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتی۔

    وزیراعظم شہباز شریف سے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ندیم رضا کی الوداعی ملاقات

    آرمی چیف نے مختلف فارمیشنز کے الوداعی دوروں کے ایک حصے کے طور پر سیالکوٹ اور منگلا گیریژن کا دورہ کیا۔

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

    القادر یونیورسٹی کا زمین پر تاحال کوئی وجود نہیں،خواجہ آصف کا قومی اسمبلی میں انکشاف

  • اسماعیل تارا دنیا چھوڑ گئے

    اسماعیل تارا دنیا چھوڑ گئے

    فلم، اسٹیج اورٹی وی کےنامور فنکاراسماعیل تارا دنیا چھوڑ گئے ہیں. جی ہاں اسماعیل تارا وفات پا گئے ہیں. ان کی عمر 73 برس تھی . اسماعیل تارا تین روزسے کراچی کےایک نجی اسپتال میں زیر علاج تھے. کامیڈی اسماعئل تارا کی پہچان تھی. انہوں نے بطور مزاحیہ اداکار کئی برس تک شائقین کو اپنے سحر میں مبتلا رکھا. انہوں نے کئی اسٹیج ڈراموں، ٹیلی وژن ڈراموں اور فلموں میں کام کیا۔ پاکستان ٹیلی وژن کے پروگرام ففٹی ففٹی سے ان کو ایسی شہرت ملی کہ ان کا شمار دیکھتے ہی دیکھتے ٹاپ کے اداکاروں میں ہونے لگا. انہیں ان کی خدمات کے اعتراف میں متعدد مرتبہ ایوارڈز بھی ملے. ان کی مزاحیہ اداکاری کے لئے ان کو نگار ایوارڈز کئی بار ملے . ۔اسماعیل تارا کی

    اداکاری کی دنیا میں وجہ شہرت پی ٹی وی کے مزاحیہ خاکوں پر مبنی سلسلہ ففٹی ففٹی ہے۔ جس میں انہوں نے اداکاری کے علاوہ بعض خاکے بھی لکھے۔ اس ڈرامے میں انہوں نے مزاحیہ اداکار ماجد جہانگیر کے ساتھ مل کر بہاری لہجے میں منوا اور ببوا کے لازوال کردار تخلیق کیے۔ یہی دو کردار ایکسپریس ٹی وی پر پھر شروع کیا گیا “عجب کہہ رہا ہے بھئی “ کے نام سے ۔اسماعیل تارا کو بہترین اداکاری پر 5 بار نگار ایوارڈز سے نوازا گیا. اسماعیل تارا کی وفات یقینا شوبز انڈسٹری کا ایک بہت بڑا نقصان ہے.

  • آج لاہور میں شان شاہد کی فلم ضرار کا پریمئیر ہوگا

    آج لاہور میں شان شاہد کی فلم ضرار کا پریمئیر ہوگا

    آج لاہور میں شان شاہد کی فلم ضرار کا پریمئیر ہونے جا رہا ہے . اس پریمئیر کے حوالے سے پہلے خبریں تھیں کہ یہ شاید کراچی میں ہوگا لیکن ایسی خبریں اور افواہیں دم توڑ گئیں ہیں کیونکہ شان شاہد اپنی فلم ضرار کا پریمئیر لاہور میں ہی کررہے ہیں. آج ہی کے روز فلم سینما گھروں کی زینت بھی بننے جا رہے. ضرار کے ساتھ فلم ٹچ بٹن بھی ریلیز ہونے جا رہی ہے . دونوں فلموں‌کا ایک ہی دن میں ایک دوسرے کے ساتھ بڑا ٹاکرا ہونے جا رہا ہے. ٹچ بٹن میں فرحان سعید ، ایمان علی ، سونیا حسین اور فیروز خان ہیں جبکہ ضرار میں شان شاہد ، ندیم بیگ ، کرن ملک

    و دیگر شامل ہیں. ضرار میں نہ صرف شان شاہد ایکٹنگ کررہے ہیں بلکہ اسکو لکھا اور ڈائریکٹ بھی شان شاہد نے خود ہی ہے. فلم کی کوریوگرافی پپو سمراٹ کی ہے ان کا دعوی ہے کہ فلم میں‌روٹین سے ہٹ کر ڈانس دیکھنے کو ملے گا. شان شاہد چار سال کے بعد کسی فلم جلوہ گر ہو رہے ہیں دیکھنا یہ ہے کہ ضرار فلمی شائقین کے دلوں‌میں گھر بنانے میں کتنی کامیابی حاصل کرتی ہے. دوسری طرف فلم کی ہیروئین بھی نئی ہیں .

  • بیٹے نے ہمیشہ سر فخر سے بلند کیا ہے والد مومن ثاقب

    بیٹے نے ہمیشہ سر فخر سے بلند کیا ہے والد مومن ثاقب

    مومن ثاقب اور ان کے والد نے حال ہی میں‌ایک انٹرویو دیا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ میرے بیٹے مومن نے مجھے بہت خوشیاں دی ہیں اور میرا سر ہمیشہ فخر سے بلند کیا ہے. مجھے بہت خوشی ہےکہ میرے بیٹے نے اپنی محنت کے بل پر اپنا نام اور مقام بنایا. انہوں‌نے کہا کہ میں نے ہمیشہ مومن ثاقب کو اسکے ہر کام میں سپورٹ کیا اچھی بات یہ ہے کہ اس نے بھی مستقل مزاجی کا مظاہرہ کیا. موم ثاقب نے بھی کہا کہ میں آج جو بھی ہوں صرف اپنے والد کی وجہ سے ہوں . مومن ثاقب کے والد نے کہا کہ مومن بچپن میں بہت شرارتی اور ضدی ہوا کرتا تھا ، میں اسکی ہربات

    مانتا تھا. مجھے خوشی ہے کہ میرا بیٹا اج بھی میرا فرمانبردار ہے. مومن ثاقب نے کہا کہ والدین کو چاہیے کہ ہمیشہ وہ بچوں کی مرضی کے مطابق ان کو مسقتبل چننے کااختیار دیں ، ایسا ہونے سے بچے میں اعتماد اتا ہے. میرے والدین نے اس حوالے سے مجھے بہت زیادہ اعتماد دیا. مومن کے والد نے کہا کہ بچوں‌ کی مرضی کو ہر معاملے میں پیش پیش رکھنا چاہیے اس چیز سے بچے والدین کے لئے قریب سے قریب ہوتے چلے جاتے ہیں. یاد رہے کہ مومن ثاقب نے سوشل مٰڈیا سے شہرت حاصل اور آج یہ ایک بڑی فین فالونگ رکھتے ہیں‌.

  • حقیقت سے کب تک آنکھیں چرا کر سلگھتے موضوعات پر بننے والی فلموں‌پر پابندی لگاتے رہیں گے؟‌فصیح باری خنا

    حقیقت سے کب تک آنکھیں چرا کر سلگھتے موضوعات پر بننے والی فلموں‌پر پابندی لگاتے رہیں گے؟‌فصیح باری خنا

    معروف مصنف فصیح باری خان نے اپنے حالیہ انٹرویو میں کہا ہے کہ ہمارے ہاں بننے والی فلموں‌کو سپورٹ کئے جانے کی ضرورت ہے . ہم کب تک انہی معاملات میں پڑے رہیں گے کہ فلاں موضوع ٹھیک نہیں فلاں پہ بات ہو اور فلاں پہ نہ ہو. کب تک ہم نے کبوتر کی طرح‌آنکھیں بند کرکے رکھنی ہیں؟ کیا ٹرانسجینڈر ہماری سوسائٹی کا حصہ نہیں ہیں؟ کیسے انکار کر سکتے ہیں ہم ؟ فصیح باری خان نے کہا کہ ایک منٹ سے پہلے یہ فتوی لگا دینا کہ فلاں

    مواد فحش ہے فلاں دین سے متصادم ہے اس سوچ اور رویے کو تبدیل کیاجانا چاہیے . انہوں نے مزید یہ بھی کہا کہ جوائے لینڈ سمجھدار لوگوں نے بنائی ہے یہ فلم کسی قسم کی ذہنی عیاشی کے لئے نہیں بنائی گئی. میں نے اس فلم کو اپنے سوشل میڈیا پر مکمل سپورٹ کیا . ہمارے سنسر سے ایسے ایسے ڈانس پاس ہو چکے ہیں جو شاید فیملیوں‌کے ساتھ بیٹھ کر دیکھے نہیں جا سکتے . میرا جس قسم کا سکول آف تھاٹ ہے میں بھی سمجھتا ہوں کہ کل کو میں بھی کسی سلگھتے موضوپر فلم بنائوں گا تو میرے سامنے بھی ایسی ہی مشکلات ہوں گی. ہمارے ہاں چند ایک لوگ ایسے ہیں جو صرف گھستے پٹے موضوعات دیکھنا چاہتے ہیں. انہیں سنجیدہ موضوعات پر ننے والی فلمز نہیں دیکھنی شاید .