Baaghi TV

Category: شوبز

  • ممتازشاعراحمد راہی کو مداحوں سے بچھڑے 20 سال ہو گئے

    ممتازشاعراحمد راہی کو مداحوں سے بچھڑے 20 سال ہو گئے

    اردو اور پنجابی کے ممتاز شاعر احمد راہی کو دنیا سے رخصت ہوئے آج 20 سال ہو گئے۔

    باغی ٹی وی: پنجابی شاعر، فلمی کہانی نویس اور نغمہ نگار، پاکستان کی پنجابی فلموں میں اپنی خدمات دیں، بطور کہانی نویس ان کی یادگار فلموں میں مرزا جٹ، ہیر رانجھا، ناجو، گُڈو، اُچّا شملہ جٹ دا مشہور ہے اس کے علاوہ فلم شہری بابو، ماہی مُنڈا، یکے والی، چھومنتر، الہ دین کا بیٹا، مٹی دیاں مورتاں، باجی، سسی پنوں اور بازارِ حسن نامی فلموں کے گیت لکھے-

    مشکل وقت میں چیزیں مہنگی فروخت کرنے والوں کے حج کیا کہتے ہیں رابی پیرزادہ

    احمد راہی 12 نومبر 1923ء کو پیدا ہوئے احمد راہی کا اصل نام غلام احمد تھا احمد راہی کا تعلق امرتسر کے ایک کشمیری خاندان سے تھا جو آزادی کے بعد ہجرت کر کے لاہور آ گیا ان کے روحانی پیشوا نے خورشید احمد رکھا لیکن ان کو شہرت احمد راہی کے نام سے ملی۔ آپ کے والد کا نام خواجہ عبدالعزیز تھا جو کڑھائی والی اونی شالوں کا کاروبار کرتے تھے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم امرتسر سے حاصل کی۔

    1942 میں انہوں نے شعر کہنا شروع کر دیے تھے۔ 1942 میں میٹرک کرنے کے بعد اعلی تعلیم کے لئے انہوں نے ایم اے او کالج لاہور میں داخلہ لیا۔ سیکنڈ ائر میں طالب علموں کی لاہور میں سیاسی تحریکوں میں حصہ لینے کی وجہ سے ان کو کالج کی انتظامیہ نے کالج سے نکال دیا۔ کالج سے فراغت کے بعد آپ نے اپنے والد محترم کے کڑھائی والی اونی شالوں کے کاروبار میں ان کا ہاتھ بٹانا شروع کر دیا۔ اس تجارت کے لئے انہوں نے کلکتہ کا سفر کیا۔

    امرتسر میں ہی انہوں میں مشہورافسانہ نگار سعادت حسن منٹو، شاعر سیف الدین سیف، کہانی نگار اے حمید کی صحبت میں رہتے ہوئے ادب میں دلچسپی لینا شروع کردی 1946ء میں ان کی ایک اردو نظم آخری ملاقات افکار میں شائع ہوئی جو ان کی پہچان بن گئی لیکن لاہور کے ادبی ماحول میں اس میں مزید نکھار آیا لاہور آمد پر انہیں ترقی پسند ادبی مجلے ’سویرا‘ کا مدیر بنا دیا گیا۔ لیکن جب ترق پسند ادیبوں کے خلاف حکومتی کارروائیوں میں تیزی آئی تو انہوں نے فلمی دنیا کا رخ کیا۔

    7 ملین فالورز، حرامانی نے پسوڑی وڈیو لگا کر مداحوں کا شکریہ ادا کیا

    احمد راہی نے اپنے فلمی کیرئیر کا آغاز پنجابی فلم ’بیلی‘ سے کیا جو تقسیم کے وقت ہونے والے فسادات کے پس منظر میں بنائی گئی تھی۔ اس فلم کی کہانی مشہور افسانہ نگار سعادت حسن منٹو نے لکھی جبکہ ہدایات مسعود پرویز نے دی تھیں انہوں نے مسعود پرویز اور خواجہ خورشید انور کی مشہور پنجابی فلم ’ہیر رانجھا‘ کے لیے بھی نغمات لکھے جن میں ’سن ونجھلی دی مٹھڑی تان‘ اور ’ونجھلی والڑیا توں تے موہ لئی اے مٹیار‘ آج بھی اپنا جادو جگاتے ہیں انہوں نے فلمی حلقوں میں بھی اپنا ایک خاص مقام بنایا اور ان کے لکھے ہوئی گانوں میں بھی لوگوں کو لوک شعری اور ادب کا رنگ دیکھنے کو ملا۔

    پنجابی فلمی شاعری کے لیے ان کی خدمات ویسی ہی ہیں جیسی ساحر لدھیانوی اور قتیل شفائی کی اردو فلموں کے لیے ہیں۔ انہوں نے اردو فلموں کے لیے بھی منظر نامہ، مکالمے اور گانے لکھے۔ ان کی مشہور اردو فلموں میں ’یکے والی‘ خاص طور پر قابل ذکر ہے-

    سیلاب میں امیر کا گھر کیوں نہیں ٹوٹتا غریب کا گھر ہی کیوں ٹوٹتا ہے؟ فضا علی کا…

    ترنجن کی نظموں میں تقسیم ہند کے وقت ہونے والے ہندومسلم فسادات میں عورتوں کے ساتھ جنسی زیادتی کو بڑے شاعرانہ طریقے سے پیش کیا گیا ہے-

    اس شعری مجموعے میں پنجابی ثقافت اور تقسیم ہند میں پیش آنے والے واقعات کو ہیر۔ صاحباں اور سوہنی جیسے لوک کرداروں کی تشبیہات سے پیش کیا گیا ہے۔ اس شعری مجموعے کی بیشتر نظمیں انھوں نے دو آزاد ہونے والی قوموں میں تقسیم کے وقت مسلمانوں، ہندوؤں اور سکھوں کی ہلاکت اور وحشیانہ ظلم پر سوگ کے لکھی تھیں۔

    ان کی پہلی کتاب ترنجن 1952 میں شائع ہوا۔ ترنجن کا پہلا حصہ پنجاب کی الہڑ مٹیاروں کے الہڑ جذبات اور پنجاب کی ثقافت پر مبنی ہے اور دوسرا حصہ انہی الہڑ دوشیزاؤں پر آزادی کے وقت ڈھائے گئے ظلم اور خونریزی کے متعلق ہے۔

    ان کا پنجابی کلام کا ایک اور مجموعہ ً نمی نمی ہوا ً بھی شائع ہوا اور ً رگ جان ً کے نام سے ان کا اردو کلام پر مبنی مجموعہ ان کی موت کے بعد منظر عام میں آیا۔ پرائیڈ آف پرفارمنس پانے، ہیر رانجھا اور مرزا جٹ جیسی شہرہ آفاق کلاسیک فلموں کے مصنف اور ان کے سدا بہار نغموں کے خالق احمد راہی ستمبر 2002 میں اس جان فانی سے رخصت ہو گئے۔

    لندن نہیں جائونگا میں بھٹی کا کردار احمد علی بٹ‌ کے لئے لکھا تھا خلیل الرحمان…

  • عالیہ بھٹ پھٹ پڑیں اپنے مین سٹریم میڈیا پر

    عالیہ بھٹ پھٹ پڑیں اپنے مین سٹریم میڈیا پر

    بالی وڈ اداکارہ عالیہ بھٹ نے اپنے حالیہ انٹرویو میں کہا ہے کہ ان کے بارے میں جب جھوٹی باتیں لکھی جاتی ہیں تو ان کو فرق نہیں‌پڑتا لیکن جب میں نے اپنی پریگنینسی انائوس کی اس وقت میرے بارے میں یہ لکھا گیا کہ میری خراب طبیعت کی وجہ سے میرے ہاتھ سے ہالی وڈ فلم نکل گئی ہے اور میرے شوہر مجھے جہاز سے لینے جائیں گے تو مجھے بہت بری لگی یہ بات کہ بھئی جھوٹ کیوں لکھا جا رہا ہے. میں نے محسوس کیا کہ اگر نوجوان لڑکیاں اس آرٹیکل کو پڑھیں گی تو ان کو لگے گا کہ پریگنینسی کی وجہ سے کام پر سٹاپ لگ جاتا ہے اور وہ اس سے برا اثر لیں گی اس لئے میں نے سٹینڈ لیا اور میں نے غصے میں بیان دیا. میں اس وقت غصہ ہوتی ہوں جب مین سٹریم میڈیا بے وقوفوں والی رپورٹنگ کرتا ہے. عالیہ نے

    مزید کہا کہ میری میرے کام سے کمنٹمنٹ کا یہ عالم ہے کہ مجھے تو قے بھی آرہی ہو تو میں قے کرنے کے بعد پھر کام کرنے لگ جاتی ہوں لیکن کام چھوڑ کر گھر کی راہ نہیں‌ لیتی. عالیہ نے مزید کہا کہ خواتین بہت مضبوط ہوتی ہیں وہ اپنے گھر اور پروفیشنل لائف کے درمیان زبردست انداز میں بیلنس رکھنا جانتی ہیں اور میں بھی اپنی پرسنل اور پروفیشنل لائف میں توازن رکھنے کی پوری کوشش کررہی ہوں.

  • کوونا کو شکست دیکر امیتابھ بچن ایکبار پھر کام پر پہنچ گئے

    کوونا کو شکست دیکر امیتابھ بچن ایکبار پھر کام پر پہنچ گئے

    بالی وڈ کے صف اول کے اداکار امتیابھ بچن نے ایک بار پھر کورونا کو شکست دے دی ہے اور کام پر واپسی بھی کر لی ہے . 79 سالہ اداکار نو دن تنہائی میں گزارنے کے بعد کام پر واپس آگئے ہیں۔ امیتابھ بچن نے کورونا سے صحتیابی کی خبر اپنے مداحوں کے ساتھ خود سوشل میڈیا پر شئیر کی . اس سے قبل قرنطینہ کے دوران امیتابھ نے اپنے مداحوں کے ساتھ کورونا میں تنہائی کے دوران اپنی مصروفیات کے حوالے سے آگہی دی اور بتایا کہ وہ اپنا ہر کام اس وقت خود کررہے ہیں یہاں تک کہ ای میل ز بھی خود کررہے ہیں کالز بھی ڈائریکٹ خود ہی لے رہے ہیں.امیتابھ بچن کے مداح ان کی صحتیابی کی خبر پر کافی خوش ہیں. یاد رہے کہ امیتابھ آج کل ریئلٹی ٹی وی شو کون بنے گا کروڑ پتی کے 14 ویں سیزن کی میزبانی کر رہے ہیں.

    2010 میں،انہوں نے KBC کے چوتھے سیزن کی میزبانی کی۔ پانچواں سیزن 15 اگست 2011 کو شروع ہوا اور 17 نومبر 2011 کو ختم ہوا۔ امیتابھ بچن اپنی فلم براہسٹرا اور شیوا کی ریلیز کے منتظر ہیں اس فلم میں ان کے ساتھ عالیہ بھٹ اور رنبیر کپور بھی ہیں، عالیہ اور رنبیر کی ایکساتھ یہ پہلی فلم ہے شائقین اس فلم کی ریلیز کے خاصے منتظر ہیں..اس کے علاوہ امیتابھ بچن سورج برجاتیہ اور ایکتا کپور کی فلموں میں بھی کام کررہے ہیں. امیتابھ بچن سوشل میڈیا پر کافی متحرک رہتے ہیں ان سے ٹویٹس کے زریعے مسلسل رابطہ رکھتے ہیں.

  • عتیقہ اوڈھو کو نوجوان فنکاروں سے کیا ہے شکایت ؟

    عتیقہ اوڈھو کو نوجوان فنکاروں سے کیا ہے شکایت ؟

    عتیقہ اوڈھو کا کہنا ہے کہ آج ماضی کی نسب بہتر اور اچھا کام ہو رہا ہے یہ بات ماننے والی ہے ، اب بلکہ زیادہ کام ہو رہا ہے اور سب فنکاروں کو کام مل رہا ہے. عتیقہ نے ساتھ ہی ساتھ یہ بھی کہا کہ آج کے فنکار کام کے معاملے میں سنجیدہ نہیں ہیں سیٹ پر آکر تو وہ ڈائیلاگ یاد کررہے ہوتے ہیں. زیادہ تر نوجوان اداکار اپنی عمر کے حساب سے ہیرو اور مرکزی کردار ادا کرنے کی خواہش رکھتے ہیں، جس وجہ سے انہیں کام کم ملتا ہے۔عتیقہ اوڈھو نے کہا ہے کہ کسی بھی فنکار کا کا دس فیصد کام اچھا ہونا چاہیے لیکن میں اپنے کیرئیر کی تین دہائیوں پر نظر ڈالوں تو پتہ چلتا ہےکہ میرا 70 فیصد کام معیاری اور اچھا ہے. عتقیہ اوڈھو نے کہا کہ میں نے کبھی بھی ہلکے کرداروں والے سکرپٹس کواوکے نہیں کیا. عتیقہ کا مزید کہنا

    ہے کہ میری خوش نصیبی ہے کہ مجھے لوگوں کی طرف سے مسلسل پیار اور محبت مل رہی ہے. یاد رہے کہ عتیقہ اوڈھو اداکارہ ہونے کے ساتھ ساتھ بیوٹیشن بھی ہیں ان کا اپنا ایک میک اپ برینڈ بھی ہے. عتیقہ اکثر اپنی ذاتی زندگی کو لیکر خبروں میں رہتی ہیں، لیکن وہ کبھی بھی کسی بات سے نہیں گھبراتیں وہ اس بات پر عمل پیرا ہے کہ ” زندگی ایک بار ملتی ہے اسے جی بھر کے جیو” .

  • کیا نازیہ حسن اور انکے شوہر  کی طلاق ہوئی تھی؟ اشتیاق بیگ بول پڑے

    کیا نازیہ حسن اور انکے شوہر کی طلاق ہوئی تھی؟ اشتیاق بیگ بول پڑے

    پاپ گلوکارہ نازیہ حسن کے شوہر اشتیاق بیگ نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ان کی اور نازیہ کی طلاق کبھی بھی نہیں ہوئی، صرف افواہیں ہی پھیلائی جاتی رہیں . نازیہ کی موت سے چار ماہ قبل میں اور نازیہ جب یوکے میں تھے تو ہم نے طلاق کی افواہوں کی تردید بھی کی تھی اور میرے پاس اس حوالے سے تمام شواہد موجود ہیں. اشتیاق بیگ نے کہا کہ اس وقت نہ میرے پاس وقت تھا نہ میں ان چیزوں میں پڑنا چاہتا تھا اسلئے کبھی کلئیر کرنا مناسب نہیں سمجھا. آج مجھ سے سوال ہوا ہے تو میں جواب میں‌ کہہ رہا ہوں کہ ہماری کبھی بھی طلاق نہیں ہوئی تھی. میں نے نازیہ کے ساتھ بہت محبت کی اور اسکا ثبوت یہ ہے کہ نازیہ کی موت کو کئی سال گزر چلے ہیں لیکن میں نے دوسری شادی نہیں کی. نازیہ جتنی خوبصورت

    نظر آتی تھیں اس سے کہیں زیادہ وہ خوبصورت انسان تھیں. انہوں نے گلوکاری کو چھوڑنے کا فیصلہ خود کیا لیکن نازیہ کی فیملی نے مجھ پہ الزام لگادیا کہ میں نے نازیہ کو ایسا کرنے پر مجبور کیا ہے. زوہیب کو نازیہ حسن کے بغیر کوئی شو نہیں دیتا تھا لہذا وہ نہیں چاہتا تھا کہ نازیہ کیرئیر کو خیرباد کہے بس انہی وجوہات کی بنا پر ان کی فیملی نے مجھ سے تعلقات خراب کر لئے.نازیہ کی فیملی نے ان کو بہت مجبور کیا کہ وہ گائیں لیکن نازیہ جب فیصلہ کر چکی تھی کہ اسکو گانا نہیں گانا تو پھر اس نے نہیں گایا یوں ہمارے آپسی تعلقات بگڑے اور نازیہ کی فیملی نے مجھ سے ملنا چھوڑ دیا لیکن یہ بات طے ہے کہ ہماری کبھی بھی طلاق نہیں ہوئی تھی.

  • ماریہ واسطی نے بتا دیا کہ کامیابیوں کا تسلسل براقرا رکھنا کیوں ضروری ہے؟

    ماریہ واسطی نے بتا دیا کہ کامیابیوں کا تسلسل براقرا رکھنا کیوں ضروری ہے؟

    سینئر اداکارہ ماریہ واسطی جنہوں نے پاکستان ٹیلی ویژن سے اپنے کیرئیر کا آغاز کیا. ان کی خوبصورت اداکاری نے شائقین کے دل موہ لئے ، ماریہ واسطی نے پی ٹی وی کے دور میں یادگار ڈرامے کئے. ماریہ کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ میں‌ نے پی ٹی وی میں کام کرکے بہت کچھ سیکھا جس وقت میں نے کام شروع کیا اس وقت نامور لوگ پی ٹی وی سے وابستہ تھے ان کی صحبت سے بہت کچھ سیکھا اُس وقت کا سیکھا ہوا آج کام آرہا ہے. ماریہ واسطی نے کہا کہ کامیابیوں کا تسلسل برقرار رکھنا بے حد ضروری ہے ، اور ایسا کرنا اس لئے ضروری ہے کیونکہ آپ کے مداحوں نے آپ کا

    جس لیول کا کام دیکھا ہوتا ہے وہ اس سے اوپر کا کام ہر بار دیکھنا چاہتے ہیں. ماریہ واسطی نے کہا کہ مجھے بہت خوشی ہے کہ میرے حصے میں بہترین کردار آئے. میں نے ہمیشہ معیار کو ترجیح دی ہے ہر ڈرامہ یا کہانی صرف اسلئے سائن نہیں‌کر لی کہ میرے پاس آئی ہے میں نے ہمیشہ سوچ سمجھ کر کسی بھی پراجیکٹ کا انتخاب کیا کیونکہ میرے پرستار مجھے بہتر سے بہترین کام کرتا ہوا دیکھنا چاہتے ہیں.ماریہ واسطی نے کہا کہ مجھے چیلنجنگ کام کرنا پسند رہا ہے یہی وجہ ہے میرے کرداروں میں شائقین کو ورائٹی نظر آتی ہے.

  • سیف علی خان کو کام ملنا کیوں بند ہوا ؟

    سیف علی خان کو کام ملنا کیوں بند ہوا ؟

    سیف علی خان نے اپنے ایک حالیہ انترویو میں کہا ہے کہ جب وہ فلم انڈسٹری میں آئے تھے تو ان کو شرمیلا ٹیگیور کا بیٹا ہونے کی وجہ سے بہت باتیں سننے کو ملیں. سیف علی خان نے کہا کہ مجھے کہا جاتا تھا کہ میں شرمیلا کی وجہ سے انڈسٹری میں آیا ہوں انہی کی وجہ سے ہی مجھے کام مل رہا ہے. مجھے اقربا پروری کا حامل اداکار کہا جاتا تھا. میرے بارے میں غلط خبریں پھیلائی جاتی تھیں، کہا جاتا تھا کہ میں بہت زیادہ شراب پیتا ہوں اور سیٹ پر شوٹنگ کے دوران بھی شراب پی کر سویا رہتا ہوں میں کام کے معاملے میں سنجیدہ نہیں ہوں. ایسے الزامات نے میرے کیرئیر کو بڑا دھچکا لگایا اور ایک وقت ایسا آیا کہ مجھے کام ملنا بند ہو گیا پرڈیوسرز مجھ سے دور بھاگنے لگے، ان کو لگتا تھا کہ اگر یہ شراب

    پی کر سویا رہا تو کام کیسے مکمل ہو گا . سیف علی خان نے کہا کہ میرے بارے میں اس قسم کے الزامات نے مجھے بہت ڈیمیج کیا لیکن کچھ بھی نہ بولا. انہوں نے یہ بھی کہا کہ میرے ہاتھ سے بڑی بڑی فلموں کی آفر گئی ، کاجول کی پہلی فلم بے خودی مجھے ملی لیکن اس فلم کے پرڈیوسر کے بھی کان بھرے گئے اور مجھ سے یہ فلم چھن گئی. اس طرح سے میرا کیرئیر خراب کرنے کی کوشش کی گئی.حالانکہ یہ خبریں پرانی ہو چکی ہیں لیکن میرا ان پہ دل دکھی آج بھی ہے اسلئے بات کررہا ہوں.

  • بشری انصاری متاثرین سیلاب کے لئے پریشان اور دکھی

    بشری انصاری متاثرین سیلاب کے لئے پریشان اور دکھی

    ورسٹائل اداکارہ بشری انصاری نے اپنے انسٹاگرام پر ایک وڈیو جاری کی ہے جس میں وہ کافی دکھی اور پریشان دکھائی دے رہی ہیں. انہوں‌ نے اس وڈیو کے زریعے سیلاب متاثرین کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے مداحوں سے اپیل کی ہے کہ اس مشکل گھڑی میں ان کا ساتھ دیں او ر پیچھے نہ ہٹیں . بشری انصاری نے کہا کہ پاکستان اس وقت نوے فیصد تو ڈوب چکا ہے.ہم ایک ایسی آفت میں گھرے ہیں جس پر ہمارا زور نہیں ہے یہ صرف اللہ کی رضا ہے. بشری انصاری نے کہا کہ پنجاب کے پی کے ہر طرف پانی ہی پانی ہے ، بیماریوں سے لوگ مررہے ہیں، بچے بیمار ہیں ، گھر ڈوب چکے ہیں ، سانپ کے کاٹنے سے لوگ موت کے منہ میں جا رہے ہیں. بشری انصاری نے مزید کہا کہ سننے میں آرہا ہےکہ ڈیرہ اسماعیل خان تو

    نوے فیصد ڈوب گیا ہے وہاں بہت بڑے پیمانے پر مالی اور جانی نقصان ہوا ہے. بشری انصاری نے کہا کہ ہم سب خوش قمست ہیں کہ اس وقت بہتر حالات میں ہیں ہم سب کو چاہیے کہ اپنی اپنی استعداد کے مطابق متاثرین سیلاب کی مدد کریں وہ ہماری مدد کے منتظر ہیں. ضروری نہیں ہے کہ پیسے ہی دئیے جائیں جسکی جو استعداد ہے وہ اسکے مطابق دے ، کپڑے جوتے ،دوائیاں جو بھی دے سکتے ہیں وہ بھجوائیں کیونکہ کھلے آسمان کے تلے لوگ امداد کے منتظر ہیں کئی کئی دنوں‌کے بھوکے ہیں.

  • مشکل وقت میں چیزیں مہنگی فروخت کرنے والوں کے حج کیا کہتے ہیں  رابی پیرزادہ

    مشکل وقت میں چیزیں مہنگی فروخت کرنے والوں کے حج کیا کہتے ہیں رابی پیرزادہ

    گلوکارہ اداکارہ ، پینٹر اور سماجی کارکن رابی پیرزادہ نے حال ہی میں اپنی ایک وڈیو جاری کی ہے اس میں انہوں نے کہا کہ ہم سب پر اس وقت فرض ہے دکھی بہن بھائیوں کی مدد کرنا. اور اپنے عطیات ان کو دیں جن پر آپ کو یقین ہے کہ وہ آگے بھی پہنچائیں گے ورنہ ہماری فائونڈیشن حاضر ہے. رابی پیرزادہ نے یہ بھی کہا کہ میری فائونڈیشن میرے اپنے پیسوں سے چلتی ہے میں چندے اکٹھے نہیں کرتی. میں اپنی پینٹنگز اپنا آرٹ بیچ کر اپنی فائونڈیشن چلا رہی ہوں. مجھ سے بہت سارے لوگوں نے پوچھا کہ سیلاب زدگان کے لئے میں کیا کررہی ہوں تو میں پہلے اس لئے خاموش تھی کیونکہ میں اپنی پینٹنگز کے فروخت ہونے کی منتظر تھی اور ویسے بھی اب مجھے کسی نے ایک لاکھ روپے کا ارینج کر کے دیا ہے تو میں ان سے سیلاب زدگان کے لئے چیزیں خریدنے نکلی ہوں. رابی نے بتایا کہ چند روز پہلے جو ٹینٹ تین ہزار روپے کا تھا وہ اس وقت دس ہزار روپے کا ہے .میں

    نےشاپ کیپر حاجی صاحب سے کہا کہ آپ کے حج عمرے کیا کہتے ہیں جب آپ نے چیزیں ہی مہنگے داموں فروخت کرنی ہیں اور اس ٹائم پہ ایسا کرنا ہے جب انسانیت پریشان ہے دکھی ہے بے حال ہے. رابی نے مزید کہا کہ اللہ نے حج عمرہ زکوۃ ہر چیز کی پوچھ گچھ کرنی ہے لیکن سب سے پہلے یہ دیکھنا ہے کہ ہم نے اسکی مخلوق کے لئے کیا کیا. رابی نے بتایا کہ وہ اس وقت ایک لاکھ روپے کی پیناڈول ، سپرو فلاکس جو کہ پیٹ درد کے لئے ہے وہ اور ٹینٹس کے ساتھ چنے اور گڑ سیلاب زدگان کے لئے بھجوا رہی ہوں. رابی نے کہا کہ مجھ سے اپنے تائیں جو بن پاتا ہے میں کرتی ہوں ابھی کچھ لوگوں کی چھتیں لیک کررہی تھیں ان کو ٹھیک کروایا. میری آپ سب سے گزارش ہے کہ اس مشکل گھڑی میں اپنے بہن بھائیوں کا ساتھ دیں .

  • عرفی جاوید میری چیلی ہے میں نے اسکو متعارف کروایا راکھی ساونت

    عرفی جاوید میری چیلی ہے میں نے اسکو متعارف کروایا راکھی ساونت

    ڈرامہ کوئین راکھی ساونت نے حال ہی میں ایک انٹرویو دیا ہے اس میں انہوں نے کہا ہے کہ ماڈل عرفی جاوید میری چیلی ہے اسکو میں انڈسٹری میں لیکر آئی .مجھے خوشی ہے کہ وہ میرے نقش قدم پر چل رہی ہے. وہ سٹائل آئی کون بن رہی ہے فیشن ڈیزائنر بن رہی ہے. ایک سوال کے جواب میں راکھی نے کہا کہ عرفی ایک آزاد انسان ہے وہ جو مرضی چاہے پہنے، میں اسکو عزت کی نگاہ سے دیکھتی ہوں. وہ کم کپڑے پہنے یا زیادہ یہ اسکی مرضی ہے ہم کون ہوتے ہیں جو اسکو روکیں. دیش بھر سے اسکو گالیاں پڑ رہی ہیں صرف اسلئے کے وہ اپنی مرضی کی ڈریسنگ کرتی ہے جو دل چاہے وہ پہنتی ہے بھئی کسی کو کیا مسئلہ ہے؟ اور میں عرفی کی ماں یا باپ نہیں‌ ہوں جو اس پر

    روک ٹوک لگائے. عرفی کو بہت اچھی طرح‌معلوم ہے کہ اس نے کیا کرنا ہے کیا نہیں‌ کرنا، کیا پہننا ہے کیا نہیں. وہ ساڑھی بھی پہنے گی تو میں اسکو پیار کرں گی نہیں بھی پہنے گی ساڑھی تو بھی میں اسکو پیار کروں گی. راکھی نے مذاق کرتے ہوئے کہا کہ مجھے تو لگتا ہے کہ عرفی رات بھر سوتی ہی نہیں کپڑے ہی سلواتی رہتی ہے اور سوچتی رہتی ہے کہ کل کیا پہننا ہے. ایک سوال کے جواب میں راکھی نے کہا کہ عادل کو بولڈ ڈریسنگ نہیں پسند اس لئے میں ایسے لباس نہیں‌ پہن رہی جس سے وہ ناراض‌ ہو جائے. میں ویسے بن کے رہنا چاہتی ہوں جیسا عادل چاہتے ہیں.