Baaghi TV

Category: شوبز

  • جیکولین فرینینڈنس منی لانڈرنگ کے الزام میں نامزد

    جیکولین فرینینڈنس منی لانڈرنگ کے الزام میں نامزد

    جیکولین فرینینڈنس پھنس گئی ہیں مشکل میں. کیونکہ چندرا شیکھر کے خلاف دو سو کروڑ (بھارتی) روپے کے منی لانڈرنگ کے مقدمے میں انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ آف انڈیا نے ادکارہ کو نامزد کر دیا گیا ہے. اس حوالے سے نئی دلی کی عدالت میں مقدمے کی ایک سپلیمنڑی چارج شیٹ بھی جمع کروائی گئی ہے۔انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے حکام کا کہنا ہے کہ اداکارہ کو معلوم تھا کہ انہیں جو رقم یا تحائف سکیش چندرا شیکھر کی جانب سے دی گئی ہے اس سے متعلق کیس چل رہا ہے۔جو رپورٹس سامنے آرہی ہیں ان کے مطابق چندرا شیکھر نے اداکارہ کو تحائف میں گھر، قیمتی کار، برانڈڈ بیگ اور دیگر اشیا دیں اور جیکولین فرینینڈنس ان سے قیمتی تحائف لینے کا اعتراف بھی کر چکی ہیں.

    خیال رہےکہ جیکولین فرنینڈس 200 کروڑ (بھارتی) روپے سے زائدکے فراڈ اور بھتہ خوری میں ملوث گرفتار ملزم چندرشیکھرکےکیس میں زیر تفتیش ہیں.جیکولین فرنینڈس کا بنیادی طور پر تعلق سری لنکا سے ہے وہ 2006 کی مس یونیورس سری لنکا کی فاتح ہیں. انہوں نے بالی وڈ میں فلم علائو الدین سے قدم رکھا بہترین اداکارہ ہونے کے ساتھ ساتھ بہترین رقاصہ بھی ہیں،. جیکولین ابھی تک بالی وڈ کے تقریبا تمام بڑے ہیروز کے ساتھ کام کر چکی ہیں ” توں لیا دے مینوں گولڈن جھمکے ” گیت پر ان کا رقص خاصا مشہور ہوا تھا. اس کے علاوہ سلمان خان کے ساتھ جمعے کی رات پر بھی ان کے ڈانس کو بہت پذیرائی ملی.

  • سید نور بھی دالیجنڈ آف مولا جٹ پر بول پڑے

    سید نور بھی دالیجنڈ آف مولا جٹ پر بول پڑے

    دا لیجنڈ آف مولا جٹ کا ٹریلر دیکھ کر جہاں سب ہی بہت خوش وہیں سید نور بھی ہیں کافی خوش. انہوں نے حال ہی میں ایک انٹرویو کے دوران کہا ہے کہ وہ دا لیجنڈ آف مولا جٹ کا ٹریلر دیکھ کر بہت خوش ہوئے ہیں اور اس میں سب ہی اداکار بہت اچھے لگ رہے ہیں. سید نور نے کہا کہ فلم کا ٹریلر بتا رہا ہے کہ فلم بہت اچھی ہو گی. اس فلم میں پنجابی کا ایک ٹچ نظر آرہا ہے. بڑے بجٹ کی بڑی فلم ہے اسکی کامیابی کے لئے ہماری بہت ساری دعائیں ہیں.ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میں پرانی اور نئی مولا جٹ کا مقابلہ نہیں کروں گا ہمیں فلموں کے موازنے نہیں کرنے چاہیں موازنہ بنتا ہی نہیں ہے.

    پرانی مولا جٹ کا اپنا مقام تھا اس فلم کا اپنا مقام ہے اور معیار ہے. مجھے سمجھ نہیں آتی کہ کیوں پرانی فلم کا نئی فلم کے ساتھ موازنہ کیا جا رہا ہے. ایک سوال کے جواب میں سید نور نے کہا کہ اگر کردار اچھا ہو تو فنکار اچھا نبھا لیتا ہے لیکن اگر کردار ہی اچھا نہ ہو تو بڑے سے بڑا فنکار بھی اسکو اچھے سے نہیں نبھا سکتا. میری ہر فلم کے لئے دعا ہوتی ہے کہ وہ چلے کامیابی ھاصل کرے، فلمیں چلیں گی تو ہماری فلمی صنعت بھی پائوں پر کھڑی ہو گی لہذا ہم سب کا فرض ہے کہ ایک دوسرے کی فلم کو سپورٹ کریں.انہوں نے کہا کہ میری دعا ہے کہ دا لیجنڈ آف مولا جٹ دو سو کروڑ کا بزنس کرے.

  • مشک کلیم زمانہ طالب علمی میں ہونے والی تقریبات میں جانے سے کیوں تھیں گریزاں ؟

    مشک کلیم زمانہ طالب علمی میں ہونے والی تقریبات میں جانے سے کیوں تھیں گریزاں ؟

    مشک کلیم کا شمار نئی نسل کی باصلاحیت ماڈلز میں ہوتا ہے ان کے کام کے منفرد انداز نے ان کو ٹاپ ماڈلز کی صف میں لا کر کھڑا کر دیا ہے. مشک کلیم تمام برینڈز کے ساتھ کام کر چکی ہیں. انہوں نے حال ہی میں ایک انٹرویو دیا ہے اس میں انہوں نے بتایا ہے کہ وہ کس قدر شوقین تھیں ساڑھی زیب تن کرنے کی لیکن ان کی والدہ انہیں بالکل بھی ساڑھی زیب تن کرنے کی اجازت نہیں دیتی تھیں . مشک کلیم نے سوشل میڈیا پر اپنی ایک تصویر اپ لوڈ کی اور اس کے کیپشن میں ایک کہانی لکھ ڈالی بولیں کہ مجھے شادی سے پہلے خصوصی طور پر سکول کالج کے زمانے میں ساڑھی پہننے کی بالکل بھی اجازت نہیں تھی میں جب دیکھتی تھی کہ سکول کالج میں ہونے والی تقریبات میں دوسری لڑکیوں نے ساڑھی پہن رکھی ہے تو میں

    انہیں دیکھ کر ناخوش ہوتی تھی یہاں تک کہ میں کوئی تصویر بھی نہیں بنواتی تھی. انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ان کی والدہ انہیں ساڑھی زیب تن کرنے کی اجازت کیوں نہیں دیتی تھیں ، انہوں نے بتایا کہ ان کی والدہ کہا کرتی تھیں کہ ساڑھی صرف شادی شدہ عورتیں پہنتی ہیں بچیاں ساڑھی پہنے ہوئے اچھی نہیں لگتیں.مشک کلیم کے مطابق وہ بہت کوشش کرتی تھیں کہ ان کی والدہ مان جائیں اور ساڑھی پہننے کی اجازت مل جائے لیکن ایسا کم ازکم سکول کالج کے زمانے میں نہ ہو سکا.

  • رجنی کانت کے کیرئیر کی 47 بہاریں مکمل

    رجنی کانت کے کیرئیر کی 47 بہاریں مکمل

    رجنی کانت ہندوستانی اداکار، پروڈیوسر اور سکرین رائٹر ہیں جو بنیادی طور پر تامل فلموں کے ہیرو ہیں انہیں تامل فلموں‌کا سپر سٹار بھی کہا جا تا ہے .انہوں نے ہندی فلموں میں بھی اپنے فن کا جادو جگایا اور ہندی فلموں میں بھی ان کو کافی پذیرائی ملی. رجنی کانت نے اپنی اداکاری سے کروڑوں دل جیتے.انہیں ان کی صلاحیتوں کے اعتراف میں بڑے ایوارڈز سے بھی نوازا جا چکا ہے. یہاں تک کہ انہیں بھارتی فلمی صنعت کے سب سے اہم اعزاز ‘دادا صاحب پھالکے’ سے بھی نوازا گیا. رجنی کانت کے فلمی کیرئیر کو 47 سال مکمل ہو گئے ہیں.

    رجنی کانت کے جہاں بہت سارے مداح ہیں وہیں نریندر مودی بھی ان کے بہت بڑے مداح ہیں انہوں نے ایک بار کہا تھا کہ ”آپ تمام طبقوں کے پسندیدہ اداکار ہیں آپ جیسی اداکاری کرنا سب کے بس کی بات نہیں ہے”. رجنی کانت کے 47سالہ کیرئیر کا جشن ان کے گھر والوں نے خصوصی طور پر بیٹیوں نے منایا. ان کی بیٹیوں ایشوریا اور سندریا نے اس جشن کی تصاویر سوشل میڈیا پر جاری کیں اور لکھا ” آزادی کے 76 سال، تمام قربانیوں اور جدوجہد کو سلام، رجنی کانت کی بیٹی ہونے پر فخر ہے” .یاد رہے کہ رجنی کانت جن کا مداح ہر دوسرا بڑا فنکار ہے لیکن وہ ہیں مداح امیتابھ بچن کے. ان کا کہنا ہے کہ امتیابھ بچن کے ساتھ ”اندھا قانون اور ہم” جیسی فلموں میں کام کرکے بہت کچھ سیکھا.

  • آج جو فلمیں بن رہی ہیں وہ فلمیں کم اور ڈرامہ زیادہ لگ رہی ہیں معمر رانا برس پڑے

    آج جو فلمیں بن رہی ہیں وہ فلمیں کم اور ڈرامہ زیادہ لگ رہی ہیں معمر رانا برس پڑے

    نوے کی دہائی کی پاکستانی فلموں میں تازہ ہوا کا جھونکا ثابت ہونے والے معمر رانا آج کی فلموں پر برس پڑے ہیں. انہوں نے کہا کہ ہے آج جو فلمیں بن رہی ہیں وہ ڈرامہ زیادہ اور فلمیں کم لگتی ہیں .انہوں نے کہا کہ فلم اور ڈرامے کی تکنیک میں‌فرق ہوتا ہے اس فرق کو سمجھنے کی ضرورت ہے. انہوں نے یہ بھی کہا کہ جو لوگ میرے اس نقطے کو سمجھنتے ہیں کہ میں اصل میں‌کہنا کیا چاہ رہا ہوں وہ اتفاق کریں گے کہ فلم اور ٹی وی کی تکینیک میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے نئے فلم میکرز کو اس فرق کو سمجھنا چاہیے. میں نئے کام کرنے والوں پر یا آج جو کام کررہے ہیں ان پر تنقید نہیں‌کررہا ہوں لیکن میں سمجھانے

    کی کوشش کررہا ہوں کہ فلم فلم لگنی چاہیے اور ڈرامہ ڈرامہ لگنا چاہیے. انہوں نے مزید کہا کہ فلمیں زیادہ سے زیادہ بننی چاہیں اور بن بھی رہی ہیں اچھی بات یہ ہے کہ بزنس بھی اچھا کررہی ہیں لیکن کیا ہی اچھا ہو کہ اگر فلم فلم لگے ڈرامہ نہ لگے. یاد رہے کہ معمر رانا کی رواں برس پنجابی فلم گوگا لاہوریا ریلیز ہوئی تھی اس فلم نے پنجاب کی حد تک اچھا بزنس کی تھا لیکن بہت سارے لوگوں نے سوشل میڈیا پر تنقید کی تھی اور کہا تھا کہ 2022 میں بھی گوگا لاہوریا جیسی فلمیں بنائی جا رہی ہیں.

  • صبا قمر کا دل کس نے توڑا ؟

    صبا قمر کا دل کس نے توڑا ؟

    باصلاحیت اداکارہ ”صبا قمر” نے حال ہی میں ایک انٹرویو دیا ہے اس میں انہوں نے کہا کہ میں نے انڈسٹری میں بہت سارے لوگوں پر اعتماد کیا ان میں سے زیادہ تر لوگوں نے میرے اعتماد کو توڑا ہی لیکن میں سمجھتی ہوں کہ جو ہوتا ہے اچھے کے لئے ہوتا ہے اور ہمیں سیکھنے کو بہت کچھ ملتا ہے. وقت اور ھالات یہاں تک کہ رویے بہت کچھ سکھا دیتے ہیں. میں نے بھی بہت کچھ سیکھا ہے. صبا قمر نے مزید کہا کہ میری خوبصورتی کی کوئی تعریف کرے تو مجھے بہت اچھا لگتا ہے لیکن اگر کوئی میری اداکاری کی تعریف کرے تومجھے زیادہ اچھا لگتا ہے. صبا قمر نے کہا کہ میں لوگوں کے رویوں سے بہت کچھ

    سیکھتی ہوں اور لوگوں کے رویے سے سیکھا ہوا بہت کام آتا ہے اور میرے بھی بہت کام آیا ہے. ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جب تک مجھے لوگ پسند کرتے رہیں گے میں کام کرتی رہوں گی لیکن جب میں نے محسوس کیا کہ لوگ مجھے اب دیکھنا نہیں چاہتے تو میں پیچھے ہٹ جائوں گی اور کسی کو نظر نہیں آئوں گی. صبا نے مزید کہا کہ میں نے کام کو عبادت سمجھ کر کیا ہےاور میری کوشش ہوتی ہے کہ پہلے سے زیادہ اچھا کام کروں میری خوش قسمتی ہے کہ مجھے میرے مداحوں نے ہمیشہ سراہا . یاد رہے کہ سرمد سلطان کھوسٹ کی ڈائریکشن میں بننے والی فلم کملی میں صبا قمر کی لاجواب اداکاری نے شائقین اور ناقدین کے دل جیت لئے.

  • شہود علوی ڈرامے کی موجودہ صورتحال پر کیا کہتے ہیں؟

    شہود علوی ڈرامے کی موجودہ صورتحال پر کیا کہتے ہیں؟

    نامور اداکارہ شہود علوی نے حال ہی میں ڈرامے کی موجودہ صورتحال پر کھل کر کی ہے گفتگو ان کا کہنا ہے کہ ہمارے ہاں ایک سال میں دو سو ڈرامہ بن رہا ہے اور ہر ڈرامہ دوسرے کو مات دے رہا ہے. ہر ڈرامے کی کہانی دوسرے سے مختلف ہے، مختلف موضوعات پر کہانیاں بنائی جا رہی ہیں.ہمارے پاس ایک سے بڑھ کر ایک آرٹسٹ ہے. شہود علوی نے یہ بھی اعتراف کیا کہ میں مانتا ہوں کہ ایک وقت ایسا بھی آیا کہ ہمارے لوگ بھارتی ڈراموں کے مداح بن گئے تھےبھارتی ڈرامہ ان کے اعصاب پر سوار ہو گیا تھا لیکن بہت جلد ہی پاکستانی بھارتی ڈرامے سے اکتا بھی گئے ہم نے اپنے ڈرامے کو بہتر بنایا اور اپنے ڈرامے کو اصل

    حالت میں واپس لیکر آئے یوں پاکستانیو‌ں نے ایک بار پھر اپنے ڈرامے دیکھنا شروع کر دئیے. شہود علوی نے کہا کہ بھارتی ڈراموں میں سوائے گلیمر کے کچھ بھی نہیں ہوتا. ہمارے ہاں ڈراموں میں گلیمر پر کم اور کہانی اور موضوع پر زیادہ توجہ دی جاتی ہے. ڈرامے کی بہتری کے لئے میں اپنا جتنا حصہ ڈال سکتا تھا میں نے ڈالا اور بہتر سے بہترین کام کرنے کی کوشش. یقینا ہر کوئی اپنے حصے کا بہترین کام کررہا ہے.ہمارا ڈرامہ بھارت میں کل بھی مقبول تھا اور آج بھی مقبول ہے.شہود علوی نے یہ بھی کہا کہ نئے فنکاروں کی کھیپ بہت زبردست ہے.

  • شاہ رخ سے اکثر کہتی تھی تمہاری شکل سٹار والی نہیں لیکن قسمت سٹارز والی ہے جوہی چاولہ

    شاہ رخ سے اکثر کہتی تھی تمہاری شکل سٹار والی نہیں لیکن قسمت سٹارز والی ہے جوہی چاولہ

    بالی وڈ کی اداکارہ جوہی چاولہ اور شاہ رخ خان کی دوستی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے دونوں کی دوستی ان کی پہلی فلم سے چلی آرہی ہے آج بھی شاہ ر خ اور جوہی بہترین دوست کہلائے جاتے ہیں. یہاں تک کہ شاہ رخ کے بیٹے آریان پر منشیات کیس میں جب برا وقت آیا تو جوہی چاولہ ضامن بنیں. جوہی چاولہ نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ شاہ رخ خان سے جب میں پہلی بار ملی تو متاثر نہیں ہوئی تھی نہ ہی کوئی یہ مجھے بہت خوبصورت لگے تھے لیکن جب ایک ساتھ کام کیا تو بہت متاثر ہوئی کمال کا کام کرتے تھے ہماری فلمیں ایکساتھ چلیں ہوتے ہوتے ہماری دوستی ہوگئی یہاں تک کہ ہم نے ایک پروڈکشن ہائوس بھی بنایا گوکہ مجھے اس کام کے بارے میں زیادہ پتہ نہیں تھا.اکثر یہ ہوتا تھا کہ فلم کے سیٹ سے میں گھر آجاتی تو گھر آکر یا راستے میں یاد آتا کہ مجھے تو سیٹ پر ہونا چاہیے تھا میں تو پرڈیوسر ہوں. جوہی چاولہ نے مزید یہ بھی کہا کہ میں اکثر شاہ رخ خان سے کہا کرتی تھی کہ تمہاری شکل تو سٹارز والی نہیں ہے لیکن تمہاری قسمت سٹارز والی

    ضرور ہے. جوہی نے کہا کہ میں بھی کوئی بہت زیادہ خوبصورت نہیں تھی جب مجھے مس انڈیا کا خطاب ملا تو میں حیران رہ گئی خود کو آئینے میں دیکھا کہ میں اتنی خوبصورت ہوں تو نہیں. انہوں نے مزید کہا کہ میں کالج کے فیشن شوز اور حسن کے مقابلوں میں حصہ لیا کرتی تھی میری فرینڈز نے مس انڈیا کے مقابلے میں حصہ لینے کا پلان کیا تو میں نے بھی سوچا کہ یہ ایسا کر سکتی ہیں تو پھر میں کیوں ایسا نہیں کر سکتی. مجھے یاد ہے کہ جب مس انڈیا کے مقابلے کے لئے فارم بھرا تو ابو کے پاس سائن کروانے گئی تو انہوں نے میری طرف حیران ہو کر دیکھا. جوہی نے بتایا کہ میری خالہ کی شادی پاکستان میں ایوریڈی پکچرز والوں کی فیملی میں ہوئی تھی وہ کراچی رہتی ہیں میں ان سے ملنے جانا کرتی ہوں.

  • پرائیڈ آف پرفارمنس کےلئے انجمن حکومت پاکستان کی ہیں شکر گزار

    پرائیڈ آف پرفارمنس کےلئے انجمن حکومت پاکستان کی ہیں شکر گزار

    اداکارہ انجمن جن کو پرائیڈ آف پرفارمنس دئیے جا نے کا اعلان کیا گیا ہے وہ اس اعلان پر ہیں بہت خوش. ان کا کہنا ہے کہ مجھے یہ ایوارڈ کافی لیٹ مل رہا ہے لیکن پھر بھی میں حکومت پاکستان کی شکر گزار ہوں کہ انہوں نے عزت بخشی ہے. میں بہت محسوس کرتی تھی جب مجھ سے بعد میں آنے والوں کو پرائیڈ آف پرفارمنس ملتا تھا لیکن میں خاموش ہی رہتی تھی کچھ نہیں کہتی تھی. میرے مداح بہت افسردہ رہتے تھے کہ کیوں مجھے یہ ایوارڈ نہیں دیا جا رہا تھا لیکن یقینا میرے مداح بھی اب میری طرح کافی خوش ہیں. انجمن کا کہنا ہے کہ میں نے ہمیشہ بہت محنت سے کام کیا اور میرے کام کو عوام میں بہت

    پذیرائی ملی، میری فلمیں کئی کئی مہینے سینما گھروں سے نہیں اترتی تھیں. میری تقریبا فلموں نے ڈائمنڈ ،گولڈن اور پلاٹینیم جوبلی کی. مجھے کسی سے کوئی گلہ شکوہ نہیں ہے، میرا چونکہ قسمت پر بہت یقین ہے لہذا ہمیشہ ہر معاملے میں یہی سوچا کہ جب جو قسمت میں ہو گا مل جائیگا. انجمن نے مزید یہ بھی کہا کہ مجھے اب بھی اگر کوئی اچھا اور پاور فل کردار آفر ہو گا تو یقینا میں کروں گی. آج کل کے فنکار بہت اچھا کام کررہے ہیں ان سب کا کام دیکھ کر دل کو خوشی ہوتی ہے.اچھی اور مثبت بات یہ ہے کہ فلمیں اچھا بزنس کررہی ہیں.

  • شبنم نے انجمن کو پرائیڈ آف پرفارمنس کے لئے نامزد ہونے پر دی مبارکباد

    شبنم نے انجمن کو پرائیڈ آف پرفارمنس کے لئے نامزد ہونے پر دی مبارکباد

    پاکستان کی 75ویں سالگرہ کے موقع پر صدر مملکت نے 253ملکی اور غیر ملکی شخصیات کو اپنے اپنے شعبوں میں بہترین کارکردگی کے مظاہرے پر اعزازات دینے کا اعلان کیا ہے۔ اس سلسلے میں وزرات اطلاعات کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق صدر مملکت ان شخصیات کو آئندہ سال 23مارچ کو ایوارڈ دیں گے۔ نشان امتیاز پانے والوں میں جہاں مختلف شعبوں سے مختلف شخصیات نامزد ہوئی ہیں ان میں پنجابی فلموں کی سپر ہٹ اداکارہ ”انجمن “بھی نامزد ہوئی ہیں.اداکارہ انجمن کو پرائیڈ آف پرفارمنس دئیے جانے کا اعلان ہونے کے بعدان کے پرستاروں میں خوشی کی ایک لہر دوڑ گئی اس خبر پر نہ صرف ان کے مداح خوش ہوئے بلکہ ان کے ساتھ فنکار بھی بہت خوش ہوئے۔ انجمن کی سینئر اداکارہ شبنم نے ان کے لئے ایک

    پیغام بھیجا انہوں نے کہا کہ میں بہت خوش ہوں کہ آپ کو پرائیڈ آف پرفارمنس دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔ آپ نے پنجابی فلموں میں کام کیا اور بہت عرصہ تک فلم انڈسٹری پر راج کیا ، آپ نے فلم انڈسٹری کو سنبھالے رکھا آپ اس ایوارڈ کی حق دار ہیں ۔شبنم نے مزید کہا کہ مجھے خوشی اس بات کی ہے کہ یہ ایوارڈ آپ کو آپ کی زندگی میںہی مل گیا اور اس سے بڑھ اور کیا ہو سکتا ہے کہ کسی بھی فنکار کو اسکی زندگی میں ایوارڈ ملے اور اس کے کام کو سراہا جائے۔ میں اس ایوارڈ کو ملنے پر آپ کو دل کی گہرائیوںسے مبارکباد دیتی ہوں ۔