Baaghi TV

Category: شوبز

  • متھیرا نے کر لیا ایک بڑا فیصلہ

    متھیرا نے کر لیا ایک بڑا فیصلہ

    میزبان و اداکارہ متھیرا کہتی ہیں کہ انہوں‌ نے اب فیصلہ کر لیا ہے کہ وہ اب خود کو ڈھانپ کر رکھیں گی اور خود کو کور کرکے رکھنے والا لباس ہی زیب تن کریں گی. اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں متیھرا نے کہا ہے کہ میں اب فیصلہ کر چکی ہوں‌ کہ اپنی سکن کسی کو نہیں دکھائوں گی جو اطمینان اور سکون خود کو ڈھانپ کر رکھنے میں ہے وہ کسی دوسری چیز میں‌نہیں‌. اللہ تعالی سے رابطہ رکھا جائے تو وہ آپ کی خطائیں معاف کرکے آپ پر اپنی رحمتوں‌کی بارش کر دیتا ہے. اور میں اب اپنے اس فیصلے پر قائم رہوں گی. متھیرا نے مزید

    کہا کہ اللہ تعالی سے گفتگو کرنے کے جو سکون ملتا ہے وہ بیان سے باہر ہے. میں نے آج تک اللہ تعالی سے جو بھی مانگا انہوں نے مجھے دیا میری دعا قبول کی. متھیرا نے دعوی کیا کہ ان کی دعائیں چند دنوں‌میں ہی قبول ہوجاتی ہیں. متھیرا نے یہ بھی کہا کہ انسان کو اپنی زندگی کے گولز سیٹ کرکے رکھنے چاہیں اور منصوبہ بندی کے ساتھ گزارنی چاہیے بغیر مقصد کے زندگی بھی کیا زندگی ہے. متھیرا نے نوجوان نسل کو بھی پیغام دیا کہ وہ بھی اپنا وقت ضائع نہ کریں اور الٹے سیدھے کاموں میں‌پڑنے کی بجائے اپنی زندگی کا مقصد تلاش کریں اور وطن سے محبت کریں.

  • میشا شفیع نے بتا دیا کہ زندگی کب شروع ہو تی ہے؟

    میشا شفیع نے بتا دیا کہ زندگی کب شروع ہو تی ہے؟

    معروف گلوکارہ میشا شفیع جو اکثر و بیش تر متنازعہ ٹویٹس ہی کرتی ہیں انہوں نے حال ہی میں زندگی کے بارے میں ایک ٹویٹ کیا ہے اور کہا ہے کہ زندگی تو تیس سال کے بعد شروع ہوتی ہے۔اس سے پہلے کے جو سال ہوتے ہیں ان میں تو بس انسان کی تربیت ہی ہو رہی ہوتی ہے اور ہمیں اس حقیقت کو سمجھ جانا چاہیے کہ زندگی کی اصل شروعات تیس سال کے بعد ہے۔ انہوں نے مزید یہ بھی کہا کہ ہر صبح زندگی اس وقت شروع ہوتی ہے جب آپ ایک نئے دن کے لئے شعور حاصل کرتے ہی میشا شفیع کے ان ٹویٹس کے نیچے بہت سارے کمنٹس آئے اور زندگی کے

    بارے میں ان کے فلسفے سے کو جہاں صارفین نے سراہا وہیں ان کی منطق کو عجیب کہا۔میشا شفیع سوشل میڈیا پر کافی متحرک رہتی ہیں حال ہی میں سپر ہٹ فلم لندن نہیں جائونگا میں ان کا ایک گیت شامل کیا گیا ہے جس کا نام ہے ”ساڈے نی ویہڑے وچ چانن ماہی دا” اس گیت کو اداکارہ کبری خان اور ہمایوں سعید پر پکچرائز کیا گیا ہے گانے کو کافی پسند کیا جا رہا ہے خصوصی طور پر میشا شفیع کی بہت تعریف کی جا رہی ہے کہ انہوں نے گیت بہت اچھا گایا ہے۔ میشا شفیع نے اس سے قبل بھی گیت گائے ہیں لیکن فلموں کے لئے باقاعدہ سولو ان کا یہ پہلا گیت ہے جسے شائقین کی طرف سے خاصی پذیرائی مل رہی ہے۔
    یاد رہے کہ گلوکار علی ظفر ہر ہراسانی کے الزام کے بعد گلوکارہ کو کافی تنقید کا سامنا ہے کیس تاحال عدالت میں چل رہا ہے فیصلہ آنے پر ہی پتہ چلے گا کہ کون سچا ہے اور کون جھوٹا۔

  • عارف لوہار اپنا پہلا عشق کسے کہتے ہیں؟‌

    عارف لوہار اپنا پہلا عشق کسے کہتے ہیں؟‌

    فوک گلوکار عارف لوہار نے حال ہی میں ایک انٹرویو دیا ہے اس میں انہوں نے بتایا ہے کہ ان کا پہلا عشق کون ہے. عارف لوہار نے کہا ہے کہ میرا پہلا عشق میرے والد ہیں میں‌نے ان سے بہت کچھ سیکھا. ہم جدید زمانے کے ساتھ چل ضرور رہے ہیں لیکن کبھی بھی اپنی روایات کو نہیں چھوڑا نہ ہی ملک ملک پھرنے کے بعد بھی اپنے انداز اور ملبوسات کو تبدیل کیا ہے میں آج بھی وہی پہنتا ہوں جو ہمارے خاندان کی روایت ہے. میں‌آج بھی لاچا پہنتا ہوں میرے بچے بھی لاچا پہنتے ہیں اور رتی برابر بھی نہیں‌کبھی کہا کہ یہ کیا لباس ہم پہن رہے ہیں یا ہمیں‌لباس تبدیل کرنی کی اجازت دی

    جائے وہ بھی ہمارے خاندان کی روایات کو لیکر چل رہے ہیں. عارف لوہار نے مزید کہا کہ میں اپنی بیوی سے بہت محبت کرتا تھا آج بھی کرتا ہوں میری اہلیہ میرے دکھ سکھ کی ساتھی تھیں وہ بیوی تو اچھی تھیں ہی لیکن بہت اچھی ماں بھی تھیں. میری بیوی خوبیوں کا مجموعہ تھیں، ان کا یوں دنیا سے چلے جانا یقینا میرے لئے بہت بڑا دھچکا ہے. انہوں نے مزید کہا کہ ہر گلوکار کی اپنی اپنی خصوصیت ہے کوئی کچھ گاتا ہے کوئی کچھ گاتا ہے.عارف لوہار کہتے ہیں‌کہ انہیں صوفی کلام سے خاص قسم کی عقیدت ہے. جس تن نوں لگدی اوتن جانے گانا میرے دل کے بہت قریب ہے۔ یاد رہے کہ عارف لوہار ایک شو کی غرض سے ملک سے باہر ہیں اگلے ماہ وطن واپسی کریں گے.

  • آج بننے والی فلموں کو ہم مکمل فلم نہیں کہہ سکتے  لیلی

    آج بننے والی فلموں کو ہم مکمل فلم نہیں کہہ سکتے لیلی

    نوے کی دہائی کی خوبصورت اداکارہ لیلی جو ایک عرصہ سے سٹیج ڈراموں سے منسلک ہیں انہوں نے حال ہی میں ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ایک فنکارکوفنون لطیفہ کے تمام شعبوں میں کام کرنا چاہیے لیکن ہمارے ہاں کچھ یوں ہوتا ہے کہ ایک اداکار اگر ٹی وی ڈراموں‌سے شہرت حاصل کرلیتا ہے تو وہ وہیں تک خود کو محدود کر لیتا ہے اور فلموں میں‌ چلا جائے تو پھر وہ ٹی وی میں واپسی نہیں کرتا.یہ بہت ہی غلط رجحان ہے ایسا نہیں‌ ہونا چاہیے. لیلی نے ایک سوال کے جواب میں‌ کہا ہے کہ پاکستان میں‌جو اس وقت فلمیں بن رہی ہیں انہیں‌ ہم مکمل فلمیں‌ نہیں‌ کہہ سکتے یہ فلمیں اس لئے بہتر نظر آرہی ہیں کیونکہ جدید ٹیکنالوجی کو استعمال کرکے ان کے

    بنایا جا ررہا ہے. ساتھ ہی لیلی نے پاکستان میں‌اچھی فلموں‌کے دور کی واپسی کی بھی امید کی اور کہا ہے کہ جیسا کام ہورہا ہے پاکستانی فلموں کا دور جلد واپس آجائیگا. لیلی نے کہا کہ میں‌وہ اداکارہ ہوں جس نے فلمی صنعت سے کیرئیر شروع کیا لیکن بعد میں فنون لطفیہ کے دوسرے شعبوں میں بھی قسمت آزمانے کی کوشش کی، میں نے خود کو فلموں تک محدود نہیں کیا اور نہ ہی یہ سوچا کہ میں فلموں‌کے علاوہ کچھ نہیں‌کروں گی. میں نے ڈرامے بھی کئے سٹیج بھی کیا اور میں خوش ہوں کہ میں نے فن کی خدمت کی ہے.

  • فیصل رحمان کو کس چیز کا ہے پچھتاوا؟

    فیصل رحمان کو کس چیز کا ہے پچھتاوا؟

    پاکستان فلم انڈسٹری کے سینئر اداکارہ فیصل رحمان نے حال ہی میں‌ کہا ہے کہ ہمارے ہاں نوجوان نسل کے نمائندہ ڈائریکٹرز بہت اچھا کاکام کررہے ہیں لیکن اگر بالی وڈ کی نقل کرنا بند کر دی جائے تو مزید بہتر کام سامنے آسکتا ہے. فیصل رحمان نے کہا کہ میں نے آج کل ہونے والا کام دیکھا ہے خوش ہوں‌کہ اچھا کام ہو رہا ہے. فیصل رحمان نے مزید کہا کہ مجھے بہت زیادہ افسوس ہے کہ میں نے پنجابی فلموں میں‌کام نہیں‌کیا، لیکن اب اگر مجھے ایسا موقع میسر
    آیا تو میں‌ضرور کروں گا. فیصل رحمان نے کہا کہ ہمارے ہاں ماضی میں بہت اچھی پنجابی

    فلمیں‌بنی ہیں. فیصل رحمان نے مزید کہا کہ ہماری مادری زبان فارسی ہے اس زبان میں بھی فلمیں بننی چاہیے. فیصل رحمان نے اسی کی دہائی میں سپر ہٹ فلمیں دی ان کے کریڈٹ پر جتنا بھی کام ہے بہت ہی زبردست ہے. فیصل رحمان کبھی کبھار ڈراموں میں‌نظر تو آجاتے ہیں لیکن ابھی تک کسی فلم کا حصہ نہیں‌ بنے. فیصل رحمان کے مداح ان کو دیکھنا چاہتے ہیں لیکن فیصل کم مگر معیاری کام کو ترجیح دیتے ہیں اس لئے ان کو جب کوئی بہتر سکرپٹ سمجھ میں آتا ہے وہ تب ہی کرتے ہیں. فیصل رحمان اداکارہ حنا الطاف کے ساتھ ڈرامہ سیریل گمراہ میں نظر آچکے ہیں ان کو اس ڈرامے میں‌کافی سراہا گیا تھا.

  • حمیرا ارشد نے اپنے خلاف ہونے والے جھوٹے پراپگینڈے کی تردید کردی

    حمیرا ارشد نے اپنے خلاف ہونے والے جھوٹے پراپگینڈے کی تردید کردی

    گلوکارہ حمیرا رشد کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ پاکستان چھوڑ کر امریکہ میں مستقل سکونت اخیتار کرنے جا رہی ہیں. حمیرا ارشد نے اس حوالے سے پھیلائی جانے والی خبروں کی سختی سے تردید کردی ہے اور کہا ہے کہ ایسا کچھ بھی نہیں ہے ان خبروں میں ایک فیصد بھی سچائی نہیں ہے. میں‌امریکہ جاتی آتی رہتی ہوں زیادہ تر شوز کے لئے جاتی ہوں اور واپس آجاتی ہوں اب بھی میں امریکہ جا رہی ہوں لیکن چند دن کے بعد واپسی ہوجائے گی میں اس بار چوداں اگست امریکہ میں‌ ہی منائوں گی دوسرے ملک کی سرزمین پہ اپنے ملک کا دن منانے کا جو مزہ ہے اسکو لفظوں میں بیان نہیں‌کرسکتی. حمیرا ارشد نے کہا کہ پتہ نہیں‌کیوں‌میرے

    حوالے سے غلط خبریں‌پھیلائی جاتی ہیں اور ہرچند دن کے بعد کوئی نہ کوئی ایسی خبر اڑا دی جاتی ہے جس کا حقیقت سے تعلق ہی نہیں ہوتا ہے. یہ چیزیں میرے لئے یقینا پریشان کن ہے ایسا نہیں‌ہونا چاہیے.پاکستان میرا ملک ہے میرا جینا مرنا یہیں‌ہے اس نے مجھے عزت شہرت دی ہے میں‌پاکستان کی نمائندہ بن کر دوسرے ملکوں میں‌جاتی ہوں تو کیسے ہو سکتا ہے کہ میں اپنا وطن چھوڑ کر کسی دوسرے ملک میں رہائش اخیتار کرلوں. ویسے تو مجھے جھوٹے پراپیگینڈا پر ریسپانس نہیں دینا چاہیے لیکن اپنے مداحوں کی وجہ سے مجھے ایسے جھوٹے پراپیگینڈوں‌کا جواب دینا پڑتا ہے اوران کی جھوٹ کی حقیقت کو بے نقاب کرنا پڑتا ہے.

  • خالد عباس ڈار سٹیج کی موجودہ صورتحال پر برس پڑے

    خالد عباس ڈار سٹیج کی موجودہ صورتحال پر برس پڑے

    سینئر اداکار خالد عباس ڈار سٹیج کی موجودہ صورتحال سے کافی نالاں ہیں وہ کہتے ہیں کہ ہم نے ڈرامے میں کلاسیکل رقص شامل کیا تھا مگر آج تو ڈانس میں ڈرامہ شامل ہو گیا ہے جو اچھا رجحان نہیں ہے۔سٹیج کی موجودہ صورتحال ایسی ہے کہ فیملیاں‌ یہاں‌ کا رخ کرنے سے کتراتی ہیں اور یہ سب سٹیج پر ہونے والے فحش رقص اور بغیر سر پیر کے سٹیج پر پیش کیا جانے والا ڈرامہ ہے. خالد عباس ڈار نے کہا کہ سٹیج پر اگر فیملیوں‌کو واپس لانا ہے سٹیج ڈرامہ زندہ کرنا ہے تو اصلاحی ڈرامے پیش کرنے ہوں گے اور فحش رقص کو ڈرامے سے نکال باہر کرنا ہو گا. جب تک اصلاحی ڈرامہ پیش نہیں‌ کیا جائیگا فیملیاں سٹیج دیکھنے نہیں آئیں گی. خالد عباس ڈار نے کہا کہ جب ہم نے سٹیج شروع کیا تھا تو اس وقت بڑے بڑے نام تھے جن کا کام

    نئے آنے والوں‌کے لئے مشعل راہ تھااس وقت باقاعدہ سٹیج ڈراموں‌کی بھی ریہرسلز ہوا کرتی تھیں.ڈرامہ باقاعدہ طور پر ڈائریکٹر کے ہاتھ میں ہوتا تھا ذو معنی جملے بولنا تو درکنار ایک جملہ بھی خود سے آرٹسٹ نہیں کہہ سکتے تھے.انہوں نے ماضی کے جھروکوں‌میں‌جھانکتے ہوئے کہا کہ میں نے جب سٹیج کا آغاز کیا تو اس وقت سینئر اداکار مسعود اختر سٹیج ڈرامے پر انٹرنینمنٹ ہیرو کے طور پر آتے تھے اور انہوں نے ہی اصل سٹیج ڈرامے کی بنیاد رکھی تھی.ایسے کمال کے لوگوں نے سٹیج ڈرامے کو عروج پر پہنچایا لیکن آج مایوس کن صورتحال ہے.

  • دیپیکا پاڈوکون اپنی کامیابیوں کا سہرا اپنے والدین کے سر کیوں رکھتی ہیں؟

    دیپیکا پاڈوکون اپنی کامیابیوں کا سہرا اپنے والدین کے سر کیوں رکھتی ہیں؟

    بالی ووڈ کی خوبصورت اور باصلاحیت اداکارہ دیپیکا پاڈوکون نے حال ہی میں ایک انٹرویو دیا اس میں انکشاف کیا کہ وہ اپنی زندگی میں بہت زیادہ پریشان رہی ہیں۔ کامیابیاں ان کے قدم چوم رہی تھیں ان کا کیرئیر صحیح سمت میں چل رہا تھا بڑی بڑی آفرز بھی آ رہی تھیں لیکن وہ بے چین تھیں پریشان تھیں ڈپریشن میں تھیں اس لئے چاہتی تھیں کہ اپنی زندگی کا خاتمہ کرلیں۔دیپیکا نے بتایا کہ یہ وہ وقت تھا جب ہر طرف ان کے نام کے چرچے تھے لیکن میرا دل تھا کہ یا تو میں مر جائوں یا پھر لمبی نیند سو جائوں ایسی نیند کے جس میں کبھی دوبارہ نہ اٹھوں۔تب میری
    ماں نے مجھے سنبھالا مجھے جینے کی امید دی اور میرے قدم کے ساتھ قدم ملا کر چلیں مجھے

    حوصلہ دیااور کہا کہ زندگی کی قدر کرو۔ دیپیکا نے بتایا کہ اگر ماں باپ مجھے ڈپریشن کے وقت سہارا نہ دیتے تو شاید وہ جی نہیں سکتی تھیں۔اداکارہ نے مزید کہا کہ آج جو کچھ بھی ہوں اپنے والدین کی مہربانیوں انکی شفقت اور محبت کی وجہ سے ہوں۔ اس انٹرویو میں دیپیکا نے ڈپریشن کی وجہ نہیں بتائی. یاد رہے کہ دیپیکا پاڈوکون کی شادی رنویر سنگھ کے ساتھ ہوئی ہے لیکن رنبیر کپور کے ساتھ بھی ان کی افئیر کی خبریں چرچا میں رہی ہیں. دیپیکا نہ صرف بہترین اداکارہ ہیں بلکہ بہترین بیوی بھی ہیں رنویر سنگھ کہتے ہیں کہ میرے گھر میں صرف میری اہلیہ کی چلتی ہے وہ بہت ذمہ دار ہیں اور میں بہت خوش نصیب ہوں‌کہ مجھے ان جیسا ہمسفر ملا.

  • سجل علی کے علاوہ کن دو اداکاروں کے نام فاطمہ جناح کا کردار کرنے کے لئے منظرعام پر؟‌

    سجل علی کے علاوہ کن دو اداکاروں کے نام فاطمہ جناح کا کردار کرنے کے لئے منظرعام پر؟‌

    جب سے یہ خبر سامنے آئی ہے کہ اداکارہ سجل علی فاطمہ جناح کا کردار کریں گی تب سے ہر طرف خاصت دلچپسپ تبصرے ہو رہے ہیں. کچھ صارفین کا ماننا ہے کہ سجل علی فاطمہ جناح کے کردار کے لئے پرفیکٹ چوائس ہیں دوسری طرف کچھ صارفین کا کہنا ہےکہ فاطمہ جناح کا کردار سجل کی بجائے جن دو اداکارائوں کو سوٹ کر سکتا ہے ان میں ایک ہیں سائرہ شہروز اور دوسری ہیں آئزہ خان. سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہےکہ سجل علی اچھی اداکارہ ہیں لیکن ان کے چہرے کے کٹس اور چہرہ فاطمہ جناح کا کردار کرنے کےلئے شاید موزوں نہیں‌ہے.

     

     

     

     

     

     

     

     

    دوسری جانب سائرہ شہروز اور آئزہ خان کے حوالے سے کہا جا رہا ہے کہ ان کے چہرے کے کٹس اس قسم کے ہیں‌ کہ انہیں‌فاطمہ جناح کا کردار سوٹ کر یگا. یوں فاطمہ جناح کے کردار کے لئے عوامی سطح پر دو اداکارائوں کے نام سامنے آئے ہیں لیکن اطلاعات یہ ہیں کہ سجل علی فاطمہ جناح کا کردار کرنے کےلئے حامی بھر چکی ہیں اور اس حوالے سے جو تیاری کی جانی چاہیے وہ کررہی ہیں.تاہم اس حوالے سے سجل علی کا باقاعدہ کوئی بیان سامنے نہیں‌آیا. اس سیریز میں فاطمہ جناح کا بچپن اور جوانی بھی دکھائی جائیگی. قیام پاکستان سے پہلے اور بعد کی کہانی کو دکھایا جا ئیگا.

  • فرحان سعید شکر گزار ہیں اپنے مداحوں لیکن کیوں؟

    فرحان سعید شکر گزار ہیں اپنے مداحوں لیکن کیوں؟

    گلوکار و اداکار فرحان سعید کا ڈرامہ سیریل ” میرے ہمسفر” کو عوامی سطح پر بہت زیادہ پسند کیا گیا ہےاس ڈرامے میں ہانیہ عامر اور فرحان دونوں ایک ساتھ نظر آئے، ان کی آن سکرین جوڑی شائقین کو بھا گئی ہے. ڈرامہ سیریل ہمسفر کی پذیرائی کو دیکھتے ہوئے فرحان سعید نے اپنے مداحوں کا شکریہ ادا کیا ہے. انہوں نے انسٹاگرام پر ایک پوسٹ لگا کر لکھا ہے کہ ”ناظرین کی محبت اور خلوص نے ان کو پہلی قسط سے ہی بین الاقوامی سطح پر کامیابی سے ہم کنار کیا” فرحان نے کہا کہ حمزہ کے کردار کو اس قدر پسند کیا جائیگا مجھے اندازہ نہیں تھا. میں جب یہ ڈرامہ کررہا تھا تھا تو میں محسوس کر سکتا تھا کہ اسے پسند کیا جائیگا لیکن اتنا پسند کیا جائیگا اندازہ نہیں تھا.

    فرحان سعید کا ماننا ہے کہ ڈرامہ سیریل میرے ہمسفر کی کامیابی کا سہرا ان کے مداحوں کو جاتا ہے کیونکہ وہ انہیں‌ہر رول ہر روپ میں‌پسند کرتے ہیں اور کبھی بھی انہیں‌مایوس نہیں کرتے. انہوں نے مزید کہا کہ یہ ڈرامہ شائقین نے ہی خاص بنایا ہے.فرحان سعید نے ڈرامے کے ڈائریکٹر قاسم مرید کا بھی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ "وہ ایسے انسان ہیں کہ جس چیز کو چھولیں، سونا بنادیں” فرحان سعید نے ہانیہ عامر کی جنہوں نے ہالہ کا کردار کیا ہے کی تعریف کی اور کہا کہ ” سیٹ پر ان کی انرجی بجلی کی طرح ہوتی ہے”.