Baaghi TV

Category: شوبز

  • زینت امان نے بتا دیا کہ انکے کیرئیر کی کونسی فلمیں مشکل ترین تھیں

    زینت امان نے بتا دیا کہ انکے کیرئیر کی کونسی فلمیں مشکل ترین تھیں

    ستر کی دہائی کی بولڈ اور بیوٹی فل اداکارہ زینت امان جو اپنے زمانے میں فشین آئی کون کے طور پر بھی جانی جاتی تھیں. انہوں نے اپنے حالیہ انٹرویو میں کہا ہے کہ مجھے ہر قسم کے کرداروں میں سراہا گیا یہاں تک کہ میں نے اگر منشیات کی عادی لڑکی کا کردار بھی کیا تو اسکو بھی بہت سراہا گیا.اچھی بری لڑکی ہر طرح‌ کے کردار لکھے گئے جن کو میں‌نے نبھایا. زینت نے مزید کہا کہ جب میں نے اپنا ایکٹنگ کیرئیر شروع کیا تو میں کم عمر تھی اور جب میں ماں بنی تو مجھے کام چھوڑنا پڑا. میں بہت خوش قسمت ہوں کہ مجھے دیو آنند، راج کپور ، شمی کپور ، منوج کمار ، امجد خان ،فیروز خان اور سنجے خان جیسے اداکاروں اور ہدایت کاروں کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا.انہوں نے مزید کہا کہ ہرے راما ہرے کرشنا اور ستیم شیوم سندرم ان کے

    کیرئیر کی مشکل ترین فلمیں تھیں.زینت نے کہا کہ میں نے کبھی یہ نہیں پوچھا تھا کہ میرے مد مقابل کون سا اداکار ہےاور نہ ہی اس حوالے سے میں‌ کبھی پریشان ہوئی تھی. میں‌ ہر کسی کے ساتھ بھی سین کر لیتی بس مجھے کیمرے کے پیچھے ایک اچھے ہدایت کار اور مصنف کی ضرورت تھے.یاد رہے کہ زینت امان کو آخری بار آتشوتوش گوریکر کی فلم پانی پت میں دیکھا گیا جس میں انہوں نے سکینہ بیگم کا کردار ادا کیا تھا اس میں ان کے سنجے دت، ارجن کپور اور کریتی سینن تھیں.

  • رابی پیرزادہ قربانی کے جانور فروخت کرنے گئیں

    رابی پیرزادہ قربانی کے جانور فروخت کرنے گئیں

    گلوکارہ اور اداکارہ رہنے والی رابی پیرزادہ جو مستقل طور پر شوبز کو خیرباد کہہ چکی ہیں وہ آج کل قربانی کے جانور فروخت کر رہی ہیں.رابی پیرزادہ کے پرستاروں کے لئے یہ بات کافی انوکھی تھی کہ رابی نے یہ کیا کام شروع کر دیا ہے. رابی پیرزادہ نے بتایا کہ میں نے عید کی مناسبت سے چھوٹے اور بڑے جانور لیکر رکھے تھے اور ان کو اپنے فارم ہائوس پر بھی رکھا ہوا تھا، کافی عرصہ سے ان کو خالص خوراک کھلائی جا رہی تھی میں نے سوچا تھا لوگوں کو ایسے جانور فروخت کروں جو صحت مند ہوں اور جنہوں نے خالص خوراک کھائی ہو.اب جبکہ عید الاضحی کی آمد آمد ہے لوگ جانوروں کی خریداری کررہے ہیں اس لئے میں نے قربانی کے جانوروں کو فروخت کرنا شروع کر دیا

    ہے.انہوں نے مزید یہ کہا کہ قربانی کے جانوروں‌ کی قیمت مناسب ہونی چاہیے تاکہ لوگ اسے خرید سکیں کیونکہ بہر حال قربانی کرنے کی خواہش ہر کسی کی ہوتی ہے.رابی پیرزادہ نے مزید کہا کہ میں ابھی تک کافی جانور فروخت کر چکی ہوں اور اندازہ لگائیں کہ پہلی کھیپ ختم ہو چکی ہے اب دوسری کھیپ میں جانور فروخت کررہی ہوں.
    یاد رہے کہ رابی پیرزادہ گلوکاہ اور اداکارہ تھیں ان کی کچھ نامناسب وڈیوز عام ہوئیں تو انہوں نے شوبز سے بالکل علیحدگی اخیتار کر لی اور برقعہ پہننا شروع کر دیاتھا.ان کے پرستار ان کو اس روپ میں بھی کافی پسند کرتے ہیں.

  • شگفتہ اعجاز بھی ٹک ٹاک پر آ گئیں

    شگفتہ اعجاز بھی ٹک ٹاک پر آ گئیں

    پوری دنیا کی طرح ٹک ٹاک ایپ پاکستان میں بھی بہت مقبول ہے زیادہ تر تو یہاں نوجوان لڑکے لڑکیوں کی وڈیوز دیکھنے کو ملتی ہیں لیکن اب ہم سینئر اداکارہ شگفتہ اعجاز کو بھی دیکھ رہے ہیں. سینئیر اداکارہ شگفتہ اعجاز ٹک ٹاک پر مختلف وڈیوز بنا کر پوسٹ کرتی رہتی ہیں اور ان کی وڈیوز ایسی نہیں‌ہیں کہ جس میں‌کوئی چھچھورا پن ہو بہت ہی صوبر انداز میں وہ ٹک ٹاک کا استعمال کررہی ہیں.اگر ان کی ہم عصر اداکارائوں کو دیکھیں تو مشکل سے ہی کوئی اداکارہ ٹک ٹاک پر نظر آئینگی. اگر ہم یہ کہیں ٹک ٹاک شفگتہ اعجاز پہلی سیئنر اداکارہ ہیں تو بے جا نہ ہو گا. شگفتہ اعجاز کہتی ہیں کہ ٹاک ہنسی مذاق کے ساتھ اصلاح کا بھی ایک پلیٹ فارم ہے.

    شگفتہ اعجاز کےبرعکس اگر ہم بشری انصاری کو دیکھیں تو وہ سوشل میڈیا اور مختلف قسم کی ایپس کے غلط استعمال پر کافی نالاں دکھائی دیتی ہیں. ان کی طرح بہت سارے ایسے سینئر فنکار ہیں جو مختلف قسم کی ایپس کا استعمال پسند نہیں کرتے.بشری انصاری نے تو ان ایپس اور سوشل میڈیا کے پلیٹ فارمزکو گند کا ٹوکرا کہہ دیا تھا. شگفتہ اعجاز کافی مصروف اداکارہ ہیں وہ یقینا وقت نکال کر اس ایپ کےلئے وڈیوز بنا رہی ہیں ان کی وڈیوز کو بہت زیادہ سراہا بھی جا رہا ہے.اداکارہ عموما سیریس کونٹینٹ بناتی ہیں.

  • علی سیٹھی کا مقبول ترین گانا” پسوڑی” مس مارول میں شامل

    علی سیٹھی کا مقبول ترین گانا” پسوڑی” مس مارول میں شامل

    پاکستانی گانے پسوڑی نے دنیا بھر میں مقبولیت کے جھنڈے گاڑنے کے بعد ایک اور اعزاز حاصل کر لیا گانے کو سپرہیرو سیریز،مس مارول، میں شامل کرلیا گیا۔

    باغی ٹی وی : کوک اسٹوڈیو کے مقبول ترین گانے پسوڑی کی لازوال مقبولیت نے اس کی حیثیت کو سال کے بہترین گانے کے طور پر مستحکم کر دیا ہے۔ یہ گانا اب تک 200 ملین ویوز حاصل کر کے نئی بلندیوں کو چھو چکا ہے تاہم اب یہ مسز مارول میں بھی جادو چلا رہا ہے سوڑی کو سیریز کی قسط 4 میں دکھایا گیا ہے۔

    پہلی پاکستانی سپرہیرو لڑکی کی ویب سیریز ’مس مارول‘ 8 جون کو ریلیز کی جائے گی

    علی سیٹھی نے یہ خبر اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر بھی شیئر کی انہوں نےا پنی پوسٹ میں لکھا ہے کہ کیا آپ نے ہمیں مس ماررول کے ایپیسوڈ 4 میں دیکھا؟ انہوں نے پوسٹ میں مزید کہا کہ ” پسوڑی پاؤ”

    پہلی پاکستانی سپرہیرو لڑکی کی ویب سیریز ’مس مارول‘ پاکستان بھر کے سینماؤں میں ریلیز کرنے کا اعلان

    واضح رہے کہ “مس مارول” کی کہانی کمالہ خان نامی پاکستانی نژاد نیوجرسی کی لڑکی کے گرد گھومتی ہے۔ جو کہ منفرد صلاحیتوں کی مالک ہوتی ہیں مگر اس کا خاندان اور خاص طور پر والد اور والدہ روایتی پاکستانی خاندان کی طرح ہوتے ہیں۔

    کمالا ایک پرجوش فنکار، ایک شوقین گیمر، اور فکشن کی دلدادہ ہے، وہ اوینجرز اور خاص طور پر کیپٹن مارول کی ایک بہت بڑی مداح ہے لیکن سپرپاورز حاصل کرنے سے قبل کمالا خان نے ہمیشہ دنیا میں اپنا مقام تلاش کرنے کے لیے جدوجہد کی ر یہ شو 8 جون سے ڈزنی پلس پر دکھایا جائے گا۔

    پہلی مسلم سپر ہیرو لڑکی کی ویب سیریز "مس مارول” کا ٹیزر جاری

  • درفشاں اور زارا نور کا عالیہ بھٹ کے حوالے سے بھارتی میڈیا کی رپورٹنگ پر رد عمل

    درفشاں اور زارا نور کا عالیہ بھٹ کے حوالے سے بھارتی میڈیا کی رپورٹنگ پر رد عمل

    شوبز سلیبرٹیز کیا کررہی ہیں کیا نہیں اس حوالے ان کے پرستار جانکاری رکھتے ہیں میڈیا یا سوشل میڈیا پر کوئی غلط خبر بھی چلا دی جائے تو وہ ایسے وائرل ہوجاتی ہے کہ متعلقہ سلیبرٹی کو تردیدیں کرنی پڑتی ہے. ایسا ہی ہوا عالیہ بھٹ کے ساتھ انہوں نے اپنے حاملہ ہونے کی خبر جب سوشل میڈیا پر شئیر کی تو مبارکبادوں کے ساتھ من گھڑت باتیں بھی ان کے ساتھ منسوب کی جانے لگیں کبھی ان کے اور کبھی ان کے شوہر رنیبر کے حوالے سے خبریں سننے کو ملتی رہیں.یہاں تک بھارتی میڈیا پر چلا کہ عالیہ بھٹ کے حاملہ ہونے کی وجہ رنبیر انکو لندن لینے جائیں گے عالیہ بھٹ کو اس حوالے سے صفائی دینی پڑی انہوں نے کہا کہ ایسا کچھ نہیں ہے.اسی طرح‌ سے بھارتی میڈیا کی جانب سے الٹی سیدھی رپورٹنگ کی جا رہی ہے. یہ تک کہہ دیا گیا کہ بچے کی وجہ سے عالیہ کام سے بریک لیں گی. ہماری

    پاکستانی دو اداکارائوں نے بھارتی میڈیا کے غری ذمہ دارانہ رپورٹنگ پر سوال اٹھائے اور کہا کہ ہم تو سوچتے تھے کہ ہمارے ہاں ہی ایسا ہوتا ہے لیکن بھارت میں بھی ایسا ہوتا ہے.زارا نو عباس نے کہا کہ کیوں‌لوگوں‌کو لگتا ہے کہ حاملہ ہونے والی لڑکیاں کام نہیں کر سکتیں.اسی طرح درفشاں نے بھی کہا کہ م شادی کر سکتے ہیں اور بچے بھی پیدا کر سکتے ہیں، شادی زندگی کا حصہ ہے، لوگوں کو خواتین کو کیریئر کے اہداف سے متعلق بتانے کی ضرورت نہیں۔ان دونوں اداکارائوں کی اس پوسٹ کو بہت سراہا جا رہا ہے.

  • علی ظفر کی  اے پی ایس میں بچ جانے والے احمد نواز کو آکسفورڈ یونین کا صدر منتخب ہونے پرمبارکباد

    علی ظفر کی اے پی ایس میں بچ جانے والے احمد نواز کو آکسفورڈ یونین کا صدر منتخب ہونے پرمبارکباد

    اے پی ایس سانحہ پر آج تک ہر کوئی افسردہ ہے اس حملے میں مائوں کے جگر گوشے ان سے چھن گئے.اس سانحے میں چند بچے معجزانہ طور پر بچ بھی گئے تھے لیکن وہ اتنے خوفزدہ تھے کہ نہ وہ کچھ بولتے تھے نہ کسی سے ملتے تھے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ وہ بچے نارمل زندگی کی طرف لوٹے. ایک ایسا ہی بچہ احمد نواز بھی ہے جو اُن بچوں میں شامل تھا جن پر ظلم ہوا لیکن خدا کی کرنی ایسی ہوئی کہ یہ بچ گیا نہ صرف بچ گیا بلکہ زندگی کی طرف بھی واپس لوٹا. .آج احمد نواز آکسفورڈ یونین کا صدر منتخب ہوا ہے. اداکار و گلوکار علی ظفر نے ٹویٹر پر ایک پوسٹ کی، اس پوسٹ میں انہوں نے احمد نواز کی ایک تصویر لگائی اور لکھا

    کہ آکسفورڈ یونین کا صدر منتخب ہونے پر آپکو میری طرف سے مبارک ہو.انہوں نے مزید لکھا کہ احمد نواز کا اے پی ایس سانحے میں معجزانہ طور پر بچ جانا اور آج آکسفورڈ یونین کا صدر منتخب ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ چاہے بم چلائے جائیں یا گولیاں یہ چیزیں کسی کا حوصلہ نہیں‌توڑ سکتے ہمیں آپ پر فخر ہے آپ اسی طرح سے کامیابیاں سمیٹتے رہیں.علی ظفر کی اس پوسٹ کے نیچے بہت سارے صارفین نے کمنٹس کرکے احمد نواز کے حوصلے اور ہمت کو سراہا اور ان کو آکسفورڈ یونین کا صدر منتخب ہونے پر مبارکبادیں دیں.

  • پاکستان کے نامورمصور "صادقین” کا یومِ پیدائش منایا جا رہا ہے

    پاکستان کے نامورمصور "صادقین” کا یومِ پیدائش منایا جا رہا ہے

    پاکستان کے نامور مصور "صادقین” کا یومِ پیدائش منایا جا رہا ہے-

    باغی ٹی وی : صادقین کا پورا نام سید صادقین حسین نقوی تھا . خطاطی ان کا خاندانی فن تھا، سادات امروہہ کے جس گھرانے میں انہوں نے 30 جون 1930ء کوآنکھ کھولی وہ فنِ خطاطی کےحوالےسے پہچانا جاتا تھاصادقین کی ابتدائی تعلیم امروہہ میں ہی ہوئی، پھرآگرہ یونیورسٹی سے بی اے کیا اور جب ہندوستان کی تقسیم عمل میں آئی تو وہ اپنے خاندان کے ہمراہ کراچی آگئے۔

    طالب علمی کے زمانے ہی سے صادقین گھروں کی دیواروں پر نقاشی، تصویر کشی اور خطاطی کیا کرتے تھے۔ چوبیس برس کی عمر میں صادقین کے فن پاروں کی پہلی نمائش کوئٹہ میں ہوئی۔ 1960ء میں صادقین کی فنی صلاحیتوں کے اعتراف میں انہیں تمغہ امتیاز سے نوازا گیا۔ اکتیس برس کی عمر میں صادقین کو فرانس کے اعلیٰ سول اعزاز کا حقدار قراردیا گیا۔

    صادقین کی وجہ شہرت فن مصوری کے کسی ایک شعبے میں کمال دکھانے کے باعث نہیں تھی بلکہ انہوں نے مصوری کے کئی شعبوں میں ایسے کمالات دکھائے ہیں کہ اب شاید ہی کوئی ان کی جگہ اس قدر ہمہ جہت انداز میں اپنا فن پیش کرسکے۔ صادقین نے سینکڑوں فن پارے تخلیق کیے اور ان میں سے زیادہ تر اپنے مداحوں کو بطور تحفہ عنایت کردیے۔ صادقین کی تخلیقات کی مشرق وسطیٰ، امریکا اور یورپ میں کامیاب نمائشیں ہوئیں۔

    1970ء میں انہوں نے سورۂ رحمن کی آیات کو انتہائی دلکش انداز میں پینٹ کیا اور مصورانہ خطاطی کے ایک نئے دبستان کی بنیاد ڈالی۔

    صادقین کے دوستوں کا کہنا تھا کہ اکثر فنکاروں کی طرح صادقین کی شخصیت میں یکسر مختلف اور متضاد رنگ موجود تھے۔ اٹھائیس فروری 2002ء کو موہٹّا پیلس میوزیم، کراچی میں ڈان میڈیا گروپ کے سربراہ حمید ہارون کے زیرانتظام صادقین کے فن پاروں کی نمائش منعقد کی گئی تھی، جس میں صادقین کے دو سو سے زائد نایاب شاہکار پیش کیے گئے۔

    اس نمائش کے ذریعے صادقین کے اندر چھپا وہ ہمہ جہت فنکار سامنے آسکا جو شاید فوجی آمر ضیاءالحق کی اسلامائزیشن کے نام پر فنون لطیفہ کو تباہ کرنے کی پالیسی کی بناء پر محض خطاطی کے دامن میں پناہ لینے پر مجبور ہوگیا تھا۔ مذکورہ نمائش کے منتظمین نے بطور خاص یہ کوشش کی تھی کہ عام لوگ چونکہ صادقین کو صرف اسلامی خطاطی کے حوالے سے جانتے ہیں، اس لیے خطاطی کے فن پاروں کے بجائے صادقین کے فن کے اس شاندار رُخ کو عام لوگوں کے سامنے پیش کیا جائے جو کہیں چھُپ گیا ہے۔ دو ہفتے جاری رہنے والی اس نمائش کو چھیاسی ہزار افراد نے دیکھا، جو صادقین کی مقبولیت کی ایک بہت بڑی دلیل ہے۔

    خود صادقین بھی خطاطی سے کہیں زیادہ مصوری کی دیگر جہتوں میں کیے گئے کام کو اہمیت دیتے تھے۔ ایک مرتبہ صادقین سے کسی نے پوچھا کہ کیا قرآنی آیات کی خطاطی کی وجہ سے انہیں اسلامی مصور کہا جا سکتا ہے؟ صادقین نے اختلاف کرتے ہوئے جواب دیا تھا کہ میرا اصل فن مصوری یعنی تصویریں بنانا ہے اور میری خطاطی بھی میری مصوری کے ہی زیرِ اثر ہے۔

    صادقین انڈیا گئے تو انہوں نے ایک بڑا عرصہ دہلی میں گزارا۔ ہندوستانی حکومت نے انہیں مکمل پروٹوکول کے ساتھ ان کے آبائی شہر امروہہ لے جانے کا اہتمام کیا۔ ایسا لگتا تھا کہ جیسے پورا شہر ہی ان کے استقبال کے لیے اُمڈ آیا ہو۔ انہیں ہاتھی پر بٹھا کر جلوس کی شکل میں ان کے آبائی گھر لے جایا گیا۔ اُس وقت کی ہندوستانی وزیرِاعظم اندرا گاندھی کی طرف سے اس گھر کی چابیاں بطورِ تحفہ پیش کی گئیں۔

    صادقین نے چابیاں یہ کہتے ہوئے واپس کر دیں کہ ‘میں اس گھر کو امروہہ کے باسیوں کی نذر کرتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ وہ یہاں ایک کتب خانہ قائم کریں گے۔’

    صادقین اپنے فن پاروں میں میورالز کو بہت اہمیت دیتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ میورالز بناتے ہوئے انہیں کچھ ایسا محسوس ہوا کرتا کہ وہ ان مناظرمیں اور ان لوگوں میں جن کی وہ تصویریں بنا رہے ہوتے ، گویا وہ ان کے چاروں اور زندہ ہیں اور وہ ان میں سانس لے رہے ہیں۔

    صادقین نے اپنا پہلا میورل کراچی ایئر پورٹ پر بنایا، کراچی میں جناح ہسپتال اور منگلا ڈیم کے علاوہ سینڑل ایکسائز لینڈ، کمشنر کلب اور سروسز کلب کی دیواروں پر موجود شاہکار صادقین کی تخلیقات کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ 1961ء میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کراچی کی لائبریری میں وقت کے خزانے کے نام سے شاندار میورل تخلیق کیا، اس عظیم الشان فن پارے میں انہوں نے سقراط سے لے کر آئن اسٹائن تک ہر عہد کے علمی اور سائنسی ارتقائی ادوار کو اس قدر مہارت اور خوبصورتی سے پیش کیا ہے کہ دیکھنے والا مبہوت ہوکر رہ جاتا ہے۔

    غالب کی صدسالہ برسی کے موقع پر 1969ء میں صادقین نے کلام غالب پر پچاس وسیع وعریض اللسٹریشنز تیار کیں۔

    صادقین کو کئی ملکی غیر ملکی ایوارڈز، انعامات اور اعزازات سے نوازا گیا۔ ان کے شاہکار ‘The Last Supper’ نے سب سے زیادہ شہرت حاصل کی۔

    اسٹیٹ بینک آف پاکستان، منگلا ڈیم پاور ہاؤس، لاہور میوزیم، علیگڑھ مسلم یونیورسٹی، بنارس ہندو یونیورسٹی، جیولوجیکل انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا، فریئر ہال کراچی، ابو ظہبی پاور ہاؤس اور پنجاب یونیورسٹی جیسی اہم عمارتوں کے علاوہ بالخصوص پیرس کے مشہور زمانہ شانزے لیزے میں صادقین کے منقش فن پارے آنے والی نسلوں کو صادقین کی فنی عظمت کی یاد دلاتے رہیں گے۔

    بھرپور ستائش ملنے کے باوجود صادقین دنیا کی بھیڑ میں گم ہونے کے بجائے اپنے فن کی دنیا میں ہی رات دن مگن رہے۔ ایسا لگتا ہے کہ جیسے دنیا اس جوہر نایاب کو صحیح معنوں میں پہچان نہ سکی، وہ جانتے تھے کہ وہ دنیا کو کیا دے رہے ہیں، لیکن ان کے ہم وطنوں کی بڑی تعداد ان کی صلاحیتوں سے بے خبر رہی۔

    شاید بہت کم لوگوں کو یہ علم ہو کہ صادقین بہت اچھے شاعر بھی تھے، ان کی رباعیات بھی اسی قدر کمال کی ہیں جس قدر کہ ان کی مصوری کے شاہکار کمال کا درجہ رکھتے ہیں۔ ان کی رباعیات پر مشتمل دو کتابیں ‘رباعیاتِ صادقین خطّاط’ اور ‘رباعیاتِ صادقین نقّاش’ شائع ہوچکی ہیں۔

    صادقین کا انتقال 10 فروری 1987ء کو کراچی میں ہوا۔ انہیں سخی حسن قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا، لیکن ان کا فن انہیں ہمیشہ زندہ رکھے گا۔

  • برطانوی اداکار رابرٹ پیٹنسن  پرکشش انسان قرار

    برطانوی اداکار رابرٹ پیٹنسن پرکشش انسان قرار

    برطانوی اداکار رابرٹ پیٹنسن کو 2020میں سائنس کے مطابق دنیا کا پرکشش ترین آدمی قرار دینے کے بعد اب پھر سے دنیا کے سب سے خوبصورت انسان قرار دے دئیے گئے ہیں. یہ ہم نہیں کہہ رہے بلکہ برطانوی پبلشر لاڈ بائبل کی رپورٹ کہہ رہی ہے. رابرٹ پیٹنسن کو دنیا کے سب سے پرکشش انسان ہونے کا لقب ریان گوسلنگ، ادریس ایلبا، بریڈ پٹ اور ہنری کیول جیسے اداکاروں کے چہرے کی مختلف خصوصیات کا تجزیہ کرنے کے بعد دیا گیا ہے.کہا جا رہا ہے ہے کہ برطانوی اداکار رابرٹ پیٹنسن کی خوبصورتی کو سائنسی پیمائش کے حساب سے ماپا گیا ہے. لاڈ بائبل سے بات کرتے ہوئے، سینٹر آف فیشل کاسمیٹک سرجری کے ڈاکٹر جولین ڈی سلوا نے کہا کہ’جب چہرے کے تمام عناصر کو جسمانی کمال کے لیے ناپا گیا تو اداکار رابرٹ پیٹنسن واضح طور پر فاتح تھے.

    برطانوی اداکار رابرٹ پیٹنسن کی خوبصورتی کا اندازہ قدیم یونانی حساب کے طریقہ کار، بیوٹی فائی کا گولڈن ریشیو استعمال کرتے ہوئے کیا گیا جسے تاریخی طور پر جسمانی کمال کی پیمائش کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ جدید دور میں بھی اسی فارمولے کو خوبصورتی کے معیار کی پیمائش کرنے اور اس بات کا تعین کرنے کےلئے اپنایا گیا ہے کہ کس شخص کی جسمانی خصوصیات کتنی پرفیکٹ ہیں۔

  • ہالی وڈ کی فلموں کی ریلیز کے حوالے سے ماہرہ خان کیا سوچتی ہیں؟

    ہالی وڈ کی فلموں کی ریلیز کے حوالے سے ماہرہ خان کیا سوچتی ہیں؟

    نامور اداکارہ ماہرہ خان نے حال ہی میں ایک انٹرویو دیا ہے اس میں انہوں نے کہا کہ ہالی وڈ کی فلمیں ریلیز ہونے سے پاکستانی سینما کو بالکل بھی فرق نہیں‌ پڑتا بلکہ ہر طرح‌کی فلمیں ریلیز ہونی چاہیں تاکہ شائقین گھروں سے نکلیں اور اپنے اپنے مزاج کے مطابق فلمیں دیکھیں اور لطف اندوز ہوں. جتنی زیادہ موویز ہوں گی چاہے وہ پاکستانی ہوں یا ہالی وڈ کی، اتنا ہی شائقین کےلئے بہتر ہے وہ کم از کم سینما گھروں کا رخ تو کریں گے. انہوں نے مزید کہاکہ ہالی وڈ کی فلموں‌کی ریلیز سے پاکستانی فلموں کو کوئی خطرہ نہیں ہے.ماہرہ خان پر اکثر ان کے ساتھی تنقید کرتے نظر آتے ہیں جیسا کہ اداکار فردوس جمال نے

    ان کو اداکاری کے حوالے سے آڑھے ہاتھوں لیا تھا اور ان کو ماں کے کردار کرنے کی تجویز دی تھی اسی طرح سے رائٹر خلیل الرحمان قمر بھی ماہرہ خان کی اداکاری پر اکثر سوال اٹھاتے نظر آتے ہیں اپنے لکھے ہوئے ڈراموں میں ماہرہ کو کام دینے پر خود کو کوستے رہتے ہیں ماہرہ خان کسی بھی تنقید کرنے والے کو جواب نہیں دیتیں، اس حوالے سے جب ماہرہ سے سوال ہوا تو انہوں نے کہا کہ ہر کسی کو تنقید کرنے کا حق ہے کریں تنقید لیکن سوشل میڈیا پر اپنی اصلی شناخت کے ساتھ ایسا کریں تو کوئی مسئلہ نہیں ہے لیکن جو اپنی شناخت تک ظاہر نہیں‌کرتے جب وہ ایسا کرتے ہیں تو عجیب ضرور لگتا ہے.

  • عامر خان بنے سیلاب متاثرین کے لئے مسیحا

    عامر خان بنے سیلاب متاثرین کے لئے مسیحا

    بالی وڈ کے بڑے سٹار عامر خان جن کی بہت زیادہ فین فالونگ ہے وہ نہ صرف اچھے انسان ہیں بلکہ درد دل رکھنے والے ایک انسان ہیں. وہ بھارت میں آنے والے سیلاب سے ہوئے پریشان اور اس سے بھی زیادہ پریشان سیلاب کے ہاتھوں مچی تباہی پر ہوئے . انہوں نے سیلاب متاثرین کے لئے 25 لاکھ روپے کا عطیہ دیا. یاد رہے کہ حال ہی میں بھارتی صوبے آسام میں سیلاب آیا ہے اور اس سیلاب نے بڑے پیمانے پر لوگوں کے گھر اور املاک کو نقصان پہنچایا ہے. اسی چیز کو دیکھتے ہوئے عامر خان نے پچیس لاکھ روپے کا عطیہ دیا ہے. یہ رقم عامر خان نے آسام کے وزیراعلی کی طرف سے قائم کئے گئے ریلیف فنڈ میں جمع

    کروائی.وزیراعلی ہیمانتا شرما نے عامر خان کا شکریہ ادا کیا، انہوں نے اپنی ٹوئٹ میں کہا کہ بالی ووڈ اداکار عامر خان نے ریلیف فنڈ میں سیلاب متاثرین کے لیے 25 لاکھ روپے جمع کروائے ہیں۔ میڈیا نے اس خبر کو بہت چلایا.دیکھتے ہی دیکھتے یہ خبر سوشل میڈیا پر بھی چھا گئی اور عامر خان کے پرستار ان کے نرم دل اور انسانیت کا جذبہ رکھنے کو سراہتے رہے.
    یاد رہے کہ عامر خان کی فلم لگان کے حال ہی میں اکیس سال پورے ہوئے ہیں اور اس فلم کو نئے انداز سے برطانیہ میں ریلیز کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے.اس کے علاوہ ان کی لعل سنگھ چڈھا بھی ریلیز کے لئے تیار ہے اس کے لئے عامر خان کافی پر امید ہیں.