Baaghi TV

Category: شوبز

  • بشری انصاری اور عدنان شاہ کی شارٹ فلم مجرم یوٹیوب پر ریلیز کر دی گئی

    بشری انصاری اور عدنان شاہ کی شارٹ فلم مجرم یوٹیوب پر ریلیز کر دی گئی

    بشری انصاری اور عدنان شاہ کی شارٹ فلم مجرم یوٹیوب پر ریلیز کر دی گئی.فلم کو حماد صدیقی نے لکھا ہے کہانی ایک ڈاکو کے گرد گھومتی ہے.جس نے ایک معمر خاتون کو اپنے گھر میں یرغمال بنا لیا ہے۔ جیسے ہی ڈاکو اس خاتون کی قیمتی اشیاء چھیننے کی کوشش کرتا ہے، وہ خاتون اس کوایک پیشکش کرتی ہے جس کا انتہائی مہلک نتیجہ نکلتا ہے. اس پراجیکٹ‌کے حوالے سے سی پرائم کی ایگزیکٹیو ڈائریکٹر مس سیمیں نوید کہتی ہیں کہ اس مختصرفلم کا آئیڈیا اس تصور کو سامنے لانا ہے کہ ہم یہ نہیں جانتے کہ ہمارے سامنے والے شخص کے دل میں کیاہے۔ ایسے وقت اور ایسے زمانے میں جب انسان کی انا بہت اونچی ہوتی

    ہے اور ایک دوسرے کے بارے میں اندازہ کم ہوتا ہے. اس فلم کا مقصدصدیوں پرانی کہاوت”کتاب کا اندازہ کبھی اس کے سرورق سے نہ کرو”کو ایک سنسنی خیز اور مضبوط کہانی کے ذریعے دوبارہ زندہ کرنا ہے۔بشری انصاری اور عدنان شاہ کی جاندار اداکار یقینا شائقین کو پسند آئیگی. اس مختصر فلم کے علاوہ اس عید پر یاسر نواز اور ندا یاسر کی فلم چکر بھی ریلیز کی جا رہی ہے. اب چھوٹی بڑی سکرین کے علاوہ جو میڈیم اس وقت بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے وہ ہے ڈیجیٹل میڈیا. یہاں‌ ریلیز ہونے والے تمام پراجیکٹس کو سراہا جاتا ہے وہ الگ بات ہے کہ کسی پراجیکٹ کو کم دیکھا جاتا ہے اور کسی کو کم.

  • فضا علی قسمت پر کتنا یقین رکھتی ہیں؟

    فضا علی قسمت پر کتنا یقین رکھتی ہیں؟

    اداکارہ و میزبان فضا علی کہتی ہیں کہ میرا قسمت پر بہت زیادہ یقین ہے اور میں محنت پر بھی بہت زیادہ یقین رکھتی ہوں. میں اگر اپنے کیرئیر کو دیکھوں تو میں نے بہت محنت کی ہے کبھی بھی محنت سے پیچھے نہیں ہٹی یا ایسے کام تلاش نہیں‌کئے جس میں محنت کم کرنی پڑے. مجھے جو بھی کام ملا میں نے محنت سے کام کیا.محنت کے ساتھ ساتھ قسمت کا عمل دخل بہت زیادہ ہوتا ہے قسمت کا ستارہ بلند ہو تو زمین پہ بیٹھے آسمان پر پہنچ جاتے ہیں . میں‌نے بہت خوبصورت چہروں کو گھروں میں کام کرتے اور سڑک پر مانگتے ہوئے دیکھاہے.فضا علی نے یہ بھی کلئیر کیا کہ میں شوبز نہیں چھوڑ رہی ایسی

    خبروں پر دھیان مت دیں. ایک سوال کے جواب میں فضا علی نے کہا کہ میں کم مگر معیاری کام کرنے کو ترجیح دیتی ہوں، میں اچھی آفر کی تلاش میں رہتی ہوں اسی لئے کم کم سکرین پر نظر آتی ہوں.فضا علی نے کہا کہ میں نے ہمیشہ یہ دیکھا ہے کہ جو مجھے کام دیا جا رہا ہے اس میں میرے پاس اپنی صلاحیتیں دکھانے کا کتنا موقع ہے، اگر مجھے لگے کہ جو کام مجھے دیا جا رہا ہے اس میں کرنے کو کچھ خاص نہیں ہے تو میں اس آفر کو قبول کرنے کی بجائے رد کر دیتی ہوں.میں اچھے کام کا انتظار کر سکتی ہوں لیکن کوئی ایسا کام نہیں‌کر سکتی جس کو دیکھ کر میرے پرستار مجھ سے خوش نہ ہوں.

  • قربانی کا گوشت غریبوں میں ضرور تقسیم کریں شاہدہ منی

    قربانی کا گوشت غریبوں میں ضرور تقسیم کریں شاہدہ منی

    گلوکارہ و اداکارہ شاہدہ منی کہتی ہیں کہ عید قرباں پر ہمیں ان لوگوں‌کو ضرور یاد رکھنا چاہیے جو سارا سال گوشت نہیں کھا سکتے. اپنے عزیز و اقارب رشتہ دار سب کو یاد رکھیں لیکن ان کو نہ بھولیں جو صرف دکانوں پر ہی گوشت پڑا ہوا دیکھ سکتے ہیں. قربانی اللہ تعالیٰ کے لئے ہے اور میری دعا ہے کہ جو بھی لوگ قربانی کر رہے ہیں اللہ تعالیٰ ان کی اس کاوش کو قبول فرمائے ۔ قربانی میں خدا کی ذات ہمارے اخلاص اور نیت کو دیکھتی ہے اس لئے دل میں کبھی دکھاوے کا خیال نہ آنے دیں۔شاہدہ منی نے اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں قربانی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالی نیتوں کو دیکھتا ہے

    کبھی اس میں دکھاوے والی چیز نہیں‌ہونی چاہیے. صاھب استطاعت لوگوں کو چاہیے کہ اس موقع پر اپنے اردگر نظر رکھیں کہ کون کون مستحق ہے باقاعدہ پیکٹ بنا کر انہیں دیں تاکہ وہ کچھ نہیں تو ایک وقت تو اپنے بچوں کو پکا کر کھلا سکیں.اگر آپ کے اردگرد آپ کو کوئی نظر نہیں آرہا جو مستحق ہے تو کوئی ایسی بستی دیکھیں جہاں غریب مقیم ہیں ان میں جا کر گوشت تقسیم کریں. عید قرباں ہمیں‌جو سبق دیتی ہے ہمیں اس پہ بھی غور کرنا چاہیے.شاہدہ منی نے مزید کہا کہ ہمارے گھروں میں اس چیز کا خاص خیال رکھا جاتا ہےکہ کوئی غریب ہمارے دروازے پر اگر آئے تو خالی ہاتھ نہ جائے.

  • لاہور سے ڈرامہ  کراچی منتقل ہوجانا  تشویشناک  ہے مدیحہ شاہ

    لاہور سے ڈرامہ کراچی منتقل ہوجانا تشویشناک ہے مدیحہ شاہ

    سٹیج کی معروف اداکارہ مدیحہ شاہ نے حال ہی میں ایک انٹرویو دیا ہے اس میں انہوں نے لاہور سے کراچی ڈرامہ منتقل ہونے پر تشویش کا اظہار کیا ہے. مدیحہ شاہ نے کہا کہ ایک وقت تھا لاہور میں ڈراموں اور فلموں کی سرگرمیاں ہوتی تھیں لیکن اب یہ ساری رونقیں کراچی منتقل ہو گئی ہیں.ہمیں ایک دوسرے سے لڑنے جھگڑنے اور ایک دوسرے پر تنقید کرنے کی بجائے بیٹھ کر یہ سوچنا چاہیے کہ آخر ایسا کیوں ہوا؟ کام سارا کا سارا کراچی منتقل ہو چکا ہے اور جو لوگ آرٹسٹ لاہور رہتے تھے وہ تقریبا کراچی منتقل ہو چکے ہیں جو تھوڑے رہ گئے ہیں وہ بھی وہاں جانے کی تیاریوں‌میں‌ہیں. مدیحہ شاہ نے اس انٹرویو

    میں‌یہ بھی واضح کیا ہے مجھے بالکل بھی اعتراض نہیں کہ کراچی میں ڈرامہ کیوں بن رہا ہے اچھی بات ہے کام ہونا چاہیے اور فنکاروں کو کام ملنا چاہیے پھر وہ چاہے کراچی ہو یا لاہور. لیکن میں صرف اتنا کہہ رہی ہوں کہ ایک دوسرے سے لڑنے کی بجائے یہ سوچیں کہ دوبارہ لاہور کو ڈراموں اور فلموں کا گڑھ کیسے بنایا جا سکتا ہے. مدیحہ شاہ نے یہ بھی کہا کہ ہمیں‌وہ تمام وجوہات پہ غور کرنے کی ضرورت ہے کہ جس کی وجہ سے لاہور ڈرامہ کراچی منتقل ہوا. انہوں نے مزید یہ بھی کہا کہ کام اچھا ہو رہا ہے کوئی شک نہیں لیکن ہمارے ہاں جو پہلے کام ہو رہا تھا ہمیں وہی رونقیں یہاں‌دوبارہ دیکھنی ہیں اس کے لئے ہم سب کو مل بیٹھ کر کوشش کرنی ہو گی.

  • مس مارول پر تنقید کے نشتر

    مس مارول پر تنقید کے نشتر

    ویب سیریز مس مارول میں فواد خان کی اینٹری کے لئے ان کے مداح منتظر تھے مس ماورل کی پانچویں قسط میں فواد خان کی اینٹری ہو گئی ہے اور ان کا کردار تحریک آزادی کے ایک متحرک رکن کے طور پر دکھایا گیا ہے، اگرچہ انہیں مسلمان کردار میں دکھایا گیا ہے، تاہم انہیں تحریک آزادی سے متعلق لوگوں میں شعور بیدار کرتے وقت بانی پاکستان قائد اعظم کی جدوجہد کے بجائے گاندھی کی جدوجہد کی پرچار کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔فواد خان کو قائد اعظم کی جانب سے دیئے گئے دو قومی نظریئے کے بجائے صرف گاندھی کی جانب سے آزادی کے نظریئے کو آگے بڑھاتے ہوئے دکھایا گیا جس پر کئی شائقین نالاں دکھائی دیئے . کہا جا رہا ہے کہ اس میں کیوں دو قومی نظریے کو گاندھی کی طرف آگے

    بڑھاتے ہوئے دکھایا گیا حقیقت اس کے برعکس ہے. دو قومی نظریہ قائداعظم کی طرف سے دیا گیا تھا. ماورل کو جو لوگ بہت زیادہ فالو کررہے ہیں وہ مس ماورل کی حالیہ قسطوں کو لیکر نالاں ہیں اور ہدایتکارہ شرمین عبید چنائے پر تنقید کے نشتر برسائے جا رہے ہیں ان پر طرح طرح‌کے الزامات لگائے جا رہے ہیں. سوشل میڈیا پر کچھ صارفین کا کہنا ہے کہ شرمین بھارتی ایجنڈے کو پرموٹ کررہی ہیں یا اپنے بھارتی پرستاروں کو خوش کررہی ہیں. قیام پاکستان کی تحریک اور دو قومی نظریے کا سہرا قائداعظم کے سر ہے ان کا زکر کم کیوں ہے.یاد رہے کہ مس مارول کو لوگوں کی بڑی تعداد دیکھ رہی ہے اور اس میں‌پاکستانی فنکاروں کی موجودگی کو سراہ بھی رہی ہے.

  • کامیڈی اور رومینس کا حسین امتزاج لندن نہیں‌جائونگا

    کامیڈی اور رومینس کا حسین امتزاج لندن نہیں‌جائونگا

    گزشتہ شب لاہور میں لندن نہیں جائونگا کی سکریننگ ہوئی، فلم کی مرکزی کاسٹ جس میں ہمایوں سعید ، مہوش حیات ، کبری خان بھی موجود تھے ، ہدایتکار ندیم بیگ کے علاوہ سکریننگ میں اداکار فواد خان نے اپنی اہلیہ کے ساتھ خصوصی شرکت کی. اداکارہ صبا قمر اور فرحان سعید بھی اپنے ساتھیوں کی حوصلہ افزائی کے لئے تشرئف لائے. سیدنور نے فلم کی بہت تعریف کی اور خصوصی طور پر خلیل الرحمان قمر کے ڈائیلاگز کو سراہا.سید نور نے کہا کہ جسے فلم کہتے ہیں نا یہ وہ ہے. فلم دیکھ کر نکلنے والے خاصے خوش تھے زیادہ تر کا یہی کہنا تھا کہ فلم بہت اچھی ہے مزاح بھی ہے ایکشن بھی اور

    کامیڈی بھی. فلم میں غیرت کے نام پر قتل جیسے موضوع کو چھیڑا گیا ہے اور پاور فل جملوں کے ساتھ اس کو پیش کیا گیا ہے.اداکار سہیل احمد اور صبا قمر کی جاندار اداکاری نے ان کے کرداروں میں جان بھر دی.فلم میں گوہر خان اور واسع چوہدری کے کردار بہت اچھے ہیں ان دونوں نے ڈائیلاگز تو بولے ہی ہیں لیکن چہرے کے تاثرات ایسے زبردست دئیے ہیں کہ دیکھنے والوں کو بے ساختہ ہنسی آجاتی ہے. یاد رہے کہ عید کے موقع پر ریلیز ہونے والی یہ فلم پنجاب نہیں جائونگی کا ری بوٹ ہے.

  • صبا قمراور ہمایوں سعید میرے پسندیدہ فنکار ہیں عطااللہ تارڑ

    صبا قمراور ہمایوں سعید میرے پسندیدہ فنکار ہیں عطااللہ تارڑ

    مسلم لیگ ن کے رہنما عطا اللہ تارڑ‌ جنہوں نے گزشتہ روز لاہور میں لندن نہیں جائونگا اپنی فیملی کے ساتھ دیکھی ان کا کہنا ہے کہ ہمایوں سعید کا میں بہت بڑا مداح ہوں بہت اچھی اداکاری کرتے ہیں انہی کو دیکھنےکےلئے فلم دیکھنے آیا ہوں.میری فیملی بھی اس فلم کے تمام فنکاروں کو پسند کرتی ہے اسلئے ہم سب یہ فلم دیکھنے کےلئے آئے ہیں. عطااللہ تارڑ نے کہا کہ اس فلم سے پہلے میں نے فلم کملی دیکھی وہ بھی مجھے بہت پسند آئی تھی صبا قمر کی اداکاری کے کیا کہنے .ویسے تو پاکستان میں بہت ساری باصلاحیت اداکارائیں لیکن صبا قمر کی اداکاری کی کیا ہی بات ہے وہ میری پسندیدہ فنکارہ ہیں.

    ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہلکی پھلکی اینٹرٹینمنٹ انسان کو ریلیکس رکھتی ہے اس لئے ضروری ہے کہ کبھی کبھار اپنی مصروفیت سے وقت نکال کر سینما کا رخ کیاجائے. مجھے جتنا وقت ملے اس حساب سے فلمیں ڈرامے دیکھ لیتا ہوں.خوشی یہ ہے کہ اس وقت بہت اچھا کام ہو رہا ہے خصوصی طور پر سوشل ایشوز کو ہائی لائٹ کیا جا رہا ہے .لندن نہیں جائونگا میں آنر کلنگ کو ہائی لائٹ کیا گیا ہے اور ساتھ ہی ساتھ بہت سارے سوالات اٹھائے گئے ہیں جن پر یقینا ہمیں سوچنے کی ضرورت ہے.کملی فلم کا میسج بھی بہت اچھا ہے اگر ہم اسے سمجنھے کی کوشش کریں تو

  • آمنہ الیاس آئیں تنقید کی زد میں

    آمنہ الیاس آئیں تنقید کی زد میں

    اداکارہ و ماڈل آمنہ الیاس جو بہترین اداکاری کے ھوالے سے جانی جاتی ہیں. اداکاری سے قبل وہ ماڈلنگ کررہی تھیں لیکن جب اداکاری کی طرف آئیں تو انہوں نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا.آج آمنہ الیاس بہترین اداکارہ و ماڈل ہونے کے ساتھ بہترین ڈانسر بھی مانی جاتی ہیں. ان کا حال ہی میں ریلیز ہوئی فلم چوہدری میں آتش کے نام سے آئٹم سانگ ہے اس پر انہوں نے ڈانس کیا ہے.فلم کی ٹیم نے آمنہ الیاس کے سانگ کی مختصر سی وڈیو جب سوشل میڈیا پر جاری کی تو دیکھنے

    والوں نے تنقید کا رخ آمنہ الیاس کی طرف کر لیا اور کہا کہ انہیں شرم آنی چاہیے ایسا لباس پہنتے اور اس قسم کے بولڈ ڈانس سٹیپس کرتے ہوئے. کہا جا رہا ہے کہ اس گانے کے کچھ حصے سنسر بھی کئے گئے ہیں لیکن اس کے باوجود آئٹم سانگ لوگوں‌کو ہضم نہیں‌ہو رہا.تاہم آمنہ الیاس اس ھوالے سے بالکل خاموش ہیں انہوں نے سوشل میڈیا پر ہونے والی تنقید پر ابھی تک کچھ نہیں‌کہا. یاد رہے کہ یہ فلم سندھ پولیس کے سینیئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) چوہدری اسلم کی زندگی پر بنائی گئی ہے.فلم کی کاسٹ میں طارق اسلام ،ثناء، شمعون عباسی، یاسر حسین، ارباز خان، عدنان شاہ ٹیپو، زارا عابد اور اصفر مانی سمیت دیگر اداکار شامل ہیں۔

  • بریڈ پٹ ہوئے ایک مسئلے کا شکار

    بریڈ پٹ ہوئے ایک مسئلے کا شکار

    لاکھوں کروڑوں لوگوں کے پسندیدہ اداکارہ بریڈ پٹ جنہیں ان کی خوبصورتی اور منفرد اداکاری کے حوالے سے خاصا سراہا جاتا ہے انہوں نے انکشاف کیا ہے کہ انہیں لوگوں‌کے اب چہرے یاد رکھنے میں مشکل پیش آرہی ہے ، انہوں نے ایک انٹرویو کے دوران کہا کہ میں لوگوں کے چہرے پہچان نہیں‌پاتا اور میں چہرے بھولنے کی بیماری میں مبتلا ہوں. بریڈ پٹ نے کہا کہ مجھے فیس بلائنڈ ڈس آڈر ہو گیا ہے. رپورٹس ہیں کہ ابھی تک برید پٹ کو اس بیماری میں مبتلا شخص قرار نہیں دیا گیا لیکن بریڈ پٹ خاصے پریشان ہیں. وہ چاہتے ہیں کہ وہ کسی ایسے شخص سے یا لوگوں سے ملیں جنہیں‌چہرے یاد رکھنے میں‌ مسئلہ در پش آتا ہے یا جو اس بیماری میں مبتلا ہیں.

    بریڈ پٹ نے اس انٹرویو میں یہ بھی بتایا کہ جب کوئی مجھ سے آکر ملتا ہے تو میں اس سے پوچھتا ہوں‌کہ آپ کون ہیں تو وہ شدید برا مان جاتے ہیں اور اس وجہ سے میرے بہت سارے لوگوں کے ساتھ تعلقات بھی خراب ہو چکے ہیں. میں جب کسی کو بتاتا ہوں‌کہ مجھے لوگوں کے چہرے یاد نہیں رہتے تو وہ سمجھتے ہیں کہ شاید میں مذاق کررہا ہوں یا ان کو ڈی گریڈ کررہا ہوں. میں اسی مسئلے کی وجہ سے اب اکثر گھر پر ہی رہتا ہوں کیونکہ مجھے کوئی آکر ملتا ہے تو میں سوچ میں‌پڑجاتا ہوں کہ اس شخص کو کہاں دیکھا ہے یا یہ ہے کون.پوچھ لوں کہ آپ کون ہیں تو مسئلہ بن جاتا ہے. برید پٹ نے کہا کہ میں جلد ہی اس مرض کے حوالے سے ڈاکٹروں سے تفصیلی گفتگو کروں گا اور چیک اپ کروائوں گا .

  • سنجے دت کو بچپن سے پسند کرتا ہوں رنبیر کپور

    سنجے دت کو بچپن سے پسند کرتا ہوں رنبیر کپور

    بالی وڈ اداکار رنبیر کپور کا کہنا ہے کہ سنجے دت کو میں بچپن سے پسند کرتا ہوں اور میری بہت خواہش تھی کہ میں ان کے ساتھ کام کروں. اور میری خوش نصیبی ہے کہ ان کے ساتھ کام کرنے کی خواہش پوری ہو گئی ہے. فلم شمشیرا میں سنجے دت کے ساتھ کام کرنے کا اعزاز حاصل ہونے پر میں بہت خوش ہوں. رنبیر کپور نے کہا کہ میں‌جب بہت چھوٹا تھا تو میں‌نے اپنی الماری میں سنجے دت کا پوسٹر رکھا ہوا تھا.سجنے دت اکثر ہمارے گھر آیا کرتے تھے میں ان کو دیکھا کرتا تھا اور ان سے

    بہت زیادہ متاثر ہوا کرتا تھا. میرے پاس یہ بھی اعزاز ہے کہ سنجے دت کی زندگی پر بننے والی فلم میں، میں نے کام کیا. رنبیر کپور نے کہا کہ میں شمیشرا میں سنجے دت کے مخالف نظر آئوں گا امید ہے کہ دیکھنے والوں‌کو یہ فلم بہت پسند آئیگی.
    یاد رہے کہ رنبیر کپور اکثر سنجے دت سے محبت کااظہار کرتے رہتے ہیں جبکہ سنجے دت کہتے ہیں کہ رنیبر کپور انہیں باپ کی طرح سمجھتا ہے اور اسی طرح‌ کی عزت دیتاہے.رنبیر کپور تو یہاں تک کہتے ہیں کہ سنجے دت تو میری فلموں کی چوائس پر بھی مجھے سنا دیا کرتے ہیں ان کو کوئی پراجیکٹ اچھا لگے تو سراہتے ہیں نہ اچھا لگے تو کہہ دیتے ہیں.