Baaghi TV

Category: شوبز

  • چالاک لومڑی اور معصوم گدھے کی کہانی "دی ڈونکی کنگ” چین میں ریلیز ہونے کے لئے تیار

    چالاک لومڑی اور معصوم گدھے کی کہانی "دی ڈونکی کنگ” چین میں ریلیز ہونے کے لئے تیار

    پاکستان کی اینیمیٹڈ فلم ‘دی ڈونکی کنگ’ کو 19 نومبر کو چین کے سینماؤں میں ریلیز کیا جائے گا۔

    باغی ٹی وی : سب سے زیادہ کمائی کرنے والی پاکستانی اینیمیٹڈ فلم قرار دی جانے والی ’دی ڈونکی کنگ‘ پہلے ہی اسپین، جنوبی کوریا، روس، یونان، ترکی، پیرو، کولمبیا، ایکواڈور، یوکرین، قازقستان اور تائیوان سمیت 10 سے زائد ممالک کے سینما گھروں میں ریلیز ہو چکی ہے اس فلم کو پہلے انگریزی زبان میں بھی ڈب کیا جا چکا ہے جبکہ امریکا اور برطانیہ میں ناظرین کے لیے ایمازون پرائم پر بھی ریلیز کیا جاچکا ہے تاہم اب یہ فلم چینی زبان میں ترجمے کے بعد سینماؤں میں ریلیز کی جائے گی۔

    خیال رہے کہ ‘ڈونکی کنگ’ کی کہانی ‘آزاد نگر’ نامی جانوروں کی ایک سلطنت پر مبنی ہے، جس کے بادشاہ یعنی شیر ریٹائر ہوکر اپنی سلطنت کسی نئے بادشاہ کے حوالے کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں فلم کی کہانی اس وقت دلچسپ بن جاتی ہے، جب ایک گدھے کو سلطنت کے راجا کے طور پر نامزد کیا جاتا ہے۔

    گدھے کو ایک چالاک لومڑی اس عہدے کے لیے تجویز کرتی ہیں، تاہم گدھا سلطنت کا نیا راجا بننے کو تیار نہیں ہوتا چالاک لومڑی کی جانب سے سمجھائے جانے کے بعد ہی گدھا راجا بننے کو تیار ہوجاتا ہے-

    تالسمان اسٹوڈیو کے بینر تلے ریلیز ہونے والی‘ڈونکی کنگ’ اکتوبر 2018 میں پاکستان بھر میں ریلیز ہوئی تھی اس فلم میں جانوروں کے کرداروں پر کئی نامور اداکاروں نے اپنی آواز کا جادو جگایا ہے گدھے کی آواز پر جان ریمبو (افضل خان) چالاک لومڑی پر حنا دلپزیر نے آواز کا جادو جگایا ہے، جب کہ دیگر کرداروں کی آوازوں پر جاوید شیخ، فیصل قریشی اور غلام محی الدین سمیت دیگر اداکاروں نے صداکاری کی ہے۔

  • "صنف آہن” :رمشا خان اور سائرہ یوسف کے کرداروں کے ٹیزر جاری

    "صنف آہن” :رمشا خان اور سائرہ یوسف کے کرداروں کے ٹیزر جاری

    ہدایت کار ندیم بیگ کے آنے والے میگا کاسٹ تھرلر ڈرامے ’صنف آہن‘ میں سجل علی، کبریٰ خان اور یمنیٰ زیدی کے بعد اداکارہ سائرہ یوسف اور رمشا خان کے کرداروں کے ٹیزر بھی جاری کردیئے گئے ہیں-

    باغی ٹی وی :اس سے قبل سجل علی کے کردار کا ٹیزر 13 نومبر کو جاری کیا گیا تھا، جس میں انہیں ایک عام لڑکی سے فوجی افسر بنتے دکھایا گیا تھا ان کے بعد کبریٰ خان اور یمنیٰ زیدی کے کرداروں کے ٹیزر 15 نومبر کو جاری کیے گئے تھے، جن میں انہیں پاک فوج کا حصہ بنتے دکھایا گیا تھا اب سائرہ یوسف اور رمشا خان کے کرداروں کے ٹیزر جاری کردیئے گئے، جن میں انہیں پاک میں شامل ہوکر روایات کو تبدیل کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

    رمشا خان ڈرامے میں پرویش جمال کے نام سے بلوچ لڑکی کا کردار ادا کرتی دکھائی دیں گی ان کے جاری کیے گئے ٹیزر میں انہیں روایتی بلوچ قبائل کی لڑکی کے طور پر دکھایا گیا ہے جو کہ کم عمری میں ہی ہتھیار چلاتی دکھائی دیتی ہیں، جس پر انہیں والدہ بھی ٹوکتی ہیں۔

    ’صنف آہن‘ میں اداکارہ سجل علی کبریٰ خان اور یمنیٰ زیدی کے کرداروں کے ٹیزر جاری

    ’صنف آہن‘ میں انہیں بلوچ قبائلی سردار کے زیر اثر خاندان کے فرد کے طور پر دکھایاگیا ہے جب کہ یہ بھی دکھایا گیا ہے کہ فوج میں ان کی شمولیت پر سردار بھی ناراض دکھائی دیتے ہیں انہیں قرض میں ڈوبے خاندان کے ایسے فرد کے طور پر دکھایا گیا ہے جو زائد العمری میں والدین کا سہارا بنتا ہے۔

    جبکہ سائرہ یوسف کے جاری کیے گئے ٹیزر میں انہیں ایک مسیحی لڑکی کے طور پر دکھایا گیا ہے جو یوحنا آباد سے نکل کر پاک فوج کا حصہ بنتی ہیں ٹیزر میں انہیں رومانس کرتے ہوئے بھی دکھایا گیا اور ان کے بوائے فرینڈ ان کی فوج میں شمولیت پر اعتراض بھی کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

    سائرہ یوسف ’صنف آہن‘ میں آرزو ڈینیئل کا کردار ادا کرتی دکھائی دیں گی جو بچپن سے ہی بہادری کی زندگی گزارتی دکھائی دیں گی۔ٹیزر میں دکھایا گیا ہے کہ آرزو ڈینیئل یعنی سائرہ یوسف کو پاک فوج کا حصہ بننے کے لیے والد کی سپورٹ ہوتی ہےمختصر ٹیزر میں انہیں عام مسیحی لڑکی سے فوجی افسر بنتے دکھایا گیا ہے جب کہ انہیں سخت ٹریننگ کرتے اور ہتھیار چلاتے ہوئے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

    واضح رہے کہ ’صنف آہن‘ کی کہانی عام گھرانوں سے تعلق رکھنے والی لڑکیوں کے گرد گھومتی ہے جو بعد ازاں فوجی افسر بنتی ہیں سائرہ یوسف، سجل علی، کبریٰ خان، یمنٰی زیدی اور رمشا خان کے علاوہ ’صنف آہن‘ کی مزید کاسٹ میں عثمان مختار، میرب علی، عاصم اظہر، علی رحمٰن، عثمان پیرزادہ، صبا حمید اور سری لنکن اداکارہ یحالی تاشیا سمیت دیگر اداکار بھی شامل ہیں۔

    ڈرامے کی کہانی عمیرہ احمد نے لکھی ہے اور اسے ہمایوں سعید کی اہلیہ ثمینہ سعید ثنا شاہنواز نے پروڈیوس کیا ہے جب کہ ڈرامے کو بنانے میں پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے بھی تعاون کیا ہےڈرامے کو جلد اے آر وائے ڈیجیٹل پر نشر کیا جائے گا، تاہم اس کی ریلیز کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔

    ڈراما سیریل’صنف آہن‘ کا ٹیزر جاری

  • آنجہانی اداکار سوشانت سنگھ کے 5 رشتہ دار ٹریفک حادثہ میں جاں بحق

    آنجہانی اداکار سوشانت سنگھ کے 5 رشتہ دار ٹریفک حادثہ میں جاں بحق

    آنجہانی بالی ووڈ اداکار سوشانت سنگھ راجپوت کے 5 رشتے داروں سمیت 6 افراد بھارتی ٹریفک حادثے میں ہلاک ہوگئے۔

    باغی ٹی وی :ِ "انڈین ایکسپریس” کے مطابق ہلاک و زخمی ہونے والے افراد سوشانت سنگھ راجپوت کے بہنوئی او پی سنگھ جو کہ ہریانہ کے پولیس آفیسر ہیں کی بہن کی آخری رسومات میں شرکت کرکے منگل کی صبح تقریباً 6.30 بجے ان کی گاڑی کوریاست بہار کے ضلع لکھی سرائی کے نیشنل ہائی وے 333 میں حادثہ پیش آگیا۔

    بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ گاڑی کا ڈرائیور سوگیا تھا جس کی وجہ سے گاڑی ایل پی جی سلنڈرز سے بھرے ہوئے ایک ٹرک سے جا ٹکرائی اور حادثہ پیش آگیا۔
    لکھی سرائی ضلع کے سپرٹنڈنٹ سشیل کمار نے حادثے کی تصدیق کرتے ہوئے اسے ایک خوفناک حادثہ قرار دیا۔

    حادثے میں گاڑی کے ڈرائیورسمیت 6 افراد ہلاک ہوئےجبکہ 4 افراد زخمی ہیں، جنہیں تشویشناک حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا ہے میڈیا رپورٹس کے مطابق ہلاک ہونے والے افراد سوشانت سنگھ راجپوت کے دور کے رشتے دار تھے حادثے کی اطلاع ملتے ہی بہار کے وزیر اور سوشانت سنگھ راجپوت کے رشتے دار نیرج سنگھ ببلو حادثے میں ہلاک ہونے والے افراد کے اہلخانہ سے ملاقات کے لیے جموئی پہنچے۔

    واضح رہے کہ اداکار سوشانت سنگھ راجپوت گزشتہ برس 14 جون کو ممبئی میں اپنے فلیٹ میں مردہ حالت میں پائے گئے تھے۔ ممبئی پولیس نے تصدیق کی تھی کہ 34 سالہ اداکار نے پھانسی لگا کر خودکشی کی ہے۔

  • بھارتی سیاستدان کا تامل اداکار کو مارنے پر انعام کا اعلان

    بھارتی سیاستدان کا تامل اداکار کو مارنے پر انعام کا اعلان

    بھارتی سیاست دان نے تامل فلم ’جے بھیم‘بنانے والے اداکار سوریا کو پیٹنے پر انعامی رقم رکھ دیا-

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق جہاں ایک جانب یہ فلم کامیابی کے جھنڈے گاڑ رہی ہے ، وہیں دوسری جانب تامل ناڈو کی سیاسی جماعت پٹالی مکل کچی (پی ایم کے ) نے اسے ان کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے والی فلم قرار دیا ہے۔

    سوریا کے خلاف پی ایم کے کے مقامی لیڈر سیتھاملی پزہانی سوامی نے مائیلا ددورائی میں سوریا کے خلاف کمشنر آفس میں درخواست بھی دائر کی ہوئی ہے۔دوسری جانب انہوں نے اشارہ دیا کہ جس طرح بنگلور ایئرپورٹ پر اداکار وجے سیتھو پتی پر حملہ ہوا تھا، وہ چاہتے ہیں کہ ایسا ہی حملہ ان کی پارٹی کے نوجوان سوریا پر کریں انہیں ایک لاکھ روپے انعام ملے گا۔

    دوسری جانب بھارتی میڈیا ” خبر بھارت” کے مطابق پی ایم کے لیڈر اور سابق مرکزی وزیر صحت انبومانی رامادوس نے فلم کے مرکزی اداکار اور پروڈیوسر سوریا کو اس حوالے سے خط لکھا کہ سوریہ کو لکھے ایک خط میں رامدوس نے کہا، "ہزاروں لوگ مجھے بتا رہے ہیں کہ کس طرح تمل فلم ‘جئے بھیم’ میں منصوبہ بند طریقے سے ونیار برادری کی توہین کی گئی ہے-

    سابق مرکزی وزیر نے کہا کہ انہیں یہ خط لکھنے پر مجبور کیا گیا کیونکہ غصہ بڑھ رہا تھا اور سوریہ نے اس معاملے پر خاموشی اختیار کر رکھی تھی یہ کہتے ہوئے کہ فلموں کو، جو کہ ایک اچھا میڈیم ہے، آرٹ، خوبصورتی اور اس کے ساتھ ساتھ معاشرے کے لیے فائدہ مند اچھے خیالات کو پھیلانے کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے، رامدوس نے الزام لگایا کہ ‘جے بھیم’ نے اس میڈیم کا استعمال صرف امن کو تباہ کرنے اور معاشرے کو تباہ کرنے کے لیے کیا ہے۔

    بھارتی فلم”جے بھیم” نے مقبولیت اور ریکارڈ میں ہالی ووڈ فلم کو پیچھے چھوڑ دیا

    سیاستدان نے دعویٰ کیا کہ تمل ناڈو کے لوگوں کو ‘جے بھیم’ کے بارے میں کئی شکوک و شبہات ہیں۔ انہوں نے لکھا، "فلم کے پروڈیوسر کے طور پر، آپ کو ان کے معقول شبہات کو واضح کرنے کے لیے درج ذیل سوالات کے جوابات دینے ہوں گے۔”

    اس کے بعد پی ایم کے لیڈر نے کئی سوالات اٹھائے جن میں شامل ہیں، "کیا ‘جئے بھیم’ واقعی حقیقی زندگی کے واقعے پر مبنی ہے؟ اگر ایسا ہے، تو کیا حقیقی زندگی کا واقعہ کڈالور ضلع کے مدنائی گاؤں میں پیش آیا تھا یا یہ اس وقت پیش آیا تھا؟ کونمالائی گاؤں؟”

    اس بات کی نشاندہی کرتے ہوئے کہ جب میکرز نے قتل ہونے والے ارولر نوجوان کے کرداروں کو دینے کا انتخاب کیا تھا، عدالت میں مقتول کا دفاع کرنے والے وکیل اور فلم میں انکوائری کرنے والے آئی جی، اصل واقعے میں ملوث افراد کے اصل نام۔ ، رامداس نے پوچھا کہ پھر ٹیم نے یہ جاننے کے باوجود کہ سب انسپکٹر کا نام جس نے راجکنو کو مار مار کر موت کے گھاٹ اتار دیا تھا، فلم میں اس کردار کا نام ‘گرو مورتی’ کیوں منتخب کیا۔

    رپورٹ کے مطابق انہوں نے یہ بھی پوچھا کہ فلم میں کمرہ عدالت کے مناظر کیوں بنائے گئے، جہاں سب انسپکٹر کے کردار کو ‘گرو’ کہہ کر مخاطب کیا گیا فلم کے ایک خاص منظر میں جس میں سفاک سب انسپکٹر کو اس کے گھر پر ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے، پس منظر میں ونیار ایسوسی ایشن کا ایک کیلنڈر تھا جس پر ‘اگنی کلسم’، ایک مقدس علامت ہے۔

    یہ کہتے ہوئے کہ ‘جئے بھیم’ کا مطلب امبیڈکر کی جیت ہے، رامدوس نے کہا کہ عظیم رہنما نے کسی بھی برادری کی توہین کے بارے میں کچھ نہیں سکھایا۔ "تاہم، آپ کی ٹیم اور آپ، جنہوں نے ‘جئے بھیم’ کے نام سے ایک فلم کی اداکاری اور پروڈیوس کی ہے، متاثرہ افراد کو انصاف دلانے سے زیادہ ونیروں کی توہین پر توجہ دی ہے۔ کیا آپ نے ‘جئے بھیم’ کا یہی مطلب سمجھا ہے۔ ‘؟

    رپورٹ کے مطابق سیاست دان نے خط کا اختتام یہ کہتے ہوئے کیا کہ انہیں یقین ہے کہ سوریہ اپنے فن اور اپنی تخلیقات کے لیے دیانتدار ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر آپ سچے ہیں تو مجھے امید ہے کہ آپ ان سوالوں کا جواب دیں گے جو آپ سے پوچھے گئے ہیں۔

  • بھارتی فلم”جے بھیم” نے مقبولیت اور ریکارڈ  میں ہالی ووڈ فلم کو پیچھے چھوڑ دیا

    بھارتی فلم”جے بھیم” نے مقبولیت اور ریکارڈ میں ہالی ووڈ فلم کو پیچھے چھوڑ دیا

    دلتوں پر بننے والی بھارتی فلم "جے بھیم ” نے ریٹنگ اور مقبولیت میں ہالی ووڈ کی شہرہ آفاق فلم ’’گاڈ فادر‘‘ کو بھی پیچھے چھوڑدیا۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق بالی ووڈ کے فلمسازوں اور اکشے کمار، اجے دیوگن، رنویر سنگھ جیسے اداکاروں کو اپنی فلمیں ہٹ کروانے کا صرف ایک ہی فارمولا معلوم ہے کہ اپنی فلموں میں پاکستان اور مسلمانوں کو جس حد تک ہوسکے منفی کرداروں میں دکھانا اور انہیں دہشت گرد قرار دینا برسوں گزرنے کے باوجود بالی ووڈ اب بھی پاکستان اور مسلمانوں کے خلاف جنون سے باہر نہیں نکل سکا اگر نکلتا تو اسے نظر آتا کہ دراصل بھارت خود ایک ایسی پستی میں گرا ہوا ہے جس میں انسانوں کو جانور سمجھ کر انہیں پیروں تلے روندنے سے بھی گریز نہیں کیاجاتا-

    بھارت میں نچلی ذات سے تعلق رکھنے والے انسانوں کو اچھوت قرار دے کر پیروں تلے روند دینا اس بھارتی نام نہاد جمہوریت کا ایک ایسا بھیانک چہرہ ہے جس پر انسانیت شرما جاتی ہے تاہم اب بھارت کے اسی چہرے کو بے نقاب کیا گیا ہے-

    رواں ماہ 2 نومبر کو ایمیزون پرائم پر ’’جے بھیم‘‘ نامی فلم ریلیز ہوئی ہے جو بنیادی طور پر تامل زبان میں ریلیز ہوئی ہے لیکن ہندی اور تیلگو زبان میں بھی موجود ہے اس فلم میں بھارت کے اُس چہرے کو دنیا کے سامنے لایا گیا ہے جسے دیکھ کر خود بھارتیوں کے سر بھی شرم سے جھک جائیں اس فلم میں بھارت میں ذات پات کی قید میں جکڑے انسانوں پر وحشیانہ تشدد کی وہ مثال دکھائی گئی ہے کہ انسان اسے دیکھ کر شرماجائے اور خود سے نظریں نہ ملاسکے۔

    فلم ’’جے بھیم‘‘ کی کہانی بھارت میں بسنے والے نچلی ذات کے افراد جنہیں ’’دلت‘‘ کہا جاتا ہے کے گرد گھومتی ہے ایسےافراد جو گزر بسر کے لیے سانپ اور چوہے پکڑنے کا کام کرتے ہیں اس فلم میں دلتوں کے خلاف ’’جبر‘‘ کی کہانی دکھائی گئی ہے-

    فلم میں ایک اونچی ذات والے انسان کے گھر چوری ہوجاتی ہے تو وہ بغیر ثبوت کے سیدھا نچلی ذات والے انسانوں پر الزام لگادیتا ہے اور پولیس بھی بغیر کسی ثبوت کے غیر قانونی طور پر نچلی ذات کے ان افراد کو گرفتار کرلیتی ہے اور پھر ان پر بہیمانہ تشدد کرکے زبردستی ان سے اس گناہ کو قبول کرنے کے لیے کہاجاتا ہے جو انہوں نے کبھی کیا ہی نہیں۔

    کہانی میں ٹوئسٹ اس وقت آتا ہے جب گرفتار ہونے والے شخص کی حاملہ بیوی اپنے شوہر کو باہر نکلوانے کی ٹھان لیتی ہے اور پھر چندرو نامی وکیل(تامل اداکار سوریا) جو دراصل اس فلم کا مرکزی کردار ہے وہ ان دلتوں کی آواز بن کر سامنے آتا ہے اور پھر بھارتی قانون اور انصاف کی ایسی پرتیں کھلتی ہیں جسے دیکھ کر خود پولیس والے بھی شرماجائیں۔

    اس فلم میں اونچی اور نچلی ذات میں فرق کی جس طرح عکس بندی کی گئی ہے اس نے بھارت کے چہرے سے کئی نقاب ہٹادئیے ہیں جس کی وجہ سے کئی لوگوں تکلیف بھی ہوئی ہے اوراسی لیے بھارت کی اونچی ذات وانیار کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے ایک شخص وانیار سنگم نے اپنی کمیونٹی کی ساکھ خراب کرنے کے لیے فلم کے ہدایت کار وپروڈیوسر کولیگل نوٹس بھیجا ہے۔

    لیکن وہیں فلم کو پسند کرنے والے افراد بھی منظرعام پر آئے ہیں اور فلم کی ٹیم کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے ’’وی اسٹینڈ ود سوریا‘‘ کا ہیش ٹیگ شروع کیا ہے جو ٹوئٹر پر ٹرینڈنگ میں ہے۔

    فلم ایمیزون پرائم پر 2 نومبر کو ریلیز کی گئی تھی اور لوگوں کو اتنی زیادہ پسند آرہی ہے کہ آئی ایم ڈی بی (انٹرنیٹ مووی ڈیٹا بیس) پر مقبولیت میں اس نے ہالی ووڈ فلم ’گاڈ فادر‘‘ کو بھی پیچھے چھوڑدیا ہے۔ ’’گاڈ فادر‘‘ کی آئی ایم ڈی بی پر ریٹنگ 9.2 ہے جب کہ فلم ’’جے بھیم‘‘ کو 9.6 ریٹنگ ملی ہے۔ اس فلم کی کہانی کوئی بنی بنائی من گھڑت کہانی نہیں ریٹائرڈ جج کے چندرو کی حقیقی زندگی پر مبنی ہے فلم ’’جے بھیم‘‘ کو سینما میں ریلیز نہیں کیا گیا فلم کے ہدایت کار اور رائٹر ٹی جے گنانوال ہیں جب کہ فلم کو جیوتیکا اور سوریا نے پروڈیوس کیا ہے۔

    واضح رہے کہ دلت ہندوستانی آبادی کا تقریباً 20 فیصد ہیں اور ان کے تحفظ کے لیے قوانین ہونے کے باوجود انہیں بھارت میں آج کے دور میں بھی امتیازی سلوک اور تشدد کا سامنا کرنا پڑرہا ہے-

  • حمائمہ ملک کی اپنی غیر اخلاقی تصاویر پھیلانے والوں کیخلاف قانونی کاروائی کی دھمکی

    حمائمہ ملک کی اپنی غیر اخلاقی تصاویر پھیلانے والوں کیخلاف قانونی کاروائی کی دھمکی

    پاکستان کی معروف اداکارہ حمائمہ ملک نے ان کی جعلی غیر اخلاقی تصاویر پھیلا نے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کی دھمکی دی ہے۔

    باغی ٹی وی : اداکارہ حمائمہ ملک کی انسٹااسٹوری کا ایک اسکرین شاٹ سوشل میڈیا پر گردش کررہا ہے جس میں حمائمہ ملک نے کہا ہے کہ میری کچھ تصاویر انٹرنیٹ پر گردش کررہی ہیں جنہیں بے ہودہ طریقے سے ایڈٹ کیا گیا ہے یہ نہایت شرم کی بات ہے لوگ ایسا کیسے کرسکتے ہیں۔

    اداکارہ نے اپنی ایڈٹ کی ہوئی تصاویر کو شیئر کرنے والے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو قانونی کارروائی کی دھمکی دیتے ہوئے کہا میں ان فین پیجز سے درخواست کرتی ہوں کہ قانونی نوٹس لینے سے پہلے انہیں ابھی ہٹادیں۔

    واضح رہے کہ حمائمہ ملک چند روز قبل آئی پی پی اے ایوارڈ کی تقریب میں شرکت کے لیے ترکی کے شہر استنبول میں موجود تھیں جہاں اپینڈکس پھٹنے کی وجہ سے وہ کئی گھنٹے اسپتال میں داخل رہی تھیں انہوں نے سوشل میڈیا پر اپنے تمام مداحوں سے جلد صحت یابی کے لیے دعا کی درخواست بھی کی تھی۔

    حمائمہ ملک نے انسٹاگرام پوسٹ شیئر کرتے ہوئے بتایا تھا کہ حال ہی میں ان کی اپینڈکس کی کامیاب سرجری ہوئی ہےانہوں نے استنبول کے اسپتال میں 22 گھنٹے ریپچر اپینڈکس کی وجہ سے گزارےمیرے رب نے مجھے نئی زندگی دی ہے، مجھے دعاؤں کی سخت ضرورت ہے۔

    اداکارہ نے حاسدین سے متعلق اپنی پوسٹ پر صارفین سے التجائیہ لہجے میں کہا تھا کہ نظر جان لے سکتی ہے، برائے مہربانی اپنے اور چاہنے والوں کیلئے دعا کرتے رہیں، نظر چلتا پھرتا بندہ مار سکتی ہے، پیار سے دیکھو، خدا سے ہر کسی کی خیر مانگو، اللہ کسی کو حسد کی نظر نہ لگائے۔ اس سارے واقعے میں، میں نے موت کو انتہائی قریب سے دیکھا۔

  • پہلی مسلم  سپر ہیرو لڑکی کی ویب سیریز "مس مارول” کا ٹیزر جاری

    پہلی مسلم سپر ہیرو لڑکی کی ویب سیریز "مس مارول” کا ٹیزر جاری

    مارول اسٹوڈیو نے اپنی ویب سیریز ’مس مارول‘ کا مختصر ٹیزر جاری کردیا-

    باغی ٹی وی : پہلی مسلم خاتون سُپر ہیرو سیریزکے لیے پاکستانی نژاد لڑکی کا انتخاب کیا گیا ہے مارول اسٹوڈیو کی جانب سے شیئر کیے گئے ٹیزر میں ریاست نیو جرسی کی ایمان ولانی کو پہلی مسلم خاتون سپر ہیرو کے طور پر دکھایا گیا ہے 16 سالہ ایمان ولانی نے سپر ہیرو سیریز میں پاکستانی نژاد کردار کمالہ خان کا روپ دھارا ہے۔
    https://www.youtube.com/watch?v=xrWvQZqcXOI
    مختصر دورانیے کے ٹیزر میں مرکزی کردار کا پس منظر بھی دکھایا گیا ہے جب کہ ٹیزر میں مسلمان نماز پڑھتے ہوئے بھی نظر آرہے ہیں ٹیزر میں دکھایا گیا ہے کہ سُپر ہیرو ’کمالہ خان‘ کس طرح مختلف صلاحیتوں کی مالک لڑکی ہیں جو مشکل میں پھنسے افراد کی مدد کرتی ہیں اور دنیا کو بہتر بنانے کے لیے مسلسل کوشاں ہے۔

    ویب سیریز کو ریلیز کرنے کی تاریخ کا رسمی اعلان تو نہیں کیا گیا تاہم مارول اسٹوڈیونے کچھ عرصہ قبل ویب سیریزمس مارول کو 2022 کے موسم سرما میں پیش کرنے کا اعلان کیا تھا۔

    پاکستانی اداکارہ نمرہ بُچہ ہالی وڈ میں ڈیبیو کے لئے تیار

    مس مارول ’’کمالہ خان‘‘ کے کردار کو 2014 میں متعارف کیا گیا تھا اور 2015 میں اس سیریز نے بہترین گرافک اسٹوری کے لیے ہیوگو ایوارڈ اپنے نام کیا یہ پہلا موقع ہے کہ کسی بھی ویب سیریز کی کہانی نہ صرف پاکستانی بلکہ مسلم لڑکی کے گرد گھومے گی ’مس مارول‘ نامی ویب سیریز میں متعدد پاکستانی اداکار، فلم ساز اور دیگر تکنیکی افراد بھی اپنی صلاحتیں استعمال کرتے دکھائی دیں گے ٹی وی سیریز کے مرکزی کردار کا مسلمان اور خصوصاً پاکستانی ہونے کی وجہ سے اس کردار میں لوگوں کی دلچسپی بڑھ گئی ہے۔

    مارول اسٹوڈیو کی اس ٹی وی سیریز کی ہدایات پاکستانی ہدایت کارہ شرمین عبید چنائے اور ان کے ساتھ مزید 3 نامور ہدایت کارعدیل العربی، بلال فلاح اور بھارتی نژاد امریکی خاتون میرا مینن دیں گی۔ یہ ٹی وی سیریز اسٹریمنگ ویب سائٹ ڈرنی پلس پر پیش کی جائے گی’مس مارول‘ میں پاکستانی اداکارہ ثنا بچہ بھی نظر آئیں گی ممکنہ طور پر سیریز کے پہلے سیزن میں 6 قسطیں شامل ہوں گی۔

  • فلسطین سے اظہار یکجہتی: جنوبی افریقہ کا اسرائیل میں مس یونیورس تقریب کا بائیکاٹ

    فلسطین سے اظہار یکجہتی: جنوبی افریقہ کا اسرائیل میں مس یونیورس تقریب کا بائیکاٹ

    جنوبی افریقہ کی حکومت نے اسرائیل میں منعقد ہونے والے ’مس یونیورس‘ مقابلے میں مس جنوبی افریقہ کی شرکت سے خود کو الگ کر لیا ہے۔

    باغی ٹی وی :غیر ملکی میڈیا کے مطابق جنوبی افریقی حکومت نے فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے آئندہ ماہ دسمبر میں اسرائیل میں ہونے والے ’مس یونیورس‘ کے مقابلوں سے خود کو الگ کیا ہےاسرائیلی اخبار ’ٹائمز آف اسرائیل‘ کے مطابق جنوبی افریقی حکومت نے 14 نومبر کو اپنے اعلان میں واضح کیا کہ وہ مقابلہ حسن سے الگ ہو رہی ہے

    جنوبی افریقہ کی حکومت نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ مس جنوبی افریقہ کے اس مقابلے میں شرکت کے فیصلے سے حکومت کا کچھ بھی لینا دینا نہیں ہے حکومت کے مطابق انہوں نے جنوبی افریقہ کی ’مس یونیورس‘ انتظامیہ کو سمجھانے کی کوشش کی مگر انتظامیہ نے ان کی تجاویز نہیں مانیں، جس کے بعد حکومت خود کو مقابلوں سے الگ کر رہی ہے۔

    وزیر ثقافت کا کہنا تھا کہ جنوبی افریقی عوام بھی ‘مس یونیورس‘ مقابلے میں شرکت کرنے والی حسینہ سے دستبردار ہونے کا مطالبہ کر رہی ہے اور حکومت سمجھتی ہے کہ ان کا اسرائیل جانا ان کی مقبولیت کو کم کر سکتا ہے۔

    حکومت کے مطابق اسرائیل کی جانب سے فلسطینیوں پر مظالم ڈھائے جانے کے دستاویزی اور مستند ثبوت موجود ہیں، حکومت کسی طرح بھی نسل پرست ریاست کی حمایت نہیں کرے گی۔

    جنوبی افریقی حکومت نے واضح کیا کہ اب ’مس یونیورس‘ مقابلوں میں شرکت کرنے والی ان کے ملک کی تنظیم کو حکومتی حمایت حاصل نہیں ہوگی اور ان کی شرکت کو حکومتی پالیسی کا حصہ نہ سمجھا جائے۔

    دوسری جانب جنوبی افریقہ کی ’مس یونیورس‘ انتظامیہ کے مطابق اسرائیل میں ہونے والے مقابلے میں کوئی بھی سیاسی ایونٹ نہیں ہوگا، اس لیے اس کا بائیکاٹ کرنا درست نہیں منتظمین کی جانب سے حکومتی تجویز نہ ماننے پر جنوبی افریقی حکومت نے خود کو مقابلوں سے الگ کرلیا۔

    عام طور پر ہر ملک کی مقابلہ حسن کروانے والی انتظامیہ کو حکومت کی حمایت حاصل ہوتی ہے اور حکومتیں ایسے مقابلوں کو پروان بھی چڑھاتی ہیں تاہم اب جنوبی افریقی حکومت ’مس یونیورس‘ کے آئندہ ماہ اسرائیل میں ہونے والے مقابلے کے دوران اپنے ملک کی انتظامیہ کی حمایت نہیں کرے گی۔

    ’مس یونیورس‘ کا 70 واں سالانہ مقابلہ آئندہ ماہ یعنی دسمبر کی 12 تاریخ کو اسرائیل کے شہر ایلات میں ہونے والا ہے جس میں 70 سے زائد ممالک کی حسینائیں اعزاز جیتنے کے لیے مد مقابل ہوں گی جبکہ جنوبی افریقہ میں بہت شدت کے ساتھ یہ مطالبہ ہو رہا تھا کہ اسرائیل میں انعقاد کی وجہ سے ‘مس جنوبی افریقہ’ کا بائیکاٹ کیا جانا چاہیے۔

  • برطانوی شاہی خاندان "دی کراؤن” کے خلاف قانونی کاروائی کر سکتا ہے     قانونی ماہرین

    برطانوی شاہی خاندان "دی کراؤن” کے خلاف قانونی کاروائی کر سکتا ہے قانونی ماہرین

    برطانوی شاہی خاندان کے قریبی دوستوں نے مشہور نیٹ فلکس سیریز ’دی کراؤن‘ کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کا مطالبہ کردیا ہے۔

    باغی ٹی وی : برطانوی میڈیا کے مطابق، قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ شاہی خاندان کے پاس حق ہے کہ وہ اسٹریمنگ سروس نیٹ فلکس کےخلاف ہتکِ عزت کا مقدمہ کرسکتے ہیں یہ رپورٹ شاہی خاندان کے قریبی ذرائع کے ذریعے سامنے آئی ہے۔

    رپورٹ کے مطابق اندرونی ذرائع نے یہ بھی کہا ہے کہ شاہی خاندان کے قریبی دوستوں نے اس معاملے پر قانونی مشورہ طلب کیا ہے شاہی خاندان کے قریبی دوستوں کو جو مشورہ ملا وہ شاہی خاندان پر بھی لاگو ہوگا، اگرچہ یہ مشورہ ملکہ اور ان کے خاندان کو براہ راست نہیں دیا گیا ہے لیکن انہیں اس مشورے سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔

    رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس اقدام کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ’یہ سیریز اب تک کی سب سے متنازع ہوگی اور یہ ایسے واقعات سے متعلق ہے جو اب بھی بہت سے لوگوں کے علم میں نہیں ہیں۔

    واضح رہے کہ وزیر اعظم عمران خان کی سابق اہلیہ برطانوی فلم ساز و لکھاری جمائما گولڈ اسمتھ نے معروف اور متنازع ویب سیریز ’دی کراؤن‘ کے آنے والے پانچویں سیزن کی عکس بندی و کہانی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سیریز کی ٹیم سے علیحدگی اختیار کرلی ہے-

    جمائما گولڈ اسمتھ ’دی کراؤن‘ کے پانچویں سیزن کی شریک لکھاری ہیں، انہوں نے کہا تھا کہ ویب سیریز میں ان کی سہیلی لیڈی ڈیانا کے واقعات کو ناشائستہ انداز میں دکھایا جا رہا ہے، جس وجہ سے وہ ٹیم سے علیحدگی اختیار کر رہی ہیں۔

    جمائما گولڈ اسمتھ نے’دی کراؤن‘ سیریز کی ٹیم سے علیحدگی اختیار کرلی

    جمائما گولڈ سمتھ نے کہا تھا کہ ان سے ویب سیریز کے تخلیق کار پیٹر مورگن نے پانچویں سیزن کی کہانی لکھنے کی درخواست کی اور انہوں نے لیڈی ڈیانا کی بہترین سہیلی ہونے کے ناطے سکرپٹ پرستمبر 2020 ءسے فروری 2021 ءتک کام کیا ، انہیں توقع تھی کہ سیریز کی ٹیم ان کی توقعات کے مطابق ہی کہانی کو پیش کرے گی لیکن پانچویں سیزن میں لیڈی ڈیانا کی کہانی ان کی توقعات کے برخلاف دکھائی جا رہی ہے، جس وجہ سے وہ سیریز سے الگ ہو رہی ہیں اور انہوں نے ’دی کراؤن‘ کی ٹیم کو لکھاریوں کی فہرست سے اپنا نام نکالنے کی درخواست کی ہے۔

    ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ ’دی کراؤن‘ کے پانچویں سیزن میں لیڈی ڈیانا کی زندگی کے کس حصے کو جمائما گولڈ اسمتھ کی توقعات کے برخلاف دکھایا گیا ہے ذرائع کے مطابق پانچویں سیزن میں لیڈی ڈیانا کی شادی کے آخری سال، ہارٹ سرجن اور دوسرے کاروباری شخص سے معاشقے سمیت ان کے کار حادثے کے واقعات کو دکھایا جائے گا۔

    پانچویں سیزن کی شوٹنگ جاری ہے اور ممکنہ طور پر اسے آئندہ برس نومبر یا دسمبر میں ریلیز کیا جائے گا جس میں لیڈی ڈیانا کا کردار آسٹریلوی اداکارہ ایلزبتھ ڈبیکی ادا کرتی دکھائی دیں گی-

    ’دی کراؤن‘ سیریز کی مرکزی کہانی ملکہ برطانیہ ایلزبتھ دوئم کی زندگی پر مبنی ہے اور سیریز کا آغاز ہی ان کی جوانی، شادی اور تخت سنبھالنے سے ہوتا ہے سیریز میں نہ صرف شاہی محل میں ہونے والی سازشوں اور معاشقوں کو دکھایا گیا بلکہ اس میں برطانوی شاہی خاندان کے دنیا بھر کی سیاست پر پڑنے والے اثرات کے اہم واقعات کو بھی دکھایا گیا ہے۔

    مذکورہ سیریز کا پہلا سیزن 2016 میں جاری کیا گیا تھا، پہلے سیزن میں 1947 سے 1955 کے شاہی خاندان کا دور دکھایا گیا تھا ’دی کراؤن‘ کا دوسرا سیزن 2017 میں ریلیز کیا گیا تھا جس کی کہانی 1956 سے 1964 کے عرصے کے دوران گھومتی ہے ’دی کراؤن‘ سیریز کا تیسرا سیزن نومبر 2019 میں ریلیز ہوا اور اس میں 1964 سے 1977 کا دور دکھایا گیا تھا ویب سیریز کا چوتھا سیزن گزشتہ برس نومبر میں ریلیز کیا گیا تھا، جس میں 1977 سے لے کر 1986 یا 1988 تک کا دور دکھایا گیا اب پانچویں سیزن میں 1988 سے لے کر 1999 تک کا دور دکھائے جانے کا امکان ہے۔

    مذکورہ سیزن کے بعد ’دی کراؤن‘ کا آخری چھٹا سیزن بھی جاری کیا جائے گا اور تمام سیزنز کی مرکزی کہانی ملکہ برطانیہ کے گرد گھومے گی۔

  • اداکار راجکمار راؤ شادی کے بندھن میں بندھ گئے

    اداکار راجکمار راؤ شادی کے بندھن میں بندھ گئے

    بالی ووڈ اداکار راج کمار راؤ اپنی قریبی دوست پترالیکھا سے شادی کے بندھن میں بندھ گئے-

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق اداکار راج کمار راؤ اور ان کی دوست پترالیکھا کی منگنی کی شاندار تقریب ہوئی جس کی تصاویر اور ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہورہی ہیں جب کہ ایک ویڈیو میں دونوں کو ایک دوسرے کو انگوٹھی پہناتے ہوئے بھی دیکھا جاسکتا ہے

    اداکار راج کمار نے گزشتہ روز اپنی شادی کا دعوت نامہ بھی ٹوئٹر پر شیئر کیا جس کے مطابق ان کی شادی ریاست پنجاب اور ہریانہ کے دارالحکومت ’چندی گڑھ‘ کے پرتعیش مقام پر ہوئی –

    مہمانوں کو شادی کا دعوت نامہ دیتے ہوئے لکھا گیا تھا کہ راؤ فیملی اور پال فیملی آپ کو اجیت پال اور پاپری پال کی بیٹی پترالیکھا، کملیش یادو اور ستیہ پرکاش یادو کے بیٹے کی شادی کی دعوت دیتے ہیں، جوکہ پیر 15 نومبر 2021 کو اوبرائے سکھ ولازچندی گڑھ میں ہے۔

    رپورٹس کے مطابق راج کمار راؤ کی شادی میں بالی ووڈ کی معروف شخصیات سمیت قریبی دوستوں اور رشتہ داروں نے شرکت کی۔

    دوسری جانب راج کمار راؤ کی اہلیہ نے بھی سماجی رابطئ کی ویب سائٹ انسٹاگرام پر لکھا ’’میں آج اس سے شادی کے بندھن میں بندھ گئی جو گزشتہ 11 سال سے میرے لیے سب کچھ ہے، میرا دوست، میرا کرائم پاٹنر اور میری فیملی بھی ہے‘‘۔

    اس سے قبل بھارتی میڈیا نے بتایا تھا کہ، راجکمار راؤ اور پترلیکھا کی شادی کی شاندار تقریبات چندی گڑھ کے اوبرائے سکھ ولاس سپا ریزورٹ میں ہوں گی، اس ریزورٹ کی ایک رات کے لیے بکنگ کی قیمت 6 لاکھ بھارتی روپے ہے۔

    اس شاندار ریزورٹ کی ویب سائٹ کے مطابق، شادی کا یہ مقام ہمالیہ کے دامن میں واقع ہے اور سیسوان فاریسٹ رینج میں 8,000 ایکڑ زمین پر پھیلا ہوا ہے اس ریزورٹ کے ارد گرد واقع جنگل میں دیگر سہولیات جیسےکہ صحت، پولز، موسمی کھانے، اور دیگر تفریحی سرگرمیاں بھی فراہم کی جاتی ہیں ناصرف یہ بلکہ شاندار شادی کا یہ مقام مختلف قیمتوں میں چار الگ الگ قسم کے کمروں کی سہولیات فراہم کرتا ہےاور کوہ نور، سب سے زیادہ شاہانہ ہےجس کی ایک رات کی بکنگ کی قیمت تقریباً 6 لاکھ بھارتی روپے ہے۔

    واضح رہے اداکار راج کمار راؤ ’شادی میں ضرور آنا‘، ’استری‘، ’بریلی کی برفی‘، ’نیوٹن‘، ’لڈو‘،’میڈ ان چائنہ‘ جیسی کامیاب فلمیں کرچکے ہیں-