Baaghi TV

Category: شوبز

  • عائزہ خان مادھوری ڈکشٹ سے کیوں ملنا چاہتی ہیں؟

    عائزہ خان مادھوری ڈکشٹ سے کیوں ملنا چاہتی ہیں؟

    پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری کی مقبول ترین اداکارہ عائزہ خان نے سوشل میڈیا پر بھارتی اداکارہ مادھوری ڈکشٹ کے انداز شیئر کیے ہیں۔

    باغی ٹی وی : فوٹو اینڈ ویڈیو شئیرنگ ایپ انسٹاگرام پرعائزہ خان نے چند تصاویر شئیر کی ہیں یہ تصاویرعائزہ کے نئے پراجیکٹ ’لاپتا‘ کے سیٹ سے لی گئی ہیں جس کے لیے انہوں نے اداکارہ مادھوری ڈکشٹ کے ایک مشہور گانے ’ایک دو تین‘ کا انداز اپنایا ہوا ہے-

    علاوہ ازیں عائزہ خان نے مادھوری ڈکشٹ کی تصویر بھی شئیر کی اور لکھا کہ میں جب بھی مادھوری کا نام سنتی ہوں مجھے’ایک ، دو, تین‘(گانا)اور ’دیو بابو‘(فلم دیوداس کا ڈائیلاگ) یاد آتے ہیں۔

    پاکستانی اداکارہ نے لکھا جب آپ مادھوری کو دیکھتے ہیں تو’دل تو پاگل ہے‘ یاد آتا ہے ہم خوش قمست ہیں کہ مادھوری کو دیکھنے اور ان کیساتھ ڈانس کرنے کا موقع ملا وہ حیرت انگیز رقاصہ اور اداکارہ ہیں، جو اپنی آنکھ کے ایک آنسو سے آپ کا دل ہلا سکتی ہیں۔

    عائزہ نے لکھا میری خواہش تھی کہ مادھوری کی طرح کے کپڑے پہنوں، کاش میں ان سے مل سکتی اور بتاتی کہ وہ کتنی خوبصورت ہیں اور وہ میرے پورے کیریئر میں میرے لیے اتنی بڑی مثال کیسے رہیں-

    سری دیوی کی شخصیت میرے لئے مثال ہے عائزہ خان

  • کبھی سوچا نہیں تھااداکارہ بنوں گی ،آج بھی کیمرے کے سامنے جاتے ہوئے نروس ہو جاتی ہوں    آمنہ الیاس

    کبھی سوچا نہیں تھااداکارہ بنوں گی ،آج بھی کیمرے کے سامنے جاتے ہوئے نروس ہو جاتی ہوں آمنہ الیاس

    پاکستان شوبز انڈسٹری کی نامور اداکارہ و ماڈلآمنہ الیاس کا کہنا ہے کہ میں نے کبھی سوچا نہیں تھا کہ اداکارہ بنوں گی –

    باغی ٹی وی : آمنہ الیاس رنگت کی بنیاد پر تعصب کے خلاف کافی متحرک رہی ہیں اور اب وہ اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے ذریعے مختلف سماجی مسائل کو اجاگر کرتی نظر آتی ہیں جس پر انہیں مداحوں کی جانب سے کافی سراہا بھی جاتا ہے-

    اردو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے آمنہ الیاس نے بتایا کہ میں نے کبھی سوچا نہیں تھا کہ اداکارہ بنوں گی میں نے ٹی وی کمرشلز کیے ہوئے تھے اور فیشن ویڈیوز کرتی تھی، ڈائریکٹرز جیسا سمجھاتے تھے کر لیتی تھی۔ فلم کی آفر کے بعد مجھے محسوس ہوا کہ شاید میں اداکاری کر سکتی ہوں تو میں نے قسمت آزما لی۔

    انہوں نے بتایا کہ میری فلم گڈ مارننگ کراچی اور زندہ بھاگ پر لوگوں کا جو رسپانس تھا اس کو دیکھ کر مجھے اعتماد ملا مجھے لگا کہ اگر لوگ تعریف کررہے ہیں تو یقینا کوئی بات ہی ہو گی میں نے اچھا ہی کام کیا ہوگا۔

    ماڈلنگ سے اداکاری کی فیلڈ میں آنا ان کے لیے کتنا چیلنجنگ تھا اس سوال کے جواب میں آمنہ الیاس نے بتایا کہ جب اداکاری کی طرف آئی تو حالت یہ تھی کہ مجھے ڈائیلاگ بولنا نہیں آتے تھے میرے منہ سے ڈائیلاگ نکلتے ہی نہیں تھے مجھے پتہ ہی نہیں تھا کہ کہاں رکنا ہے، کہاں بولنا ہے، کیسے دیکھنا ہے مجھے ڈائیلاگز بولنے پر بہت محنت کرنا پڑی۔

    آمنہ الیاس نے بتایا کہ کسی فلم کا سکرپٹ ملتا ہے تو اسے بار بار پڑھتی ہوں یہاں تک کہ اس رول کے لیے ہاں کرنے سے پہلے سکرپٹ کو لازمی طور پر چار پانچ بار پڑھ چکی ہوتی ہوں۔ بار بار پڑھنے سے آپ کو پتہ لگ جاتا ہے کہ رائٹر کہنا کیا چاہتا ہے اور کہانی ہے کیا اور کردار کو بہتر انداز میں کرنے کے لیے کیا کیا جا سکتا ہے-

    اداکارہ و ماڈل کا کہنا ہے کہ شوبز میں اتنے سالوں بعد بھی وہ آج بھی کیمرے کے سامنے جاتے ہوئے نروس ہوجاتی ہیں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے کوئی امتحان ہے جو دینے جا رہی ہیں اور پتہ نہیں رزلٹ کیا ہوگا۔

    اداکارہ کے مطابق مجھے ایکشن کامیڈی ہر طرح کا کردار کرنا اچھا لگتا ہے اداکار وہی ہے جو ہر کردار بخوبی نبھا سکے۔ ’خود کو سیریس یا صرف کامیڈی کرداروں تک محدود رکھنے کی قائل نہیں ہوں، ایکشن کردار ملا تو وہ بھی کروں گی۔

  • ثمینہ احمد سمیت چارفنکاروں کے نام بڑا اعزاز

    ثمینہ احمد سمیت چارفنکاروں کے نام بڑا اعزاز

    پاکستان کی سینئر اداکارہ ثمینہ احمد سمیت چار فنکاروں کو گورنر سندھ عمران اسماعیل کی جانب سے شوبز میں ان کی خدمات کو سراہتے ہوئے’لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ‘ سے نوازا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : سینئراداکارہ ثمینہ احمد کے شوہر اور سینئر اداکار منظر صہبائی نے فوٹو اینڈ ویڈیو شیئرنگ ایپ انسٹا گرام پر اپنی اہلیہ کی گورنر سندھ عمران اسماعیل سے ایوارڈ وصول کرتے ہوئے تصویر شیئر کی ہے۔

    انہوں نے یہ تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ میری پیاری اہلیہ ثمینہ احمد لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ وصول کرتے ہوئے۔

    انہوں نے ثمینہ احمد کی تعریف کرتے ہوئے لکھا کہ وہ اس سے کہیں زیادہ حقدار ہیں۔

    واضح رہے کہ 10 جولائی کو پاکستان ایکٹرز کلیکٹیو ٹرسٹ کی جانب سے سندھ گورنر ہاؤس میں ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا تھا اس تقریب میں چار سینئر فنکاروں بیگم ثمینہ احمد، بیگم خورشید شاہد (مرحوم)، قوی خان اور طلعت حسین کو لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ سے نوازا گیا۔

    اس موقع پر معزز گورنر سندھ عمران اسماعیل نے ایکٹ میرٹ آف آنر سرٹیفکیٹ تقسیم کیے۔

  • دلیپ کمار کی رسم چہلم  26 اگست کو ادا کی جائے گی

    دلیپ کمار کی رسم چہلم 26 اگست کو ادا کی جائے گی

    بالی ووڈکے لیجنڈری اداکار یوسف خان المعروف دلیپ کمار 98 سال کی عُمر میں 7 جولائی کو انتقال کر گئےتھے ان کی رسم چہلم کا اعلان کر دیا گیا ہے-

    باغی ٹی وی : بالی ووڈ کے’’شہنشاہ جذبات‘‘ کہلائے جانے والے اداکار یوسف خان المعروف دلیپ کمار کو سانس لینے میں دشواری کے باعث ممبئی کے ہندوجا اسپتال منتقل کیا گیا تھا اور اسی اسپتال میں انہوں نے اپنی زندگی کی آخری سانس لی تھی

    گزشتہ دو دنوں سے ان کی حالت میں بہتری آرہی تھی۔ دلیپ صاحب کے مینجر نے تمام لوگوں سے ان کی صحت یابی کی دعا کرنے کے لیے بھی کہا تھا۔ تاہم دلیپ صاحب جانبر نہ ہوسکے اوربالی ووڈ کے ’’ٹریجڈی کنگ‘‘ دلیپ کمار نے 7 جولائی بروز بدھ کی صبح 7:30 بجے ممبئی کے کھار ہندوجا اسپتال میں اپنی زندگی کی آخری سانس لی تھی-

    دلیپ کمار کے انتقال کی خبر اُن کے تصدیق شدہ ٹوئٹر اکاؤنٹ پر اُن کے ترجمان فیصل فاروقی کی جانب سے دی گئی تھی سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری کیئے گئے افسوسناک پیغام میں بتایا گیا تھا کہ ’انتہائی دل اور گہرے رنج و غم کے ساتھ، میں یہ اعلان کررہا ہوں کہ ہمارے دلیپ کمار صاحب کچھ دیر قبل انتقال کرگئے ہیں۔

    فیصل فاروقی نے مزید لکھا تھا کہ ’بے شک! ہمیں خُدا نے اس دُنیا میں بھیجا ہے اور ہمیں لوٹ کر اُسی کی طرف جانا ہے۔

    تاہم اب اداکار کی رسم چہلم کا کارڈ سوشل میڈیا پر گردش کر رہا ہے جس کے مطابق یوسف خان المعروف دلیپ کمار کے ایصال و ثواب کے لئے مجلس چہلم 26 اگست بروز جمعرات کو بھارتی تائم کے مطابق 7:30 بجے پاکستانی ٹائم کے مطابق 7:00 بجے اور یو اے ای ٹائم کے مطابق 6:30 بجے انڈیا گیٹ تاج ہوٹل ممبئی میں کی جائے گی –

    رسم چہلم آن لائن بھی ہو گی جہاں مرحوم دلیپ کمار کے مداح بھی قرآن خوانی اور دعا مین شامل ہو سکیں گے چہلم کی دعا مولانا منظر علی عارفی کرائیں گے-

    رسم چہلم میں دلیپ کمار کے سوگواران میں اداکار کی اہلیہ سائرہ بانو، شاہ رخ خان اور ریاض حسن شامل ہیں-

  • معروف اداکار مادھو موغے انتقال کر گئے

    معروف اداکار مادھو موغے انتقال کر گئے

    بالی ووڈ کے سینئر اداکار مادھو موغے 68 سال کی عُمر میں انتقال کر گئے-

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق مادھو موغے گزشتہ کئی سال سے پھیپھڑوں کے کینسر میں مبتلا تھے حال ہی میں مادھو موغے کی طبعیت مزید بگڑ گئی تھی جس کے بعد وہ گزشتہ روز زندگی کی جنگ ہار گئے اور اس دُنیا سے کوچ کر گئے۔

    مادھو موغے کی موت پر بالی ووڈ اسٹارز سمیت دیگر بھارتی فنکاروں کی جانب سے شدید افسوس کا اظہار کیا جارہا ہے۔

    واضح رہے کہ مادھو موغے نے فلم ’پارٹنر‘، ’گھاتک‘ اور ’دامنی‘ سمیت دیگر بھارتی فلموں میں کام کیا ہے دوسری جانب مادھو موغے کو مختلف اداکاروں کی نقل اُتارنے پر بھی بہت شہرت ملی تھی مادھو موغے اکثر و بیشر ٹی وی شوز میں بالی ووڈ کی مقبول ترین فلم ’شعلے‘ کا کردار ’ٹھاکُر‘ کی نقل اُتارا کرتے تھے۔

    خیال رہے کہ حال ہی میں بالی ووڈ کے لیجنڈری اداکار دلیپ کمار بی 98 سال کی عمر میں کر گئے دلیپ کمار کے انتقال کی خبر اُن کے تصدیق شدہ ٹوئٹر اکاؤنٹ پر اُن کے ترجمان فیصل فاروقی کی جانب سے دی گئی۔

    دلیپ کمار کی موت کے بعد سائرہ بانو کے پہلے الفاظ: ‘خدا نے میری زندگی کی وجہ…

  • ہندو نام رکھنے والے بالی ووڈ کے مسلمان اداکار

    ہندو نام رکھنے والے بالی ووڈ کے مسلمان اداکار

    بالی ووڈ مین کئی مسلمان فنکاروں نے اپنا نام بدل کر شوبز دنیا میں خوب نام بنایا-

    باغی ٹی وی : فلم جوار بھاٹا سے اپنے کیرئیر کی شروعات کرنے والے لیجنڈری بالی ووڈ اداکار دلیپ کمار ہی واحد مسلم نہیں تھے جنہوں نے اپنا نام بالی ووڈ میں یوسف کان سے اپنا نام دلیپ کمار تبدیل کیا تاہم دلیپ کمار ہی واحد شخص نہیں تھے جنہوں نے بالی ووڈ کے لئے اپنا نام تبدیل کیا تھا بلکہ اور بھی مسلم فنکار ہیں جنہوں نے اپنا اصل نام تبدیل کر کے ہندو نام رکھا تھا-

    مینا کماری: ٹریجڈی کوئین مینا کماری بھی ان فنکاروں میں سے ایک ہیں ان کا اصل نام ماہ جبین تھا 1933ء میں ممبئی میں پیدا ہوئیں۔ 1939ء میں فلم ہدایت کار وجے بھٹ کے کہنے پر اداکارہ نے اپنا نام ’بے بی مینا‘ رکھا تاہم بعد میں ان کا یہ نام بھی بدل کر ’مینا کماری‘ ہوگیا۔ان کی شخصیت اور اداکاری کو دیکھتے ہوئے لوگوں نے گرودت کا نسوانی اوتار اور بالی ووڈ کی سنڈریلا بھی کہا جاتا تھا۔ان کا فلمی کیرئر 1939ء تا 1972ء رہا۔

    مینا کماری کی سوانح عمری کے مصنف ونود مہتا کو کسی ڈائریکٹر نے بتایا کہ “ ٹریجڈی کنگ دلیپ کمار بھی ان کے سامنے سنجیدگی برقرار نہیں رکھ پاتے تھے۔ راج کمار اکثر ان کے سامنے اپنے ڈائیلاگ بھول جایا کرتے تھے۔ مدھوبالا بھی مینا کماری کی مداح تھی اور کہا کرتی تھی کہ “مینا کماری کی جیسی آواز کسی کی نہیں ہے۔ ستیہ جیت رائے نے مینا کماری کی یوں تعریف کی “بلا شبہ وہ سب سے زیادہ ذہین اداکارہ تھی۔“ امیتابھ بچن نے کہا “مینا کماری جس طرح ڈائلاگ بولتی تھی اس طرح کوئی بھی کبھی نہیں بول سکتا ہے، آج تک کوئی نہیں بول سکا ہے اور شاید کبھی کوئی بول نہیں سکتا ہے“۔

    مدھوبالا: پشتو فیملی میں پیدا ہوئی مدھو بالا کا ممتاز جہاں دہلوی ہے سن 1933ء میں پاکستان کے شہر صوابی میں پیدا ہوائیں۔ اپنی خوبصورتی اور منفرد انداز کی وجہ سے انہیں ’مدھو بالا‘ کہا گیا۔ مدھو بالا اپنے وقت کی خوبصورتی ترین اداکاراؤں میں سے تھیں۔1950 سے 1960ء کے عشرے کی انتہائی خوبصورت اور ہمہ جہت خوبیوں سے مالا مال اداکارہ مدھو بالا نے اپنی فلمی زندگی کا سفر نو سال کی عمر سے شروع کیا تھا۔ 1950 کے عشرے میں وہ سب سے زیادہ مقبول اور معاوضہ لینے والی اداکارہ تھیں-

    مدھو بالا نے دو دہائیوں کے فلمی سفر میں 73 بالی ووڈ فلموں میں کام کیا میڈیا میں مدھو بالا کو ہندوستانی سینما کی سب سے زیادہ خوبصورت اور بااثر شخصیت مانا جاتا ہے مدھو بالا کا فلمی سفر جتنا کامیاب رہا ان کی اپنی ذاتی زندگی اتنی ہی ناکام رہی۔ انہوں نے اپنے دور کے کامیاب اداکار اور شہنشاہ جذبات دلیپ کمار سے محبت کی۔ چھ سال تک ان کے درمیان میں دوستی رہی لیکن مدھو بالا کے والد عطاء اللہ خان گنڈہ پور کو ان کی دوستی پسند نہیں آئی اور یہ حسین جوڑی ٹوٹ گئی۔ اس کے بعد مدھو بالا نےگلوکار کشور کمار سے شادی کی لیکن کم عمری میں ہی 1969ء میں ان کا انتقال ہو گیا۔

    اجیت :دنیا انہیں لائن کے نام سے جانتی ہے لیکن بہت کم لوگ ایسے ہیں جو ان کے اصلی نام کو جانتے ہیں فلم ’بے قصور‘ کی پروڈکشن کے دوران پروڈیوسر کے ارنتھ نے اداکار حامد علی خان کا نام ’اجیت‘ رکھا حامد علی خان نے اجیت نام سے فلم انڈسٹری میں بہت نام کمایا۔ہندی فلموں می اپنے منفی کرداروں کی وجہ سے پہچانے گئے۔ ان کے ڈائیلاگ مثلاً فلم ’زنجیر‘ میں ’للی ڈونٹ بی سلی‘، ’یادوں کی بارات‘ میں ’مونا ڈارلنگ‘ اور فلم ’کالی چرن‘ میں ’دنیا مجھے لائن کے نام سے جانتی ہے ‘ کافی مقبول ہوئے۔ ان کی مقبول فلموں میں ہوں نئے ’زنجیر‘، ’یادوں کی بارات‘، ’کالی چرن‘، ’مسٹر نٹورلال‘، ’مغلِ اعظم‘، ’نیا دور‘، ’کھوٹے سکے ‘، ’چرس‘، ’رام بلرام ‘، ’رضیہ سلطان‘، ’راج تلک‘، ’جگر‘ اور ’شکتی مان‘ بہت مقبول ہوئیں۔ انہوں نے تقریباً چار دہائیوں میں دو سو سے زائد فلموں میں کام کیا۔

    جونی واکر : گرودت کو جونی واکر کا اصلی نام بد رالدین جمال الدین قاضی کچھ خاص پسند نہیں آیا اسی لئے انہوں نے ان کو جونی واکر نام دے دیا-

    جگدیپ: مزاحیہ اداکار اور فلم شعلے کے سورما بھوپالی جگدیپ کا اصل نام سید اشتیاق احمد جعفری تھا۔ جگدیپ نے اپنے کیریئر کا آغاز بطور چائلڈ آرٹسٹ فلم میکر بی آر چوپڑہ کی فلم افسانہ سے کیا تھا۔ اور پھر کئی فلموں میں انہوں نے لیڈ رول بھی نبھایا اس کے بعد انہوں نے کئی یادگار فلموں میں کام کیا 1957ء میں بمل رائے کی فلم دو بیگھہ زمین ان کے کیریئر کی بہترین ثابت ہوئی اور یہاں ہی سے ان کے کامیڈی دور کا آغاز ہوا لیکن فلم ہدایت کار بمل رائے کی درخواست پر انہوں نے اپنا نام تبدیل کیا ان کی یادگار فلموں میں شعلے، انداز اپنا اپنا، افسانہ، آر پار اور دیگر شامل ہیں۔ رمیش سپی کی شہرہ آفاق فلم شعلے میں سورما بھوپالی کا کردار آج بھی لوگ اتنا ہی پسند کرتے ہیں جتنا اس وقت جب یہ فلم ریلیز ہوئی تھی فلم شعلے کے علاوہ وہ امیتابھ بچن کی فلم شہنشاہ، فیروز خان کی مشہور فلم قربانی، بلاک بلاسٹر فلم لیلیٰ مجنوں جیسی کئی ہٹ فلموں میں نظر آئے۔انہوں نے اپنے فلمی کیریئر کا آغاز بچپن میں بی آر چوپڑا کی فلم ’افسانہ‘ میں 1951ء سے کیا تھا اداکار نے 400 سے زائد فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے-

    ارجن:مسلم اداکار فیروز خان نے بی آر چوپڑا کی پروڈکشن ’مہا بھارتہ‘ میں ’ارجن‘ کا کردار ادا کیا تھاا مہا بھارتہ کی کامیابی نے انہیں اسکرین پر نام بنانے میں مدد دی اور اداکارہ ’ارجن‘ کے نام سے مشہور ہوئے-

    سنجے خان: فیروز خان کے بھائی شاہ عباس خان نے اپنا نام بدل کر سنجے خان رکھ لیا انہوں نے اپنے فلمی کیریئر کا آغاز فلم ’دوستی‘، ’حقیقت‘ اور ’دس لاکھ‘ سے کیا۔ شروعات میں انہیں ’خان‘ کہہ کر پکارا جانے لگا لیکن کچھ ہی عرصے بعد وہ ’سنجے‘ کے نام سے مشہور ہوئے۔

    جایانت: امجد خان نے والد جایانت خان نے بالی ووڈ میں ڈیبیو سے پہلے وجے بھٹ کے کہنے پر اپنا نام اپنا نام زکریا خان سے جایانت کر دیا -زکریا خان 1915ء میں پشاور میں ایک پختون گھرانے میں پیدا ہوئے زکریا خان نے 1935ء میں فلم ’لال چیتا‘ سے اپنے کیریئر کا آغاز کیا-

    نمی: 50 اور 60 کی دہائی کی مشیقر اداکارہ نمی کا اصل نام نواب بانو تھا انہوں نے بالی ووڈ میں ڈیبیو کی وجہ سے اپنا نام تبدیل کیا تھا بعد ازاں انہوں نے نمی نام سے خوب شہرت حاصل کی اور ایک کامیاب اداکارہ بنیں-

    https://www.youtube.com/watch?v=Wq3QVOk5RKA

  • ماہرہ خان اپنی شادی سے متعلق خبروں پر بول پڑیں

    ماہرہ خان اپنی شادی سے متعلق خبروں پر بول پڑیں

    پاکستان کی عالمی شہرت یافتہ صف اول کی اداکارہ ماہرہ خان نے اپنی شادی سے متعلق خبروں پر بالآخر خاموشی توڑدی ہے-

    باغی ٹی وی :ورسٹائل اداکارہ ماہرہ خان سے ایک مداح نے کہا کہ آپ نے چھپ کرشادی کرلی ہے، جس پر اداکارہ نے صاف کہا کہ اگر وہ شادی کریں گی تو سب کو ضرور بتائیں گی، میں نے شادی نہیں کی اورمیری تو ابھی منگنی بھی نہیں ہوئی اگر میں شادی کر لی ہوتی تو آپ کا کیا خیال ہے میں شادی کر تی تو آپ کو نہ پتہ ہوتا میڈیا میں اسٹوریز لگائی جاتیں-

    اداکارہ سے ایک اورسوال کیا گیا کہ آپ جتنی رئیس لکتی ہیں اتنی ہیں تو نہیں، جس پر اداکارہ خوب مسکرائیں اورکہا کہ آپ نے ٹھیک کہا ہے اب مجھے نہیں پتہ کہ میں کتنی رئیس لگتی ہوں جتنا مجھے لوگ رئیس سمجھتے ہیں میں اتنی رئیس نہیں ہوں، نہ میرے پاس گاڑیوں کی قطاریں ہیں اور نہ ہی میرے پاس جہاز ہیں، میری اس طرح کی زندگی نہیں ہے، لیکن میرے پاس جتنا اور جو کچھ بھی ہے اس پرمیں خوش ہوں لیکن ہاں میں نے فلم رئیس میں کام ضرور کیا تھا۔

    اداکارہ نے مزید کہا کہ انہیں میک اپ اتنا پسند نہیں لیکن انہیں سرخ رنگ کی لپ اسٹک بہت پسند ہے پرہاں میں اسکن کیئرپربہت توجہ دیتی ہوں۔

    اداکارہ سے سوال پوچھا گیا کہ آپ ’برگر‘ ہیں جس پرماہرہ نے کہا کہ اصل میں بہت دیسی ہوں لیکن کہہ سکتے ہیں کہ میں آدھا برگر اور آدھا بن کباب ہوں۔

    اداکارہ سے جب یہ پوچھا گیا کہ وہ ٹام کروز کے ساتھ فلم سائن کرچکی ہیں جس پراداکارہ نے معنی خیز انداز میں کہا کہ میں نے یہ بات بہت چھپانے کی کوشش کی لیکن معلوم نہیں یہ کیسے لیک ہوگئی شاید یہ ٹام کروزکی ٹیم نے لیک کی ہوگی۔

    اداکارہ نے کہا کہ اپنے پراجیکٹس میں انہیں ’ہیپی اینڈنگ‘ کے بجائے ’ٹریجڈی اینڈنگ‘ بہت پسند ہے کیونکہ وہ کامیڈی پرسن نہیں ہیں-

    ہمایوں سعید سے متعلق سوال پت ماہرہ نے کہا کہ وہ بہترین کو اسٹار ہے ، ان کے ساتھ کام کرنا بے حد پسند ہے-

    آپ کے پاس 20 باڈی گارڈز ہیں سوال پر ماہرہ نے کہا جی ہاں یہ صحیح ہے پھر کہا کہ 20 باڈی گارڈز تو نہین لیکن مجھے اپنے اردگرد زیادہ لوگ پسند ہیں اس کے علاوہ اداکارہ نے بتایا کہ انہیں فرنچ فرائز اور آئس کریم اور سفیر رنگ کا کرتا بہت پسند ہے-

  • جب انوشکا شرما نے اعتراف کیا اگر انہیں موقع ملا تو شاہ رخ کا بنگلہ ‘منت’ چرائیں گی

    جب انوشکا شرما نے اعتراف کیا اگر انہیں موقع ملا تو شاہ رخ کا بنگلہ ‘منت’ چرائیں گی

    بالی ووڈ اداکارہ انوشکا شرما کا کہنا ہے کہ اگر انہیں موقع ملا تو وہ سُپراسٹار شاہ رخ خان سے ان کا بنگلہ ’منت‘ چرا لیں گی۔

    باغی ٹی وی : انوشکا شرما نے شاہ رخ خان کے ساتھ فلم ’رب نے بنا دی جوڑی‘ سے ڈیبیو کیا اور پھر کئی فلموں میں ایک ساتھ کام کیا بھارتی میڈیا کے مطابق ٹیلی ویژن سیریز ’یاروں کی بارات‘ میں جب انوشکا شرما سے پوچھا گیا کہ اگر انہیں موقع ملے تو وہ شاہ رخ خان کی کون سی چیز چرانا چاہیں گی؟


    اس پر اداکارہ کا کہنا تھا کہ ایسی کتنی ساری چیزیں ہیں سب سے پہلے تو میں شاہ رخ خان کی تمام گھڑیاں چرا کر انہیں فروخت کر دوں گی

    انوشکا شرما سے مزید پوچھا گیا کہ اس کے بعد کیا چرانا پسند کریں گی؟ انوشکا شرما نے کہا ظاہر ہے میں ان کا بنگلہ ’منت‘ چرا لوں گی۔‘ انوشکا شرما کے اس جواب پر میزبان سمیت ناظرین نے خوب قہقہے لگائے جبکہ اداکارہ کے جواب سے ساتھ بیٹھے شاہ رخ خان حیران رہ گئے۔

    مادھوری ڈکشت اور روہت شیٹھی کی شگفتہ علی کے لئے فراخدلانہ مالی امداد

    سری دیوی کی شخصیت میرے لئے مثال ہے عائزہ خان

  • لاہور: ڈیفنس فیز فائیو میں گھر سے ماڈل کی برہنہ حالت میں لاش برآمد

    لاہور: ڈیفنس فیز فائیو میں گھر سے ماڈل کی برہنہ حالت میں لاش برآمد

    لاہور: ڈیفنس بی میں گھر سے ماڈل کی برہنہ حالت میں لاش برآمد

    باغی ٹی وی : پولیس کا کہنا ہے کہ لاہورڈیفنس فیز فائیو میں 29 سالہ ماڈل خاتون کا گلا دبا کر قتل کردیا گیا ہے ماڈل کی شناخت نایاب کے نام سے ہوئی ہے اورمقتولہ ماڈلنگ کرتی رہی ہے-

    پولیس نے بتایا کہ مقتولہ نایاب کے دو سوتیلے بھائی ہیں،مقتولہ غیر شادی شدہ تھی نامعلوم ملزمان نے تشدد کر کے گلا دبا کر موت کے گھاٹ اتارکر ملزم موقع سے فرار ہو گیا نایاب گھر میں اکیلی رہتی تھی جبکہ اس کے باتھ روم کی جالی ٹوٹی ہوئی تھی-

    پولیس نے مقتولہ ماڈل کے سوتیلے بھائی کی مدعیت میں قتل کا مقدمہ درج کر لیا محمد علی کے مطابق وہ بہن کے گھر گیا تو بہن کی لاش زمین پر پڑی ہوئی تھی میری بہن کے گلے پر زخم کے نشان تھے ۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم کے بعد اصل حقائق سامنے آئیں گے-

  • پاکستانی ڈراموں میں یکسانیت اس قدر ہے ایسا لگتا ہے کہ ہر چینل پر ایک ہی ڈراما چل رہا ہے     انور مقصود

    پاکستانی ڈراموں میں یکسانیت اس قدر ہے ایسا لگتا ہے کہ ہر چینل پر ایک ہی ڈراما چل رہا ہے انور مقصود

    پاکستان کے نامورمصنف، ڈراما نگار اور مزاح نگار انور مقصود کا کہنا ہےکہ میں خود پیچھے ہٹ گیا ہوں کیونکہ ابھی جو کچھ ٹی وی پر چل رہا ہے اس کے مطابق میری جگہ بن نہیں سکتی۔

    باغی تی وی : برطانوی خبر رساں ادارے اردو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے انور مقصود نے ڈراما نہ لکھنے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ اب ریٹنگ کا چکر آ گیا ہے، ڈائریکٹر پروڈیوسر ہر معاملے میں پیچھے رہ گئے ہیں مارکیٹنگ ڈیپارٹمنٹ سب کچھ طے کرتا ہے کہ کون سا اداکار چاہیے کون سا نہیں۔

    آج کل کے ڈرامے ماضی میں لکھے گئے ڈراموں سے کس طرح مختلف لگتے ہیں اس کے جواب میں انور مقصود نے کہا کہ شروع میں اشفاق احمد، بانو قدسیہ، منو بھائی ،ثریا بجیا نے ڈرامے لکھے۔

    نورالہدی شاہ نے بھی بہت اچھے ڈرامے لکھے اوراپنی جگہ بنائی۔پھر یہ ہوا کہ انڈیا کے ڈرامے جب آئے تو ہمیں لگا کہ وہ ہمارے ڈراموں سے کچھ سیکھیں گے لیکن الٹا ہی ہو گیا ہمارے لکھنے والوں نے ان سے ہی سیکھنا شروع کر دیا بس یہیں سے ہمارے ڈرامے کی تباہی ہوئی۔

    انور مقصود نے کہا ڈائجسٹ لکھنے والوں کی انٹری ہوئی، ہمارے ملک کی چونکہ 70 فیصد آبادی پڑھی لکھی نہیں ہے اس لیے انہوں نے ساس بہو کے جھگڑوں کو پسند کیا اور ایسا لکھنا ٹرینڈ بن گیا۔

    انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے مزید کہا کہ پھر کہیں دیور بھابھی تو کہیں بڑی بہن کے منگیتر سے چھوٹی بہن کا عشق نظر آیا اب لوگ اگر یہ پسند کررہے ہیں تو کیا کہا جائے۔

    انور مقصود کے بقول اچھا لکھنے والے تو ایسا لکھنے کا سوچ بھی نہیں سکتے اس لیے وہ ڈرامے سے دور ہو گئے۔ میں تو آج کے ڈرامے کو اچھا برا کہتا ہی نہیں ہوں میں سمجھتا ہوں کہ آج ڈراماہے ہی نہیں یہ کیا چیز ہے بس آپ سوچیں۔

    انور مقصود نے موجودہ پاکستانی ڈرامے کی خامی بتاتے ہوئے کہا کہ آج جلدی جلدی لکھا جا رہا ہے، لکھنے والوں پر پریشر ہے ایک ڈرامے میں جو باتیں لکھی جا رہی ہیں وہی اگلے میں بھی دہرائی جا رہی ہیں۔ یکسانیت اس قدر ہے کہ ایسا لگتا ہے جیسے ہر چینل پر ایک ہی ڈراما چل رہا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ آج کل جو ڈراما لکھنے والے ہیں ایسا لگتا ہے شاید ان کے گھر میں کوئی کتاب ہی نہیں ہے ڈراما لکھنے والے ساس بہو کے جھگڑوں اور سازشوں کو معافی دے دیں۔

    مزاح نگاری کے حوالے سے اپنا تجربہ شیئر کرتے ہوئے انور مقصود نے کہا کہ مزاح لکھنا آسان نہیں ہے یہ تو تلوار کی دھار پر چلنے کا نام ہے سمجھ لیں آگ کا دریا ہے جسے پار کرنا ہے کسی کی تضحیک بھی نہیں ہونی چاہیے اور تہذیب کے دائرے میں رہ کر لکھا جانا چاہیے ورنہ بیہودہ مزاح لکھنا تو بہت آسان ہے، تین دن میں 20 ڈرامے لکھے جا سکتے ہیں۔

    ا نور مقصود نے کہا کہ انہوں نے آج تک جو کچھ لکھا وہ ثریا بجیا کی بدولت ہے، ان سے سیکھا ہے۔

    انور مقصود کو حکومت وقت اور اہم عہدوں پر براجمان شخصیات پر تنقید کی وجہ سے دباؤ کا سامنا بھی رہا انہوں نے بتایا کہ کہا جاتا تھا کہ ہماری تعریف میں بھی کچھ لکھیں تو میں کہتا تھا کہ آپ اچھا کام کریں جس دن اچھا کام کیا میں خود لکھوں گا کہنے کی ضرورت بھی نہیں پڑے گی۔

    انور مقصود کا کہنا ہے کہ میزبان جس شخصیت کا انٹرویو کرے اس کے بارے میں پہلے آگاہی حاصل کرے۔ آج کل تو میزبان کو پتہ ہی نہیں ہوتا کہ ان کے سامنے جو شخصیت بیٹھی ہے اس نے کیا کام کیا ہوا ہے اور کیا نہیں بلکہ آج کل تو شوز میں باقاعدہ بدتمیزی ہو رہی ہوتی ہے۔

    انور مقصود نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے بارے میں بتاتے ہوئے کہامیرے پاس نہ تو واٹس ایپ ہے نہ ہی جدید فون میرے 11 فیک اکاؤنٹس چل رہے ہیں جن سے بدتہذیبی پھیلائی جارہی ہے رپورٹ کرکے بھی دیکھا لیکن کچھ نہیں بنا بیٹے نے ایک اکاؤنٹ بنا کر دیا تھا لیکن اس کو بند کروا دیا۔