Baaghi TV

Category: شوبز

  • موجودہ تناظر میں ویکسینیشن کرانا بہت ضروری ہے    راحت فتح علی خان

    موجودہ تناظر میں ویکسینیشن کرانا بہت ضروری ہے راحت فتح علی خان

    معروف گلوکار راحت فتح علی خان کا کہنا ہے کہ موجودہ تناظر میں ویکسینیشن کرانا بہت ضروری ہے-

    باغی ٹی وی : گلوکار راحت فتح علی خان بھی کورونا ویکسین لگوانے والے فنکاروں اور گلوکاروں کی فہرست میں شامل ہو گئے، راحت فتح علی خان اہلیہ ندا راحت کے ہمراہ ویکسینیشن کرانے ڈرائیو تھرو ویکسی نیشن سینٹر پہنچے-

    راحت فتح علی خان نے ڈرائیو تھرو سینٹر میں رجسٹریشن کرائی تھی جہاں پہنچنے پر انہوں نے گاڑی میں ہی اپنا بلڈ پریشر چیک کروایا اور پھر گاڑی میں ہی ویکسین بھی لگوائی اور شہریوں کو بھی تلقین کی۔

    میڈیا سے گفتگو میں راحت فتح علی خان نے کہا کہ موجودہ تناظر میں ویکسینیشن کرانا بہت ضروری ہے،ڈرنے کی بالکل بھی کوئی بات نہیں ہے،میں نے خود ویکسینیشن کرائی ہے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔

    راحت فتح علی خان کے ہمراہ ڈی سی لاہور بھی تھے اس موقع پر ڈی سی او لاہور مدثر ریاض نے کہا کہ شہر میں ڈرائیو تھرو ویکسینیشن سینٹر بہت کامیابی سے چل رہاہے، پانچ ماہ میں ویکسی نیشن کا عمل مکمل کرنا ہے، تمام کلچرز او ر دوسری سرگرمیوں کو بحا ل کرنا ہدف ہے ویکسینیشن سینٹرز کی تعداد اس لیے بڑھائی تاکہ سب کی ویکسینیشن کی جاسکے۔

  • مصنف و مزاح نگار مشتاق یوسفی کی آج تیسری برس منائی جا رہی ہے

    مصنف و مزاح نگار مشتاق یوسفی کی آج تیسری برس منائی جا رہی ہے

    مصنف و مزاح نگار مشتاق یوسفی کی آج تیسری برس منائی جا رہی ہے-

    باغی ٹی وی : مشتاق احمد یوسفی 4 سمتبر 1923ء کو جے پور بھارت میں پیدا ہوئے، انہوں نے علی گڑھ یونیورسٹی سے وکالت کی ڈگری لی، بعدازاں اپنی اہل خانہ کے ساتھ پاکستان ہجرت کرنے کے بعد وہ مختلف بینکوں میں اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے۔

    مشتاق احمد یوسفی کی تحریروں میں انشائیے، خاکے، آپ بیتی سب کچھ شامل ہے اور ان سب میں طنز و مزاح کی وہ پرلطف روانی موجود رہی جسے پڑھ کر اردو زبان اور مزاحیہ ادب کا ہر قاری مشتاق احمد یوسفی کا گرویدہ نظر آتا ہے۔

    ادب سے وابستہ افراد کے مطابق مشتاق احمد یوسفی کی تحریروں کے مطالعے سے یہ پتہ چلتا ہے کہ ان کی تحریروں میں ماضی کی حسین یادوں کے ساتھ سماجی، سیاسی، تہذیبی اور ادبی ہررنگ کی جھلک ملتی ہے۔

    مشتاق احمد یوسفی کے کل پانچ مجموعے شائع ہوئے، جن میں چراغ تلے، خاکم بدہن، زرگزشت، آب گم اورشام شعر یاراں شامل ہیں۔

    ادب میں نمایاں خدمات پر حکومت پاکستان نے انھیں 1999ء میں ستارہ امتیاز جبکہ 2002ء میں ہلال امتیاز سے نوازا۔ اردو کے صف اول کے مزاح نگاروں میں شمار ہونے والے ہر دلعزیز مصنف علالت کے باعث 20 جون 2018ء کو اپنے خالق حقیقی سے جاملے-

  • انڈرٹیکر نے اکشے کمار کو فائٹ کا چیلنج دے دیا

    انڈرٹیکر نے اکشے کمار کو فائٹ کا چیلنج دے دیا

    سابق امریکی ریسلر دی انڈرٹیکر نے بالی ووڈ سپر اسٹار اور خطروں کے کھلاڑی اکشے کمار کو فائٹ کا چیلنج دے دیا۔

    باغی ٹی وی : سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اکشے کمار نے اپنی فلم "کھلاڑیوں کا کھلاڑی” کی ریلیز کو 25 سال مکمل ہونے پر ایک پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ ان کی اس فلم میں دی انڈر ٹیکر کا کردار ریسلر برین لی نے نبھایا تھا۔

    تاہم اپنے اس پیغام کے ساتھکشے کمار نے میم کے طور پر ریسلر براک لزنر،ٹرپل ایچ اور رومان رينز کے ساتھ اپنی تصویر ٹوئٹ کی جس پر لکھا تھا کہ ’جو دی انڈر ٹیکر کو شکست دے چکے ہیں وہ اپنا ہاتھ اٹھائیں‘


    تصویر کی مدد سے اکشے کمار یہ بتانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ انھوں نے بھی انڈرٹیکر کو شکست دی۔

    اکشے کمار کو مذاق اس وقت مہنگا پڑ گیا جب ٹوئٹر پوسٹ معروف ریسلر دی انڈر ٹیکر تک جا پہنچی۔ انڈر ٹیکر نے اس پر ردعمل دیتے ہوئے انڈر ٹیکر نے انھیں فائٹ کا چیلنج دے دیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ "اب آپ بتائیے کہ دوبارہ حقیقی میچ کے لیے آپ کب تیار ہیں۔”


    اکشے کمار ریسلر کے ردعمل پر یہ کہا کہ وہ اپنی انشورنس چیک کر لیں پھر بتائیں گے برو-

  • برطانیہ میں چہل قدمی کے دوران مجھے ہراساں کیا گیا    ارمینا خان کا انکشاف

    برطانیہ میں چہل قدمی کے دوران مجھے ہراساں کیا گیا ارمینا خان کا انکشاف

    پاکستان شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ و ماڈل ارمینا خان نے انکشاف کیا ہے کہ انہیں برطانیہ میں ہراسگی کا نشانہ بنا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : اس ضمن میں اداکارہ نے اپنے تصدیق شدہ انسٹاگرام اکاؤنٹ پر ایک ستوری شئیر کی جس میں ارمینا خان نے کہا کہ عورتوں کو ہراساں کرنا ایک عالمی مسئلہ ہے۔

    ارمینا خان نے اپنی سٹوری میں انکشاف کیا کہ ’میں مانچسٹر میں چہل قدمی کیلئے نکلی تو مجھے ہراساں کیا گیا۔

    اداکارہ نے لکھا کہ ’ناصرف مجھے بلکہ میرے آگے چہل قدمی کرنے والی دیگر خواتین کو بھی ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا۔

    واضح رہے کہ کینیڈا میں پیدا ہونے والی پاکستانی اداکارہ ارمینا خان نے برطانیہ کے شہر مانچسٹر میں پرورش پائی اور اب ان کی مستقل رہائش بھی وہیں ہے۔

    برطانیہ میں رہائش کی وجہ سے وہ وہاں سماجی مسائل سمیت ہر طرح کی عوامی خدمات کے لیے متحرک دکھائی دیتی ہیں، وہ جہاں سوشل میڈیا پر برطانیہ کے اندرونی سماجی مسائل پر بات کرتی رہتی ہیں، وہیں وہ پاکستان سمیت دنیا بھر کے مسائل کو بھی اپنا موضوع بناتی ہیں۔

    برطانیہ میں عوامی خدمات کے عوض میں ہی انہیں اور ان کے شوہر فیصل خان کو برطانوی ریاست انگلینڈ کی کاؤنٹی لنکاشائر کے ٹاؤن برنلے کے میئر نے ایوارڈ سے نوازا تھا-

    ارمینہ خان کے لئے عوامی خدمات کے عوض برطانوی ایوراڈ

  • پاکستانیوں کیجانب سے سجل اور احد رضا میر کی ویب سیریز پر پابندی کا پُرزورمطالبہ

    پاکستانیوں کیجانب سے سجل اور احد رضا میر کی ویب سیریز پر پابندی کا پُرزورمطالبہ

    مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم اور وہاں 2019 میں ہونے والے پلوامہ حملے کے تناظر میں بنائی جانے والی ویب سیریز ‘دھوپ کی دیوار’ کا ٹریلربھارتی اسٹریمنگ چینل زی فائیو کے یوٹیوب چینل پر 15 جون کو ریلیز کیا گیا تھا۔

    باغی ٹی وی : تاہم یہ ویب سیریز 25 جون کو بھارتی اسٹریمنگ پلیٹ فارم زی فائیو پر ریلیز ہورہی ہے معروف ڈراما اور ناول نگار عمیرہ احمد کی تحریر کردہ کہانی پر بنی ویب سیریز ‘دھوپ کی دیوار’ کی ہدایات حسیب حسن نے دی ہیں۔

    جبکہ اس میں پاکستان کی مقبول ترین شوبز جوڑی احد رضا میر اور سجل علی مرکزی کردار ادا کررہے ہیں لوگوں کو احد رضا میر اور سجل علی کے اس پراجیکٹ کا شدت سے انتظار تھا کیونکہ دونوں بہت عرصے بعد کسی پروجیکٹ میں ایک ساتھ نظر آرہے ہیں۔

    تاہم ٹریلر ریلیز ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر اس ویب سیریز کو کافی تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ یہاں تک کہ ٹوئٹر پر سوشل میڈیا صافین کی جانب سے ’دھوپ کی دیوار‘ پر پابندی کا مطالبہ بھی کیا جارہا ہے۔

    حقیقی واقعات سے متاثر ہوکر بنائی گئی ویب سیریز کی کہانی پاکستان اور بھارت کے 2 خاندانوں کے گرد گھومتی ہے ویب سیریز میں دراصل مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم اور بھارت کی جانب سے لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کی خلاف ورزیوں پر شہید ہونے والے اہلکاروں کے خاندان کے درد کو سامنے لانے کی ایک کوشش ہے۔

    ویب سیریز میں احد رضامیر ایک ہندو لڑکے کا اور سجل علی ایک مسلمان لڑکی کا کردار ادا کررہی ہیں۔ دونوں کے والد سرحد پر ہونے والی کشیدگی کے نتیجے میں مارے جاتے ہیں۔ جس کے بعد دونوں میڈیا پر ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی کرتے نظرآتے ہیں۔ تاہم آہستہ آہستہ ان دونوں کرداروں کی دشمنی کو دوستی اور پسندیدگی میں تبدیل ہوتے دکھایا گیا ہے اور وہ یہ محسوس کرنے لگتے ہیں کہ دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی ان ممالک میں رہنے والے لوگوں کی باہمی لڑائی نہیں ہے۔

    "عمیرہ احمد، دھوپ کی دیوار، ISPR” ایشو کیا ہے؟؟ محمد عبداللہ

    ٹریلر میں مزید دکھایا گیا ہے کہ دونوں گھنٹوں ایک دوسرے سے انٹرنیٹ اور فون پر بات کرتے ہیں اور اپنے اپنے گھروالوں سے ایک دوسرے کا دفاع بھی کرتے ہوئے نظر آتے ہیں لیکن دونوں کو ہی گھروالوں کی کڑواہٹ کا نشانہ بننا پڑتا ہے تاہم سوشل میڈیا پر لوگوں نے اس ویب سیریز پر کئی اعتراض اٹھائے ہیں۔


    لوگوں کا کہنا ہے کہ ویب سیریز میں لڑکا ہندو اور لڑکی کو مسلمان کیوں دکھایا گیا ہےعمیرہ احمد نے اس ویب سیریز میں مسئلہ کشمیر اور کشمیریوں کو فراموش کردیا ہے صارفین کا کہنا ہے کہ اس ویب سیریز میں انہوں نے دو قومی نظریے کو نظر انداز کیا ہے جو کہ دراصل پاکستان کے قیام کی وجہ بنا کچھ سوشل میڈیا صارفین نے’دھوپ کی دیوار’ کو پاکستانی قوم، ملک، مذہب کے خلاف اور اسے لکھنے کو غداری قرار دیا-


    https://twitter.com/Arslan_Sadiq/status/1405848030050390018?s=20


    سوشل مٰیڈیا پر صارفین کی تنقید اور اعتراضات کے بعد عمیرہ احمد نے ایک طویل وضاحتی بیان میں تمام اعتراضات کو دور کرنے کی کوشش کی ہے۔

    عمیرہ احمد نے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر ویب سیریز ‘دھوپ کی دیوار’ سے متعلق بیان جاری کیا اور اپنی پوسٹس کے کیپشن میں لکھا کہ ٹریلر ریلیز کیے جانے کے بعد سے ‘دھوپ کی دیوار’ کے بارے میں عام طور پر اور بالخصوص عمیرہ احمد کے بارے میں بہت کچھ کہا گیا ہے۔

    پوسٹ میں کہا گیا کہ ‘عمیرہ احمد نے اس حوالے سے اٹھائے گئے تمام اعتراضات کا جواب دے دیا ہے، امید ہے کہ اس سے بہت سی چیزیں واضح ہوجائیں گی طویل وضاحتی بیان میں عمیرہ احمد نے اس کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کسی بھارتی چینل کے لیے نہیں لکھا گیا۔

    انہوں نے بتایا کہ ‘دھوپ کی دیوار’، ‘الف’، ‘ایک جھوٹی لو اسٹوری’ ایک ساتھ 2018 میں گروپ ایم کے ساتھ سائن کیے تھے جو ایک پاکستانی کانٹینٹ کمپنی ہے اور اسی کمپنی کے ساتھ انہوں نے پاک بحریہ کے لیے بنائی جانے والی ٹیلی فلم ‘لعل’ بھی سائن کی تھی۔

    احد رضا اور سجل علی کی ویب سیریز”دھوپ کی دیوار” کا ٹریلر ریلیز

    عمیرہ احمد نے بتایا کہ گروپ ایم نے 2 پراجیکٹس ‘الف’ اور ‘لعل’ نجی ٹی وی چینل جیو جبکہ دیگر 2 پراجیکٹس ‘ایک جھوٹی لو اسٹوری’ اور ‘دھوپ کی دیوار ‘ کو زی فائیو، نیٹ فلیکس سمیت بین الاقوامی پلیٹ فارمز کو بیچنے کی کوشش کی اور زی فائیو کی دلچسپی کی وجہ سے انہیں بیچ دیئے گئے رائٹر کی لکھی ہوئی چیز کہاں نشر ہوگی اس کا فیصلہ پروڈیوسر یا چینل کرتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ میں ذاتی طور پر سمجھتی ہوں اس موضوع کے لیے زی کا پلیٹ فارم بالکل صحیح ہے، کیونکہ اگر بھارتی شائقین سے بات کرنی ہے تو بھارتی پلیٹ فارم کے ذریعے ہی کرسکتی ہوں کیونکہ اگر پاکستان اور بھارت کے تعلقات پر بات کی جارہی ہے تو مقامی چینل پر بات کرکے اس کی آڈینس محدود ہوجاتی۔

    اس کے ساتھ ہی انہوں نے بتایا کہ ‘دھوپ کی دیوار’ کی کہانی اس وقت لکھی گئی جب پاکستان اور بھارت کے تعلقات اتنے خراب نہیں تھے اور نہ ہی کشمیر میں جو آئینی طور پر حالیہ تبدیلیاں کی گئی ہیں، وہ ہوئی تھیں۔

    عمیرہ احمد نے وضاحت کی ہے کہ یہ کوئی پیار محبت کی کہانی نہیں ہے۔ اس ویب سیریز میں موجود دونوں کرداروں کو ایک دوسرے سے محبت کرتے ہوئے نہیں دکھایا گیا اور میرے خیال میں انڈیا اور پاکستان کے باہمی مسائل کے بارے میں بات کرنے کے لیے ہمیں لو اسٹوری کی ضرورت نہیں ہے۔

    عمیرہ احمد نے کہا ہے کہ ’دھوپ کی دیوار‘ مسئلہ کشمیر کے بارے میں نہیں ہے۔ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے میرا موقف وہی ہے جو باقی دوسرے پاکستانیوں کا ہے کہ یہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل ہونا چاہئے دو قومی نظریے کا تعلق آزادی سے ہے اور کوئی بھی باشعور اور ہوش مند انسان دو قومی نظریے کو جھٹلا نہیں سکتا۔ ورنہ اسے اپنی آزادی کھونی پڑے گی تو میں کیسے دو قومی نظریہ کو جھٹلاسکتی ہوں؟-

    عمیرہ احمد نے بتایا کہ جب انہوں نے اس موضوع پر کام کرنا شروع کیا تو جنوری 2019 میں پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کو اس کی پوری کہانی بھیجی تھی اور اس وقت کی آئی ایس پی آر کی ٹیم کو کہانی کی جانچ کرنے کا کہا تھا آئی ایس پی آر نے نہ صرف موضوع کو ٹھیک کہا تھا بلکہ انہوں نے راولپنڈی میں ایک ملاقات کی تھی۔

    عمیرہ احمد کے مطابق کے مطابق آئی ایس پی آر نے ان سے کہا تھا کہ ‘ہمارا پاکستان اور بھارت کے تعلقات کے حوالے سے یہی مؤقف ہے کہ دونوں ممالک آپس میں بات چیت کریں اور لائن آف کنٹرول پر کشیدگی کے نتیجے میں فوجیوں کے ساتھ ساتھ شہری آبادی کے نشانہ بننے کی صورتحال ختم ہوجائے۔

    عمیرہ احمد نے کہا کہ اگر موضوع غیر مناسب ہوتا تو اس پر لکھنے سے منع کردیا جاتا جبکہ کہانی کے لیے آئی ایس پی آر نے بہت زیادہ سپورٹ کیا اگر آئی ایس پی آر کو دھوپ کی دیوار کے موضوع یا مواد پر اعتراض ہوتا تو وہ خواتین کیڈٹس کے حوالے سے سیریل پر کام کے لیے ان کا انتخاب نہ کرتے۔

    پیسے کے لیے ملک سے غداری اور بھارت کی جانب سے ‘دھوپ کی دیوار’ کی کہانی لکھوانے کے الزامات سے متعلق عمیرہ احمد نے دھوپ کی دیوار بھارت نے نہیں لکھوایا بلکہ انہوں نے ایک بنی ہوئی چیز خریدی ہے۔

    امن کی آشا ‘ کی حامی یا اسے فروغ دینے سے متعلق تبصروں پر عمیرہ احمد نے کہا کہ امن کی بات کرنا غلط نہیں، ہمارا تو دین ہی امن و سلامتی کا دین ہے اور جنگ کی بات کرنا بھی غلط نہیں اگر اس جنگ کا نتیجہ نکلتا ہو۔

    انہوں نے کہا کہ میں سیالکوٹ سے تعلق رکھتی ہوں جہاں 73 سال سے لائن آف کنٹرول پر فائرنگ ہورہی ہے، فوجی، بچے اور خواتین مارے جارہے ہیں، جنگیں ایک یا 2 دن ہوتی ہیں، 73 سال نہیں نہ پاکستان اس کا متحمل ہوسکتا ہے اور نہ ہی بھارت۔

    انہوں نے کہا کہ چھوٹی سی بات پر کسی کو کافر یا غدار کہنے کا رواج اب ختم ہوجانا چاہیے کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ بغیر کسی ثبوت کے ان پر سنگین الزامات لگائیں، اگر رائٹر کسی متنازع موضوع پر لکھ رہا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ غدار ہے جولائی میں نجی چینل ہم ٹی وی پر ان کے ناول ‘ہم کہاں کے سچے تھے’ کو ڈرامائی شکل میں پیش کیا جائے گا۔

    علاوہ ازیں ستمبر میں نجی چینل اے آر وائے سے آئی ایس پی آر کے لیے لکھا جانے والا سیریل نشر ہوگا جبکہ جیو ٹی وی کے لیے لکھا گیا ایک سیریل رواں برس کے اواخر یا آئندہ سال کے اوائل میں نشر ہوگا۔

    اس کے ساتھ ہی عمیرہ احمد نے واضح کیا کہ وہ اب جس قسم کے مواد پر لکھنا چاہتی ہیں اس کا اسکوپ صرف ویب پلیٹ فارم ہے لیکن اس وقت بین الاقوامی معیار کا حامل کوئی پاکستانی پلیٹ فارم نہیں جہاں ایسے پراجیکٹس کیے جاسکیں۔

    ٹریلر میں تو واضح طور پر احد رضامیر اور سجل علی کی ایک دوسرے کے لیے پسندیدگی دکھائی گئی ہے۔ اس کے علاوہ پوسٹر میں بھی جو تصویر موجود ہے وہ ایک لواسٹوری کو بیان کرتی ہے یہ ٹریلر کی بات ہے کہانی آگے کیا موڑ لے گی یہ تو ویب سیریز دیکھ کر ہی پتہ چلے گا –

  • اکشے کمار کی فلم ’پرتھوی راج‘ ریلیز سے قبل ہی تنازع کا شکار

    اکشے کمار کی فلم ’پرتھوی راج‘ ریلیز سے قبل ہی تنازع کا شکار

    بالی ووڈ سُپر استار اکشے کمار کی فلم ’پرتھوی راج‘ کے ریلیز ہونے سے قبل ہی بھارت میں ہنگامے شروع ہوگئے انتہا پسند جماعت کھیل بھارتیہ ہندو مہاسبھا نے فلم کے نام پراپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے ریلیز ہونے سے قبل تبدیل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : انڈیا ٹو ڈے کے مطابق بھارت کی ہندو انتہا پسند جماعت اکھیل بھارتیہ ہندو مہاسبہا نے اکشے کمار کی فلم ’پروتھوی راج‘ کے خلاف شہرچنڈی گڑھ میں احتجاجی مظاہرے شروع کردیئے۔ مظاہرین نے اداکار اکشے کمار اور فلم ہدایت کار کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور ان کے پتلے بھی جلائے۔

    مُودی فلموں میں بھی آزادی کے نعروں سے خوفزہ،بھارت کی فلم انڈسٹری بی جے پی کے…
    معروف بھارتی ہدایتکارعلی عباس ظفرنے ہندو انتہاپسندوں سے معافی مانگ لی
    سیف علی خان اور کرینہ کوانتہا پسند ہندوؤں کیجانب سے سنگین نتائج کی دھمکیاں،پولیس…

    انڈیا ٹو ڈے کے مطابق ہم سب کو جودھا اکبر اور پدماوت سے متعلق تنازعہ یاد ہے اسی طرح کے تنازعہ نے اب اکشے کمار اسٹارر پرتھوی راج کو گھیر لیا ہے۔ فلم یش راج فلمز کی پروڈکشن ہے۔ چندی گڑھ میں ، اکھیل بھارتیہ کشتریہ مہاسبھا کی زیرقیادت فلم پرتھویراج کے بارے میں ایک زبردست مظاہرہ ہوا ، جو فلم کے نام کی تبدیلی کا مطالبہ کررہے ہیں۔

    تنظیم سے وابستہ لوگوں کا کہنا تھا کہ فلم کا نام صرف پرتھویراج نہیں ہوسکتا ، فلم کا پورا نام ‘ہندو سمراٹ پرتھوی راج چوہان’ یا ‘شہنشاہ پرتھوی راج چوہان’ ہونا چاہئے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پرتھویراج چوہان آخری ہندو شہنشاہ تھے اور ایسے منظر نامے میں فلم کے نام کو ان کے نام کو پورا احترام دینا چاہئے صرف ’پرتھوی راج‘ نام رکھنا ہندوؤں کے بہادر حکمراں کی توہین ہے۔

    انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ فلم کی ریلیز سے قبل اس کو کشتریہ اور راجپوت معاشرے کے نمائندوں کو دکھایا جائے تاکہ وہ یہ دیکھ سکیں کہ فلم میں کوئی تنازعہ ہے یا فلم میں تاریخ کے ساتھ کوئی چھیڑ چھاڑ ہے۔ اگر ایسا ہے تو ، وہ اس کی نشاندہی کرنے کے قابل ہوں گے۔

    اکھیل بھارتیہ کشتریہ مہا سبھا کے ممبروں نے ، چندی گڑھ کے سیکٹر 45 میں مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر پروڈیوسر ہدایتکار فلم سے متعلق تمام تنازعات کو ختم نہیں کرتے ہیں تو فلم کو وہی حشر کا سامنا کرنا پڑے گا جیسا کہ کشتری سماج نے پدماوت اور جودھا اکبر نے فلم کی ریلیز کے دوران کیا تھا۔

    واضح رہے کہ پرتھوی راج چوہان ہندوؤں کے حکمراں گزرے ہیں جن کی بہادری کے کارنامے پورے بھارت میں مشہور ہیں۔ ہندو پرتھوی راج چوہان سے متعلق عزت و احترام کے گہرے جذبات رکھتے ہیں۔

    بھارتیو اپنا برداشت کا لیول بڑھاؤ ، عدنان صدیقی کا بھارتیوں کو پیغام
    بھارتی عدالت نےمسلمان کامیڈین منور فاروقی کی درخواست ضمانت مسترد کردی
    سپریم کورٹ نے بالی ووڈ شہنشاہ سیف علی کی گرفتاری پراپنا ردعمل کیسے دیا؟اہم خبرآگئی
    ہندو انتہا پسندتنظیم کا’تانڈو‘کے فلمسازوں کی زبان کاٹنے والے کیلئے ایک کروڑ روپے…
  • بھارتی ٹی وی شوز کرائم پیٹرول اور ساودھن انڈیا کی دو اداکارئیں ڈکیتی کے الزام میں گرفتار

    بھارتی ٹی وی شوز کرائم پیٹرول اور ساودھن انڈیا کی دو اداکارئیں ڈکیتی کے الزام میں گرفتار

    ممبئی پولیس نے ڈکیتی کے ایک مقدمے میں ٹیلی ویژن کی دو اداکاراؤں کو گرفتارکیا ہے-

    باغی ٹی وی : انڈیا ٹو ڈے کی رپورٹ کے مطابق دونوں اداکارائیں ٹی وی کے مشہور شو کرائم پیٹرول اور کئی دیگر کرائم شو میں چھوٹے موٹے کردار ادا کرتی ہیں۔ کورونا بحران میں لاک ڈاؤن کےباعث ٹی وی شوز کی شوٹنگ بند ہونے کے بعد دونوں اداکارائیں مالی پریشانی مشکلات کا شکار تھیں۔

    ان پر الزام ہے کہ یہ کیس اس وقت کا ہے جب آرے کالونی کے رائل پام علاقے میں واقع ایک پاش عمارت میں رہنے والے شخص کے گھر میں 18 مئی کو یہ دونوں اداکارائیں پیئنگ گیسٹ بن کر گئی اسی دوران اس گھر میں پہلے سے موجود پیئنگ گیسٹ کے لاکر میں رکھے 3 لاکھ س زائد روپے لےکر وہاں سے فرار ہو گئی تھیں۔

    کرینہ کپور کوہندو دیوی "سیتا” کے کردار کی پیشکش پر ہندو مشتعل

    چوری کی اطلاع پولیس کو دی گئ خاتون نے آرے پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کروائی اور شبہ کیا کہ اداکارہ سورابی سریندر لال سریواستو اور موسینہ مختار شیخ نے ان کی رقم چوری کی ہے تفتیش کے دوران ، پولیس نے دونوں اداکاراؤں کو پیسوں کے بنڈل کے ساتھ روانہ ہوتے دیکھا۔ جب پولیس نے انہیں سی سی ٹی وی فوٹیج دکھائی تو انہوں نے اپنے جرم کا اعتراف کیا۔

    آرے پولیس اسٹیشن کی سینئر افسر نوتن پاور نے بتایا کہ دونوں ٹی وی کی مشہور کرائم شو اور ساودھن انڈیا کی ایکٹرز ہیں۔ اس کے علاوہ کئی ویب سیریز میں بھی کام کر چکی ہیں۔

    پولیس نے چوری کی گئی رقم سے 50 ہزارروپے برآمد کرلئے ہیں۔ سورابی اور موسینہ دونوں کو عدالت میں پیش کیا گیا۔ عدالت نے دونوں کو 23 جون تک پولیس تحویل میں بھیج دیا۔

    سابقہ اہلیہ کے شلپا شیٹھی پر الزامات، راج کندرا نے خاموشی توڑ دی
  • پاکستانی فیشن برانڈ پر ہندو مذہب کی توہین کا الزام ، برانڈ نے معافی مانگ لی

    پاکستانی فیشن برانڈ پر ہندو مذہب کی توہین کا الزام ، برانڈ نے معافی مانگ لی

    فیشن برانڈ جنریشن کو سوشل میڈیا پوسٹ میں شیئر کی گئی ایک ایڈیٹڈ تصویر میں ہندو دیوی کی توہین پر تنقید کا سامنا ہے جسے بعد ازاں ڈیلیٹ کر دیا گیا ہے-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق جنریشن برانڈ کی جانب سے ایک ملازم کی فیئرویل کی تصویر شیئر کی گئی تھی جس میں دیوی کے سر کی جگہ خاتون کی تصویر لگائی گئی تھی اور دیوی کے ہر ہاتھ میں مختلف سامان جیسا کہ لیپ ٹاپ، موبائل، ہینگر میں لٹکے کپڑے اور کیمرا شامل تھے۔

    تصویر میں یہ دکھانے کی کوشش کی گئی تھی کہ ان کی ٹیم چھوڑ کر جانے والی خاتون بیک وقت کئی امور سرانجام دیتی تھیں۔تاہم برانڈ کی جانب سے شیئر کی گئی تصویر کو ہندو برادری کی جانب سے توہین قرار دیا گیا ۔
    https://twitter.com/GENERATION_PK/status/1405887364933820417?s=20
    جس کے بعد جنریشن برانڈ کی جانب سے تصویر ڈیلیٹ کرتے ہوئے واقعے پر معذرت کی گئی جنریشن کی جانب سےٹوئٹر پوسٹ میں کہا گیا کہ ʼ ہم اپنے ناظرین کے متنوع عقائد کا احترام کرتے ہیں، گزشتہ روز ایک ایسی تصویر پوسٹ کی گئی تھی جو ہندو برادری کے لیے تکلیف کا باعث بنی لیکن ہمارا کسی کے مذہبی جذبات کو مجروح کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔

    برانڈ نے کہا کہ ہم اس واقعے پر دل سے ہر اس فرد سے معذرت کرتے ہیں جن کے جذبات اس پوسٹ سے مجروح ہوئے، یہ پوسٹ بطور انسان یا برانڈ کی حیثیت سے ہمارا نمائندگی نہیں کرتی۔

    جنریشن برانڈ کی پوسٹ میں کہا گیا کہ ہم ہر روز مزید احترام کرنا اور خیال کرنا سیکھ رہے ہیں۔ٹوئٹر صارفین کی جانب سے اس تصویر کی وجہ سے جنریشن برانڈ پر شدید تنقید کی گئی۔


    راٹھور نامی صارف نے لکھا کہ ʼہماری دیوی ماں کی تصویر میں غلط طریقے سے ایڈیٹنگ کرنا اس برانڈ کی ایک شرمناک حرکت ہے۔


    انسانی حقوق کے کارکن کپل دیو نے کہا کہ معذرت ناکافی تھی، انہوں نے لکھا کہ ʼ میں حیران ہوں کہ کیا صرف ایک معافی کافی ہے؟۔

  • فیصل قریشی نے ڈرامہ سیریل "فتور” کو اصل نام کیساتھ آن ائیر نہ کر نے کی وجہ بتادی

    فیصل قریشی نے ڈرامہ سیریل "فتور” کو اصل نام کیساتھ آن ائیر نہ کر نے کی وجہ بتادی

    پاکستان شوبزانڈسٹری کے سینئیر اداکار فیصل قریشی نے نجی ٹی وی چینل پر نشر کیے جانے والے اپنے ڈرامے "فتور” کے اصل نام کے ساتھ آن ائیر نہ کیے جانے کی وجہ بتادی۔

    باغی ٹی وی : اداکار فیصل قریشی حال ہی میں ایک ویب شو میں جلوہ گر ہوئے جہاں انہوں نے اپنے کیرئیر ذاتی زندگی کے حوالے سیمت نجی ٹی وی چینل پر آن آئیر ہونے والے ڈرامے: فتور” کے بارے میں بھی بات کی-

    میزبان کے سوال پر کہ ڈرامہ سیریل کا نام افئیر سے فتور کس نے اور کیوں تبدیل کیا؟کے سول پر فیصل قریشی نے کہا کہ عبداللہ کادوانی اور اسد قریشی نے ڈرامے کا نام تبدیل کیا-

    فیصل قریشی نے بتایا کہ ذاتی طور پر ڈرامے کے لیے افئیر نام مجھے بہت پسند آیا تھا لیکن ڈرامے کے پروڈیوسرزعبداللہ کادوانی اور اسد قریشی نے کہا انہیں ہمیں ڈرامے کا نام تبدیل کرنا چاہیے۔

    فیصل قریشی نے ترک ڈرامہ "ارطغرل غازی” کیوں نہیں دیکھا؟

    انہوں نے کہا کہ افئیر لفظ سے لوگ ایک ہی جگہ پھنس جاتے ہیں جب کہ ذہن میں فتور مختلف طرح کے پائے جاسکتے ہیں اس ڈرامے میں شامل ہر کردار کا اپنا فتور ہے۔

    خیال رہے کہ ڈرامہ سیریل ’فتور‘ کو سیونتھ سکائے کے بینر تلے پرو ڈیوسر عبداللہ کادوانی اور اسد قریشی نے پروڈیوس کیاہے ہدایتکار سراج الحق ہیں اس کہانی کو ڈرامہ نگار زنجبیل عاصم نے تحریر کیا ہے جبکہ فیصل قریشی کے ساتھ حبہ بخاری مرکزی کردار ادا کر رہی ہیں-

    فیصل قریشی کا ملالہ یوسفزئی کو شادی کے بیان پر اہم مشورہ

  • نمرہ خان کے فردوس عاشق اور نواز شریف پر تبصرے نے میزبان کو لاجواب کر دیا

    نمرہ خان کے فردوس عاشق اور نواز شریف پر تبصرے نے میزبان کو لاجواب کر دیا

    پاکستان شوبز انڈسٹری کی نامور اداکارہ نمرہ خان کا کہنا ہےکہ وزیراعلیٰ پنجاب کی معاون خصوصی اور پی ٹی آئی رہنما فردوس عاشق رشتے کرانے والی آنٹی لگتی ہیں۔

    باغی ٹی وی :اداکارہ نمرہ خان حال ہی میں نجی ٹی وی چینل کے پرو گرام ’جشن کرکٹ ‘ کی مہمان بنیں اور دوران شو میزبان کے سوالات کے دلچسپ جواب دیئے-

    شو کےمیزبان نے ان سے ملک کے تین بڑے سیاستدانوں مسلم لیگ (ن) کے نواز شریف، پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے سیاستدان آصف زرداری اور وزیراعظم عمران خان کا نام لے کر پوچھا کہ ان میں سے کون سے سیاستدان آپ کے پسندیدہ ہیں؟
    https://twitter.com/geonews_urdu/status/1405626355752980481?s=20
    میزبان کے سوال کے جواب میں اداکارہ نمرہ خان نے آصف زرداری اور عمران خان کے مقابلے میں نواز شریف کو اپنا پسندیدہ سیاستدان قرار دیا اور اس کی وجہ بتائی کہ لاہور بہت خوبصورت ہے۔

    اداکارہ نمرہ خان نے پاکستان تحریک انصاف کی رہنما فردوس عاشق اعوان کے بارے میں کہا کہ یہ مجھے رشتے کرانے والی آنٹی لگتی ہیں۔ میزبان نے پوچھا آپ کو فردوس عاشق اعوان رشتہ کرانے والی آنٹی کیوں لگتی ہیں؟ جس کے جواب میں نمرہ خان نے کہا مجھے یہ شکل سے بڑی تیز لگتی ہیں۔ اور ابھی جو ان کی حال ہی میں ویڈیو آئی ہے اس کے بعد تو میں کچھ بول بھی نہیں سکتی۔
    https://twitter.com/geonews_urdu/status/1405633018887352333?s=20
    نمرہ خان نے انکشاف کیا کہ میری پہلی جاب نیوز ایڈیٹر کی تھی، والدین کی خواہش تھی کہ میں کسی بھی طرح میڈیا جوائن کرلوں دوسری جانب تعلیم بھی فلم اینڈ ٹیلی ویژن تھی تو ملازمت قبول کرلی۔، پہلے ڈرامہ میں سین کی ریکارڈنگ پر 40 ٹیک تھے۔

    نمرہ خان نے کہا کہ مجھے ایکٹنگ کا اے بھی نہیں آتا تھا میرے والدین چاہتے تھے کہ میں میڈیا میں کام کروں، پہلے ڈرامہ میں کامیابی کے بعد میں نے ڈرامہ انڈسٹری میں کیریئر بنانے کا فیصلہ کیا۔

    اداکارہ نمرہ خان نے فلموں میں کام کرنے کے حوالے سے بتایا کہ میرے کچھ اصول ہیں۔ میں بولڈ سینز نہیں کرسکتی بغیر آستینوں والے کپڑے نہیں پہن سکتی اس لیے میں نے فلموں میں کام کرنے کی ہامی نہیں بھری۔

    نمرہ خان نے کہا کہ ابتداء میں میڈیا میں کامیاب نہیں ہوئی تو اسکوائش کھیلنے لگی، جہانگیر خان کے ماموں میرے کوچ تھے۔انہوں نے کہا کہ میں نے جہانگیر خان کے ساتھ بھی کچھ میچ کھیلے ہیں۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل اسی پروگرام میں اداکارعلی عباس نے سیاستدانوں کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’مجھے ہمیشہ سے ہی شہباز شریف بہت پسند ہیں کیونکہ مجھے اُن کا تقاریر کرنے کا انداز بہت پسند ہے۔ جبکہ آصف زرداری ایک اسمارٹ سیاستدان ہیں لہٰذا اگر کبھی موقع ملا تو میں ضرور اُن کے حق میں مقدمہ لڑوں گا۔‘

    شہباز شریف ہمیشہ سےہی میرے پسندیدہ سیاستدان ہیں علی عباس