Baaghi TV

Category: شوبز

  • روبینہ اشرف کی بیٹی اور اداکارہ منیٰ طارق کا رشتہ پکا ہو گیا

    روبینہ اشرف کی بیٹی اور اداکارہ منیٰ طارق کا رشتہ پکا ہو گیا

    پاکستان ڈرامہ انڈسٹری کی سینئر اداکارہ و ہدایت کارہ روبینہ اشرف نے اپنی بیٹی اور اداکارہ منیٰ طارق کا رشتہ طے کردیا۔

    باغی ٹی وی : سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اداکارہ روبینہ اشرف اور ان کے شوہر طارق مرزا سے متعلق خبریں سرگرم ہیں کہ انہوں نے اپنی صاحبزادی اداکار ہ منیٰ طارق کا رشتہ عمران شیخ سے طے کیا ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق روبینہ اشرف نے بیٹی کی بات پکی کرنے کی اطلاع مداحوں کو سوشل میڈیا کے ذریعے دی جس کے بعد ادکارہ اور ان کے والدین کو مبارکبادیں دی جارہی ہیں۔

    تاہم اب تک یہ واضح نہیں ہوسکا ہے کہ اداکارہ منیٰ طارق کے ہونے والے شوہر کا تعلق کس پیشے سے ہے اور وہ پاکستان میں ہیں یا بیرون ملک مقیم ہیں۔

  • مومل نے لاک ڈاؤن کے دوران اتنے پیسے کمائے جتنے کوئی سال بھر میں نہیں کماسکتا   شہزاد شیخ

    مومل نے لاک ڈاؤن کے دوران اتنے پیسے کمائے جتنے کوئی سال بھر میں نہیں کماسکتا شہزاد شیخ

    پاکستان شوبز انڈسٹری کے نامور ڈائریکٹر اور سینئیر اداکار جاوید شیخ کے بیٹے اور اداکار شہزاد شیخ نے انکشاف کیا ہے کہ ان کی بہن اور اداکارہ مومل شیخ نے لاک ڈاؤن کے دوران سال بھر کی کمائی ایک ساتھ کرلی۔

    باغی ٹی وی : اداکارشہزاد شیخ اپنی بہن مومل شیخ کے ہمراہ نجی ٹی وی شو میں شریک ہوئے اور مومل شیخ کے انسٹاگرام بزنس کے بارے میں بتایا۔

    شہزاد شیخ نے بتایا کہ گزشتہ برس کورونا لاک ڈاؤن کے دوران وہ پورا سال گھر میں بیٹھے رہے لیکن مومل نے اسی دوران اتنے پیسے کمائے جتنے کوئی سال بھر میں نہیں کماسکتا۔

    شہزاد نے مزید بتایا کہ لاک ڈاؤن کے دوران کبھی مومل انسٹاگرام پر ڈائپر بیچ رہی تھیں تو کبھی دودھ بیچ رہی تھیں، یوں سمجھ لیں کہ یہ لڑکی پورا سال پیسے کمانے میں لگی رہی۔

    شہزاد شیخ کا کہنا تھا کہ مومل نے اس دوران اپنے بیٹے کو بھی ساتھ ملالیا تھا اور وہ بھی ان کی بنائی ہوئی ویڈیوز میں شامل ہوا کرتا تھا اور مومل بیٹے کے پیسے اور بھی زیادہ لیا کرتی تھیں۔

    واضح رہے کہ مومل شیخ انسٹاگرام آئی ڈی پر لاک ڈاؤن کے دوران بھی مختلف اشتہارات کی ویڈیوز شیئر کرتی رہی ہیں۔

    سائرہ شہروز کی علیحدگی اور صدف سے شادی پر سے متعلق شہزاد اور مومل شیخ کی رائے

  • خطہ عرب کی تاریخی اہمیت پر بنائی جانے والی دستاویزی فلم ’دی آرکیٹیکٹ آف اینشنٹ عریبیہ‘

    خطہ عرب کی تاریخی اہمیت پر بنائی جانے والی دستاویزی فلم ’دی آرکیٹیکٹ آف اینشنٹ عریبیہ‘

    معروف ٹیلی ویژن چینل ڈسکوری چینل اور دی رائل کمیشن آف العلا نے باہمی معاونت سے خطہ عرب کی تاریخی اہمیت پردستاویزی فلم ’دی آرکیٹیکٹ آف اینشنٹ عریبیہ‘ بنائی ہے-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق دستاویزی فلم ’دی آرکیٹیکٹ آف اینشنٹ عریبیہ‘ میں سعودی عرب کے ساب سے قدیم شہر العلا کی تاریخ پر تحقیق کی گئی ہے اس تحقیق کو پس منظر میں بیان کرنے کے لیے اکیڈمی ایوارڈ، گولڈن گلوب ایوارڈ اور ایمی ایوارڈ سمیت کئی بین الااقوامی ایوارڈز حاصل کرنے والے جیرمی آئرنز کو چنا گیا ہے۔ دستاویزی فلم میں سعودی ماہرین آثار قدیمہ اور تاریخ دانوں کے اس علاقے سے متعلق نئے تاریخی رازوں کو بھی شامل کیا گیا ہے جو اس سے قبل منظر عام پر نہیں آئے تھے۔

    ڈاکومینٹری کے دوران علاقے میں ہزاروں مقامات کو جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ریکارڈ بھی کیا گیا تاکہ انسانی تاریخ کے مختلف ٹکڑوں کو جوڑتے ہوئے انسانی تہذیب کی تاریخ میں ایک نئے باب کا اضافہ کیا جا سکے۔

    قدیم سعودی شہر العلا
    ڈاکومینٹری ڈسکوری چینل اور دی رائل کمیشن آف العلا کی باہمی معاونت سے بنائی گئی ہے۔

    رائل کمیشن آف العلا کی ڈائریکٹر ربیکا فوٹی کا کہنا ہے کہ ’ہم حیجرہ جیسے اہم مقامات کے حوالے سے معلومات رکھتے ہیں لیکن مجھے امید ہے کہ اس ٹیم کی ڈاکومینٹری ہمیں ان قبل از تاریخ چیزوں سے آگاہ کرے گی جو ہم نہیں جانتے جب معاشرے زیادہ پیچیدہ ہو رہے ہیں۔

    ’دی آرکیٹیکٹ آف اینشنٹ عریبیہ‘ نامی یہ ڈاکومینٹری مشرق وسطیٰ میں سعودی عرب کے وقت کے مطابق 31 مارچ کو رات نو بجے دکھائی جائے گی۔

    خیال رہے کہ سعودی عرب کے شمال مغربی شہر مدینہ کے علاقے میں واقع العلا شہر کبھی لوبان کی تجارت کے وسیع راستے پر ایک اہم مرکز ہوا کرتا تھا یہ راستہ بحیرہ روم سے بھارت اور شمالی افریقہ تک پھیلا ہوا تھا۔ اب اس کی آبادی پانچ ہزار سے کچھ زیادہ نہیں لیکن سعودی عرب اسے ثقافت و سیاحت کے اعتبار سے اہم مقام کے طور پر دیکھتا ہے۔

  • کیا انسانی تہذیب میں پتھروں سے تعمیر ہونے والی پہلی عمارت سعودی عرب کے قدیم شہر العلا میں کی گئی؟

    کیا انسانی تہذیب میں پتھروں سے تعمیر ہونے والی پہلی عمارت سعودی عرب کے قدیم شہر العلا میں کی گئی؟

    معروف ٹی وی ڈسکوری چینل کی جانب سے کی جانے والی اہم تحقیقی سرگرمیوں نے سعودی شہر العلا کی طویل تاریخ کے رازوں کو منکشف کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبر رساں ادارے انڈیپینڈنٹ اردو کی رپورٹ کے مطابق انسانی تاریخ و ترقی پر تحقیق کے حوالے سے معروف ٹیلی ویژن چینل ڈسکوری کے مطابق انسانی تہذیب میں پتھروں سے تعمیر ہونے والی پہلی عمارت سعودی عرب کے قدیم شہر العلا میں کی گئی۔

    چینل کی ماہرین تاریخ پر مشتمل ٹیم نے خطہ عرب کی تاریخی اہمیت پر بنائی جانے والی دستاویزی فلم ’دی آرکیٹیکٹ آف اینشنٹ عریبیہ‘ میں اس بات کا انکشاف کیا-

    اس تحقیق کو پس منظر میں بیان کرنے کے لیے اکیڈمی ایوارڈ، گولڈن گلوب ایوارڈ اور ایمی ایوارڈ سمیت کئی بین الااقوامی ایوارڈز حاصل کرنے والے جیرمی آئرنز کو چنا گیا ہے۔

    دستاویزی فلم میں سعودی ماہرین آثار قدیمہ اور تاریخ دانوں کے اس علاقے سے متعلق نئے تاریخی رازوں کو بھی شامل کیا گیا ہے جو اس سے قبل منظر عام پر نہیں آئے تھے یہ ڈاکومینٹری ڈسکوری چینل اور دی رائل کمیشن آف العلا کی باہمی معاونت سے بنائی گئی ہے۔

    ڈاکومینٹری کے دوران علاقے میں ہزاروں مقامات کو جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ریکارڈ بھی کیا گیا تاکہ انسانی تاریخ کے مختلف ٹکڑوں کو جوڑتے ہوئے انسانی تہذیب کی تاریخ میں ایک نئے باب کا اضافہ کیا جا سکے۔

    فائل فوٹو اے ایف پی
    خیال رہے کہ العلا سعودی عرب کے شمال مغربی علاقے میں ایک وسیع نخلستان ہے۔ یہ خطہ تین ہزار سال پرانی تہذیبوں کے دوران اس خطے کا ایک سفری اور رہائشی مرکز رہا ہےحالیہ تاریخ میں کی جانے والی اہم تحقیقی سرگرمیوں نے العلا کی طویل تاریخ کے رازوں کو منکشف کیا ہے۔

    عرب نیوز کی رپورٹ کے مطابق ڈاکومینٹری کے ایڈیٹر اور ایگزیکٹیو پروڈیوسر رابرٹ کیروان کا کہنا ہے کہ ’العلا میں عکس بندی کے لیے گزارا جانے والا وقت زندگی تبدیل کر دینے والا تھا۔ ایسا صرف میرے لیے نہیں بلکہ پورے عملے کے لیے تھا۔ میں نے اتنا خوبصورت علاقہ پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔

    اس علاقے میں موجود پتھر سے تیار کردہ ہزاروں تعمیرات کو ہزاروں سال سے چھوا نہیں گیا ہم قدیم تاریخ کے بھوتوں کے درمیان گھوم رہے تھے اور محسوس کر رہے تھے کہ وہ اپنی کہانی سنانا چاہتے ہیں۔

    رائل کمیشن آف العلا کی ڈائریکٹر ربیکا فوٹی کا کہنا ہے کہ ہم حیجرہ جیسے اہم مقامات کے حوالے سے معلومات رکھتے ہیں لیکن مجھے امید ہے کہ اس ٹیم کی ڈاکومینٹری ہمیں ان قبل از تاریخ چیزوں سے آگاہ کرے گی جو ہم نہیں جانتے جب معاشرے زیادہ پیچیدہ ہو رہے ہیں۔

    ماہرین آثار قدیمہ نے اس خوبصورت علاقے سے متعلق رازوں سے پردہ اٹھانا شروع کر دیا ہے یہاں جاننے کو بہت کچھ ہے اور ہم پرجوش ہیں کہ ہم اس ڈاکومینٹری کے ذریعے دنیا کو اپنے کام سے آگاہ کر سکیں گے۔

    ’دی آرکیٹیکٹ آف اینشنٹ عریبیہ‘ نامی یہ ڈاکومینٹری مشرق وسطیٰ میں سعودی عرب کے وقت کے مطابق 31 مارچ کو رات نو بجے دکھائی جائے گی۔

    واضح رہے کہ سعودی عرب کے شمال مغربی شہر مدینہ کے علاقے میں واقع العلا شہر کبھی لوبان کی تجارت کے وسیع راستے پر ایک اہم مرکز ہوا کرتا تھا یہ راستہ بحیرہ روم سے بھارت اور شمالی افریقہ تک پھیلا ہوا تھا۔ اب اس کی آبادی پانچ ہزار سے کچھ زیادہ نہیں لیکن سعودی عرب اسے ثقافت و سیاحت کے اعتبار سے اہم مقام کے طور پر دیکھتا ہے۔

    سعودی حکومت نے اس مقام اور اس کے دیواروں میں بند تاریخی شہر کو دنیا کے سب سے بڑے ایسے عجائب گھر میں تبدیل کرنے کے منصوبے تیار کیے ہیں جہاں ماضی کی جھلک دکھائی جائے گی سعودی حکومت کو امید ہے کہ اس علاقے کو دیکھنے کے لیے سالانہ لاکھوں لوگ آئیں گے۔

  • پرتگالی حملوں کو روکنے والے مسلمان امیر البحرپر مبنی فیچر فلم نے بھارت کا قومی ایوارڈ اپنے نام کر لیا

    پرتگالی حملوں کو روکنے والے مسلمان امیر البحرپر مبنی فیچر فلم نے بھارت کا قومی ایوارڈ اپنے نام کر لیا

    دنیا بھر میں پھیلنے والی کورونا وبا کی وجہ سے بھارت کے 67ویں نیشنل ایوارڈز کی تقریب منعقد نہیں ہوسکی تھی جو بھارتی وزارت اطلاعات کی جانب سے گزشتہ روز منعقد کی گئی اور اس میں بہترین فنکاروں سمیت بہترین فلمز کے ایوارڈز بھی دیئے گئے۔

    باغی ٹی وی :غیر ملکی خبر رساں ادارے بی بی سی اردو نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ بھارتی حکومت کی جانب سے اس مرتبہ بہترین فیچر فلم کا ایوارڈ ملیالی زبان کی فلم ‘مرکڑ: دی لائن آف عربین سی’ کو ملا ہے۔

    یہ فلم 16 ویں صدی میں انڈین ساحلی شہر کیلیکٹ (موجودہ دور کے کوژیکوڈ، کیرالہ) پر پرتگالیوں کے حملے کے خلاف وہاں کے مسلمان امیر البحر محمد علی، کنجلی مرکڑ چہارم کے بارے میں ہے۔

    یہ جنوبی انڈیا کی سب سے اہم تجارتی بندرگاہوں میں سے تھی اور یہاں کے تحفظ کے لیے بحری فوجوں نے اہم کردار ادا کیا۔

    پرتگالیوں کو اس ایک صدی طویل جنگ میں بالآخر 1600 میں کامیابی حاصل ہوئی مگر اس دوران چار کنجلی مرکڑوں نے اتنے عرصے تک کامیابی سے اس جگہ کا دفاع کیے رکھا۔

    واضح رپے کہ یہ فلم معروف فلم ساز پریادرشن نے لکھی ہے اور اُنھوں نے ہی ہدایتکاری بھی کی ہے بالی وڈ سٹار سنیل شیٹی بھی اس فلم میں کردار ادا کر رہے ہیں۔

    اس فلم کو ویسے تو مارچ 2020 میں ریلیز ہونا تھا تاہم کوویڈ 19 کے باعث اس کی ریلیز تاخیر کی شکار ہوئی اور اب یہ 13 مئی 2021 کو نمائش کے لیے پیش کی جائے گی۔

    کنگنا رناوت نے بہترین اداکارہ کا قومی ایوارڈ اپنے نام کر لیا

  • لوگ جن باتوں کو چھپاتے ہیں میں وہ بولتی ہوں   متھیرا

    لوگ جن باتوں کو چھپاتے ہیں میں وہ بولتی ہوں متھیرا

    پاکستان شوبز انڈسٹری کی متنازع اداکارہ و ہوسٹ متھیرا کا کہنا ہے کہ عورت اور مرد ایک دوسرے کو مکمل کرتے ہیں، کوئی ایک دوسرے سے برتر نہیں۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی ویب سائٹ انڈیپینڈنٹ اردو کو دیئے گئے انٹرویو میں اداکارہ متھیرا کا کہنا تھا کہ فیمنزم اچھی چیز ہے، عورت مارچ تو ٹھیک ہے لیکن اس مارچ کے دوران پلے کارڈز میں جو باتیں لکھی ہوتی ہیں ان میں سے کچھ ٹھیک نہیں ہوتیں عورت مارچ کے بعض بینرز ضرورت سے زیادہ ہوتے ہیں۔

    متھیرا نے کہا کہ عورت اور مرد ایک دوسرے کو مکمل کرتے ہیں کوئی ایک دوسرے سے برتر نہیں۔

    ہمیشہ تنازعات میں گھرے رہنے سے متعلق پوچھے گئے سوال پر متھیرا نے کہا کہ میں سچی باتیں کرتی ہوں، میں وہ سچ بولتی ہوں جو دوسرے نہیں بولتے، لوگ جن باتوں کو چھپاتے ہیں میں وہ بولتی ہوں۔ لوگ اب باتوں کو چھپاتے ہیں اور جب یہ باتیں سامنے آتی ہیں تو انہیں ہضم کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔

    متھیرا کا کہنا تھا کہ کیرئیر کے دوران امتحان آتے رہے ہیں اور مختلف معاملات شہرت کی وجوہات بنتے ہیں، انسان کو جب شہرت ملتی ہے تو اسے پتہ بھی نہیں چلتا اور اگر نہیں ملنی ہوتی تو ایڑی چوٹی کا زور لگالیں نہیں ملے گی۔

    کم کارڈیشیئن بننے کی کوشش کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ وہ بھی ایک عورت ہیں اور کم کارڈیشیئن کو پسند کرتی ہیں مگر اس کی نقل نہیں کرتیں۔ متھیرا کا کہنا ہے کہ شہرت اچانک ملتی ہے، یہ کوشش سے نہیں ملتی۔

    انہوں نے کہا کہ وہ ہرگز پاکستان کی سیکس سمبل نہیں بننا چاہتیں ’ہر شخص مجھے ایک ہی نظر سے دیکھتا ہے، اب اگر لوگوں نے مجھے سیکس سے جوڑ دیا ہے تو اس میں میرا کیا قصور۔‘

    ’مجھے کبھی اس لیے ڈر نہیں لگا کیونکہ میں نے کسی کے پیسے نہیں کھائے۔ میں ملنگ عورت ہوں، میری دنیا ہی الگ ہے اور مجھے آگ سے کھیلنے کا شوق نہیں۔

    متھیرا نے کہا کہ کسی کو چھوٹے کپڑے پہننے پر دھمکیاں نہیں ملتیں پاکستان پرانے خیالات کا ملک ضرور ہے مگر ایسا بھی نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ کسی نظریے پر کام نہیں کرتیں، فلسفہ صرف کتابوں میں اچھا لگتا ہے۔

    پاکستان چھوڑنے کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ اس ملک میں انہوں نے شہرت اور پیسہ کمایا بلکہ پاکستان کے جو اداکار بھارت گئے انہیں اتنی عزت نہیں ملی، اس ملک نے انہیں بہت کچھ دیا ہے اس لیے وہ یہیں رہنا چاہتی ہیں۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ بغاوت نہیں کرتیں، ان کے جیسے کپڑے بہت سی اداکارائیں پہنتی ہیں، کپڑوں سے بغاوت نہیں ہوتی۔

    مذہبی معاملات پر ان کہنا تھا کہ یہ ان کا نجی معاملہ ہے اور وہ اسے نجی زندگی تک محدود رکھنا چاہتی ہیں۔ ’لوگوں کو پارسا بننے کا شوق چھوڑ دینا چاہیے، جو ہیں، ویسے رہیں۔ میں کسی پر رائے زنی نہیں کرتی تو مجھ پر کیوں کی جاتی ہے۔‘

    فلموں میں مزید کام کرنے کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ اکثر وقت پر پیسے نہیں ملتے اس لیے وہ کم کام کرتی ہیں۔

    میری جسامت پر طعنے دینے کے بجائے لوگ اپنی ذات اور اپنے مسائل پر فوکس رکھیں متھیرا

  • چند سال قبل حرا اور مانی کو کیا ناخوشگوار واقعہ پیش آیا؟

    چند سال قبل حرا اور مانی کو کیا ناخوشگوار واقعہ پیش آیا؟

    پاکستان شوبز کے مزاحیہ اداکار سلمان ثاقب شیخ عرف مانی نے چند سال قبل اپنے اور اہلیہ اداکارہ و ماڈل حرا کے ساتھ پیش آئے ایک ناخوشگوار واقعے کا ذکر کیا۔

    باغی ٹی وی :حال ہی میں اداکار جوڑی نجی ٹی وی چینل کے ایک پروگرام میں شریک ہوئیں جس دوران کیرئیر میں پیش آنے والے اتار چڑھاؤ کا ذکر کرتے ہوئے حرا مانی نے بتایا کہ ایک وقت ایسا بھی آچکا ہے جب میرا ڈرامہ ہٹ ہورہا تھا لیکن میرے اور مانی کے اکاؤنٹ میں صرف 10 ہزار روپے تھے۔

    مانی نے اپنے کیرئیر کے ایک ناخوشگوار واقعے سے متعلق بتایا کہ 5 سال قبل ایک اداکارہ نے مارننگ شو میں میرے اور حرا کے ہمراہ انٹری دینے سے بھی انکار کردیا تھا اور اس کی وجہ مقبولیت کا نہ ہونا تھا تاہم مانی نے اداکارہ کا نام لینے سے انکار کردیا۔

    دورانِ شو مانی نے بتایا کہ میری حرا سے لڑائی ہی ہمیشہ کپڑوں پر ہوتی ہے کیونکہ حرا کو بغیر آستین کے کپڑے پہننے سے منع کرتا تھا اور میں کپڑوں کے معاملے میں حساس ہوں۔

    مانی کا کہنا تھا کہ میں پاکستانی ہوں، یہاں پیدا ہواہوں اس لیے مجھے یہاں کا پتا ہے ، میرا خیال ہے کہ آپ جو بھی پہنیں علاقہ دیکھ کر پہنیں آپ کو پتا ہونا چاہیے کہ آپ کو کس علاقے میں کیا پہن کر جانا چاہیے۔

  • کراچی میں خواجہ سراؤں کی پہلی کمرشل ٹیلر شاپ پر کام کا آغاز

    کراچی میں خواجہ سراؤں کی پہلی کمرشل ٹیلر شاپ پر کام کا آغاز

    پاکستان کے سب سے بڑے شہرکراچی میں خواجہ سرا کمیونٹی کی جانب سے قائم کی گئی پہلی کمرشل ٹیلر شاپ پر کام کا آغاز کردیا۔

    باغی ٹی وی : مخنث افراد کو بااختیار بنانے والی تنظیم ’ٹرانس پرائڈ سوسائٹی‘ نے دیگر اداروں کی معاونت سے کراچی کے کاروباری علاقے محمد علی (اے ایم ) جناح روڈ پر دکان حاصل کی۔

    ٹرانس پرائڈ سوسائٹی کی جانب سے انسٹاگرام پوسٹ میں بتایا گیا کہ ایم اے جناح روڈ کے جناح کمپلیکس میں مخنث افراد کے اسٹاف پر مبنی پہلی ٹیلر شاپ کھول لی گئی۔

    مذکورہ دکان کھولے جانے کی افتتاحی تقریب میں سندھ حکومت کی خواتین کی کمیشن کی چیئرپرسن اور کراچی بار کے اعلیٰ عہدیداروں نے بھی شرکت کی۔

    خواجہ سرا افراد کے اسٹاف پر مبنی ٹیلر شاپ کھولے جانے کے موقع پر ٹرانس پرائڈ سوسائٹی کی سربراہ نیشا راؤ نے اپنے پیغام میں کہا کہ مذکورہ پروگرام مخنث افراد کو خودمختار بنانے کی طرف پہلا قدم ہے۔

    انہوں نے عام لوگوں سے اپیل کی کہ وہ مخنث افراد کے ٹیلر شاپ پر خصوصی طور پر آئیں تاکہ خواجہ سرا افراد باعزت روزگار حاصل کرسکیں۔

    خیال رہے کہ ٹرانس پرائڈ سوسائٹی کی سربراہ نیشا راؤ پاکستان کی پہلی خواجہ سرا وکیل بھی ہیں نیشا راؤ کراچی بار کا بھی حصہ ہیں اور وہ وکالت کی تعلیم حاصل کرنے اور وکالت سے قبل سڑکوں پر بھیک مانگتی تھیں۔

    وکالت کی تعلیم حاصل کرنے اور وکالت کا آغاز کرنے کے بعد نیشا راؤ نے اپنی کمیونٹی کے افراد کے لیے مختلف فلاحی منصوبے شروع کیے اور ایسے ہی منصوبوں کی تکمیل کے لیے انہوں نے ’ٹرانس پرائڈ سوسائٹی‘ نامی ادارے کا قیام کیا، جس کے تحت اب خواجہ سرا افراد کا پہلا ٹیلر شاپ کھول دیا گیا۔

  • میری جسامت پر طعنے دینے کے بجائے لوگ اپنی ذات اور اپنے مسائل پر فوکس رکھیں   متھیرا

    میری جسامت پر طعنے دینے کے بجائے لوگ اپنی ذات اور اپنے مسائل پر فوکس رکھیں متھیرا

    اپنے بولڈ انداز کی وجہ سے متنازع اداکارہ و ٹی وی میزبان متھیرا نے جسامت پر تنقید کرنے والے افراد کو کہا ہے کہ وہ کون ہوتے ہیں، ان کی جسامت پر بات کرنے والے اور انہیں پلاسٹک کہنا بند کیا جائے۔

    باغی ٹی وی :متھیرا نے حال ہی میں یوٹیوب شو ’ٹو بی آنیسٹ‘ میں شرکت کی تھی، جہاں انہوں نے اپنی ذاتی زندگی سمیت پیشہ ورانہ زندگی پر بھی کھل کر بات کی تھی اور بتایا تھا کہ کس طرح وہ زمبابوے سے اچانک پاکستان آئی تھیں۔

    متھیرا کے مطابق ان کے والد زمبابوے کے نامور سیاستدان ہیں جب انہوں نے ان کی والدہ کو طلاق دی تو انہیں اچانک پاکستان آنا پڑا۔

    لوگوں کی جانب سے پلاسٹک سرجری کروائے جانے کے الزامات کے بعد اداکارہ نے انسٹاگرام اسٹوری پر وضاحت کی اور لوگوں کو کہا کہ وہ انہیں پلاسٹک کہنا بند کریں۔

    متھیرا نے اپنی اسٹوری میں بتایا کہ وہ جیسی بھی ہیں، اپنی جسامت سے خوش ہیں، انہیں بار بار طعنے دینے کے بجائے لوگ اپنی ذات اور اپنے مسائل پر فوکس رکھیں۔

    اداکارہ و ٹی وی میزبان نے لکھا کہ وہ لوگوں کے سوالات کے جوابات دے دے کر تھک چکی ہیں کہ انہوں نے کوئی سرجری نہیں کروائی۔

    متھیرا نے انکشاف کیا کہ انہیں ہارمونز کا مسئلہ درپیش ہے جس وجہ سے ان کی جسامت بعض حصوں سے کافی بڑھی ہوئی نظر آتی ہے، اس لیے یہ کہنا بند کریں کہ انہوں نے سرجری کروائی ہے۔

    انہوں نے اسٹوری میں لکھا کہ پہلی بات تو انہوں نے سرجری نہیں کروائی، دوسرا یہ کہ اگر وہ سرجری کرواتیں تو اس بات کو تسلیم کرتیں اور ساتھ ہی انہوں نے وضاحت کی کہ وہ سرجری کروانے یا نہ کروانے سے متعلق آزاد ہیں، ان کی مرضی ہے وہ جو چاہیں کریں۔

    متھیرا نے لکھا کہ اگر وہ 40 بار بھی سرجریز کروائیں گی تو بھی ان کی اپنی مرضی ہے اور اس سے دوسرے لوگوں کو مسئلہ نہیں ہونا چاہیے اس لیے دوسرے لوگ انہیں پلاسٹک کہنا بند کریں۔

  • ون ڈیزل کے بیٹے ’ فاسٹ اینڈ فیوریس‘ سے اداکاری میں ڈیبیو کریں گے

    ون ڈیزل کے بیٹے ’ فاسٹ اینڈ فیوریس‘ سے اداکاری میں ڈیبیو کریں گے

    ہالی ووڈ فلم’ فاسٹ اینڈ فیوریس 9‘ میں مرکزی کردار نبھانے والے اداکار ون ڈیزل کے بیٹے بھی اس بار والد کے ساتھ فلم میں اداکاری کرتے ہوئے ہالی ووڈ میں ڈیبیو کریں گے۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق اداکار ون ڈیزل کے بیٹے10 سالہ ونسنٹ فلم میں اداکاری کرتے نظر آئیں گے ان کے کنٹریکٹ میں سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق ونسنٹ کو ایک ہزار5 ڈالر فی دن معاوضہ بھی دیا گیا جبکہ انہیں فلم میں کتنا ٹائم اسکرین پر دکھایا جائے گا اسکی تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔

    دنیا بھر میں شائقین ’ فاسٹ اینڈ فیوریس نو ‘ کا بےصبری سے انتظار کر رہے ہیں لیکن یہ انتظار 25 جون کو ختم ہوگا جب فلم نمائش کے لئے پیش کی جائے گی۔

    واضح رہے ’فاسٹ اینڈ فیوریس 9‘ کی ریلیز کورونا وائرس کی وجہ سے کئی بار ملتوی کی جاچکی ہے۔