اداکارہ و میزبان نادیہ خان کا کہنا ہے کہ اداکار بننے کے لیے اب ایکٹنگ آنی ضروری نہیں بس فالوورز کی تعداد زیادہ ہونی چاہئے جتنے فالوورز زیادہ ہوں گے اتنا آپ کو کام زیادہ ملے گا۔
باغی ٹی وی : نادیہ خان نے حال ہی میں آن لائن شو’ٹو بی آنسٹ ‘ میں شرکت کی انٹرویو کے دوران میزبان نے اداکارہ عروہ حسین، عائشہ عمر، ارمینا رانا خان اورعمران خان کا نام لے کرنادیہ خان سے سوال پوچھا ان میں سے کس اداکارکو ایکٹنگ چھوڑ دینی چاہیے؟ نادیہ خان نے یہ تو نہیں بتایا کہ ان میں سے کسے اداکاری چھوڑدینی چاہیے لیکن انہوں نے جواب دیا ’ضروری ہے اداکاری آتی ہو تو کام ملے گا؟‘
نادیہ خان نے موجودہ دورکے فنکاروں پر طنز کرتے ہوئے کہا آج کل اس سے اس چیز کا کیا تعلق ہے کہ اداکارڈرامے کررہے ہیں تو انہیں ایکٹنگ آنی چاہیے آپ کو سوشل میڈیا پرمشہور ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر آپ کےلاکھوں فالوورز ہونے چاہیئں آپ کوفالوورزخریدنے آنے چاہیئں آپ اچھے فالوورز خریدیں اور کسی کمپنی کو ماہانہ اس بات کے لیے ادائیگی کریں کہ آپ کی تصاویر سوشل میڈیا پر نظر آئیں۔
نادیہ خان نے موجودہ دورمیں اداکاری کو جج کرنے کا پیمانہ اچھی اداکاری کے بجائے سوشل میڈیا فالوورز کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ آج کل ٹی وی پر کام ملنے کا یہ پیمانہ (سوشل میڈیا پرمقبولیت) ہے ایکٹنگ کی کیا ضرورت ہے اسلئے میں کس کس کوکہوں کہ اداکاری چھوڑدو۔
پروگرام میں نادیہ خان نے پہلی بار اپنے بچوں اور والدین کے حوالے سے بھی کھل کر بات کی اور بتایا کہ ان کا بچن پنجاب کے شہر راولپنڈی میں گزرا، جہاں انہوں نے ابتدائی تعلیم بھی حاصل کی اور وہ پڑھائی میں اچھی نہیں تھیں۔
نادیہ خان نے بتایا کہ ان کے والد پاک فوج میں کرنل تھے جب کہ ان کے تین بچے ہیں جن میں سے سب سے بڑی بیٹی علیزے ہیں جن کی عمر 17 برس ہے۔
اداکارہ کے مطابق دوسرے نمبر پر ان کا بیٹا اذان ہے جن کی عمر 11 برس ہے جب کہ انہیں ایک سال کا بیٹا کیان بھی ہے۔
نادیہ خان نے بتایا کہ انہوں نے بچوں کو میڈیا سے دور رکھا ہوا ہےکیوںکہ وہ چہاتی ہیں کہ ان کے بچے پہلے تعلیم مکمل کرلیں۔
اداکارہ کے مطابق ان کی خواہش ہے کہ ان کی بیٹی قانون دان بنیں جب کہ بیٹا انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) ایکسپرٹ بنیں، تاہم انہوں نے تاحال تیسرے بچے کے حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کیا۔
ایک اور سوال کے جواب میں نادیہ خان نے بتایا کہ انہیں لگتا ہے کہ ساتھی اداکارائیں ان کی برائی کرتی ہوں گی کیوںکہ یہ چیز خواتین کی فطرت میں شامل ہے۔
شو میں اداکارہ نے انکشاف کیا کہ ڈانس کرنا انہیں بہت پسند ہے اور ان کی خواہش ہے کہ وہ کسی ایوارڈ شو یا دیگر ٹی وی شو میں ڈانس کریں۔
پاکستان ٹی وی کی سینئر اداکارہ اور میزبان نادیہ خان کا کہنا ہے کہ ماضی میں انہیں بھارتی فلم ساز مہیش بھٹ اور بپی لہری نے فلموں میں کام کی پیش کش کی تھی مگر انہوں نے منع کردیا تھا۔
باغی ٹی وی : حال ہی میں نادیہ خان نے یوٹیوب شو ٹو بی آنیسٹ (ٹی بی ایچ) میں بات کرتے ہوئے بتایا کہ اگرچہ انہیں مہیش بھٹ نے بھی فلموں میں کام کی پیش کش کی تھی تاہم انہیں سب سے زیادہ ہنسی بپی لہری کی جانب سے کام کی پیشکش پر آئی۔
نادیہ خان نے شو میں بپی لہری کے بولنے کے انداز کو کاپی کرتے ہوئے بتایا کہ جب وہ دبئی میں مقیم تھیں تو انہوں نے بپی لہری کو اپنے شو میں بلایا تھا۔
اداکارہ نے بتایا کہ شو ختم ہونے کے بعد بپی لہری ان کے پاس آئے اور ان کی تعریف کرتے ہوئے انہیں کہا کہ وہ فلم بنانے جا رہے ہیں، کیا وہ ان کی فلم میں کام کریں گی؟
اداکارہ نے انکشاف کیا کہ بپی لہری یہی بات دیگر لڑکیوں اور خواتین کو بھی کہتے تھے، اس لیے انہوں نے بھارتی فلم ساز کو منع کردیا۔
پاکستان شوبز انڈسٹری کے سینئر اور لیجنڈ اداکارعدنان صدیقی نے بھارتیوں کو اپنا برداشت کا لیول بڑھانے کا مشورہ دیا ہے۔
باغی ٹی وی : اداکار عدنان صدیقی نے حال ہی میں اداکارہ میراسیٹھی کے آن لائن شومیں شرکت کی جہاں انہوں نے بھارتیوں کی جانب سے پاکستانی فنکاروں پرلگائی جانے والی پابندی کے خلاف آواز اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتیوں اپنا برداشت کا لیول بڑھاؤ۔
میزبان میرا سیٹھی نے عدنان صدیقی سے سوال کیا کہ ہمارے یہاں 30 سال کی عمرکے بعد اداکاراؤں کو مرکزی کرداروں کی جگہ بھابھی یا ساس کے کردار کیوں دئیے جاتے ہیں جبکہ مرد اداکاروں کے ساتھ ایسا نہیں ہے وہ بڑی عمر میں بھی ہیرو ہی آرہے ہوتے ہیں آپ بھی ابھی تک مرکزی کردارمیں آرہے ہیں؟ اس سوال کے جواب میں عدنان صدیقی نے مذاقاً کہا میں خود کو ویمپائر کہتا ہوں-
بعد ازاں عدنان صدیقی نے نے کہا یہ المیہ صرف برصغیرمیں ہی ہے۔ اگر آپ ہالی وڈ یا پھرایرانی فلم انڈسٹری دیکھ لیں وہاں ایسا نہیں ہوتا۔ لیکن پاکستان اور بھارت میں ایک خاص عمر کے بعد ہیروئنوں کو ’’باجی‘‘ بنادیتے ہیں۔ یہ بہت غلط ہے اور مجھے نہیں لگتا کہ ایسا ہونا چاہئے۔
انٹرویوکے دوران عدنان صدیقی نے بالی وڈ میں سری دیوی کے ساتھ کام کرنے کا تجربہ بتاتے ہوئے کہا کہ مجھے فلم ’موم ‘ کےسیٹ پرسری دیوی سے سب سے پہلے ان کے شوہربونی کپورنے ملوایا تھا وہ اپنی بیوی کو ’میم‘ کہتے تھے شاید عزت میں کہتے تھے اورانہوں نے سری دیوی سے کہا تھا میم یہ عدنان صدیقی ہیں سری دیوی مجھ سے بہت گرمجوشی سے ملی تھیں۔
بالی وڈ میں پاکستانی فنکاروں کے کام کرنے پرلگنے والی پابندی پربات کرتے ہوئے عدنان صدیقی نے کہا ایک زمانہ تھا جب بھارتی فنکارپاکستان آیا کرتے تھے اور دونوں ممالک کے درمیان کلچرل ایکسچینج پروگرام ہوا کرتا تھا لیکن اب بھارتیوں کی جانب سے پاکستانیوں پر پابندی لگادی گئی ہے مجھے ایسا لگتا ہے یہ نہیں ہونا چاہئے تھا کیونکہ سیاست اور فنون لطیفہ دو الگ چیزیں ہیں۔
عدنان صدیقی نے کہا اگر برداشت کی بات کریں تو ہم پاکستانیوں میں برداشت کا لیول بھارتیوں سے زیادہ ہے کیونکہ پابندی ان کی طرف سے لگائی گئی ہماری طرف سے نہیں یہاں تک کہ اگر دونوں ممالک کے فنکار ویڈیو کال پر بات کرتے ہیں تو اس پر بھی بھارتیوں کی طرف سے پابندی عائد کردی گئی۔
عدنان صدیقی نے بھارتیوں کو پیغام دیتے ہوئے کہا ’بھارت والوں اپنا برداشت کا لیول تھوڑا سابڑھاؤ۔
عدنان صدیقی نے مزید کہا وہ اگر مستقبل میں کوئی فلم بنائیں گے تو وہ جیمز بانڈ یا عمران سیریزکی طرح کی فلم ہوگی جس میں وہ ایجنٹ کا کردار خود کرنا چاہیں گےکیونکہ انہیں ایڈونچرز فلمیں بہت پسند ہیں۔
پاکستان کی ٹرانس جینڈر ماڈل و اداکارہ رمل علی نے تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کر لی۔
رمل علی کو پاکستان تحریک انصاف ویلفیئر ونگ کی رکنیت مل گئی اس کے علاوہ انہیں ہیومن رائٹس کمیشن پاکستان کی رکنیت بھی دی گئی ہے اداکارہ کو دونوں اداروں میں صنفی تفریق کے لیے صدر کا معاون تعینات کیا گیا ہے۔
رمل علی کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کا حصہ بننا میرے لیے باعث فخر ہے، اپنی کمیونٹی کے افراد کی بہتری کے ہر فورم پر آواز اٹھوں گی۔
خیال رہے کہ گزشتہ دنوں رمل علی نے ایک ویڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایک شخص نے ان پر تشدد کیا، ان کی بھنویں مونڈھ دیں اور سر کے بال کاٹ دیے۔
رمل علی نے کہا تھا کہ جہانزیب خان نامی شخص نے انہیں شدید جسمانی و ذہنی تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔
انہوں نے مزید کہا تھا کہ ملزم انہیں ایک عرصے سے پریشان کررہا تھا اور انہوں نے اس کی وجہ سے کئی مقامات بھی تبدیل کیے لیکن اس نے میرا پیچھا نہیں چھوڑا اور انہوں نے انصاف کا مطالبہ بھی کیا تھا۔
واضح رہے کہ رمل علی ’’سات دن محبت ان‘‘ اور ’’رہبرا‘‘ نامی فلموں میں اپنے فن کے جوہر دیکھا چکی ہیں۔
پاکستان شوبز انڈسٹری کی خوبرو اداکارہ سارہ خان کا کہنا ہے کہ خواتین ’عورت مارچ‘ کے بجائے اپنے بچوں کی اچھی تربیت کریں تو زیادہ بہتر ہے۔
باغی ٹی وی : حال ہی میں نجی ٹی وی چینل پر نشرہونے والے ڈرامے رقص بسمل میں زہرہ کا کردار ادا کرنے والی اداکارہ سارہ خان نے ایک شو میں فیمنزم سے متعلق پوچھے گئے سوال پر کہا کہ میں صنفی مساوات پر بہت یقین رکھتی ہوں، میں یہ نہیں کہتی کہ عورتوں کو اعلیٰ درجہ دے دیں میں بس یہی کہتی ہوں کہ عورتوں کو برابری کا درجہ دیں کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے مرد اور عورت کو جو مقام دیا ہے اُن کو اسی مقام پر رکھیں اسے تبدیل کرنے کی کوشش نہ کریں۔
سارہ خان نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے عورت کو مضبوط ہی بنایا ہے پھر ہم بار بار یہ کیوں کہتے ہیں کہ عورت مضبوط ہے اور اسے بھی مرد کے برابر کی تنخواہ ملنی چاہیے، مجھے یہ لگتا ہے کہ عورت کو لڑائی یا عورت مارچ کرنے سے بہتر ہے کہ اپنے بچوں کی اچھی تربیت کریں۔
اداکارہ نے یہ بھی کہا کہ اللہ تعالیٰ نے عورت کو ایک خاص مقام دیا ہے، میں مردوں کو بھی اچھا سمجھتی ہوں، انہیں بھی اتنے ہی حقوق اور خوشیاں ملنی چاہئیں جتنی عورت کو ملتی ہیں، صرف عورتوں کی بات کرنا دراصل غلط ہے۔
اسلامی فتوحات پر مبنی شہرہ آفاق ترک سیریز ’ارطغرل غازی‘ میں اصلحان حاتون کا کردار ادا کرنے والی اداکارہ گلثوم علی نے اپنے پاکستانی مداحوں کے لیے ایک ویڈیو پیغام جاری کیا ہے۔
باغی ٹی وی :ترک ڈراما سیریل ’ارطغرل غازی‘ کو پاکستانی وزیر اعظم عمران خآن کی ہدایت پر گزشتہ برس اپریل میں پاکستان کے سرکاری ٹی وی (پی ٹی وی) پر اردو میں ڈب کر کے نشر کیا گیا اور اس نے کئی ریکارڈ اپنے نا م کئے پاکستان میں سب سے زیادہ دیکھا جانے والا ڈراما بن چکا ہے۔
پاکستانی جہاں اس ڈرامے کو بہت پسند کررہے ہیں وہیں ڈرامے کے اداکاروں کو بھی بہت محبت دے رہے ہیں۔ ڈرامے کے مرکزی کرداروں ارطغرل غازی اور حلیمہ سلطان کو تو پاکستان میں بہت زیادہ مقبولیت ملی۔ لیکن ان دونوں کرداروں کے علاوہ ڈرامے کے دیگر کرداروں نے بھی پاکستانیوں کے دلوں میں جگہ بنالی۔
ڈرامے کے مرکزی کرداروں میں سے ایک کردار اصلحان حاتون کا بھی ہے۔ جو ارطغرل کے قریبی دوست ترگت کی بیوی اور ڈرامے کی دیگر خواتین کی طرح بہت بہادر اور عقلمند خاتون ہیں۔ یہ کردار ترک اداکارہ گلثوم علی نے ادا کیا ہے۔
ارطغرل غازی میں اصلحان حاتون کا کردار نبھانے والی اداکارہ گلثوم علی کے بھی پاکستان میں لاکھوں مداح موجود ہیں اور اداکارہ اپنے پاکستانی مداحوں کے لئے اکثر پیغام جاری کرتی رہتی ہیں اور اب ایک بار پھر گلثوم نے اپنے پاکستانی مداحوں کے لیے ویڈیو پیغام جاری کیا ہے۔
گلثوم علی نے انسٹاگرام اسٹوری پر شیئر کیے جانے والے پیغام میں کہا ’پاکستان میں موجود میرے تمام دوستوں اور مداحوں میرے پاس آپ سب کے لیے ایک زبردست خبر ہے۔بہت جلد میں آپ کو یہ خبر سناؤں گی انشااللہ۔ ترکی کی طرف سے آپ سب کو ڈھیر سارا پیار۔‘
گلثوم علی نے اس ویڈیو کے ساتھ لکھا ’ترک پاکستان دوستی زندہ باد‘ اور ان کی ویڈیو میں پاکستان اور ترکی کے جھنڈے بھی نظر آرہے ہیں۔
اداکارہ گلثوم علی نے ویڈیو میں یہ تو نہیں بتایا کہ ان کے پاس پاکستانیوں کے لیے کیا خبر ہے تاہم سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبروں کے مطابق گلثوم علی معروف پاکستانی برانڈ کی ایمبیسیڈر بن گئی ہیں۔
گزشتہ برس میرے پاس تم ہو ڈرامے سے شہرت حاصل کرنے والی خوبرو اداکارہ عائزہ خان کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر فالوورز کی تعداد آپ کو کامیابی نہیں دلواسکتی بلکہ اس کے لیے آپ کو بہت محنت کرنی پڑتی ہے۔
باغی ٹی وی :گزشتہ روزاداکارہ عائزہ خان کے سماجی رابطے کی ویب سائٹ انسٹاگرام پر فالووورز کی تعداد 8 ملین یعنی 80 لاکھ ہوئی ہے جس کے بعد وہ پاکستان کی پہلی اداکارہ بن گئی ہیں جنہیں انسٹاگرام پر سب سے زیادہ فالو کیا جارہا ہے۔
سنگِ میل عبور کرنے کے اس موقع پر عائزہ خان نے ایک خصوصی پوسٹ جاری کی ہے۔
عائزہ خان نے اپنے تصدیق شدہ انسٹاگرام اکاؤنٹ پر اپنی نئی تصویر شیئر کی جس کے ساتھ اُنہوں نے ایک طویل کیپشن بھی لکھا۔
اداکارہ نے اپنی پوسٹ کے کیپشن میں اپنے تمام فالوورز کا شکریہ ادا کیا، اس کے بعد اُنہوں نے کہا کہ ’آج میں آپ سب کو کچھ اہم باتیں بتانا چاہتی ہوں۔
عائزہ خان نے کہا کہ آج اگر میں سب سے زیادہ فالو کی جارہی ہوں تو اس کے پیچھے سب سے بڑی وجہ میری محنت ہے، میں آج جس مقام پر ہوں اور جو کچھ بھی حاصل کیا اُس کی وجہ میری سخت محنت ہے۔
اداکارہ نے اپنی والدہ کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ میری والدہ نے ہمیشہ مجھے محنت اور صبر کرنے کی نصیحت کی ہے۔
عائزہ خان نے یہ بھی کہا کہ سوشل میڈیا پر آپ کے فالوورز کی بڑھتی ہوئی تعداد آپ کو طویل مدتی کامیابی کی ضمانت نہیں دیتی۔
اُن کا کہنا تھا کہ ’ہمارے یہاں جس کے انسٹاگرام پر فالوورز کی تعداد زیادہ ہوتی ہے تو لوگ اُس سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں جبکہ یہ غلط ہے۔‘
اُنہوں نے کہا کہ ’محنت کا پھل ہمیشہ میٹھا ہوتا ہے لہٰذا آپ جو بننا چاہتے ہیں وہ بنیں لیکن صرف فالوورز کی تعداد میں اضافے سے لطف اندوز ہونے کے بجائے طویل مدتی کامیابی کے لیے کوشش کریں۔
اداکارہ نے کہا کہ ’میں نے اپنی تمام تر توانائی ہمیشہ اپنے کام، اداکاری اور ماڈلنگ میں خصوصی طور پر مرکوز رکھی ہے اور میرے فین فالونگ نے خود ہی ترقی کی۔
عائزہ خان نے آخر میں اپنے تمام مداحوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے محبت کا اظہار کیا۔
عائزہ خان کی پوسٹ پر ریما خان اور ایمن خان نے 80 لاکھ فالوورز ہونے پر عائزہ خان کو مبارکباد دی اور نیک خواہشات کا اظہار کیا-
بھارت کی ریاست مدھیا پردیش کی ہائی کورٹ میں گرفتار مسلمان کامیڈین منور فاروقی کی درخواست ضمانت مسترد کردی گئی۔
باغی ٹی وی :تقریباً 4 ہفتوں قبل منور فاروقی کو مدھیا پردیش کے شہر اندور میں ایک پروگرام سے گرفتار کیا گیا تھا اور اس کی وضاحت یہ دی گئی تھی کہ منور ہندو دیوتاؤں پر لطیفے سنانے والے تھے۔
علاوہ ازیں منور فاروقی نامی اس نوجوان پر ہندو دیوتا سمیت بھارت کے وزیر داخلہ اور حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے صدر امیت شاہ کی تضحیک کا بھی الزام تھا۔
مسلمان کامیڈین کے خلاف درخواست ایم ایل اے مالیانی لکشمن سنگھ گور کے بیٹے اکلاویا سنگھ گور نے جمع کروائی اور اپنی درخواست میں کہا تھا کہ منور فاروقی نے اپنے ایک شو کے دوران ہندو دیوتاؤں اور امیت شاہ کی تضحیک کی ہے۔
درخواست گزار نے کہا تھا کہ اس نے خود اس شو کی ویڈیو بنائی ہے، جبکہ وہ ویڈیو پولیس کے حوالے بھی کردی بعد ازاں بھارتی پولیس نے بھی تسلیم کیا تھا کہ انہیں منور فاروقی کے خلاف توہینِ مذہب کے کوئی شواہد نہیں ملے۔
بھارت کی دو عدالتیں منور فاروقی کو ضمانت دینے سے انکار کر چکی تھی جبکہ آج مدھیا پردیش کی عدالت عالیہ نے بھی ان کی درخواست ضمانت مسترد کردی ہے۔
عدالت نے ریمارکس دیئے کہ منور فاروقی نے جان بوجھ کر ایک گروہ کے جذبات کو ٹھیس پہنچائی ہے۔
عدالت نے مزید ریمارکس دیئے کہ ملزم کے خلاف ثبوت موجود ہیں اور ان کے خلاف الزامات کی تحقیقات بھی جاری ہیں، اس کے لیے اس کیس میں ضمانت نہیں دی جاسکتی۔
بالی وڈ اداکار سیف علی خان اور اداکارہ کرینہ کپور کا شمار انڈسٹری کی کامیاب شخصیات میں ہوتا ہے دونوں اداکاروں نے 2012 میں شادی کی تھی ان کا ایک بیٹا تمور علی خان یے جبکہ ایک اور ننھے مہمان کی جلد آمد متوقع ہے-
باغی ٹی وی :حال ہی میں اداکار سیف علی خان نے اپنی اہلیہ کرینہ کپور خان کے ٹاک شو میں بات کرتے ہوئے بتایا کہ شادی سے قبل اداکارہ رانی مکھرجی نے انہیں نصیحت کی تھی۔
سیف علی خان نے بتایا کہ کرینہ سے شادی سے قبل رانی مکھرجی نے مجھے نصیحت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایسے برتاؤ کرنا جیسے کہ تم ایک مرد کے ساتھ رشتے میں ہو۔
سیف علی نے رانی مکھر جی کی اس نصیحت کی وضاحت دیتے ہوئے بتایا کہ اس کا مطلب تھا کہ کرینہ کے ساتھ ہمیشہ برابری کا سلوک کریں اور رشتے میں کبھی بھی صنف کو شامل نہ کرنا۔
سیف علی خان نے کہا کہ رانی مکھرجی اس معاملے میں بالکل ٹھیک ہیں۔
خیال رہے کہ اداکار سیف علی خان اداکارہ رانی مکھرجی کے ساتھ فلم ’ہم تم‘ اور ’تارا رم پم‘ میں اداکاری کرچکے ہیں۔
حال ہی میں بھارتی انتہا پسند تنظیم کرنی سینا مذہبی جذبات مجروح کرنے پر ویب سیریز ‘تانڈو’ کے فلم سازوں کی زبان کاٹنے والے شخص کے لیے ایک کروڑ روپے دینے کا اعلان کیا ہے جس پر پاکستان سینئیر صحافی اور اینکر پرسن مبشر لقمان نے انتہا پسند ہندوؤں کے اس اعلان کے خلاف آواز بُلند کی ہے-
باغی ٹی وی :مبشر لقمان نے اپنے آفیشل یوٹیوب چینل پر جاری ویڈیو میں کہا کہ مجھے آج علامہ خادم حسین رضوی رحمتہ اللہ علیہ بہت یا د آرہے ہیں ۔ آج میرے دل سے ان کے لیے دعا نکلی ہے کہ اللہ ان کے درجات بھی بلند کرے اور جو بھی انکی خواہشات تھیں اللہ پاک سے دعا ہے کہ اپنے حبیب حضرت محمدﷺ کے صدقے ان کو وہ مقام عطا فرما جو ان کی خواہش تھی ۔
مبشر لقمان کوعلامہ خادم رضوی کی یاد کیوں آج آئی اسکی وجہ انہوں نے بتاتے ہوئے کہا کہ میری نظر سے آج ایک اسٹوری گزری ۔ اسٹوری یہ ہے کہدہلی کی سیاست پر مبنی ہدایت کار علی عباس ظفر کی ویب سیریزجنوری کو امیزون پرائم پر ریلیز کی گئی تھی جس میں سیف علی خان، ڈمپل کپاڈیا، سنیل گروور سمیت بہت سے فن کاروں نے اداکاری کے جوہر دکھائے۔
سینئیر صحافی کے مطابق ہوا کچھ یوں کہ ویب سیریز کی ریلیز کے بعد انتہا پسند ہندوؤں نے آسمان سر پر اُٹھا لیا اور اپنا روائتی انداز اپناتے ہوئے فلم میکرز سے معافی مانگنے کا مطالبہ کردیا شدت پسند جماعت بی جے پی کے رہنماؤں نے نہ صرف فلم سے بہت سے مناظر ہٹانے کا کہا بلکہ ہاتھ جوڑ کر معافی مانگنے کا مطالبہ بھی کیا۔
مبشر لقمان نے بتایا کہ اس فلم کے خلاف لکھنؤ میں پولیس نے نہ صرف کیس درج کیا ہے بلکہ اس کے پروڈیوسر اور بعض اداکاروں کے سر پر گرفتاری کی تلوار لٹک رہی ہے ہندو قوم پرست جماعت حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی کے متعدد رہنماؤں نے اس پر پابندی کے ساتھ ساتھ اس سیریز کے بنانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
انہوں نے اپنی ویڈیو میں بتایا کہ بی جے پی اور متعدد سخت گیر ہندو تنظیموں کا الزام ہے کہ نو قسطوں پر مبنی اس ویب سیریز میں ہندو دیوی دیوتاؤں کی توہین کی گئی ہے اور اس لیے اس کے نشر کرنے پر پابندی عائد کی جائے۔ بی جے پی کے کارکنان نے کئی ریاستوں میں اس کے خلاف احتجاجی مظاہرے بھی کیے ہیں۔
مبشر لقمان کے مطابق کسی نے مسلم اداکاروں پر یہ الزام عائد کیا کہ وہ پیسہ کمانے کے لیے ہندو مذہب کی بے عزتی کر رہے ہیں۔ مسلم مذہبی پیشواؤں سے مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے یہ گزارش بھی کی کہ علی عباس ظفر جیسے فلمسازوں کے لیے گائیڈ لائنس جاری کریں-
انہوں نے بتایا کہ اس نئی پیش رفت کے بعد ویب سیریز کے تمام اداکاروں اور اسے بنانے والوں نے مشترکہ طور پر ایک بیان میں معذرت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک افسانوی کہانی پر مبنی ہے اس کا حقیقت سے کچھ بھی لینا دینا نہیں اور اگر اس کے کردار یا اس کی کہانی کسی حقیقی واقعے سے مماثلت رکھتی ہو تو یہ محض ایک اتفاق ہو گا۔ سیریز کے اداکاروں اور پروڈیوسرز کی نیت قطعی کسی کے جذبات کو ٹھیس پہنچانا نہیں ہے۔
مبشر لقمان نے بتایا کہ ویب سیریز کے ہدایت کار نے ہاتھ جوڑ کر ہی معافی مانگتے ہوئے کہا کہ ویب سیریز بنانے کا مقصد کسی کے مذہبی،سیاسی جذبات کو بھڑکانا یا دل آزاری نہیں تھا مگر معافی مانگنے کے بعد بھی انتہا پسند ہندو باز نہ آئے اور ہوا کچھ یوں کہ بھارتی انتہا پسند تنظیموں نے اعلان کر دیا ہے کہ اس ویب سیریز کی وجہ سے ہمارے مذہبی جذبات مجروح ہوئے ہیں اس لئے جو کوئی بھی ویب سیریزبنانے والوں کی زبان کاٹے گا اسے ایک کروڑ روپے انعام میں دیے جائیں گے۔
اینکر پرسن نے کہا کہ آپ دیکھیں جہاں ایک جانب اس سریز میں کچھ ایسا نہیں ہے صرف نام ایسا ہے ۔ دراصل تانڈو ایک سیاسی ڈرامہ ہے۔ جس میں بھارت کی موجودہ سیاسی صورت حال کو بہت ہی بکھرے ہوئے انداز میں پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے ابھی تک بھارتی سرکار کی جانب سےنہ کوئی پرچہ کاٹا ہے نہ کسی کو پکڑا ہے ۔
انہوں نے مزید کہا کہ دوسری جانب آپ اگر اس سب کا موزانہ علامہ خادم حسین رضوی سے کریں تو کبھی ایسا نہ میں دیکھا نہ سنا کہ انہوں نے ایسا کہا ہو انہوں ہمیشہ احتجاج کیا احتجاج انکا حق تھا کیونکہ نبی کی حرمت کا معاملہ ہے د نیا بھر میں دیکھ لیں فرانس کا صدر ڈھیٹ ہے ۔
منش لقمان نے کہا کہ علامہ خادم صاحب کا مطالبہ کیا تھا ۔۔۔ صرف یہ کہ جن جن ممالک سے ایسے توہین آمیز کارٹون بننے ہیں نبیﷺ کی شان میں گستاخی کی ہے ۔ تو اس کی ایمبسی کو بند کر دیا جائے ۔ نہ کبھی انھوں نے جلاؤ گھیراؤ کیا ۔ نہ انتشار پھیلایا ہمیشہ انھوں نے احتجاج کیا ۔۔۔
انہوں نے مزید کہا کہ میری ان سب so called enlightened moderationکے حامیوں سے گزارش ہے کہ اب بھی بولیں نا کہ بھارت میں سرعام قتل کے فتوے بانٹے جا رہے ہیں ۔
اینکر پرسن نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کہاں وہ ٹویٹر مافیا ۔ کہاں وہ موم بتی مافیا ۔ جن کو خادم حسین رضوی کے احتجاج سے تن بدن میں آگ لگ جاتی تھی ۔ کہاں وہ سب ۔ جن کو حرمت رسول ﷺپر احتجاج کرنے سے ان کو مسائل ہی مسائل نظر آتے تھے ۔ حالانکہ ہمیشہ ان کا پرامن احتجاج رہا ہے اور ہمیشہ علامہ کے احتجاج پر لاٹھی چارج ، آنسو گیس کے شیل ہی پھینکے گئے ۔ مگر آفرین تھی اس تن تنہا مرد حر پر جس نے اپنی ساری زندگی حرمت رسول ﷺکے لیے وقف کیے رکھی ۔ اور ہمیشہ پرامن احتجاج کیا ۔ نہ کبھی کوئی گملہ ٹوٹا نہ کوئی پتہ گرا ۔ نہ کبھی کسی چیز کو نقصان پہنچایا گیا ۔
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ میرے لیے تو وہ دنیا میں امر ہوچکے ہیں ۔ اور میری دعا ہے کہ ان جیسی دنیا وآخرت ہر مسلمان کے نصیب میں ہو ۔ بابا جی جیسا جنازہ میں نے اپنی زندگی میں نہیں دیکھا ۔ لوگوں کا ان سے والہانہ عشق میں نہ نہیں دیکھا ۔ واحد ایسا جنازہ تھا جس میں ہر مکاتب فکر کے لوگ تھے کیا شعیہ ، کیا دیوبندی ، کیا بریلوی ، کیا اہلحدیث ۔۔۔۔ وجہ کیا تھا کہ ان کا مقصد بڑا بھی تھا ۔ نیت پاک صاف تھی اور وہ بغیر کسی نفع و لالچ کے حرمت رسولﷺکے جدوجہد کرتے رہے ۔
مبشر لقمان نے مزید کہا کہ یہاں تک آپ دیکھیں آخری احتجاج جو انھوں نے کیا تھا۔ اس میں ان کا اور حکومت کا معاہدہ ہوا تھا کہ17 فروری تک فرانس کے سفیر کو ملک بدر کریں گے ۔ ان کی پوری جماعت اس عہد کا فا کر رہی ہے اور انتظار کررہی ہے کہ 17 فروری تک حکومت کیا کرتی ہے ۔
انہوں نے کہا کہ اسی پر علامہ خادم حسین رضوی کے فرزند اور اب تحریک کے سربراہ سعد رضوی نے ان کے چہلم پر کہا تھا کہ میں پنڈال سے اسٹیج تک آیا ہوں۔ جذبات سمجھتا ہوں۔جب قائد بدیانت نہ ہو تو پھر قوم بھی بدیانت نہیں ہوسکتی۔ ہم وعدے کے پابند ضرور ہیں، کوئی یہ نہ سمجھے کہ ہم خاموش رہینگے۔ ہم آپکے جوتے بھی پالش کرینگے اگر آپ حضورﷺکے غلام بن جائیں۔