Baaghi TV

Category: شوبز

  • رجنی کانت کی طبعیت پہلے سے کافی بہتر ہے   اسپتال ذرائع

    رجنی کانت کی طبعیت پہلے سے کافی بہتر ہے اسپتال ذرائع

    معروف بھارتی اداکار و سیاستدان رجنی کانت کی طبیعت میں پہلے سے کافی بہتری آنے لگی۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق گزشتہ روز بلڈ پریشر میں اتار چڑھاؤ کے باعث حیدرآباد کے اسپتال میں داخل ہونے والے بھارتی اداکار و سیاستدان رجنی کانت کی طبیعت میں بہتری آئی ہے۔

    اس حوالے سے اسپتال ذرائع نے بھارتی میڈیا کو بتایا کہ رجنی کانت کے بلڈ پریشر کی سطح میں ابھی بھی شدید اتار چڑھاؤ ہے۔

    واضح رہے کہ لیجنڈری اداکار رجنی کانت حیدرآباد میں اپنی فلم ’اناتھی‘ کے لیے موجود تھے جس کی شوٹنگ چند روز قبل کریو ارکان میں کورونا وائرس کی تشخیص کے بعد روک دی گئی تھی۔

    حیدرآباد اپولو اسپتال نے رجنی کانت کی صحت پر کہا ہے کہ بھارتی معروف اداکاری رجنی کانت میں کورونا وائرس کی علامات نہیں پائی گئی ہیں ،بی پی لو ہے اور اسی وجہ سے انہیں اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ڈاکٹروں کی ٹیم علاج معالجہ کر رہی ہے، طبیعت بہتر ہونے پر ہسپتال سے فارغ کر دیا جائے گا-

    معروف بھارتی اداکار رجنی کانت کے حوالہ سے تشویشناک خبر

  • سوشل میڈیا پرعمران عباس اور علیزے شاہ کی شادی کی خبریں وائرل

    سوشل میڈیا پرعمران عباس اور علیزے شاہ کی شادی کی خبریں وائرل

    پاکستان کے عالمی شہرت یافتہ اداکار عمران عباس اور اداکارہ علیزے شاہ کی شادی کی خبریں سوشل میڈیا پر گردش کرنے لگی ہیں۔

    باغی ٹی وی : میڈیا رپورٹس کے مطابق حال ہی میں دیئے گئے ایک انٹرویو کے دوران اداکار عمران عباس نے کہا تھا کہ بہت جلد وہ اپنی شادی سے متعلق خبر مداحوں کو خوشخبری دیں گے اس بیان کے بعد سے سوشل میڈیا پر عمران عباس اور اداکارہ علیزے شاہ کی شادی کی خبریں گردش کرنے لگی ہیں۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق دونوں بہت جلد شادی کے بندھن میں بندھنے جارہے ہیں اور اس حوالے سے دونوں کے درمیان ملاقاتوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

    خیال رہے کہ اس سے قبل اداکارہ علیزے شاہ کی اداکارہ نعمان سمیع کے ساتھ بھی شادی کی خبریں منظر عام پر آئی تھیں تاہم نعمان سمیع نے ایک انٹرویو میں تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اور علیزے شاہ صرف اچھے دوست ہیں۔

    واضح رہے کہ عمران عباس نے حال ہی میں علیزے شاہ کے ساتھ ڈرامہ سیریل جو تو چاہے میں کام کیا تھا جس کے بعد سے دونوں کی شادی کے چرچے سوشل میڈیا پر جاری ہیں۔

    عدنان صدیقی کے بعد عمران عباس نے بھی سال 2020 کی سب سے اچھی بات بتا دی

    صنم سعید نے سال 2020 کو کٹھن سال قرار دیا

  • شہزاد رائے  پی آئی اے پر برہم

    شہزاد رائے پی آئی اے پر برہم

    پاکستان میوزک انڈسٹری کے معروف گلوکار و سماجی رہنما شہزاد رائے پی آئی اے کے جہاز میں سماجی فاصلہ نہ ہونے پر انتظامیہ پر برہم ہو گئے۔

    باغی ٹی وی : سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پراپنے ٹویٹ میں شہزاد رائے نے لکھا کہ کورونا وائرس کی وجہ سے احتیاطی تدابیر پر عمل کرتے ہوئے ماضی میں طیارے کی درمیان والی سیٹوں کو سماجی فاصلے کے تحت خالی رکھا جاتا تھا لیکن آج ایسی کوئی صورتحال نظر نہ آئی۔


    انہوں نے یہ بھی کہا کہ کراچی سے اسلام آباد جانے والی پی آئی اے کی فلائٹ پی کے 300 میں سفر کیا تو جہاز مکمل طور پر لوگوں سے بھرا ہوا تھا۔ ساتھ ہی شہزاد رائے نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سماجی فاصلہ برقرار رکھنے کے لیے ادارے کی بنائی ہوئی کوئی حکمت عملی ہے بھی یا نہیں۔

    واضح رہے کہ شہزاد رائے گلوکار کے ساتھ ساتھ سماجی کاموں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں گلوکار سرکاری اسکولوں میں بہتر نظام تعلیم اور تعلیم کے فروغ کے لیے اپنی خدمات سرانجام دیتے نظر آتے ہیں-

  • گوگل و وکی پیڈیا نے حلیمہ سلطان کو یاسر حسین کی والدہ بنا دیا

    گوگل و وکی پیڈیا نے حلیمہ سلطان کو یاسر حسین کی والدہ بنا دیا

    گوگل و وکی پیڈیا نے ترکی کے شہرہ آفاق ڈرامہ سیریل ‘ارطغرل غازی’ میں ‘حلیمہ سلطان’ کا کردار ادا کرنے والی اداکارہ اسرا بلجیک کو پاکستانی اداکار یاسر حسین کی والدہ بنا دیا۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق انٹرنیٹ سرچ انجن کے الگورتھم کی غلطی یا خرابی کے باعث اسرا بلجیک کو یاسر حسین کی والدہ کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔

    یہ غلطی ممکنہ طور پر گوگل کے الگورتھم کی وجہ سے ہو رہی ہے جو کہ یاسر حسین کے نام سرچ کرنے پر سرچ پیج کھلنے پر وکی پیڈیا کے سیکشن میں اسرا بلجیک کو ان کے والدین کے طور پر پیش کر رہا ہے۔

    تاہم اگر وکی پیڈیا کا پیج کھولا جائے تو اس میں اسرا بلجیک کا کوئی ذکر نہیں اور اسی طرح اگر گوگل پر یاسر حسین کے والد کا نام تلاش کیا جائے تو بھی الگورتھم میں کوئی خرابی نہیں دکھائی دے رہی۔

    تاہم سرچ کے مین پیج پر یاسر حسین کے تعارفی سیکشن میں اسرا بلجیک کو ان کے والدین کے طور پر پیش کیا گیا ہےاسی سرچ پیج پر اقرا عزیز کو ان کی اہلیہ کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔

    انٹرنیٹ سرچ انجن کے ٹولز پر نظر رکھنے والے ماہرین کے مطابق ممکنہ طور پر یہ غلطی اس لیے ہو رہی ہے کیوںکہ یاسر حسین حالیہ چند ماہ میں ترک ڈرامے کے کرداروں پر تنقید کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

    ماہرین کے مطابق یاسر حسین کی جانب سے ایسرا بلجیک کو پاکستانی برانڈز کے سفیر مقرر کیے جانے پر تنقید کیے جانے کی وجہ سے الگورتھم ترک اداکارہ کو ان کی والدہ کے طور پر پیش کر رہا ہے۔

    دلچپ بات یہ ہے کہ وکی پیڈیا و گوگل سرچ انجن یاسر حسین کی عمر 36 سال جب کہ ایسرا بلجیک کی عمر 28 سال بتا رہے ہیں یعنی انٹرنیٹ نے کم عمر خاتون کو خود سے 8 سال زائد عمر مرد کی والدہ بنا ڈالا۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل رواں برس اکتوبر میں سرچ انجن گوگل نے بھارتی اداکارہ انوشکا شرما کو افغان کرکٹر راشد خان کی اہلیہ کے طور پر پیش کیا تھا۔ انٹرنیٹ سرچ انجن کے الگورتھم میں خرابی کے باعث گوگل نے بھارتی کرکٹر ویرات کوہلی کی بیوی انوشکا شرما کو افغان کرکٹر راشد خان کی اہلیہ کے طور پر پیش کیا تھا۔

    بھارتی میڈیا رپورٹس میں گوگل کی اتنی بنیادی غلطی کی وجہ راشد خان کی 2018 میں ہونے والی ایک بات چیت قرار دیا جارہا تھا راشد خان نے اپنے مداحوں سے انسٹاگرام پر لائیو چیٹ کے دوران شائقین کرکٹ اور پرستاروں کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے بتایا تھا کہ بالی ووڈ میں ان کی پسندیدہ اداکارائیں پریتی زنٹا اور انوشکا شرما ہیں۔

    گوگل نے انوشکا شرما کو افغان کرکٹر راشد خان کی اہلیہ بنا دیا

    بھارتی اداکار جن کا تعلق پاکستان سے ہے

  • بھارتی اداکار شوٹنگ کے دوران ڈیم میں ڈوب کر ہلاک ہو گئے

    بھارتی اداکار شوٹنگ کے دوران ڈیم میں ڈوب کر ہلاک ہو گئے

    ملیالم فلموں کے اداکار انیل نیڈو منگڈ کیرالہ میں شوٹنگ کے دوران ڈیم میں ڈوب کر ہلاک ہوگئے-

    باغی ٹی وی : ملیالم فلموں کے اداکار انیل نیڈومنگڈ فلم کی شوٹنگ کے لیے تھوڈو پوزا میں تھے فلم میں مرکزی کردار جو جو جارج نبھار ہے ہیں۔

    بھارتی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق 48 سالہ انیل کا شمار فلم نگری کے باصلاحیت اداکاروں میں ہوتا تھا اور وہ کئی فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھا چکے ہیں۔

    انیل فلم کی شوٹنگ کیلئے کیرالہ کے علاقے تھوڈو پوزہ میں واقع ڈیم ملنکارا گئے تھے جہاں شوٹنگ کے بعد دوستوں کے ہمراہ نہانے گئے۔

    آنجہانی اداکار نہاتے ہوئے گہرے پانی میں چلے گئے اور پھر واپس نہ آسکے بعد ازاں دوستوں اور غوطہ خوروں کی مدد سے 30 منٹ بعد ان کی لاش نکالی گئی بعد ازاں ان کو قریبی اسپتال لے جایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے ان کی موت کی تصدیق کی۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق اداکار نے اپنے شوبز کیریئر کا آغاز تھیٹر سے کیا تاہم بعد میں ٹی وی اینکر بن گئے لیکن کچھ عرصہ بعد ہی وہ فلموں میں جلوہ گر ہوئے۔

  • پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 26 سال ہو گئے

    پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 26 سال ہو گئے

    پاکستان کی مقبول ترین شاعرات میں شامل ، عورتوں کے مخصوص جذبوں کو آواز دینے والی معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 26 سال گزر گئے-

    باغی ٹی وی : پروین شاکر 24 نومبر 1952 ء کو کراچی میں پیدا ہوئیں۔ان کا اصل وطن بہار کے ضلع دربھنگہ میں لہریا سراے تھا۔ان والد ،شاکر حسین ثاقب جو خود بھی شاعر تھے،قیام پاکستان کے بعد کراچی میں آباد ہو گئے تھے۔پروین کم عمری سے ہی شاعری کرنے لگی تھیں، اور اس میں ان کو اپنے والد کی حوصلہ افزائی حاصل تھی۔پروین نے میٹرک کا امتحان رضویہ گرلز اسکول کراچی سے اور بی اے سر سید گرلز کالج سے پاس کیا۔

    1972 میں انھوں نے انگریزی ادب میں کراچی یونیورسٹی سے ایم ۔اے کی ڈگری حاصل کی، اور پھر لسانیات میں بھی ایم۔ اے پاس کیا۔تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ عبداللہ گرلز کالج کراچی میں بطور ٹیچر ملازم ہو گئیں۔1976ء میں ان کی شادی خالہ کے بیٹے نصیر علی سے ہوئی جو ملٹری میں ڈاکٹر تھے۔یہ شادی پروین کی پسند سے ہوئی تھی، لیکن کامیاب نہیں رہی اور طلاق پر ختم ہوئی۔

    ڈاکر نصیر سے ان کا ایک بیٹا ہے۔کالج میں 9 سال تک پڑھانے کے بعد پروین نے پاکستان سول سروس کا امتحان پاس کیا اور انھیں 1982 میں سیکنڈ سکریٹری سنٹرل بورڈ آف ریوینئو مقرر کیا گیا۔بعد میں انھوں نے اسلام اباد میں ڈپٹی کلکٹر کے فرائض انجام دئے۔محض 25 سال کی عمر میں ان کا پہلا مجموعہ کلام "خوشبو” منظر عام پر آیا تو ادبی حلقوں میں دھوم مچ گئی۔انھیں اس مجموعہ پر آدم جی ایوارڈ سے نوازا گیا۔

    پروین کی شخصیت میں بلا کی خود اعتمادی تھی جو ان کی شاعری میں بھی جھلکتی ہے۔اسی کے سہارے انھوں نے زندگی میں ہر طرح کی مشکلات کا سامنا کیا۔

    18 سال کے عرصہ میں ان کے چار مجموعے خوشبو ،صدبرگ،خودکلامی اور انکار شائع ہوئے۔ان کی کلیات ماہ تمام 1994 ء میں منظر عام پر آئی۔ 1985 میں انھیں ڈاکٹر محمد اقبال ایوارڈ اور 1986 میں یو ایس آئی ایس ایوارڈ ملا۔اس کے علاوہ ان کو فیض احمد فیض انٹرنیشنل ایوارڈ اور ملک کے وقیع ایوارڈ "پرائڈ آف پرفارمنس” سے بھی نوازا گیا۔26 دسمبر 1994ء کو ایک کار حادثہ میں ان کا انتقال ہو گیا-

    پروین شاکر نئے لب و لہجہ کی تازہ بیان شاعرہ تھیں جنھوں نے مرد کے حوالہ سے عورت کے احساسات اور جذباتی مطالبا ت کی لطیف ترجمانی کی۔ان کی شاعری نہ تو آہ و زاری والی روائتی عشقیہ شاعری ہے اور نہ کُھل کھیلنے والی رومانی شاعری۔ جذبہ و احساس کی شدّت اور اس کا سادہ لیکن فنکارانہ بیان پروین شاکر کی شاعری کا خاصہ ہے۔

    ان کی شاعری ہجر و وصال کی کشاکش کی شاعری ہے جس میں نہ ہجر مکمل ہے اور نہ وصل۔جذبہ کی صداقت،رکھ رکھاؤ کی نفاست اور لفظیات کی لطافت کے ساتھ پروین شاکر نے اردو کی نسائی شاعری میں اک ممتاز مقام حاصل کیا۔بقول گوپی چند نارنگ نئی شاعری کا منظر نامہ پروین شاکر کے دستخط کے بغیر نامکمل ہے۔

    پروین شاکر خاتون شاعروں میں اپنے منفرد لب و لہجے اور عورتوں کے جذباتی اور نفسیاتی مسائل پیش کرنے کے باعث اردو شاعری کو اک نئی جہت دیتی نظر آتی ہیں۔ وہ بےباک لہجہ استعمال کرتی ہیں، اور انتہائی جرات کے ساتھ جبر و تشدد کے خلاف احتجاج کرتی نظر آتی ہیں۔ وہ اپنے جذبات و خیالات پر شرم و حیا کے پردے نہیں ڈالتیں ۔ان کے موضوعات محدود ہیں، اس کے باوجود قاری کو ان کی شاعری میں نغمگی،تجربات کی صداقت،اور خوشگوار تازہ بیانی ملتی ہے۔

    نمونہ کلام۔

    اپنی رسوائی ترے نام کا چرچا دیکھوں

    اک ذرا شعر کہوں اور میں کیا کیا دیکھوں

    نیند آ جائے تو کیا محفلیں برپا دیکھوں

    آنکھ کھل جائے تو تنہائی کا صحرا دیکھوں

    شام بھی ہو گئی دھندلا گئیں آنکھیں بھی مری

    بھولنے والے میں کب تک ترا رستا دیکھوں

    ایک اک کر کے مجھے چھوڑ گئیں سب سکھیاں

    آج میں خود کو تری یاد میں تنہا دیکھوں

    کاش صندل سے مری مانگ اجالے آ کر

    اتنے غیروں میں وہی ہاتھ جو اپنا دیکھوں

    تو مرا کچھ نہیں لگتا ہے مگر جان حیات

    جانے کیوں تیرے لیے دل کو دھڑکنا دیکھوں

    بند کر کے مری آنکھیں وہ شرارت سے ہنسے

    بوجھے جانے کا میں ہر روز تماشا دیکھوں

    سب ضدیں اس کی میں پوری کروں ہر بات سنوں

    ایک بچے کی طرح سے اسے ہنستا دیکھوں

    مجھ پہ چھا جائے وہ برسات کی خوشبو کی طرح

    انگ انگ اپنا اسی رت میں مہکتا دیکھوں

    پھول کی طرح مرے جسم کا ہر لب کھل جائے

    پنکھڑی پنکھڑی ان ہونٹوں کا سایا دیکھوں

    میں نے جس لمحے کو پوجا ہے اسے بس اک بار

    خواب بن کر تری آنکھوں میں اترتا دیکھوں

    تو مری طرح سے یکتا ہے مگر میرے حبیب

    جی میں آتا ہے کوئی اور بھی تجھ سا دیکھوں

    ٹوٹ جائیں کہ پگھل جائیں مرے کچے گھڑے

    تجھ کو میں دیکھوں کہ یہ آگ کا دریا دیکھوں

  • ڈرامہ ڈنک ان تمام متاثرین کو خراج تحسین ہے جو ہراسانی کے جھوٹے الزامات کا شکار ہوتے ہیں   فہد مصطفیٰ

    ڈرامہ ڈنک ان تمام متاثرین کو خراج تحسین ہے جو ہراسانی کے جھوٹے الزامات کا شکار ہوتے ہیں فہد مصطفیٰ

    سوشل میڈیا صارفین نے ریپ کے جھوٹے الزامات کا شکار ہونے والے افراد کو خراج تحسین پیش کرنے پر فہد مصطفیٰ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے

    باغی ٹی وی :فہد مصطفیٰ کا ایک انٹرویو کے دوران اپنے نئے ڈرامے ’ڈنک‘ کے بارے میں کہناتھا کہ 95 فیصد جنسی ہراسانی کے کیسز حقیقی ہوتے ہیں لیکن بعض اوقات لوگوں پر جھوٹے الزام عائد کیے جاتے ہیں لہذا ہمیں ہر طرح کی کہانی سنانی ہوگی۔ ڈرامہ سیریل ’ڈنک‘ کی کہانی جنسی طور پر ہراساں کرنے کے جھوٹے الزامات کے گرد گھومتی ہے۔

    فہد مصطفیٰ کا کہنا تھا کہ ڈراما سیریل ’ڈنک‘ ان تمام متاثرین کو خراج تحسین ہے جو ہراسانی کے جھوٹے الزامات کا شکار ہوتے ہیں۔ تاہم سوشل میڈیا صارفین فہد مصطفیٰ کی اس بات سے بالکل خوش نہیں ہیں اور انہوں نے ریپ کے ملزمان کو خراج تحسین پیش کرنے پر فہد مصطفیٰ کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا ہے کہ کس بات کا خراج تحسین؟ کیا ہراسانی کے واقعے میں ملوث ہونا ( چاہےجھوٹا الزام ہی سہی) کامیابی ہے؟


    https://twitter.com/BarneySendars/status/1342154040650698757?s=20
    ایک خاتون نے واضح طور پر فہد مصطفیٰ پر الزام لگاتے ہوئے کہا مجھے ایسا محسوس ہورہا ہے کہ جس آدمی نے یہ ڈراما بنایا ہے وہ خواتین کو ہراساں کرنے میں ملوث ہے اور اس بات سے خوفزدہ ہے کہ کہیں اس کا کیا اس کے سامنے نہ آجائے۔
    https://twitter.com/AamnaFasihi/status/1342088416863932416?s=20
    ایک خاتون نے لکھا کہ ہراساں کرنا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ ہراساں کرنے کے جعلی الزامات (جو اصل ہراساں کرنے کے مقابلے میں تقریبا نہ ہونے کے برابر ہیں)۔ واہ
    https://twitter.com/AssmaShahid/status/1342263201547890692?s=20
    اسمانامی خاتون نے طنز کرتے ہوئے کہا اس معاشرے میں جہاں 90 فیصد ہراسانی کے معاملات کو دبا یاجاتاہے وہ معاشرہ اب ہراسانی کے جھوٹے الزامات میں ملوث مردوں کو خراج تحسین پیش کرنے جارہا ہے۔
    https://twitter.com/karamel_cookie/status/1342141462490869766?s=20
    ایک صارف نے کہاجہاں 99 فیصد ہراسانی کے کیسز سچ ہوتے ہیں وہاں انہوں نے اس موضوع پر ڈراما بنانے کا انتخاب کیا۔ پاکستان ٹی وی انڈسٹری کبھی بھی ہمیں مایوس کرنے میں ناکام نہیں ہوتی۔
    https://twitter.com/randiirona/status/1342204547587051522?s=20
    ایک اور خاتون نے کہا ہاں ضرور خراج تحسین پیش کریں کیوکنہ ہر عورت جھوٹی اور پر مرد فرشتہ ہے جس پر صرف جھوٹے الزامات ہی لگائے جاتے ہیں۔ بیچارے مرد۔
    https://twitter.com/bzainab27/status/1342152546790600706?s=20
    زینب نامی خاتون نے کہا خراج تحسین؟ ہمارے تعلیمی اداروں میں روزانہ کی بنیاد پر متعدد خواتین کو ہراساں کیا جاتا ہے۔انہوں نے (ڈراما بنانے والوں نے) ان خواتین کو کمزور مخلوق جب کہ ہراسانی کے جھوٹے الزام کا شکار ہونے والے ملزم کو الگ ہی درجے پر بٹھادیا گیا۔

  • صنم جنگ بیٹی سمیت کورونا سے صحتیاب

    صنم جنگ بیٹی سمیت کورونا سے صحتیاب

    معروف اداکارہ و میزبان صنم جنگ بیٹی سمیت کورونا سے صحتیاب ہو گئیں ہیں-۔

    باغی ٹی وی : کورونا وائرس کی دوسری کی لہر کا شکار ہونے والی اداکارہ صنم جنگ نے فوٹو اینڈ ویڈیو شئیرنگ ایپ انسٹاگرام اکاؤنٹ پر بیٹی کے ہمراہ اپنی ایک خوبصورت تصویر شیئر کی ہے جس میں وہ دو نوں جھولے سے لطف اندوز ہوتی دکھائی دے رہی ہیں۔

    صنم جنگ نے مذکورہ تصویر کے کیپشن میں لکھا کہ الحمد اللہ میں اور میری بیٹی کورونا وائرس سے صحتیاب ہوگئے ہیں۔

    اداکارہ نے لکھا کہ میں اُن تمام لوگوں کی تہہ دل سے شکرگزار ہوں جنہوں نے میری بیٹی اور میری جلد صحتیابی کے لیے دُعائیں کیں میں اس پوسٹ کے ذریعے آپ سب کو بتانا چاہتی ہوں کہ اب ہم مکمل طور پر صحتیاب ہوچکے ہیں۔

    صنم جنگ نے لکھا کہ قرنطینہ کے دوران مجھے بہت سارے پیغامات اور فون آئے جس کے لیے ایک بار آپ سب کا شکریہ ادا کرتی ہوں جس طرح آپ مجھ سے محبت کرتے ہیں بالکل اُسی طرح میں بھی اپنے چاہنے والوں سے بہت محبت کرتی ہوں۔

    واضح رہے کہ گزشتہ دنوں صنم جنگ نے کورونا وائرس سے متاثر ہونے کی تصدیق اپنی انسٹاگرام اسٹوری کے ذریعے کی تھی۔

    اداکارہ نے انسٹاگرام اسٹوری میں لکھا تھا کہ میں اپنے تمام خیر خواہوں کو یہ بتانا چاہتی ہوں کہ میرا کورونا ٹیسٹ مثبت آیا ہے میں اور میری بیٹی مکمل طور پر قرنطینہ ہوگئے ہیں اور شکر گزار ہوں کہ کوئی شدید علامات موجود نہیں ہیں۔

    اداکارہ نے اپنی اسٹوری میں لوگوں کو بتایا تھا کہ وہ کورونا کی وبا کو مذاق نہ سمجھیں اور اس سے تحفظ کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کریں وہ فیس ماسک کا استعمال کریں بھیڑ میں جانے سے گریز کریں اور گھر تک ہی محدود رہیں تو اچھا ہے۔

    واضح رہے کہ کئی فنکار کورونا وائرس کا شکار ہو چکے ہیں جن میں مزاح نگار انور مقصود اداکارہ ماہرہ خان ،نیلم منیر، بہروز سبز واری،مریم نفیس،عامر لیاقت حسین اور ان کی اہلیہ طوبی عامر ،اداکار امیر گیلانی ،گلوکارجواد احمد ،عثمان مختار ، فروا علی کاظمی ،ماڈل صحیفہ جبار ، روبینہ اشرف ، اداکار یاسر نواز اور ان کی اہلیہ ندا یاسر ،واسع چوہدری اور دیگر شامل ہیں-

    صنم جنگ بیٹی سمیت کورونا وائرس کا شکار

  • سارہ خان کے والد انتقال کر گئے

    سارہ خان کے والد انتقال کر گئے

    پاکستان شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ سارہ خان کے والد انتقال کرگئے۔

    باغی ٹی وی : سوشل میڈیا ویب سائٹ انسٹاگرام پر سارہ خان کی شادی کی ایک یادگار تصویر گردش کر رہی ہے مذکورہ تصویر میں سارہ خان اور فلک شبیر اداکارہ کے والد کو بوسہ دیتے نظر آرہے ہیں۔

    انسٹاگرام پر تصویر شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ سارہ خان اور نور خان کے والد گزشتہ رات انتقال کرگئے۔

    سوشل میڈیا صارفین سارہ خان کے والد کی مغفرت کے لیے دُعا کر رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے سارہ خان سمیت اُن کے اہلخانہ کو اس مشکل گھڑی میں صبر و جمیل عطا کرنے کی دعائیں کر رہے ہیں-

    واضح رہے کہ رواں سال 17 جولائی کو اداکارہ سارہ خان اور نامور گلوکار فلک شبیر رشتۂ ازدواج میں منسلک ہوئے تھے اور سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے شوبز انڈسٹری کی اس جوڑی کو 2020ء کی بہترین جوڑی قرار دیا گیا تھا۔

  • لیلیٰ اور لیلیٰ کے بعد علی ظفر کے گیت ’الے‘ نے مقبولیت کے ریکارڈ قائم کر دیئے

    لیلیٰ اور لیلیٰ کے بعد علی ظفر کے گیت ’الے‘ نے مقبولیت کے ریکارڈ قائم کر دیئے

    پاکستان شوبز انڈسٹری کے عالمی شہرت یافتہ گلوکار علی ظفر کے حال ہی میں ریلیز ہونے والے سندھی گیت ’الے‘ نے مقبولیت کے ریکارڈ قائم کردیئے۔

    باغی ٹی وی :بلوچی گیت ’ لیلیٰ او لیلیٰ ‘ کے سپر ہٹ ہونے کے بعد علی ظفر نے گزشتہ ماہ سندھی زبان میں گایا ہوا گیت ’الے‘ ریلیز کیا تھا جسے کافی پسند کیا گیا۔

    دونوں گانوں میں علی ظفر کے ساتھ 13 سالہ عروج فاطمہ نے بھی گلوکاری کے جوہر دکھائے ہیں۔

    لیلیٰ او لیلیٰ کی مقبولیت کے بعد ’الے‘ کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ایک ماہ کے دوران اس گیت کو یوٹیوب پر ایک کروڑ سے زائد بار دیکھا جا چکا ہے جوکہ دیگر گیتوں کے مقابلے میں اس گیت کی بڑی کامیابی ہے۔

    دوسری جانب علی ظفر نے بھی اپنے گیت کی کامیابی پر ’اَلے‘ گیت کا پوسٹ بھی جاری کیا ہے میں گانے میں اُن کے ساتھ شامل فاطمہ عروج اور عابد بروہی بھی نظر آرہے ہیں۔