Baaghi TV

Category: شوبز

  • معاشرے کی سوچ کو بدلنے کے لئے ڈراموں اور فلموں کی کہانیاں بدلنے کی ضرورت ہے  ماہرہ خان

    معاشرے کی سوچ کو بدلنے کے لئے ڈراموں اور فلموں کی کہانیاں بدلنے کی ضرورت ہے ماہرہ خان

    عالمی شہرت یافتہ اداکارہ ماہرہ خان کا کہنا ہے کہ ہم صرف یہ نہیں دکھا سکتے کہ عورت پر ظلم ہورہا ہے۔ اورپھرعورت کو اس ہی شخص سے محبت ہوجائے اوراسی شخص کوہم ہیرو بھی دکھاتے ہیں ہمیں ایسے پروگرامز بنانے چاہیئں جس سے بچوں کی تربیت ہو لیکن ہم اس کے بارے میں کھل کربات کرنے کے لیتے بھی تیارنہیں۔

    باغی ٹی وی :پاکستان کی صف اول کی اداکارہ ماہرہ خان نے بی بی سی کوانٹرویودیتے ہوئے جنسی تشدد سے متعلق کہا کہ اس تشدد کے خلاف بہت سی آوازیں بلند ہوتی ہیں لوگ سڑکوں پرآتے ہیں لیکن پھریہ سب بھلادیا جاتا ہے، اس کے بعد پھرکوئی خبرآتی ہے، پھریہ ہی سب ہوتا ہے لیکن ہم اپنی عوام کو تربیت دینے کے لیے تیارنہیں ہیں۔ ہمیں ایسے پروگرامز بنانے چاہیئں جس سے بچوں کی تربیت ہو لیکن ہم اس کے بارے میں کھل کربات کرنے کے لیتے بھی تیارنہیں۔

    اداکارہ نے کہا کہ ہمارے ٹی وی سیریزاورفلموں میں موجود کہانی بدلنی چاہیئے۔ ہم صرف یہ نہیں دکھا سکتے کہ عورت پر ظلم ہورہا ہے۔ اورپھرعورت کو اس ہی شخص سے محبت ہوجائے اوراسی شخص کوہم ہیرو بھی دکھاتے ہیں۔ تشدد کرنے والا شخص ہیرو نہیں ہوسکتا۔ ہمیں کہانی بدلنے کی ضرورت ہے اوریہاں میں بھی ذمہ داری لیتی ہوں کیونکہ میں بھی میڈیا کا حصہ ہوں۔

    فنکاروں اور دستکاروں کو سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے صدر مملکت…

    اداکارہ نے مزید کہا کہ مجھ سے بہت سی رنگ گورا کرنے والی کریموں اورمصنوعات کے لیے رابطہ کیا گیا تھا لیکن مجھے لگتا ہے کہ ایسے پراڈکٹ کا حصہ بن کر میں ایک ایسے خیال کی توثیق کررہی ہوں کہ گہرے رنگ کی لڑکی لڑکا یا کوئی بھی اتنا خوبصورت یا پرکشش نہیں ہوتا جتنا ایک گورے رنگ کا حامل شخص خوبصرت ہوتا ہے۔دراصل مجھے کبھی یہ بات سمجھ نہیں آتی۔

    چڑیلزبنا کرہم نے یہ ثابت کیا کہ پاکستانی فنکاروں میں اچھا کام کرنے کی پوری صلاحیت ہے ثروت گیلانی

  • قمیض شلوار کے ساتھ ٹائی باندھنے والے آخری بزرگ

    قمیض شلوار کے ساتھ ٹائی باندھنے والے آخری بزرگ

    قمیض شلوار کے ساتھ ٹائی باندھنے والے آخری بزرگ اور 200 سے زیادہ ناولوں کے مصنف ایم اسلم نے اردو فکشن کے ایک لاکھ سے زیادہ صفحات لکھ کر ایک نیا ریکارڈ قائم کیا-

    باغی ٹی وی : میاں محمد اسلم 6 اگست 1885 کو لاہور میں پیدا ہوئے اور ساری عمر لاہور میں ہی رہے۔ 23 نومبر 1983 کو وفات پائی اور میانی صاحب میں آسودۂ خاک ہوئے۔

    ایم اسلم نے اپنی مرضی کی زندگی گزاری۔ شہری جائیداد کی وجہ سے فکرِ معاش تھی نہیں۔ بس گراموفون سنتے تھے اور ناول لکھتے تھے۔ شلوار قمیص پہنتے تھے، اوپر شوخ رنگ کی ٹائی باندھتے تھے۔ کہتے تھے یہ میرا شوق ہے۔

    مصنف ایم اسلم دوستوں کی خاطر تواضع بہت کرتے تھے لیکن دوست کھانے کے بعد ان سے ناول کا باب سننے سے خائف رہتے تھے۔ ایک بار شائد قتیل شفائی نے کہا ، میاں صاحب ، لوگ آپ کے بارے میں غلط بات کرتے ہیں،
    پوچھا ، کیا ؟
    قتیل نے کہا، کہ آپ زبردستی ناول سناتے ہیں، حالانکہ ایسی تو کوئی بات نہیں،
    میاں صاحب نے کہا ، ہاں ، ہاں
    اور یوں احباب اس روز ناول سننے سے محفوظ رہے !

    شلوار قمیض کے اوپر شوخ رنگ کی ٹائی باندھنا ایم اسلم کا شوق تھا ،ناول نگار اور مصنف ایم اسلم کی یادگار تصویر

    ایک بار کسی کے سوال پر ایم اسلم نے بتایا کہ انہیں ناول لکھنے کے لئے زیادہ غوروفکر کی ضرورت نہیں پڑتی ، بس کوئی گراموفون ریکارڈ لگا کر سنتے ہیں اور ناول کا پلاٹ ان کے ذہن میں آجا تا ہے۔

    عظیم مصنف ایم اسلم کے والد میاں نظام دین علامہ اقبال کے دوست تھے۔ ایم اسلم پہلے شاعری کرتے تھے، علامہ اقبال کو دکھائی تو انہوں نے مشورہ دیا کہ نثر لکھا کریں ۔ انہوں نے یہ مشورہ قبول کرکے ناول افسانے لکھنا شروع کئے اور اردو فکشن کے ایک لاکھ سے زیادہ صفحات لکھ کر ایک ریکارڈ قائم کرڈالا !

    جن میں ناظمہ کی آپ بیتی،عروسِ غربت، معرکۂ بدر،جوئے خون، پاسبانِ حرم، شمشیرِستم، بنتِ حرم، فتحِ مکہ، صبحِ احد، ابو جہل، غزالۂ صحرا ،فتنۂ تاتار ،خونِ شہیداں ، رقصِ ابلیس ، مرزا جی، گناہ کی راتیں ،جہنم ،حسنِ سوگوار ، خار و گل ،رقصِ زندگی ، راوی کے رومان ، درِ توبہ اور شامِ غریباں ایم اسلم کے مشہور ناول ہیں۔

    معروف ناول نگار فاروق خالد بتاتے ہیں ایم اسلم، مشہور مصوّر اُستاد اللہ بخش کے دوست تھے اور ان سے ملنے اکثر پُرانا مسلم ٹاون جایا کرتے تھے۔ ان کے کئی ناولوں کے سرورق بھی استاد نے ڈیزائن کیے۔ مَیں اُستاد اللہ بخش کا باقاعدہ شاگرد تھا۔ ان پر مَیں نے بڑی محبت سے ایک خاکہ لکھا ہے جو ” سویرا” لاہور کی تازہ اشاعت میں شامل ہے اور اس میں میاں ایم اسلم کا ذکر بھی ہے۔

    میاں یوسف صلاح الدین کی جس حویلی کا آج کل بہت چرچا ہے، وہ میاں ایم اسلم کی ہی تھی۔ ان کی اولاد نہیں تھی، اس لئے ان کی حویلی پہلے ان کے کزن میاں امیر الدین کو ملی. ان سے ان کے بیٹے اور علامہ اقبال کے داماد میاں صلاح الدین ( میاں صلی، جو ایم این اے بھی بنے ) کے حصے میں آئی اور پھر ورثے میں میاں یوسف صلاح الدین کے۔

    محترم منیب اقبال کے مطابق علامہ اقبال کی صاحبزادی منیرہ کا نکاح میاں صلاح الدین سے ہوا تو خاندان کے بزرگ کی حیثیت کی سے میاں اسلم نے نکاح نامے پر گواہ کے طور پر دستخط کئے۔

    ڈاکٹر انور سدید مرحوم کے صاحبزادے مسعود انور ایک یادگار واقعہ بتاتے ہیں کہ1976 میں ڈینٹل کالج کے قریب انکی رہائش گاہ کے سامنے سے ابا جی کے ساتھہ گزر رہا تھا۔ ایم اسلم باہر کھڑے تھے۔ اباجی بولے جلدی سے نکل چلو ۔ مگر اسلم صاحب کی نظر پڑ گئی اور آواز دے کر بلا لیا۔ چائے بسکٹ کے ساتھہ دو باب ناول کے سنے۔ ابا جی نے بتایا کہ انہوں نے فائلیں بنائی ہوئی ہیں۔ بارش کا منظر 20 صفحات۔ پہلی ملاقات 15 صفحات وغیرہ۔ ناول میں جیسا مقام آتا ھے فائل کھول کر صفحات فٹ کر دیتے ھیں۔

    ارشد نعیم صاحب نے یاد دلایا ہے کہ شاہد احمد دہلوی نے ایم اسلم کا شاندار خاکہ لکھا تھاجس سے ان کی شخصی عظمت کا اندازہ بھی ہوتا ہے اور ان کی عوامی مقبولیت کے راز کا بھی پتہ چلتا ہے.

  • اداکارہ مریم نفیس بھی کورونا وائرس کا شکار ہو گئیں

    اداکارہ مریم نفیس بھی کورونا وائرس کا شکار ہو گئیں

    پاکستان شوبز انڈسٹری کی اُبھرتی ہوئی اداکارہ مریم نفیس بھی کورونا وائرس کا شکار ہو گئیں ہیں-

    باغی ٹی وی : اس حوالے سے اداکارہ مریم نفیس نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ انسٹاگرام پر اپنی سیفلی پوسٹ کی ہے جو اُنہوں نے آئسولیشن کے دوران لی۔

    انسٹاگرام پر سیلفی پوسٹ کرتے ہوئے مریم نفیس نے کیپشن میں لکھا کہ میں آپ سب کو آئسولیشن سے سلام بھیج رہی ہوں کیونکہ بدقسمتی سے وہ بھی عالمی وبا کورونا وائرس کا شکار ہوگئی ہوں۔

    مریم نفیس نے کہا کہ مجھے کورونا وائرس کی علامات ظاہر ہوئیں جس کے بعد میں نے اپنا کورونا ٹیسٹ کروایا اور اُس کے نتائج مثبت آئے ہیں۔

    اداکارہ نے مداحوں سے دُعا کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ میری جلد صحت یابی کے لیے دُعا کریں۔

    اُنہوں نے لوگوں کو کورونا وائرس کی احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ براہِ کرم ماسک پہنیں، سماجی فاصلے کا خیال رکھیں، خود بھی محفوظ رہیں اور اپنے آس پاس کے لوگوں کو بھی اس وائرس سے بچائیں۔

    مریم نفیس کی پوسٹ پر بڑی تعداد میں مداحوں کی جانب سے اُن کے لیے دُعائیہ پیغامات بھیجنے کا سلسلہ جاری ہے۔

    عامر لیاقت حسین نے عالمی وبا کورونا وائرس کو شکست دے دی

    واضح رہے کہ اس سے قبل کئی فنکار کورونا وائرس کا شکار ہو چکے ہیں جن میں عامر لیاقت حسین اور ان کی اہلیہ طوبی عامر ،اداکار امیر گیلانی ،گلوکارجواد احمد ،عثمان مختار ، فروا علی کاظمی ،ماڈل صحیفہ جبار ، روبینہ اشرف ، اداکار یاسر نواز اور ان کی اہلیہ ندا یاسر ،واسع چوہدری اور دیگر شامل ہیں-

    واضح رہے کہ پاکستان میں کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد آج 28 نومبر کی دوپہر تک 3 لاکھ 92 ہزار 3سو 56ہو چکی ہے جبکہ اس موذی وبا سے جاں بحق افراد کی کُل تعداد 7 ہزار 942 تک جا پہنچی ہے۔

    عامر لیاقت حسین کورونا وائرس کے باعث طبیعت بگڑنے پر ہسپتال منتقل

    ڈاکٹرعامر لیاقت اہلیہ طوبیٰ عامر سمیت کرونا وائرس کا شکار

    ایک اوراداکار امیر گیلانی بھی کورونا وائرس کا شکار ہوگئے

    جواد احمد عالمی وبا کورونا وائرس کا شکار ہوگئے

    عثمان مختار کے بعد ماڈل فروا علی کاظمی بھی کورونا وائرس کا شکار

    عثمان مختار بھی عالگیر وبا کورونا وائرس میں مبتلا ہو گئے

    ماڈل صحیفہ جبار بھی کورونا وائرس کا شکار

  • چڑیلزبنا کرہم نے یہ ثابت کیا کہ پاکستانی فنکاروں میں اچھا کام کرنے کی پوری صلاحیت ہے   ثروت گیلانی

    چڑیلزبنا کرہم نے یہ ثابت کیا کہ پاکستانی فنکاروں میں اچھا کام کرنے کی پوری صلاحیت ہے ثروت گیلانی

    ٹی وی اداکارہ ثروت گیلانی کا کہنا ہے کہ ٹی وی ڈراموں میں بہوؤں پرتشدد دکھانے اور انہیں جلائے جانے پرتوتالیاں بجائی جاتی ہیں لیکن اگرمیاں بیوی محبت کا ظہارکررہے ہوں تویہ ہمارے عوام کے لیے ہضم کرنا مسئلہ ہے۔

    باغی ٹی وی :حال ہی میں ایک یوٹیوب چینل کو دیئے گئے انٹرویو میں ثروت گیلانی کا کہنا تھا کہ ساس بہو والے ڈراموں کی کہانیاں سب جھوٹ ہیں۔ جن لوگوں کی سوچ صحیح ہوتی ہے انہیں ایسے مسائل کا سامنا نہیں کرنا پڑتا اوروہ لوگ مل کررہ سکتے ہیں۔

    ثروت گیلانی کا اپنے فنی کیرئیر کی شروعات کے حوالے سے کہنا تھا کہ شوبزمیں کام کے حوالے سے خاندان کو راضی کرنا بہت مشکل تھا، میں سوچتی تھی کہ اگراچھا کام کرتی رہی تو وہ ایک دن خود ہی مان جائیں اورایسا ہی ہوا۔

    اداکارہ کا کہنا تھا کہ حکومت کو زیادتی، اغوا اور شہر کے بنیادی ڈھانچے جیسے کئی مسائل کے حل کے لئے اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے لیکن حکومت چیزوں پرپابندیاں لگانے اور چھوٹے موٹے معاملات میں ہی مصروف ہے میں سمجھتی ہوں کہ حکومت کو گھمبیر معاملات پر زیادہ سنجیدگی دکھانے کی ضرورت ہے۔

    پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری صرف تین افراد کے سینگوں پر کھڑی ہے محمد احمد

    ٹی وی ڈراموں میں کم کام کی وجہ بتاتے ہوئے ثروت گیلانی نے کہا کہ میری ترجیحات تبدیل ہوگئی ہیں میری والدہ اوربچے میری پہلی ترجیح ہیں اس کے علاوہ اسپیشل اولپمکس کی سفیرہونے کی وجہ سے مجھ پر کئی ذمہ داریاں ہیں، میرا زیادہ تروقت ان 2 چیزوں میں چلا جاتا ہے۔

    ثروت گیلانی نے ویب سیریز ’چڑیلز‘ کی پابندی لگائے جانے پر بھی بات کی ان کا کہنا تھا کہ ویب سیریز ’چڑیلز‘ پرپابندی سے مجھے بہت دکھ ہوا اپنے آپ کو ٹھیک کرنے کے لیے ہمیں حقیقت کا سامنا کرنا ہوگا-

    پاکستانی ڈراموں میں ان کہانیوں کو ہی دکھایا جاتا ہے جو معاشرے میں موجود ہوتی ہیں…

    ثروت گیلانی نے کہا کہ اگر ہم سچائی سے بھاگتے رہے تو خود کو ٹھیک کیسے کریں گے ٹی وی ڈراموں میں بہوؤں پرتشدد دکھانے اور انہیں جلائے جانے پرتوتالیاں بجائی جاتی ہیں لیکن اگرمیاں بیوی محبت کا ظہارکررہے ہوں تویہ ہمارے عوام کے لیے ہضم کرنا مسئلہ ہے۔ امید ہے ایک وقت آئے گا کہ انہیں یہ پیارمحبت بھی ہضم کرنا آجائے گا۔

    جب ٹیلی ویژن نہیں تھا اداکارائیں ٹی وی پر نہیں آتی تھیں تو کیا ریپ نہیں ہوتے تھے؟

    پاکستان میں چڑیلز بین کئے جانے پر ہدایتکار عاصم عباسی اور شائقین برہم

    چڑیلز کو پاکستان میں بین کر دیا گیا

    اداکارہ کا کہنا تھا کہ چڑیلزبنا کرہم نے یہ ثابت کیا کہ پاکستانی فنکاروں میں اچھا کام کرنے کی پوری صلاحیت ہے، ہم نے سوچا تھا کہ ویب سیریز دیکھنے والوں میں سے 80 فیصد تنقید اور20 فیصد تعریف کریں گے لیکن معاملہ اس کے الٹ ہوا زیادہ تر لوگوں نے اس کی تعریف کی اس کا مطلب یہ ہے کہ ساس بہو جیسی کہانیاں پرانی ہوگئیں لوگوں کواب نیا چاہیے۔

    پاکستان میں بھارتی اسٹریمنگ ویب سائٹ زی فائیوسمیت دیگر بھارتی مواد کی سبسکرپشن…

    پاکستان کی پہلی اوریجنل ویب سیریز ’چڑیلز‘ پر پاکستان میں عائد پابندی ختم

    ویب سیریز چڑیلز کو پاکستان میں بین کرنے پر شوبز شخصیات کا سخت رد عمل

  • علی ظفر کا سندھی گیت ’الے‘ ریلیز ہوتے ہی مقبول

    علی ظفر کا سندھی گیت ’الے‘ ریلیز ہوتے ہی مقبول

    پاکستان شوبز انڈسٹری کے عالمی شہرت یافتہ گلوکار واداکار علی ظفر نے اپنا نیا گیت ’الے‘ ریلیز کردیا ہے جسے سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے کافی پسند کیا جا رہا ہے۔

    باغی ٹی وی : بلوچستان سے تعلق رکھنے والی کم عمر 13 سالہ گلوکارہ عروج فاطمہ نے گزشتہ سال علی ظفر کے ساتھ گلوکاری کی خواہش کا اظہار کیا تھا جس پر گلوکار نے مداح کی خواہش کا خیر مقدم کرتے ہوئے عروج کے ساتھ بلوچی گیت ’لیلا او لیلا‘ بنایا تھا۔

    علی ظفر اور عروج فاطمہ کے اس گیت کو شائقین کی جانب سے اتنا پسند کیا گیا کہ گیت نے مقبولیت کے ریکارڈ اپنے نام کرلئے یوٹیوب پر اب تک اس ویڈیو کو 2 کروڑ 73 لاکھ 59 ہزار 3سو سے زائد بار دیکھا جا چکا ہے اسی مقبولیت کے پیش نظر گلوکار نے اپنی مداح کے ساتھ ایک اور گیت ’الے‘ ریلیز کردیا ہے جس میں سندھی ثقافت کو اجاگر کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

    علی ظفر نے سندھی گیت کا پرومو جاری کر دیا

    علی ظفر کی جانب سے یوٹیوب پر ویڈیو کے ساتھ یہ بھی لکھا گیا کہ میں یہ گیت سندھی بھائیوں اور بہنوں کے نام کرتا ہوں اور میرا یہ گیت اجرک بنانے والے اُن ہنر مندوں کا قرض بے باک کرنے کے لئے بھی ہے جنہوں نے سندھی تہذیب کو پوری دنیا میں روشناس کرایا۔

    ریلیز کردہ سندھی گیت میں فاطمہ کے ساتھ یڈیو میں ہپ ہاپ ریپر عابد بروہی نے بھی گلوکاری کے فن دکھائیں ہیں۔ ’الے‘ گیت کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ 3 منٹ 50 سیکنڈ کی ویڈیو کو محض دو گھنٹے میں 41 ہزار 7 سوسے زائد بار دیکھا جا چکا ہے۔

    فنکاروں اور دستکاروں کو سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے صدر مملکت…

  • اسکاٹ لینڈ خواتین کو مخصوص ایام میں استعمال ہونے والی اشیا مفت فراہم کرنے والا پہلا ملک بن گیا

    اسکاٹ لینڈ خواتین کو مخصوص ایام میں استعمال ہونے والی اشیا مفت فراہم کرنے والا پہلا ملک بن گیا

    برطانیہ میں واقع اسکاٹ لینڈ کی پارلیمنٹ نے ملک بھر کی خواتین کو مخصوص ایام میں استعمال ہونے والی ہر طرح کی اشیا مفت فراہم کرنے کا بل منظور کرلیا اور وہ "غربت” کے خلاف ایسا قدم اٹھانے والی دنیا کی پہلی قوم بن گئی ہے۔

    باغی ٹی وی : خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق اسکاٹ لینڈ کے پارلیمنٹ نے 24 نومبر کو ’دی پیرڈ پراڈکٹس اسکاٹ لینڈ بل‘ کو کثرت رائے سے منظور کرلیا۔

    پیرڈ پروڈکٹ (مفت فراہمی) اسکاٹ لینڈ بل متفقہ طور پر منظور ہوا ، اور اسکاٹ لینڈ کے پہلے وزیر نکولا اسٹارجن نے اسے "خواتین اور لڑکیوں کے لئے ایک اہم پالیسی” قرار دیا۔

    اس سے قبل رواں برس فروری میں بھی مذکورہ بل کو پارلیمنٹ میں قانون سازی کے لیے منظور کرلیا گیا تھا، جس کے بعد اس پر پارلیمنٹ میں بحث شروع ہوئی۔

    مذکورہ بل کو قانون میں تبدیل کرنے کے لیے اسکاٹ لینڈ کی پارلیمنٹ میں اس پر 4 مراحل میں بحث کی گئی اور آخری مرحلے کی بحث کا اختتام 24 نومبر کو بل کی منظوری کے ساتھ ہوا۔

    بل منظور ہوجانے کے بعد اب اسکاٹ لینڈ دنیا کا وہ پہلا ملک بن گیا جہاں تمام عمر کی خواتین کو مخصوص ایام کے دوران ضرورت میں آنے والی تمام چیزیں مفت فراہم کی جائیں گی۔

    بحث کے دوران ، بل کے تجویز کنندہ ، سکاٹش لیبر کی رکن پارلیمنٹ مونیکا لینن ، نے کہا: "کسی کو بھی اس کے بارے میں فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے کہ ان کا اگلا ٹیمپون ، پیڈ یا دوبارہ پریوست آ رہا ہے۔

    انہوں نے کہا ، "اسکاٹ لینڈ تاریخ میں غربت میں مبتلا ہونے والا آخری ملک نہیں ہوگا ، لیکن ہمارے پاس پہلی بار ہونے کا موقع ہے۔”

    خواتین کے حیض میں استعمال ہونے والی ہر طرح کی چیزوں کی مفت فراہمی کے لیے حکومت سرکاری دفاتر، عمارتوں اور اہم اسٹورز پر ان کی مفت فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔

    تقریبا 55 لاکھ کی آبادی والا اسکاٹ لینڈ اس وقت دنیا کا وہ واحد ملک بھی ہے جہاں اسکول و کالجز کی طالبات کو حیض کے دوران استعمال ہونے والی تمام اشیا مفت فراہم کر رہا ہے۔

    2018 میں ، اسکاٹ لینڈ پہلا ملک بن گیا تھا جس نے اسکولوں ، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں مفت سینیٹری کی مصنوعات فراہم کیں۔

    علاوہ ازیں اسکاٹ لینڈ میں نجی ریسٹورانٹس، ڈانس و نائٹ کلبز، بڑے شاپنگ مالز، اسپورٹس و فٹنیس کلبز سمیت کئی طرح کے ادارے اپنے دفاتر میں خواتین کی واش رومز میں حیض کے استعمال کی اشیا کی مفت فراہمی بھی کر رہے ہیں۔

    حکومتی اندازوں کے مطابق خواتین کو اشیا کی مفت فراہمی کے بعد حکومت پر سالانہ تقریبا 3 کروڑ 20 لاکھ امریکی ڈالر یعنی پاکستانی تقریبا 4 ارب روپے تک کے اخراجات آئیں گے۔

    چھاتی کے کینسر سے آگاہی کے حوالہ سے اقدامات کی ضرورت ہے بیگم ثمینہ علوی

    نئے قانون کے مطابق خواتین ضرورت کے مطابق اپنے خصوصی ایام کے موقع پر اپنی من پسند چیز کو مفت حاصل کر سکیں گی اور خواتین کو ’پیڈز کے علاوہ ٹاول اور ٹیمپون‘ بھی مفت مل سکیں گے۔

    ٹیمپون ایک خاص طرح کا آلہ ہے جسے خواتین ’پیڈز‘ کے متبادل کے طور پر استعمال کرتی ہیں۔

    اسکاٹ لینڈ میں خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی بعض تنظیموں کے مطابق وہاں ہر خاتون حیض کی اشیا پر ماہانہ 13 پاؤنڈ یعنی پاکستانی تقریبا ڈھائی ہزار روپے خرچ کرتی ہے۔

    فلاحی تنظیموں کے مطابق بھاری اخراجات کے باعث اسکاٹ لینڈ کی کئی خواتین ایام خصوصی کے موقع پر استعمال ہونے والی اشیا نہیں خرید سکتیں، جس وجہ سے ان کی صحت متاثر ہوتی ہے۔

    برطانیہ میں سینیٹری پروڈکٹ پر 5٪ ٹیکس عائد کیا جاتا ہے ، جو عہدے داروں نے یورپی یونین (EU) کے قوانین پر الزام عائد کیا ہے جس سے بعض مصنوعات پر ٹیکس کی شرح مقرر کی جاتی ہے۔

    اب جب برطانیہ نے یورپی یونین چھوڑ دیا ہے ، برطانوی وزیر خزانہ رشی سنک نے کہا ہے کہ وہ جنوری 2021 میں "ٹیمپون ٹیکس” کو ختم کردیں گے۔

    جرائم پیشہ افراد کس طرح خواتین کو اپنے جال میں پھنساتے ہیں ایسے لوگوں سے کیسے…

  • بالی وڈ کی سابقہ اداکارہ ثناء خان کی مہندی کی تقریب کی تصاویر وائرل

    بالی وڈ کی سابقہ اداکارہ ثناء خان کی مہندی کی تقریب کی تصاویر وائرل

    گزشتہ ماہ اسلام کی خاطر بالی وڈ سے کنارہ کشی اختیار کرنے والی سابقہ بھارتی اداکارہ ثناء خان نے سوشل میڈیا پر اپنی مہندی کی تقریب کی تصاویر شیئر کردی ہیں۔

    باغی ٹی وی :حال ہی میں بھارتی ریاست گجرات سے تعلق رکھنے والے مفتی انس نامی شخص سے شادی کرنے والی سابقہ بھارتی اداکارہ ثناء خان نے انسٹاگرام پر اپنی مہندی کی تقریب کی تصویریں اور ویڈیو پوسٹ کی ہیں۔

    ثناء خان کی جانب سے پوسٹ کی گئی تصویروں میں اُن کے دونوں ہاتھوں پر لگی خوبصورت مہندی کو دیکھاجاسکتا ہے جبکہ اُنہوں نے گلابی اور نارنجی رنگ کا حسین جوڑا زیب تن کیا ہوا ہے اور دلکش لگ رہی ہیں-

    بالی وڈ کی سابقہ اداکارہ ثناخان نے انسٹاگرام پر اپنا نام تبدیل کر لیا

    سابقہ بھارتی اداکارہ کی ایک تصویر میں دیکھاجاسکتا ہے کہ وہ اپنے کمرے میں موجود ہیں اور دیوار پر ‫لَآ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ کی ایک تحریر لگی ہوئی ہے۔

    کچھ تصاویر میں اپنے دونوں ہاتھوں میں مہندی لگا کر ثنا خان زبردست انداز میں پوز دیتی نظر آرہی ہیں

    اسلام کی خاطر شوبز چھوڑنے والی بھارتی اداکارہ ثنا خان شادی کے بندھن میں بندھ گئیں

    ثناء خان نے تصویریں پوسٹ کرتے ہوئے کیپشن میں صرف ایک لفظ لکھا ’مہندی۔‘

    اس کے علاوہ ثناء خان نے انسٹاگرام پر ایک بوم رینگ ویڈیو بھی پوسٹ کی ہے جس میں وہ مہندی والے ہاتھوں سے اپنے چہرے کو چُھپاتی نظر آرہی ہیں۔

    اُنہوں نے اس پوسٹ کے کیپشن میں بھی ’مہندی‘ لکھا-

    اداکارہ نے مہندی لگے اپنے ہاتھوں اور پاؤں کی تصاویر شئیر کیں اور لکھا کہ اگر میرا عشق اتنا پکا نہ ہوتا تو میری مہندی کا رنگ اتنا گہرا نہ ہوتا-

    یاد رہے کہ بالی ووڈ کی سابقہ اداکارہ ثناء خان نے حال ہی میں بھارتی ریاست گجرات سے تعلق رکھنے والے مفتی انس نامی شخص سے شادی کی ہے۔

    بالی وڈ کی سابقہ اداکارہ ثنا خان کے لیے شوہر مفتی انس سید کا محبت بھرا پیغام

  • مذہب کی خاطر شوبز انڈسٹری سے کنارہ کشی اختیار کرنے والی بھارتی شخصیات

    مذہب کی خاطر شوبز انڈسٹری سے کنارہ کشی اختیار کرنے والی بھارتی شخصیات

    بھارتی فلم انڈسٹری سے تعلق رکھنے والی شخصیات جو بالی وڈ میں نام کمانے میں کامیاب رہیں لیکن مذہبی تعلیمات سے متاثر ہوکر روحانیت کی طرف بڑھ گئے تھے۔

    باغی ٹی وی : مذہب کی خاطر شوبز انڈسٹری سے کنارہ کشی اختیار کرنے والی شخصیات میں یہ اداکار شامل ہیں-

    زائرہ وسیم: 2016 میں ریلیز ہونے والی سُپر ہٹ بالی وڈ فلم دنگل میں مرکزی کردار ادا کرنے والی زائرہ وسیم نے محض 18 برس کی عمر میں اپنی زندگی کا اہم فیصلہ کیا۔

    زائرہ وسیم
    اپنی ایک فیس بک پوسٹ میں فلمیں چھوڑنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اس پیشے کی وجہ سے ’دین کے ساتھ ان کا رشتہ خطرے میں پڑ رہا تھاانہوں نے لکھا تھا کہ میرے بالی ووڈ میں 5 برس مکمل ہوگئے ہیں اور اس موقع پر میں اعتراف کرنا چاہتی ہوں کہ میں اپنے کام سے ملنے والی شناخت پر خوش نہیں، طویل عرصے سے مجھے لگ رہا تھا کہ میں کوئی اور شخصیت بننے کی جدوجہد کررہی ہوں، میں نے اب ان چیزوں کو کھوجنا اور محسوس کرنا شروع کیا ہے جن کے لیے میں اپنا وقت، کوششیں اور جذبات مختص کرنا چاہتی ہوں اور ایک نئے طرز زندگی کو برقرار رکھنے کی کوشش کررہی ہوں-

    گزشتہ دنوں زائرہ وسیم نے مداحوں سے گزارش کی ہے کہ تمام فین پیج سے ان کی تصویریں ڈیلیٹ کردی جائیں-

    ثنا خان : ثنا خان بھارت کے ٹی وی پروگرام ‘بگ باس’ میں شرکت سے شہرت پانے والی اداکارہ ثنا خان نے اداکاری چھوڑنے کا اعلان کیا سوشل میڈیا پلیٹ فارم انسٹاگرام پر ایک پوسٹ میں ثنا خان نے لکھا کہ وہ انسانیت کی خدمت اور اپنے خالق کے حکم کی پیروی کرنا چاہتی ہیں۔ اسی لیے شوبز کو خیر باد کہہ رہی ہیں۔

    اداکارہ کچھ ہی دن پہلے مفتی محمد انس کے ساتھ شادی کے رشتے میں منسلک ہوگئی ہیں-

    ممتا کلکرنی
    ممتا کلکرنی: بالی وڈ کی ماضی کی مشہور اداکارہ ممتا کلکرنی نے ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ وہ سنت چیتنیا گگن گری ناتھ کی رہنمائی میں ہیں اور سنیاسن بن گئی ہیں-

    ونود کھنہ: 70 کی دہائی میں ہاتھ کی صفائی، خون پسینہ اور امر اکبر اینتھونی جیسی فلموں میں کام کرنے کے بعد، 1980 میں ان کی سُپر ہِٹ فلمیں ’دی برنِنگ ٹرین‘ اور قربانی ریلیز ہو چکی تھیں، کئی دوسری فلموں کے لیے شوٹِنگ بھی جاری تھی۔

    اس سب کے دوران ان کا اپنے گورو رجنیش سے، جنہیں بعد میں اوشو کہا جانے لگا، گہرا تعلق تھا۔ 1980 میں جب ان کے پونے کے آشرم میں مسئلہ ہوا اور انہوں نے امریکا جانے کا فیصلہ کیا تو ونود کھنا سب کچھ چھوڑ کر ان کے ساتھ ہو لیے۔

    ونود کھنہ
    جانے سے پہلے انہوں نے غیر معمولی طور پر ایک پریس کانفرنس بلائی جس میں انہوں نے کہا کہ وہ فلمیں چھوڑ کر اپنے دل کی آواز سننا چاہتے ہیں۔ اس پریس کانفرنس میں ان کے ساتھ ان کی بیوی اور دو چھوٹے بچے بھی تھے ونود کھنا کا اوشو دور تقریباً 5 سال چلا، جس کے بعد وہ بالی ووڈ واپس آگئے۔

    اپنے طویل بولی ووڈ کیریئر میں ونود کھنہ 100 سے زائد فلموں میں کام کرچکے تھے، وہ بھارتی پنجاب سے بھارتی جنتہ پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے لوک سبھا کے رکن منتخب ہوئے تھےکینسر کے مرض میں مبتلا ونود کھنہ 70 برس کی عمر میں اپریل 2017 میں انتقال کرگئے۔

    صوفیہ حیات: صوفیہ حیات بھی گلوکارہ، اداکارہ اور ٹی وی کی معروف مقبول شخصیت تھیں مگر رشتے میں استحصال کے سبب انہوں نے نن بننے کا فیصلہ کیا تھا-

    صوفیہ حیات
    انو اگروال: بالی وڈ کی شہرہ آفاق فلم ’عاشقی‘ کے بعد راتوں رات اسٹار بننے والی انو اگروال ایک کے بعد ایک فلاپ فلم میں جلوہ گر ہونے کے باعث وہ ریس میں کافی پیچھے رہ گئیں، وہ 1999 میں ایک خوفناک حادثے کے بعد مفلوج ہوگئی تھیں۔مسلسل فلموں کی ناکامی کے بعد انہوں نے 6 سال بعد ہی فلمی دنیا سے کنارہ کشی اختیار کرلی تھی۔

    انواگروال
    29 دن تک کومہ کی حالت میں زندگی اور موت کی کشمکش میں رہنے کے بعد اداکارہ موت کو شکست دیتے ہوئے ایک بار پھر زندگی کی طرف لوٹ آئیں لیکن انہوں نے فلمی دنیا سے بالکل کنارہ کشی اختیار کرتے ہوئے یوگا کی تربیت کے لیے اسکول قائم کیا اور مذہبی تعلیمات پر توجہ دی۔

    برکھا مدان: مس انڈیا فائنلسٹ رہ چکیں برکھا مدان نے ماڈلنگ کے ساتھ کچھ ہندی اور پنجابی 1994 فلموں میں کام کیا۔ اکشے کمار کی فلم کھلاڑیوں کا کھلاڑی میں برکھا ایک کردار میں نظر آئی تھیں بودھ مذہب سے متاثر ہوکر 2012 میں برکھا نے اسے اپنی زندگی کا مقصد بنالیا اور گلیمر انڈسٹری کو الوداع کہہ دیا۔

    برکھامدان
    وجے آنند: پیار تو ہونا ہی تھا‘ فلم میں کاجول کے بوائے فرینڈ کے کردار میں دکھے راہل یعنی بیج آنند نے کم وقت میں ہی سنیما کی دنیا کو چھوڑ دیا کر وجے آنند نے روحانی کا راستہ اپنا لیا تھا اور سنیاسی کی طرح جینے لگے تھے۔

  • عامر خان کی بیٹی ایرا خان کی فٹنس کوچ کے ساتھ وائرل تصاویر نے صارفین کو کشمکش میں ڈال دیا

    عامر خان کی بیٹی ایرا خان کی فٹنس کوچ کے ساتھ وائرل تصاویر نے صارفین کو کشمکش میں ڈال دیا

    بالی وڈ سُپر اسٹار عامر خان کی بیٹی ایرا خان کی فٹنس کوچ کے ساتھ تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد مداحوں کی جانب سے قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ ایرا خان فٹنس کوچ کو ڈیٹ کر رہی ہیں-

    باغی ٹی وی : گزشتہ سال مسٹر پرفیکشنسٹ کی بیٹی ایرا خان کی تصاویر اور ویڈیوز ایکس بوائے فرینڈ مشال کرپلانی کے ساتھ کافی وائرل ہوئی تھیں لیکن پھر دونوں کا بریک اپ ہوگیا ۔ تاہم اب سوشل میڈیا پر وائرل نوپور شیکھر کے ساتھ ایرا کی تصویریں اشارہ کررہی ہیں وہ دوبارہ دل دے بیٹھی ہیں-

    بالی وڈ اداکار عامر خان کی بیٹی ایرا خان سوشل میڈیا پر کافی سرگرم رہتی ہیں گزشتہ دنوں اپنے ڈپریشن کو لے کر بات کرنے والی ایرا خان کے بارے میں خبریں گردش میں ہیں کہ وہ ان دنوں فٹنس کوچ نوپور شیکھر کو ڈیٹ کررہی ہیں ۔

    فٹنس کوچ نوپور نے سوشل میڈیا ویب سائٹ انسٹاگرام پر ایرا خان کے ساتھ لی گئی ایک تصویر شئیر کی جس میں دونوں خوشگوار موڈ میں ایک ساتھ کھڑے ہیں –

    عامر خان کی بیٹی ایرا خان بھی گزشتہ 4 سال سے ڈپریشن کا شکار

    نوپور نے انسٹاگرام پر تصاویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ کیونکہ ہم دونوں کو تیار ہونا پسند ہے اور مسکرانا بھی ۔

    نوپور کی پوسٹ پرایرا خان نے ردعمل دیتے ہوئے لکھا کہ ہاں ، یہ تو بات ہے ہم دونوں کے ساتھ ۔ مانتی ہوں میں

    نوپور کی جانب سے شئیر کی جانے والی اس تصویر کو دیکھ کر مداحوں کی جانب سے قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں ایرا خان فٹنس کوچ نوپور شیکھر کو ڈیٹ کررہی ہیں ۔

    انتہائی کم عمری میں اپنے ہی رشتہ داروں نے جنسی ہراسانی کا نشانہ بنایا عامر خان کی بیٹی کا انکشاف

    ایرا خان اور فٹنس کوچ نوپور شیکھر کے رشتے کے بارے میں خبریں گردش کررہی ہیں کہ دونوں لاک ڈاون کے دوران قریب آئے ہیں رپورٹ کے مطابق دونوں کی نزدیکیاں اس وقت بڑھیں جب ایرا خان نے فٹنس کی جانب رخ کیا ۔ حال ہی میں ایرا اور نوپور چھٹیوں پر مہابلیشور خان فارم ہاوس پہنچے تھے ۔

    رپورٹ کے مطابق دونوں نے ایک دوسرے کی والدہ سے بھی ملاقات کرلی ہے ۔ دونوں اپنے ریلیشن شپ کو لے کر کافی سنجیدہ ہیں حالانکہ اس معاملہ میں ابھی تک نہ تو عامر خان کی طرف سے کوئی ردعمل سامنے آیا ہے اور نہ ہی ایرا خان کی ماں رینا دتہ نے کوئی بیان دیا ہے تاہم نوپور کی ماں کی پوسٹ پر ایرا خان کمنٹ کرتی رہتی ہیں ۔

    عامر خان کی ڈپریشن کا شکار بیٹی ارا خان کو نصیحت

     

    واضح رہے کہ اِرا خان نے 10 اکتوبر کو عالمی یوم ذہنی صحت کے موقع پر ایک ویڈیو شیئر کی تھی اور اپنی ذہنی صحت کے حوالے سے اپنی جانب سے کی جانے والی جنگ کے بارے میں بتایا تھا اور انکشاف کیا تھا کہ وہ چار برس قبل شدید ذہنی دباؤ اور ڈپریشن میں مبتلا تھیں۔

    ایرا خان نے اپنی ویڈیو میں انکشاف کیا کہ جب وہ محض 14 سال کی تھیں تو ان کے قریبی رشتہ داروں نے انہیں جنسی طور پر ہراساں کیا لیکن اس وقت کم عمری کی وجہ سے وہ اس استحصال کو سمجھ نہیں پائی تھیں۔

    ایرا خان کے مطابق جن رشتے داروں نے ان کا استحصال کیا انہیں بخوبی علم تھا کہ وہ ان کے ساتھ کیا کر رہے ہیں لیکن انہیں ان کی نیت اور عمل کو سمجھنے میں دیر لگی۔

    انہوں نے بتایا تھا کہ جب انہیں دیر سے سمجھ آگئی تو وہ اپنے رشتہ داروں سے دور ہوگئیں اور اس واقعے کو بھول گئیں لیکن خود سے سوال کرتی رہیں کہ انہوں نے رشتے داروں کو ایسا کیوں کرنے دیا؟

  • عطااللہ خان عیسیٰ خیلوی نے ایک بار پھر موت سے متعلق خبروں کی تردید کر دی

    عطااللہ خان عیسیٰ خیلوی نے ایک بار پھر موت سے متعلق خبروں کی تردید کر دی

    پاکستان میوزک انڈسٹری کے لیجنڈ گلوکار عطااللٰہ خان عیسیٰ خیلوی کی موت کے بارے میں ایک بار پھر گردش میں ہیں خبروائرل ہونے کے بعد گلوکار نے موت سے متعلق افواہوں کی تردید کی ہے-

    باغی ٹی وی :اپنی موت سے متعلق جھوٹی خبریں وائرل ہونے کے بعد عطااللہ خان عیسیٰ خیلوی نے اپنے فیس بک پر وضاحتی پوسٹ شیئر کرتے ہوئے اپنی موت کے حوالے سے تمام خبروں کو بے بنیاد قرار دیا۔

    69 سالہ عطااللہ خان عیسیٰ خیلوی نے لکھا کہ میرے بارے میں ایک بار پھر خبریں گردش میں ہیں ساتھ ہی انہوں نے وضاحت کی کہ اللہ کا شکر ہے کہ آپ سب کی دعاؤں سے میں بالکل ٹھیک ہوں-

    خیال رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ عطااللّٰہ خان عیسیٰ کو اپنی زندگی سے متعلق پھیلنے والی جھوٹی خبروں پر وضاحت کرنی پڑی ہو اس سے قبل بھی انہوں نے یا ان کے اہل خانہ نے ایسی ہی جھوٹی خبروں پر وضاحتی کی تھیں۔

    اگست 1951 میں میانوالی میں پیدا ہونے والے گلوکار عطا اللہ خان عیسیٰ 2018 کے بعد مختلف اوقات میں کچھ بیماریوں کے باعث مختصر وقت کے لیے ہسپتال میں زیر علاج بھی رہے اور اسی دوران ہی ان کے حوالے سے غلط خبریں وائرل ہوئیں۔