آئی سی سی ویمنز ٹی20 ورلڈ کپ 2026 کے اہم مقابلے میں بھارت نے پاکستان کو 64 رنز سے شکست دے کر ٹورنامنٹ کا فاتحانہ آغاز کیا۔ برمنگھم میں کھیلے گئے میچ میں بھارتی ٹیم نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ 20 اوورز میں 6 وکٹوں کے نقصان پر 170 رنز بنائے، جس کے جواب میں پاکستانی ٹیم 17 اوورز میں 106 رنز پر ڈھیر ہوگئی۔
بھارتی کپتان ہرمن پریت کور نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا جو ان کی ٹیم کے لیے سودمند ثابت ہوا۔ بھارت کی جانب سے اوپنر اسمرتی مندھانا نے شاندار بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے 68 رنز اسکور کیے جبکہ کپتان ہرمن پریت کور نے 36 رنز کی اہم اننگز کھیلی۔ دونوں بلے بازوں نے پاکستانی بولرز پر دباؤ برقرار رکھا اور ٹیم کو مضبوط مجموعے تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔
پاکستان کی جانب سے کپتان فاطمہ ثنا اور سعدیہ اقبال نے دو، دو وکٹیں حاصل کیں، تاہم بھارتی بیٹنگ لائن کو بڑا اسکور بنانے سے نہ روک سکیں۔
171 رنز کے ہدف کے تعاقب میں پاکستانی ٹیم کا آغاز اچھا نہ رہا اور وکٹیں وقفے وقفے سے گرتی رہیں۔ منیبہ علی نے مزاحمت کرتے ہوئے 41 رنز بنائے اور ٹیم کی جانب سے نمایاں بیٹر رہیں، لیکن دیگر کھلاڑی ان کا ساتھ نہ دے سکیں۔ نتیجتاً پوری ٹیم 17 اوورز میں 106 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئی۔
بھارت کی جانب سے دیپتی شرما نے تباہ کن بولنگ کا مظاہرہ کیا اور پانچ وکٹیں حاصل کر کے پاکستانی بیٹنگ لائن کو تہس نہس کر دیا۔ ان کی شاندار کارکردگی پر انہیں میچ کی بہترین کھلاڑی (پلیئر آف دی میچ) قرار دیا گیا۔
اس فتح کے ساتھ بھارت نے ٹورنامنٹ میں اہم دو پوائنٹس حاصل کر لیے جبکہ پاکستان کو اپنے اگلے میچ میں واپسی کے لیے بہتر کارکردگی دکھانا ہوگی۔ شائقین کرکٹ کو دونوں روایتی حریفوں کے درمیان ایک دلچسپ مقابلے کی امید تھی، تاہم بھارتی ٹیم نے کھیل کے تینوں شعبوں میں برتری ثابت کرتے ہوئے یکطرفہ کامیابی حاصل کی۔
Category: کھیل
-

ویمنز ٹی20 ورلڈ کپ: بھارت نے پاکستان کو 64 رنز سے شکست دے دی
-

ویمنز ٹی20 ورلڈ کپ: بھارت نے پاکستان کیخلاف ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ کرلیا
آئی سی سی ویمنز ٹی20 ورلڈ کپ 2026 کے سب سے بڑے اور سنسنی خیز مقابلے میں بھارت نے پاکستان کے خلاف ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ شائقین کرکٹ کی نظریں روایتی حریفوں کے اس ہائی وولٹیج مقابلے پر مرکوز ہیں، جہاں دونوں ٹیمیں ٹورنامنٹ کا فاتحانہ آغاز کرنے کے عزم کے ساتھ میدان میں اتری ہیں۔
ٹاس کے موقع پر بھارتی کپتان ہرمن پریت کور نے کہا کہ وکٹ بیٹنگ کے لیے سازگار دکھائی دے رہی ہے، اسی لیے پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ ورلڈ کپ کی کارکردگی نے ٹیم کا اعتماد بڑھایا ہے اور کھلاڑیاں اس اہم میچ کے لیے پُرجوش ہیں۔
دوسری جانب پاکستانی کپتان فاطمہ ثنا نے کہا کہ اگر پاکستان ٹاس جیتتا تو وہ بھی پہلے بیٹنگ کا انتخاب کرتے۔ ان کا کہنا تھا کہ وکٹ بیٹنگ کے لیے اچھی نظر آ رہی ہے، تاہم پاکستانی ٹیم کے پاس باصلاحیت اسپنرز اور معیاری فاسٹ بولرز موجود ہیں جو بھارتی بیٹنگ لائن کو کم اسکور تک محدود کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان میچ ہمیشہ سے شائقین کی خصوصی توجہ کا مرکز رہے ہیں اور خواتین کرکٹ میں بھی دونوں ٹیموں کی رقابت مسلسل دلچسپ مقابلوں کا سبب بنتی رہی ہے۔ دونوں ٹیمیں اپنی بہترین کارکردگی کے ذریعے ایونٹ میں مثبت آغاز کی خواہاں ہیں۔
میچ سے قبل ایک اور معاملہ بھی توجہ کا مرکز بنا جب روایتی مصافحے کے حوالے سے سوشل میڈیا پر بحث شروع ہو گئی۔ بعض رپورٹس کے مطابق بھارتی کپتان اور پاکستانی کپتان کے درمیان روایتی مصافحہ نہیں ہوا، جس پر شائقین کی جانب سے مختلف ردعمل سامنے آیا۔
ماہرین کرکٹ کے مطابق دونوں ٹیموں کے درمیان مقابلہ نہ صرف کھیل کے لحاظ سے اہم ہے بلکہ ٹورنامنٹ کے ابتدائی مرحلے میں پوائنٹس ٹیبل پر بہتر پوزیشن حاصل کرنے کے لیے بھی کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔
شائقین کو توقع ہے کہ دونوں ٹیمیں جارحانہ اور مثبت کرکٹ پیش کریں گی اور یہ مقابلہ ویمنز ٹی20 ورلڈ کپ 2026 کے یادگار میچوں میں شامل ہوگا۔ -

پاکستان فیفا ورلڈ کپ میں شریک نہ سہی،مگر ہر کھیل میں پاکستان کا حصہ موجود ہوگا،اسحاق ڈار
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان ورلڈ کپ میں شریک نہ سہی، مگر ہر پاس، ہر سیو اور ہر گول میں پاکستان کا حصہ موجود ہوگا۔
فیفا ورلڈ کپ 2026 کے حوالے سے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایکس پر پیغام میں کہا کہ جیسے ہی فیفا ورلڈ کپ 2026میکسیکو، امریکہ اور کینیڈا میں شروع ہو رہا ہے، پاکستان کھیل کے اس عالمی جشن میں اپنا کردار ادا کرنے پر فخر محسوس کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ فیفا ورلڈ کپ 2026 کی آفیشل میچ بال سیالکوٹ کے ہنرمند کاریگروں نے تیار کی، پاکستانی محنت کشوں کی مہارت، درستگی اور دستکاری عالمی سطح پر ملک کا نام روشن کر رہی ہے، سیالکوٹ میں تیار کردہ ایڈیڈاس ٹرائیونڈا ورلڈ کپ کے ہر میچ میں استعمال ہوگی، پاکستانی ہنرمندوں کی عالمی معیار کی صلاحیتیں قابل فخر ہیں۔
-

ویمنز ٹی20 ورلڈ کپ 2026: پاک بھارت ٹاکرا کل ہو گا
ویمنز ٹی20 کرکٹ ورلڈ کپ 2026 میں پاکستان اپنا پہلا میچ روایتی حریف بھارت کے خلاف کھیلے گا۔
انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) ویمنز ٹی 20 ورلڈ کپ 2026 میں پاکستان ویمنز کرکٹ ٹیم اپنا پہلا میچ کل 14 جون کو روایتی حریف بھارت کے خلاف کھیلے گی یہ اہم اور سنسنی خیز مقابلہ برمنگھم کے تاریخی ایجبسٹن کرکٹ گراؤنڈ میں کھیلا جائے گا انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ کے زیراہتمام ٹی 20 ویمن ورلڈ کپ 12 جون سے 5 جولائی تک جاری رہےگایہ ویمنز ٹی20 ورلڈ کپ کی تاریخ کا سب سےبڑا ایونٹ ہےٹورنامنٹ میں پہلی بار 12 ٹیمیں حصہ لےرہی ہیں ۔
ایونٹ کے دوران مجموعی طور پر 7 مختلف مقامات پر 33 میچز کھیلے جائیں گے، جبکہ فائنل 5 جولائی کو لندن کے تاریخی لارڈز کرکٹ گراؤنڈ میں کھیلا جائے گا روایتی حریف بھارت کے خلاف پہلے میچ کے بعد پاکستان اپنا دوسرا میچ 17 جون کو جنوبی افریقہ، تیسرا میچ 20 جون کو بنگلادیش، چوتھا میچ 23 جون کو آسٹریلیا اور پانچواں میچ 27 جون کو نیدرلینڈز کے خلاف کھیلے گا۔
پاکستانی ٹیم کو ’گروپ ون‘ میں رکھا گیا ہے، جہاں اسے 6 مرتبہ کی چیمپیئن آسٹریلیا، بھارت، جنوبی افریقہ، بنگلہ دیش اور نیدرلینڈز کا چیلنج درپیش ہوگا، ’گروپ ٹو‘ میں دفاعی چیمپیئن نیوزی لینڈ، میزبان انگلینڈ، ویسٹ انڈیز، سری لنکا، آئرلینڈ اور اسکاٹ لینڈ شامل ہیں۔ دونوں گروپس کی ٹاپ 2 ٹیمیں سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کریں گی، جو 30 جون اور 2 جولائی کو کھیلے جائیں گے۔
قومی ٹیم کی قیادت نوجوان آل راؤنڈر فاطمہ ثنا کر رہی ہیں، جو مسلسل دوسرے ٹی20 ورلڈ کپ میں کپتانی کے فرائض انجام دیں گی 24 سالہ فاطمہ ثنا حالیہ عرصے میں شاندار فارم میں ہیں،انہوں نے گزشتہ ماہ کراچی میں زمبابوے کے خلاف سیریز کے دوران صرف 15 گیندوں پر نصف سنچری بنا کر ویمنز ٹی20 انٹرنیشنل کرکٹ کی ’تیز ترین ففٹی‘ کا عالمی ریکارڈ بھی اپنے نام کیا تھا۔
پاکستان ویمنز ٹیم کے مینٹور وہاب ریاض نے ٹیم کی صلاحیتوں پر پختہ اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’کھلاڑیوں نے گزشتہ چند ماہ کے دوران سخت محنت کی ہے اور یہ نوجوان و پُرجوش ٹیم ورلڈ کپ میں بہترین کارکردگی دکھانے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے ہماری توجہ ’بے خوف‘ اور مثبت کرکٹ کھیلنے پر ہے اگر کھلاڑی اپنی اصل صلاحیتوں کے مطابق کھیلے، تو ٹیم سیمی فائنل تک لازمی رسائی حاصل کر سکتی ہے۔
-

جو کھلاڑی مقررہ معیار پر پورا نہیں اترے گا، اسے سینٹرل کنٹریکٹ نہیں دیا جائے گا ،محسن نقوی
چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) محسن نقوی نے کہا ہے کہ پاکستان کرکٹ کے نظام میں جامع اصلاحات متعارف کرانے کے لیے نئی پالیسیوں پر کام مکمل کیا جا رہا ہے،جبکہ ٹی20، ون ڈے اور ٹیسٹ کرکٹ تینوں فارمیٹس کے لیے الگ الگ حکمت عملی تیار کی گئی ہے-
ایل سی سی اے گراؤنڈ میں جاری ریڈ بال کیمپ کے دورے کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے محسن نقوی نے بتایا کہ ٹی20، ون ڈے اور ٹیسٹ کرکٹ تینوں فارمیٹس کے لیے الگ الگ حکمت عملی تیار کی گئی ہے سلیکشن کے نظام کو زیادہ سے زیادہ کمپیوٹرائزڈ بنایا جا رہا ہے تاکہ انسانی مداخلت کو کم کیا جا سکے، جبکہ قریباً 85 فیصد فیصلے ڈیٹا، فٹنس اور کھلاڑیوں کی کارکردگی کی بنیاد پر کیے جائیں گے۔
چیئرمین پی سی بی نے واضح کیاکہ سینٹرل کنٹریکٹ حاصل کرنے کے لیے ڈومیسٹک کرکٹ میں شرکت لازمی قرار دی جا رہی ہے جو کھلاڑی مقررہ معیار پر پورا نہیں اترے گا، اسے سینٹرل کنٹریکٹ نہیں دیا جائے گا سینٹرل کنٹریکٹ کے لیے 5 مختلف کیٹیگریز متعارف کرائی جا رہی ہیں، جبکہ ایمرجنگ پلیئرز کے لیے بھی ایک خصوصی کیٹیگری قائم کی جا رہی ہے، جس پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔
محسن نقوی نے کہاکہ ٹیسٹ، ون ڈے اور ٹی20 تینوں فارمیٹس میں میچ فیس میں اضافہ کیا جا رہا ہے، جبکہ ڈومیسٹک کرکٹرز کے معاوضوں میں اضافے کے حوالے سے بھی کام جاری ہے کسی بھی کھلاڑی کو قومی سطح پر آگے بڑھنے کے لیے فٹنس، ڈومیسٹک کارکردگی اور مجموعی پرفارمنس کے تمام مراحل سے گزرنا ہوگا پیر کے روز تمام کھلاڑیوں کو مشاورت کے لیے مدعو کیا گیا ہے کیونکہ وہ اس پورے عمل کے اہم اسٹیک ہولڈرز ہیں جبکہ موجودہ اصلاحات کے نتائج ایک سے 2 سال کے اندر سامنے آئیں گے اور یہ اقدامات پاکستان کرکٹ کو طویل المدتی بنیادوں پر مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہوں گے۔
محسن نقوی نے کہاکہ ٹیسٹ ٹیم کی کپتانی کے حوالے سے فیصلہ وہ خود نہیں کریں گے بلکہ متعلقہ ٹیم مینجمنٹ اور سلیکشن حکام اس بارے میں حتمی فیصلہ کریں گے جبکہ شاداب خان کی ممکنہ کپتانی کے حوالے سےمیرے علم میں کوئی حتمی بات نہیں ہے سابق کپتان سرفراز احمد پاکستان کرکٹ کا ایک اہم اثاثہ ہیں، تاہم ان کے مستقبل کے کردار کے حوالے سے ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیاامید ہے کہ نئی پالیسیاں قومی ٹیم کی کارکردگی میں بہتری لانے میں مدد دیں گی، ماضی میں بعض غلط پالیسیوں اور ذاتی مفادات نے پا کستان کرکٹ کو نقصان پہنچایا، لیکن اب ادارے کو پیشہ ورانہ بنیادوں پر چلایا جا رہا ہے تاکہ قومی ٹیم بہتر نتائج دے سکے، خراب کارکردگی کی ایک بڑی وجہ سوچ میں خرابی تھی، کیونکہ لوگ ملک کے بجائے اپنے لیے کرکٹ کھیل رہے تھے، تاہم اب اس سوچ کو تبدیل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے تاکہ قومی مفاد کو اولین ترجیح دی جا سکے۔
اس موقع پر ڈائریکٹر ہائی پرفارمنس عاقب جاوید، سابق کپتان سرفراز احمد اور مصباح الحق، مائیک ہیسن سمیت دیگر کوچز بھی موجود تھے محسن نقوی نے کھلاڑیوں اور کوچنگ اسٹاف سے ملاقات کی اور تربیتی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔
-

پاکستان کی فٹبال ٹیم کو افتتاحی فیفا آسیان کپ میں شرکت کی دعوت
پاکستان فٹبال کے لیے ایک اہم اور تاریخی پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں قومی فٹبال ٹیم کو افتتاحی فیفا آسیان کپ میں شرکت کی باضابطہ دعوت موصول ہوئی ہے۔
ذرائع کے مطابق فیفا کی جانب سے پاکستان کو ایونٹ میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی، جس کے بعد پاکستان فٹبال فیڈریشن (پی ایف ایف) نے قومی ٹیم کی شرکت کی تصدیق کر دی ہے۔افتتاحی فیفا آسیان کپ 21 ستمبر سے 6 اکتوبر تک انڈونیشیا میں کھیلا جائے گا۔ ٹورنامنٹ کے ڈویژن ون میں پاکستان کا مقابلہ روایتی حریف بھارت کے علاوہ میزبان انڈونیشیا، ملائشیا، فلپائن، سنگاپور اور تھائی لینڈ جیسی مضبوط ٹیموں سے ہوگا۔
ماہرین کے مطابق یہ ایونٹ پاکستان فٹبال کی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ قومی ٹیم پہلی مرتبہ فیفا کے کسی ایسے بین الاقوامی ٹورنامنٹ میں شرکت کرے گی جو ورلڈ کپ یا ایشیائی کوالیفائرز سے الگ منعقد کیا جا رہا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کو اس ایونٹ میں شامل کروانے میں پی ایف ایف کے صدر محسن گیلانی کے فیفا حکام کے ساتھ مثبت تعلقات اور مؤثر سفارتی روابط نے اہم کردار ادا کیا۔ ان روابط کے نتیجے میں پاکستان کو عالمی فٹبال برادری میں مزید نمائندگی اور مواقع حاصل ہونے کی توقع ہے۔فٹبال حلقوں کا کہنا ہے کہ اس ٹورنامنٹ میں شرکت قومی ٹیم کے کھلاڑیوں کو بین الاقوامی سطح پر اپنی صلاحیتوں کے اظہار، اعلیٰ معیار کی ٹیموں کے خلاف کھیلنے اور قیمتی تجربہ حاصل کرنے کا بہترین موقع فراہم کرے گی۔ ماہرین کے نزدیک یہ ایونٹ پاکستان میں فٹبال کے فروغ اور عالمی سطح پر ملک کی شناخت مضبوط بنانے میں بھی معاون ثابت ہو سکتا ہے۔
-

فیفا ورلڈ کپ ، انگلینڈ ٹیم کا امریکا میںسامان چوری ہو گیا
فیفا ورلڈ کپ 2026ء کے آغاز سے قبل انگلینڈ کی قومی فٹبال ٹیم کو غیر متوقع صورتحال کا سامنا کرنا پڑ گیا، جہاں امریکا میں ٹیم کے پہلے ٹریننگ سیشن سے قبل کھلاڑیوں کا اہم سامان چوری کر لیا گیا۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق چوری ہونے والے سامان میں کھلاڑیوں کے جوتے، فٹبالز اور ٹریننگ کے لیے استعمال ہونے والا دیگر ضروری سامان شامل ہے۔رپورٹس کے مطابق سامان کو ٹیم کے ٹریننگ مقام تک پہنچانے سے قبل نامعلوم افراد نے گاڑیوں کے شیشے توڑ کر واردات کی اور سامان لے کر فرار ہو گئے۔
یہ سامان ہفتے کے روز انگلش اسکواڈ کی آمد اور ٹریننگ سرگرمیوں کے آغاز سے قبل امریکی ریاست فلوریڈا سے کنساس سٹی منتقل کیا جا رہا تھا۔واقعے کے بعد کنساس سٹی پولیس ڈیپارٹمنٹ نے تحقیقات شروع کر دیں۔ پولیس حکام نے چوری کی واردات کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ دو مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے، جن سے مزید تفتیش جاری ہے۔واضح رہے کہ فیفا ورلڈ کپ 2026ء میں انگلینڈ اپنی مہم کا آغاز بدھ کے روز کروشیا کے خلاف میچ سے کرے گا، جبکہ ٹیم انتظامیہ واقعے کے باوجود تیاریاں معمول کے مطابق جاری رکھنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔
-

فیفا ورلڈ کپ ، ٹورنٹو، لاس اینجلس اور میکسیکو میں رنگارنگ افتتاحی تقریبات
فیفا ورلڈ کپ 2026 کی شاندار افتتاحی تقریبات نے تینوں میزبان ممالک میں فٹبال شائقین کو بھرپور تفریح فراہم کی، جہاں موسیقی، ثقافت اور کھیل کا منفرد امتزاج دیکھنے کو ملا۔
کینیڈا کے شہر ٹورنٹو میں کینیڈا اور بوسنیا کے درمیان میچ سے قبل منعقدہ افتتاحی تقریب میں معروف گلوکاراؤں ایلیسیا کارا، جیسی ریز، نورا فتحی اور ایل یانا نے دلکش پرفارمنسز پیش کرکے حاضرین سے خوب داد وصول کی۔افتتاحی تقریب کے موقع پر ٹورنٹو کا اسٹیڈیم کینیڈا کے روایتی سرخ اور سفید رنگوں سے سجا نظر آیا، جبکہ ہزاروں شائقین نے رنگا رنگ پروگرام سے بھرپور لطف اٹھایا۔دوسری جانب امریکا کے شہر لاس اینجلس میں بھی ورلڈ کپ کی شاندار افتتاحی تقریب منعقد کی گئی۔ میزبان امریکا اور پیراگوئے کے میچ سے قبل ہونے والی تقریب میں مختلف میوزیکل بینڈز کی پرفارمنسز نے اسٹیڈیم کا ماحول گرما دیا اور ہزاروں تماشائی موسیقی کی دھنوں پر جھومتے رہے۔
اس سے قبل میکسیکو میں ہونے والی افتتاحی تقریب نے بھی دنیا بھر کی توجہ حاصل کی تھی۔ تقریب میں عالمی شہرت یافتہ فنکاروں شکیرا اور برنا بوائے کی دھماکے دار پرفارمنسز نے فٹبال شائقین کو خوب محظوظ کیا اور سوشل میڈیا پر بھی تقریب کے مناظر چھائے رہے
-

فٹبال ورلڈ کپ 2026:عراق کی قومی ٹیم کی 40 سال بعدپہلی بار شرکت کیلئے ’ویسٹ ورجینیا‘ پہنچ گئی
عراق کی قومی فٹبال ٹیم 40 سال بعد پہلی بار ورلڈ کپ میں شرکت کےلئےامریکی ریاست ’ویسٹ ورجینیا‘ پہنچ گئی۔
ٹیم کی قیادت کوچ گراہم آرنالڈ کر رہے ہیں ٹیم نے ویسٹ ورجینیا میں اپنے بیس کیمپ میں پہنچ کر ٹریننگ شروع کر دی ہے، کھلاڑیوں نے بھرپور پریکٹس سیشن کیا،گروپ آئی میں موجود عراقی فٹبال ٹیم ورلڈ کپ میں اپنا پہلا میچ 16 جون کو ناروے کے خلاف کھیلے گی گروپ میں عراق کے ساتھ عالمی چیمپئن فرنس اور سینیگال کی ٹیمیں بھی شامل ہیں، جس کے باعث گروپ مرحلہ انتہائی سخت قرار دیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ عراق اس سے قبل صرف ایک بار 1986 میں میکسیکو میں ہونے والے ورلڈ کپ میں شریک ہوا تھا جہاں اسے اپنے گروپ کے تمام میچز میں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
-

لیونل میسی ایک بار پھر خبروں کی زینت بن گئے
فٹبال کے عالمی منظرنامے کی سب سے بڑی شخصیات میں شمار ہونے والے لیونل میسی ایک بار پھر خبروں کی زینت بن گئے۔
عالمی کپ کے دفاعی چیمپئن ارجنٹینا کی ٹیم ٹریننگ دیکھنے کے لیے میڈیا نمائندوں کی بڑی تعداد جمع ہوگئی، جہاں تمام نگاہیں میسی پر مرکوز رہیں امریکا کے شہر کنساس سٹی میں ارجنٹینا کی ٹیم نے پریکٹس سیشن میں حصہ لیا، اس موقع پر تقریباً ایک سو کیمرہ مین، فوٹوگرافرز اور رپورٹرز ٹریننگ گراؤنڈ پہنچے تاکہ 38 سالہ لیونل میسی کی ایک جھلک اپنے کیمروں میں محفوظ کر سکیں۔
فٹبال شائقین اور مبصرین کا خیال ہے کہ یہ میسی کا آخری عالمی کپ بھی ہو سکتا ہے، جس کے باعث ان کی ہر سرگرمی غیر معمولی توجہ حاصل کر رہی ہے دفاعی چیمپئن ارجنٹینا اپنی مہم کا آغاز 16 جون کو کنساس سٹی میں الجزائر کے خلاف میچ سے کرے گا اس کے بعد ارجنٹائن کی ٹیم آسٹریا اور اُردن کے خلاف مقابلوں کے لیے ڈلاس روانہ ہوگی۔