Baaghi TV

Category: کھیل

  • رنگا رنگ تقریب کے ساتھ فیفا ورلڈ کپ 2026 کا آغاز

    رنگا رنگ تقریب کے ساتھ فیفا ورلڈ کپ 2026 کا آغاز

    ‎میکسیکو سٹی کے تاریخی اسٹیڈیو آزٹیکا میں رنگا رنگ افتتاحی تقریب کے ساتھ فیفا ورلڈ کپ 2026 کا شاندار آغاز ہو گیا۔ دنیا بھر کے فٹبال شائقین کی نظریں اس تقریب پر مرکوز رہیں جہاں موسیقی، رقص اور روشنیوں کے حسین امتزاج نے ایونٹ کو یادگار بنا دیا۔
    ‎افتتاحی تقریب کا آغاز روایتی انداز میں شرکاء اور شائقین کو خوش آمدید کہنے سے ہوا۔ اس کے بعد مختلف فنکاروں نے اپنی شاندار پرفارمنس کے ذریعے حاضرین کا جوش بڑھایا۔ اسٹیڈیم کو خصوصی طور پر ایک بڑے اسٹیج میں تبدیل کیا گیا تھا جبکہ میدان کے وسط میں فیفا ورلڈ کپ ٹرافی کا دیوقامت ماڈل نصب کیا گیا تھا جو تقریب کا مرکزی مرکز رہا۔
    ‎تقریب کے دوران رنگ برنگے ملبوسات میں ملبوس رقاصوں نے شاندار مظاہرے پیش کیے جبکہ اسٹیڈیم میں موجود ہزاروں شائقین نے بھرپور انداز میں فنکاروں کا ساتھ دیا۔ ہر طرف روشنیوں، موسیقی اور فٹبال کے جشن کا سماں تھا جس نے ماحول کو مزید پرجوش بنا دیا۔
    ‎تقریب کا ایک اہم لمحہ اس وقت آیا جب عالمی شہرت یافتہ گلوکارہ شکیرا اور نائجیریا کے معروف گلوکار برنا بوائے نے ورلڈ کپ کے ترانے "دائی دائی” کی پرفارمنس پیش کی۔ دونوں فنکاروں کی پرفارمنس نے اسٹیڈیم میں موجود شائقین کو جھومنے پر مجبور کر دیا اور افتتاحی تقریب کو چار چاند لگا دیے۔
    ‎افتتاحی تقریب کے اختتام پر اسٹیڈیو آزٹیکا رنگوں اور روشنیوں سے جگمگا اٹھا۔ فضائی مظاہروں اور خصوصی لائٹ شو نے اس تاریخی موقع کو مزید یادگار بنا دیا، جس کے بعد تقریب اپنے اختتام کو پہنچی۔
    ‎دوسری جانب افتتاحی میچ سے قبل میزبان میکسیکو اور جنوبی افریقہ کی ٹیموں نے میدان میں وارم اپ کا آغاز کر دیا۔ دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں پر دباؤ اور جوش واضح دکھائی دے رہا تھا کیونکہ ورلڈ کپ کا افتتاحی میچ کسی بھی فٹبالر کے کیریئر کے اہم ترین لمحات میں شمار ہوتا ہے۔
    ‎اب دنیا بھر کے شائقین کی نظریں افتتاحی مقابلے پر مرکوز ہیں، جبکہ ورلڈ کپ کے سنسنی خیز سفر کا باضابطہ آغاز ہو چکا ہے۔

  • 
فیفا ورلڈ کپ 2026 میں کئی تاریخی ریکارڈز ٹوٹنے کا امکان

    
فیفا ورلڈ کپ 2026 میں کئی تاریخی ریکارڈز ٹوٹنے کا امکان

    ‎امریکا، میکسیکو اور کینیڈا کی مشترکہ میزبانی میں ہونے والے فیفا ورلڈ کپ 2026 میں صرف عالمی چیمپئن کا فیصلہ ہی نہیں ہوگا بلکہ فٹبال کی تاریخ کے کئی بڑے ریکارڈز بھی خطرے میں ہوں گے۔ دنیا بھر کے شائقین کی نظریں ایک بار پھر سپر اسٹارز لیونل میسی، کرسٹیانو رونالڈو اور کالیان ایمباپے سمیت کئی نامور کھلاڑیوں پر مرکوز ہوں گی جو نئے سنگ میل عبور کرنے کے قریب ہیں۔
    ‎ارجنٹائن کے لیونل میسی اور پرتگال کے کرسٹیانو رونالڈو اگر ٹورنامنٹ میں شرکت کرتے ہیں تو وہ اپنے کیریئر کا چھٹا ورلڈ کپ کھیلیں گے۔ یوں دونوں فٹبالرز تاریخ میں پہلی مرتبہ چھ مختلف ورلڈ کپ ایڈیشنز میں شرکت کرنے والے کھلاڑی بن جائیں گے، جو ایک منفرد عالمی ریکارڈ ہوگا۔
    ‎لیونل میسی پہلے ہی ورلڈ کپ میں سب سے زیادہ 26 میچز کھیلنے، سب سے زیادہ 2314 منٹس میدان میں گزارنے اور بطور کپتان سب سے زیادہ میچز کھیلنے کا اعزاز رکھتے ہیں۔ 2026 کے ایونٹ میں وہ ان ریکارڈز کو مزید بہتر بنا سکتے ہیں۔
    ‎دوسری جانب کرسٹیانو رونالڈو ایک تاریخی اعزاز کے قریب ہیں۔ اگر وہ ٹورنامنٹ میں کم از کم ایک گول کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو وہ چھ مختلف ورلڈ کپ مقابلوں میں گول کرنے والے دنیا کے پہلے فٹبالر بن جائیں گے۔
    ‎ورلڈ کپ کی تاریخ میں سب سے زیادہ 16 گولز کا ریکارڈ جرمنی کے میروسلاو کلوزے کے پاس ہے۔ لیونل میسی 13 جبکہ فرانس کے کالیان ایمباپے 12 گولز کے ساتھ اس ریکارڈ کے تعاقب میں ہیں۔ ماہرین کے مطابق ایمباپے اس ریکارڈ کو توڑنے کے مضبوط امیدواروں میں شامل ہیں۔
    ‎فرانس کے نوجوان اسٹار کالیان ایمباپے ایک اور منفرد کارنامہ بھی انجام دے سکتے ہیں۔ اگر فرانس مسلسل تیسری بار فائنل تک پہنچتا ہے اور ایمباپے فائنل میں گول کرتے ہیں تو وہ تین مختلف ورلڈ کپ فائنلز میں گول کرنے والے پہلے کھلاڑی بن جائیں گے۔
    ‎ٹیموں کے حوالے سے دفاعی چیمپئن ارجنٹائن کے پاس بھی تاریخ رقم کرنے کا سنہری موقع ہے۔ اگر وہ اپنا عالمی ٹائٹل برقرار رکھنے میں کامیاب رہتا ہے تو 1962 کے بعد پہلی بار کوئی ٹیم مسلسل دو ورلڈ کپ جیتے گی۔ اس کے ساتھ ارجنٹائن اٹلی اور برازیل کے بعد یہ اعزاز حاصل کرنے والی تیسری ٹیم بن جائے گی۔
    ‎برازیل بھی اپنے عالمی ریکارڈ کو مزید مضبوط بنا سکتا ہے۔ اگر برازیل چھٹی بار ورلڈ کپ جیت لیتا ہے تو وہ اپنے ہی قائم کردہ پانچ ٹائٹلز کے ریکارڈ کو بہتر بناتے ہوئے چھ عالمی اعزازات حاصل کرنے والی پہلی ٹیم بن جائے گی۔
    ‎جرمنی، فرانس، انگلینڈ اور یوروگوئے بھی مختلف تاریخی سنگ میل حاصل کرنے کی دوڑ میں شامل ہیں، جس سے ورلڈ کپ 2026 شائقین کے لیے مزید دلچسپ اور یادگار بننے جا رہا ہے۔

  • 
آئی سی سی ون ڈے ورلڈ کپ 2027 کی تاریخوں کا اعلان

    
آئی سی سی ون ڈے ورلڈ کپ 2027 کی تاریخوں کا اعلان

    ‎انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے ون ڈے ورلڈ کپ 2027 کے شیڈول اور میزبانی کے حوالے سے اہم تفصیلات جاری کر دی ہیں۔ دنیا کے سب سے بڑے کرکٹ ایونٹس میں سے ایک یہ ٹورنامنٹ 4 اکتوبر 2027 سے شروع ہوگا اور 21 نومبر 2027 تک جاری رہے گا۔
    ‎آئی سی سی کے مطابق میگا ایونٹ کی مشترکہ میزبانی جنوبی افریقا، زمبابوے اور نمیبیا کریں گے۔ ٹورنامنٹ میں دنیا کی 14 بہترین ٹیمیں شرکت کریں گی جبکہ دفاعی چیمپئن آسٹریلیا اپنی عالمی ٹائٹل کا دفاع کرے گا۔
    ‎ورلڈ کپ کے دوران مجموعی طور پر 54 میچز کھیلے جائیں گے۔ ان میں سے 41 میچز جنوبی افریقا، 10 زمبابوے اور 3 نمیبیا میں منعقد ہوں گے۔ اس طرح جنوبی افریقا ایونٹ کا مرکزی میزبان ملک ہوگا جبکہ دیگر دو ممالک بھی اہم میچز کی میزبانی کریں گے۔
    ‎جنوبی افریقا کے آٹھ بڑے شہروں کو میچز کی میزبانی سونپی گئی ہے جن میں جوہانسبرگ، پریٹوریا، کیپ ٹاؤن، ڈربن، بلوئم فونٹین، ایسٹ لندن، پارل اور گیبرہا شامل ہیں۔ ان میدانوں میں عالمی کرکٹ کے بڑے مقابلے منعقد ہوں گے اور شائقین کو اعلیٰ معیار کی کرکٹ دیکھنے کا موقع ملے گا۔
    ‎ٹورنامنٹ کے فارمیٹ کے مطابق 14 ٹیموں کو دو گروپس میں تقسیم کیا جائے گا۔ ہر گروپ کی ٹاپ تین ٹیمیں اگلے مرحلے "سپر 6” کے لیے کوالیفائی کریں گی۔ اس مرحلے کے بعد بہترین کارکردگی دکھانے والی ٹیمیں سیمی فائنل اور پھر فائنل میں جگہ بنائیں گی۔
    ‎کرکٹ ماہرین کے مطابق 14 ٹیموں پر مشتمل فارمیٹ سے زیادہ ممالک کو عالمی سطح پر اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا موقع ملے گا، جبکہ مقابلوں میں دلچسپی اور مسابقت بھی بڑھے گی۔
    ‎واضح رہے کہ جنوبی افریقا اس سے قبل بھی کئی بڑے آئی سی سی ایونٹس کی میزبانی کر چکا ہے۔ ملک نے 2007 میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ، 2009 میں چیمپئنز ٹرافی اور 2023 میں ویمنز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کی کامیاب میزبانی کی تھی۔ دوسری جانب زمبابوے اور نمیبیا نے حالیہ برسوں میں انڈر 19 ورلڈ کپ سمیت مختلف بین الاقوامی ٹورنامنٹس کی میزبانی کر کے اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا ہے۔
    ‎کرکٹ شائقین اب اس عالمی ایونٹ کے منتظر ہیں جہاں دنیا کی بہترین ٹیمیں ایک بار پھر عالمی چیمپئن بننے کے لیے میدان میں اتریں گی۔

  • پاکستان نے ڈائمنڈ جوبلی فٹبال ٹورنامنٹ  کا ٹائٹل جیت لیا

    پاکستان نے ڈائمنڈ جوبلی فٹبال ٹورنامنٹ کا ٹائٹل جیت لیا

    ڈائمنڈ جوبلی چار ملکی انٹرنیشنل فٹبال ٹورنامنٹ پاکستان فٹبال ٹیم نے تاریخ رقم کر دی
    پاکستان نے ڈائمنڈ جوبلی فٹبال ٹورنامنٹ کا ٹاٸٹل جیت لیا،فاٸنل میں افغانستان کو 0-2سے شکست دی،شاٸق دوست نے 24ویں منٹ میں گول کیا ،پاکستان نے ایکسٹرا ٹاٸم میں دوسرا گول کیا،پاکستان نے 64سال بعد کسی بین الاقوامی فٹبال ٹورنامنٹ کا ٹاٸٹل جیتا،ہاکستان آخری بار 1962 میں مردیکا کپ کے فاٸنل میں پہنچا تھا ،پاکستان نے ایونٹ میں شاندار پرفارمنس دکھاٸی ،ایونٹ گروپ میچ میں پاکستان نے مالدیپ اور افغانستان کوشکست دی تھی،پاکستان اور بنگلہ دیش کے مابین میچ ڈرا ہوا تھا،صدر پاکستان فٹبال فیڈریشن محسن گیلانی نے ٹیم کو مبارکباد دی ہےمحسن گیلانی نےقومی ٹیم کیلٸے انعام کا اعلان بھی کیا

    وزیرِاعظم شہباز شریف نے ڈائمنڈ جوبلی انٹرنیشنل فٹبال ٹورنامنٹ جیتنے پر پاکستان فٹبال ٹیم کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ تاریخی کامیابی پوری قوم کے لیے باعثِ فخر ہے۔وزیراعظم نے کہا ہے کہ قومی ٹیم نے شاندار کھیل، عزم اور ٹیم ورک کا مظاہرہ کرتے ہوئے ملک کا نام روشن کیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ پاکستان کی تاریخ کا پہلا باضابطہ بین الاقوامی فٹبال ٹورنامنٹ ٹائٹل ہے۔وزیرِاعظم شہباز شریف نے امید ظاہر کی ہے کہ قومی فٹبال ٹیم آئندہ بھی اسی جذبے اور محنت کے ساتھ کامیابیاں سمیٹتے ہوئے ملک کا پرچم بلند رکھے گی۔

    دوسری جانب چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے بھی ڈائمنڈ جوبلی انٹرنیشنل فٹبال ٹورنامنٹ جیتنے پر پاکستان ٹیم کو مبارک باد دی ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ گرین شرٹس نے فائنل میں افغانستان کو شکست دے کر پوری قوم کا سر فخر سے بلند کر دیا، فٹبالرز نے میدان میں شاندار کھیل اور غیر معمولی جذبے کا مظاہرہ کرتے ہوئے تاریخ رقم کی، طویل عرصے بعد پہلا انٹرنیشنل فٹبال ٹائٹل جیتنا پاکستان فٹبال کے نئے دور کا آغاز ہے، فٹبال ٹیم کی تاریخی فتح ہر اسپورٹس مین کے لیے باعثِ تقلید اور حوصلہ افزاء ہے۔

  • سوریا کمار یادیو آؤٹ، شریاس ائیر ٹی ٹوئنٹی ٹیم کا نیا کپتان مقرر

    سوریا کمار یادیو آؤٹ، شریاس ائیر ٹی ٹوئنٹی ٹیم کا نیا کپتان مقرر

    سوریا کمار یادیو سے ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ کی کپتانی واپسی لے لی گئی، بھارتی بورڈ نے شریاس ائیر ٹی ٹوئنٹی ٹیم کا نیا کپتان مقرر کر دیا۔

    بھارت نے آئرلینڈ اور انگلینڈ کے خلاف آئندہ ٹی20 سیریز کے لیے اسکواڈ کا اعلان کر دیا ہے، جس میں 15 سالہ ابھرتے ہوئے بیٹر ویبھوو سوریا ونشی کو پہلی بار شامل کر لیا گیا ہے جبکہ شریاس ائیر کو ٹیم کا کپتان مقرر کیا گیا ہے۔

    بھارتی کرکٹ بورڈ کے مطابق سوریا ونشی نے حالیہ انڈین پریمیئر لیگ سیزن میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 16 میچز میں 776 رنز بنائے اور کرس گیل کا ایک سیزن میں سب سے زیادہ چھکوں کا ریکارڈ بھی توڑ دیا،وہ راجستھان رائلز کی نمائندگی کرتے ہوئے لیگ کی تاریخ کے پہلے کھلاڑی بنے جنہیں بیک وقت موسٹ ویلیوایبل پلیئر اور بہترین ابھرتا ہوا کھلاڑی قرار دیا گیا۔

    اگر سوریاونشی کو آئرلینڈ یا انگلینڈ کے خلاف ڈیبیو کا موقع ملتا ہے تو وہ بھارت کی مردوں کی سینئر ٹیم کی نمائندگی کرنے والے کم عمر ترین کھلاڑی بن جائیں گے اور سچن ٹنڈولکر کا ریکارڈ توڑ دیں گے، جنہوں نے 16 سال کی عمر میں ڈیبیو کیا تھا،سلیکشن کمیٹی کے چیئرمین اجیت اگارکر نے کہا کہ سوریاونشی نے نہ صرف سیزن کے آغاز سے ہی عمدہ کھیل پیش کیا بلکہ دباؤ والے مقابلوں میں بھی ٹیم کو تقریباً تنہا کامیابیوں سے ہمکنار کرایا۔

    دوسری جانب کپتان سوریا کمار یادو کو ناقص فارم کے باعث ٹیم سے ڈراپ کردیا گیا ہے، جبکہ ان کی جگہ 31 سالہ مڈل آرڈر بلے باز شریاس آئیر کو باقاعدہ طور پر انڈین ٹیم کا نیا کپتان مقرر کیا گیا ہے یہ فیصلہ رواں ماہ جون اور جولائی میں ہونے والے دورہ آئرلینڈ اور انگلینڈ کے لیے کیا گیا ہے۔

    شریاس ائیر کو کپتانی سونپنے کا فیصلہ ان کی قیادت میں کولکتہ نائٹ رائیڈرز کو 2024 کا آئی پی ایل ٹائٹل جتوانے کے بعد کیا گیابھارت اس ماہ کے آخر میں آئرلینڈ کے خلاف دو ٹی20 میچز کھیلے گا، جس کے بعد جولائی میں انگلینڈ کے خلاف پانچ میچوں کی سیریز شیڈول ہے۔

    قیادت میں تبدیلی کے ساتھ ساتھ نائب کپتانی کے عہدے پر بھی تبدیلی کی گئی ہے اور آل راؤنڈر اکشر پٹیل کی جگہ تلک ورما کو ٹیم کا نیا نائب کپتان نامزد کیا گیا ہے۔

    حال ہی میں ٹیم کو اپنی قیادت میں عالمی کپ جتوانے والے 35 سالہ سوریا کمار یادو کے لیے حالیہ عالمی کپ اور انڈین پریمیئر لیگ کا سیزن انتہائی مایوس کن رہا، جہاں وہ رنز بنانے کے لیے جدوجہد کرتے نظر آئے، سلیکٹرز کا ماننا ہے کہ اگلا عالمی کپ آنے تک ان کی عمر 38 برس ہوجائے گی، اس لیے مستقبل کے لیے ابھی سے نوجوان قیادت کو تیار کرنا ضروری ہے۔

    دوسری جانب نئے کپتان شریاس آئیر نے دسمبر 2023 کے بعد سے کوئی بین الاقوامی 20 اوورز کا میچ نہیں کھیلا تھا، تاہم ان کے پاس انڈین پریمیئر لیگ میں کولکتہ نائٹ رائیڈرز کو چیمپیئن بنانے اور دیگر فرنچائزز کی کامیاب قیادت کا وسیع تجربہ موجود ہے، جس کی وجہ سے سلیکٹرز نے انہیں اس منصب کے لیے بہترین امیدوار قرار دیا ہے۔

    نئے اسکواڈ میں ہاردک پانڈیا اور جسپریت بمراہ جیسے سینیئر کھلاڑیوں کو آرام دیا گیا ہے، جبکہ رنکو سنگھ اور کلدیپ یادو کو اس بار ٹیم کا حصہ نہیں بنایا گیانتیش کمار ریڈی، روی بشنوئی اور پرنس یادو جیسے نوجوان کھلاڑیوں پر اعتماد کا اظہار کیا گیا ہے –

  • فیفا نے پانی کی بوتلوں پر پابندی کا فیصلہ واپس لے لیا

    فیفا نے پانی کی بوتلوں پر پابندی کا فیصلہ واپس لے لیا

    فٹبال کی عالمی تنظیم ’فیفا‘ نے شائقینِ فٹبال کو ورلڈ کپ 2026 کے میچوں کے دوران اسٹیڈیم میں ڈسپوزایبل پانی کی بوتل لانے کی مشروط اجازت دے دی ہے-

    فیفا کے چیف آپریٹنگ آفیسر ہیمو شرگی نے مائیکرو بلاگنگ پلیٹ فارم ‘ایکس‘ پر جاری کردہ ایک ویڈیو پیغام میں اس پالیسی کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اب تمام شائقین کو امریکا اور کینیڈا میں ہونے والے فیفا ورلڈ کپ 2026 کے کسی بھی میچ کے دوران اپنے ساتھ فیکٹری سے سیل شدہ، نرم پلاسٹک کی 20 اونس (590 ملی لیٹر) کی ایک ڈسپوزایبل پانی کی بوتل اندر لے جانے کی اجازت ہوگی۔

    رپورٹس کے مطابق فیفا نے اس سے قبل سیکیورٹی اور کھلاڑیوں و شائقین کو کسی بھی ممکنہ چوٹ یا خطرے سے محفوظ رکھنے کے نام پر باہر سے لائی جانے والی بوتلوں پر پابندی کا دفاع کیا تھا، اور ادارے کا کہنا ہے کہ یہ سیکیورٹی خدشات اب بھی برقرار ہیں ہیمو شرگی نے ویڈیو میں واضح کیا کہ سخت باڈی والی یا دھاتی ری یوزایبل بوتلیں سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر اب بھی مکمل طور پر ممنوع ہوں گی۔

    یہ تنازع ایک ایسے وقت میں شدت اختیار کر گیا تھا جب محکمہ موسمیات اور ماہرینِ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ امریکا، کینیڈا اور میکسیکو میں اوپن ائیر اسٹیڈیمز کے اندر شائقین کو شدید ترین گرمی کے باعث صحت کے سنگین خطرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے،ایک حالیہ تحقیقی رپورٹ کے مطابق ورلڈ کپ کے 104 میچوں میں سے کم و بیش 26 میچز ایسے موسمی حالات میں کھیلے جائیں گے جہاں انسانی جسم پر گرمی اور حبس کے اثرات کو ناپنے والا پیمانہ مقررہ حد سے تجاوز کرجائے گا۔

    واضح رہے کہ گزشتہ سال امریکا ہی میں منعقدہ فیفا کلب ورلڈ کپ کے دوران بھی شدید گرمی کے باوجود شائقین کو اسٹیڈیم میں پانی کی بوتلیں لے جانے سے روک دیا گیا تھاجس پر بڑے پیمانے پر شکایات سامنے آئی تھیں اس بار عوامی ردِعمل کو دیکھتے ہوئے فیفا نے اسٹیڈیم کے اطراف میں مسٹنگ اسٹیشنز (پانی کی بوندیں برسانے والے نظام)، کولنگ ٹینٹس، پنکھے اور ہائیڈریشن اسٹیشنز قائم کرنے کا اعلان کیا ہےفیفا نے یقین دہانی کرائی ہے کہ اسٹیڈیم کے اندر فروخت ہونے والے پانی کی قیمتیں عام دنوں کی طرح معمول کے مطابق ہی رکھی جائیں گی تاکہ شائقین کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

    یہ اہم اعلان فیفا کے اس فیصلے کے محض دو دن بعد سامنے آیا ہے جس میں اسٹیڈیمز کے اندر دوبارہ استعمال ہونے والی پانی کی بوتلوں پر مکمل پابندی عائد کردی گئی تھی، جس پر شائقین نے سخت برہمی کا اظہار کیا تھا-

  • ایشین گیمز: عائشہ بلوچ نے بھارتی حریف کو شکست دے کر گولڈ میڈل جیت لیا

    ایشین گیمز: عائشہ بلوچ نے بھارتی حریف کو شکست دے کر گولڈ میڈل جیت لیا

    ایشین گیمز کے ریسلنگ فائنل میں پاکستانی کھلاڑی عائشہ بلوچ نے بھارتی حریف کو ہرا کر گولڈ میڈل جیت لیا۔

    عائشہ بلوچ نے سری لنکا میں جاری ایشین گیمز 2026کے ریسلنگ فائنل میں بھارتی حریف کو شکست دی، عائشہ بلوچ نے پورے ٹورنامنٹ کے دوران غیر معمولی اعتماد، بہترین داؤ پیچ اور اعلیٰ تکنیکی مہارت کا مظاہرہ کیا، جس کے باعث ایشیا بھر سے آنے والی حریف کھلاڑی ان کا مقابلہ نہ کر سکیں۔

    فائنل مقابلے میں عائشہ بلوچ کی تکنیکی برتری نمایاں رہی اور بھارتی ریسلر ان کے مؤثرکھیل کا مقابلہ نہ کرسکی بھارتی حریف کیخلاف فیصلہ کن فتح کے بعد عائشہ بلوچ نے سجدۂ شکر بھی ادا کیاوکٹری پوڈیم پر پاکستان کاسبز ہلالی پرچم لہرا کر عائشہ بلوچ نے پوری قوم کا سر فخر سے بلند کر دیا، ان کی اس تاریخی کامیابی پر ملک بھر، خصوصاً بلوچستان میں خوشی کی لہر دوڑ گئی، جبکہ عوام اور کھیلوں سے وابستہ شخصیات کی جانب سے انہیں بھرپور خراجِ تحسین پیش کیا جا رہا ہے۔

    عائشہ بلوچ کی یہ کامیابی نہ صرف پاکستان کے لیے ایک بڑا اعزاز ہے بلکہ ملک بھر خصوصاً بلوچستان کی نوجوان لڑکیوں کے لیے حوصلے، عزم اور امید کا روشن پیغام بھی ہے۔

  • فیفا ورلڈکپ: اسٹیڈیم آنے والے شائقین کو بڑی پابندی کا سامنا

    فیفا ورلڈکپ: اسٹیڈیم آنے والے شائقین کو بڑی پابندی کا سامنا

    فیفا نے 2026 ورلڈ کپ کے دوران شائقین کے لیے اسٹیڈیم میں دوبارہ استعمال ہونے والی پانی کی بوتلیں لے جانے پر پابندی عائد کر دی ہے۔

    عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ فیصلہ اسٹیڈیم ضابطہ اخلاق میں آخری وقت میں کی گئی تبدیلی کے بعد سامنے آیا ہے ابتدائی طور پر فیفا نے شفاف اور خالی پلاسٹک کی ری یوزایبل بوتلوں کو اسٹیڈیم میں لانے کی اجازت دی تھی تاہم منگل سے نافذ ہونے والے نئے ضابطے کے تحت اب ایسی بو تلیں بھی ممنوع قرار دے دی گئی ہیں۔

    فیفا کے مطابق بوتلیں، کپ، جار اور کین جیسی اشیا کو میدان میں پھینکے جانے کی صورت میں کھلاڑیوں اور تماشائیوں کے زخمی ہونے کا خطرہ موجود ہوتا ہے اسی لیے یہ اقدام کیا گیا ہےکھلاڑیوں، ریفریز، رضاکاروں، عملے اور شائقین کی حفاظت اس کی اولین ترجیح ہے، بعض میزبان اسٹیڈیمز میں پہلے ہی بیرونی بوتلو ں پر پابندی تھی جسے اب پورے ٹورنامنٹ میں یکساں طور پر نافذ کیا جا رہا ہے۔

    دوسری جانب شائقین نے گرم موسم میں پانی کی دستیابی پر تشویش کا اظہار کیا ہے کیونکہ بعض مقامات پر درجہ حرارت 26 سے 28 ڈگری سینٹی گریڈ تک رہنے کی توقع ہے فیفا نے یقین دہانی کرائی ہے کہ اسٹیڈیمز کے اطراف مسٹنگ اسٹیشنز، ہائیڈریشن پوائنٹس، کولنگ ٹینٹس اور دیگر سہولیات فراہم کی جائیں گی۔

    واضح رہے کہ 48 ٹیموں پر مشتمل ورلڈ کپ 11 جون سے 19 جولائی تک امریکا، کینیڈا اور میکسیکو میں منعقد ہوگا-

  • اسرائیل نے فلسطینی ویمن فٹبال ٹیم کی دو انٹرنیشنل کھلاڑیوں کو حراست میں لے لیا

    اسرائیل نے فلسطینی ویمن فٹبال ٹیم کی دو انٹرنیشنل کھلاڑیوں کو حراست میں لے لیا

    اسرائیلی حکام نے فلسطین ویمن فٹبال ٹیم کی دو انٹرنیشنل کھلاڑیوں رند الحلاوانی اور نٹالی ابو دایہ کو حراست میں لے لیا ہے-

    اطلاعات کے مطابق نٹالی ابو دایہ کو مقبوضہ مغربی کنارے میں ایک یونیورسٹی کے طلبہ ہاسٹل پر کیے گئے چھاپے کے دوران حراست میں لیا گیا، جبکہ رند الحلاوانی کو مقبوضہ بیت المقدس میں پولیس اسٹیشن طلب کرنے کے بعد حراست میں لیا گیا۔

    فلسطین فٹبال ایسوسی ایشن نے اس کارروائی کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ فلسطینی کھلاڑیوں کو باضابطہ طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے، جو کھیلوں کے عالمی اصولوں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے،ایسوسی ایشن نے فیفا سے فوری مداخلت کا مطالبہ بھی کیا ہے اور کہا ہے کہ کھلاڑیوں کو ان کے پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی پر نشانہ بنانا ناقابل قبول عمل ہے۔

    ماہرین کے مطابق اس واقعے نے نہ صرف خطے میں سیاسی کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے بلکہ کھیلوں کی دنیا میں بھی ایک نیا تنازع کھڑا کر دیا ہے۔

  • 15 سالہ کھلاڑی ویبھو سوریاونشی نے آئی پی ایل کمائی میں سینئیرز کو پیچھے چھوڑدیا

    15 سالہ کھلاڑی ویبھو سوریاونشی نے آئی پی ایل کمائی میں سینئیرز کو پیچھے چھوڑدیا

    انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) 2026 میں راجستھان رائلز کے 15 سالہ نوجوان اوپننگ بیٹر ویبھوو سوریاونشی نے نہ صرف اپنی شاندار بیٹنگ سے دھوم مچائی بلکہ اپنے پہلے ہی بڑے سیزن میں کروڑوں روپے کما کر ایک نیا ریکارڈ قائم کر دیا۔

    پورے سیزن میں 72 چھکوں کی مدد سے سب سے زیادہ 776 رنز بنا کر اورنج کیپ جیتنے والے اس نوجوان کرکٹر کی مجموعی آمدن 2.50 کروڑ بھارتی روپے سے تجاوز کر گئی ہے،آئی پی ایل 2026 کی اختتامی تقریب میں 15 سالہ ویبھو سوریاونشی پر انعامات کی برسات ہوئی، جہاں انہیں ان کی شاندار کارکردگی پر متعدد بڑے اعزازات اور نقد رقم سے نوازا گیا۔

    انہیں راجستھان رائلز نے گزشتہ سیزن سے پہلے ہونے والی نیلامی میں 1.10 کروڑ بھارتی روپے میں اسکواڈ کا حصہ بنایا تھا، جبکہ اس سال ان کی ریٹینر رقم بھی وہی رہی، تاہم مستقل شاندار کارکردگی کے باعث ان کی مجموعی آمدن اس سے کہیں زیادہ رہی اگرچہ راجستھان رائلز فائنل کے لیے کوالیفائی نہیں کر سکی، لیکن ویبھو سوریاونشی نے احمد آباد کے نریندر مودی اسٹیڈیم میں کھیلے گئے فائنل میں شرکت کی۔ اس میچ میں رائل چیلنجرز بنگلورو نے دو سالوں میں دوسری بار ٹائٹل جیتا۔

    ان ایوارڈز کی تفصیلات کے مطابق سیزن کے بہترین کھلاڑی کے طور پر انہیں موسٹ ویلیو ایبل پلیئر (MVP) کا ایوارڈ دیا گیا جس کے ساتھ 15 لاکھ روپے کی نقد رقم شامل تھی اس کے علاوہ پورے ٹورنامنٹ میں سب سے زیادہ رنز بنانے پر انہیں اورنج کیپ سے نوازا گیا جس پر انہیں 10 لاکھ روپے کا انعام ملا۔

    سوریاونشی کو ان کی جارحانہ بیٹنگ پر سپر اسٹرائیکر آف دی سیزن کا اعزاز بھی دیا گیا، جس کے تحت انہیں 10 لاکھ روپے نقد اور ایک برانڈ نیو ٹاٹا سیرا کار بطور انعام دی گئی، سیزن میں مجموعی طور پر 72 چھکے لگانے پر انہیں سپر سکسز آف دی سیزن کے ایوارڈ کے ساتھ مزید 10 لاکھ روپے دیے گئے،ر موسٹ سکسز آف دی میچ پر بھی ہر بار 1 لاکھ روپے دیے گئے، جبکہ ٹورنامنٹ کے سب سے بہترین نوجوان کھلاڑی کے طور پر ایمرجنگ پلیئر آف دی سیزن کا ایوارڈ بھی ان کے نام رہا، جس کے ساتھ 10 لاکھ روپے کی نقد رقم شامل تھی۔

    ان سالانہ ریٹینر اور انعامی رقوم کے علاوہ سوریہ ونشی کو ہر میچ کے لیے 7.5 لاکھ روپے میچ فیس بھی ملی انہوں نے سیزن میں 16 میچز کھیلے، جس کے نتیجے میں صرف میچ فیس سے ان کی آمدن 1.20 کروڑ روپے تک پہنچی، مجموعی طور پر آئی پی ایل 2026 سیزن میں وائبھو سوریہ ونشی کی آمدن 2.50 کروڑ روپے سے تجاوز کر گئی۔