Baaghi TV

Category: کھیل

  • بنگلہ دیش اے اور سری لنکا اے کی ٹیمیں پاکستان کا دورہ کریں گی

    بنگلہ دیش اے اور سری لنکا اے کی ٹیمیں پاکستان کا دورہ کریں گی

    بنگلہ دیش اے اور سری لنکا اے کی ٹیمیں اس سال بالترتیب اگست اور نومبر میں پاکستان کا دورہ کریں گی ۔ دونوں ٹیمیں پاکستان شاہینز کے خلاف چار ، چار روزہ میچز اور چھ ، پچاس اوورز کے ون ڈے میچز کھیلیں گی۔ دونوں ٹیموں کے میچز کے مقامات کا اعلان مناسب وقت پر کیا جائے گا۔

    یاد رہے کہ پاکستان شاہینز اور بنگلہ دیش اے کی ٹیمیں اسوقت ڈارون میں میچز کھیل رہی ہیں۔پاکستان شاہینز نے پہلا چار روزہ میچ 148 رنز سے جیتا ہے جبکہ دوسرا چار روزہ میچ جمعہ سے کھیلا جائے گا۔

    پاکستان کے دورے پر بنگلہ دیش اے کی ٹیم پہلا چار روزہ میچ 10 سے 13 اگست تک کھیلے گی جبکہ دوسرا چار روزہ میچ 17 سے 20 اگست تک کھیلا جائے گا۔ بنگلہ دیش اے اور پاکستان شاہینز کے درمیان تین پچاس اوورز کے ون ڈے میچز 23، 25 اور 27 اگست کو کھیلے جائیں گے۔

    سری لنکا اے کی ٹیم نومبر میں پاکستان آئے گی۔ پہلا چار روزہ میچ 11 سے 14 نومبرتک اور دوسرا چار روزہ میچ 18 سے 21 نومبر تک کھیلا جائے گا۔ ون ڈے میچز 25، 27 اور 29 نومبر کو ہونگے۔
    ان میچوں کے مقامات کا اعلان بھی مناسب وقت پر کیا جائے گا-

    دریں اثنا پاکستان ایمرجنگ ٹیم اس سال اے سی سی ایمرجنگ ٹیمز ایشیا کپ میں اپنے اعزاز کا دفاع کرے گی جو اکتوبر میں کھیلا جائے گا جبکہ پاکستان انڈر 19 ٹیم نومبر/دسمبر میں اے سی سی انڈر 19 ایشیا کپ میں حصہ لے گی۔

    ایشین کرکٹ کونسل دونوں ٹورنامنٹس کی تفصیلات کا اعلان مناسب وقت پر کرے گی۔

    پاکستان انڈر 19 ٹیم ایشیا کپ انڈر 19 ٹورنامنٹ سے قبل سہ فریقی انڈر19 ون ڈے سیریز میں بھی حصہ لے گی۔

    ڈیولپمنٹ/پاتھ ویز ایونٹس کا شیڈول۔

    بنگلہ دیش اے دورہ پاکستان

    10 تا13 اگست – پہلا چار روزہ میچ ۔
    17 تا 20 اگست – دوسرا چار روزہ میچ۔

    23 اگست – پہلا پچاس اوورز میچ ۔
    25 اگست دوسرا پچاس اوورز میچ ۔
    27 اگست تیسرا پچاس اوورز میچ۔

    اے سی سی ایمرجنگ ٹیمز ایشیا کپ 2024۔

    اکتوبر۔( تاریخ اور مقام کا اعلان بعد میں ہوگا) ۔

    سری لنکا اے دورہ پاکستان

    11تا 14نومبر – پہلا چار روزہ میچ۔
    18 تا 21نومبر – دوسرا چار روزہ میچ ۔
    25 نومبر – پہلا پچاس اوورز میچ۔
    27 نومبر – دوسرا پچاس اوورز میچ۔
    29 نومبر ۔ تیسرا پچاس اوورز میچ۔

    انڈر 19 سہ فریقی ون ڈے
    ٹورنامنٹ اور اے سی سی انڈر19 ایشیا کپ 2024۔

    نومبر۔ دسمبر۔( تاریخ اور مقام کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔)۔

  • نیشنل ویمنز فٹبال کلب چیمپئن شپ 2024 میں دوسرے روز تین میچوں کا فیصلہ ہوا

    نیشنل ویمنز فٹبال کلب چیمپئن شپ 2024 میں دوسرے روز تین میچوں کا فیصلہ ہوا

    نیشنل ویمنز فٹبال کلب چیمپئن شپ 2024 میں دوسرے روز تین میچوں کا فیصلہ ہوا۔ اسلام آباد میں کھیلے جانے والے پہلے میچ میں ہائی لینڈرز ویمنز فٹبال کلب نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نواں شیر یونائیٹڈ فٹبال کلب کو 16-0 سے شکست دی۔ کوئٹہ میں ہونے والے دوسرے میچ میں میں ہزارہ یونائیٹڈ فٹبال کلب کا مقابلہ کوئٹہ ویمن فٹبال کلب سے ہوا، دلچسپ مقابلے کے بعد ہزارہ یونائیٹڈ نے 1-0 سے میچ اپنے نام کر لیا۔ دن کا تیسرا میچ کراچی میں ہوا جہاں دیہ فٹبال کلب نے بلوچ محمڈن ویمن فٹبال کلب کو 4-2 سے شکست دی۔

  • آئی سی سی کا سالانہ اجلاس: چیمپئنز ٹرافی بجٹ کی منظوری پر خاموشی، دیگر اہم فیصلے ہو گئے

    آئی سی سی کا سالانہ اجلاس: چیمپئنز ٹرافی بجٹ کی منظوری پر خاموشی، دیگر اہم فیصلے ہو گئے

    انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے اپنے سالانہ اجلاس کے اختتام پر اعلامیہ جاری کیا ہے جس میں چیمپئنز ٹرافی کے بجٹ کی منظوری کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔ اجلاس میں آئی سی سی کے تمام 108 ممبران نے شرکت کی، اور مختلف اہم معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔اعلامیہ کے مطابق، اجلاس میں اولمپکس 2028 میں کرکٹ کی شمولیت پر بات چیت ہوئی۔ آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2024 کے معاملات کا ازسر نو جائزہ لینے کی منظوری بھی دی گئی ہے، اور اس کی رپورٹ تین ڈائریکٹرز، راجر ٹوسے، لاسن نائیڈو، اور عمران خواجہ، رواں سال پیش کریں گے۔ اس سلسلے میں یو ایس اے کرکٹ اور کرکٹ چلی کو باضابطہ طور پر نوٹس جاری کیا گیا ہے۔
    چیف ایگزیکٹوز کمیٹی نے آئی سی سی مینز ٹی 20 ورلڈ کپ 2026 کے لئے آٹھ علاقائی کوالیفائنگ اسپاٹس کی الاٹمنٹ کی منظوری دی ہے۔ افریقہ اور یورپ سے دو ٹیمیں، امریکہ سے ایک، اور ایشیا و ایسٹ ایشیا سے تین مشترکہ ٹیمیں کوالیفائی کریں گی۔اجلاس میں 2030 میں ہونے والے آئی سی سی خواتین کے ٹی 20 ورلڈ کپ کو 12 سے 16 ٹیموں تک بڑھانے کی منظوری دی گئی۔ آئی سی سی ویمنز ٹی 20 ورلڈ کپ 2026 کے کوالیفائر کے لئے کوالیفائی کرنے کی کٹ آف ڈیٹ 31 اکتوبر 2024 مقرر کی گئی ہے۔اجلاس میں سی ای سی نے پال ریفل کی آئی سی سی مینز کرکٹ کمیٹی میں ایلیٹ پینل کے نمائندے کے طور پر تقرری کی منظوری بھی دے دی۔
    آئی سی سی کے سالانہ اجلاس میں کئی اہم فیصلے کیے گئے، جن میں ٹی 20 ورلڈ کپ کے کوالیفائنگ اسپاٹس کی الاٹمنٹ اور خواتین کے ٹی 20 ورلڈ کپ کی توسیع شامل ہیں۔ تاہم، چیمپئنز ٹرافی کے بجٹ کی منظوری کے بارے میں کوئی ذکر نہ ہونا اہم ہے اور اس پر مزید تفصیلات آنے والے وقت میں سامنے آ سکتی ہیں۔

  • گلگت بلتستان: 2 پاکستانیوں سمیت 13 کوہ پیماؤں کی گاشہ برم ٹو (کے فور) سر کرنے کی کامیابی

    گلگت بلتستان: 2 پاکستانیوں سمیت 13 کوہ پیماؤں کی گاشہ برم ٹو (کے فور) سر کرنے کی کامیابی

    گلگت بلتستان: دنیا کی تیرویں بلند ترین چوٹی، گاشہ برم ٹو، جسے کے فور بھی کہا جاتا ہے، کو 2 پاکستانی کوہ پیماؤں سمیت 13 کوہ پیماؤں نے کامیابی سے سر کر لیا ہے۔ اس عظیم کارنامے کا اعلان نیپالی کوہ پیمائی کمپنی سیون سمٹ ٹریکس کے منیجر چھانگ داوا شیرپا نے سوشل میڈیا پر کیا۔چھانگ داوا شیرپا نے اپنی پوسٹ میں بتایا کہ ان کی ٹیم نے گاشہ برم ٹو کو کامیابی کے ساتھ سر کر لیا ہے اور اس پر انہیں فخر ہے۔ انہوں نے کہا، "ہم نے یہ سنگ میل رسیوں کو ٹھیک کرتے ہوئے اور ٹریل کھولتے ہوئے حاصل کیا، اور یہ سب ٹیم ورک کے ذریعے ممکن ہوا ہے۔ ہر رکن کی غیر معمولی استقامت پر ہم انہیں مبارکباد پیش کرتے ہیں۔”
    چوٹی سر کرنے والے کوہ پیماؤں میں روس کی الینا پیکووا، پولینڈ سے ڈوروٹا لیڈیا راسینسکا سموکو، سوئٹزرلینڈ سے جوزیٹ ویلوٹن، اٹلی سے مارکو کمڈونا، اور نیپال سے پاسنگ ٹینجے شیرپا شامل ہیں۔ نیپال سے داوا نوربو شیرپا، چھانگ داوا شرپا، فربو کُوبا، شیرپا، پاسنگ ڈوکپا شیرپا، اور سانو شیرپا بھی چوٹی سر کرنے والوں میں شامل ہیں۔نیپال کی ٹیم کے علاوہ، البانیہ سے یوتا ابراہیمی اور پاکستان سے شاہدہ جمیل آفریدی اور رانا حسین جاوید نے بھی چوٹی سر کرنے کا اعزاز حاصل کیا ہے۔قراقرم ایڈوینچر ٹورازم کمپنی کے منیجنگ ڈائریکٹر سخاوت حسین نے بھی تصدیق کی کہ 13 کوہ پیماؤں نے اتوار کو مختلف اوقات میں چوٹی کو سر کر لیا ہے۔یہ کارنامہ ان کوہ پیماؤں کے عزم اور ہمت کا منہ بولتا ثبوت ہے، جو اپنی جان کی پروا نہ کرتے ہوئے دنیا کی بلند ترین چوٹیاں سر کرنے کے لئے نکلتے ہیں۔ گاشہ برم ٹو کو سر کرنا ان تمام کوہ پیماؤں کے لئے ایک بڑا اعزاز ہے اور یہ ان کی محنت اور لگن کا نتیجہ ہے۔

  • پاکستان ویمنز کرکٹ ٹیم کی کپتان ندا ڈار نے ایک اہم مرحلے کو عبور کرلیا

    پاکستان ویمنز کرکٹ ٹیم کی کپتان ندا ڈار نے ایک اہم مرحلے کو عبور کرلیا

    ندا ڈار نے پاکستان ویمنز کرکٹ ٹیم کی تاریخ میں اہم سنگ میل حاصل کیا ہے، جب وہ پہلی خواتین کرکٹر بن گئیں جنہوں نے 150 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچز کھیلے ہیں۔
    ان کا یہ سنگ میل ایشیا کپ میں بھارت کے خلاف ہونے والے میچ میں حاصل ہوا۔پاکستان ویمنز کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ محمد وسیم نے میچ سے قبل ندا ڈار کو ان کی محنت اور مضبوطی پر سوینئر دیا۔ انہوں نے ٹیم کی دستخط شدہ شرٹ بھی پیش کی جو ان کے اس اہم لمحے کو سیمول کرتی ہے۔اس میچ میں ویمنز ایشیا کپ، بھارت کی ویمنز کرکٹ ٹیم نے پاکستان ویمنز کو 7 وکٹوں سے شکست دے دی، جس کے باوجود ندا ڈارکے اس اہم مرحلے نے پاکستانی کرکٹ کے ایک نیا سفر کی شروعات کو نئی روشنی میں چمکا دیا۔

  • پی سی بی کا بڑا فیصلہ: بابر، رضوان اور شاہین کو کینیڈین ٹی20 لیگ کی اجازت نہیں

    پی سی بی کا بڑا فیصلہ: بابر، رضوان اور شاہین کو کینیڈین ٹی20 لیگ کی اجازت نہیں

    پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے اپنے تین اہم کھلاڑیوں بابر اعظم، محمد رضوان اور شاہین شاہ آفریدی کو کینیڈا کی گلوبل ٹی20 لیگ میں شرکت کی اجازت نہیں دی ہے۔ بورڈ نے ان کھلاڑیوں کے لیے این او سی (نو آبجیکشن سرٹیفکیٹ) جاری نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔پی سی بی کے ترجمان نے بتایا کہ یہ فیصلہ پاکستان کرکٹ کے آنے والے مصروف سیزن اور کھلاڑیوں کے ورک لوڈ کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا، "بابر اعظم، محمد رضوان اور شاہین شاہ آفریدی تینوں فارمیٹ کے کھلاڑی ہیں اور پاکستان ٹیم کو آنے والے سیزن میں ان کی خدمات کی ضرورت ہوگی۔”بورڈ کا مؤقف ہے کہ وہ چاہتا ہے کہ یہ تینوں کرکٹرز سیزن کے آغاز میں مکمل طور پر فٹ اور تازہ دم ہوں۔ یہ فیصلہ کھلاڑیوں کی صحت اور کارکردگی کو برقرار رکھنے کے لیے کیا گیا ہے۔
    دوسری جانب، پی سی بی نے افتخار احمد، محمد عامر، آصف علی اور محمد نواز کو کینیڈین لیگ میں کھیلنے کی اجازت دے دی ہے۔ ان کھلاڑیوں کے لیے این او سی جاری کر دی گئی ہے۔ آنے والے مہینوں میں پاکستان کو کئی اہم سیریز اور ٹورنامنٹس کھیلنے ہیں، جن میں ورلڈ کپ بھی شامل ہے۔ ایسے میں اہم کھلاڑیوں کو آرام دینا اور انہیں زیادہ کھیلنے سے بچانا ضروری ہے۔تاہم، کچھ مبصرین کا خیال ہے کہ اس فیصلے سے کھلاڑیوں کو بین الاقوامی لیگز میں تجربہ حاصل کرنے کا موقع نہیں ملے گا۔ وہ کہتے ہیں کہ مختلف حالات میں کھیلنا کھلاڑیوں کی صلاحیتوں کو بڑھاتا ہے۔پی سی بی کے اس فیصلے پر کھلاڑیوں کی جانب سے ابھی تک کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ بورڈ جلد ہی پاکستان کرکٹ ٹیم کے آنے والے شیڈول کا اعلان کرے گا، جس سے یہ واضح ہو جائے گا کہ کھلاڑیوں کو کن سیریز اور ٹورنامنٹس کے لیے تیار رہنا ہے۔

  • سری لنکا کی انڈر 19 کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان دھمیکا نروشنا گھر میں قتل

    سری لنکا کی انڈر 19 کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان دھمیکا نروشنا گھر میں قتل

    سری لنکا کی انڈر 19 کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان دھمیکا نروشنا کو گولی مار کرقتل کر دیا گیا

    سری لنکن کے کھلاڑی دھمیکا نروشنا کو منگل کی شب انکے گھر گولیاں مار کر قتل کیا گیا،میڈیا رپورٹس کے مطابق کھلاڑی پر جب گولیاں چلائی گئیں تو انکی اہلیہ اپنے دو بچوں کے ساتھ گھر میں موجود تھیں،سابق کپتان دھمیکا نروشنا پر 12 بور گن سے فائرنگ کی گئی، واقعہ کی اطلاع ملنے پر پولیس موقع پر پہنچ گئی،مقتول کرکٹر کی لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا گیا ہے جبکہ مزید تحقیقات جاری ہیں

    سری لنکا کی پولیس نے کھلاڑی کے قتل پر تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ پولیس کے ترجمان نہال تھلڈووا نے کہا، "شوٹنگ میں ملوث مشتبہ شخص کی گرفتاری کے لیے تحقیقات جاری ہیں جو کہ گینگ دشمنی کا نتیجہ معلوم ہوتا ہے۔ نیروشنا تین ماہ قبل اسی علاقے میں اپنے قریبی دوست داسن مانواڈو کے قتل کے بعد ملک سے فرار ہونے کے بعد واپس سری لنکا آیا تھا۔

    پولیس نروشنا کی موت اور 2016 میں فرسٹ کلاس کرکٹر اور جنوبی علاقہ کے کرکٹ کے سابق منتظم ایچ پریماسیری کے قتل کے درمیان ممکنہ تعلق کی بھی تلاش کر رہی ہے۔ پریماسیری کو ان کی رہائش گاہ کے قریب گولی مار دی گئی تھی، اور شبہ ہے کہ اس کے قتل کا تعلق گال انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلوں میں شامل بین الاقوامی میچ فکسنگ ریکیٹ سے تھا۔گال اپنی انڈرورلڈ سرگرمیوں اور گینگ سے متعلق قتل کے لیے جانا جاتا ہے، جس میں متعدد متاثرین کرکٹ سے جڑے ہوئے ہیں۔ یہ تناظر نروشنا کے قتل کی تحقیقات کی پیچیدگی میں اضافہ کرتا ہے۔

    نروشنا کو سری لنکا کے یوتھ سسٹم سے باہر آنے والے بہترین تیز بلےباز آل راؤنڈرز میں سے ایک کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔ نروشنا نے 2001 سے 2004 کے درمیان گال کرکٹ کلب کے لیے کل 12 فرسٹ کلاس گیمز اور 8 لسٹ اے میچز کھیلے۔ ایک عمدہ آل راؤنڈر، جو بلے اور گیند دونوں سے ہی ڈلیور کر سکتا تھا، نروشنا نے 300 سے زیادہ رنز بنائے، اپنے کیریئر کے دوران 19 وکٹیں حاصل کی تھیں،

  • پاکستان میں ہونے والی آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کا بجٹ تیار

    پاکستان میں ہونے والی آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کا بجٹ تیار

    لاہور: پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے آئندہ سال پاکستان میں منعقد ہونے والی آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کے لیے بجٹ کو حتمی شکل دے دی ہے۔ یہ بجٹ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے ساتھ مشاورت کے بعد تیار کیا گیا ہے۔پی سی بی کے ذرائع کے مطابق، یہ بجٹ آئی سی سی کے چیف فنانس آفیسر انکر کھنہ اور پی سی بی کے سی ایف او جاوید مرتضی کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے۔ اس بجٹ کو 22 جولائی کو سری لنکا کے دارالحکومت کولمبو میں ہونے والے آئی سی سی کے اجلاس میں منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔
    اس سلسلے میں، پی سی بی کے سربراہ محسن نقوی اور چیف ایگزیکٹو آفیسر سلمان نصیر 18 جولائی کو کولمبو روانہ ہوں گے، جہاں وہ 19 جولائی سے شروع ہونے والی آئی سی سی کی سالانہ میٹنگز میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔یاد رہے کہ پاکستان کو 19 فروری سے 9 مارچ 2025 تک آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کی میزبانی کرنی ہے۔ اس اہم ٹورنامنٹ کی تیاریوں کے سلسلے میں، پچز اور گراؤنڈز کو آئی سی سی کے کیورٹر اینڈی ایٹکسن کی ہدایات کے مطابق تیار کیا جا رہا ہے۔پی سی بی کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ "ہم اس ٹورنامنٹ کی کامیاب میزبانی کے لیے پرعزم ہیں۔ بجٹ کی منظوری کے بعد ہم تیاریوں کو مزید تیز کر دیں گے۔”
    یہ ٹورنامنٹ پاکستان کے لیے بہت اہم ہے کیونکہ یہ 1996 کے بعد پہلا موقع ہے جب پاکستان کسی بڑے آئی سی سی ایونٹ کی میزبانی کرے گا۔ اس سے نہ صرف پاکستان کی بین الاقوامی ساکھ بہتر ہوگی بلکہ ملک میں کرکٹ کے فروغ کو بھی فائدہ پہنچے گا۔کرکٹ مبصرین کا کہنا ہے کہ اس ٹورنامنٹ کی کامیاب میزبانی سے پاکستان کو مستقبل میں مزید بڑے کرکٹ ایونٹس کی میزبانی کے مواقع مل سکتے ہیں۔ پی سی بی اور حکومت پاکستان دونوں اس ایونٹ کو ہر لحاظ سے کامیاب بنانے کے لیے پرعزم نظر آتے ہیں۔

  • پاکستان ویمنز کرکٹ ٹیم ٹی 20 ایشیا کپ میں شرکت کے لیے سری لنکا پہنچ گئی

    پاکستان ویمنز کرکٹ ٹیم ٹی 20 ایشیا کپ میں شرکت کے لیے سری لنکا پہنچ گئی

    پاکستان کی 15 رکنی قومی ویمنز کرکٹ ٹیم ٹی 20 ایشیا کپ کرکٹ ٹورنامنٹ میں شرکت کے لیے سری لنکا پہنچ گئی ہے۔ یہ ایونٹ 19 سے 28 جولائی تک دمبولا میں کھیلا جائے گا۔قومی ٹیم کی قیادت ندا ڈار کر رہی ہیں اور ٹیم کراچی سے دبئی کے راستے کولمبو پہنچ کر دمبولا روانہ ہوئی۔ گروپ اے میں شامل پاکستان ویمنز ٹیم اپنا پہلا میچ 19 جولائی کو روایتی حریف اور دفاعی چیمپئن بھارت کے خلاف کھیلے گی۔پاکستانی سکواڈ میں شامل کھلاڑیوں میں کپتان ندا ڈار، عالیہ ریاض، ڈائنا بیگ، فاطمہ ثنا، گل فیروزہ، ارم جاوید، منیبہ علی، ناجیہ علوی، نشرہ سندھو، عمائمہ سہیل، سعدیہ اقبال، سدرا امین، سیدہ عروب شاہ، تسمیہ وہاب اور طوبہ حسن شامل ہیں۔

    ٹورنامنٹ میں 8 ٹیمیں شرکت کر رہی ہیں، جنہیں دو گروپس میں تقسیم کیا گیا ہے۔ گروپ اے میں پاکستان، بھارت، نیپال اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں جبکہ گروپ بی میں بنگلہ دیش، ملائشیا، تھائی لینڈ اور میزبان سری لنکا شامل ہیں۔ فائنل میچ 28 جولائی کو کھیلا جائے گا۔پاکستانی ٹیم کی تیاری مکمل ہے اور ٹیم کے کپتان ندا ڈار نے کہا ہے کہ ہماری ٹیم مکمل طور پر تیار ہے اور ہم اپنی بہترین کارکردگی دکھانے کے لیے پرعزم ہیں۔ ایشیا کپ میں شریک ٹیموں کے درمیان مقابلہ سخت ہوگا، لیکن ہماری ٹیم اس چیلنج کے لیے تیار ہے۔ایشیا کپ ٹی 20 ٹورنامنٹ خواتین کرکٹ کے میدان میں ایک اہم ایونٹ ہے اور پاکستانی ٹیم کی کارکردگی پر سب کی نظریں ہوں گی۔ امید ہے کہ قومی ٹیم اپنے شائقین کی توقعات پر پورا اترے گی اور بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرے گی۔

  • آئی سی سی کا سالانہ اجلاس: عالمی کرکٹ کے مستقبل کا فیصلہ کولمبو میں ہوگا

    آئی سی سی کا سالانہ اجلاس: عالمی کرکٹ کے مستقبل کا فیصلہ کولمبو میں ہوگا

    عالمی کرکٹ کی سب سے بڑی تنظیم، انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کا سالانہ اجلاس 19 سے 22 جولائی تک پہلی بار ایشیا میں، کولمبو شہر میں منعقد ہونے جا رہا ہے۔ یہ خبر سری لنکا کرکٹ بورڈ نے جاری کی ہے۔اس اہم اجلاس میں دنیا بھر سے 108 رکن ممالک کے 220 نمائندے شرکت کریں گے۔ اجلاس کے ایجنڈے میں سب سے اہم نکتہ کرکٹ کو 2028 کے لاس اینجلس اولمپکس میں شامل کرنے کا مسئلہ ہے۔ اس کے علاوہ، ذرائع کے مطابق چیمپئنز ٹرافی کے مستقبل پر بھی بات چیت ہونے کا امکان ہے۔پاکستان کی نمائندگی چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) محسن نقوی اور سی ای او پی سی بی سلمان نصیر کریں گے۔ دونوں اعلیٰ حکام 18 جولائی کو سری لنکا روانہ ہوں گے۔کرکٹ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اجلاس عالمی کرکٹ کے مستقبل کے لیے انتہائی اہم ہے۔ کرکٹ کو اولمپکس میں شامل کرنے سے اس کھیل کی مقبولیت میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے اور نئے ممالک میں اس کی ترویج کا راستہ کھل سکتا ہے۔
    دوسری جانب، چیمپئنز ٹرافی کے حوالے سے فیصلے بھی بڑی دلچسپی سے دیکھے جا رہے ہیں۔ گزشتہ کچھ عرصے سے اس ٹورنامنٹ کے مستقبل پر سوالات اٹھتے رہے ہیں اور اس اجلاس میں اس حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ ہونے کی توقع ہے۔سری لنکا کرکٹ بورڈ کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے کہا کہ وہ اس اجلاس کی میزبانی پر فخر محسوس کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ان کے ملک کے لیے ایک بڑا اعزاز ہے اور وہ تمام مہمانوں کی مکمل مہمان نوازی کریں گے۔کرکٹ مداح اب اس اجلاس کے نتائج کا بےصبری سے انتظار کر رہے ہیں۔ امید کی جا رہی ہے کہ اس اجلاس سے نکلنے والے فیصلے عالمی کرکٹ کو نئی سمت دیں گے اور اس کھیل کو مزید مضبوط بنائیں گے