اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق، بورڈ آف کنٹرول فار کرکٹ ان انڈیا (BCCI) عالمی کھیلوں کے دائرے میں سب سے امیر ترین گورننگ باڈی کے طور پر کھڑا ہے، جو بڑے پیمانے پر اس کے فلیگ شپ ٹوئنٹی 20 ٹورنامنٹ کی زبردست فتح سے آگے بڑھا ہے۔2008 میں اپنے آغاز کے بعد سے، انڈین پریمیئر لیگ (IPL) نے نہ صرف متعدد کھلاڑیوں کو کروڑ پتی کا درجہ دیا ہے بلکہ اس نے میڈیا کے حقوق کے ذریعے اربوں کمائے بھی ہیں، جس سے آنے والے سالوں میں کرکٹ کے پرجوش ممالک میں بھی اسی طرح کی لیگز کی تخلیق کی ترغیب دی گئی ہے۔بی سی سی آئی کی 2021-22 تک کے پانچ سالوں پر محیط سالانہ رپورٹس، جو بی سی سی آئی کی ویب سائٹ پر عام کی گئی تھیں، اپریل 2022 تک 320 بلین روپے (2.7 بلین ڈالر کے مساوی) کے سرپلس کو ظاہر کرتی ہیں۔نئی جاری کردہ مالیاتی دستاویزات نے انکشاف کیا ہے کہ ہندوستان کے کرکٹ بورڈ نے پچھلے سال کے آئی پی ایل ٹورنامنٹ سے تقریبا 300 ملین ڈالر کی حیرت انگیز رقم حاصل کی ہے۔اس مخصوص سال کے آئی پی ایل کے مالیاتی ریکارڈز سے 292 ملین ڈالر کی خالص آمدنی ظاہر ہوتی ہے، جو کہ مجموعی طور پر 771 ملین ڈالر کی آمدنی سے ہوتی ہے، جب کہ آڈٹ شدہ مالیاتی اعداد و شمار کے مطابق، اخراجات 479 ملین ڈالر تھے۔اب تک، بی سی سی آئی نے اپنی مالی تفصیلات کو بڑے پیمانے پر ظاہر نہ کرنے کا رواج برقرار رکھا تھا۔ جامع مالیاتی اکاؤنٹس 2017 سے نامعلوم رہے تھے۔
اس سال، بی سی سی ائی نے T20 ٹورنامنٹ کے اپنے افتتاحی ویمنز ایڈیشن کا انعقاد کیا، جس نے مشترکہ فرنچائز اور میڈیا کے حقوق میں تقریباً 700 ملین ڈالر کمائے۔
Category: کھیل
-

عالمی کھیلوں کے دائرے میں سب سے امیر ترین گورننگ باڈی کے طور پر کون سب سے آگے ہے؟
-

ورلڈ کپ کی ٹرافی تاج محل کے سامنے رونما
آئی سی سی کی ورلڈکپ ٹرافی بھارت کے تاریخی شہر آگرہ میں تاج محل کے سامنے پہنچادی گئی۔ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر(ایکس) پر ٹرافی کی تصویر شیئر کی اور ساتھ ہی مداحوں کو آگاہ کیا کہ ورلڈکپ آنے میں صرف 49 روز باقی رہ گئے ہیں۔
واضح رہے کہ بھارت پہلی بار دنیائے کرکٹ کے سب سے بڑے ایونٹ، ورلڈکپ کے تمام میچز کی میزبانی کررہا ہے اور بھارت کے 10 مقامات پر میچز کھیلیں جائیں گے۔
5 اکتوبر سے شروع ہونے والے اس رنگا رنگ عالمی میلے کے میچز دیکھنے کے خواہش مند 25 اگست سے اپنے پسندیدہ میچز کی ٹکٹس خرید سکیں گے، ایونٹ کا سب سے بڑا مقابلہ پاکستان اور بھارت کےدرمیان 14 اکتوبر کو احمد آباد میں رکھا گیا ہے، جس کے لیے ٹکٹس کی بکنگ 3 ستمبر سے اوپن ہوگی۔
میگا ایونٹ کا فائنل احمد آباد کے نریندر مودی اسٹیڈیم میں کھیلا جائے گا جہاں ایک لاکھ سے زائد شائقین کے بیٹھنے کی گنجائش ہے۔ -

شاہد آفریدی کی سنیل شیٹی سے ملاقات
پاکستان کرکٹ کے سابق کپتان شاہد آفریدی کی بالی ووڈ کے سُپر اسٹار سنیل شیٹھی سے مختصر لیکن خوشگوار ملاقات کی ویڈیو وائرل ہوگئی۔شاہد آفریدی اور سنیل شیٹھی کی ملاقات امریکہ میں ہوئی جب وہ ایک ریسٹورنٹ میں اپنی فیملی کے ساتھ موجود تھے۔شاہد آفریدی نے سنیل شیٹھی سے کہا کہ ’آپ کو ٹی وی پر دیکھا ہے‘۔ سابق کپتان نے سنیل شیٹھی سے اپنی بیٹیوں کی بھی ملاقات کروائی۔سوشل میڈیا پر شاہد آفریدی اور سنیل شیٹھی کی ملاقات کی ویڈیو وائرل ہو رہی ہے جس پر لاکھوں ویوز آچکے ہیں۔
-

حسن علی لنکن پریمئیر لیگ میں انجری کا شکار
قومی کرکٹ ٹیم کے فاسٹ بولر حسن علی لنکن پریمیئر لیگ میں انجری کا شکار ہوگئے۔ قومی پیسر حسن علی بدقسمتی سے گال ٹائٹنز کے خلاف پلے آف میچ کے دوران انگلی کی انجری کا شکار ہوئے، جس کے بعد ٹورنامنٹ میں ان کی شرکت مشکوک ہوگئی۔ ایکس ٹوئٹر پر حسن علی نے مداحوں کو انجری کی اطلاع دیتے ہوئے تصدیق کی کہ میچ کے دوران لگنے والی چوٹ کے بعد انکی سرجری ہوئی ہے۔انہوں نے لکھا کہ ٹورنامنٹ کا اختتام میرے لیے اچھے انداز میں نہیں ہوا تاہم میں ایونٹ کے کچھ بہترین لمحات کو یاد کرنا چاہوں گا جبکہ مجھے فوری طبی امداد فراہم کرنے پر ٹیم انتظامیہ کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔ حسن علی نے فینز سے جلد صحتیابی کیلئے دعا کی درخواست بھی کی۔
-

ناہیدہ خان پاکستان ویمن ٹیم کی منیجر مقرر
سابق انٹرنیشنل کرکٹر ناہیدہ خان کو آئندہ جنوبی افریقہ ویمنز سیریز کے لیے پاکستان ویمن ٹیم کی منیجر مقرر کر دیا گیا ہے، یہ سیریز یکم ستمبر سے کراچی میں شروع ہونے والی ہے۔ ناہیدہ کو صرف جنوبی افریقہ سیریز کے لیے تعینات کیا گیا ہے جبکہ عائشہ اشہر ایشین گیمز کے لیے ٹیم منیجر کے طور پر واپس آئیں گی۔
120 میچوں میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والی 36 سالہ ناہیدہ نے 2014 رنز بنائے اور ایک وکٹ حاصل کی، انہوں نے رواں سال جون میں بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ لے لی تھی۔ ایک مختصر کوچنگ کے دور میں، ناہیدہ نے 19 مئی سے 4 جون تک کراچی میں منعقدہ پاکستان کپ ویمن کرکٹ ٹورنامنٹ میں بلاسٹرز کی اسسٹنٹ کوچ کے طور پر کام کیا۔اس سے قبل، اس نے ہیڈ کوچ توفیق عمر کی ایمیزون سائیڈ سے کام کیا، جس نے مارچ میں سپر ویمن کے خلاف ویمن لیگ کے نمائشی میچز 2-1 سے جیتے تھے۔ٹیم مینجمنٹ میں ناہیدہ کو ایک اور سابق انٹرنیشنل کرکٹر کامران حسین جوائن کریں گے جو سلیم جعفر کی جگہ بولنگ کوچ ہوں گے۔ -

اپنے دوستوں سے موازنہ کرنے کے بجائے ہمیشہ وکٹیں حاصل کرنے پر توجہ دی،نسیم شاہ
پاکستان کے فاسٹ باؤلر نسیم شاہ نے سابق کرکٹر عاقب جاوید کے اس بیان کے جواب میں اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے جس نے زمان خان کو ان کی وائٹ بال کرکٹ صلاحیتوں کے لحاظ سے نسیم سے آگے رکھا تھا۔عاقب جاوید نے کہا تھا کہ "وائٹ بال کرکٹ میں، زمان خان میں جو مہارتیں ہیں، میرے خیال میں وہ اس وقت دنیا کے بہترین ڈیتھ بال گیند بازوں میں سے ایک ہیں۔ میں اسے وائٹ بال کرکٹ میں نسیم سے زیادہ درجہ دیتا ہوں، جب نسیم سے عاقب کے تبصروں پر اپنا نقطہ نظر پیش کرنے کے لیے کہا گیا تو انھوں نے کہا کہ انھوں نے کبھی بھی اپنا موازنہ دوسروں سے نہیں کیا۔ کیا میں نے کبھی کہا ہے کہ میں ایک اچھا باؤلر ہوں یا میں کسی سے بہتر ہوں؟” نسیم نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ان کا بنیادی ہدف ہمیشہ اپنی ٹیم کی فتوحات میں حصہ ڈالنا اور وکٹیں حاصل کرنا تھا۔ اپنے ساتھیوں کے خلاف خود کو ماپنے کے بجائے، اس نے باؤلر کے طور پر مسلسل بہتری اور ارتقا کے لیے خود کو وقف کر دیا تھا۔
-

پی سی بی نے جے شاہ کو ایشیا کپ کے افتتاحی میچ کے لیے دوبارہ دعوت دیدی
ایشین کرکٹ کونسل (اے سی سی) کے صدر اور بی سی سی آئی کے سیکرٹری جے شاہ کو پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے ایشیا کپ کا افتتاحی میچ دیکھنے کے لیے مدعو کیا ہے، جس کا آغاز اگست کو پاکستان اور نیپال کے درمیان ملتان میں ہوگا،پی سی بی نے مذکورہ میچ کے لیے دیگر ایشیائی ممالک کے بورڈ آفیشلز کو بھی دعوت نامے بھیجے ہیں۔تاہم اس بات کا امکان کم ہی لگتا ہے کہ جے شاہ افتتاحی میچ میں شرکت کریں گے۔ ڈربن میں آئی سی سی میٹنگ کے موقع پر ان کی اور پی سی بی کی مینجمنٹ کمیٹی کے سربراہ ذکاء اشرف کے درمیان ملاقات ہوئی۔ جب ذکاء اشرف نے جے شاہ سے ایشیا کپ کے لیے پاکستان آنے کے لیے کہا تو وہ شروع میں راضی ہو گئے لیکن بعد میں کسی اور کے مشورے کی بنیاد پر انکار کر دیا۔بورڈ نے کہا کہ وہ جانتے ہیں کہ ہندوستان سے کوئی بھی ایشیا کپ میچ دیکھنے نہیں آئے گا، لیکن پاکستان نے سیاست کو کبھی کھیلوں کے ساتھ نہیں ملایا۔ دوسرے بورڈز کی طرح پاکستان نے بھی خیر سگالی کی بنیاد پر بھارت کو دعوت نامہ بھیجا ہے۔ اب وہ آئیں یا نہ آئیں ان پر منحصر ہے۔یہ پوچھنے پر کہ کیا ذکا اشرف مدعو کیے جانے پر ورلڈ کپ کے لیے بھارت جائیں گے، بورڈ ذرائع نے کہا کہ وقت آنے پر فیصلہ حکومت کی مشاورت سے کیا جائے گا۔
-

عمر اکمل کی لندن میں نواز شریف سے ملاقات
پاکستان کے مایہ ناز بلے باز عمر اکمل کی لندن میں پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف سے ملاقات کی ۔ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے عمر اکمل نے کہا کہ کرکٹ سے متعلق نواز شریف سے بات ہوئی ہے۔میاں صاحب سے ایک درخواست کی ہے جو امید ہے قبول ہو گی۔انہوں نے کہا کہ میاں صاحب کے پاکستان آنے سے کرکٹ کے حالات مزیداچھے ہوں گے۔ پاکستان ٹیم میں موقع ملا تو ضرور کھیلوں گا اور میں کھیلنا بھی چاہتا ہوں۔
-

پی سی بی چئیر مین ذکاء اشرف سے امریکی قونصلر جنرل کی الوداعی ملاقات
پی سی بی کی مینجمنٹ کمیٹی کے چیئرمین ذکا اشرف سے امریکی قونصل جنرل کی ملاقات ہوئی۔امریکی قونصل جنرل ولیم کے مکانیول نے اپنی اہلیہ کے ہمراہ قذافی سٹیڈیم میں پاکستان کرکٹ بورڈ کی مینجمنٹ کمیٹی کے چیئرمین ذکا اشرف سے ملاقات کی۔
ذرائع کے مطابق یہ ملاقات امریکی قونصل جنرل کی الوداعی ملاقاتوں کا حصہ تھی، ان کی دو سالہ مدت سفارت ختم ہو رہی ہے۔
پی سی بی ذرائع کے مطابق ملاقات خوشگوار ماحول میں ہوئی جہاں قونصل جنرل ولیم مکانیولے نے ذکا اشرف کو معذور کرکٹ ٹیم سپورٹ کرنے کے حوالے سے بات چیت بھی کی۔ذکا اشرف نے امریکی قونصل جنرل کو ان کے مستقبل کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور دونوں ممالک کے درمیان اچھے تعلقات کے فروغ میں کھیلوں کی سفارت کاری کی اہمیت پر زور دیا۔ -

پاکستان کے ہیڈ کوچ نے بہتری کے لیے کونسے اہم شعبے کی نشاندہی کی؟
پاکستان کی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ گرانٹ بریڈ برن نے اسکواڈ میں مزید بہتری کا مطالبہ کیا ہے۔ ٹیم کی ٹھوس لائن اپ کو تسلیم کرتے ہوئے، بریڈ برن نے درمیانی اوورز میں نمایاں بہتری کی ضرورت پر زور دیا، جہاں ٹیم کو حالیہ چیلنجز کا سامنا ہے۔ قومی ٹیم کے ہیڈ کوچ نے جارحانہ کھیل کے انداز کی اہمیت پر زور دیا، خاص طور پر کھیل کے وسط اوور کے مرحلے کے دوران کھیلتے ہوئے مزید بہتر کارکردگی دکھانے پر،انہوں نے کہا کہ سری لنکا میں ٹیسٹ سیریز کے دوران ٹیم نے جس طرح سے کھیلا اور یہاں ان کی موجودہ کارکردگی کا مشاہدہ کرتے ہوئے، یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ جارحانہ انداز میں کھیلنے کے لیے پرعزم ہیں اور اپنی صلاحیتوں کو مؤثر طریقے سے استعمال کر رہے ہیں۔ ٹیم اس کارکردگی کا مظاہرہ کر رہی ہے اور وہ اگلے ہفتے ہمبنٹوٹا میں میدان میں اسی انداز سے اتریں گے،
ہمارے پاس کھیل اور خاص طور پر درمیانی اوورز تک پہنچنے کے لیے واضح حکمت عملی ہے۔ تاہم ہم تسلیم کرتے ہیں کہ درمیانی اوورز کے دوران پاکستان کی کارکردگی مطلوبہ طور پر کامیاب نہیں رہی۔ ہم ایسی مہارتیں تیار کرنے کے لیے وقف ہیں جو ہمیں کھیل کے اس نازک مرحلے سے نہ صرف بلے بلکہ گیند اور اپنی فیلڈ پلیسمنٹ کے ساتھ بھی جارحانہ انداز میں نمٹنے کے قابل بناتی ہیں۔ ہمارا مقصد وکٹوں کو محفوظ بنانا، رنز جمع کرنا اور 50ویں اوور تک مضبوط موجودگی برقرار رکھنا ہے ،