پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے ایک بار پھر اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ قومی ٹیم کے کپتان بابر اعظم سنٹرل کنٹریکٹ کے بارے میں پراعتماد ہیں۔ قومی کرکٹ کھلاڑیوں کے نئے سینٹرل کنٹریکٹ کا معاہدہ طے پا گیا۔ جسکا جلد ہی اعلان کیا جائے گا۔حال ہی میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے ڈائریکٹر انٹرنیشنل عثمان واہلہ نے سری لنکا میں کپتان بابر اعظم سے ملاقات کی۔ اس ملاقات کے دوران بابر اعظم نے ان پر اپنے اعتماد کا اظہار کیا۔ذرائع کے مطابق تمام مالیاتی اختلافات طے پا گئے ہیں۔ تاہم، اسپانسر شپ ڈیل سے متعلق معاملہ ابھی بھی زیر التوا ہے۔ بورڈ نے ایک اصول طے کیا ہے کہ کوئی بھی جو اپنے اسپانسرز کے ساتھ متصادم ہو سکتا ہے وہ کسی سیریز کے لیے اپنی اسپانسر شپ ڈیل نہیں کر سکتا۔ مثال کے طور پر، اگر ایک بینک سیریز کا مرکزی اسپانسر ہے، تو کھلاڑی کسی دوسرے بینک کے ساتھ معاہدہ نہیں کر سکتے۔کھلاڑیوں نے اس پر تحفظات کا اظہار کیا تھا جس کی وجہ سے معاہدے کا اعلان موخر کیا گیا۔ اب اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے ایک تجویز پیش کی گئی ہے۔ یہ تجویز کرتا ہے کہ اگر مرکزی اسپانسر کے علاوہ کوئی اور کمپنی ہے تو کھلاڑی اجازت کے ساتھ اپنے سودے کر سکتے ہیں۔ اگرچہ کھلاڑیوں نے ابھی تک کوئی جواب نہیں دیا ہے، لیکن امکان ہے کہ وہ مثبت پیش رفت ہوگی،یاد رہے کہ پی سی بی نے کھلاڑیوں کی ماہانہ ریٹینر شپ میں دوگنا اضافہ کر دیا ہے۔
بابر اعظم، محمد رضوان اور شاہین شاہ آفریدی جیسے اے کیٹیگری کے کھلاڑیوں کو ماہانہ 45 لاکھ روپے کمانے کا موقع ملے گا، جس سے وہ ایک غیر ملکی لیگ میں بھی حصہ لے سکیں گے۔ بی کیٹیگری کے کھلاڑیوں کو 30 لاکھ روپے تک ملیں گے، اور وہ سال میں دو غیر ملکی لیگز میں کھیل سکتے ہیں۔ سی کیٹیگری کے کھلاڑیوں کو تین ایونٹس کے لیے این او سی ملے گا۔
حال ہی میں انتظامی کمیٹی کے سربراہ ذکاء اشرف نے لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کھلاڑیوں کی ریٹینرشپ دوگنی کر دی گئی ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ معاہدوں میں تاخیر ہوئی کیونکہ کھلاڑی بیرون ملک لیگز میں حصہ لے رہے تھے۔ امکان ہے کہ نئے معاہدے کی تفصیلات جلد ہی منظر عام پر آ جائیں گی۔
Category: کھیل
-

پی سی بی نے سنٹرل کنٹریکٹ پر بابر اعظم کو اعتماد میں لے لیا۔
-

پاکستان ہاکی فیڈریشن کے تمام عہدیداران معطل
پاکستان ہاکی فیڈریشن کےعہدیداران کو معطل کرکے نوٹی فکیشن جاری کردیا گیا ہے۔پاکستان اسپورٹس بورڈ نے معطلی کا نوٹی فکیشن جاری کیا۔مذکورہ فیصلہ سابق وزیراعظم آفس کی ہدایات کی روشنی میں کیا گیا ہے۔قومی کھیل کی بہتری کیلئے ہاکی کلبس کی اسکروٹنی کا فیصلہ کیا گیا ہے ساتھ ہی پاکستان ہاکی فیڈریشن کے انتخابات کیلئے الیکٹرول کالج تشکیل دیا جائے گا۔ پی ایس بی کی زیرِ نگرانی پی ایچ ایف کے الیکشن کے عمل کو شفاف طریقے سے جلد مکمل کیا جائے۔
ایشین گیمز کا کیمپ اور ٹیم مینجمنٹ کے علاوہ تمام قسم کے کام کو روک دیا گیا جبکہ سلیکشن کمیٹی کام جاری رکھے گی۔واضح رہے کہ پاکستان اسپورٹس بورڈ تمام امور کی نگرانی کرے گا۔پاکستان ہاکی فیڈریشن کےصدرخالد سجاد کھوکھر اور سیکرٹری حیدر حسین تھے۔ -

پی سی بی نے غلطی تسلیم کرتے ہوئے نئی ویڈیو جاری کر دی،عمران خان شامل
لاہور: پاکستان کرکٹ کی تاریخ پر بنائی گئی ویڈیو میں عمران خان کو شامل نہ کرنے پر پی سی بی نے غلطی تسلیم کرتے ہوئے نئی ویڈیو جاری کر دی-
باغی ٹی وی: پاکستان کرکٹ بورڈ نے پاکستانی کرکٹ کی تاریخ پر بنائی جانے والی ویڈیو کا نیا پرومو جاری کردیا ہے پاکستان کرکٹ بورڈ نے 1992 ورلڈ کپ کی فاتح ٹیم کے کپتان عمران خان کی تصاویر کے ساتھ نئی ویڈیو جاری کردی ہے جس میں عمران خان کی دو تصاویر اور ویڈیو کو شامل کیا گیا، پرانی ویڈیو سوشل میڈیا اکاونٹس سے ڈیلیٹ کردی گئی۔
The PCB has launched a promotional campaign leading up to the CWC 2023. One of the videos was uploaded on 14th August 2023. Due to its length, the video was abridged and some important clips were missing. This has been rectified in the complete version of the video ⤵️ pic.twitter.com/Rz2OBDyI9i
— Pakistan Cricket (@TheRealPCB) August 16, 2023
پاکستان کرکٹ بورڈ نے کہا ہے کہ پی سی بی نے ورلڈ کپ 2023 تک ایک پروموشنل مہم شروع کی ہے اور اس سلسلے میں 14 اگست کو اپ لوڈ کی گئی ویڈیو لمبی ہونے کی وجہ سے مختصر کردی گئی تھی جس کے باعث کچھ اہم کلپس غائب ہوگئے تاہم اب ویڈیو کو مکمل ورژن میں درست کردیا گیا ہے۔بابراعظم کو کھیلتا دیکھ کر انجوائے کرتا ہوں،ویرات کوہلی
واضح رہے کہ قبل ازیں یوم آزادی پر جاری کی گئی ویڈیو میں پاکستان کے لیے 1992 میں ورلڈ کپ جیتنے کا اعزاز حاصل کرنے والی فاتح ٹیم کے کپتان عمران خان سرے سے غائب تھے،سوشل میڈیا صارفین اور شائقین کرکٹ سمیت پی ٹی آئی حامیوں کی جانب سے بھی پی سی بی کو اس اقدام پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا جبکہ سابق کرکٹ وسیم اکرم نے بھی سخت ردعمل دیتے ہوئے پاکستان کرکٹ بورڈ سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا تھا-
بھارتی کپتان روہت شرما، مچل اسٹارک اورشاہین آفریدی کا سامنا کیوں نہیں کرنا چاہتے؟
-

قومی کرکٹ اسکواڈ کی سری لنکا روانگی کی تیاریاں مکمل
قومی کرکٹ اسکواڈ کے کھلاڑی اسپورٹ اسٹاف کے ہمراہ نیشنل کرکٹ اکیڈمی سے ایئرپورٹ کے لیے روانہ ہونے کی تیاریاں مکمل ہو گئی، قومی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی دوپہر 12 بجے سری لنکں ایئرلائن سے سری لنکا کے لیے روانہ ہوں گے پاکستان سےسری لنکا جانے والے کھلاڑیوں میں سلمان علی آغا ، عبداللہ شفیق ، فہیم اشرف، سعود شکیل شامل ہے،اسکے علاوہ محمد رضوان ، طیب طاہر ، شاہین آفریدی ، حارث روف اور وسیم جونئیر سری لنکا روانہ ہو گئے. اسامہ میر اور شاداب خان انگلینڈ سے سری لنکا پہنچیں گے لنکا پریمئیر لیگ کھیلنے والے کپتان بابر اعظم ، نسیم شاہ ، محمد نواز، افتخار احمد ، محمد حارث ، فخر زمان اور امام الحق سری لنکا میں ٹیم جوائن کریں گے، پاکستان اسکواڈ 18 اگست کو ہمبنٹو ٹا میں اکٹھا ہو گا،جہاں پاکستان اور افغانستان کی ٹیموں کے درمیان تین ایک روزہ میچز کی سیریز کھیلی جائے گیسیریز کا پہلا ون ڈے میچ 22 اگست کو کھیلا جائے گا
-

وسیم اکرم کا پی سی بی کو ویڈیو ڈیلیٹ کر کے معافی مانگنے کا مطالبہ
پاکستانی لیجنڈ وسیم اکرم نے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) سے جاری کردہ ویڈیو سے کرکٹ کے عظیم عمران خان کو خارج کرنے پر معافی مانگنے کا مطالبہ کیا جس میں 1952 میں قومی اسکواڈ کے قیام سے لے کر اب تک کی تاریخی کامیابیوں کو اجاگر کیا گیا تھا۔بورڈ گزشتہ 48 گھنٹوں سے تنقید کی زد میں ہے کیونکہ لوگوں نے پی سی بی سے ویڈیو کو حذف کرنے کا مطالبہ کیا تھا کیونکہ اس میں اب تک کی سب سے بڑی کامیابی والی ویڈیو شامل نہیں تھی۔لیجنڈری کرکٹر وسیم اکرم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر لکھا کہ "سری لنکا پہنچنے سے پہلے طویل پروازوں اور گھنٹوں کی ٹرانزٹ کے بعد، مجھے اپنی زندگی کا جھٹکا لگا جب میں نے پاکستان کرکٹ کی تاریخ کے بارے میں پی سی بی کا مختصر کلپ مائنس دی گریٹ عمران خان کو دیکھا،”وسیم اکرم نے کہا کہ سیاسی اختلافات کے باوجود کوئی بھی خان کی کرکٹ میں شراکت کو نظر انداز نہیں کر سکتا اور مطالبہ کیا کہ اس ویڈیو کو واپس لے کر معافی مانگے۔..سیاسی اختلافات کے علاوہ عمران خان عالمی کرکٹ کے ایک آئیکون ہیں اور انہوں نے اپنے دور میں پاکستان کو ایک مضبوط یونٹ کے طور پر تیار کیا اور ہمیں ایک راستہ دیا… پی سی بی کو جاری کی ہوئی ویڈیو کو ڈیلیٹ کرنا چاہیے اور معافی مانگنی چاہیے،” انہوں نے مزید کہا۔ تاریخ میں پاکستان کے عظیم ترین کپتانوں میں سے ایک مانے جانے والے، عمران خان نے 1992 میں پاکستانی ٹیم کی واحد ورلڈ کپ جیتنے میں قیادت کی۔ انہوں نے کرکٹ کے عظیم کھلاڑیوں کی بھی رہنمائی کی ہے، جن میں وسیم اکرم، وقار یونس، اور معین خان شامل ہیں۔
عمران خان کرکٹر سے سیاست دان بنے اس وقت بدعنوانی کے الزامات میں جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہیں جب ایک عدالت نے انہیں توشہ خانہ کیس میں مجرم قرار دیا، انہیں تین سال قید کی سزا سنائی اور بعد ازاں الیکشن کمیشن نے انہیں پانچ سال کے لیے عہدے کے لیے نااہل قرار دیا۔
واضح رہے کہ عمران خان نے1980 کے دہائی میں اپنے شاندار کرکٹ کیریئر کے دوران پاکستان کے لیے 88 ٹیسٹ اور 175 ون ڈے کھیلے۔اس کی اوسط، بلے کے ساتھ 37 اور گیند کے ساتھ 22، نے انہیں اسٹار آل راؤنڈرز کی چوٹی میں سب سے اوپر رکھا، ایان بوتھم، رچرڈ ہیڈلی اور کپل دیو دوسرے تھے، جنہوں نے ٹیسٹ کرکٹ میں سب کو متاثر کیا۔خان کے بین الاقوامی کرکٹ کیریئر کے آخری 10 سالوں کے دوران، انہوں نے 51 ٹیسٹ میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا، جس کی اوسط بلے سے 50 اور گیند کے ساتھ 19 تھی۔
عمران خان نے 1987 میں انگلینڈ میں پاکستان کو پہلی سیریز میں فتح دلائی لیکن ان کے کیریئر کا بہترین لمحہ اس وقت آیا جب مین ان گرین نے ان کی متاثر کن قیادت میں 1992 کے ورلڈ کپ کی ٹرافی اپنے نام کی۔ -

74 خواتین کرکٹرز کو ڈومیسٹک کنٹریکٹس دینے کا اعلان
پاکستان کرکٹ بورڈ نے پہلی مرتبہ ڈومیسٹک کرکٹ میں 74 خواتین کرکٹرز کے لیے ڈومیسٹک کنٹریکٹس دینے کا اعلان کیا ہے۔اس ضمن میں ان 74کرکٹرز کو گیارہ ماہ کے لیے ڈومیسٹک کنٹریکٹس دیے جائیں گے۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کا یہ اقدام اس بات کا عکاس ہے کہ وہ ملک میں خواتین کرکٹ کی ترقی اور فروغ کو کس قدر اہمیت دیتا ہے اور اس سے اس بات کا بخوبی اندازہ بھی لگایا جاسکتا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کی منیجمنٹ کمیٹی کے چیرمین ذکا اشرف خواتین کرکٹ کی ترقی اور ان کے کریئر کے لیے بہترین راہ فراہم کرنے اور زیادہ سے زیادہ خواتین کرکٹرز کی شرکت کے سلسلے میں گہری دلچسپی اور واضح سوچ رکھتے ہیں۔
نئی لڑکیوں کو بھی یہ کھیل اپنانے کا شوق پیدا ہوگا۔ذکا اشرف
پاکستان کرکٹ بورڈ کی منیجمنٹ کمیٹی کے چیرمین ذکا اشرف کا کہنا ہے کہ آج پاکستان کرکٹ بورڈ کے لیے یہ اہم موقع ہے کہ ہم نے ِخواتین کرکٹ کی ترقی کے سلسلے میں تاریخی قدم اٹھایا ہے وہ 74 خواتین کرکٹرز کو مبارک باد پیش کرتے ہیں جو اپنی محنت اور ٹیلنٹ کی بدولت یہ کنٹریکٹس حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ قدم صرف کنٹریکٹس سائن کرنے کا معاملہ نہیں ہے بلکہ یہ ان غیرمعمولی کھلاڑیوں کے خوابوں اور خواہشات کو عملی جامہ پہنانا ہے۔ ہماری خواتین کرکٹرز نے مستقل مزاجی سے اپنی مہارت دکھائی ہے اور یہ بہترین موقع ہے کہ ہم انہیں وہ پلیٹ فارم مہیا کریں جن کی وہ مستحق ہیں ۔ ہمیں یقین ہے کہ ان کھلاڑیوں کو بااختیار بنانے سے نہ صرف کھیل کا معیار بلند ہوگا بلکہ نئی لڑکیوں کو بھی یہ کھیل اپنانے کا شوق پیدا ہوگا۔ہمارا عزم ہے کہ ان کرکٹرز میں اعتماد اور حوصلہ پیدا کیا جائے،تانیہ ملک
ویمنز کرکٹ کی ہیڈ تانیہ ملک کا کہنا ہے کہ انہیں 74 اچھی کھلاڑیوں کے لیے کنٹریکٹس کا اعلان کرتے ہوئے خوشی محسوس ہورہی ہے ۔ یہ تاریخی موقع نہ صرف ان کرکٹرز کی مہارت کا اعتراف ہے بلکہ ہمارا عزم ہے کہ ان کرکٹرز میں اعتماد اور حوصلہ پیدا کیا جائے اور ایسے وقت میں جب ہمارا خواتین کرکٹ سیزن شروع ہوا چاہتا ہے ہم پابند ہیں کہ ان کرکٹرز کی کامیابی کو یقینی بنانے کےلیے تمام ضروری سپورٹ مہیا کریں۔پاکستان کرکٹ بورڈ نے ان خواتین کرکٹرز کو ڈومیسٹک کنٹریکٹس دینے کے علاوہ انہیں سات مختلف کرکٹ اکیڈمیز میں ٹریننگ کی سہولتیں بھی فراہم کررکھی ہیں۔جن میں نیشنل کرکٹ اکیڈمی لاہور۔ حنیف محمد ہائی پرفارمنس سینٹر کراچی۔ انضمام الحق ہائی پرفارمنس سینٹر ملتان۔ قیوم اسٹیڈیم پشاور۔ ایبٹ آباد اسٹیڈیم۔ بگٹی اسٹیڈیم کوئٹہ اور ویمنز اسپورٹس اسٹیڈیم بہاولپور شامل ہیں۔جن 74 کرکٹرز کو یہ کنٹریکٹس دیے جارہے ہیں ان میں 59 کھلاڑی ایمرجنگ اور انڈر نائنٹین کیٹگری سے تعلق رکھتی ہیں جبکہ 14 کرکٹرز وہ ہیں جو پہلے ہی سینئر سطح پر پاکستان کی نمائندگی کرچکی ہیں۔پاکستانی خواتین کرکٹ کا مصروف سیزن یکم ستمبر سے شروع ہونے والا ہے اور پاکستان کرکٹ بورڈ چاہتا ہے کہ ان خواتین کرکٹرز کے اعتماد میں اضافہ کیا جائے یہ اقدام نہ صرف ان کرکٹرز کی محنت کا اعتراف ہے بلکہ اس سے ملک میں خواتین کرکٹ کے معیار کو بلند کرنے میں بھی مدد ملے گی۔
جن کرکٹرز کو ان کنٹریکٹس کے لیے منتخب کیا گیا ہے وہ ڈومیسٹک کرکٹ ٹورنامنٹس۔ ایمرجنگ ٹورنامنٹس انڈر19 ڈومیسٹک ٹورنامنٹس اور آئی سی سی انڈر 19 ویمنز ورلڈ کپ میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرچکی ہیں ان کرکٹرز کا انتخاب سابق ٹیسٹ کرکٹر سلیم جعفر کی سربراہی میں قائم ویمنز سلیکشن کمیٹی نے قومی اور اکیڈمی کوچز کی سفارشات کی روشنی میں کیا ہے۔
جن کرکٹرز کو کنٹریکٹس دیے گئے ہیں وہ ویمنز سینٹرل کنٹریکٹس کا حصہ نہیں ہونگی جو بعد میں اعلان کیے جائیں گے۔ان خواتین کرکٹرز کو ماہانہ رقم کے علاوہ میچ فیس ۔ ڈیلی الاؤنس اور انعامی رقم میں بھی حصہ ملے گا۔
جن 74 خواتین کرکٹرز کو ڈومیسٹک کنٹریکٹس دیے گئے ہیں ان کے نام یہ ہیں۔
آئمہ سلیم ( راولپنڈی ) ایمن انور ( کراچی ) عائشہ جاوید ( لاہور ) علینہ شاہ ( پشاور ) ۔ علیزہ خان ( کراچی ) امبر کائنات ( لاہور) انعم امین ( لاہور ) عریشہ نور بھٹی ( لاہور ) عریجہ حسیب ( کراچی ) اسما امین ( فیصل آباد ) اسما شریف ( عارف والا) عائشہ عاصم ( کوئٹہ ) عائشہ بلال ( لاہور ) عائشہ ظفر ( لاہور ) دینا رضوی ( کراچی ) دعا ماجد ( لاہور ) فجر نوید ( راولپنڈی ) فریحہ محمود ( لاہور ) فاطمہ خان ( لاہور ) فاطمہ شاہد ( لاہور ) فاطمہ زہرا ( راولپنڈی ) گل اسویٰ ( ملتان ) گل فیروزہ ( ملتان ) گل رخ ( ڈی جی خان ) حلیمہ عظیم ڈار ( لاہور ) ہانیہ احمر ( کراچی ) حمنہ بلال ( راولپنڈی ) حورینہ سجاد ( کراچی) ارم جاوید ( لاہور ) جنت رشید ( کوئٹہ ) جویریہ خان ( کراچی ) جویریہ رؤف ( کراچی) کائنات امتیاز ( کراچی ) کائنات حفیظ ( لاہور ) خدیجہ چشتی ( لاہور ) کنزہ وہاب ( کراچی ) لائبہ منصور ( راولپنڈی) لائبہ ناصر ( لاہور ) لبنی بہرام ( ہنزہ ) ماہم منظور ( حیدرآباد ) ماہم طارق ( کراچی ) ماہ نور آفتاب ( پشاور ) معصومہ زہرہ ( کراچی ) مومینہ ریاست ( ایبٹ آباد ) نتالیہ پرویز ( بھمبر) نیہا شرمین شیخ ( کراچی ) نورالایمان ( بہاولپور) نورین یعقوب ( لاہور ) قرۃ العین احسن ( لاہور ) رامین شمیم ( کراچی) ردا اعصام ( لاہور ) صبانذیر ( مریدکے ) صائمہ ملک ( کوئٹہ ) صائقہ ریاض ( لاہور ) سائرہ جبین ( چترال ) ثنا طالب ( رحیم یارخان ) ثانیہ رشید ( راولپنڈی ) شبنم حیات ( کراچی ) سوہا فاطمہ ( لاہور ) سبحانہ طارق ( کراچی ) سیدہ تسکین فاطمہ ( کراچی ) تسمیہ رباب ( لاہور ) طیبہ امداد ( ایبٹ آباد ) تہذیب شاہ ( صوابی ) وحیدہ اختر ( لاہور ) وحیدہ منیر ( ملتان ) وردا یوسف ( اوکاڑہ ) واصفہ حسین ( کراچی ) یسری عامر ( کراچی ) زیب النسا ( چارسدہ ) زمینہ شاہ ( کراچی) اور زوناش عبدالستار ( لاہور )
-

وہاب ریاض کا انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان
پاکستان کرکٹ ٹیم کے فاسٹ باؤلر وہاب ریاض نے تمام فارمیٹس سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کردیا۔
پریس کانفرنس کرتے ہوئے وہاب ریاض کا کہنا تھا کہ پی سی بی اور فیملی کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں،انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ لے رہا ہوں، وہاب ریاض ریٹائرمنٹ کا اعلان کرتے ہوئے آبدیدہ ہوگئے،بولے،انٹرنیشنل لیگز کھیلتا رہوں گا ،شین واٹسن کیخلاف میری زندگی کا بہترین اسپیل تھا،یادیں رہ جاتی ہیں ہمیشہ یادوں کیساتھ جیتا رہوں گا، کرکٹ سے بہت کچھ سیکھا ہے، جہاں تک کوچنگ کی بات ہے یہ فیصلہ پی سی بی کا ہوگا، 1992 کے ورلڈکپ کو کبھی نہیں بھول سکتے،شعیب اختر کے ساتھ میرا کوئی مقابلہ نہیں،
قبل ازیں سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری کردہ ٹویٹ میں انہوں نے اپنے کیریئر کے حوالے سے بڑا اعلان کیا انہوں نے لکھا کہ ایک ناقابل یقین سفر کے بعد بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا فیصلہ کیا ہے، پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی)، میری فیملی، کوچز، مینٹورز، ٹیم کے ساتھیوں، مداحوں اور ان تمام لوگوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے میری حمایت کی فرنچائز کرکٹ کی دنیا میں دلچسپ وقت آنے والا ہے۔
🏏 Stepping off the international pitch
🌟 After an incredible journey, I've decided to retire from international cricket. Big thank you to PCB, my family, coaches, mentors, teammates, fans, and everyone who supported me. 🙏
Exciting times ahead in the world of franchise…
— Wahab Riaz (@WahabViki) August 16, 2023
دوسری جانب پاکستان کرکٹ ٹیم کے فاسٹ بولرشاہین شاہ آفریدی انٹرنیشنل لیگ (آئی ایل) ٹی 20 کے دوسرے سیزن میں نظر آئیں گے،شاہین شاہ آفریدی کا ڈیزرٹ وائپرزکےساتھ معاہدہ ہوگیا ہےنشاہین شاہ آفریدی ڈیزرٹ وائپرز کی طرف سے کھیلتے ہوئے نظر آئیں گے، فاسٹ باؤلر کا اس فرنچائز کے ساتھ معاہدہ 3 سال کے لیے ہوا ہے وہ لیگ میں شرکت کے حوالے سے پُر جوش ہیں، ان کا کہنا تھا کہ کیوں کہ یو اے ای میں پاکستانی شائقین بڑی تعداد میں موجود ہیں جو ان کی ٹیم کو بھی سپورٹ کریں گے۔شاہین شاہ آفریدی کا آئی ایل کے ساتھ تین سالہ معاہدہ
گلگت کی غیر سرشدہ پہاڑی پر دو جاپانی کوہ پیما حادثے کا شکار،ایک لاپتہ
پاکستان آل رآؤنڈر آغا سلمان نے کس کھلاڑی کو پسندیدہ بیٹنگ پارٹنر قرار دیا؟
-

شاہین شاہ آفریدی کا آئی ایل کے ساتھ تین سالہ معاہدہ
پاکستان کرکٹ ٹیم کے فاسٹ بولرشاہین شاہ آفریدی انٹرنیشنل لیگ (آئی ایل) ٹی 20 کے دوسرے سیزن میں نظر آئیں گے۔ شاہین شاہ آفریدی کا ڈیزرٹ وائپرزکے ساتھ معاہدہ ہوگیا ہےنشاہین شاہ آفریدی ڈیزرٹ وائپرز کی طرف سے کھیلتے ہوئے نظر آئیں گے، فاسٹ باؤلر کا اس فرنچائز کے ساتھ معاہدہ 3 سال کے لیے ہوا ہے۔
شاہین نے اس حوالے سے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ لیگ میں شرکت کے حوالے سے پُر جوش ہیں، ان کا کہنا تھا کہ کیوں کہ یو اے ای میں پاکستانی شائقین بڑی تعداد میں موجود ہیں جو ان کی ٹیم کو بھی سپورٹ کریں گے۔واضح رہے کہ ڈیزرٹ وائپرز آئی ایل ٹی ٹوئنٹی کے پچھلے سیزن کی رنر اپ ٹیم ہے، لیگ کا دوسرا سیزن جنوری 2024 میں متحدہ عرب امارات میں ہوگا۔
یہ بھی یاد رہے کہ سابق چیئرمین پی سی بی رمیز راجا نے اپنے دور میں قومی ٹیم کے کھلاڑیوں کو لیگ میں شرکت کی اجازت نہیں دی تھی۔
-

گلگت کی غیر سرشدہ پہاڑی پر دو جاپانی کوہ پیما حادثے کا شکار،ایک لاپتہ
گلگت کی غیر سر شدہ پہاڑی کو سر کرنے کی کوشش کرنے والے دو جاپانی کوہ پیما حادثے کا شکار ہو گئے، ایک لاپتا ہو گیا۔الپائن کلب آف پاکستان کے مطابق دونوں جاپانی کوہ پیماء تاکایاسو سیمبا اور شنجی تمورا گلگت کے علاقے خپلو کے گاؤں کاندے کی پہاڑی سر کرنے کیلئے روانہ ہوئے تھے، جیو نیوز کے مطابق دونوں کوہ پیما اب تک سر نہ ہونے والی پہاڑی سر کرنا چاہتے تھے۔الپائن کلب کے مطابق پہاڑی سر کرتے ہوئے 11 اگست کو دونوں جاپانی کوہ پیما حادثے کا شکار ہوکر 70 میٹر نیچے آگرے تھے، حادثے کے وقت دونوں 5380 میٹر کی بلندی پر تھے۔الپائن کلب کے مطابق زخمی تاکایاسو سیمبا اپنی مدد آپ کے تحت واپس بیس کیمپ پہنچنے میں کامیاب ہوگئے تھے تاہم شنجی تمورا شدید زخمی ہونے کے بعد پہاڑ میں پھنس گئے تھے۔الپائن کلب نے بتایا کہ رات گئے پہاڑ پر روشنی سے اندازہ لگایا گیا تھا کہ شنجی پہاڑ پر پھنسے ہوئے ہیں تاہم ریسکیو ٹیم کو پہاڑ پر شینجی کا کلائمبنگ کا سامان ایک گہرے شگاف کے قریب ملا تھا۔الپائن کلب کے مطابق زخمی کوہ پیما کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے اسکردو پہنچا دیا گیا تھا تاہم 3 دن تک تلاش کے بعد بھی شینجی کا سراغ نہ ملا جس پر ریسکیو آپریشن ختم کردیا گیا۔
-

بڑے کھلاڑیوں کے بغیر پاکستان کرکٹ کے جشن کی ویڈیو ، پی سی بی پر شائقین کر کٹ کی تنقید
پاکستان کے 76 ویں یوم آزادی پر، پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے ایک خصوصی ویڈیو جاری کی جس میں اس کرکٹ کے لیجنڈز کو دکھایا گیا جنہوں نے پاکستان کرکٹ کو دنیا کے نقشے پر متعلقہ اور مشہور بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔یہ ویڈیو ان تمام لیجنڈری کرکٹ سٹارز کے لیے دلی خراج تحسین ہے جنہوں نے کھیل کی تاریخ کو تشکیل دینے میں مدد کی۔اس ویڈیو میں جاوید میانداد، وسیم اکرم، شعیب اختر، وقار یونس، شاہد آفریدی، اور بابر اعظم شامل تھے۔ اس میں پاکستان کی کرکٹ کی تاریخ کی یادگار جیتوں کے ٹکڑوں کو بھی شامل کیا گیا تھا، بشمول 1992 ورلڈ کپ، T20 ورلڈ کپ 2009، اور چیمپئنز ٹرافی 2017۔
ویڈیو کے کیپشن میں لکھا ہے، "تاریخ بنانا صرف ایک دن کے بارے میں نہیں ہے؛ یہ ان لیجنڈز کے بارے میں ہے جو ہم تخلیق کرتے ہیں اور ان کہانیوں کے بارے میں جو ہم لکھتے ہیں۔ پاکستان کرکٹ ٹیم – ایک ایسا ورثہ جو وقت گزرنے کے ساتھ گونجتا ہے۔”تاہم، پی سی بی کو شائقین کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ اس میں بڑے سابق کھلاڑیوں کی کمی تھی یا اسے بمشکل دو منٹ، 21 سیکنڈ کی ویڈیو میں دکھایا گیا تھا – بشمول 1992 کے ورلڈ کپ جیتنے والے کپتان عمران خان، محمد یوسف اور سعید انور، بلکہ غور طلب ہے کہ ایک کیلنڈر سال میں سب سے زیادہ ٹیسٹ رنز بنانے کا ریکارڈ یوسف کے پاس ہے۔