Baaghi TV

Category: کھیل

  • میں سبز پاسپورٹ کی عزت کراوں گا،سیریز منسوخ ہونے پر مریم نواز کی تنقید

    میں سبز پاسپورٹ کی عزت کراوں گا،سیریز منسوخ ہونے پر مریم نواز کی تنقید

    میں سبز پاسپورٹ کی عزت کراوں گا،سیریز منسوخ ہونے پر مریم نواز کی تنقید

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق نیوزی لینڈ کی ٹیم کی جانب سے سیریز منسوخ ہونے پر اہم شخصیا ت کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ جاری ہے

    مسلم لیگ ن کی رہنما ،مریم نواز نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کی ہے اور حکومت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ “میں سبز پاسپورٹ کی عزت کراوں گا !” اس جملے کے مریم نواز نے نجی ٹی وی کا سکرین شاٹ شیئر کیا جس میں سیریز منسوخ ہونے کی خبر تھی

    مسلم لیگ ن کی ہی رہنما حنا پرویز بٹ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ جو میدان نواز شریف نے آباد کئے تھے ان کو ویران کرنے کا سہرا بھی عمران خان کو جاتا ہے۔۔۔اچھے دن آئیں ہیں؟؟؟

    ایک صارف نے ٹویٹر پر ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ کیا کمی ہے اس سیکورٹی میں اتنی سیکورٹی نیوزیلینڈ والوں کو راس نہیں آئی

    پاکستان میں 18 سال بعد آج سے پاک نیوزی لینڈ سیریز شروع ہونے جا رہی تھی نیوزی لینڈ ٹیم اسٹیڈیم کیلئے روانہ ہونے والی تھی کہ سیریز کو منسوخ کر دیا گیا پاکستان کرکٹ بورڈ کا کہنا ہے کہ نیوزی لینڈ نے یکطرف طور پر سیریز منسوخ کی ہے۔ مہمان ٹیم کیلئے فول پروف سیکیورٹی انتظامات کیے گئے تھے۔ وفاقی وزیر فواد چودھری کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم عمران خان نے نیوزی لینڈ کی ہم منصب سے رابطہ کیا،وزیر اعظم نے نیوزی لینڈ ہم منصب کو یقین دلایا کہ ٹیم کو فول پروف سیکیورٹی میسر ہے ،نیوزی لینڈ ماہرین نے پاکستان کے سیکیورٹی انتظامات پر اطمینان کا اظہار کیا تھا نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم نےا حتیاط کے پیش نظر دورہ ملتوی کرنے کی استدعا کی، ہماری انٹیلی جنس ایجنسیز دنیا کے بہترین انٹیلی جنس سسٹمز میں شامل ہیں،ہماری انٹیلی جنس ایجنسیز کی رائے میں نیوزی لینڈ کی ٹیم کو کسی قسم کا خطرہ نہیں

     پولیس نے مدرسے کے لڑکے سے بد فعلی کے ملزم مفتی عزیز الرحمن کے خلاف مقدمہ درج کر دی

    مولانا کی بچے سے زیادتی ، ویڈیو لیک ، اصل حقیقت کیا ہے ، سنیے مبشر لقمان کی زبانی

    مذہبی رہنماوں کا ردعمل

    طالب علم نے چائے پلائی اور پھر….مفتی عزیرالرحمان کی زیادتی کیس میں وضاحتی ویڈیو

    طالب علم سے زیادتی کرنیوالے مفتی کو مدرسہ سے فارغ کر دیا گیا

  • ٹیم کی پاکستان سے واپسی کی  حمایت کرتی ہوں،وزیراعظم نیوزی لینڈ

    ٹیم کی پاکستان سے واپسی کی حمایت کرتی ہوں،وزیراعظم نیوزی لینڈ

    نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جیسینڈا آرڈن نے نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کے فیصلے کی حمایت کر دی

    نیوزی لینڈ کی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ نیوزی لینڈ ٹیم کی پاکستان سے واپسی کی حمایت کرتی ہوں،وزیراعظم عمران خان سے ٹیم کا خیال رکھنے پر شکریہ ادا کیا ،کھلاڑیوں کی حفاظت سب سے اہم تھی،

    دوسری جانب بابراعظم کا کہنا تھا کہ پاک نیوزی لینڈ سیریز ختم ہونے پر مایوسی ہوئی سیریز سے لاکھوں شائقین کرکٹ کے چہروں پر مسکراہٹ آنا تھی،سیکیورٹی ادارے ہمارا فخر ہیں ،پاکستان زند ہ باد،

    نیوزی لینڈ کرکٹ کے چیف ایگزیکٹو ڈیوڈ وائٹ نے پیغام جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ نیوزی لینڈ حکومت کی جانب سے سیکیورٹی الرٹ جاری کیا گیاہے جس کی بنیاد پر سیریز منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے ہمارے لیے کھلاڑیوں کی سیکیورٹی اولین ترجیح ہے ، موجودہ حالات میں ہمارے پاس یہی آپشن تھا ، پی سی بی نے سیریز کیلئے بہترین میزبانی کی ۔ ہمارے کھلاڑی محفوظ ہیں اور بہترین انتظامات کیئے جارہے ہیں

    سینیٹر فیصل جاوید نے نیوزی لینڈ کی جانب سے کرکٹ سیریز اچانک منسوخ کرنے پر کہا کہ دو سال سے پاکستان میں کرکٹ مکمل طور پر بحال ہے یہاں بہترین سکیورٹی صورتحال ہے جو بھارت کو اچھی نہیں لگ رہی انٹرنیشنل ٹیموں نے پاکستان کا دورہ کیا حال ہی میں مظفر آباد میں کشمیر پریمیئر لیگ منعقد ہوئی تھی نیوزی لینڈ کی ٹیم کو غیر معمولی سکیورٹی فراہم کی گئی تھی مگر اس کے باوجود نیوز لینڈ کی طرف سے آخری لمحات میں سیریز ملتوی کرنا سمجھ سے باہر ہے کوئی دشمن ہی ہے جس نے اس پلیٹ فارم پر سازش کی ہے بھارت کو ہضم نہیں ہو رہا کہ پاکستان میں سب اچھا ہے

     پولیس نے مدرسے کے لڑکے سے بد فعلی کے ملزم مفتی عزیز الرحمن کے خلاف مقدمہ درج کر دی

    مولانا کی بچے سے زیادتی ، ویڈیو لیک ، اصل حقیقت کیا ہے ، سنیے مبشر لقمان کی زبانی

    مذہبی رہنماوں کا ردعمل

    طالب علم نے چائے پلائی اور پھر….مفتی عزیرالرحمان کی زیادتی کیس میں وضاحتی ویڈیو

    طالب علم سے زیادتی کرنیوالے مفتی کو مدرسہ سے فارغ کر دیا گیا

    پاکستان میں18 سال بعد آج سے پاک نیوزی لینڈ سیریز شروع ہونے جا رہی تھی نیوزی لینڈ ٹیم اسٹیڈیم کیلئے روانہ ہونے والی تھی کہ سیریز کو منسوخ کر دیا گیا پاکستان کرکٹ بورڈ کا کہنا ہے کہ نیوزی لینڈ نے یکطرف طور پر سیریز منسوخ کی ہے۔ مہمان ٹیم کیلئے فول پروف سیکیورٹی انتظامات کیے گئے تھے۔ وفاقی وزیر فواد چودھری کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم عمران خان نے نیوزی لینڈ کی ہم منصب سے رابطہ کیا،وزیر اعظم نے نیوزی لینڈ ہم منصب کو یقین دلایا کہ ٹیم کو فول پروف سیکیورٹی میسر ہے ،نیوزی لینڈ ماہرین نے پاکستان کے سیکیورٹی انتظامات پر اطمینان کا اظہار کیا تھا نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم نےا حتیاط کے پیش نظر دورہ ملتوی کرنے کی استدعا کی، ہماری انٹیلی جنس ایجنسیز دنیا کے بہترین انٹیلی جنس سسٹمز میں شامل ہیں،ہماری انٹیلی جنس ایجنسیز کی رائے میں نیوزی لینڈ کی ٹیم کو کسی قسم کا خطرہ نہیں

  • میچ کا ملتوی ہونا سیکیورٹی کامسئلہ نہیں، شیخ رشید کا دعویٰ

    میچ کا ملتوی ہونا سیکیورٹی کامسئلہ نہیں، شیخ رشید کا دعویٰ

    میچ کا ملتوی ہونا سیکیورٹی کامسئلہ نہیں، شیخ رشید کا دعویٰ
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق نیوزی لینڈ کی جانب سے ون ڈے سیریز منسوخ کئے جانے پر وفاقی وزراء اور کھلاڑیوں کا رد عمل سامنے آیا ہے

    کرکٹر محمد حفیظ کا کہنا ہے کہ پاکستان محفوظ ملک ہے، سیریز ختم ہونا قوم کیلئے مایوس کن خبر ہے، سینیٹر فیصل جاوید کا کہنا ہے کہ پاکستان میں سیکیورٹی صورتحال بہترین اور اطمینان بخش ہے نیوزی لینڈ کی ٹیم کو فول پروف سیکیورٹی فراہم کی گئی ہے، سیریز ختم ہونا مایوس کن بات ہے، پاکستان محفوظ ملک ہے،وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کا کہنا تھا کہ میچ کا ملتوی ہونا سیکیورٹی کامسئلہ نہیں،تمام ادارے الرٹ ہیں،ساڑھے 4 بجے تمام صورتحال سےآگاہ کروں گا

    سی ای او نیوزی لینڈ ٹیم کا کہنا ہے کہ کھلاڑیوں کی سیکیورٹی اولین ترجیح ہے پاکستان کادورہ ترک کررہے ہیں نیوزی لینڈ حکومت نے سیکیورٹی الرٹ جاری کیا،موجودہ حالات میں ہمارے پاس یہی آپشن دستیاب تھا ہمیں اندازہ ہے کہ پی سی بی کے لیے یہ بہت بڑا دھچکہ ہے،

    سابق نیوزی لینڈ کرکٹر گرانٹ ایلیٹ کا کہنا ہے کہ پاک نیوزی لینڈ سیریز ختم ہونا افسوسناک ہے، پاکستانی دوستوں کے لیے سیریز ختم ہونا اچھی خبر نہیں ہے،

    انور علی خان کا کہنا ہے کہ پاک نیوزی لینڈ سیریز ختم ہونے پر دل افسردہ ہے،نیوزی لینڈ ٹیم کو بہترین سیکیورٹی فراہم کی گئی،سیریز ختم کرنے کا یکطرفہ فیصلہ درست نہیں،

    مسلم لیگ ن کی رہنما حنا پرویز بٹ کا کہنا ہے کہ جھوٹے عمران خان کی حیثیت یہ ہے کہ کال کرنے کے باوجود نیوزی لینڈ کی وزیراعظم نے عمران خان کی بات کا یقین نہیں کیا اور اپنی ٹیم کو واپس بلا لیا۔۔ آج اگر وزیراعظم نواز شریف ہوتے تو حالات یکسر مختلف ہوتے۔ پاکستان میں کرکٹ کی تباہی بھی ایک کرکٹر کے ہاتھوں ہو رہی ہے۔

     پولیس نے مدرسے کے لڑکے سے بد فعلی کے ملزم مفتی عزیز الرحمن کے خلاف مقدمہ درج کر دی

    مولانا کی بچے سے زیادتی ، ویڈیو لیک ، اصل حقیقت کیا ہے ، سنیے مبشر لقمان کی زبانی

    مذہبی رہنماوں کا ردعمل

    طالب علم نے چائے پلائی اور پھر….مفتی عزیرالرحمان کی زیادتی کیس میں وضاحتی ویڈیو

    طالب علم سے زیادتی کرنیوالے مفتی کو مدرسہ سے فارغ کر دیا گیا

    پاکستان میں18 سال بعد آج سے پاک نیوزی لینڈ سیریز شروع ہونے جا رہی تھی نیوزی لینڈ ٹیم اسٹیڈیم کیلئے روانہ ہونے والی تھی کہ سیریز کو منسوخ کر دیا گیا پاکستان کرکٹ بورڈ کا کہنا ہے کہ نیوزی لینڈ نے یکطرف طور پر سیریز منسوخ کی ہے۔ مہمان ٹیم کیلئے فول پروف سیکیورٹی انتظامات کیے گئے تھے۔ وفاقی وزیر فواد چودھری کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم عمران خان نے نیوزی لینڈ کی ہم منصب سے رابطہ کیا،وزیر اعظم نے نیوزی لینڈ ہم منصب کو یقین دلایا کہ ٹیم کو فول پروف سیکیورٹی میسر ہے ،نیوزی لینڈ ماہرین نے پاکستان کے سیکیورٹی انتظامات پر اطمینان کا اظہار کیا تھا نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم نےا حتیاط کے پیش نظر دورہ ملتوی کرنے کی استدعا کی، ہماری انٹیلی جنس ایجنسیز دنیا کے بہترین انٹیلی جنس سسٹمز میں شامل ہیں،ہماری انٹیلی جنس ایجنسیز کی رائے میں نیوزی لینڈ کی ٹیم کو کسی قسم کا خطرہ نہیں

  • نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم نے دورہ پاکستان ختم کرنے کا اعلان

    نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم نے دورہ پاکستان ختم کرنے کا اعلان

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق آج نیوزی لینڈ کرکٹ بورڈ نے آگاہ کیا ہے کہ انہیں سیکورٹی کے حوالے سے الرٹ کیا گیا ہے اس لئے یکطرفہ طور پر سیریز ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا ہے.

    پاکستان کرکٹ بورڈ اور حکومت پاکستان نے مہمان ٹیم کی سیکورٹی کے لیے فول پروف انتظامات کررکھے تھے. ہم نے نیوزی کرکٹ بورڈ کو بھی یہی یقین دہانی کرائی تھی. وزیر اعظم نے ذاتی طور پر نیوزی لینڈ کی وزیراعظم کو رابطہ کرکے انہیں بتایا کہ ہماری سیکورٹی انٹیلیجنس دنیا کی ایک بہترین ایجنسی ہے اور مہمان ٹیم کو کوئی سیکورٹی تھریٹ نہیں.نیوزی لینڈ ٹیم کے آفیشلز نے حکومت پاکستان کی سیکورٹی پر اطمینان کا اظہار کیا تھا.

    دوسری جانب نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم نے دورہ پاکستان ختم کرنے کا اعلان کر دیا ،سی ای اونیوزی لینڈ کرکٹ کا کہنا تھا کہ ہمارے لیے دورہ پاکستا ن جاری رکھنا ممکن نہیں ،

    وفاقی وزیر فواد چودھری کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم عمران خان نے نیوزی لینڈ کی ہم منصب سے رابطہ کیا،وزیر اعظم نے نیوزی لینڈ ہم منصب کو یقین دلایا کہ ٹیم کو فول پروف سیکیورٹی میسر ہے ،نیوزی لینڈ ماہرین نے پاکستان کے سیکیورٹی انتظامات پر اطمینان کا اظہار کیا تھا نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم نےا حتیاط کے پیش نظر دورہ ملتوی کرنے کی استدعا کی، ہماری انٹیلی جنس ایجنسیز دنیا کے بہترین انٹیلی جنس سسٹمز میں شامل ہیں،ہماری انٹیلی جنس ایجنسیز کی رائے میں نیوزی لینڈ کی ٹیم کو کسی قسم کا خطرہ نہیں

    قبل ازیں نیوزی لینڈ اور پاکستان کرکٹ ٹیم تاحال سٹیڈیم نہیں پہنچ سکی ہے اورانہیں ہوٹل کے کمروں میں ہی رہنے کا کہا گیا ہے ،آئی جی اسلام آباد قاضی جمیل الرحمان نے سینئیر افسران کے ہمراہ روٹ اور سرینا ہوٹل کا دورہ کیا دورے کے دوران مہمان کرکٹ ٹیم کے سیکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیا مہمان کرکٹ ٹیم نے روٹ اور رہائشی علاقے کے فول پروف سیکورٹی انتظامات کرنے کی ہدایت کی، آئی جی اسلام آباد کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی انتظامات میں کسی قسم کوتاہی لاپرواہی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی

    پاکستانی سکواڈ میں بابراعظم ، عبداللہ شفیق ، فہیم اشرف، فخر زمان ، حارث روف ،حسن علی ، افتخار احمد ، امام الحق، خوشدل شاہ، محمد حارث، محمد حسنین، محمد نواز، محمدرضوان، عماد وسیم، سعود شکیل ، شاداب خان ، شاہین شاہ آفریدی ، شاہ نواز دھانی، عثمان قادر، زاہد محمود شامل ہیں ۔نیوزی لینڈ کے سکواڈ میں کپتانی کے فرائض ٹام لتھام انجام دے رہے ہیں جبکہ ان کے علاوہ سکواڈ میں ، فن ایلن ، ہمیش بینیٹ ، بریسویل ، کولن دی گرینڈہوم، جیکب ڈفی ، میٹ ہنری ،سکاٹ کوگلیجن ،کولی میکونچی ، ڈرائل مچل، ہنری نکولس، اعجاز پاٹیل ، راچین راویندرا، بلیئر ٹکنر ، ول ینگ۔

    دوسری جانب راولپنڈی کرکٹ سٹیڈیم کی سیکیورٹی انتظامیہ نے پاکستان اور نیوز ی لینڈ کے درمیان کھیلے جانے والے پہلے ون ڈے میچ میں شائقین کے موبائل فون سٹیڈیم میں لے جانے پر پابندی عائد کردی۔ نجی ٹی ہم نیوز کے مطابق شائقین کا کہنا ہے کہ ہمیں پہلے موبائل فون سٹیڈیم میں نہ لانے کے حوالے سے کیوں نہیں بتایاگیا،سٹیڈیم میں میچ دیکھنے کے لئے صرف کورونا ویکسی نیشن کارڈ لانے کا کہا گیا تھا کہ مگر یہاں آ کر موبائل فون پر بھی پابندی کا کہا جا رہاہے جس سے پریشانی کا شکار ہورہے ہیں۔

    دوسری جانب پی سی بی حکام نے واضح کیا کہ موبائل فون پر پابندی کا فیصلہ کرکٹ بورڈ کی طرف سے نہیں بلکہ سٹیڈیم میں سیکیورٹی انتظامیہ کی جانب سے کیا گیا ہے۔

  • پاکستان  18 سال بعد ون ڈے انٹرنیشنل میں نیوزی لینڈ کی میزبانی کے لیے تیار

    پاکستان 18 سال بعد ون ڈے انٹرنیشنل میں نیوزی لینڈ کی میزبانی کے لیے تیار

    17 ستمبر وہ تاریخی دن ہوگا کہ جب پاکستان 18 سال بعد ایک بار پھر اپنی سرزمین پر نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کی میزبانی کرے گا۔ مہمان ٹیم آئی سی سی مینز کرکٹ ورلڈکپ 2019 کی فائنلسٹ اور آئی سی سی کی موجودہ ٹیمز رینکنگ میں پہلے نمبر پر براجمان ہے۔ دونوں ٹیموں کے مابین تین ون ڈے انٹرنیشنل میچز پر مشتمل سیریز کا پہلا میچ جمعے کو جبکہ آئندہ دونوں میچز اتوار اور منگل کو کھیلے جائیں گے۔ سیریز کے تینوں میچز پنڈی کرکٹ اسٹیڈیم راولپنڈی میں کھیلے جائیں گے۔

    یہ چوتھا موقع ہوگا کہ جب دونوں ٹیمیں راولپنڈی میں کسی ون ڈے انٹرنیشنل کرکٹ میچ میں مدمقابل آئیں گی۔ یہاں اب تک کھیلے گئے تینوں ون ڈےا نٹرنیشنل میچز میں پاکستان نے نیوزی لینڈ کو شکست سے دوچار کیا ہے۔ اس دوران قومی کرکٹ ٹیم کی کپتانی بابراعظم جبکہ مہمان ٹیم وکٹ کیپر بیٹسمین ٹام لیتھم کی قیادت میں میدان میں اترے گی۔دونو ں ٹیموں کے مابین اب تک 107 ون ڈے انٹرنیشنل میچز کھیلے جاچکے ہیں، جن میں سے 55 میں پاکستان جبکہ 48 میں نیوزی لینڈ نے کامیابی حاصل کر رکھی ہے۔ اس دوران ایک میچ برابر جبکہ تین بے نتیجہ ختم ہوئے۔ پاکستان اور نیوزی لینڈ کے مابین پہلا ون ڈے انٹرنیشنل میچ 11 فروری 1973 جبکہ آخری میچ 26 جون 2019 کو کھیلا گیا تھا۔ نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم نے آخری مرتبہ 2003 میں پاکستان کا دورہ کیا تھا، جہاں پاکستان نے پانچ میچز پر مشتمل ون ڈےانٹرنیشنل سیریز میں کلین سوئیپ کیا تھا۔اس سیریز میں سب سے زیادہ رنز پاکستان کے یاسر حمید نے (356 رنز) بنائے جبکہ محمد سمیع نے 8 وکٹیں حاصل کی تھیں۔اس کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ نے تین مرتبہ نیوزی لینڈ کی میزبانی کی تاہم یہ تینوں سیریز متحدہ عرب امارات میں کھیلی گئیں۔ یہ وہ وقت تھا جب پاکستان کرکٹ ٹیم اپنی ہوم سیریز متحدہ عرب امارات میں کھیلا کرتی تھی۔

    آئی سی سی مینز کرکٹ ورلڈکپ 2019 کی فائنلسٹ نیوزی لینڈ کی ٹیم 121 ریٹنگ پوائنٹس کے ساتھ آئی سی سی مینز ون ڈے انٹرنیشنل ٹیمز رینکنگ میں پہلے نمبر پر براجمان ہے۔ اس فہرست میں پاکستان کا نمبر چھٹا ہے۔ سیریز میں کلین سوئیپ کی صورت میں پاکستان کی ٹیم ایک درجہ ترقی کے ساتھ اس فہرست میں پانچویں اور نیوزی لینڈ ایک درجہ تنزلی کے ساتھ دوسرے نمبر پر جاسکتا ہے مگر اس کے علاوہ سیریز کے نتائج کچھ بھی ہوں دونوں ٹیموں کی اس رینکنگ پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔پاکستان کرکٹ بورڈ اور نیوزی لینڈ کرکٹ نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا ہے کہ اس سیریز میں شامل یہ تینوں میچز اب آئی سی سی کرکٹ ورلڈ کپ سپر لیگ کی بجائے دو طرفہ سیریز کے میچز شمار کیے جائیں گے۔ یہ فیصلہ ڈی آر ایس کی عدم دستیابی کے باعث کیا گیا ہے، جو کہ آئی سی سی ورلڈکپ سپر لیگ کی پلیئنگ کنڈیشنز کا ضروری حصہ ہے۔نیوزی لینڈ کو اب 2 ٹیسٹ اور 3 ون ڈے انٹرنیشنل میچز پر مشتمل سیریز کھیلنے کے لیےدوبارہ 2022 میں پاکستان کا دورہ کرنا ہے۔ لہٰذا دونوں بورڈز نے اتفاق کیا ہے کہ اب اُس سیریز میں شامل تین ون ڈے انٹرنیشنل میچز آئی سی سی مینز کرکٹ ورلڈ کپ 2023 کی کوالیفیکشین کہلائیں گے۔

    بابراعظم، کپتان پاکستان کرکٹ ٹیم:

    قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان بابراعظم کاکہنا ہے کہ نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کی 18 سال بعد پاکستان آمد خوش آئند ہے۔ ہم مہمان ٹیم کے خلاف ہوم گراؤنڈ اور ہوم کراؤڈ کا بھرپور فائدہ اٹھانے کے کوشش کریں گے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کا اسکواڈ متوازی ہے اور انہیں نوجوان کھلاڑیوں سے بہت امیدیں وابستہ ہیں۔ ہم کھلاڑیوں کو انفرادی اور اجتماعی حیثیت سے ٹیم میں ان کا کردار واضح کرنا چاہتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ انہوں نے سیریز کے پہلے میچ کے لیے اپنے بارہ ناموں کا اعلان بھی کردیا ہے۔

    ٹام لیتھم، کپتان نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم:

    نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کے کپتان ٹام لیتھم نے کہا وہ جانتے ہیں کہ یہ دورہ پاکستان کرکٹ کے لیے کتنی اہمیت کا حامل ہے۔ میزبان ٹیم وائیٹ بال کرکٹ میں کبھی بھی آسان حریف ثابت نہیں ہوتی، ان کے پاس محدود طرز کی کرکٹ کے بہت باصلاحیت کھلاڑی موجود ہیں۔ سیریز میں کامیابی کے لیے ہمیں بہترین نتائج کی ضرورت ہے۔

    انہوں نے کہا کہ وہ متحدہ عرب امارات اور حال ہی میں نیوزی لینڈ میں پاکستان کے خلاف کرکٹ سیریز کھیل چکے ہیں، لہٰذا ہمیں اس ٹیم کی قابلیت اور صلاحیت کا بخوبی اندازہ ہے تاہم ہماری کوشش ہے کہ ہم جلد از جلد ان کنڈیشنز سے خود کو ہم آہنگ کرلیں تاکہ سیریز سے بہترین نتائج حاصل کیے جاسکیں۔

    سیریز میں شامل بقیہ دو میچز 19 اور 21 ستمبر کو کھیلے جائیں گے، جس کے بعد دونوں ٹیمیں لاہور روانہ ہوجائیں گی جہاں پانچ ٹی ٹونٹی انٹرنیشنل میچز کی سیریز 25 ستمبر سے 3 اکتوبر تک قذافی اسٹیڈیم لاہور میں کھیلی جائے گی۔

    بارہ رکنی پاکستان اسکواڈ:
    بابراعظم (کپتان)، شاداب خان (نائب کپتان)، فخر زمان، حارث رؤف، حسن علی، افتخار احمد، امام الحق، محمد رضوان (وکٹ کیپر)، سعود شکیل، شاہین شاہ آفریدی، عثمان قادر اور زاہد محمود
    نیوزی لینڈ کرکٹ اسکواڈ:
    ٹام لیتھم (کپتان) (وکٹ کیپر)، فن ایلن، ہمیش بینیٹ، ٹام بلینڈل (وکٹ کیپر)، ڈگ بریسوسیل، کولن ڈی گرینڈہوم، جیکب ڈفی، میٹ ہنری، اسکاٹ کگلیجن، کول مکانچی، ہنری نکلس، آعجز پٹیل، رچن رویندرا، بلیر ٹکنر اور ول ینگ

  • سی سی اے کے 20 کھلاڑیوں سمیت کُل 191 کھلاڑیوں کو ڈومیسٹک کنٹریکٹ مل گئے

    سی سی اے کے 20 کھلاڑیوں سمیت کُل 191 کھلاڑیوں کو ڈومیسٹک کنٹریکٹ مل گئے

    سی سی اے کے 20 کھلاڑیوں سمیت کُل 191 کھلاڑیوں کو ڈومیسٹک کنٹریکٹ مل گئے

    ڈومیسٹک کنٹریکٹ یافتہ کھلاڑیوں کی تنخواہوں میں اضافے سے متعلق چیئرمین پی سی بی رمیز راجہ کے اعلان کے ساتھ ہی ڈومیسٹک سیزن 22-2021 کے لیے 191 کھلاڑیوں کے لیے ڈومیسٹک کنٹریکٹس کا اعلان کردیا ہے۔چیئرمین کے اعلان کے مطابق پی سی بی نے ڈومیسٹک کنٹریکٹ کی پانچ مختلف کٹیگریز میں شامل کھلاڑیوں کے ماہوار وظیفے میں ایک لاکھ روپے کا اضافہ کردیا ہے۔157 میچز پر مشتمل یہ سیزن 15 ستمبر سے 30 مارچ تک جاری رہے گا۔

    پیر کوکیے گئے اعلان کے بعد اے پلس کٹیگری میں شامل 10 کھلاڑیوں کی ماہوار تنخواہ اب اڑھائی لاکھ روپے ہوگئی ہے۔ اے کٹیگری میں شامل 40 کھلاڑی اب ماہوار ایک لاکھ 85 ہزار روپے ملیں گے۔ بی کٹیگری میں شامل 40 کھلاڑی اب ایک لاکھ 75 ہزار روپے ، سی کٹیگری میں شامل 64 کھلاڑی اب 1لاکھ 65 ہزار روپے اور ڈی کٹیگری میں شامل 37 کھلاڑی اب ایک لاکھ 40 ہزار روپے ماہوار وصول کریں گے۔لہٰذا، اے پلس کٹیگری کے کرکٹرز اب سالانہ تقریباً پانچ ملین روپے تک کمائیں گے۔اور کٹیگری ڈی میں شامل کھلاڑی 3.75 ملین روپے کمار تک کمائیں گے ۔جن کھلاڑیوں کو ڈومیسٹک کنٹریکٹ کی پیشکش نہیں کی گئی ، وہ اپنی ایسوسی ایشن کے انتخاب کے لیے دستیاب رہیں گے اور وہ گزشتہ سال کی طرح رواں سال بھی میچ فیس ، ڈیلی الاؤنس اور انعامی رقم میں اپنا حصہ وصول کریں گے۔

    چیئرمین پی سی بی رمیز راجہ نے کہا کہ بہت ضروری ہےکہ ہم اپنے ڈومیسٹک کھلاڑیوں کو اچھی تنخواہ دیں تاکہ وہ اپنےکیرئیر اور اہلخانہ کی فکر کی بجائے تمام تر توجہ اپنی مہارت اور فٹنس میں بہتری لانے پر مرکوز کریں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کا فرض ہے کہ وہ ملک کے کرکٹرز کی دیکھ بھال کرے اور وہ اس فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے بہت خوشی محسوس کررہے تھے۔ رمیز راجہ کاکہنا ہے کہ کھلاڑیوں کی تنخواہوں میں نمایاں اضافہ ہمارے ڈومیسٹک نظام کو مضبوط کرے گا۔ یہ ہمارے کرکٹرز کی فلاح و بہبود سے متعلق شکوک و شبہات کو دور کرنے کا بھی باعث بنے گا۔

    پی سی بی نے 191 کھلاڑیوں کو ڈومیسٹک سیزن 22-2021 کے لیے کنٹریکٹ پیش کیے ہیں، جس میں سی سی اے ٹو ڈے ٹورنامنٹس کے 20 کرکٹرز شامل ہیں۔ ان 20 کرکٹرز میں سے 11 کا تعلق بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے دور دراز علاقوں سے ہے کیونکہ پی سی بی نہ صرف ان علاقوں کے ٹیلنٹ کو آزمانے کے لیے پرعزم ہے بلکہ انہیں قومی فریم ورک میں شامل کرنے میں بھی مصروف ہے۔

    ان 20 میں سے 11 کھلاڑیوں کا تعلق بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے علاقوں سے ہے، جن کی تفصیلات مندرجہ ذیل ہے:
    بلوچستان – عبدالحنان (قلعہ عبداللہ) ، آفتاب احمد (لورالائی) ، فہد حسین (جعفر آباد) ، محمد ادریس (کوئٹہ) ، محمد جاوید (پشین) ، ثناء اللہ (لورالائی) ، سید زین اللہ (پشین) اور طارق جمیل (لورالائی)
    سینٹرل پنجاب-حسیب الرحمن (لاہور) ، محمد عرفان جونیئر (شیخوپورہ) ، محمد طبریز (سیالکوٹ) اور محمد وحید (لاہور)
    خیبر پختونخوا – محمد ابراہیم (صوابی) ، وقار احمد (لوئر دیر) اور یاسر خان (بنوں)
    ناردرن – اسد رضا (فیصل آباد)
    سندھ – خزیمہ بن تنویر (کراچی) ، مشتاق احمد کلہوڑو (سکھر) اور جنید الیاس (کراچی)
    سدرن پنجاب – محمد شرون سراج (ساہیوال)

    عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی سے متعلق پالیسی کے تحت پی سی بی نے ڈومیسٹک کرکٹر آف دی ایئر 2020 کا ایوارڈ حاصل کرنے والے کامران غلام اور آف اسپنر ساجد خان کو بالترتیب سی اور اے کٹیگری سے ترقی دے کر اے پلس کٹیگری میں شامل کرلیا ہے۔

    کامران غلام نےگزشتہ سیزن میں قائداعظم ٹرافی فرسٹ کلاس ٹورنامنٹ میں سب سے زیادہ رنز بنانے کا 36 سالہ پرانا ریکارڈ توڑ ا تھا۔انہوں نے گزشتہ سیزن میں 1249 رنز بنائے تھے جبکہ آف اسپنر ساجد خان ایونٹ کے سب سے کامیاب باؤلر قرار پائے تھے۔ انہوں نے 67 وکٹیں حاصل کی تھیں۔

  • پاکستان بھارت کے مابین کرکٹ میچ، رمیز راجہ نے آتے ہی بڑا اعلان کر دیا

    پاکستان بھارت کے مابین کرکٹ میچ، رمیز راجہ نے آتے ہی بڑا اعلان کر دیا

    پاکستان بھارت کے مابین کرکٹ میچ، رمیز راجہ نے آتے ہی بڑا اعلان کر دیا

    چیئرمین پی سی بی نے میتھیو ہیڈ ن کو ورلڈ کپ کوچ مقررکرنے کا اعلان کر دیا

    چیئرمین پی سی بی رمیز راجہ کا کہنا تھا کہ نان فلینڈر بھی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں پاکستان کرکٹ ٹیم کی کوچنگ کریں گے اس وقت فرسٹ کلاس کھیلنے والوں کو ڈیڑھ سے ڈھائی لاکھ روپے ملیں گے،ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے لیے بہتری ٹیم منتخب کی گئی ہے،اسکول اور کلب کی سطح پر کرکٹ کو فروغ دیا جائے گا،منتخب کردہ ٹیم کی سپورٹ کی جانی چاہیے، ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے لیے بہترین ٹیم منتخب کی گئی ہےورلڈکپ 1992 اور 1999میں فرق صرف مضبوط قیادت کاہے، ورلڈ کپ کیلئے میتھیوہیڈن سے بطورہیڈ کوچ معاہدہ کرلیا مستقبل کی کرکٹ میں آپ کو تبدیلی نظرآئے گی، مصباح الحق،وقاریونس نے محنت اورایمانداری سے کام کیا،انٹرنیشنل کرکٹرز پیدا کرنیوالے کلب کے اخراجات پی سی بی اٹھائے گا پچزکرکٹ کی شہ رگ ہے اسے بہترکرنے کی ضرورت ہے،کلب کرکٹ میں سپائیکس کے بغیر کرکٹ نہیں کھیل سکتے،ڈراپ ان پیچز کی تجویز بھی زیر غور ہے،

    ماں بیٹی سے زیادتی کیس میں اہم پیشرفت سامنے آ گئی

    لاہور میں رواں برس جنسی زیادتی کے 369 کیسز، کسی ایک ملزم کو بھی سزا نہ مل سکی

    لاہور میں حوا کی دو اور بیٹیاں لٹ گئیں،اغوا کے بعد جنسی زیادتی

    شوہر نے بھائی اور بھانجے کے ساتھ ملکر بیوی کے ساتھ ایسا کام کیا کہ سب گرفتار ہو گئے

    لڑکیوں سے بڑھتے ہوئے زیادتی کے واقعات کی پنجاب اسمبلی میں بھی گونج

    شادی کا جھانسہ ، ویڈیو بناکر زیادتی اور پھر بلیک میل کرنے والا ملزم گرفتار

    رمیز راجہ کا کہنا تھا کہ 1992 ورلڈ کپ میں انضمام الحق فیل ہورہے تھے بار بار کھلایا گیا کیونکہ وہ میچ ونر تھے،کرکٹ ٹیم کے کپتان کومضبوط ہونا چاہیے جو ابھی بھی پاور فل ہیں،موجودہ صورتحال میں پاکستان بھارت مقابلہ نہیں ہوسکتا مصباح اور وقار کے مستعفی ہونے میں میرا کوئی کردار نہیں تھا،نئے کوچز بھی صرف ورلڈ کپ کے لیے مقرر کیے گئے ،ہم نے پاکستان کرکٹ کی سمت بدلنا ہوگی،

  • نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کے 18 سال بعد دورہ پاکستان پر کھلاڑی بھی مسرور

    نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کے 18 سال بعد دورہ پاکستان پر کھلاڑی بھی مسرور

    نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کے 18 سال بعد دورہ پاکستان پر کھلاڑی بھی مسرور

    پوری قوم کی طرح مینز اور ویمنز کرکٹرز بھی 18 سال بعد نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کی پاکستان آمدپر مسرور ہیں۔دونوں ممالک کے مابین3 ون ڈے انٹرنیشنل اور 5 ٹی ٹونٹی انٹرنیشنل میچز پر مشتمل تاریخی سیریز کا آغاز 17 ستمبرکو راولپنڈی سے ہوگا۔

    سیریز میں شامل تینوں ون ڈے انٹرنیشنل میچز 17،19 اور 21 ستمبر کو پنڈی کرکٹ اسٹیڈیم جبکہ 25 ستمبر سے شروع ہونے والی پانچ ٹی ٹونٹی انٹرنیشنل میچز پر مشتمل سیریز کے تمام میچز قذافی اسٹیڈیم لاہور میں کھیلے جائیں گے۔نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم نے آخری مرتبہ 2003 میں پاکستان کا دورہ کیا تھا، جب پانچ ون ڈے انٹرنیشنل میچز پر مشتمل سیریز میں پاکستان نے مہمان ٹیم کے خلاف کلین سوئیپ کیا تھا۔ اس کے بعد پاکستان نے اٹھارہ سال میں تین مرتبہ نیوزی لینڈ کی میزبانی کی تاہم تینوں مرتبہ سیریز کے تمام میچز متحدہ عرب امارات میں کھیلے گئے۔لہٰذا، مہمان ٹیم کے ایک طویل عرصہ بعد پاکستان آمد پر کرکٹ حلقے خوش اور سنسنی خیز میچز دیکھنے کے منتظر ہیں۔ اس موقع پر مینز اور ویمنز کرکٹ میں پاکستان کی نمائندگی کا اعزاز حاصل کرنے والے کھلاڑیوں نے اپنے جذبات کا اظہار کچھ یوں کیا ہے:

    سابق کرکٹر راشد لطیف کا کہنا ہے کہ ایک طویل عرصے بعد پاکستان میں نیوزی لینڈ کے کھلاڑیوں کو ایکشن میں دیکھنا شائقین کرکٹ کی خوش قسمتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ نیوزی لینڈ کے خلاف ان کی کرکٹ کی بہت سے یادیں وابستہ ہیں، آج بھی کراچی میں کھیلا گیا وہ میچ یاد ہے، جس میں شعیب اختر نے تیز رفتار باؤلنگ کرکے 6 کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی تھی۔راشد لطیف نے مزید کہا کہ دونوں ٹیموں کا پاکستان میں کرکٹ کھیلنا نوجوان کھلاڑیوں کے لیے بہت خوش آئند عمل ہے۔ 25 فیصد شائقین کرکٹ بھی میچز دیکھنے اسٹیڈیم کا رخ کرسکتے ہیں، لہٰذا انہیں دونوں ٹیموں سے بہترین کھیل کی امید ہے۔

    وکٹ کیپر بیٹسمین کامران اکمل کا کہنا ہے کہ وہ 18 سال بعد اپنی ٹیم کو پاکستان بھجوانے پر نیوزی لینڈ کرکٹ بورڈ کے شکرگزار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مہمان اسکواڈ میں شامل یہ کھلاڑی جب اپنے وطن واپس جائیں گے توان کی پاکستان کی کرکٹ اور یہاں کے ماحول کے بارے میں مثبت گفتگو دنیا کو مثبت پیغام دے گی۔کامران اکمل نے کہا کہ پاکستان کے نوجوان جب اپنے شہروں میں انٹرنیشنل کرکٹ ٹیموں کو کھیلتا دیکھتے ہیں یا اپنے اسٹار کو ان ایکشن دیکھتے ہیں تو ان میں کرکٹ کا جوش اور جذبہ مزید بڑھ جاتا ہے، امید ہے کہ اس سیریز سے خطے میں کرکٹ کو فروغ ملے گا۔

    قومی خواتین کرکٹ ٹیم کی سینئر کھلاڑی اور اسپنر ندا ڈار کا کہنا ہے کہ نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کے 18 سال بعد دورہ پاکستان پر وہ بہت خوش ہیں اور وہ سیریز میں قومی کرکٹ ٹیم کی بھرپور حوصلہ افزائی کریں گی۔ قومی خواتین کرکٹ ٹیم کی کپتان جویریہ خان کاکہنا ہے کہ ایک طویل عرصے بعد نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کی پاکستان آمد بہت خوش آئند بات ہے اور وہ اس تاریخی سیریز میں بابراعظم کی ٹیم کو اسپورٹ کریں گی۔ قومی جونیئر کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ اور سابق کرکٹر اعجاز احمد کا کہنا ہے کہ نیوزی لینڈ کرکٹ کا دورہ پاکستان ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ کی مکمل بحالی کی طرف ایک اور خوش آئند قدم ہے۔انہوں نے کہا کہ نیوزی لینڈ کے بعد انگلینڈ کرکٹ ٹیم بھی پاکستان کا دورہ کرے گی، ان دونوں سیریز سے جہاں شائقین کرکٹ کو بہترین کرکٹ مقابلے دیکھنے کو ملیں گے تو وہیں قومی کھلاڑیوں کو آئی سی سی ٹی ٹونٹی ورلڈکپ کی تیاریوں میں بھی مدد ملے گی۔اعجاز احمد نے شائقین کرکٹ سے درخواست کی ہے کہ وہ اسٹیڈیم میں میچز دیکھنے ضرور جائیں تاہم اس دوران سماجی فاصلے کا خاص خیال رکھیں

    سابق کرکٹر عمران فرحت کاکہنا ہے کہ وہ نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کی پاکستان آمد پر بہت خوش ہیں۔ مہمان ٹیم کے خلاف ان کی حسین یادیں وابستہ ہیں، خاص طور پر نیوزی لینڈ کے آخری دورہ پاکستان پر انہوں نے عمدہ بیٹنگ کی بدولت پاکستان کی جیت میں اہم کردار ادا کیا تھا۔سابق کرکٹر اور موجودہ کمنٹیٹر یاسر حمید کا کہنا ہے کہ سری لنکا، ویسٹ انڈیز اور جنوبی افریقہ کےبعد اب نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کا دورہ پاکستان بہت خوشی کی بات ہے۔انہوں نے کہاکہ نیوزی لینڈ کبھی بھی آسان حریف ثابت نہیں ہوتی، امید ہے دونوں ٹیموں کے مابین سنسنی خیز مقابلے دیکھنے کو ملیں۔

    دوسری جانب پاکستان کرکٹ بورڈ اور نیوزی لینڈ کرکٹ نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا ہے کہ آئندہ ہفتے راولپنڈی میں کھیلے جانے والے تین ون ڈے انٹرنیشنل میچز کا اسٹیٹس تبدیل کردیا گیا ہے۔ یہ تینوں میچز اب آئی سی سی کرکٹ ورلڈ کپ سپر لیگ کی بجائے دو طرفہ سیریز کے میچز شمار کیے جائیں گے۔یہ فیصلہ ڈی آر ایس کی عدم دستیابی کے باعث کیا گیا ہے، جو کہ آئی سی سی ورلڈکپ سپر لیگ کی پلیئنگ کنڈیشنز کا ضروری حصہ ہے۔نیوزی لینڈ کو اب 2 ٹیسٹ اور 3 ون ڈے انٹرنیشنل میچز پر مشتمل سیریز کھیلنے کے لیےدوبارہ 2022 میں پاکستان کا دورہ کرنا ہے۔ لہٰذا دونوں بورڈز نے اتفاق کیا ہے کہ اب اُس سیریز میں شامل تین ون ڈے انٹرنیشنل میچز آئی سی سی مینز کرکٹ ورلڈ کپ 2023 کی کوالیفیکشین کہلائیں گے۔

    پاکستان کرکٹ بورڈ نے بک می ڈاٹ کام کے ساتھ دو سال کا معاہدہ کرلیا ہے، جو ستمبر 2021 سے ستمبر 2023 تک جاری رہے گا۔ اس معاہدے کا آغاز پاکستان کی ہوم انٹرنیشنل سیریز میں شامل پہلی پاکستان بمقابلہ نیوزی لینڈ سیریز سے ہوگا۔ اس دورے میں 3 ون ڈے اور 5 ٹی ٹونٹی انٹرنیشنل میچز شامل ہیں۔معاہدے کے تحت پاکستان بمقابلہ نیوزی لینڈ سیریز کے علاوہ انگلینڈ کرکٹ ٹیم کے دورہ پاکستان، ویسٹ انڈیز اور آسٹریلیا کرکٹ ٹیموں کے دورہ پاکستان کی ٹکٹوں کی فروخت بھی بک می ڈاٹ پی کے پر کی جائے گی۔ایچ بی ایل پی ایس ایل کے آئندہ دونوں ایڈیشنز کی ٹکٹیں بھی بک می ڈاٹ کام پر دستیاب ہوں گی۔ آئندہ دو سالوں کے لیے پاکستان کپ، نیشنل ٹی ٹونٹی کپ، قائداعظم ٹرافی، ویمنز ٹورنامنٹ اور انٹرنیشنل ایونٹس کے میچز کی ٹکٹوں کی فروخت بھی بک می ڈاٹ پی کے پر کی جائے گی۔

    نیوزی لینڈ کے خلاف ون ڈے اور ٹی ٹونٹی انٹرنیشنل میچز کے لیے ٹکٹوں کی فروخت آج سہ پہر 3:30بجے شروع ہوجائے گی۔سیریز میں شامل تینوں ون ڈے انٹرنیشنل میچز کی ٹکٹیں 1 ہزار سے 2 ہزارروپے تک فروخت ہوں گی جبکہ پانچوں ٹی ٹونٹی انٹرنیشنل میچز کی ٹکٹیں 500 سے 3000 روپے تک دستیاب ہوں گی۔

    پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف آپریٹنگ آفیسرسلمان نصیر کا کہنا ہے کہ ہم پاکستان اور نیوزی لینڈ کے مابین سیریز میں فینز کی واپسی پر بہت پرجوش ہیں، ہم نے اپنے سروس پارٹنر بک می ڈاٹ پی کے کے ذریعے ٹکٹوں کی فروخت شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ پی سی بی نے ایک حکمت عملی کے تحت بک می ڈاٹ کام پی کے کے ساتھ معاہدہ کیا ہے۔جس کے تحت انہیں آئندہ دو سال کے لیے ڈومیسٹک اور ہوم انٹرنیشنل کرکٹ سمیت ویمنز کرکٹ کی ٹکٹوں کی فروخت بک می ڈاٹ پی کے کے سپرد کی گئی ہے۔سلمان نصیر نے کہا کہ فی الحال 25 فیصدتماشائیوں کو اسٹیڈیم میں داخلے کی اجازت ہوگی تاہم فینز سے درخواست ہے کہ وہ کوویڈ 19 سے متعلق پی سی بی اور حکومت کی ہدایات پر مکمل عمل کریں۔

    فیضان اسلم کاکہنا ہے کہ وہ سال 2023 تک کے لیے پاکستان کرکٹ بورڈ کے ٹکٹنگ شراکت دار بن گئے ہیں۔گزشتہ پی ایس ایل میں بہتر تعاون کی وجہ سے ہمارا اور پی سی بی کا رشتہ مزید مضبوط ہوجائے گا۔انہوں نے کہا کہ بک می ڈاٹ پی کے کے نمائندے این سی او سی کی مدد سے کوویڈ 19 ویکسینیشن کے عمل کی تصدیق کی کوشش کررہے ہیں۔ فینز کو ویکسین سرٹیفیکٹ اور اپنی ٹکٹ ہمراہ لانے کی ضرورت ہوگی۔

    پاکستان بھر میں ٹکٹ ایم اینڈ پی سیلز دفاتر سے فون پر یا آن لائن خریدے جا سکتے ہیں۔ اس حوالے سے (0313-7786888) رابطہ کیا جاسکتا ہے۔ آن لائن ٹکٹ خریدنے کے لیے اس ای میل ایڈریس پر رابطہ کریں: www.Bookme.pk

  • شائقین کرکٹ کیلئے انتظارختم،  اٹھارہ برس بعد  نیوزی  لینڈ  کرکٹ ٹیم کی پاکستان آمد

    شائقین کرکٹ کیلئے انتظارختم، اٹھارہ برس بعد نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کی پاکستان آمد

    شائقین کرکٹ کیلئے انتظارختم، اٹھارہ برس بعد نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کی پاکستان آمد
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کی 18 سال بعد پاکستان آمد ہوئی ہے

    نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم نے 18 سال بعد پاکستان میں قدم رکھ دیا ،نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم نے ڈھاکہ سے اسلام آباد ایئرپورٹ لیڈ کرلیا نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم چارٹر فلائٹ بی جی 4031 کے زریعے اسلام آباد پہنچی اسلام آباد پہنچنے پر مہمان ٹیم کا نجی ہوٹل میں کووِڈ ٹیسٹ ہوگا پاک نیوزی لینڈسیریز، پہلاون ڈے 17 ستمبرکوراولپنڈی میں کھیلا جائے گا ،بایئو سیکورٹی پروٹوکول کے مطابق کسی اجنبی کو ٹیم سے ملنے کی اجازت نہیں ،راشد لطیف کا کہنا ہے کہ نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کی پاکستان آمدپرخوشی ہے،کامران اکمل کا کہنا ہے کہ سیریز کے انعقاد سے خطے میں کھیل کو فروغ ملے گا ،ندا ڈار کا کہنا ہے کہ سیریز کے لیے بہت پرجوش ہوں، ٹیم کے لیے نیک خواہشات رکھتی ہوں،جویریہ خان کا کہنا ہے کہ امید ہے دونوں ٹیموں میں سنسنی خیز مقابلے دیکھنے کو ملیں گے،

    نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کا 15 ستمبر کو انٹر سکواڈ میچ شیڈول ہے پاکستان بمقابلہ نیوزیلینڈ تین میچوں پر مشتمل ایک روشہ سیریز کا پہلا میچ 17 ستمبر کو پنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلا جائے گا

    ہوٹل میں کی جانے والی آرائیول کوویڈ 19 ٹیسٹنگ کے نتائج منفی آنے اور ایک روز روم آئسولیشن میں گزارنے پر مہمان ٹیم کے ون ڈے اسکواڈ کو 13 ستمبر سے پنڈی کرکٹ اسٹیڈیم راولپنڈی میں ٹریننگ کی اجازت ہوگی۔دونوں ٹیموں کے مابین پہلا ون ڈے انٹرنیشنل میچ 17، دوسرا 19 اور تیسرا 21 ستمبر کو پنڈی کرکٹ اسٹیڈیم راولپنڈی میں کھیلا جائے گا۔

    اس موقع پر ابراہیم بادیس قومی کرکٹ ٹیم کے میڈیا منیجر کی ذمہ داریاں نبھائیں گے، جن سے Ibrahim.badees@pcb.com.pk اور 00923454743486 (واٹس ایپ) پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔ نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کے میڈیا منیجر جیمز بینیٹ سے James.bennett@nzc.nz اور006421996499 (واٹس ایپ) پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔

  • آسٹریلیا کی افغانستان کے ساتھ ٹیسٹ میچ کے بائیکاٹ کی دھمکی،ٹی 20 ورلڈ کپ بارے بھی بڑا دعویٰ

    آسٹریلیا کی افغانستان کے ساتھ ٹیسٹ میچ کے بائیکاٹ کی دھمکی،ٹی 20 ورلڈ کپ بارے بھی بڑا دعویٰ

    آسٹریلیا کی افغانستان کے ساتھ ٹیسٹ میچ کے بائیکاٹ کی دھمکی،ٹی 20 ورلڈ کپ بارے بھی بڑا دعوی
    آسٹریلیا کی کرکٹ ٹیم کے کپتان نے کہا ہے کہ افغانستان ٹی 20 ورلڈ کپ میں کیسے مقابلہ کر سکتا ہے۔

    آسٹریلیا نے اس سال کے آخر میں افغانستان کے خلاف ایک ٹیسٹ میچ کے بائیکاٹ کی دھمکی دی ہے کیونکہ آسٹریلیا کو ایشیائی ملک میں خواتین کرکٹ کے مستقبل پر خدشات ہیں۔ طالبان کے نمائندے احمد اللہ وثیق کے بیان کہ خواتین کی کرکٹ ضروری نہیں ہے کے بعد یہ ردعمل سامنے آیا ہے

    آسٹریلیا کے کپتان کا کہنا ہے کہ یہ دیکھنا مشکل ہے کہ افغانستان کس طرح طالبان کے قبضے کے بعد آئندہ ٹی 20 ورلڈ کپ میں مقابلہ کر سکتا ہے۔آسٹریلیا نے خواتین کے کھیل کے مستقبل کے خدشات کے باعث رواں سال کے آخر میں افغانستان کے خلاف ٹیسٹ میچ کے بائیکاٹ کی دھمکی دی ہے جبکہ افغان اسپنر راشد خان کے کپتان کے عہدے سے سبکدوش ہونے کے آدھے گھنٹے سے بھی کم وقت میں ورلڈ کپ اسکواڈ کا اعلان کر دیا گیا ہے

    ٹورنامنٹ 17 اکتوبر کو شروع ہونے والا ہے اور آسٹریلیا کے کپتان کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں افغانستان کو آئی سی سی ایونٹ میں کھیلنے کی اجازت کیسے دی جا سکتی ہے ایسا نہیں نظر آ رہا لیکن ابھی تک ہم نے آئی سی سی سے کچھ نہیں سنا ایک ماہ میں ٹی 20 ورلڈ کپ ہے یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ کیا ٹیم ورلڈ کپ سے باہر ہو جائے گی؟آسٹریلوی کپتان کا کہنا تھا کہ اگر ٹیمیں افغان ٹیم کے ساتھ کھیلنے سے پیچھے ہٹ رہی ہیں تو آئی سی سی کیسے ایونٹ میں کھیلنے کی اجازت دی گی، بہت مشکل ہے

    آسٹریلیا نے افغانستان کے خلاف اپنے پہلے ٹیسٹ کے بائیکاٹ کی دھمکی دی ہے ، جو 27 نومبر کو شروع ہونے والا ہے ،دوسری جانب راشد خان کے قیادت سے انکار پر افغان کرکٹ بورڈ نے ملکی ٹیم کا نیا کپتان محمد نبی کو مقرر کردیا۔ ٹوئنٹی رینکنگ میں سرفہرست محمد راشد نے ورلڈ کپ کیلیے منتخب اسکواڈ پر مشورہ نہ لیے جانے پر قیادت چھوڑدی تھی، محمد نبی نے ذمہ داری ملنے کے بعد سوشل میڈیا پر کہا کہ اس مشکل صورتحال پر میں بورڈ کا فیصلہ قبول کرتا ہوں، ہم سب مل کر ورلڈ کپ میں قوم کی بہترین نمائندگی کریں گے۔

    افغانستان اور آسٹریلیا کے درمیان ٹیسٹ میچ ہوبارٹ میں 27 نومبر سے یکم دسمبر تک کھیلا جائے گا۔ یہ میچ گذشتہ برس کھیلا جانا تھا لیکن کورونا وائرس کی سفری پابندیوں کی وجہ سے نہ کھیلا جا سکا یہ افغانستان کا پہلا ٹیسٹ میچ ہوگا