Baaghi TV

Category: کھیل

  • شعیب اختر نے دورہ انگلینڈ کےکھلاڑیوں کے انتخاب  پر اعتراض کردیا

    شعیب اختر نے دورہ انگلینڈ کےکھلاڑیوں کے انتخاب پر اعتراض کردیا

    شعیب اختر نے دورہ انگلینڈ کےکھلاڑیوں کے انتخاب پر اعتراض کردیا

    باغی ٹی وی :پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق فاسٹ باؤلر اور راولپنڈی ایکسپریس شعیب اختر نے انگلینڈ سے ٹیسٹ کیلیے ممکنہ 20 کھلاڑیوں کے انتخاب پر اعتراض اٹھا دیا۔

    خبر رساں ادارے ایک انٹرویو میں سابق ٹیسٹ کرکٹر نے تنقیدی نشتر چلاتے ہوئے کہا کہ 29 پلیئرز میں سے 22 فاسٹ بولرز ہیں، معلوم نہیں مینجمنٹ کیا چاہتی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ کھلاڑیوں کی فہرست دیکھ کر ٹیم کی ایک شکل اور پلاننگ کی سوچ سامنے آ جانا چاہیے مگر ایسا نظر نہیں آ رہا، اب اگر میچ ہار گئے تو شدید تنقید سامنے آئے گی کہ آپ 40 پلیئرز میں سے بھی ایک متوازن ٹیم نہیں بنا سکے تو کیا کر سکتے ہیں ان کو بہترین الیون منتخب کرنا چاہیے
    واضح رہے کہ اس سےپہلے رین شرٹس انگلینڈ کے دورہ پر ہے لیکن: قومی ٹیم دورہ انگلینڈ میں سیریز کے آغاز سے قبل ہی مشکلات سے دوچار ہونے لگی، نوجوان بلے باز خوشدل شاہ انگوٹھے میں فریکچر کے سبب تین ہفتے کے لیے باہر ہو گئے ہیں۔

    پی سی بی کی جانب سے جاری بیان کے مطابق خوشدل شاہ اس وقت سکواڈ کے مابین کھیلے جا رہے چار روزہ میچ میں شریک نہیں ہیں اور 24 سے 27 جولائی تک ڈربی میں کھیلے جانے والے دوسرے چار روزہ میچ کے لیے بھی دستیاب نہیں ہوں گے۔

    خوشدل شاہ الٹے ہاتھ کے انگوٹھے کی انجری کا شکار ہوئے ہیں جس کی وجہ سے وہ تین ہفتے تک کرکٹ نہیں کھیل سکیں گے

  • محمد عامر نے قومی اسکواڈ کو کیا جوائن،فاسٹ باؤلر حارث رؤف انگلینڈ کب روانہ ہوں گے؟ پی سی بی نے بتا دیا

    محمد عامر نے قومی اسکواڈ کو کیا جوائن،فاسٹ باؤلر حارث رؤف انگلینڈ کب روانہ ہوں گے؟ پی سی بی نے بتا دیا

    فاسٹ باؤلر حارث رؤف انگلینڈ کب روانہ ہوں گے؟ پی سی بی نے بتا دیا
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ نے ایک اعلامیہ میں کہا ہے کہ کوویڈ19 کے دوسرے ٹیسٹ کی رپورٹ منفی آنے کے بعد فاسٹ باؤلر محمد عامر نے ڈربی میں موجود قومی اسکواڈ کو جوائن کرلیا ہے۔

    محمد عامر 24 جولائی کو لاہور سے ڈربی روانہ ہوئے تھے۔ برطانوی حکومت کی گائیڈ لائنز کے مطابق آئسولیشن میں پانچ روزگزارنے کے ساتھ ساتھ ان کے کوویڈ19 کے 2 ٹیسٹ منفی آنا ضروری تھے۔

    دوسری طرف پی سی بی تصدیق کرتا ہے فاسٹ باؤلر حارث رؤف کا بدھ کو لیا گیا دوسرا ٹیسٹ بھی منفی آیاہے۔ گذشتہ تین روز میں 2 ٹیسٹ کی رپورٹس منفی آنے پرفاسٹ باؤلر حارث رؤف انگلینڈ کے لیے سفر کرنے کے اہل ہوگئے ہیں۔

    حارث رؤف رواں ہفتے کے آخر میں انگلینڈ روانہ ہوجائیں گے۔ اس حوالے سے مزید تفصیلات مقررہ وقت پر جاری کردی جائیں گی۔

  • سکواش کے عالمی چیمپیئن،مسلسل 10 برس نمبر 1 رہنے والے کھلاڑی جان شیر خان کا کمر کا کامیاب آپریشن،دیا اہم مشورہ

    سکواش کے عالمی چیمپیئن،مسلسل 10 برس نمبر 1 رہنے والے کھلاڑی جان شیر خان کا کمر کا کامیاب آپریشن،دیا اہم مشورہ

    سکواش کے عالمی چیمپیئن،مسلسل 10 برس نمبر 1 رہنے والے کھلاڑی جان شیر خان کا کمر کا کامیاب آپریشن،دیا اہم مشورہ
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سکواش کے عالمی چیمپین اورلگاتار دس سال نمبر 1 رہنے والے کھلاڑی جان شیر خان ستارہ امتیاز، ہلال امتیاز نے گزشتہ روز شفاء انٹرنیشنل ہسپتال سے اپنے کمر کے دو spinal stenosis lower and upper آپریشن کامیابی سے کرانے کے بعد ڈاکٹر اور ہسپتال کا شکریہ ادا کیا

    جان شیر خان کا کہنا تھا کہ ان سب کا شکریہ جنہوں نے محنت اور لگن سے میرا آپریشن کو کامیاب بنایا اور قوم ملک دوستوں رشتے دارو کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے میرے لیے خصوصی دُعائیں اور پیغمات بھیجے۔

    جان شیر خان نے اتنا بڑا آپریشن کرانے کی وجہ بتاتے ہوے کہا کے تقریبا ایک سال سے مجھے نماز، واک، اور سکواش کرتے وقت کمر میں شدید درد ہوتا تھا مگر مجھےاُس درد کو کنڑول کرنے کی صلاحیت اور برداشت تھی مگر کچھ عرصے سے درد نیچے ٹانگوں میں اُتر آیا اور ڈاکڑوں نے جلد سے جلد آپریشن ایڈوایز کرنے کا کہا جس کی وجہ سے مجھے اُس ایڈوایز پر عمل کرنا لازمی تھا جس کی وجہ سے آپریشن کرانا پڑا .

    آپریشن نہ کرانے سے مزید انتہائی مشکلات کا سامنا جس میں چلنے پرنے میں دشواری کا ہونا اور مزید سنگین مسئلے ہو سکتے تھے۔ پاکستان میں بہت قابل اور اچھے ڈاکر ہے جس کی وجہ سے میں نے اپنا علاج اپنے ملک میں کرانےکو ترجیح دی میں بہت خوشی اور تندرستی محسوس کر رہا ہوں۔

    جان شیر خان کا مزید کہنا تھا کے سکواش کے میدان میں دس سال تک پاکستان کا نام روشن کرنا میرے لیے فخر کی بات تھی۔ دس سال نمبر 1 رہنا اور ریکارڈ ٹائٹل اپنے نام کرنے کیلے میں دن رات محنت کرتا جس کے وجہ سے اپنی صحت کو مکمل ٹایم اور ٹریٹمنٹ نہ دے سکا جسکی وجہ سے میرے گھٹنوں اور کمر میں پرابلم ہوئی

    جان شیر خان نے مزید کہا کے میں آج کے ینگ پلیرز کو ایڈوایز کرونگا کے اپنی ٹریننگ سمیت اپنے گھٹنوں اور کمر کا خصوصی خیال کرے اور چھوٹے سے چھوٹے درد کو سنجیدہ لئے تاکہ بروقت علاج کر سکے اور بڑے مسئلہ سے بچا سکے۔

  • پی سی بی کی سابق کھلاڑیوں کو ایک بار پھر میدان میں آنے کی دعوت

    پی سی بی کی سابق کھلاڑیوں کو ایک بار پھر میدان میں آنے کی دعوت

    لاہور، 29 جولائی 2020ء:پاکستان کرکٹ بورڈسابق کھلاڑیوں کوایک بار پھر میدان میں آنے کی دعوت دے رہا ہے۔اس سلسلے میں سابق کھلاڑیوں کی میچ آفیشلز سمیت مختلف رولز میں ڈومیسٹک سیزن 2020-21 میں شمولیت پر سنجیدگی سے غور کیا جارہا ہے۔

    ریٹائرڈ کھلاڑیوں کے لیے امپائرز اور میچ ریفریز کے کردار میں روزگار کا یہ موقع ان کے لیے ڈومیسٹک کرکٹ میں میچ آفیشلز کی ذمہ داریاں نبھانے کے ساتھ ساتھ انہیں بین الاقوامی سطح پر اپنی مہارت دکھانے کا ایک واضح راستہ بھی فراہم کررہا ہے۔

    فی الحال آئی سی سی کےایلیٹ پینل برائے میچ آفیشلزمیں علیم ڈار ہی واحد پاکستانی ہیں۔بین الاقوامی سطح پر وہ بہت قابل احترام اور معتبر امپائر سمجھے جاتے ہیں۔احسن رضا، شوذب رضا، محمد آصف یعقوب اور راشد ریاض وقار بھی آئی سی سی کے انٹرنیشنل پینل میں شامل ہیں۔آئی سی سی کے ایلیٹ پینل برائے میچ ریفریز میں تو کوئی پاکستانی شامل نہیں تاہم 2 پاکستانی محمد انیس اور محمد جاوید ملک انٹرنیشنل پینل برائے میچ ریفریز میں شامل ہیں۔

    روزگارکا یہ موقع پی سی بی کی اس پالیسی کے عین مطابق ہے جس کے تحت ڈومیسٹک نظام میں سابق کھلاڑیوں کی زیادہ سے زیادہ شمولیت کے ساتھ ساتھ اپنے مقامی ٹیلنٹ کی تیاری ہے۔

    مقررہ اہلیت پر پورا اترنے والے خواہشمند امیدوار10 اگست تک اپنے کوائف abdul.hameed@pcb.com.pk پر جمع کرواسکتے ہیں:

    اہلیت کا معیار:

    • کم از کم 50 فرسٹ کلاس میچز
    • 40سال سے کم عمر

    حال ہی میں ہائی پرفارمنس پروگرام میں پی سی بی نےسابق کھلاڑیوں کو مختلف کوچنگ رولز سنبھالنےکی ترغیب دی ہے، جس کی مکمل تفصیلات یہاں موجود ہیں۔اس حوالے سے پی سی بی کوایسے سابق انٹرنیشنل اورفرسٹ کلاس کرکٹرز کی تلاش ہے جن کے پاس کم از کم75 فرسٹ کلاس میچوں کا تجربہ ہونے کے ساتھ ساتھ پی سی بی لیول ٹو یا اس کے برابر ایکریڈیشن ہونا چاہیے۔

    اس کے علاوہ پی سی بی آئندہ ڈومیسٹک سیزن کے لیے سابق کھلاڑیوں کو مختلف میڈیا رولز میں بھی دیکھنے کا خواہشمند ہے۔اس میں کمنٹری اور اسٹوڈیو شوز کے مختلف کردار شامل ہیں، جس کی تفصیلات مقررہ وقت پر جاری کردی جائیں گی۔

    دوسری طرف، شعبہ ہائی پرفارمنس 360 ڈگری کے زاویے سے 146 میچ آفیشلز کی کارگردگی کا مکمل جائزہ لے رہا ہے۔اس میں 31 میچ ریفریز اور 115 امپائرز شامل ہیں۔ کارکردگی کی جانچ پڑتال کے اس مربوط نظام میں سیزن 2019-20 کے دوران میچ ریفریز اور کپتانوں کی رپورٹس اور ان امپائرز کےتنقیدی فیصلوں کا جائزہ لینا شامل ہے۔

    ندیم خان، پی سی بی ڈائریکٹر ہائی پرفارمنس:

    پی سی بی ڈائریکٹر ہائی پرفارمنس ندیم خان کا کہنا ہے کہ پاکستان نے کرکٹ کے کئی ذہین کرکٹرز پیدا کیے ہیں اور اب ان کے تجربے کو استعمال کرنے کا وقت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک کرکٹر کھیل کی اصل روح کو سمجھتا ہےاور اگر اسے باقاعدہ تربیت دی جائے تو وہ ایک میچ آفیشل کی حیثیت سے کھیل کے معیار کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔

    پی سی بی ڈائریکٹر ہائی پرفارمنس نے کہا کہ 40 سال سے کم عمر اور کم از کم 50 فرسٹ کلا س میچوں کی اہلیت کا یہ معیار دراصل سابق کرکٹرز کی نظام میں زیادہ سے زیادہ شمولیت سے متعلق ہماری جامع حکمت عملی کا نتیجہ ہے۔

    ندیم خان نے کہا کہ ہمارا مشن ہائی پرفارمنس سنٹر کے ذریعے اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے بہترین ایتھلیٹس کی تیاری کے ساتھ ساتھ میچ آفیشلز کی مہارت میں نکھار لانا بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس مقصد کے لیے وہ اپنے امپائرز اور میچ ریفریز کے لیے مختلف کوچنگ کورسز کا اہتمام کر رہے ہیں۔

  • فاسٹ بولر محمد عامر کا دوسرا کوویڈ 19 ٹیسٹ ہو گیا، زرائع

    فاسٹ بولر محمد عامر کا دوسرا کوویڈ 19 ٹیسٹ ہو گیا، زرائع

    حمد عامر کا پہلا کورونا وائرس ٹیسٹ منفی آیا تھا. محمد عامر دوسرا ٹیسٹ منفی آنے پر ٹیم کو جوائن کریں گے.

    محمد عامر کے ٹیسٹ کا ریزلٹ شام تک آنے کی توقع ہے. محمد عامر انگلینڈ پہنچنے کے بعد پانچ روزہ آئسولیشن میں ہیں.

  • انڈیپینڈنٹ ایڈجیوڈیکٹرنےعمراکمل کی اپیل پرکیس کا فیصلہ سنا دیا

    سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس ریٹائرڈ فقیر محمد کھوکھرنے بطور انڈیپینڈنٹ ایڈجیوڈیکٹرعمر اکمل کی اپیل پر کیس کا محفوظ کیا گیا فیصلہ سنادیا ہے۔

    انڈیپینڈنٹ ایڈجیوڈیکٹرنے 29 جولائی 2020 کو جاری کیے گئے اپنے فیصلہ میں لکھا ہے:

    "اپنے انٹرویو اور2 مختلف اوقات میں 2 مختلف افراد کی جانب سے فکسنگ سے متعلق رابطوں کے حوالے سے شوکاز نوٹس کے جواب میں اپیل کنندہ کی خوداعترافی کے بعد کسی شک کی گنجائش نہیں رہ جاتی کہ ان کے خلاف الزامات میں صداقت ہے۔”

    "اپیل کنندہ کا مؤقف متضاد ہے اور اس کی کوئی ساکھ نہیں ۔ اپیل کنندہ کے خلاف مقدمہ درست ثابت ہوتا ہے۔”

    "چیئرمین ڈسپلنری پینل کا اپیل کنندہ کو دونوں الزامات میں قصور وار پانے کا واضح جواز موجود ہے۔”

    تاہم انڈیپینڈنٹ ایڈجیوڈیکٹرنےہمدردانہ رویہ اختیار کرتے ہوئے عمر اکمل کی پابندی کی مدت میں کمی کرتے ہوئے سزا کو ایک سال اور چھ ماہ کردیا ہے۔ فیصلے کے مطابق سزا کا اطلاق عمر اکمل کی عبوری معطلی کے روز سے ہوگا ،جوکہ 20فروری 2020 ہے۔

    27 اپریل کو جسٹس (ر) فضلِ میراں چوہان نے بطور چیئرمین ڈسپلنری پینل دو مختلف مواقع پر پی سی بی کے اینٹی کرپشن کوڈ کی شق 2.4.4 کی خلاف ورزی کرنے پر عمر اکمل پر تین سال کی پابندی عائدکی تھی۔

    پی سی بی اینٹی کرپشن کوڈ کی شق 7.5.4 کے تحت انڈیپینڈنٹ ایڈجوڈیکٹرکے فیصلے پر اپیل صرف کھیلوں کی ثالثی عدالت میں ہی کی جاسکتی ہے.

  • کرکٹر عمر اکمل کی سزا میں کمی، بڑا ریلیف مل گیا

    کرکٹر عمر اکمل کی سزا میں کمی، بڑا ریلیف مل گیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کرکٹر عمر اکمل کی 3 سالہ سزا میں کمی کی استدعا منظور کر لی گئی

    عمر اکمل کو بڑا ریلیف مل گیا،سزا 3سے کم کرکےڈیڑھ سال کر دی گئی،عمر اکمل کی اپیل پر محفوظ فیصلہ سنا دیا گیا، انڈیپینڈنٹ ایڈجیو ڈیکٹر جسٹس ریٹائرڈ فقیر محمد کھوکھر نے کیس پر فیصلہ سنایا ،عمر اکمل نے تین سالہ پابندی کے خلاف اپیل کی تھی

    13 جولائی کو سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس ریٹائرڈ فقیر محمد کھوکھرنے بطور انڈیپینڈنٹ ایڈجیوڈیکٹرعمر اکمل کیس پر فیصلہ محفوظ کیا تھا، انہوں نے پیر کے روز نیشنل ہائی پرفارمنس سنٹر میں ہونے والی سماعت میں دونوں فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا.

    27 اپریل کو جسٹس (ر) فضلِ میراں چوہان نے بطور چیئرمین ڈسپلنری پینل دو مختلف مواقع پر پی سی بی کے اینٹی کرپشن کوڈ کی شق 2.4.4 کی خلاف ورزی کرنے پر عمر اکمل پر تین سال کی پابندی عائدکی تھی۔‏ جسٹس ریٹائرڈ فقیر محمد کھوکھرکی جانب سے فیصلہ سنانے تک پی سی بی اس معاملے پرمزید تبصرہ نہیں کرے گا۔‏

    واضح رہے کہ پی سی بی کی ڈسپلنری کمیٹی کے چئرمین جسٹس ریٹائرڈ فضل میران چوہان نے عمر اکمل پر تین سال کی پابندی عائد کر دی۔ تین برس تک عمر اکمل کرکٹ نہیں کھیل سکیں گے،چیئرمین انڈپینڈنٹ ڈسپلنری پینل جسٹس ریٹائرڈ فضلِ میراں چوہان نے عمراکمل کےمتعلق تفصیلی فیصلہ پاکستان کرکٹ بورڈ کو جمع کروا دیا ہے جس کے مطابق وہ 19 فروری 2023 کو دوبارہ کرکٹ کی سرگرمیوں میں شرکت کے اہل ہوں گے۔

    فیصلے مطابق پی سی بی اینٹی کرپشن کوڈ میں شامل دونوں چارجز کی خلاف ورزی کرنے پر عمر اکمل پر 3 سال کی پابندی عائد کی گئی ہے اور یہ پابندی 20 فروری 2020 یعنی عمراکمل کی معطلی کے روز سے نافذ العمل ہوگی۔

    عمر اکمل کو 2 مختلف واقعات میں پی سی بی اینٹی کرپشن کوڈ کے آرٹیکل 2.4.4 کی خلاف ورزی پر 17 مارچ کو نوٹس آف چارج جاری کیا گیا تھا اورسزا کی دونوں مدتوں پر ایک ساتھ عمل ہوگا۔فیصلے کے مطابق پی سی بی نے عمر اکمل کا معاملہ 9 اپریل کو چیئرمین ڈسپلنری پینل کو بھجوایا تھا۔ چیئرمین انڈپینڈنٹ ڈسپلنری پینل جسٹس ریٹائرڈ فضلِ میراں چوہان نے تفصیلی فیصلے میں اپنے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ بظاہرعمر اکمل نہ تو ندامت کے خواہاں اور نہ ہی اپنی غلطی پر معافی مانگنے کو تیار ہیں۔

  • عمر اکمل کی سزا کے خلاف اپیل، محفوظ فیصلہ کب سنایا جائیگا؟ بتا دیا گیا

    عمر اکمل کی سزا کے خلاف اپیل، محفوظ فیصلہ کب سنایا جائیگا؟ بتا دیا گیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق عمر اکمل کی سزا کیخلاف اپیل کی درخواست پر محفوظ فیصلہ کل سنایا جائے گا

    انڈیپینڈنٹ ایڈجیوڈیکٹر جسٹس ریٹائرڈ فقیر محمد کھوکھر کیس پر فیصلہ سنانے کے لیے سماعت کل کریں گے ،سماعت بدھ کی صبح 1030 بجے نیشنل ہائی پرفارمنس سنٹر لاہور میں ہوگی

    13 جولائی کو سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس ریٹائرڈ فقیر محمد کھوکھرنے بطور انڈیپینڈنٹ ایڈجیوڈیکٹرعمر اکمل کیس پر فیصلہ محفوظ کیا تھا، انہوں نے پیر کے روز نیشنل ہائی پرفارمنس سنٹر میں ہونے والی سماعت میں دونوں فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا.

    27 اپریل کو جسٹس (ر) فضلِ میراں چوہان نے بطور چیئرمین ڈسپلنری پینل دو مختلف مواقع پر پی سی بی کے اینٹی کرپشن کوڈ کی شق 2.4.4 کی خلاف ورزی کرنے پر عمر اکمل پر تین سال کی پابندی عائدکی تھی۔‏ جسٹس ریٹائرڈ فقیر محمد کھوکھرکی جانب سے فیصلہ سنانے تک پی سی بی اس معاملے پرمزید تبصرہ نہیں کرے گا۔‏

    واضح رہے کہ پی سی بی کی ڈسپلنری کمیٹی کے چئرمین جسٹس ریٹائرڈ فضل میران چوہان نے عمر اکمل پر تین سال کی پابندی عائد کر دی۔ تین برس تک عمر اکمل کرکٹ نہیں کھیل سکیں گے،چیئرمین انڈپینڈنٹ ڈسپلنری پینل جسٹس ریٹائرڈ فضلِ میراں چوہان نے عمراکمل کےمتعلق تفصیلی فیصلہ پاکستان کرکٹ بورڈ کو جمع کروا دیا ہے جس کے مطابق وہ 19 فروری 2023 کو دوبارہ کرکٹ کی سرگرمیوں میں شرکت کے اہل ہوں گے۔

    فیصلے مطابق پی سی بی اینٹی کرپشن کوڈ میں شامل دونوں چارجز کی خلاف ورزی کرنے پر عمر اکمل پر 3 سال کی پابندی عائد کی گئی ہے اور یہ پابندی 20 فروری 2020 یعنی عمراکمل کی معطلی کے روز سے نافذ العمل ہوگی۔

    عمر اکمل کو 2 مختلف واقعات میں پی سی بی اینٹی کرپشن کوڈ کے آرٹیکل 2.4.4 کی خلاف ورزی پر 17 مارچ کو نوٹس آف چارج جاری کیا گیا تھا اورسزا کی دونوں مدتوں پر ایک ساتھ عمل ہوگا۔فیصلے کے مطابق پی سی بی نے عمر اکمل کا معاملہ 9 اپریل کو چیئرمین ڈسپلنری پینل کو بھجوایا تھا۔ چیئرمین انڈپینڈنٹ ڈسپلنری پینل جسٹس ریٹائرڈ فضلِ میراں چوہان نے تفصیلی فیصلے میں اپنے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ بظاہرعمر اکمل نہ تو ندامت کے خواہاں اور نہ ہی اپنی غلطی پر معافی مانگنے کو تیار ہیں۔

    عمر اکمل نے سزا کو چیلنج کر رکھا ہے،جس کا فیصلہ کل صبح سنایا جائے گا

  • قومی کرکٹ ٹیم کے بیٹنگ کوچ یونس خان کی ڈربی سے ویڈیو لنک کانفرنس

    قومی کرکٹ ٹیم کے بیٹنگ کوچ یونس خان کی ڈربی سے ویڈیو لنک کانفرنس

    قومی کرکٹ ٹیم کے ساتھ بیٹنگ کوچ کا تجربہ بہت اچھارہا ہے ۔ جب سے ڈربی میں آئے ہیں بہت اچھی سہولیات موجود ہیں ۔ بہترین ماحول ہمیں یہاں ملاہے ۔ کھلاڑیوں کے ساتھ کام کرنے کا تجربہ بہت اچھا رہا ہے ۔ انٹرا اسکواڈ میچ میں ووسٹر میں بلے بازوں نے بہتر کارکردگی دکھائی ۔ مختلف کنڈیشنز میں کھلاڑیوں کو ٹریننگ کروارہے ہیں ۔ ڈربی میں دوسرے میچ میں باولنگ کے لئے بہتر کنڈیشنز تھیں ۔ ٹیسٹ میچ سے قبل کھلاڑیوں کو ہر طرح کی سہولیات فراہم کی ہیں ۔ جب کاونٹیز کے ساتھ میچ کھیلتے ہیں تو باولرز مختلف ہوتے ہیں ۔ یونس خان

    انٹرا اسکواڈ میچ میں ٹیم کے جلدی آوٹ ہونے پر مجھے تشویش نہیں ہے ۔ جب ٹیسٹ میچ میں جائیں گے تو بلے باز بہترہوجائیں گے۔کھلاڑیوں کی اسکلز پر کام کے ساتھ کوشش ہے کہ ان کو دیگر چیزیں سکھا جاوں ۔ میری کوشش ہے کہ میں کھلاڑیوں کو سکھاجاوں کہ۔مجھے بعدمیں بھی یاد رکھیں ۔ انسان اپنی زندگی سے سیکھتاہے ۔ میں نے اپنے آپ سے سیکھ رہا ہوں ۔ کھلاڑیوں کے لئے ہر وقت دستیاب ہوں ۔ سینئر جو نئیر تمام کھلاڑیوں کے ساتھ ایک ساکام کررہا ہوں ۔ بیٹنگ کوچ

    کسی کھلاڑی کا کسی دوسرے کے ساتھ موازانہ نہیں کرنا چاہئے ۔ بابر اعظم کی جوکلاس ہے وہ اس کی اپنی کلاس ہے ۔باب وولمر سے سیکھا کہ مختلف کھلاڑیوں کو کس طرح ڈیل کرنا ہے ۔اظہر ،اسد ، بابر اور شان ٹیم کو آگے لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔ بابر اعظم نے جتنا پرفارم کیا ہےان سے توقعات بھی زیادہ ہیں ۔ ہم انگلینڈ فائٹ بیک کرنے نہیں جیتنے آئے ہیں ۔ شاگرد ہونا آسان جبکہ استاد ہونا بہت مشکل ہے۔ شاگرد کے پاس غلطی کی گنجائش ہوتی ہے استاد کے پاس غلطی کی گنجائش نہیں ہوتی ۔ بیٹنگ کوچ یونس خان

  • کھلاڑیوں کو ذاتی اور پروفیشنل زندگی میں توازن رکھنے کی ضرورت ہے،یونس خان

    کھلاڑیوں کو ذاتی اور پروفیشنل زندگی میں توازن رکھنے کی ضرورت ہے،یونس خان

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق قومی ٹیم بیٹنگ کوچ یونس خان نے ویڈیو لنک پریس کانفرس میں بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ مجھے ٹیم کے ساتھ کام کر کے اچھا لگا،میں پاکستان ٹیم کے ساتھ کام کرنا چاہتا تھا۔

    یونس خان کا کہنا تھا کہ ڈربی میں تمام سہولیات میسر ہیں دوستانہ اور آزادانہ ماحول ملا،میں جس طرح ٹریننگ کا ماحول چاہتا تھا ویسا ملا،مجھے کھلاڑیوں کے ساتھ کام کرنے کے لئے وقت ملا،میں نے کھلاڑیوں سے ایک ماہ میں یہی کہا کہ لائف سے سیکھیں، مجھے ٹیم کے ساتھ کام کر کے اچھا لگا،میں پاکستان ٹیم کے ساتھ کام کرنا چاہتا تھا۔

    یونس خان کا مزید کہنا تھا کہ باب وولمر سے میں بہت قریب تھا، اسد شفیق اور اظہر علی کیا غلطیاں کررہے ہیں میں دیکھ رہا ہوں ،کھلاڑیوں کو ذاتی اور پروفیشنل زندگی میں توازن رکھنے کی ضرورت ہے،کھلاڑیوں کواپنا لائف اسٹائل بدلنے کی ضرورت ہے ،میری کوچنگ کا فائدہ بلے بازوں کے مستقبل کے لیے مدد گار ثابت ہوگا،

    یونس خان کا مزید کہنا تھا کہ ووسٹر میں بیٹنگ کے لیے اچھی کنڈیشنز تھیں جبکہ ڈربی دوسرے میچ میں فاسٹ بولرز کے لئے اچھا رہا،بیٹسمینوں کو یہاں انگلش کنڈیشنز میں کھیلنے کا موقع ملا ہے، کھلاڑیوں کو ہر صورتحال کے مطابق کھیلنے کا موقع ملا ہے،پریکٹس میچ کا فائدا ہوا کہ بلے باز ذہنی طور پر ٹیسٹ سیریز کے لیے تیار ہوئے۔

    یونس خان کا مزید کہنا تھا کہ بیٹسمینوں کی ایسی رہنمائی کرنا چاہتا ہوں کہ پورے کیریئر میں ان کو فائدہ ہوا اور وہ ہمیشہ مجھے یاد رکھیں،بابر اعظم کی کارکردگی کو اور بہتر بنانا چاہتا ہوں، انھیں عظیم بیٹسمین بننا ہے جس کی پرفارمنس سے ٹیم جیتے،ان کا کسی کے ساتھ موازنہ نہیں کرنا چاہیے،بابر کی اپنی ایک کلاس ہے