پی سی بی نے ون ڈے انٹر نیشنل کرکٹ ٹیم کے کپتان کا اعلان کر دی
باغی ٹی وی :پی سی بی نے ون ڈے انٹر نیشنل کے نئے قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان کا اعلان کر دیا ، اس سلسے میں پاکستان کے مایہ ناز کھلاڑی بابر اعظم کو کپتان مقررکیا گیا ہے. . پاکستان کرکٹ بورڈ نے سیزن 2020-21ء کے لیے 18 کھلاڑیوں پر مشتمل سینٹرل کنٹریکٹ کااعلان کردیا ہے۔ یکم جولائی سے نافذ العمل سینٹرل کنٹریکٹ میں نسیم شاہ اور افتخار احمد کو شامل کیا گیا ہے۔دوسری جانب پاکستان کرکٹ بورڈ نے سیزن 2020-21 کے لیے اظہرعلی کوقومی ٹیسٹ کرکٹ ٹیم جبکہ بابراعظم کوقومی ٹی ٹونٹی اور ایک روزہ کرکٹ ٹیموں کی قیادت سونپ دی ہے۔
ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں نسیم شاہ کو کم عمر ترین باؤلر کی حیثیت سے میچ کی ایک اننگز میں پانچ وکٹیں اور ہیٹ ٹرک کرنے کا اعزاز حاصل ہے۔ انہوں نے یہ اعزازات سری لنکا اور بنگلہ دیش کے خلاف بالترتیب کراچی اور راولپنڈی میں ٹیسٹ میچوں کے دوران حاصل کیے۔
باغی ٹی وی پاکستان کرکٹ بورڈ نے سیزن 2020-21ء کے لیے 18 کھلاڑیوں پر مشتمل سینٹرل کنٹریکٹ کااعلان کردیا ہے۔ یکم جولائی سے نافذ العمل سینٹرل کنٹریکٹ میں نسیم شاہ اور افتخار احمد کو شامل کیا گیا ہے۔دوسری جانب پاکستان کرکٹ بورڈ نے سیزن 2020-21 کے لیے اظہرعلی کوقومی ٹیسٹ کرکٹ ٹیم جبکہ بابراعظم کوقومی ٹی ٹونٹی اور ایک روزہ کرکٹ ٹیموں کی قیادت سونپ دی ہے۔
ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں نسیم شاہ کو کم عمر ترین باؤلر کی حیثیت سے میچ کی ایک اننگز میں پانچ وکٹیں اور ہیٹ ٹرک کرنے کا اعزاز حاصل ہے۔ انہوں نے یہ اعزازات سری لنکا اور بنگلہ دیش کے خلاف بالترتیب کراچی اور راولپنڈی میں ٹیسٹ میچوں کے دوران حاصل کیے۔
افتخار احمد نے گذشتہ سیزن میں پاکستان کی جانب سے 2 ٹیسٹ اور 2 ون ڈے اور7 ٹی ٹونٹی بین الاقوامی میچوں میں شرکت کی۔ اس دوران ٹی ٹونٹی کرکٹ میں ان کی کی اوسط اور اسٹرائیک ریٹ دیگر تمام بلے بازوں سے بہتررہی۔
اسی طرح نسیم شاہ کے باؤلنگ پارٹنر شاہین شاہ آفریدی کا شماران 4 کھلاڑیوں میں ہوتا ہے جنہیں نئے کنٹریکٹ میں ترقی دی گئی ہے۔ بائیں ہاتھ کے فاسٹ باؤلر نے گذشتہ سیزن کے دوران ٹیسٹ کرکٹ میں پاکستان کی جانب سے سب سے زیادہ وکٹیں حاصل کی تھیں۔
گذشتہ سیزن میں 18 ٹیسٹ اور 2 ٹی ٹونٹی وکٹیں حاصل کرنے والےشاہین شاہ آفریدی کو اےکیٹیگری میں شامل کرلیا گیا ہے۔عابد علی(تین ٹیسٹ میچوں میں 174 رنز اور ایک ون ڈے میچ میں 74رنز )، محمد رضوان (گذشتہ پا نچ ٹیسٹ میچوں میں 212 رنز اور وکٹوں کے پیچھے16شکار، گذشتہ پانچ ٹی ٹونٹی انٹرنیشنل میچوں میں 50 رنز اوروکٹوں کے پیچھے 2 شکار )اور شان مسعود (گذشتہ پانچ ٹیسٹ میچوں میں 396 رنز)کو بی کیٹیگری میں ترقی دے دی گئی ہے۔
کس کی ہوگی تنزلی اور کس کو ملے گی ترقی ، سینٹرل کنٹریکٹ میں قومی کرکٹرز کے نام فائنل
باغی ٹی وی : سینٹرل کنٹریکٹ میں قومی کرکٹرز کے نام فائنل ہو گئے، چیئرمین احسان مانی کی منظوری سے آج ناموں کا اعلان کیا جائے گا، اظہر علی کی ترقی، سرفراز احمد کی تنزلی اور فاسٹ بولر محمد عامر، حسن علی اور عثمان شنواری کی چھٹی کا امکان ہے، حارث رؤف اور نسیم شاہ کی انٹری ہو سکتی ہے۔
لاک ڈاؤن میں پی سی بی کے قومی کرکٹرز کے لیے بڑے فیصلے، ہیڈ کوچ مصباح الحق کی لسٹ جمع ہو گئی، چیئرمین احسان مانی کی حتمی منظوری کے بعد سنٹرل کنٹریکٹ کا اعلان آج ہو گا۔
کھلاڑیوں کی تعداد انیس یا بیس رکھنے اور تین ہی کیٹگریز پر مکمل اتفاق، کٹوتیوں کے بجائے اضافے کا امکان ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ کپتانی اور نمائندگی سے محرومی کے بعد سرفراز احمد اے کیٹگری سے بھی آؤٹ جبکہ اظہر علی ان کی جگہ لے سکتے ہیں۔
ٹیسٹ کرکٹ سے معذرت پر وہاب ریاض بی سے سی کیٹگری میں تنزلی ہو سکتی ہے، سی کیٹگری میں موجود محمد عامر کو طویل دورانیے کی کرکٹ سے دوری کی سزا مل سکتی ہے، فٹنس مسائل سے دو چار حسن علی اور عثمان شینواری کی چھٹی جبکہ نوجوان بولر محمد حسنین، حارث رؤف اور نسیم شاہ کا نام شامل کیے جانے کا امکان ہے
واضح رہے کہ اس سے پہلے کرکٹرز کو آن لائن کوچنگ دینے کا سلسلہ شروع کیا گیا تھا. سابق کرکٹرز کی جانب سے27 اپریل سے شروع ہونے والا یہ سلسلہ 9 مئی کو اختتام پذیر ہوا، جہاں ماضی میں پاکستان کوشاندار فتوحات دلانے والے معروف کھلاڑیوں جاوید میانداد، وسیم اکرم، راشد لطیف، مشتاق احمد، معین خان، یونس خان، محمد یوسف اور شعیب اختر نے خصوصی شرکت کی۔
لاک ڈاؤن کے سبب سابق کرکٹرز نے آن لائن سیشنز کے ذریعے موجودہ اور ایمرجنگ کرکٹرز کو کارکردگی نکھارنے اور صلاحیتوں کے بھرپور اظہار کےمفید گُر سیکھائیں۔ اس دوران ماضی کے عظیم کرکٹرز نے شرکاء کو اپنے کیرئیر کے اتار چڑھاؤ کی کہانیاں سنانے کے ساتھ ساتھ انہیں کھیل میں نظم و ضبط،سخت محنت، خوداعتمادی اور یقین محکم کا جذبہ اپنانے کی ہدایت کی۔
سابق ٹیسٹ فاسٹ باولر شعیب اختر نے پی سی بی کے قانونی مشیر تفضل رضوی کو لیگل نوٹس کا جواب بھجوادیا،شعیب اختر نے تفضل رضوی کے الزامات کو مسترد کردیا ۔ شعیب اختر نے معروف قانون دان سلمان خان نیازی ایڈووکیٹ کی وساطت سے تفضل رضوی کو لیگل نوٹس کا جواب بھجوادیا جو کہ 5صفحات پر مشتمل ہے جواب میں کہا گیا ہے کہ تفضل رضوی کے تمام الزامات کو مسترد کرتا ہوں میری رائے تھی رائے پر لیگل نوٹس نہیں بھیجا جاتا اور نا ہی ہرجانے کا دعوی دائر ہوسکتا ہے۔ شعیب اختر نے اپنے جواب میں کہا ہے کہ تنقیدکرنا میرا حق ہے اسکی اجازت قانون بھی دیتا ہے۔
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سلیم ملک ڈٹ گئے،سابق کپتان سلیم ملک نے بڑا اعلان کردیا
سلیم ملک کا کہنا ہے کہ اگر پی سی بی سے نے انصاف نہ دیا تو میرے پاس آئی سی سی میں جانے کا راستہ کھلا ہے۔ اگر بورڈ انصاف نہیں دیتا تو میں سب کچھ سامنے لاوں گا۔ میں کسی کے خلاف نہیں ہوں اور نہ ہی میں نے کبھی کسی کا نام لیا ہے ۔ میں شروع سے کہتا آرہا ہوں کہ جسٹس قیوم کی رپورٹ پڑھیں ۔
سلیم ملک کا کہنا تھا کہ اب لوگوں نے یہ رپورٹ پڑھی ہے تو سمجھ آئی ہے ۔میری عادت رہی ہے کہ جب تک کوئی مشورہ نہ مانگے بلاوجہ مشورے نہیں دیتا۔ وسیم اکرم نے کبھی مجھ سے کچھ سیکھنے پاپوچھنے کی خواہش نہیں کی اور میں نے بتایا نہیں ۔اس ساری صورت حال کے بعد کاروبار کرکے زندگی اچھے طریقے سے گذاری ہے۔
سلیم ملک کا مزید کہنا تھا کہ میرے بیٹے شافع ملک کو اچھی کارکردگی کے باوجود میری وجہ سے نشانہ بنایا جانا افسوس ناک ہے۔ پی سی بی سے بہت مرتبہ رابطہ کیا مگر انہوں نے جواب نہیں دیا۔پی سی بی سے دوبارہ بھی رابطہ کیا ہے مگر ابھی کوئی جواب نہیں آیا۔ پی سی بی کے پاس کچھ تھا تو میں آٹھ سال کیس لڑا ہوں عدالت میں پیش کرتے ۔
سلیم ملک کا مزید کہنا تھا کہ لوگ یہ سمجھ رہے ہیں کہ میں شاید سلیکٹریا ٹیم کی کوچنگ کی طرف آنا چاہتا ہوں ،میں اکیڈمی کی سطح پر نوجوان کرکٹرز کی کوچنگ کرکے پاکستان کرکٹ کی خدمت کرنا چاہتا ہوں۔
کابل :اسپاٹ فکسنگ کے جرم میں شفیق اللہ پر 6 سال کے لیے کرکٹ کھیلنے پرپابندی ،اطلاعات کے مطابق اسپاٹ فکسنگ کے جرم میں افغانستان کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی شفیق اللہ شفیق پر 6 سال کی پابندی عائد کردی گئی۔
افغانستان کرکٹ بورڈ (اے سی بی) کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ شفیق اللہ شفیق نے اینٹی کرپشن کوڈ کی خلاف ورزی کے تمام الزامات قبول کرلیے ہیں جس کے بعد ان پر 6 سال تک ہر قسم کی کرکٹ کے دروازے بند کردیے گئے ہیں۔
اے سی بی کے مطابق وکٹ کیپر بلے باز شفیق اللہ شفیق پر الزام تھا کہ انہوں نے افغان پریمیئر لیگ میں اسپاٹ فکسنگ کی بلکہ بنگلا دیش پریمیئر لیگ میں بھی ساتھی کرکٹر کو فکسنگ پر اکسایا ۔افغانستان کرکٹ بورڈ کے مطابق شفیق اللہ شفیق نے غلطی مان کر تعاون کا وعدہ کیا ہے، اس لیے ان پر صرف 6 سال کی پابندی عائد کی گئی ہے۔
یاد رہے کہ 30 سالہ افغان کرکٹر شفیق اللہ نے افغانستان کی جانب سے 24 ایک روزہ اور 46ٹی ٹوئنٹی میچز کھیل رکھے ہیں
باغی ٹی وی :قومی خواتین کرکٹ کی منیجمنٹ نے 38 کھلاڑیوں کے آن لائن فٹنس ٹیسٹ لینے کا اعلان کیا ہے ۔ ویڈیو لنک کے ذریعے فٹنس ٹیسٹ لینے کا مقصد قومی خواتین کرکٹرز کے مطلوبہ فٹنس معیار کو برقرار رکھنا ہے۔
پیر سے شروع ہونے والے آن لائن فٹنس ٹیسٹ 20 مئی تک جاری رہیں گے۔ خواتین کرکٹرز کے فٹنس ٹیسٹ میں پرون ہولڈ، بلغارین اسکاٹس، ورٹیکل جمپس اور پش اپس شامل ہوں گے۔ ماہ رمضان کے باعث خواتین کھلاڑیوں کےفٹنس ٹیسٹ روزے کے مقررہ اوقات کار کے بعد لیے جائیں گے۔
فٹنس ٹیسٹ کے نتائج کاخواتین کھلاڑیوں کے سنٹرل کنٹریکٹ پر کوئی اثر نہیں ہوگا۔ ٹیسٹ کی نگرانی عمران خلیل کریں گے جنہیں فٹنس ٹرینر کی عبوری ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔
عروج ممتاز، چیف سلیکٹر قومی خواتین کرکٹ:
چیف سلیکٹر قومی خواتین کرکٹ عروج ممتاز کا کہنا ہےکہ دور جدید کے تقاضوں کے مطابق کھلاڑیوں کو اپنا فٹنس لیول ہر وقت برقرار رکھنا ہے،اپنے سسٹم میں فٹنس کلچر کو فروغ دینا ہمارا ہدف ہے۔
عروج ممتاز نے کہاکہ ہمیں یہ بھی دیکھنا ہے کہ ان غیرمعمولی حالات میں کھلاڑی صرف دستیاب جگہوں میں ہی ٹریننگ کرسکتی ہیں لہٰذا ہم نے اس امر کویقینی بنانے کی کوشش کی ہے کہ تمام کھلاڑیوں کے فٹنس ٹیسٹ کسی بھی سامان کے بغیر اور انڈور میں ہی منعقد ہوسکیں۔
چیف سلیکٹر نے کہاکہ اس موقع پر فٹنس کا مطلوبہ معیار حاصل نہ کرنے پرکھلاڑیوں پر کوئی پنالٹی نہیں لگارہےتاہم تمام کرکٹرز کو ہدایت کرتے ہیں کہ بطور پروفیشنل کرکٹرز انہیں اپنا فٹنس لیول برقرار رکھنا چاہیے تاکہ جوں ہی کرکٹ کی سرگرمیاں بحال ہوں وہ اس میں شرکت کے لیے تیار ہوں۔
سینئرز کرکٹرز کے آن لائن لیکچرز کو موجودہ کھلاڑیوں نے کیسا پایا
باغی ٹی وی :کرکٹ کے لیجنڈز کا موجودہ کھلاڑیوں کوویڈیو لنک کے ذریعے ٹپس دینے کا سلسلہ مکمل ہوگیا۔ سابق کرکٹرز کی جانب سے27 اپریل سے شروع ہونے والا یہ سلسلہ 9 مئی کو اختتام پذیر ہوا، جہاں ماضی میں پاکستان کوشاندار فتوحات دلانے والے معروف کھلاڑیوں جاوید میانداد، وسیم اکرم، راشد لطیف، مشتاق احمد، معین خان، یونس خان، محمد یوسف اور شعیب اختر نے خصوصی شرکت کی۔
لاک ڈاؤن کے سبب سابق کرکٹرز نے آن لائن سیشنز کے ذریعے موجودہ اور ایمرجنگ کرکٹرز کو کارکردگی نکھارنے اور صلاحیتوں کے بھرپور اظہار کےمفید گُر سیکھائیں۔ اس دوران ماضی کے عظیم کرکٹرز نے شرکاء کو اپنے کیرئیر کے اتار چڑھاؤ کی کہانیاں سنانے کے ساتھ ساتھ انہیں کھیل میں نظم و ضبط،سخت محنت، خوداعتمادی اور یقین محکم کا جذبہ اپنانے کی ہدایت کی۔
ان سیشنز میں تقریباََ 45 موجودہ اور ایمرجنگ کرکٹرز نے حصہ لیا۔آن لائن سیشنز کا مقصد مستقبل کے بہترین کھلاڑیوں کو ان غیرمعمولی حالات میں کھیل سے جوڑنے اور عظیم کھلاڑیوں کے علم سے مستفید کرنا تھا۔
مصباح الحق، چیف سلیکٹر اور ہیڈ کوچ قومی کرکٹ ٹیم:
قومی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ اور چیف سلیکٹر مصباح الحق کا کہنا ہے کہ وہ اپنے قیمتی وقت میں سے آن لائن سیشنز کا حصہ بننے والے عظیم کھلاڑیوں کے مشکور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان غیرمعمولی حالات میں گھروں تک محدود کرکٹرز کے لیےان مخصوص سیشنزکا انعقاد ایک بہترین تجربہ ثابت ہوا ہے۔
وہ پرامید ہیں کہ جاوید میانداد، وسیم اکرم، مشتاق احمداور یونس خان جیسے معروف کھلاڑیوں کی کہانیاں موجودہ کرکٹرز کے لیے حوصلہ افزائی کا سبب بنیں گی۔ انہوں نے کہاکہ عظیم کھلاڑیوں کے تجربات کی روشنی میں کھیل کےایک طالب علم کی حیثیت سےیہ آن لائن سیشنز ان کے لیے بھی مفیدرہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایسے انٹریکٹو سیشنزموجودہ اور سابقہ کھلاڑیوں کو ایک دوسرے سےتبادلہ خیال کا موقع فراہم کرتے ہیں ، جو نوجوانوں کے کھیل میں نکھار اور کرکٹ کی مختلف نسلوں میں دوری کو کم کرنے کا سبب بنتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ سابق کرکٹرز نے موجودہ کھلاڑیوں کو آئسولیشن میں گزرتے ان قیمتی لمحات کے مثبت استعمال اورانگلینڈ سیریز کے لیے ذہنی طور پر تیار رہنے کے گُر بتائے ہیں۔
بابراعظم، بیٹسمین:
ٹی ٹونٹی کی عالمی رینکنگ میں پہلےجبکہ ایک روزہ اور ٹیسٹ فارمیٹ میں بالترتیب تیسرے اور پانچویں بہترین بلے باز بابراعظم کا کہنا ہے کہ آن لائن سیشنز کا انعقاد ایک شاندار تجربہ رہا، جس سے کھلاڑیوں کے اعتماد میں اضافہ ہوا ہے۔انہوں نے کہاکہ وہ اپنے کیرئیر کے آغاز سے ہی محمد یوسف اور یونس خان کی اسکلز کے متعارف رہے ہیں اوردونوں لیجنڈری بلے بازوں نےانہیں کارکردگی میں تسلسل لانے کے لیے مفید مشورے دئیے ۔
25سالہ نوجوان کرکٹر نے کہاکہ وہ دونوں کھلاڑیوں کی جانب سے تکنیک میں بہتری کے لیے دی گئی ہدایات پر عمل کرنے کے لیے کھیل کے دوبارہ آغاز کامنتظر ہوں۔ انہوں نے کہاکہ لاک ڈاؤن کی مدت میں اضافہ ہوا تو سابق کرکٹرز کے پیغامات کے ذریعے رابطے میں رہنے کی کوشش کریں گے۔
سرفراز احمد، وکٹ کیپر :
49 ٹیسٹ، 116ایک ر وزہ اور58 ٹی ٹونٹی انٹرنیشنل میچوں میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والے وکٹ کیپر بیٹسمین سرفراز احمد نے کہاکہ وہ خود کو خوش قسمت سمجھتے ہیں کہ ان کا تعلق ایک ایسے شہر سے جس نے مختلف ادوار میں پاکستان کے لئےعظیم وکٹ کیپرزپیدا کیے۔ انہوں نے کہا کہ ایک ہی شہر سے تعلق کے سبب وہ معین خان اور راشد لطیف سے اکثر رہنمائی لیتے رہتے ہیں مگر دونوں سابق کھلاڑیوں کے ساتھ گزری ہر نشست ان کے علم میں اضافہ کا سبب بنتی ہے۔
لاہور:زندگی میں پہلی بارہرکوئی گھرمیں قید،گھرمیں بہت کچھ ہوسکتا ہے،اطلاعات کےمطابق پاکستان کی ٹاپ ٹینس پلیئر سارہ محبوب کہتی ہیں کہ اگر کھلاڑی چاہے تو وہ اپنی فٹنس برقرر رکھنے کیلئے گھر میں ہی ٹریننگ کرسکتا ہے، ٹریننگ کیلئے نہ ہی ساز و سامان درکار ہے اور نہ کوئی بڑی جگہ بس ایک چیز درکار ہے اور وہ کچھ کرنے کا عزم ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس کی وجہ سے لاک ڈاؤن کے بعد شروع میں انہیں روٹین تبدیل کرنا بہت مشکل لگتا تھا لیکن بعد میں احساس ہوا کہ ان حالات کا کچھ نہیں معلوم اس لیے حالات کے مطابق ہی روٹین بنالیا جائے۔
سارہ محبوب کا کہنا تھا کہ ان کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ گھر پر ہی ٹریننگ کریں اور جب باہر لوگ نہ ہوں تو کچھ دیر رننگ کرلیں۔ ایک سوال پر 29 سالہ ٹینس پلیئر نے کہا کہ وہ ٹینس کورٹ مِس کررہی ہیں، جو انرجی ٹینس کھیل کر ملتی تھی اس کی کمی محسوس ہورہی ہے اور اب بھی جب ٹینس ذہن پر سوار ہوتا ہے تو دیوار کے سامنے ‘والی’ کرتی ہیں یا ریکٹ سے گیند کو اچھالتی ہیں۔
سارہ محبوب نے بتایا کہ انہوں نے برطانوی کھلاڑی اینڈی مرے کے ‘ہنڈریڈ والیز’ چیلنج سے متاثر ہوکر اس کی جوابی وڈیو بھی تیار کی ہے تاہم سوئس ٹینس اسٹار راجر فیڈرر کی طرح ‘وال والیز’ کرنا آسان نہیں۔
پاکستان کی نمبر ون ٹینس پلیئر کا مزید کہنا تھا کہ وہ سمجھتی ہیں کہ حالات بہتر ہونے کے بعد ٹینس کورٹس میں واپسی زیادہ مشکل نہیں ہوگی کیوں کہ اس میں کھلاڑی ویسے ہی ایک دوسرے سے فاصلے پر ہوتے ہیں۔ احتیاط کے طور پر ہاتھ ملانے سے گریز کیا جاسکتا ہے اور کورٹ پر اضافی گیندیں رکھی جاسکتی ہیں تاکہ ایک گیند کو ہر کوئی نہ چھو سکے۔بغیر تماشائیوں کے بھی میچز ہوسکتے ہیں۔
سابق وکٹ کیپر بیٹسمین معین خان کا وکٹ کیپرز کو آن لائن لیکچر.
معین خان کا کیہنا تھا کہ، میدان میں گری ہوئی ٹیم کو اٹھانا وکٹ کیپر کی زمہ داری ہے. باولرز کی پٹائی ہو رہی ہو تو وکٹ کیپرز کو حوصلہ افزائی کے لیئے آگے آنا چاہیئے. باولرز کے ساتھ فیلڈ میں رابطہ بڑھانے کی ضرورت ہے. اُن کا یےبھی کیہنا تھا کہ، موجودہ کھلاڑیوں کوچاھئے کے میدان میں جم کے محنت کرے اور تو اور کھلاڑیوں کو ایک ٹیم کی طرح کھل نے کی تجویز کی.
اُن کا یے بھی کیہنا تھا کہ، محنت میں تسلسل نہ لاتا تو رشد لطیف جیسے باصلاحیت وکٹ کیپر کا مقابلہ نہ کر سکتا، وسیم اکرم اور شاہد آفریدی کے آنکھوں کے اشارے پڑھ لیا کرتا تھا، دونوں بولروں کے ساتھ مل کر کئی بڑے بیٹسمینوں کو پویلین کی راہ دکھائی.