Baaghi TV

Category: کھیل

  • فکسنگ کے الزامات کو پھرزندہ کرنا اورجسٹس قیوم کمیشن کو نہ سمجھنا افسوسناک پہلوہے ، جنرل ریٹائرڈ توقیرضیا

    فکسنگ کے الزامات کو پھرزندہ کرنا اورجسٹس قیوم کمیشن کو نہ سمجھنا افسوسناک پہلوہے ، جنرل ریٹائرڈ توقیرضیا

    لاہور :فکسنگ کے الزامات کو پھرزندہ کرنا اورجسٹس قیوم کمیشن کو نہ سمجھنا افسوسناک پہلوہے ، جنرل ریٹائرڈ توقیرضیا ،اطلاعات کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق چیئرمین لیفٹنٹ جنرل ریٹائرڈ توقیر ضیا نے کہا ہے کہ طویل عرصے بعد فکسنگ کے الزامات کو دوبارہ اچھالنا افسوس ناک ہے ،،، لوگوں کی اکثریت نے جسٹس قیوم کمیشن کی رپورٹ کو سمجھاہی نہیں ہے

    پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق چیئرمین لیفٹنٹ جنرل ریٹائرڈ توقیر ضیا نے ویڈیو لنک کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ 20 سال پرانے فکسنگ کیس کو دوبارہ اچھالنا ملک اور ملکی کرکٹ کی بدنامی کے علاوہ کچھ نہیں ہے ، سابق چیئرمین نے کہا کہ جسٹس قیوم رپورٹ میرے چیئرمین کا عہدہ سنبھالنے سے قبل حکومت کے پاس جاچکی تھی ،،،مئی2000 یہ رپورٹ حکومت کی جانب سے بھجوائی گئی اور ہم نے اسے پبلک کردیا،

    جنرل توقیر ضیا نے کہا کہ جسٹس قیوم رپورٹ کو کسی نےدرست طریقے سے پڑھا ہی نہیں ،،سلیم ملک فرسٹریشن میں یہ سب کچھ کررہے ہیں انہیں جاب نہیں چاہئے تو اکیڈمی بنانے کی اجازت دی جائے

    سابق چیئرمین کا کہنا تھا کہ جسٹس قیوم رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ مشتاق احمد کے حوالے سے الگ سے ایک رپورٹ دی جائے گی مگر 20 سال بعد بھی وہ رپورٹ نہیں آئی ،،، وسیم اکرم کے اور مشتاق احمد کے علاوہ کسی کو نوکری دینےسےمنع نہیں کیا ،،،،،رپورٹ میں وقار یونس، انضمام الحق،سعید انور اور اکرم رضاکو صرف ایک ایک لاکھ روپے جرمانہ کیا گیا اس کے علاوہ ان کے لیے کچھ نہںں لکھا گیا

    سابق چیئرمین پی سی بی کا کہنا تھا کہ سب کہتے ہیں کہ پاکستان بنگلہ دیش سے ہار نہیں سکتا مگر کوئی ثبوت نہیں دیتا،،، حالیہ اسکینڈلز میں اگر نیشنل کرائم ایجنسی رپورٹ نہ کرتی شرجیل وغیرہ پکڑے نہ جاتے،، سابق چئیرمین نے سابق کرکٹرز سے کہا کہ فکسنگ کی باتیں چھوڑکر کرکٹ کی بات کریں یا پھر ٹھوس شواہد سامنے لائیں

  • قومی کرکٹر عمراکمل کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ‏چیئرمین انڈپینڈنٹ ڈسپلنری پینل جسٹس ریٹائرڈ فضلِ میراں چوہان نےجمعرات کو عمر اکمل کیس کا تفصیلی فیصلہ پاکستان کرکٹ بورڈ کو جمع کروایا۔ تفصیلی فیصلہ www.pcb.com.pk پر شائع کردیا گیا ہے

    جسٹس ریٹائرڈ فضلِ میراں چوہان نے پی سی بی اینٹی کرپشن کوڈ میں شامل دونوں چارجز کی خلاف ورزی کرنے پر عمر اکمل پر 3 سال کی پابندی عائد کی ہے جو 20 فروری 2020 یعنی عمراکمل کی معطلی کے روز سے نافذ العمل ہوگی۔ نااہلی کی دونوں مدتوں پر ایک ساتھ عمل ہوگا۔ عمر اکمل اب 19 فروری 2023 کو دوبارہ کرکٹ کی سرگرمیوں میں شرکت کے اہل ہوں گے۔

    عمر اکمل کو 2 مختلف واقعات میں پی سی بی اینٹی کرپشن کوڈ کے آرٹیکل 2.4.4 کی خلاف ورزی پر 17 مارچ کو نوٹس آف چارج جاری کیا گیا تھا۔ اینٹی کرپشن ٹربیونل کے روبرو پیشی کی درخواست نہ کرنے پر پی سی بی نے عمر اکمل کا معاملہ 9 اپریل کو چیئرمین ڈسپلنری پینل کو بھجوادیا تھا۔

    چیئرمین انڈپینڈنٹ ڈسپلنری پینل جسٹس ریٹائرڈ فضلِ میراں چوہان نے تفصیلی فیصلے میں اپنے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ بظاہر عمر اکمل نہ تو ندامت کے خواہاں اور نہ ہی اپنی غلطی پر معافی مانگنے کو تیار ہیں۔ جو اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ اینٹی کرپشن کوڈ کے آرٹیکل 2.4.4 کے تحت وہ (عمراکمل) اپنی ذمہ داریاں نبھانے میں ناکام رہے۔ بلکہ وہ تو اسی پر اکتفا کرنے کی کوششیں کرتے رہے کہ ماضی میں اس طرح کے رابطوں کے بارے میں وہ خود ہی مطلع کرتے رہے ہیں۔

    چیئرمین انڈپینڈنٹ ڈسپلنری پینل جسٹس ریٹائرڈ فضلِ میراں چوہان نے تحریری فیصلے میں اپنے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ جہاں تک چارج نمبر 1 کا تعلق ہے تو اس میں انہیں ایسے معاملات دیکھنے کو نہیں ملے جس سے جرم کی نوعیت میں کمی واقع ہوسکے۔ خاص طور پر جب فریق (عمر اکمل) نے پی سی بی کے ویجلنس اینڈ سیکورٹی ڈیپارٹمنٹ اور تحقیقاتی ٹیم سے تعاون ہی نہ کیا ہو۔

    ریمارکس میں کہا گیا ہے کہ رابطوں سے متعلق پی سی بی کے ویجلنس اینڈ سیکورٹی ڈیپارٹمنٹ کو بلا تاخیر آگاہی میں ناکامی کا اعتراف کرنے کے پیش نظر فریق (عمر اکمل) پر عائد الزامات ثابت ہوتے ہیں اور فریق (عمر اکمل) آرٹیکل 2.4.4 کی خلاف ورزی پر خود کو سزاوار کی حیثیت سے پیش کرتے ہیں۔

    تحریری فیصلے میں لکھا گیا ہے کہ چارج نمبر 2،وہ (عمر اکمل)، پی سی بی کے ویجلنس اینڈ سیکورٹی ڈیپارٹمنٹ کو پی ایس ایل 2020 کے میچوں میں ضابطہ اخلاق کے تحت بدعنوانی میں ملوث ہونے سے متعلق رابطوں کی تفصیلات بتانے میں ناکام رہے ہیں۔

    تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ انہوں (عمر اکمل) نے یہ بھی اعتراف کیا ہے کہ وہ پی سی بی کے کوڈ 2.4.4 کے تحت پی سی بی کے سیکورٹی اینڈ ویجلنس ڈیپارٹمنٹ کو رابطوں سے متعلق آگاہ کرنے میں ناکام رہے ہیں، لہٰذا مذکورہ الزام ثابت ہوتا ہے اور فریق (عمر اکمل) خود کو پی سی بی کوڈ کے آرٹیکل 6.2 کے تحت سزاوار کی حیثیت پیش کرتے ہیں۔

    پی سی بی اینٹی کرپشن کوڈ کا آرٹیکل2.4.4 :

    کسی فریق کی جانب سے بدعنوانی کی پیشکش سے متعلق رابطوں اور دعوت ناموں کی موصولی کے بارے میں(غیر ضروری تاخیرکے بغیر) پی سی بی ویجلنس اینڈ سیکورٹی ڈیپارٹمنٹ کو آگاہ کرنے میں ناکامی۔

    آرٹیکل 4.8.1:

    ان حالات میں انٹی کرپشن ٹربیونل میں سماعت کی ضرورت نہیں ہوگی بلکہ اس کی بجائے ڈسپلنری پینل کے چیئرمین نوٹس آف چارج کا جائزہ لینے کے بعد ایک عوامی فیصلہ جاری کریں گے جو اینٹی کرپشن کوڈ کےتحت جرم کی توثیق کرتا ہوگا۔اس فیصلے کو جاری کرنے سے قبل چیئرمین ڈسپلنری پینل قومی کرکٹ فیڈریشن، متعلقہ فریق، پی سی بی کے ویجلنس اینڈ سیکورٹی ڈیپارٹمنٹ اور آئی سی سی کو تحریری نوٹس جاری کریں گے۔

    • آرٹیکل 6.2 کے تحت آرٹیکل 2.4.4 کی خلاف ورزی کا جرم ثابت ہونے پر سزا6 ماہ سے تاحیات پابندی مقرر ہے۔
    • ڈسلپنری پینل کے قیام سے متعلق میڈیا ریلیز یہاں دستیاب ہے۔
    • پی سی بی کی جانب سے17 مارچ2020 کو عمر اکمل کو نوٹس آف چارج جاری کیا گیا تھا، جس سے متعلق پریس ریلیز یہاں دستیاب ہے۔
    • عمر اکمل کو 20 فروری 2020 کو عبوری طور پر معطل کیا گیا تھا، جس کے حوالے سے پریس ریلیز یہاں دستیاب ہے۔

     

    فکسنگ سیکنڈل، عمر اکمل کو سزا سنا دی گئی

  • سابق آل راؤنڈرز اظہر محمود اور عبدالرزاق کی عمران خان کے ساتھ ڈریم پیئر بنانےکی خواہش

    سابق آل راؤنڈرز اظہر محمود اور عبدالرزاق کی عمران خان کے ساتھ ڈریم پیئر بنانےکی خواہش

    سابق آلراؤنڈرز اظہر محمود اور عبدالرزاق کی عمران خان کے ساتھ ڈریم پیئر بنانےکی خواہش

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سوشل میڈیا پر جاری پی سی بی کی ڈریم پیئر مہم کو مداحوں، سابقہ اور موجودہ کھلاڑیوں سمیت صحافیوں اور کرکٹ پنڈتوں کی جانب سے خوب پذیرائی مل رہی ہے۔ ڈیجٹل مہم کا پانچواں مرحلہ 7 مئی بروز جمعرات کی دوپہر 2 بجے شروع ہورہا ہے جہاں مداحوں کو ٹیسٹ کرکٹ میں اپنے پسندیدہ آلراؤنڈر کو چننے کا موقع فراہم کیا جارہا ہے.

    پاکستان کی جانب سے 21 ٹیسٹ میچوں میں 900 رنز اور 39 وکٹیں حاصل کرنے والے سابق آلراؤنڈر اظہر محمود نے ماضی کے عظیم کھلاڑیوں میں سے عمران خان کے ہمراہ اپنی ڈریم جوڑی بنانے کی خواہش ظاہر کی ہے۔ 1997 میں اپنے ٹیسٹ ڈیبیو کی پہلی اننگز میں جنوبی افریقہ کے خلاف ناقابل شکست سنچری اور دوسری اننگز میں ناقابل شکست نصف سنچری اسکور کرکے پلیئر آف دی میچ کا ایوارڈ حاصل کرنے والے اظہر محمود نے عصر حاضر کے کرکٹرز میں سے بابراعظم کےساتھ بیٹنگ اور شاہین شاہ آفریدی کے ہمراہ باؤلنگ جوڑی بنانے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔

    سابق ٹیسٹ کرکٹر اظہر محمود کا کہنا ہے کہ وہ عمران خان کے ساتھ ڈریم پیئر بنانا چاہتے ہیں کیونکہ ماضی کے عظیم آلراؤنڈر کو دیکھ کر ہی تو انہوں نے کرکٹ کھیلنے کا آغاز کیا تھا۔سابق کرکٹر نے کہا کہ عمران خان ان کے پسندیدہ کرکٹر اور ہیرو تھے اور وہ پی سی بی کے اس بہترین موقع کا فائدہ اٹھا کر ان کے ہمراہ ڈریم پیئر بنانے کی خواہش کا اظہار کرتے ہیں۔

    موجودہ کرکٹرز میں سے ڈریم پیئر کا چناؤ کرتے ہوئے اظہر محمود کا کہنا تھا کہ وہ بائیں ہاتھ کے نوجوان فاسٹ باؤلر شاہین شاہ آفریدی کے ساتھ باؤلنگ کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شاہین شاہ آفریدی بہت باصلاحیت کرکٹر ہیں اور وہ انہیں بخوبی جانتے ہیں۔

    اظہر محمد نے کہا کہ وہ آئی سی سی ٹی ٹونٹی کرکٹ رینکنگ میں سرفہرست بلے باز بابراعظم کے ساتھ اپنا ڈریم بیٹنگ پیئر بنانا چاہیں گے۔ سابق کرکٹر نے کہا کہ قومی ٹی ٹونٹی کرکٹ ٹیم کے کپتان کی بیٹنگ کے دوران ٹائمنگ لاجواب ہے اور وہ سابق باؤلنگ کوچ کی حیثیت سے ان کی بیشتر اننگز ڈریسنگ روم میں بیٹھ کر دیکھ چکے ہیں۔

    موہالی ٹیسٹ 2005 میں بھارت کے خلاف 346 منٹ کریز پر کھڑے رہ کر پاکستان کو یقینی شکست سے بچانے والے آلراؤنڈر عبدالرزاق نے عمران خان کے ہمراہ باؤلنگ کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ 46 ٹیسٹ میچوں میں 1946 رنز اور 100 وکٹیں حاصل کرنے والے آلراؤنڈر عبدالرزاق نے میدان میں بیٹنگ کے لیے سابق کپتان جاوید میانداد کو اپنے ڈریم پیئر میں شامل کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔

    سابق کرکٹر عبدالرزاق نے پاکستان کرکٹ بورڈ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی سی بی کا اس ڈیجٹل مہم کے ذریعے اپنے سابقہ کھلاڑیوں کو خراج تحسین پیش کرنے کا یہ انداز قابل ستائش ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنے کرکٹ کیرئیر کے دوران بڑے نامی گرامی کھلاڑیوں کے ساتھ کرکٹ کھیلنے پر فخر محسوس کرتے ہیں تاہم ان کا خواب تھا کہ وہ عمران خان کے ہمراہ باؤلنگ کرسکیں۔

    عبدالرزاق نے کہا وہ چاہتے تھے کہ گراؤنڈ کے ایک اینڈ سے وہ اور دوسرے اینڈ سے عمران خان باؤلنگ کررہے ہوں۔ انہوں نے کہا کہ وہ بیٹنگ میں جاوید میانداد کے ساتھ بیٹنگ کرنے کا خواب سجاتے تھے۔ عبدالرزاق نے کہا کہ ماضی کے یہ دو عظیم کرکٹرز پاکستان کے لیجنڈز تھے جن کے ساتھ جوڑی بنانا ان کے لیے اعزاز کی بات ہوگی۔

    پی سی بی نے اس سرگرمی کے ذریعے مداحوں کو مختلف ادوار میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والے اپنے پسندیدہ بلے بازوں اور باؤلرز کو جوڑیوں کی شکل دینے کا موقع فراہم کیا ہے۔ یہاں آلراؤنڈر کے چناؤ سے قبل اسپنرز، فاسٹ باؤلرز، اوپنرز اور مڈل آرڈر بلے بازوں کی جوڑیوں پر مشتمل مہم کو زبردست پذیرائی ملی چکی ہے۔

    اس دوران اوپنرز کی مہم میں 1990 کی دہائی کے عظیم کرکٹرز سعید انور اور عامر سہیل پر مشتمل جوڑی مقبول ترین رہی۔ اس مہم میں سعید انور اور ماجد خان کو دوسری مقبول ترین جوڑی کا درجہ ملا۔

    مڈل آرڈر بلے بازوں کے ڈریم پیئرز میں یونس خان اور محمد یوسف سب سے مقبول جوڑی رہی جبکہ سابق کپتان انضمام الحق اور محمد یوسف کی جوڑی اس فہرست میں دوسرے نمبر پر رہی۔

    فاسٹ باؤلرز کے ڈریم پیئرز میں ٹوڈبلیوز کی جوڑی نے مقبولیت کے تمام گذشتہ ریکارڈز توڑدئیے۔ وسیم اکرم اور محمد آصف کی تصوراتی جوڑی اس فہرست میں دسرے نمبر پر رہی۔

    اسپنرز میں جادوگر اسپنر اور گگلی ماسٹر مرحوم عبدالقادر اور دوسرا کے موجد ثقلین مشتاق کی تصوراتی جوڑی سب سے مقبول رہی ہے جبکہ مشتاق احمد اور ثقلین مشتاق کی مشہور جوڑی کا فہرست میں دوسرا نمبر ہے۔

    دو روز تک جاری رہنے والی پسندیدہ آلراؤنڈر کے چناؤ کی اس مہم کے بعد وکٹ کیپر اور مقبول ترین ٹیسٹ کپتان کی مہم کا آغاز کیا جائے گا۔

  • اعصام الحق نے  راجر فیڈرر کے ساتھ جوڑی بنانے کی خواہش کا اظہارکردیا

    اعصام الحق نے راجر فیڈرر کے ساتھ جوڑی بنانے کی خواہش کا اظہارکردیا

    اسلام آباد :اعصام الحق نے راجر فیڈرر کے ساتھ جوڑی بنانے کی خواہش کا اظہارکردیا ،اطلاعات کے مطابق ٹینس اسٹار اعصام الحق بھی ڈریم پیئر مہم میں شامل ہوگئے اور انہوں نے ٹینس اسٹار راجر فیڈرر کے ساتھ جوڑی بناکر آندرے اگاسی اور رافیل نڈال کے خلاف کھیلنے کی خواہش ظاہر کردی۔

    پاکستان کرکٹ بورڈ کی سوشل میڈیا پر جاری ڈریم پیئر مہم اب دیگر کھیلوں کے قومی کھلاڑیوں کو بھی اپنے سحر میں مبتلا کررہی ہے۔ سابق کپتان قومی ہاکی ٹیم کے بعد معروف ٹینس اسٹار اعصام الحق قریشی نے بھی اپنے کھیل کے ڈریم پیئرز چن لیے ہیں۔اعصام الحق نے اے ٹی پی ٹور رینکنگ میں چوتھے نمبر پر موجود سوئٹزرلینڈ کے راجر فیڈرر کے ہمراہ کورٹ شیئر کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔

    اعصام الحق نے کہا کہ وہ راجر فیڈررکو اپنے ساتھ ڈریم پیئر میں چن کر شہرہ آفاق سابق ٹینس اسٹار آندرے آگاسی اور موجودہ رینکنگ میں دوسرے نمبر پر اسپین کے اسٹار رافیل نڈال کی جوڑی کے خلاف میدان میں اترنا چاہیں گے۔اعصام الحق نے مکس ڈبلز میں ماضی کی عظیم خاتون ٹینس اسٹار مارٹینا نیوورا ٹیلووا کے ہمراہ جوڑی بناکر پیٹ سمپراس اور سابق عالمی نمبر ایک جرمنی کی اسٹیفی گراف کے خلاف میدان میں اترنے کی خواہش کی ہے۔

    حال ہی میں رشتہ ازدواج میں منسلک ہونے والے 40 سالہ قومی ٹینس اسٹار اعصام الحق موجودہ اے ٹی پی ڈبلز رینکنگ میں 50ویں نمبر پر موجود ہیں۔اس سے قبل وسیم اکرم اور شعیب اختر، نوجوان پیسر نسیم شاہ جبکہ سعید اجمل، مرحوم عبدالقادر کو چن کر ڈریم پیئر مہم میں شامل ہوئے۔

    سابق کپتان قومی ہاکی ٹیم سلمان اکبر بھی حسن سردار کے ساتھ میدان میں پاکستان کی نمائندگی کی خواہش ظاہر کرتے ہوئے ڈریم پیئر مہم کا حصہ بنے تھے۔خیال رہے کہ راجر فیڈرر ٹینس کی تاریخ میں سب سے زیادہ 20 مرتبہ گرینڈ سلم ٹورنامنٹ جیت چکے ہیں اور وہ پروفیشنل ٹینس کے موجودہ دور میں ٹور کی سطح کے 100 ٹورنامنٹس جیتنے والے دوسرے مرد کھلاڑی ہیں۔

  • سچ بولنے کی سزا :  فکسنگ کے خلاف بولنے پر میرا کیریئر جلد ختم ہوگیا، عاقب جاوید

    سچ بولنے کی سزا : فکسنگ کے خلاف بولنے پر میرا کیریئر جلد ختم ہوگیا، عاقب جاوید

    لاہور: فکسنگ کے خلاف بولنے پر میرا کیریئر جلد ختم ہوگیا،اطلاعات کے مطابق سابق ٹیسٹ کرکٹر عاقب جاوید کا کہنا ہے کہ فکسنگ کے خلاف بولنے پر میرا کیریئر جلد ختم ہوگیا۔

    ایک انٹرویو میں سابق فاسٹ بولر نے کہا کہ کرکٹر تو کئی قابو آئے لیکن مافیا کی کبھی نشاندہی نہیں ہوئی، فکسنگ کیخلاف بولنے پر مجھے دھمکیاں ملتی رہیں کہ تمہاری بوٹی بوٹی کردیں گے، ان کے خلاف بولنے پر آپ ایک حد تک اوپر جا سکتے ہیں، جسٹس قیوم رہورٹ میں بھی حقائق چھپائے گئے، کرپشن کیخلاف بولنے کی وجہ سے میرا کیریئر بھی جلد ختم ہوا، بعد ازاں ہیڈ کوچ نہ بن سکا، سلیم ملک کو بھی بورڈ میں نوکری ملنا چاہیے۔

    ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ 20 سال پرانے معاملے پر کچھ نکلنا نہیں ہے، تاہم فکسنگ کی روک تھام کیلیے سخت ترین اقدامات اٹھانے ہوں گے، صرف کرکٹرز ہی نہیں بکیز اور مافیا پر بھی ہاتھ ڈالنا ہوگا۔

  • اظہر علی کا ٹرپل سنچری بیٹ بھارتی میوزیم نے خرید لیا

    اظہر علی کا ٹرپل سنچری بیٹ بھارتی میوزیم نے خرید لیا

    لاہور:اظہر علی کا ٹرپل سنچری بیٹ بھارتی میوزیم نے خرید لیا،اطلاعات کے مطابق پاکستان ٹیسٹ ٹیم کے کپتان اظہر علی کا واحد ٹرپل سنچری بیٹ اور چیمپئنز ٹرافی شرٹ مجموعی طور پر 22 لاکھ روپے میں نیلام ہوگئی، رقم کورونا وائرس کے متاثرین کی مدد کے لیے خرچ کی جائے گی۔

    پاکستان ٹیسٹ کرکٹ ٹیم کے کپتان اظہر علی نے کورونا وائرس کے متاثرین کے لیے اپنا بیٹ اور شرٹ نیلامی کے لیے رکھی تھی۔اظہر علی نے اپنی واحد ٹرپل سنچری جس بلے سے بنائی تھی وہ 10 لاکھ روپے میں نیلام ہوا ہے اور یہ بیٹ ایک انڈین میوزیم نے نیلامی میں خریدا۔

     

     

    https://twitter.com/AzharAli_/status/1258015054743691264?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed&ref_url=https%3A%2F%2Furdu.geo.tv%2Flatest%2F220753-

    اظہر علی کی چیمپئنز ٹرافی وننگ شرٹ 11 لاکھ روپے میں نیلام ہوئی اور یہ شرٹ کیلیفورنیا میں رہائش پزیر کاش ویلانی نے خریدی۔

    نیو جرسی کے شہری جمال خان نے بھی شرٹ کا دس فیصد عطیہ کرنے کا اعلان کیا ہے اور کپتان اظہر علی کا کہنا تھا کہ مجموعی طور پر نیلامی کے عمل سے 22 لاکھ روپے اکٹھے ہوئے ہیں جو کورونا وائرس کے متاثرین کی براہ راست مدد اور کھیل سے وابستہ مستحق افراد تک بھی پہنچانے کی کوشش کروں گا۔

  • کس کس نے کھیلا جوا اورکس نے کی میچ فکسنگ،سلیم ملک ،عامرسہیل نے کئے اہم انکشاف

    کس کس نے کھیلا جوا اورکس نے کی میچ فکسنگ،سلیم ملک ،عامرسہیل نے کئے اہم انکشاف

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ آجکل بڑی بحث چل رہی میچ فکسنگ کی، ورلڈ کپ فکس ہو گیا پورا یہ نہیں سوچا تھا، بڑے بڑے الزام لگ گئے، الزام لگانے والوں پر الزام لگائے اور ہر آدمی کہتا ہے کہ ثابت ہو جائے تو پھانسی دے دو ،اس کی سزا پھانسی نہیں کچھ اور ہے لیکن ہوا کیا، کیوں کسی ایک خاص یا دو لوگوں کو ٹارگٹ کیا جاتا ہے،میچ ایک آدمی تو فکس نہیں کر سکتا، پانچ، چھ سات لوگ ملکر کرتے ہیں، آج میرے ساتھ پاکستان کے سٹار موجود ہیں، سلیم ملک اور عامر سہیل، ان سے بات کریں گے

    مبشر لقمان کے سوال پر ایک آدمی تو میچ فکس نہیں کرتا اس پر جواب دیتے ہوئے عامر سہیل کا کہنا تھا کہ ہو ہی نہیں سکتا،پاکستان میں جو مسئلہ ہے یہ جوئے والا بار بار آپ کے سامنے اسلئے سامنے آتا ہے کہ آپ یہ نہیں کر سکتے ،ایک بندہ یہ نہیں کر سکتا، صاف جج کہہ رہا ہے کہ میں کچھ لوگوں کوبین نہیں کر سکتا جو میرے فیورٹ پلیر ہیں،اگر آپ سلیم ملک کا کیس لے لیں کہ انہوں نے ان پر میچ فکسنگ پر بین کیا اس میں ایک بندہ تو نہیں کر سکتا تو انہوں نے ساتھ دوسروں کو بھی فائل کیا، پاکستان نے گریٹ پلیئر ہیں سلیم ملک ان کے لیول کا پلیئر دنیا میں نہیں ہے، چلیں مان لیا کہ انہوں نے غلطی کی باقی سب کو چھوڑ دیں اور ان پر پابندی لگائیں یہ انصاف نہیں ہو سکتا،اور اسی وجہ سے یہ بار بار ہو رہا ہے،

    عامر سہیل کا مزید کہنا تھا کہ میں نے یہ بات آج تک کسی کو نہیں بتائی جو آج کرنے جا رہا ہوں،عطاء الرحمان مجھے انگلینڈ میں ملا اور رو پڑا کہ میری زندگی برباد ہو گئی میں ٹیکسی چلا رہا ہوں میں بچوں کو کیا بتاؤں میں نے کچھ کیا ہی نہیں. ملک صاحب کی بیٹی کی شادی تھی،وسیم اکرم کو میں نے کہا کہ اب جو ہے آپ سارا کچھ ہپ ہپ نہیں کر سکتے اگر آپ نے اس چیز کو کلوز کرنا ہے تو جو لوگ باہر ہیں جنکو سزا ہوئی وہ کرکٹ بورڈ میں آئے ہوئے ہیں یہ معاملہ برابر ہو گا بصورت دیگر آپ کو خول کرے گا، میں نے اس سے درخواست کی کہ جس کو استعمال کیا اسکو ایڈجسٹ کرواؤ، زندگی میں چیزیں اگنور کرنی پڑیں گی اور اگر آپ انا میں رہے ایسا نہیں کیا تو ذلیل ہوں گے

    مبشر لقمان نے سوال کیا کہ کیا واقعی یہ میچ سلیم ملک سے وسیم اکرم نے فکس کروایا جس پر عامر سہیل نے کہا کہ نہیں میں آپ کو بتاتا ہوں کہ جو ماحول سلیم ملک کی موجودگی میں پاکستانی ٹیم کا بنا ہوا تھا وہ ایک فیملی کی طرح تھے،کسی کو کوئی پریشر نہیں تھا، بڑا اچھا ماحول تھا ہر بندہ اپنا ٹیسٹ دے رہا تھا، پتہ نہیں کیا ہوا

    عامر سہیل کا کہنا تھا کہ سلیکٹڈ انصاف کو برداشت نہیں کیا جاسکتا۔ پاکستان کرکٹ بورڈ اس معاملے کو سنبھالنے میں ناکام رہا ہے۔ بدانتظامی کی وجہ سے پریشانیاں ہوتی ہیں، کرکٹ بورڈ دوہرے معیارات رکھتا ہے یہ سلیم ملک یا سلمان بٹ اور آصف کا معاملہ ہوسکتا ہے یا حال ہی میں عمر اکمل پر 3 سال کی پابندی عائد ہوسکتی ہے۔

    سلیم ملک کا کہنا تھا کہ جب ہم گراؤنڈ میں گئے تھے تو اسوقت کہا گیا کہ وسیم فٹ نہیں ہے ہماری گراؤنڈ میں میٹنگ ہوئی تھی اور بات کی تھی کہ کیا کرنا چاہیے، اس میں ٹیم میں سینئر تھا میں نے گراؤنڈ میں کہا تھا کہ اگر وسیم فٹ نہیں ہیں تو بتا دیں ہم لڑکے تیار کر لیں اگر کل کہا تو پھر ٹیم گر جائے گا، تو وسیم نے کہا کہ میں فٹ ہوں اور انجکشن لگا کر کھیلوں گا، اسکے بعد پتہ چلا کہ عامر ٹاس کرنے جا رہے ہیں تو یہ ٹیم کے لیے اچھا نہیں تھا اسوقت جو بھی ہوا، کس نے اس کو کہا اس کا نہیں پتہ.

    سلیم ملک کا کہنا تھاکہ میرے اوپر الزام لگایا جاتا ہے کہ میں نے یہ کیا، کیا کوئی ایک میچ اکیلا بندہ فکس کر سکتا ہے،میرا موقف رہا ہے کہ جسٹس قیوم کی اور اس بات پر لوگ لڑتے ہیں، میرا مشن یہ تھا کہ جسٹس قیوم کی رپورٹ لوگ پڑھیں کیوں نہیں پڑھتے اس کو ، اب لوگوں نے پڑھنا شروع کی تو نام لینا شروع ہوئے، آج تک کسی بندے نے اس رپورٹ کو نہیں پڑھا،سپورٹس جرنلسٹ کے بڑے نام ہیں انہوں نے بھی اس رپورٹ کو نہیں پڑھا، اب ان کو پتہ چل رہا ہے کہ اس میں تو مشتاق، وقار،وسیم کا نام بھی آ رہا ہے، بات یہ ہے کہ کوئی رپورٹ پڑھے تو پتہ چلے، اگر ان سب پر الزامات لگے ہیں میں تو عدالت سے کلیئر ہوا ہوں، آٹھ سال عدالت میں لڑا ہوں،

    سلیم ملک کا کہنا تھا کہ ساؤتھ افریقہ میں اتنی لڑائیاں تھیں آپس میں کہ بتا نہیں سکتے، لوگ کہتے ہین کہ میں شاید بات بنا رہا ہوں، ماسٹر مائینڈ کوئی اور تھا اور ایک گروپ تھا،وہ ٹیم کا حصہ ہیں اور ابھی بھی چوھدری بنتے ہیں میں بتا چکا تھا کہ میں کیا کروں، انکی روز لڑائیاں ہوتی تھی،ہر ایک کی کوئی نہ کوئی لڑائی ہوتی تھی، مجھے کپتان بنا دیا گیا اسکے باوجود میں نے پاکستان کو جتوایا،یہ جو بھی کرتے ہیں میری ٹیم جیت رہی ہے، میں ان سے کام لے رہا ہوں، میں کیا کروں، ایک کو ڈانتتا ہوں تو دوسرا شروع ہو جاتا ہے.

    عامر سہیل کا کہنا تھا کہ کچھ لوگ اپنی پراپرٹیز کو بچانے کے لیے وہ آپ کے پاکستان کے بڑے بڑے آفسز جاتے تھے اور وہ یہ نہیں ہونے دے رہے تھے کہ اگر ان کو سزا ہو گئی تو آئی سی سی پاکستان کرکٹ کو بین کر دے گی، جسٹس قیوم کا فیصلہ سب نے سنا،اگر آپ پھر بھی نہ سمجھیں تو یہی ہو گا، مجھے غصہ چڑھتا ہے ہم بڑھاپے میں آ گئے ایک دوسرے کی عزت کروانی ہے لیکن ایک دوسرے کے خلاف آ گئے ہیں

    سلیم ملک کا کہنا تھا کہ فکسنگ میں 9 لوگ شامل تھے رپورٹ کو پڑھنا چاہئے، لوگوں کے نام آئے ہیں، ہر ایک کا نام آ رہا ہے،اسی طرح آپ کو بہت سے لوگ جانیں بچانے کے لئے اپنے نام لیں گے، عامر یہ ضرور سوال کرتا تھا کہ یہ کیا ہورہا ہے، جنہوں نے داڑھیاں رکھی ہین انکے نام بھی ہیں ، مشتاق کا نام ہے اسکا نام کوئی نہین لیتا ، وسیم کا نام ہے، ہر بندے کی ہر زبان پر نام ہے جن جن کا رپورٹ میں نام ہے.

    سلیم ملک نے کہا کہ بیس سال پرانی بات کر رہے ہیں میں یہ کہہ رہاتھا کہ نہیں ہو سکتا، عامر کو بھی کہتا تھا آپ کو بھی کہتا تھا، بحث اسی بات پر ہوئی تھی کہ میں نے کہا تھا کہ مجھے ایسا نہیں لگتا،جب سے دنیا بنی ہے تب سے الزام لگ رہے ہیں، شارجہ میں جب سے الزامات لگ رہے ہیں وہان پاکستان کبھی ہارا نہین، میری کپتانی میں بھی سب سے زیادہ جیتا ہوں اور سب سے زیادہ سکور کیا،

    عامر سہیل کا کہنا تھا کہ ہم اس عمر کے اس حصے میں ہیں جہاں عزت دی جاتی ہے لیکن پاکستان کرکٹ بورڈ کی مس ہینڈلنگ ہے، آپ عامر کو کھلا رہے اور سلمان بٹ کو واپس لے لیتے ہیں ،آصف کو نہیں کھیلنے دیا، ایک پر تین سال کی اور ایک پر ڈیڑھ سال کی پابندی لگاتے ہیں، سب نے غلطی کی ہیں کرکٹ بورڈ سب کو بٹھاتا اور کہتا کہ ہم آپ سے کام لینا چاہتے ہیں لیکن ایسا نہین کیا گیا،مجھے تو شرم آتی ہے اس بات پر کرتے ہوئے،

    سلیم ملک نے کہا کہ سب لوگوں کے نام رپورٹس میں آئے ہیں کہنے کی ضرورت نہیں، مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ دنیا صرف ملک کا نام لیتی ہے اگر دنیا کو سب کا پتہ ہوتا تو اس طرح نہ کرتی، ہم ایک دوسرے کو اسوقت سے جانتے ہیں جب ڈالر 25 روپے کا ملتا تھا،لیکن اسوقت وہ ختم نہیں ہوتے تھے، گولڈ لیف کا سگریٹ پچاس پیسے کا تھا، ہم اسوقت سے جانتے ہیں یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ 20 سال آپ سلیم ملک اپنے اوپر بوجھ لیتے رہے ہین اور دوسروں کا نام نہین لیا

    سلیم ملک کا کہنا تھا کہ جب سے کیس چلا میں اسوقت سے شور کرتا آیا ہوں کسی نے آواز نہیں سنی، اسوقت سوشل میڈیا اتنا ایکٹونہیں تھا، میں پریس کانفرنس کرتا تھا تو چھوٹی سی خبر دی جاتی تھی کوئی یہ چاہتا ہی نہین تھا کہ میری خبر باہر آئے، اسوقت میں نے بہت چیخیں ماری تھیں، اب سوشل میڈیا پر کوئی میرا انٹرویو نہ کرے میں اپنی ویڈیو دوں گا ،ساری دنیا میں ویڈیو سنی جائے گی ، اب سوشل میڈیا ایکٹو ہے ، چھابڑی والا بھی سنتا ہے کہ ہم نے کیا کیا، اسوقت ہم روتے تھے لیکن پھر بھی ہماری کوئی نہیں سنتا تھا

    سلیم ملک نے اپنی بے گناہی کو ثابت کرنے کی کوشش میں لمبا سفر طے کیا ہے۔ جب اصل مجرموں کو نہ بولنے پر انکوائری کی گئی تو اس نے طاقتور مافیا کے سامنے اپنی بے بسی کا مظاہرہ کیا۔ کامیاب کپتان اور 103 ٹیسٹ میچوں کے تجربہ کار کو انصاف کے برابر مواقع نہیں دئے گئے جو ملک کے کسی بھی آزاد شہری کا حق ہے

    دونوں سینئر کھلاڑیوں کا کہنا تھا پاکستانی ٹیم میں اختلافات ہوتے ہیں ، اور گروپ بندی ہمیشہ موجود ہے اور بدعنوانی بھی ہے، پاکستان کے 1994 کے دورہ جنوبی افریقہ ، 1996 ورلڈ کپ کے کوارٹر فائنل اور فائنل کے سلسلے میں بہت سارے سوالات اٹھائے گئے تھے۔

    مبشر لقمان نے کہا کہ میں بھی کرکٹ کا فین ہوں ،ایک کو سزا ملی تو باقیوں کو بھی سزا ملنی چاہئے،اب زندگی کے بیس سال کون دے گا، تمام متعلقہ افراد کو مل بیٹھ کر اس طرح کے تمام مسائل کا حل تلاش کرنے کے لئے سنجیدہ بات کرنے کی ضرورت ہے اور اس برائی کو ختم کرنا ہے۔

    آگے بڑھنے کا راستہ کھلاڑیوں کے ساتھ منصفانہ اور بلا تعصب سلوک کے لئے حکمت عملی وضع کرنے میں کرکٹ بورڈ کا ایماندار اور واضح موقف ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ ذاتی ایجنڈے کو پس پشت ڈالیں ، پاکستان کرکٹ کے مستقبل کو صحیح سمت میں گامزن کریں۔ اگر صحیح طریقے سے سنبھالا نہیں گیا تو یہ پاکستان کرکٹ کے لئے نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے سوشل میڈیا طاقتور ہوتا جارہا ہے اور اب کسی خاص فرد کو الگ تھلگ رکھنا یا کونے میں رکھنا ممکن نہیں ہے۔جن کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے ان کو موقع ہے کہ وہ عوام میں اپنا نقطہ نظر لائیں اور عوام کو فیصلہ کرنے دیں۔اب پننڈورا باکس کھلا ہوا ہے ، عوام سوالات پوچھیں گے کہ اگر جسٹس قیوم کی رپورٹ اتنی مکمل ہے تو پھر کچھ کھلاڑیوں کو کیوں نرمی دی گئی جبکہ کچھ کی سرزنش ہوئی؟

  • اسپنرز توصیف احمد اور مشتاق احمد نے اپنے ڈریم پیئرز چن لیے

    اسپنرز توصیف احمد اور مشتاق احمد نے اپنے ڈریم پیئرز چن لیے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سوشل میڈیا پر جاری پی سی بی کی ڈریم پیئر مہم کو مداحوں، سابقہ اور موجودہ کھلاڑیوں سمیت صحافیوں اور کرکٹ پنڈتوں میں خوب پذیرائی مل رہی ہے۔ ڈیجٹل مہم کا چوتھا مرحلہ 5 مئی بروز منگل کو شروع ہوا جہاں مداحوں کو ٹیسٹ اسپنرز پر مشتمل اپنی پسندیدہ دو جوڑیاں چننے کا موقع دیا گیا ہے۔

    سابق ٹیسٹ آف اسپنر توصیف احمد نے اپنے سابقہ پارٹنر اور 1987 بنگلور ٹیسٹ کی فاتح ٹیم کے اہم رکن اقبال قاسم کے ساتھ ایک بار پھر باؤلنگ کی خواہش ظاہر کی ہے۔ اس موقع پر توصیف احمد نے گگلی ماسٹر مشتاق احمد کو اپنا ڈریم پیئر قرار دیا ہے۔

    پاکستان کے سابق آف سپنرتوصیف احمد نے کہا وہ خوش قسمت تھے کہ انہیں اپنے کیرئیر کے دوران مرحوم عبدالقادر اور اقبال قاسم جیسے کھلاڑیوں کے ساتھ باؤلنگ کرنے کا موقع ملا تاہم انہیں کسی ایک کا انتخاب کرنا ہو تو وہ اقبال قاسم کا نام لیں گے جن کے ساتھ انہوں نے بھارت کے خلاف 1987 بنگلور ٹیسٹ کی فتح میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ توصیف احمد نے کہا کہ اس ٹیسٹ میچ میں ہم دونوں نے یادگار کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ وہ کیرئیر کے دوران مینٹورشپ پر اقبال قاسم کے مشکور ہیں۔

    توصیف احمد نے کہا گو کہ انہیں مشتاق احمد کے ساتھ زیادہ دیر باؤلنگ کرنے کا موقع نہیں ملا مگر وہ گگلی ماسٹر کو اپنا ڈریم پیئر چننا چاہیں گے. انہوں نے کہا کہ مشتاق احمد ایک جارحانہ مزاج باؤلر تھے جو کسی خوف کا شکار نہیں ہوتے تھے۔ توصیف احمد نے کہا کہ مشتاق احمد کی حریف کھلاڑیوں کے خلاف دلیری کی وجہ سے وہ ان کے معترف رہیں گے۔

    اُدھر مشتاق احمد نے اپنا ڈریم پیئر چننے پر سابق آف اسپنر توصیف احمد کا شکریہ ادا کیا ہے۔ سابق لیگ اسپنر نے اپنے سابقہ پارٹنر ثقلین مشتاق اور موجودہ کرکٹر یاسر شاہ کے ساتھ باؤلنگ کی خواہش ظاہر کی ہے۔

    سابق کرکٹر مشتاق احمد نے توصیف احمد کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ سابق آف اسپنر کے ساتھ یو بی ایل کے لیے اکٹھے کرکٹ کھیل چکے ہیں اور اپنے کیرئیر کے آغاز میں توصیف احمد نے ان کی بہت مدد کی۔

    سابق کرکٹر نےکہا گو کہ وہ لیجنڈری کرکٹر مرحوم عبدالقادر کے ہمراہ بھی کرکٹ کھیل چکے ہیں مگر ہم دونوں کی ورائٹیز ایک جیسی تھی لہٰذا اگر وہ ماضی کے کسی اسپنر کے ساتھ جوڑی بنانے کی خواہش کرتے ہیں تو وہ ثقلین مشتاق ہوں گے۔

    مشتاق احمد نے کہا کہ وہ اور ثقلین مشتاق ایک ساتھ باؤلنگ کرچکے ہیں، جس کی وجہ سے وہ ایک دوسرے کی باؤلنگ کو اچھی طرح سمجھتے تھے اور یہی وجہ ہے کہ دونوں کی شراکت داری نے پاکستان کو ملک اور بیرون ملک کئی میچز جتوانے میں اہم کردار بھی ادا کیا ۔

    مشتاق احمد نے کہا کہ وہ موجودہ اسپنرز میں یاسر شاہ سے بہت متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تیز ترین 200 ٹیسٹ وکٹیں حاصل کرنے والے یاسر شاہ کئی ریکارڈز اپنے نام کرچکے ہیں اور وہ لیگ اسپنر کے ساتھ اپنی ڈریم جوڑی بنانے کو اعزاز سمجھیں گے۔

    ڈریم ٹیسٹ جوڑی چننے کے لیے اسپنرز کے انتخاب کا معیار 75 ٹیسٹ وکٹیں رکھا گیا ہے۔

    پی سی بی نے اس سرگرمی کے ذریعےمداحوں کو مختلف ادوار میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والے اپنے پسندیدہ بلے بازوں اور باؤلرز کو جوڑیوں کی شکل دینے کا موقع فراہم کیا ہے۔ یہاں اسپنرز سے قبل فاسٹ باؤلرز، اوپنرز اور مڈل آرڈر بلے بازوں کی جوڑیوں پر مشتمل مہم کو زبردست پذیرائی ملی ہے۔

    اس دوران اوپنرزکی مہم میں 1990 کی دہائی کے عظیم کرکٹرز سعید انور اور عامر سہیل پر مشتمل جوڑی مقبول ترین رہی۔ اس مہم میں سعید انور اور ماجد خان کو دوسری مقبول ترین جوڑی کا درجہ ملا۔

    مڈل آرڈر بلے بازوں کے ڈریم پیئرز میں یونس خان اور محمد یوسف سب سے مقبول جوڑی رہی جبکہ سابق کپتان انضمام الحق اور محمد یوسف کی جوڑی اس فہرست میں دوسرے نمبر پر رہی۔

    فاسٹ باؤلرز کے ڈریم پیئرز میں ٹوڈبلیوز کی جوڑی نے مقبولیت کے تمام گذشتہ ریکارڈز توڑدئیے۔ وسیم اکرم اور محمد آصف کی تصوراتی جوڑی اس فہرست میں دسرے نمبر پر رہی۔

    دو روز تک جاری رہنے والی اسپنرز کے ڈریم پیئرز پر مشتمل مہم کے بعد آلراؤنڈرز، وکٹ کیپر اور مقبول ترین ٹیسٹ کپتان کی مہم کا آغاز کیا جائے گا۔

  • دھمکیاں ملتی تھیں کہ عدالت میں بولے تو بوٹی بوٹی کردینگے،سابق ٹیسٹ کرکٹر عاقب جاوید کا انکشاف

    دھمکیاں ملتی تھیں کہ عدالت میں بولے تو بوٹی بوٹی کردینگے،سابق ٹیسٹ کرکٹر عاقب جاوید کا انکشاف

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق جسٹس قیوم کمیشن کا ایک اور اہل گواہ بول پڑا

    سابق ٹیسٹ کرکٹر عاقب جاوید نے سنسنی خیز انکشافات کئے ہیں، عاقب جاوید کا کہنا تھا کہ دھمکیاں ملتی تھیں کہ عدالت میں بولے تو بوٹی بوٹی کردینگے ، عدالت کو بتایا کہ فکسنگ ایک نہیں پانچ چھ کھلاڑیوں سے ہوتی ہے جسٹس قیوم کو کہا جو آنکھوں سے دیکھا اور کانوں سے سنا وہ بتارہا ہوں میرے بولنے پر کھلاڑیوں کو پجارو گاڑیاں واپس کرنی پڑیں ،جسٹس قیوم کمیشن میں بہت کچھ چھپایا گیا ، جس کا بعد میں جسٹس قیوم نے اعتراف بھی کیا

    عاقب جاوید کا مزید کہنا تھا کہ جسٹس قیوم نے کہا سزائیں بہت ہوسکتی تھیں لیکن بڑے نام ہیں اس لیے جرمانے لگاکر دوبارہ موقع دیا گیا، نوے کی دہائی میں ٹیم میں چار پانچ فکسرز ہوتے تھے ،میچ فکسنگ کیخلاف بولنے پر میرا کیریئر نوجوانی میں ہی ختم ہوگیا ،فکسنگ میں کھلاڑی ایک مرتبہ مرضی سے جاتا ہے پھر ساری عمر فکسرز کی مرضی چلتی ہے ،فکسرز ایک مافیا ہے جس کیخلاف کوئی ایکشن نہیں لیا جاسکتا ،سخت سزائیں اور تاحیات پابندی کی فکسنگ کو روک سکتی ہے

    عاقب جاوید کا مزید کہنا تھا کہ جب سب کو موقع دیا گیا تو سلیم ملک کو بھی دینا چاہئے ،عامر اور ان لوگوں کو جنہیں جسٹس قیوم نے عہدے دینے سے منع کیا تھا آج ہیرو بناکر پیش کیا گیا تو باقی کھلاڑیوں کو بھی حوصلہ ملا

  • چھوٹی عمر میں بابراعطم کے خواتین کرکٹ ٹیم کو بڑے مشورے، خواتین کا ردعمل بھی آگیا

    چھوٹی عمر میں بابراعطم کے خواتین کرکٹ ٹیم کو بڑے مشورے، خواتین کا ردعمل بھی آگیا

    لاہور:چھوٹی عمر میں بابراعطم کے خواتین کرکٹ ٹیم کو بڑے مشورے، خواتین کا ردعمل بھی آگیا ،اطلاعات کے مطابق پاکستان ٹی ٹوئنٹی ٹیم کے کپتان اور عالمی رینکنگ میں سرفہرست بلے باز بابر اعظم نے ویڈیو لنک کے ذریعے قومی خواتین کرکٹرز کو مشورے دیے اور میدان میں اپنی حکمت عملی کے حوالے سے بتایا۔

    کورونا وائرس کے سبب لاک ڈاؤن کی صورتحال کے دوران پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے منعقدہ ویڈیو کانفرنس کال میں 15 خواتین کرکٹرز نے شرکت کی۔25 سالہ بیٹسمین نے خواتین بیٹرز کو مثبت سوچ کے ساتھ میدان میں اترنے کا مشورہ دیا اور کہا کہ کمفرٹ زونز میں رہنے کی بجائے خود کو چیلنج کریں۔

    بابر اعظم کا کہنا تھا کہ ذہن میں شکوک و شبہات ہوں تو کارکردگی میں بہتری کی امید نہیں ہوتی اور ایک اننگز میں ناکامی کے باعث بلے باز کو اپنی حکمت عملی نہیں بدلنی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ وہ اب بھی دنیا کے ٹاپ بلے بازوں کی بیٹنگ دیکھتے ہیں تاکہ کھیل کے دوران مختلف مراحل میں حکمت عملی بناسکیں۔

    بابر اعظم نے کہا کہ کریز پر رہتے ہوئے کسی بھی بلے باز کے ذہن میں بہت کچھ چل رہا ہوتا ہے مگر اس صورت حال میں وہ خود سے بات کرنا پسند کرتے ہیں اور وہ ایسا پریکٹس کے دوران بھی کرتے ہیں۔

    انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی ٹی ٹوئنٹی کرکٹ رینکنگ میں پہلے، ایک روزہ کرکٹ میں تیسرے اور ٹیسٹ کرکٹ میں پانچویں بہترین بلے باز بابر اعظم نے قومی خواتین کرکٹرز کو کامیابیوں اور ناکامیوں کو بھول کر آگے بڑھنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ہر دن نیا دن ہوتا ہے، ماضی کی بجائے مستقبل اور حال کا سوچیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ سنچری بنانے کے بعد بھی اپنی اننگز خود دیکھتے ہیں تاکہ خامیوں پر قابو پاسکیں۔

    بابر اعظم نے کہا کہ کیریئر کے تیسرے سال انہوں نے خود سے دنیا کا بہترین بیٹسمین بننے کا فیصلہ کیا تھا،اس تناظر میں خود کی بیٹنگ کا جائزہ لینا شروع کیا اور کوچز اور سینیئرز کے مشوروں سے سخت محنت کا آغاز کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ضروری ہوتا ہے کہ ہم ایک دوسرے کی مدد لیں کیونکہ کئی مرتبہ ساتھی کھلاڑی آپ کو خامیوں کے بارے میں زیادہ مؤثر انداز میں بتاتے ہیں۔

    بابر اعظم نے کہا کہ وہ اب بھی پریکٹس کے دوران اپنے چھوٹے بھائی سے رائے لیتے ہیں، اسی طرح وہ امام الحق سے بھی پوچھتے رہتے ہیں کیونکہ ہم دونوں ایک ساتھ کھیلتے رہے ہیں۔

    دوسری طرف خواتین کرکٹرز کا کہنا ہے کہ وہ بابراعظم کی رہنمائی سے بہت متاثرہوئی ہیں وہ ایک محنتی اورقابل کھلاڑی ہیں ،خواتین کرکٹرز کا کہنا تھا کہ وہ چاہتی ہیں کہ آن لائن تربیت کا یہ سلسلہ جاری رہنا چاہیے