دورہ انگلینڈ : پاکستان کا پہلا 4 روزہ انٹرا اسکواڈ پریکٹس میچ آج سے شروع ہوگا
باغی ٹی وی : انگلینڈ کے خلاف سیریز کی تیاریوں کے سلسلے میں ڈربی میں موجود قومی اسکواڈ کے درمیان پہلا انٹرا اسکواڈ پریکٹس میچ 17 سے 20 جولائی تک جاری رہے گا۔
پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان تین ٹیسٹ اور تین ٹی ٹونٹی میچوں پر مشتمل سیریز پانچ اگست سے شروع ہوگی۔ سیریز کی تیاریوں کے سلسلے میں مصروف قومی اسکواڈ کا یہ انگلینڈ میں پہلا انٹرا اسکواڈ 4 روزہ پریکٹس میچ ہوگا۔ اس سے قبل وورسٹر میں اپنی قرنطینہ کی مدت مکمل کرنے والے قومی اسکواڈ نے وہاں دو ، 2 روزہ پریکٹس میچز کھیلے تھے۔
دونوں ٹیموں کے درمیان پریکٹس میچ مقامی وقت کے مطابق صبح 11 بجے شروع ہوگا۔ میچ کی تصاویر، ویڈیوز اور اسکور شیٹ سے متعلق تمام تر تفصیلات پی سی بی فراہم کرے گا۔
ڈربی شائر کاؤنٹی گراؤنڈمیں ٹیم گرین اور ٹیم وائیٹ کے درمیان کھیلے جانے والے چار روزہ پریکٹس میچ کے لیے دونوں اسکواڈز کا اعلان کردیا گیا ہے۔
انٹرا اسکواڈ پریکٹس میچ میں شامل دونوں ٹیموں کے اسکواڈز مندرجہ ذیل ہیں:
ٹیم گرین:
اظہر علی (کپتان)، عابد علی، فخر زمان، اسد شفیق، افتخار احمد، سرفراز احمد (وکٹ کیپر)، فہیم اشرف، یاسر شاہ، نسیم شاہ، محمد عباس، وہاب ریاض اور عمران خان (بارہویں کھلاڑی)
ٹیم وائیٹ:
بابر اعظم (کپتان)، شان مسعود، امام الحق، فواد عالم، محمد رضوان (وکٹ کیپر)، شاداب خان، شاہین شاہ آفریدی، سہیل خان، محمد موسیٰ، عثمان خان شنواری، حیدر علی اورکاشف بھٹی(بارہویں کھلاڑی)۔
دونوں اسکواڈز میں شامل بارہویں کھلاڑی کو میچ میں باؤلنگ کی اجازت ہوگی۔
لاہور، 16 جولائی 2020ء:پاکستان کرکٹ بورڈ نے تینوں طرز کی کرکٹ کے لیے قومی کرکٹ ٹیم کے پرنسپل پارٹنر کی حیثیت سے پیپسی کےساتھ معاہدے میں ایک سال کی توسیع کردی ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ اور پیپسی کے درمیان یہ شراکت داری گذشتہ دو دہائیوں سے جاری ہے۔
یہ شراکت داری ابتدائی طور پر30جون 2021 تک جاری رہے گی۔ اس دوران پاکستان کرکٹ ٹیم کو انگلینڈ کے خلاف 3 ٹیسٹ اور 3 ٹی ٹونٹی میچوں پر مشتمل سیریز، آئی سی سی مینز ٹی ٹونٹی ورلڈکپ، زمباوے اور جنوبی افریقہ کے خلاف ہوم سیریز، جنوبی افریقہ ، نیوزی لینڈ اور زمباوے کے خلاف اوے سیریز کھیلنی ہیں۔
پاکستان کی پہلی موبائل فنانشل سروس، ایزی پیسہ،دورہ انگلینڈ کے لیے قومی کرکٹ ٹیم کی ایسوسی ایٹ پارٹنر ہوگی۔
سعد منور خان، ڈائریکٹر مارکیٹنگ اینڈ فرنچائز، پیپسی کوپاکستان: پیپسی کو پاکستان کے ڈائریکٹر مارکیٹنگ اینڈ فرنچائز سعد منور خان کاکہنا ہے کہ ہم قومی کرکٹ ٹیم کے پرنسپل پارٹنر کی حیثیت سے پاکستان کرکٹ بورڈ کے ساتھ اپنی شراکت داری کے سفر کو جاری رکھنے پر فخر محسوس کررہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پیپسی، پاکستان کرکٹ اور پرجوش مداح ایک فیملی کی حیثیت رکھتے ہیں اورہم سب اپنے چیمپئن کرکٹرز کو میدان میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کھیلتےدیکھنا چاہتے ہیں۔
بابرحامد، ڈائریکٹر کمرشل پی سی بی: پاکستان کرکٹ بورڈ کے ڈائریکٹر کمرشل بابرحامد نے کہا کہ ہمیں خوشی ہے کہ مشکل معاشی صورتحال کے پس منظر کے باوجودہم نے پیپسی کے ساتھ ایک قابل قبول معاہدے کرلیا ہے جس کے مطابق پیپسی آئندہ 12 ماہ کے لیے پاکستان کرکٹ ٹیم کا پرنسپل اسپانسر ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ پیپسی 1990 کی دہائی سے ہمارا قابل قدر شراکت دار ہے اور اس دوران ہم نے مشترکہ طور پر کئی یادگار لمحات دیکھے ہیں، امید ہے یہ یادگار سفر آئندہ 12 ماہ بھی جاری رہے گا۔
بابرحامد نے کہا کہ شراکت داری کے معاہدے میں یہ توسیع پیپسی کے ساتھ ہمارے تعلقات کی عکاسی کرنے کے ساتھ ساتھ اس امر کا بھی اظہار کرتی ہے کہ وہ قومی کرکٹ ٹیم کی اسپانسرشپ کو کتنی قدر کی نگاہ سے دیکھتےہیں۔
کوویڈ19 کے باعث پاکستان اور انگلينڈ کے درمیان 5 اگست سے شروع ہونے والی ٹیسٹ اور ٹی ٹونٹی سیریز بائیو سیکیور ماحول میں کھیلی جائے گی۔ بند دروازوں میں شیڈول اس سیریز میں کھیل کے سب سے اہم اسٹیک ہولڈر، شائقین کرکٹ، انکلوژرز میں بیٹھ کر اپنے پسندیدہ کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی نہیں کرسکیں گے۔
کھلاڑیوں اور مداحوں کے درمیان ان ممکنہ فاصلوں کو دور کرنے کے لیے پاکستان کرکٹ بورڈ نے انگلینڈ میں موجود چیمپئن بیٹسمین بابر اعظم اور لاہور میں موجود اُن کی 8 سالہ مداح کے درمیان ایک ویڈیو کانفرنس کا اہتمام کیا ۔
بابر اعظم کی 8 سالہ مداح سامعہ افسر کو بطور کرکٹ فین اس وقت شہرت ملی جب رواں سال کے آغاز میں ان کی نیٹ پر شاندار بیٹنگ کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی تھی۔ اس ویڈیو میں ننھی کرکٹر ہر گيند پر دلکش اسٹروکس کھیلتی نظر آئيں۔
اس موقع پر سری لنکا کےسابق کپتان اور ایم سی سی کے موجودہ صدر کمار سنگاکارا نے سوشل میڈیا پر وائرل اس ویڈیو پر کمنٹ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ننھی کرکٹر کی ویڈیو سے آگے نہیں بڑھ پارہے، اس کی تکنیک ان سے بھی بہتر ہے اور انہیں کرکٹ میں ایسے ٹیلنٹ کو دیکھ کر بہت حوصلہ ملتا ہے۔
اپنی ننھی پرستار کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے قومی ایک روزہ اور ٹی ٹونٹی کرکٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم نے سامعہ افسر کی بیٹنگ کی خوب تعریف کرتے ہوئے انہیں ایک بہترین بیٹر بننے کے لیے مفید مشورے دئیے ۔
یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ ننھی پرستار سامعہ افسر کی صلاحیتیں صرف کرکٹ تک ہی محدود نہیں ہیں بلکہ انہوں نے بابر سے آن لائن ملاقات کرنے سے قبل بلے باز کی تصویر کا ایک دلفریب خاکہ بھی تیار کیا ہے، جسے وہ وطن واپسی پر بابر اعظم کو بطورِ تحفہ پیش کرنے کی خواہش رکھتی ہیں۔
سامعہ افسر، ننھی پرستار:
بابر سے آن لائن ملاقات پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے سامعہ افسر نے کہا کہ وہ بابر اعظم کی سب سے بڑی پرستار ہیں اور وہ ان کی طرح ایک نامور کرکٹر بننا چاہتی ہیں۔ ننھی پرستار نے کہا کہ بابر اعظم ایک سپر ہیرو ہیں اور جس طرح وہ اپنی بیٹنگ کی بدولت دنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن کررہے ہیں، بالکل اسی طرح وہ بھی ایک دن قومی خواتین کرکٹ ٹیم کے لیے کامیابیاں سمیٹنے کی خواہش رکھتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بابراعظم نے انہیں بیٹنگ میں بہتری لانے کے لیے مفید مشورے دئیے ہيں، جس پر وہ مکمل عمل کرنے کی کوشش کریں گی۔
بابر اعظم، کپتان قومی ایک روزہ اور ٹی ٹونٹی کرکٹ ٹیم:
بابر اعظم کا کہنا ہے کہ شائقینِ کرکٹ، کھیل کا سب سے اہم حصہ ہیں اور وہ اچھے یا بُرے ہر وقت میں کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کے لئے متحرک رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ انگلینڈ کے خلاف سیریز کے د وران،کھیل کے اس اہم اسٹیک ہولڈر کی اسٹیڈیم میں کمی کو ضرور محسوس کریں گے۔
انہوں نے مزیدکہا کہ سامعہ افسر سے ویڈیو پر ملاقات کرکے بہت خوشی ہوئی ہے، وہ ایک سپر اسٹار ہیں۔ بابر اعظم نے کہا کہ جب انہوں نے سامعہ افسر کی بیٹنگ کی ویڈیو پہلی مرتبہ دیکھی تو وہ اس قلیل عمر میں ان کی بیٹنگ کی صلاحیتیں دیکھ کر حیران رہ گئے۔ بابر اعظم نے کہا کہ سامعہ افسر میں ایک عمدہ بیٹر بننے کی قابلیت موجود ہے اور وہ کوویڈ 19 کی صورتحال بہتر ہونے پر اس ننھی پرستار سے ملنے کے منتظر ہیں۔
کپتان قومی ایک روزہ اور ٹی ٹونٹی کرکٹ ٹیم، بابر اعظم نے کہا کہ چھوٹی عمر سے کھیلوں میں شرکت کسی بھی انسان کو زندگی کی بہتر سمجھ کے ساتھ ساتھ نظم و ضبط کا پابند بنادیتی ہے، وہ اس موقع پر اپنے نوجوان مداحوں سے درخواست کریں گے کہ وہ تعلیم اور جسمانی تربیت کے حصول کو یقینی بنائیں۔
انگلینڈ کی ویسٹ انڈیز کی شکست پر ہمیں بالکل بھی کوئی چیز طے نہیں کرنی چاہیے۔ ویسٹ انڈیز نے پہلے ٹیسٹ میں کامیابی سے ثابت کر دیا کہ کوئی ٹیم آسان نہیں ہے۔ انگلینڈ کے خلاف سیریز میں کامیابی کے لئے باولنگ ، فیلڈنگ اور بیٹنگ ہر شعبے میں بہترین کارکردگی دکھانا ہوگی۔ کوویڈ کی وجہ سے ہم نے تین ماہ بہت مشکل میں گذارے ہیں ۔ یہاں بہترین سہولیات دی گئی ہیں کوشش ہے کہ اچھی کارکردگی دکھائیں ۔ ہماری کوشش ہے کہ کامیابی حاصل کرکے قوم کو خوشیاں منانے کا موقع دیں ۔ شان مسعود
کرکٹ کے میدان سجنے لگے ، انگلینڈ سیریز کی تیاریوں کے لیے قومی شاہینوں نے ڈربی شائر میں ڈیرے جما لیے
باغی ٹی وی : کرکٹ کے میدان سجنے لگے ، انگلینڈ سیریز کی تیاریوں کے لیے قومی شاہینوں نے ڈربی شائر میں ڈیرے جما لیے، آج آرام کریں گے۔ کل سے 2 ٹریننگ سیشنز میں کرکٹ پر کام شروع ہو گا، کھلاڑی بیٹنگ، بولنگ اور فیلڈنگ میں فارم دکھائیں گے۔
تین ٹیسٹ میچزکی سیریز کے لیے تیاریاں دوسرے مرحلے میں، قومی اسکواڈ ووسٹر شائر میں 14 روزہ قرنطینہ اور بھرپور ٹریننگ مکمل کر کے ووسٹر شائر سے ڈربی شائر پہنچ گیا۔ ایک روز آرام کے بعد کرکٹ پر کام، کام اور کام کا بھوت سوار ہے، بیٹنگ بولنگ اور فیلڈنگ میں کھلاڑی فارم دکھائیں گے۔
قومی کھلاڑی 15 اور 16 جولائی کو 2 سیشنز میں ٹریننگ کریں گے، 17 تاریخ سے 4 روزہ انٹرا اسکواڈ پریکٹس میچ کھیلا جائے گا۔ پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان تین ٹیسٹ میچز کی سیریز کا آغاز پانچ اگست سے ہو گا.
وورسٹر، 13 جولائی 2020ء: وورسٹر میں اپنے قرنطینہ کی 14 روزہ مدت مکمل کرنے کے بعد پاکستان کا اسکواڈ کیمپ کے دوسرے مرحلے کے لیے آج (پیرکے روز) ڈربی شائر روانہ ہورہا ہے۔ انگلینڈ کے خلاف 3 ٹیسٹ اور 3 ٹی ٹونٹی میچوں پر مشتمل سیریز کھیلنے کی غرض سے انگلینڈ میں موجود قومی کرکٹ ٹیم کی ڈربی شائر میں ٹریننگ کا شیڈول مندرجہ ذیل ہے:
14جولائی:
قومی اسکواڈ میں شامل ایک رکن بذریعہ ویڈیو کانفرنس، میڈیا نمائندگان سے گفتگو کے لیے دستیاب ہوگا۔ اس حوالے سے تفصیلات جلد جاری کردی جائیں گی۔
15 جولائی:
پاکستان کرکٹ ٹیم تین، تین گھنٹوں پر مشتمل 2 ٹریننگ سیشنز میں شرکت کرے گی۔ یہ سیشنز برطانوی وقت کے مطابق صبح 10 اور دوپہر 2 بجے شروع ہوں گے۔ ان سیشنز کی ویڈیوز اور تصاویر پی سی بی فراہم کرے گا۔
16جولائی:
پاکستان کرکٹ ٹیم تین، تین گھنٹوں پر مشتمل 2 ٹریننگ سیشنز میں شرکت کرے گی۔ یہ سیشنز برطانوی وقت کے مطابق صبح 10 اور دوپہر 2 بجے شروع ہوں گے۔ ان سیشنز کی ویڈیوز اور تصاویر پی سی بی فراہم کرے گا۔
17تا 20 جولائی:
قومی کرکٹ ٹیم کے 4 روزہ انٹرا اسکواڈ پریکٹس میچ کا انعقاد۔ میچ کے اوقات کار جلد جاری کردئیے جائیں گے۔ اس حوالے سے پی سی بی سیشن ٹو سیشن اپ ڈیٹ کے ساتھ ساتھ میچ کی تصاویر اور ویڈیوز بھی فراہم کرے گا۔
21 جولائی:
قومی اسکواڈ میں شامل ایک رکن بذریعہ ویڈیو کانفرنس، میڈیا نمائندگان سے گفتگو کے لیے دستیاب ہوگا۔ اس حوالے سے تفصیلات جلد جاری کردی جائیں گی۔
22 جولائی:
پاکستان کرکٹ ٹیم تین، تین گھنٹوں پر مشتمل 2 ٹریننگ سیشنز میں شرکت کرے گی۔ یہ سیشنز برطانوی وقت کے مطابق صبح 10 اور دوپہر 2 بجے شروع ہوں گے۔ ان سیشنز کی ویڈیوز اور تصاویر پی سی بی فراہم کرے گا۔
23 جولائی:
پاکستان کرکٹ ٹیم تین، تین گھنٹوں پر مشتمل 2 ٹریننگ سیشنز میں شرکت کرے گی۔ یہ سیشنز برطانوی وقت کے مطابق صبح 10 اور دوپہر 2 بجے شروع ہوں گے۔ ان سیشنز کی ویڈیوز اور تصاویر پی سی بی فراہم کرے گا۔
24 تا 27 جولائی:
قومی کرکٹ ٹیم کے4 روزہ انٹرا اسکواڈ پریکٹس میچ کا انعقاد۔ میچ کے اوقات کار جلد جاری کردئیے جائیں گے۔ اس حوالے سے پی سی بی سیشن ٹو سیشن اپ ڈیٹ کے ساتھ ساتھ میچ کی تصاویر اور ویڈیوزبھی فراہم کرے گا۔
28 جولائی:
قومی اسکواڈ میں شامل ایک رکن بذریعہ ویڈیو کانفرنس، میڈیا نمائندگان سے گفتگو کے لیے دستیاب ہوگا۔ اس حوالے سے تفصیلات جلد جاری کردی جائیں گی۔
29 جولائی:
پاکستان کرکٹ ٹیم تین، تین گھنٹوں پر مشتمل 2 ٹریننگ سیشنز میں شرکت کرے گی۔ یہ سیشنز برطانوی وقت کے مطابق صبح 10 اور دوپہر 2 بجے شروع ہوں گے۔ ان سیشنز کی ویڈیوز اور تصاویر پی سی بی فراہم کرے گا۔
30جولائی:
پاکستان کرکٹ ٹیم تین، تین گھنٹوں پر مشتمل 2 ٹریننگ سیشنز میں شرکت کرے گی۔ یہ سیشنز برطانوی وقت کے مطابق صبح 10 اور دوپہر 2 بجے شروع ہوں گے۔ ان سیشنز کی ویڈیوز اور تصاویر پی سی بی فراہم کرے گا۔
یکم اگست:
قومی اسکواڈ کی پہلے ٹیسٹ میچ کے لیے ڈربی سے مانچسٹر روانگی
سلیم ملک نے کرکٹ بورڈ کی جانب سے اعتراف کا لیٹر منظر عام پر لانے کو مضحکہ خیز قراردے دیا.
کرکٹ بورڈنےمجھے ای میل کرکے ٹرانسکرپٹ کہا جواب درست نہیں دیا۔ ای میل میں کہا گیا کہ جواب میں یہ غلطیاں ہیں درست کریں۔ میں تو ٹرانسکرپٹ کے دوسرے جواب کی تیاری کررہا تھا کہ یہ 2014 کا معاملہ سامنے لے آئے۔ میں 2014 نہیں 2013 کے آخر میں کرکٹ بورڈ کے پاس گیا تھا۔ نجم سیٹھی ، سبحان احمد اور تفضل رضوی سے ملاقات میں اپنا مسئلہ اٹھایا۔ میرا موقف تھا کہ میرے ساتھ غلط کیا جارہا ہے۔ چیئرمین نجم سیٹھی نے معاملہ حل کرنے کا کہا ۔ سبحان احمد اور تفضل رضوی نے کہا کہ ایک طریقہ ہے اس معاملے کو حل کرنے کےلئے لیٹر لکھا جائے۔ دونوں کاکہنا تھا کہ لیٹر آئی سی سی کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لئے لکھنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ لیٹر لکھنے کے ایک دو ہفتے میں معاملہ ختم ہوجائے گا۔ میں نے ان سے کہا کہ یہ معاملہ ختم ہونا چاہئے ۔ سلیم ملک
ان دونوں کے کہنے پر ہی میں نے لیٹر پر دستخط کئے تھے۔ ایک طرف کرکٹ بورڈ مجھ سے جواب مانگ رہا ہے اور دوسری جانب نئی کہانی سامنے لے آئے۔ کرکٹ بورڈ میں کالی بھیڑیں بیٹھی ہیں جو معاملے کو خراب کررہی ہیں ۔ میں 20 سال پاکستان کے لئے کھیلا ہوں اور تن تنہا کئی میچز پاکستان کو جتوائے ہیں ۔ چیئرمین پی سی بی انکوائری کرکے معاملہ خراب کرنے والے لوگوں کو سامنے لائیں ۔ پی سی بی کو ہر حال میں معاملہ خراب کرنے والوں کا پتا لگانا چاہئے۔ آئی سی سی کو بھجوانے کے لئے لکھوایا جانے والا لیٹر میرے خلاف استعمال کرنا مضحکہ خیز ہے۔ بورڈ نے جواب کسی چیز مانگا اور پریس ریلیز کوئی کچھ اور جاری کی گئی ۔ بورڈکومعاملہ حل کرنے کے ساتھ معاملات خراب کرنے والے لوگوں کو سامنے لانا چاہیے ۔ سلیم ملک
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کرکٹ ٹیم کا دوسرا انٹرا اسکواڈ پریکٹس آج کھیلا جائے گا. 2 روزہ پریکٹس میچ میں گرین ٹیم کی قیادت اظہر علی اور وائٹ ٹیم کی کپتانی سرفراز احمد کریں گے.
وورسٹر میں موجود قومی ٹیسٹ اسکواڈ کے درمیان 2 روزہ انٹرا اسکواڈ پریکٹس میچ مقامی وقت کے مطابق صبح 11 بجے شروع ہوگا۔ انٹرا اسکواڈ پریکٹس میچ کے لیے 2 ٹیمیں بنائی گئی ہیں۔ گرین ٹیم کی قیادت اظہر علی جبکہ ٹیم وائٹ کی قیادت سرفراز احمد کے سپرد کی گئی ہے۔ میچ کے دونوں دن 90، 90 اوورز کا کھیل ہوگا۔ اس حوالے سے دونوں ٹیموں میں شامل کھلاڑیوں کی فہرست مندرجہ ذیل ہے:
گرین ٹیم میں اظہر علی (کپتان)، بابراعظم، عابد علی، شان مسعود، اسد شفیق، محمد رضوان، یاسر شاہ، وہاب ریاض، سہیل خان، موسیٰ خان اور عثمان شنواری شامل ہیں
وائٹ ٹیم میں سرفراز احمد(کپتان)، فواد عالم، امام الحق، فخر زمان، افتخار احمد، شاداب خان، فہیم اشرف، محمد عباس، شاہین شاہ آفریدی، نسیم شاہ اور روحیل نذیرشامل ہیں
اس کے علاوہ اسکواڈ میں شامل دیگر کھلاڑی اپنی انفرادی ٹریننگ کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پی سی بی نے پی ایس ایل 2020 کے 10 میچزکی ٹکٹوں کی واپسی کی تفصیلات جاری کر دی
دو مرحلوں پر مشتمل ٹکٹوں کی ری فنڈنگ کا عمل پیر سے شروع ہوگا،ٹکٹ کی واپسی کا پہلا مرحلہ 13 جولائی سے 5 اگست تک جاری رہے گاپہلے مرحلے میں بند دروازوں میں کھیلے گئے 5 گروپ میچزکےٹکٹ واپس ہوں گے،دوسرا مرحلہ 6 سے 29 اگست تک جاری رہے گا ، لیگ کے ابتدائی شیڈول میں شامل کوالیفائر، 2 ایلیمنٹر اور فائنل میچ کی ٹکٹیں ری فنڈ کی جائیں گی۔
6 ہفتوں پر مشتمل یہ عمل صارفین کے لیے ایونٹ کی ٹکٹوں کی واپسی کا واحد موقع ہے۔ ٹکٹوں کی واپسی کا یہ عمل ملک بھر کے 27 مختلف شہروں کے مخصوص ٹی سی ایس مراکز پر پیر سے ہفتہ، صبح 10 سے سہ پہر 4 بجے تک جاری رہے گا۔ ان شہروں میں اسلام آباد، لاہور، کراچی، کوئٹہ، پشاور اور ملتان کے علاوہ چکوال، حیدرآباد، وہاڑی، گجرانوالہ، بھکر، ڈیرہ غازی، سکھر، لودھراں اور وہاڑی وغیرہ بھی شامل ہیں۔
صارفین کو ٹکٹوں کے پیسوں کی واپسی کے لیے ایونٹ کے لیے خریدی گئی اپنی اصل ٹکٹ ان مخصوص ٹی سی ایس مراکز میں جمع کرانا ہوگی۔ اس دوران ٹی سی ایس مراکز کا رخ کرنے والے ان صارفین کے لیے چہرے کا ماسک پہننا اورسماجی فاصلے سے متعلق دیگر حکومتی ہدایات پر عمل کرنا لازمی ہوگا۔
پی ایس ایل کے پراجیکٹ ایگزیکٹو شعیب نوید کا کہنا ہے کہ بلاشبہ ایونٹ کی ٹکٹوں کی واپسی کایہ عمل کچھ تاخیر کا شکار ہوا تاہم امید ہے کہ تمام مداح بخوبی سمجھ سکتے ہیں کہ کوویڈ 19 کے سبب ہم ہر ممکنہ صورتحال کا جائزہ لے رہے تھے۔انہوں نے کہا کہ وہ تمام صارفین سے حکومتی ہدایات برائے کوویڈ 19 پر مکمل عمل کرنے کی درخواست کرتے ہیں
شعیب نوید نے کہا کہ ایچ بی ایل پی ایس ایل 2020 ایک کامیاب ایونٹ رہا، جہاں مجموعی طورپر 5 لاکھ جوشیلے مداحوں نے میچز دیکھنے کے لیے اسٹیڈیم کا رخ کیا۔
پراجیکٹ ایگزیکٹو پی ایس ایل کاکہنا ہے کہ پی سی بی اور تمام فرنچائزز پرامید ہیں کہ لیگ کے بقیہ میچز کو2020 میں ہی ری شیڈول کرلیاجائے گا۔ان میچوں کو ری شیڈول کرنے سے متعلق تمام تفصیلات اپنے مقررہ وقت پر جاری کردی جائیں گی۔
واضحرہے کہ پی ایس ایل فائیو پیلی دفعہ پاکستان میں منعقد کرایا گیا تھا.جس کے تمام میچز پاکستان میں ہونا تھے. ایونٹ کامیابی کے ساتھ جاری رہا بس بارشوں اور کروناوائرس کی وجہ سے چند میچز نہ ہو سکے .
لاہور، 10 جولائی 2020ء: دانش کنیريا اور سليم ملک نے علیحدہ علیحدہ معاملات پر پاکستان کرکٹ بورڈ سے رابطہ کیا۔ دونوں کی درخواستوں کا بغور مطالعہ کرنے اور پھر ان کا جائزہ لینے کے بعد پی سی بی نے دونوں سابق کرکٹرز کو جواب دے ديا ہے۔
اس حوالے سے دونوں امور پر جوابات کا خلاصہ مندرجہ ذیل ہے:
دانش کنیریا (ری ہیب پروگرام):
• آپ پر انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ کے کرکٹ ڈسپلن کميشن نے تاحیات پابندی عائد کررکھی ہے۔چونکہ آپ نے جانتے بوجھتے ہوئےميرن ويسٹ فيلڈ کو ڈرہم کے ميچ ميں صلاحیتوں کے مطابق کارکردگی کا مظاہرہ نہ کرنے کی ترغيب دی تھی.
• آپ نے اس فيصلے کو کرکٹ ڈسپلنری کميشن کے اپيل پينل کے سامنے چيلنج کيا جہاں اس فیصلے کو برقرار رکھا گيا۔ پھر آپ نے لندن ميں ہائی کورٹ کےکمرشل بينچ کے سامنے اپيل کی، جسے خارج کر ديا گيا۔ اس کے بعد آپ نےسول ڈویژن کی عدالت میں اپیل کی، جسے مسترد کر ديا گيا۔
• پی سی بی کا بحالی پروگرام کھلاڑيوں کو نااہل ہونے کے متعلقہ ادوار کے اختتام پر پيش کيا جاتا ہے ، ناکہ اُن کھلاڑيوں کو جو تاحيات پابندی کا سامنا کر رہے ہوں۔
• تاحيات پابندی ای سی بی کی جانب سے نافذ کی گئی۔ آئی سی سی/پی سی بی اينٹی کرپشن کوڈ کی شق نمبر 9 کے مطابق تمام آئی سی سی ممبرزپر اس پابندی کو برقرار رکھنا لازم ہے۔اسے ختم کرنے کا واحد راستہ اپيل ہے جو آپ پہلے ہی استعمال کرچکے ہیں۔
• اس معاملے پر لاگو کی گئی ای سی بی اينٹی کرپشن کوڈ کی شق نمبر 6.8 میں یہ واضح طور پر لکھا گيا ہے کھلاڑی کو دوبارہ کھیل کی اجازت دینے کا اختیار صرف اینٹی کرپشن ٹربیونل کے اُس سربراہ کو ہی ہے جس نے اس معاملے پر فیصلہ سنایا تھا۔
• لہٰذا ای سی بی کے اینٹی کرپشن کوڈ کی شق نمبر 6.8 کے مطابق آپ کو مشورہ ديا جاتا ہے کہ آپ اس معاملے پر ای سی بی سے رجوع کريں۔
سليم ملک ( آئی سی سی کی جانب سے فراہم کردہ اپريل 2000 کے ٹرانسکرپٹ کا جواب دينے ميں ناکام رہے) :
• آپ نے اپريل 2000 ميں ہونے والی ایک گفتگو کے ٹرانسکرپٹ کے مندرجات کا جواب نہ دينے کا انتخاب کیا۔
• اس پس منظر میں پی سی بی اس وقت تک مزيد کاروائی نہيں کر سکتا جب تک آپ اس معاملے پر جواب نہيں دے ديتے۔
• ٹرانسکرپٹ کا جواب دينے سے انکار اور اجتناب اس اعتراف کو تبدیل نہیں کرسکتا جو آپ نے 5 مئی 2014 کو اُس وقت کے چيرمين پی سی بی کے نام لکھے اپنے ایک خط میں کیا تھا، جس کے مندرجات مندرجہ ذیل ہیں:
“ جناب ، مشاورت اور اپنی آزاد مرضی کے بعد ، میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ میں اپنی غلطی قبول کرنے کے لیے تیار ہوں ، شائقین سے معافی مانگتا ہوں اور ری ہیب کے عمل کو شروع کرنا چاہتا ہوں۔ میں اپنے فیصلے کے انجام سے پوری طرح واقف ہوں اور اپنے ری ہيب پروگرام کے لئے آئی سی سی اور پی سی بی کے ساتھ مکمل تعاون کرنے کو تیار ہوں۔ میں پی سی بی سے درخواست کرتا ہوں کہ اگر ضروری ہے تو آئی سی سی سے بات کرے اور جتنا جلدی ہو سکےمیرا ری ہيب پروگرام شروع کرے۔