Baaghi TV

Category: کھیل

  • جاوید میاں داد نے کرکٹرز کو پھانسی دینے کا مطالبہ کردیا ، وہ کرکٹرز کون ہیں

    جاوید میاں داد نے کرکٹرز کو پھانسی دینے کا مطالبہ کردیا ، وہ کرکٹرز کون ہیں

    کراچی: جاوید میاں داد نے کرکٹرز کو پھانسی دینے کا مطالبہ کردیا ، وہ کرکٹرز کون ہیں ،اطلاعات کےمطابق سابق ٹیسٹ کپتان اورعظیم بیٹسمین جاوید میانداد نےفکسنگ میں ملوث کرکٹرز کو پھانسی دینے کا مطالبہ کردیا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان قانون بنوائیں اور فکسنگ کا جرم کرنے والے کرکٹرز کو پھانسی دلوائیں جبکہ کھلاڑی کےساتھ بکیز کو بھی پھانسی دی جائے۔ سلیم ملک،عطاالرحمان اور دیگر کرکٹرز نےچند پیسوں کیلیےملک بیچا۔

    سابق کپتان جاوید میاں داد نے کہا کہ 1999میں کوچنگ اس لیے چھوڑی کہ مجھے اندازہ ہوگیا تھا کہ فکسنگ ہورہی ہے۔ جسٹس قیوم کمیشن کو فکسنگ سےمتعلق سب کچھ بتایا لیکن کھلاڑی بچ نکلے۔ کرکٹرزکمزور قوانین کی وجہ سے بچ جاتے ہیں۔ پاکستان کرکٹ بورڈ دعووں سےنکل کراب عمل درآمد کرے۔

    ان کا مزیدکہنا تھا کہ جسٹس قیوم کمیشن نے جن کرکٹرزکو پی سی بی سے دور رکھنے کا کہا آج بھی وہ بورڈ سے جڑےہوئے ہیں۔ جن سابق کرکٹرز پر تھوڑا سا بھی شک تھا،انھیں کرکٹ بورڈ میں نہیں ہوناچاہیے تھا۔ عمر اکمل بھی اعتراف جرم کر کے واپس آجائے گا۔

  • ڈریم پیئر مہم، شعیب اختر ،نوجوان فاسٹ باؤلر نسیم شاہ کے ساتھ باؤلنگ کے خواہاں

    ڈریم پیئر مہم، شعیب اختر ،نوجوان فاسٹ باؤلر نسیم شاہ کے ساتھ باؤلنگ کے خواہاں

    ڈریم پیئر مہم، شعیب اختر ،نوجوان فاسٹ باؤلر نسیم شاہ کے ساتھ باؤلنگ کے خواہاں

    باغی ٹی وی : سوشل میڈیا پر جاری پی سی بی کی ڈریم پیئر مہم کو مداحوں، سابقہ اور موجودہ کھلاڑیوں سمیت صحافیوں اور کرکٹ پنڈتوں میں خوب پذیرائی مل رہی ہے۔ ڈیجٹل مہم کا تیسرا مرحلہ3مئی بروزاتوار کو شروع ہوا جہاں مداحوں کوٹیسٹ فاسٹ باؤلرز میں سے اپنی پسندیدہ جوڑی چننے کا موقع دیا گیا۔

    پاکستان کی جانب سےٹیسٹ کرکٹ میں 178 وکٹیں حاصل کرنے والے سابق فاسٹ باؤلر شعیب اختر نے ماضی کے عظیم کھلاڑیوں میں سے عمران خان کے ساتھ جوڑی بنانے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ شعیب اختر نے قومی ٹیسٹ کرکٹ ٹیم کے موجودہ کھلاڑیوں میں سے نوجوان فاسٹ باؤلر نسیم شاہ کو اپنے ڈریم پیئر کے لیے چنا ہے۔

    شعیب اختر:

    قومی کرکٹ ٹیم کے سابق فاسٹ باؤلر شعیب اختر نے کہا کہ وہ ماضی کے فاسٹ باؤلرز میں سے عمران خان کے ساتھ باؤلنگ کرنے کا انتخاب کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر وہ اپنے کیرئیر کے عروج میں عمران خان کے ساتھ دوسرے اینڈ سے باؤلنگ کرتےتو دونوں کھلاڑیوں کی کا مائنڈ سیٹ ایک ہوتا اور وہ یہ کہ حریف ٹیم کی کوئی وکٹ نہیں چھوڑنی۔

    انہوں نے کہا کہ موجودہ کھلاڑیوں میں سے ٹیسٹ کرکٹر نسیم شاہ ان کے ہم مزاج ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان فاسٹ باؤلر کا غضہ اور خوف ان کے جیسا ہوسکتا ہے لہٰذا وہ نسیم شاہ کو اپنا ڈریم پیئر چنیں گے۔

    نسیم شاہ:

    قومی ٹیسٹ کرکٹ نسیم شاہ نے کہا کہ وسیم اکرم کے بعد اب شعیب اختر کی جانب سے مجھے اپنے ڈریم پیئر میں شامل کرنے پران کا مشکور ہوں۔انہوں نے کہا کہ اپنے پسندیدہ فاسٹ باؤلرز کے ڈریم پیئر کا حصہ بننا میرے لیےکسی اعزاز سے کم نہیں ہے۔

    نسیم شاہ نے کہا کہ جن فاسٹ باؤلرز کو دیکھ کر کرکٹ کھیلنا شروع کی آج ان کا میرے ساتھ باؤلنگ کی خواہش کرنا میرے لیے فخر کی بات ہے۔انہوں نے کہا کہ فاسٹ باؤلر کے لیے جارحانہ مزاجی بہت ضروری ہے، شعیب اختر کے اعتماد پر پورا اترنے کی کوشش کروں گا۔

    ادھر ٹیسٹ کرکٹر محمد عباس نے حسن علی کو اپنی ڈریم جوڑی میں چن لیا ہے۔محمد عباس 18 ٹیسٹ میچوں میں 75 وکٹیں حاصل کرچکے ہیں۔

    محمد عباس:

    قومی ٹیسٹ کرکٹ ٹیم کے فاسٹ باؤلر محمد عباس کا کہنا ہے کہ ماضی کے عظیم باؤلرز کی فہرست میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ان کے لیے ایک مشکل انتخاب ہوگا تاہم وہ وسیم اکرم کے ساتھ باؤلنگ کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔

    فاسٹ باؤلر محمد عباس نے کہ وہ ماضی کےعظیم کھلاڑیوں میں سے وسیم اکرم کے ہمراہ باؤلنگ کا انتخاب کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ موجودہ فاسٹ باؤلرز میں سے حسن علی کے ساتھ ڈریم پیئر بنانے کی خواہش کریں گے۔

    ڈریم ٹیسٹ جوڑی چننے کے لیے فاسٹ باؤلرز کے انتخاب کا معیار 75 ٹیسٹ وکٹیں رکھا گیا ہے۔

    پی سی بی نے اس سرگرمی کے ذریعےمداحوں کو مختلف ادوار میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والے اپنے پسندیدہ بلے بازوں اور باؤلرز کو جوڑیوں کی شکل دینے کا موقع فراہم کیا ہے۔ جہاں فاسٹ باؤلرز، اوپنرز اور مڈل آرڈر بلے بازوں کی جوڑیوں پر مشتمل مہم کو زبردست پذیرائی ملی ہے۔

    اس دوران اوپنرزکی مہم میں 1990 کی دہائی کے عظیم کرکٹرز سعید انور اور عامر سہیل پر مشتمل جوڑی مقبول ترین رہی۔ اس مہم میں سعید انور اور ماجد خان کو دوسری مقبول ترین جوڑی کا درجہ ملا۔

    مڈل آرڈر بلے بازوں کے ڈریم پیئرز میں یونس خان اور محمد یوسف سب سے مقبول جوڑی رہی جبکہ سابق کپتان انضمام الحق اور محمد یوسف کی جوڑی اس فہرست میں دوسرے نمبر پر رہی۔

    دو روز تک جاری رہنے والی فاسٹ باؤلرز کے ڈریم پیئرز پر مشتمل مہم کے بعد اسپنرز، آلراؤنڈرز، وکٹ کیپر اور مقبول ترین ٹیسٹ کپتان کی مہم کا آغاز کیا جائے گا۔

  • سابق کرکٹر محمد یوسف کے بابر اعظم کو مفید مشورے، بابر اعظم کو کن باتوں پر توجہ کی ضرورت

    سابق کرکٹر محمد یوسف کے بابر اعظم کو مفید مشورے، بابر اعظم کو کن باتوں پر توجہ کی ضرورت

    بابراعظم کا کریز پر توازن برقرار رکھنا انہیں ایک منفرد بیٹسمین بناتا ہے، باب وولمر نے فٹ ورک ٹھیک کروایا تو دنیا کے نامور بلے بازوں میں شامل ہوگیا، سابق کپتان محمد یوسف کا قومی کرکٹرز کو آن لائن لیکچر

    سابق کرکٹرز کے موجودہ اور ایمرجنگ کرکٹرز کو آن لائن ٹپس دینے کا سلسلہ جاری ہے۔ پیر کے روز سابق کپتان محمد یوسف کا قومی کھلاڑیوں کو لیکچر دیتے ہوئے کہنا تھا کہ کسی بھی بلے باز کے لیے سب سے ضروری عمل کریز پراپنا توازن برقرار رکھنا ہے ، انہوں نے کہاکہ موجودہ کھلاڑیوں میں بابراعظم کا سب سے منفرد بیٹسمین بن کر ابھرنا،اسی کی واضح مثال ہے۔ سابق کپتان نے کہا کہ کسی بھی کھلاڑی کے لیےسیکھنے کا عمل ساری زندگی چلتا رہتا ہے، انہوں نے کہا کہ کیرئیر کے دوران ان کا فٹ ورک درست نہیں تھا جسے باب وولمر نے ٹھیک کروایا۔ اپنے فٹ ورک میں تبدیلی کے بعد ان کا شمار دنیا کے نامور بلے بازوں میں ہونے لگا۔

    محمد یوسف نے موجودہ کرکٹرز سے مخاطب ہو کر کہا کہ دنیا کے عظیم کھلاڑیوں سے مقابلہ کرنے کے لیے انہیں بہترین فٹنس لیول درکار ہوگا، محمد یوسف نے مشورہ دیا کہ بطور بلے باز کبھی بھی اپنی فٹنس پر سمجھونہ نہ کریں کیونکہ بلے بازوں کو رنز بنانے کے لیے ذہنی پختگی اور بہترین فٹنس لیول درکار ہوتا ہے اور کوویڈ 19 کے سبب گھروں میں موجود کھلاڑیوں کے لیے یہ ایک اہم موقع ہے۔

    کپتان قومی کرکٹ ٹیم اظہر علی کے سوال کے جواب پر محمد یوسف نے کہا کہ کسی بھی کھلاڑی کے لیے ڈسپلن کو برقرار رکھنا ضروری ہے، سابق کرکٹر نے کہا کہ بڑا کھلاڑی بننے کے لیے مشکل وقت میں مخصوص خول میں جانے کی بجائےاپنی غلطیوں سے سیکھ کر آگے بڑھنا ہوتا ہے۔

    محمد حفیظ کے سوال کے جواب میں محمد یوسف نے کہا کہ ایک بیٹسمین کو تکنیک کے ساتھ ساتھ حریف باؤلر کی طاقت کو جانچنا بھی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی باؤلر کے خلاف جارحانہ مزاجی ضروری ہے مگر کئی باؤلرایسے ہوتے جن کے خلاف جارحانہ حکمت عملی اپنانا مؤثر نہیں رہتا۔انہوں نے کہا کہ بطور بیٹسمین آپ کو باؤلر کو عزت دینی ہوگی۔ سابق کرکٹر نے کہا کہ بلے باز کا کام اسکور بورڈ چلانا ہے۔ مشکل صورتحال میں بھی سنگلز اور ڈبلز کریں گے تو بڑا اسکور بنانے میں کامیاب ہوں گے۔

    محمد یوسف نے کہا کہ بیٹسمین کے لیے تینوں طرز کی کرکٹ میں تکنیک یکساں رہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سعید انور اور انضمام الحق دو باصلاحیت کرکٹر تھے جو ہر کنڈیشنز میں رنز بنانے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ محمد یوسف نے کہا کہ وقار یونس جیسے کھلاڑیوں کے ہمراہ پاکستان کی نمائندگی کرنے پر فخر محسوس کرتا ہوں۔

    محمد یوسف نے 90 ٹیسٹ اور 288 ایک روزہ میچوں میں بالترتیب 7530 اور 9720 رنز بنائے۔ انہوں نے اپنے کیرئیر کے دوران 24 ٹیسٹ اور 15 ایک روزہ سنچریاں بھی بنائیں۔

  • خواتین کرکٹ ٹیم کے لیے آن لائن تربیتی ورکشاپ کا اعلان ، بابراعظم اوروسیم اکرم کواہم ذمہ داریاں مل گئیں

    خواتین کرکٹ ٹیم کے لیے آن لائن تربیتی ورکشاپ کا اعلان ، بابراعظم اوروسیم اکرم کواہم ذمہ داریاں مل گئیں

    لاہور: خواتین کرکٹ ٹیم کے لیے آن لائن تربیتی ورکشاپ کا اعلان کردیا ، بابراعظم اوروسیم اکرم کواہم ذمہ داریاں مل گئیں ،اطلاعات کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ(پی سی بی) نے قومی خواتین کرکٹ ٹیم کے لیے سابق فاسٹ بولر وسیم اکرم اور کپتان قومی ٹی ٹوئنٹی ٹیم بابراعظم کے آن لائن سیشنز کا اہتمام کیا ہے۔

    آن لائن سیشنز کا مقصد خواتین کھلاڑیوں کو اعلیٰ پائے کے کرکٹرز سے کھیل کے گُر سکھانا اورکورونا لاک ڈاؤن کے دوران ان کی توجہ کھیل پر برقراررکھنے میں مدد دینا ہے۔35 خواتین کرکٹرز پر مشتمل ان سیشنز کا انعقاد ویڈیو کانفرنس کال کے ذریعے کیا جائے گا جس میں قومی خواتین کرکٹرز کومختلف حالات میں جامع حکمت عملی اپنانے سے متعلق معلومات فراہم کیی جائیں گی۔

    آئی سی سی ہال آف فیم کے رکن اور پاکستان کی جانب سے ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ وکٹیں حاصل کرنے والے فاسٹ بولر وسیم اکرم، قومی خواتین کرکٹ ٹیم کی کھلاڑیوں کو اپنے 18 سالہ طویل بین الاقوامی کرکٹ کیرئیر سے حاصل ہونے والے تجربات سےآگاہ کریں گے اور یہ سیشن پیر کے روز منعقد ہوگا۔ خیال رہے کہ وسیم اکرم گذشتہ ہفتے مینز کرکٹرز کے ساتھ بھی ایسے ہی ایک سیشن میں شرکت کرچکے ہیں۔

    اس دوران ٹی ٹوئنٹی عالمی رینکنگ میں پہلے، ایک روزہ کرکٹ میں تیسرے اور طویل طرز کی کرکٹ میں دنیا کے پانچویں بہترین بلے باز بابراعظم بھی خواتین کرکٹرز کو مختلف کنڈیشنز اور حالات میں بلے بازی سے متعلق گُر سکھائیں گے۔خواتین کرکٹ ٹیم کی آل راؤنڈر عالیہ ریاض کا کہنا ہےکہ وہ وسیم اکرم کی ویڈیوز دیکھ دیکھ کر بڑی ہوئی ہیں اور وہ بخوبی جانتی ہیں کہ وسیم اکرم نے اپنی عمدہ بولنگ اور بیٹنگ سے پاکستان کو کئی میچوں میں کامیابی دلائی۔

  • ڈریم پیئر مہم، وسیم اکرم  نے نسیم شاہ کے ہمراہ باؤلنگ کی خواہش کا اظہار کردیا

    ڈریم پیئر مہم، وسیم اکرم نے نسیم شاہ کے ہمراہ باؤلنگ کی خواہش کا اظہار کردیا

    ڈریم پیئر مہم ، وسیم اکرم نے نسیم شاہ کے ہمراہ باؤلنگ کی خواہش کا اظہار کردیا

    باغی ٹی وی : سوشل میڈیا پر جاری پی سی بی کی ڈریم پیئر مہم کو مداحوں، سابقہ اور موجودہ کھلاڑیوں سمیت صحافیوں اور کرکٹ پنڈتوں میں خوب پذیرائی مل رہی ہے۔ ڈیجٹل مہم کا تیسرا مرحلہ 3 مئی بروز اتوار کو شروع ہوا جہاں مداحوں کو ٹیسٹ فاسٹ باؤلرز میں سے اپنی پسندیدہ جوڑی بنانے کا موقع دیا گیا۔

    ٹیسٹ کرکٹ میں پاکستان کی جانب سےسب سے زیادہ وکٹیں حاصل کرنے والے سابق فاسٹ باؤلر وسیم اکرم نے ماضی کے عظیم کھلاڑیوں میں سے 1954 اوول ٹیسٹ کے ہیرو فضل محمود کو اپنا باؤلنگ پارٹنر منتخب کیا۔ وسیم اکرم نے قومی ٹیسٹ کرکٹ ٹیم کے موجودہ کھلاڑیوں میں سے نوجوان فاسٹ باؤلر نسیم شاہ کے ساتھ باؤلنگ کرنے کی خواہش کااظہار بھی کیا۔

    وسیم اکرم:

    قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان وسیم اکرم کا کہنا ہے کہ پی سی بی نے ایک شاندار مہم کا آغاز کیا ہےجہاں خوابوں کی جوڑی کی صورت میں پاکستان کے سابق ٹیسٹ اسٹارز کو یاد کیا جارہا ہے۔

    انہوں نے کہاکہ اس حوالے سے پوچھے گئے سوال کےجواب میں وہ یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ بلاشبہ انہیں عمران خان ، وقار یونس، شعیب اختر اور عبدالرزاق کے ساتھ باؤلنگ کرنے کا اعزاز حاصل ہے مگر ماضی کی بات کی جائے تو ان کے ذہن میں 2 ہی نام آتے ہیں ایک سرفراز نواز، جنہوں نے ریورس سوئنگ ایجاد کی تھی اوردوسرے اوول کے ہیرو فضل محمود۔

    وسیم اکرم نے کہا کہ وہ سوئنگ کرنے والے بائیں ہاتھ کے باؤلر کی حیثیت سے دائیں ہاتھ کے باؤلر فضل محمود کے ساتھ باؤلنگ کرنے کا انتخاب کریں گے کیونکہ ان کا مقبول لیگ کٹربیٹنگ وکٹ پر بہت مشہور تھا۔

    سابق کپتان وسیم اکرم نے کہا کہ قومی ٹیسٹ کرکٹ ٹیم کے موجودہ کھلاڑیوں میں وہ نسیم شاہ کے ساتھ باؤلنگ جوڑی بنانے کی خواہش رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ویسے تو میری جوڑی وقار یونس کے ساتھ تھی اور وہ دنیا کا ایک عظیم باؤلر تھا مگرموجودہ کھلاڑیوں میں نسیم شاہ کا انتخاب اس لیے کروں گا کہ وہ ابھی جوان ، تیز اور150 سےزائد رفتار سے گیند کرتے ہیں اور ابھی انہوں نے مزید تیز ہونا ہے۔

    نسیم شاہ:

    قومی ٹیسٹ کرکٹ ٹیم کے فاسٹ باؤلر نسیم شاہ کا کہنا ہے کہ وسیم اکرم کی خوابوں کی جوڑی میں شامل ہونے پر وہ انتہائی مسرور اور فخر محسوس کررہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ گذشتہ ہفتے وسیم اکرم نے فاسٹ باؤلرز کے آن لائن سیشن میں انہیں مفید ٹپس دیں جو کیرئیر کے سفر میں ان کی رفیق رہیں گی۔

    نسیم شاہ نے کہاکہ اب ان کی جانب سے اپنی پسندیدہ باؤلنگ جوڑی میں شامل کرنے سے میرے اعتماد میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہاکہ وہ وسیم اکرم کے اعتماد پر پورا اترنے کی کوشش کریں گے اور اپنی کارکردگی سے پاکستان میں موجود مداحوں کے چہروں پر مسکراہٹیں بکھیرنے کی کوشش کریں گے۔

    اُدھر محض 8 ٹیسٹ میچوں میں 30وکٹیں حاصل کرنے والے نوجوان فاسٹ باؤلر شاہین شاہ آفریدی نے وسیم اکرم اور وقار یونس پر مشتمل ماضی کی ٹو ڈبلیوز جوڑی کو اپنی پسندیدہ قرار دیتے ہوئے موجودہ کھلاڑیوں میں سے نسیم شاہ کےساتھ باؤلنگ کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔

    شاہین شاہ آفریدی:

    شاہین شاہ آفریدی کا کہنا ہے کہ پی سی بی نے ایک بہترین مہم کاآغاز کیا ہے اور اگر اس میں انہیں کسی ڈریم پیئر کا انتخاب کرنے کا کہا جاتا ہے تو وہ وسیم اکرم اور وقار یونس کی جوڑی کا انتخاب کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ موجودہ فاسٹ باؤلرز میں سے نسیم شاہ کے ساتھ باؤلنگ کرنا پسند کرتے ہیں اور مستقبل میں بھی انہی کے ساتھ باؤلنگ کرنے کا لطف اٹھاتے رہیں گے۔

    ڈریم ٹیسٹ جوڑی کے انتخاب کے لیے فاسٹ باؤلرز کے انتخاب کا معیار 75 ٹیسٹ وکٹیں رکھا گیا ہے۔

    پی سی بی نے اس سرگرمی کے ذریعےمداحوں کو مختلف ادوار میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والے اپنے پسندیدہ بلے بازوں اور باؤلرز کو جوڑیوں کی شکل دینے کا موقع فراہم کیا ہے۔ جہاں فاسٹ باؤلرز، اوپنرز اور مڈل آرڈر بلے بازوں کی جوڑیوں پر مشتمل مہم کو زبردست پذیرائی ملی ہے۔

    اس دوران اوپنرزکی مہم میں 1990 کی دہائی کے عظیم کرکٹرز سعید انور اور عامر سہیل پر مشتمل جوڑی مقبول ترین رہی۔ اس مہم میں سعید انور اور ماجد خان کو دوسری مقبول ترین جوڑی کا درجہ ملا۔

    مڈل آرڈر بلے بازوں کے ڈریم پیئرز میں یونس خان اور محمد یوسف سب سے مقبول جوڑی رہی جبکہ سابق کپتان انضمام الحق اور محمد یوسف کی جوڑی اس فہرست میں دوسرے نمبر پر رہی۔

    دو روز تک جاری رہنے والی فاسٹ باؤلرز کے ڈریم پیئرز پر مشتمل مہم کے بعد اسپنرز، آلراؤنڈرز، وکٹ کیپر اور مقبول ترین ٹیسٹ کپتان کی مہم کا آغاز کیا جائے گا۔

  • پاک انگلینڈ کرکٹ سیریز،پی سی بی نے اہم تجویز دے دی

    پاک انگلینڈ کرکٹ سیریز،پی سی بی نے اہم تجویز دے دی

    لاہور:پاک انگلینڈ کرکٹ سیریز،پی سی بی نے اہم تجویز دے دی ،اطلاعات کے مطابق انگلش کرکٹ بورڈ نے انٹرنیشنل سیزن اور پاکستان کرکٹ ٹیم کیساتھ سیریز کے شیڈول کی تبدیلی پر غور شروع کردیا، پاک انگلینڈ ٹیسٹ سیریز 30 جولائی کی بجائے پانچ اگست سے شروع کیے جانے کی تجویزدے دی گئی۔

    برطانوی میڈیا کے مطابق انگلش کرکٹ بورڈ پاکستان اور ویسٹ انڈیز کیساتھ سیریز کے شیڈول میں تبدیلی پر غور کررہا ہے۔ نئے شیڈول کا اعلان جلد کردیا جائے گا۔ انگلش کرکٹ بورڈ 8 جولائی سے کرکٹ سیزن بند اسٹیڈیم میں شروع کروانے پر غور کررہا ہے ۔تاخیر کا شکار انگلینڈ اور ویسٹ انڈیز سیریز جولائی میں کھیلنے پر غور جاری ہے جبکہ پاک انگلینڈ سیریز کا پہلا ٹیسٹ 30 جولائی کی بجائے 5 اگست سے شروع کروانے کی تجویز زیر غورہے۔

    پاک انگلینڈ سیریز کا شیڈول تبدیل ہونے کی صورت میں قومی ٹیم کے دورہ آئرلینڈ کے شیڈول میں بھی تبدیلی کی جائے گی۔ پاکستان نے انگلینڈ کیخلاف سیریز میں تین ٹیسٹ اور تین ٹی ٹونٹی میچز کھیلنا ہیں۔دوسری جانب جولائی میں سری لنکا میں شیڈول آئی سی سی ویمن ورلڈ کپ کوالیفائر ٹورنامنٹ ملتوی ہونے کا خدشہ بڑھ گیا۔ اہم اراکین نے ایونٹ ملتوی کرنے کا مشورہ دے دیا جبکہ حتمی فیصلہ آئی سی سی کرے گی ۔

    علاوہ ازیں کورونا وائرس کی وجہ سے جنوبی افریقا اور آسٹریلیا جبکہ سری لنکا اور انگلینڈ کے درمیان ہونے والی سیریز ملتوی ہونے کے بعد آئی سی سی نے چاروں ٹیموں میں یکساں پوائنٹس تقسیم کر دیے ہیں۔واضح رہے کہ کورونا وائرس کے باعث کئی لیگ اور بین الاقوامی مقابلے منسوخ ہو چکے ہیں جن میں ٹوکیو اولمپکس گیمز 2020، پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) جبکہ انڈین پریمئیر لیگ (آئی پی ایل) اور ٹینس کے مقابلے بھی شامل ہے۔

  • مجھے  پھانسی پر لٹکا دیا جائے’،سابق کرکٹرباسط علی نے یہ کیوں کہا

    مجھے پھانسی پر لٹکا دیا جائے’،سابق کرکٹرباسط علی نے یہ کیوں کہا

    لاہور:مجھے پھانسی پر لٹکا دیا جائے’،سابق کرکٹرباسط علی نے یہ کیوں کہا ،اطلاعات کےمطابق قومی ٹیم کے سابق کرکٹر باسط علی نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق سربراہ عارف عباسی کے میچ فکسنگ کے الزامات کو مسترد کردیا ہے

    ذرائع کےمطابق چند دن قبل عارف عباسی نے سلیم ملک کی حمایت کرنے کے ساتھ ساتھ سابق کرکٹر سابق کرکٹر باسط علی پر میچ فکسنگ کے الزامات عائد کیے تھے۔انہوں نے کہا تھا کہ 1994 میں دورہ سری لنکا کے بعد اس وقت کے منیجر انتخاب عالم نے بتایا کہ باسط علی نے فکسنگ کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ وہ بکیز کے ساتھ ملوث تھے اور معافی مانگتے ہوئے کہا کہ وہ آئندہ ایسا نہیں کریں گے۔

    پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق سربراہ عارف عباسی نے کہا کہ ورڈ کے سربراہ کی حیثیت سے میں نے انتخاب عالم کو دورے کی رپورٹ میں مذکورہ واقعے کا ذکر کرنے کو کہا لیکن انتخاب عالم نے اس واقعے کا ذکر نہیں کیا جس میں نے ان پر برہمی کا اظہار کیا تھا۔

    دوسری طرف باسط علی نے بورڈ کے سابق سربراہ کے اس بیان کو من گھڑت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر ان پر الزام ثابت ہو جائے تو وہ پھانسی پر لٹکنے کے لیے تیار ہیں۔سابق بلے باز نے کہا کہ اگر کوئی ثابت کردے کہ انہوں نے فکسنگ کا اعتراف کیا تھا تو انہیں پھانسی پرلٹکا دیا جائے اور دنیا کی کسی بھی عدالت میں اگر کوئی یہ ثابت کرے تو سزا کے لیے تیار ہوں۔اس موقع پر انہوں نے عارف عباسی کے اس بیان کے خلاف عدالت جانے اور قانونی چارہ جوئی کا کا بھی اعلان کیا۔

    باسط علی نے دعویٰ کیا کہ انتخاب عالم نے انہیں کال کر کے کہا کہ میڈیا میں ان سے جو بیانات منسلک کیے جا رہے ہیں ان کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔البتہ باسط علی کے دعوے کے برعکس انتخاب عالم نے عارف عباسی کے بیان کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے عارف عباسی سے باسط علی کے اعتراف کے حوالے سے بات کی کی تھی لیکن ٹھوس ثبوت نہ ہونے کی وجہ سے اپنی رپورٹ میں اس کا ذکر کرنا مناسب نہیں سمجھا تھا۔

    واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں میچ فکسنگ کا پنڈورا باکس ایک مرتبہ پھر کھل گیا ہے جہاں عمر اکمل پر تین سال کی پابندی عائد کردی گئی ہے جبکہ ماضی میں میچ فکسنگ کے الزام میں تاحیات پابندی کا سامنا کرنے والے سلیم ملک دوبارہ کرکٹ میں واپسی کے لیے پر تول رہے ہیں۔

    پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان سلیم ملک نے دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے ماضی میں کوئی فکسنگ نہیں کی جبکہ عدالت نے بھی انہیں بری کردیا ہے اور اگر انصاف نہیں ملا تو وہ وزیراعظم عمران خان کے پاس بھی جائیں گے۔یہ تمام تر صورتحال اس وقت شدت اختیار کر گئی جب چند دن قبل پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے سابق چیئرمین خالد محمود نے تہلکہ خیز انکشافات کرتے ہوئے کہا کہ قومی ٹیم کے سابق کپتان وسیم اکرم نے فاسٹ باؤلر عطاالرحمٰن کو براہ راست میچ فکسنگ کی پیشکش کی تھی۔

  • کرکٹرز نے سلیم ملک پر الزامات لگا کر پاکستان کو بدنام کرنے کی کوشش کی،سابق چیف ایگزیکٹو پی سی بی

    کرکٹرز نے سلیم ملک پر الزامات لگا کر پاکستان کو بدنام کرنے کی کوشش کی،سابق چیف ایگزیکٹو پی سی بی

    آسٹریلوی کرکٹرز نے سلیم ملک پر الزامات لگا کر پاکستان کو بدنام کرنے کی کوشش کی،سابق چیف ایگزیکٹو پی سی بی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سابق چیف ایگزیکٹو پی سی بی عارف علی خان عباسی نے کہا ہے کہ آسٹریلوی کرکٹرز نے سلیم ملک پر جھوٹے الزامات لگا کر پاکستان کو بدنام کرنے کی کوشش کی

    عارف علی خان عباسی کا کہنا تھا کہ شین وارن ، مارک وا اور ٹم مے نے پاکستانی کپتان سلیم ملک پر فکسنگ آفر کے الزامات لگائے ،جس سیریز میں فکسنگ آفر کے الزامات لگائے اسے ختم ہوئی بھی چھ ماہ ہوگئے تھے ،آسٹریلوی الزامات پر آئی سی سی نے پاکستان کو تحقیقات کرنے کا کہا

    عارف علی خان عباسی کا کہنا تھا کہ مرحوم فخرالدین جی ابراہیم کی سربراہی میں کمیشن بنایا لیکن آسٹریلوی کرکٹرز پیش نہ ہوئے ،شین وارن ، مارک وا اور ٹم میں کا حلف نامہ بھی نامکمل تھا ،فخرالدین جی ابراہیم نے اپنی تحقیقات مکمل قرار دینے کے بعد آسٹریلوی کرکٹرز کو جھوٹا قرار دیا ،مرحوم فخرالدین جی ابراہیم کی رپورٹ کی روشنی میں آسٹریلوی بورڈ نے شین وارن ، مارک وا اور ٹم مے پر پابندی بھی لگائی اور جرمانے بھی کیے

    عارف علی خان عباسی کا مزید کہنا تھا کہ سلیم ملک کیخلاف جسٹس قیوم کمیشن نے پھر انہی کرکٹرز کو ایگزامن کیا جو سمجھ سے بالا تر ہے،ایک مرتبہ ایگزامن کیے گیے گواہوں کو دوبارہ ایگزامن نہیں کیا جاتا

  • سابق چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ نے وسیم اکرم کی پاکدامنی داغدارکردی ، بہت بڑا الزام لگا دیا

    سابق چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ نے وسیم اکرم کی پاکدامنی داغدارکردی ، بہت بڑا الزام لگا دیا

    لاہور:سابق چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ نے وسیم اکرم کی پاکدامنی داغدارکردی ، بہت بڑا الزام لگا دیا ،اطلاعات کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ(پی سی بی) کے سابق چیئرمین خالد محمود نے تہلکہ خیز انکشافات کرتے ہوئے کہا کہ قومی ٹیم کے سابق کپتان وسیم اکرم نے فاسٹ باؤلر عطاالرحمٰن کو براہ راست میچ فکسنگ کی پیشکش کی تھی۔

    پاکستان کرکٹ میں ایک مرتبہ پھر میچ فکسنگ کے حوالے سے بازگشت عروج پر پہنچ چکی ہے اور اس سلسلے میں سابق چیئرمین پی سی بی کے انکشافات کے بعد نیا پنڈورا باکس کھل چکا ہے۔گزشتہ دنوں پی سی بی کے اینٹی کرپشن کوڈ کی خلاف ورزی کے سبب عمر اکمل پر تین سال کی پابندی عائد کردی گئی تھی جبکہ ماضی میں فکسنگ کے سبب تاحیات پابندی کا سامنا کرنے والے سلیم ملک کو دوبارہ پاکستان کرکٹ میں موقع دینے کے حوالے سے بھی بحث جاری ہے۔

    ڈان نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے سابق چیئرمین پی سی بی خالد محمود نے تہلکہ خیز انکشافات کرتے ہوئے قومی ٹیم کے سابق کپتان وسیم اکرم پر الزامات عائد کیے۔انہوں نے کہاکہ وسیم اکرم نے سابق فاسٹ باؤلر عطاالرحمٰن کو براہ راست میچ فکسنگ کی پیشکش کرتے ہوئے کمتر کارکردگی دکھانے کا مطالبہ کیا تھا اور اس کے بدلے انہیں 90کی دہائی میں 2سے تین لاکھ روپے کی پیشکش کی گئی تھی۔

    انہوں نے کہا کہ اس کے نتیجے میں عطاالرحمٰن نے خراب باؤلنگ کی تھی اور انہیں وسیم اکرم نے رقم دی تھی جس کا انہوں نے جسٹس قیم کمیشن میں جمع کرائے گئے حلف نامے میں اقرار کیا تھا۔واضح رہے کہ قومی ٹیم کے سابق کپتان اور مایہ ناز وکٹ کیپر راشد لطیف نے 1995 کے دورہ زمبابوے اور جنوبی افریقہ کے موقع پر پہلی مرتبہ پاکستان کرکٹ میں میچ فکسنگ کا انکشاف کرتے ہوئے ساتھی کھلاڑیوں سلیم ملک اور دیگر پر الزامات عائد کیے تھے۔

    اسی سال آسٹریلین اسپنر شین وارن، ٹم مے اور مارک وا نے انکشاف کیا تھا کہ سلیم ملک نے 1994 میں آسٹریلیا کے دورہ پاکستان کے موقع پر انہیں اچھی کارکردگی نہ دکھانے کے عوض رشوت کی پیشکش کی تھی۔ان الزامات کی بنیاد پر حکومت پاکستان نے 1998 میں لاہور ہائی کورٹ کے جج ملک محمد قیوم کی سربراہی میں ایک عدالتی کمیشن تشکیل دیتے ہوئے تحقیقات کا حکم دیا تھا جنہوں نے دو سال بعد تحقیقات کی بنیاد پر سلیم ملک اور ساتھی فاسٹ باؤلر عطا الرحمان پر تاحیات پابندی عائد کردی تھی۔

    اس کمیشن کو اس وقت کے پی سی بی چیئرمین خالد محمود نے قائم کیا تھا جس کی سماعت کافی عرصے تک چلتی رہی تھی اور کھلاڑیوں کی جانب سے ایک دوسرے پر سنگین الزامات بھی عائد کیے گئے تھے۔جسٹس قیوم کمیشن کمیشن نے چھ کھلاڑیوں وسیم اکرم، وقار یونس، سعید انور، مشتاق احمد، انضمام الحق اور اکرم رضا پر جرمانہ بھی عائد کیا تھا۔چند سالوں کے بعد عطاالرحمٰن اور سلیم ملک دونوں پر عائد تاحیات پابندی کا خاتمہ کردیا گیا تھا۔

    خالد محمود نے اپنی گفتگو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ شدید دباؤ کے پیش نظر عطاالرحمٰن اپنے حلقیہ بیان سے مکر گئے تھے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ وسیم اکرم نے انہیں میچ فکسنگ کا حصہ بننے کی پیشکش کی تھی۔انہوں نے کہا کہ میں نے عطاالرحمٰن کو کہا تھا کہ وہ اپنے بیان سے پیچھے ہٹنے کے بجائے اس پر قائم کریں اور میں بطور چیئرمین پی سی بی انہیں مکمل سپورٹ کروں گا۔

    سابق چیئرمین پی سی بی نے کہا کہ میری یقین دہانی کے باوجود فاسٹ باؤلر نے یہ کہہ کر اپنے بیان سے یوٹرن لے لیا کہ انہوں نے یہ بیان جلد بازی میں دیا تھا اور انہیں غلط فہمی ہو گئی تھی جس پر جسٹس قیوم کمیشن نے ان پر تاحیات پابندی عائد کردی تھی۔

    خلاد محمود نے مزید انکشاف کیا کہ انہیں 1999 کے ورلڈ کپ تین میچوں پر شبہ ہے جس میں سے ایک بنگلہ دیش کے خلاف کھیلا گیا میچ بھی شامل ہے۔یاد رہے کہ 1999 میں بنگلہ دیش کی ٹیم پہلی مرتبہ ورلڈ کپ میں شرکت کر رہی تھی اور اپنے گروپ میں آسٹریلیا، ویسٹ انڈیز اور نیوزی لینڈ کو شکست دینے والی پاکستانی ٹیم بنگلہ دیش سے یکطرفہ مقابلے کے بعد میچ ہار گئی تھی۔

    بنگہ دیش نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 9وکٹوں کے نقصان پر 223 رنز بنائے تھے جس کے جواب میں پاکستانی ٹیم صرف 161 رنز پر ڈھیر ہو گئی تھی۔خالد محمود نے کہا کہ انہیں بھارت کے خلاف میچ کے ساتھ ساتھ آسٹریلیا کے خلاف کھیلے گئے فائنل میچ پر بھی شک ہے حالانکہ پاکستان اس میچ کے لیے فیورٹ تھا۔

    ان کا کہنا تھاکہ لارڈز کی کنڈیشنز کو دیکھتے ہوئے تمام ماہرین کرکٹ کا ماننا تھا کہ جو کوئی بھی تاس جیتے گا اسے پہلے باؤلنگ کرنی چاہیے لیکن کپتان وسیم اکرم نے پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا جس پر ہم سب دنگ رہ گئے۔سابق چیئرمین پی سی بی نے کہا کہ اس فیصلے کے نتیجے میں ہم صرف 132 رنز پر ڈھیر ہو گئے اور انتہائی شرمناک انداز میں فائنل ہار گئے۔انہوں نے بتایا کہ میں نے کھلاڑیوں سے پوچھا کہ کیا انہوں نے کسی قسم کی مشکوک سرگرمیاں ہوتے ہوئے دیکھی تھیں لیکن تمام ہی کھلاڑیوں نے نفی میں جواب دیا اور ورلڈ کپ کے بعد مجھے چیئرمین پی سی بی کے عہدے سے ہٹا دیا گیا۔

    سابق چیئرمین پی سی بی نے کہاکہ میرے خیال میں ان تین میچوں کے بارے میں میرے بعد آنے والے کرکٹ سربراہان کو تحقیقات کرانی چاہیے تھی اور وہ اب بھی مانتے ہیں کہ اس معاملے کی انتہائی باریک بینی سے تفتیش ہونی چاہیے۔

  • لاک ڈاون میں اسپنرزمشتاق احمد نے انوکھا کام کرنا شروع کردیا ، اہم خبرآگئی

    لاک ڈاون میں اسپنرزمشتاق احمد نے انوکھا کام کرنا شروع کردیا ، اہم خبرآگئی

    لاہور:لاک ڈاون میں اسپنرزمشتاق احمد کیا کام کرنا شروع کردیا ، اہم خبرآگئی ،اطلاعات کے مطابق مشتاق احمد نے لاک ڈاؤن کو اسپنرز کی تیکینک پر کام کرنے کے لیے بہترین وقت قرار دے دیا۔ سابق کرکٹر نے کہا کہ ٹو ڈبلیوز کی موجودگی میں وکٹیں لینا ایک چیلنج تھا۔

    ماضی کے عظیم کھلاڑیوں کا موجودہ اور ایمرجنگ کرکٹرز کو آن لائن ٹپس دینے کا سلسلہ جاری ہے۔ اسپنرز کے لیے منعقدہ سیشن میں تبادلہ خیال کرتے ہوئے مشتاق احمد نے کہا کہ پاکستان میں گیند بآسانی گھومتا ہے مگر انگلینڈ، آسٹریلیا اور جنوبی افریقہ میں وکٹیں لینے کے لیے اوور اسپن سے کامیابی ملتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عماد وسیم کی لیگ اسپن بہتر ہورہی ہے جبکہ یاسر شاہ گگلی پر خاص کام کررہے ہیں، شاداب خان کے پاس ویری ایشنز ہیں انہیں طویل طرز کی کرکٹ میں کامیابی کے لیے صرف تجربہ درکار ہے۔

    مشتاق احمد نے لاک ڈاؤن کو اسپنرز کے لیے اپنی تیکینک پر کام کرنے کے لیے بہترین وقت قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ کیرئیر کے آغاز میں مرحوم عبد القادر کی نقالی میں اپنا ایکشن خراب کر بیٹھے پھر صادق محمد نے ایکشن تبدیل کرایا جس سے ان کی گگلی اور لیگ اسپن مزید مؤثر ہوگئی۔

    سابق لیگ اسپنر نے کہا کہ 90 کی دہائی میں ٹو ڈبلیوز کے ہوتے ہوئے ٹیم میں شامل کسی بھی باؤلر کے لیے وکٹیں لینے آسان نہیں تھا مگر انہوں نے کبھی ہار نہیں مانی۔

    سابق کرکٹر نے کہا کہ اسپنر کو آرٹ کے ساتھ ساتھ اسمارٹنس درکار ہوتی ہے، بطور اسپنر وکٹ کیپر سے ربط بہت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ معین خان کے ساتھ مل کر حریف بلے بازوں کو اپنی اسپن کے جال میں پھنسا کر پویلین کی راہ دکھاتے تھے۔

    مشتاق احمد نے کہا کہ وہ کیرئیر کے مشکل وقت میں تنقید سننے کی بجائے اپنی حکمت عملی بناتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایک مزدور کے بیٹے تھے اور انہوں نے اپنے والد سے کبھی ہار نہ ماننا سیکھا۔