Baaghi TV

Category: کھیل

  • ثنا میر ایشیا گیم چینجر ایوارڈ کی حقدار ٹھہر گئیں

    ثنا میر ایشیا گیم چینجر ایوارڈ کی حقدار ٹھہر گئیں

    لاہور : کرکٹ کے میدان کامیابیاں سمیٹنے پر ایشیا سوسائٹی نے پاکستان ویمن کرکٹ ٹیم کی سابق کپتان ثنا میر کو کرکٹ کے کھیل کے لیے شاندار خدمات پر ایشیا گیم چینجر ایوارڈ کے لیے منتخب کر لیا گیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق ایشیا سوسائٹی نے مختلف شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دینے والی خواتین کے لیے ایوارڈز کی نامزدگیوں کا اعلان کردیا ، جس کے مطابق غیر معمولی صحلاحیتوں کا مظاہرہ کرنے والی خواتین کی فہرست میں دیگر پانچ خواتین کے ساتھ ثنا میر کا نام بھی شامل ہے۔

    یاد رہے کہ ہر سال ایشیا سوسائٹیمختلف شعبوں میں نمایاں کارکردگی پیش کرنے والوں کو ایوارڈ سے نوازتی ہے اور اس مرتبہ پہلی بار ایوارڈز کے لیے نامزد ہونے والی تمام خواتین ہیں۔پاکستان کی ثنا میر کو اس اعزاز کا ملنا بھی پاکستان کے لیے اعزاز کی بات ہے

  • باکسر محمد وسیم نے اپنی فائٹ کشمیری بھائیوں کے نام کر دی

    باکسر محمد وسیم نے اپنی فائٹ کشمیری بھائیوں کے نام کر دی

    باکسر محمد وسیم نے اپنی فائٹ کشمیری بھائیوں کے نام کر دی

    باغی ٹی وی رپورٹ ،باکسرمحمدوسیم نے اپنے ویڈیو پیغام میں‌کہا ہے کہ میں نےاپنی فائٹ کشمیری بھائیوں سےمنسوب کردی.کل کی فائٹ ایک بڑی فائٹ ہے،اس فائٹ کےلیےمیں نےکافی محنت اورتیاری کی ہے.فائٹ کےلیےمیں نےچھ ماہ انگلینڈ میں پروفیشنل کیمپ بھی جوائن کیا،نئےپروفیشنل ٹرینر نےبہت تیاری کرائی ہے،میری خواہش ہے کہ یہ فائٹ اپنےملک پاکستان کےلیےجیتوں گا.محمدوسیم اور فلپائنی باکسر کافائٹ سے قبل آج ویٹ ہوگا،.رینکنگ فائٹ کےلیے محمدوسیم کامقابلہ فلپائنی باکسر سےہوگا.پاکستانی باکسرمحمدوسیم انٹرنیشنل رینکنگ فائٹ کےلیےتیارہیں .

  • سری لنکاکرکٹ ٹیم کا دورہ پاکستان ، سری لنکن بورڈ نے حکومت سے سیکورٹی صورت حال کا دوبارہ جائزہ لینے کی درخواست کردی

    سری لنکاکرکٹ ٹیم کا دورہ پاکستان ، سری لنکن بورڈ نے حکومت سے سیکورٹی صورت حال کا دوبارہ جائزہ لینے کی درخواست کردی

    کولمبو: سری لنکن کرکٹ بورڈ نے دورہ پاکستان کے حوالے سے سیکورٹی کا از سر نو جائزہ لینے کی درخواست کردی ، اطلاعات ہیں کہ کرکٹ بورڈ نے حکومت سے درخواست کی ہے کہ وہ حتمی فیصلہ کرے ،

    باغی ٹی وی کے مطابق یہ کرکٹ بورڈ نے یہ حکومت کو از سر نو جائزہ لینے کی درخواست اس لیے کی کہ وزیراعظم ہاوس کو سیکورٹی الرٹ موصول ہوئے تھے ، جس کے بعد سری لنکن کرکٹ بورڈ کا دورہ پاکستان معطل یا موخر ہونے کا امکان پیدا ہوگیا تھا

    ذرائع کے مطابق یہ بھی خبر موصول ہوئی ہے کہ سری لنکن کرکٹ بورڈ کی طرف سے یہ بھی وضاحت پیش کی گئی ہے کہ چونکہ وزیراعظم ہاوس کو سری لنکن کرکٹ ٹیم پر دورہ پاکستان کے دوران دھشت گردانہ حملے کا خدشہ تھا اس لیے حکومت کو حتمی فیصلے کے لیے آگاہ کیا ہے،

  • عبدالقادر عظیم کھلاڑی اور محب وطن پاکستانی تھے ، چوہدری سرور

    عبدالقادر عظیم کھلاڑی اور محب وطن پاکستانی تھے ، چوہدری سرور

    لاہور : عبدالقادر عظیم کھلاڑی اور محبت وطن پاکستانی تھے ، قوم ان کو ہمیشہ یاد رکھے گی ، گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور سابق ٹیسٹ کرکٹر عبدالقادر کی وفات پر گھروالوں سے تعزیت کرنے ان کے گھر پہنچ گئے ،

    ذرائع کے مطابق سابق کرکٹر عبدالقادر کی رہائش گاہ پر میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے گورنر پنجاب چوہدری سرور نے کہا کہ عبدالقادر نے عمران خان کی تصاویر اور ان کے بارے میں نظم لکھ رکھی ہے

    چوہدری محمد سرور نے میڈیا والوں کو بتایا کہ عبدالقادر کا کمرہ دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ وہ کتنے پکے پاکستانی تھے مجھے بتایا گیا ہے کہ عبدالقادر نے آخری خط عمران خان کو لکھا ہے

    باغی ٹی وی کے مطابق چوہدری سرور نے اس موقع پر کہا کہ وہ عظیم کرکٹر کی وفات پر ان کے گھروالوں سے وزیر اعظم عمران خان کی طرف سے بھی تعزیت کا اظہار کرنے آیا ہوں

    چوہدری محمد سرور نے کہا کہ ہم اس مشکل گھڑی میں عبدالقادر کی فیملی کے ساتھ ہیں چوہدری محمد سرور نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انفنٹری روڈ اور جہاں عبدالقادر کھیلتے تھے اس سٹیڈیم کا نام عبدالقادر کے نام منسوب کرنے کے حوالےسے سوچ رہے ہیں

  • قائداعظم ٹرافی، پاکستان کی ڈومیسٹک کرکٹ کے ماتھے کا جھومر، 47 سالہ سفر کی کہانی باغی  کی زبانی

    قائداعظم ٹرافی، پاکستان کی ڈومیسٹک کرکٹ کے ماتھے کا جھومر، 47 سالہ سفر کی کہانی باغی کی زبانی

                    قائداعظم ٹرافی، پاکستان کی ڈومیسٹک کرکٹ کے ماتھے کا جھومر

    فرسٹ کلاس کرکٹ کسی بھی کرکٹ کھیلنے والے ملک کیلئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے اور ٹیسٹ کھیلنے والے تمام بڑے ممالک میں ایک فرسٹ کلاس ٹورنامنٹ ایسا ضرور ہوتا ہے جس کے گرد اس ملک کی ڈومیسٹک کرکٹ گردش کرتی ہے۔ پاکستان میں یہ مقام قائداعظم ٹرافی کو حاصل ہے جو بانیِ پاکستان کے نام سے منسوب ہے۔

    قومی کرکٹ کی تاریخ میں پہلا فرسٹ کلاس کرکٹ میچ آزادیِ پاکستان کے چند ماہ بعد 2 صوبائی ٹیموں پنجاب اور سندھ کے درمیان کھیلا گیا۔ باغِ جناح لاہور میں کھیلا گیا میچ 27تا 29 دسمبر 1947 تک جاری رہا تاہم پاکستانی تاریخ کے پہلے فرسٹ کلاس کرکٹ ٹورنامنٹ کا باقاعدہ آغاز 6 سال بعد ہوا۔ بانیِ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے نام سے منسوب قائداعظم ٹرافی کے پہلا ایڈیشن کا انعقاد 1953-54 میں کیا گیا۔

    ابتدائی ایڈیشن:

    قائد اعظم ٹرافی کے پہلے ایڈیشن میں 3 صوبائی اور 2 ڈیپارٹمنٹل سمیت کل 7 ٹیموں نے شرکت کی۔ ایونٹ میں پنجاب، سندھ، سرحد، بہاولپور، کراچی، کمبائنڈ سروسز اور پاکستان ریلویز نے شرکت کی۔ ٹورنامنٹ کے میچز کے جی اے گراؤنڈ کراچی میں کھیلے گئے۔ قائداعظم ٹرافی کے پہلے ایڈیشن کی فاتح ٹیم بہالپور ٹھہری۔ فائنل میچ میں بہاولپور نے پنجاب کو شکست دے کر ٹائٹل اپنے نام کیا۔7 ٹیموں سے شروع ہونے والے اس ایونٹ میں ٹیموں کی تعداد آنے والے برسوں میں 26 تک پہنچ چکی تھی تاہم آئندہ سیزن میں قائداعظم ٹرافی میں 6 ٹیمیں ٹائٹل کے حصول کے لیے مدمقابل آئیں گی۔ ٹیموں کی محدود تعداد میں شرکت سے ایونٹ میں معیاری کرکٹ کو فروغ ملے گا۔

    ڈومیسٹک سیزن 1967-68 تک مختلف وجوہات کی بناء پر قائداعظم ٹرافی کے 4 ایڈیشنز کا انعقاد ممکن نہیں ہوسکا۔ 1960-61 میں قائداعظم ٹرافی کی بجائے ایوب ٹرافی کا انعقاد کیا گیا۔ 1965 میں جنگ کے باعث قائداعظم ٹرافی 1965-66 کے ایڈیشن کا انعقاد ممکن نہیں ہوسکا۔ 1967-68 اور 1971-72 ڈومیسٹک سیزن میں بھی قائداعظم ٹرافی کے میچز کا انعقاد ممکن نہیں ہوسکا تھا تاہم گذشتہ 47 سالوں سے قائداعظم ٹرافی کے میچز بلا تعطل جاری ہیں۔

    کراچی کی حکمرانی:

    ڈومیسٹک سیزن 1954-55 میں کراچی کرکٹ ٹیم نے پہلی مرتبہ قائداعظم ٹرافی کا ٹائٹل اپنے نا م کیا۔ ڈومیسٹک سیزن 1971-72 تک کراچی سے تعلق رکھنے والی ٹیموں نے قائداعظم ٹرافی کے 14 میں سے 9 ٹائٹل اپنے نام کیے جبکہ قائداعظم ٹرافی کے 1958-59 سے 1966-67 تک مسلسل 7 ایڈیشنز شہرِ قائد کے نام رہے۔ مجموعی طور پر کراچی کی نمائندگی کرنے والی مختلف ٹیموں نے 20 مرتبہ قائداعظم ٹرافی کا ٹائٹل جیتا۔ یہ قائداعظم ٹرافی کی تاریخ میں کسی بھی علاقائی ٹیم کی ریکارڈ تعداد میں جیت ہے۔

    کراچی بلیوز سب سے زیادہ 9 مرتبہ ایونٹ اپنے نام کرچکی ہےتاہم مسلسل 3 مرتبہ قائداعظم ٹرافی جیتنے کا ریکارڈ کراچی وائٹس کی ٹیم کے پاس ہے۔ کراچی وائٹس کی ٹیم سیزن 1990-91 سے 1992-93 تک مسلسل 3 مرتبہ ٹائٹل جیت کر فتوحات کی ہیٹ ٹرک کرنے والی واحد ٹیم ہے۔

    ڈیپارٹمنل ٹیموں کا عروج:

    قائداعظم ٹرافی کے پہلے ایڈیشن میں 2 ڈیپارٹمنٹل ٹیموں پاکستان ریلویز اور کمبائنڈ سروسز نے شرکت کی تاہم پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز قائداعظم ٹرافی جیتنے والی پہلی ڈیپارٹمنٹل ٹیم تھی۔ پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز قائداعظم ٹرافی 1969-70 کی فاتح ٹیم تھی تاہم قومی ڈومیسٹک کرکٹ کی تاریخ میں 70 اور 80 کی دہائیوں کو ڈیپارٹمنٹل ٹیموں کے عروج کا دور کہا جاتا ہے۔ان 20 سالوں میں 15مرتبہ قائداعظم ٹرافی کا ٹائٹل کسی نہ کسی ڈیپارٹمنٹل ٹیم نے جیتا۔ اس دوران 4 مرتبہ ایونٹ کی فاتح پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کی ٹیم نے مجموعی طور پر 7 مرتبہ قائداعظم ٹرافی کا ٹائٹل اپنے نام کیا۔

    70 اور 80 کی دہائیوں میں قائداعظم ٹرافی میں میچز راؤنڈ رابن یا گروپ مرحلے پر مشتمل فارمیٹ میں کھیلے جاتے تھے۔ ایونٹ میں ٹیموں کی تعداد بھی 10 سے 12 ہوتی تھی۔ یہ وہ وقت تھا جب قائداعظم ٹرافی کو صرف ڈیپارٹمنٹل ٹیموں کے لیے مختص کردیا گیاتھا جبکہ علاقائی ٹیمیں پیٹرنز ٹرافی میں نبرد آزما ہوتی تھیں۔

    اس کے بعد 9 سیزنز میں قائداعظم ٹرافی میں شہروں کی کرکٹ ایسوسی ایشنز کو ایک بار پھرشامل کرلیا گیا۔ اب ٹیموں کی تعداد کم سے کم 8 اور زیادہ سے زیادہ 11 رکھی گئی تھی۔

    دیگر شہروں کی کامیابیاں:

    قومی ڈومیسٹک کرکٹ کے پریمیئر ٹورنامنٹ، قائداعظم ٹرافی سےجہاں معیاری کرکٹ کوفروغ ملا تو وہیں اس ٹورنامنٹ کے انعقاد سے کرکٹ کو ملک کے کونے کونے تک پہنچانے میں بھی مدد ملی۔ یہ قائداعظم ٹرافی کاہی ثمر تھا کہ 90 کی دہائی میں قومی کرکٹ ٹیم کے لیے کئی ایسے کھلاڑیوں کا انتخاب کیا گیا جو لاہور یا کراچی سے نہیں بلکہ ملک کے دیگر شہروں میں رہائش پذیر تھے۔ محدود سہولیات کے حامل ان علاقوں سے تعلق رکھنے والے کھلاڑیوں نے قائداعظم ٹرافی میں بھی اپنی قابلیت کا بھرپور اظہار کیا۔

    2000-01 سے 2013-14 تک سیالکوٹ نے 2 جبکہ پشاور، فیصل آباد اور راولپنڈی نے ایک ایک مرتبہ قائداعظم ٹرافی کا ٹائٹل اپنے نام کیا۔ 1986-87 میں راولپنڈی نے حبیب بنک لمیٹیڈ کی مضبوط ٹیم کو زیر کرکے ٹائٹل اپنے نام کیا تھا جبکہ 1998-99 میں پشاور کی ٹیم نے کراچی وائٹس کو ایک اننگ کے بھاری مارجن سے شکست دی تھی۔

    قائداعظم ٹرافی کی تاریخ میں 6 ایڈیشنز ایسے بھی رہے جب یہ ٹورنامنٹ 2 ڈویژنزمیں کھیلا گیا۔ 2005-06 اور 2006-07 میں یہ ٹورنامنٹ گولڈ اور سلور ڈویژنز کی طرز پر کھیلا گیا۔ قائداعظم ٹرافی میں 14 ریجنز کے درمیان ہونے والے مقابلوں میں دونوں گروپس کی 4 بہترین ٹیموں نے "سپر ایٹ” جبکہ آخری 6 ٹیموں نے "باٹم سکس” کی بنیاد پر میچز کھیلے۔

    قائداعظم ٹرافی کے آئندہ ایڈیشن کا آغاز 14 ستمبر سے ہورہا ہے۔ ایونٹ میں 6 کرکٹ ایسوسی ایشنز کی فرسٹ اور سیکنڈ الیون ٹیمیں 2 مختلف ٹورنامنٹس میں شرکت کریں گی۔

    نئے ڈومیسٹک کرکٹ اسٹرکچر سے معیاری کرکٹ کو فروغ دیا جائے گا جس سے قومی اور بین الاقوامی کرکٹ کے درمیان فرق کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔

  • دورہ پاکستان کیلئے سری لنکا کی ون ڈے اور ٹی 20 ٹیموں‌ کا اعلان

    دورہ پاکستان کیلئے سری لنکا کی ون ڈے اور ٹی 20 ٹیموں‌ کا اعلان

    دورہ پاکستان کیلئےسری لنکن ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی ٹیموں کا اعلان کر دیا گیا ہے،

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سری لنکن ٹیم کراچی میں 3ون ڈے اورلاہورمیں 3 ٹی 20 میچ کھیلے گی، کھلاڑیوں میں نوآن پرادیپ، ایسورواڈاناکاسن رجیتھااورلہیروکمارابھی شامل ہیں، دیگرکھلاڑیوں میں مینوڈبھنوکا،اینجیلوپریرا،ونیندوہسارنگا،لکشن سنداکان بھی شامل ہیں، سری لنکن اسکواڈمیں اویشکافرنینڈو،اوشاڈافرنینڈواورشیہان جےسوریا شامل ہیں،

    سری لنکن اسکواڈ میں لہیرو تھریمانے، دنوشکا گونا تھیلاکا اور سدیراسماراوکراما شامل ہیں،

  • پی سی بی کے سابق چیئرمین کیخلاف کرپشن تحقیقات کا آغاز

    پی سی بی کے سابق چیئرمین کیخلاف کرپشن تحقیقات کا آغاز

    ایف ائی اے نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق چیرمین نجم سیٹھی کے خلاف مبینہ کرپشن شکایات پر 8 ماہ بعد انکوائری کا۔اغاز کر دیا ۔ایف ائی اے نے مدعی جاوید بدر کو بیان کے لیے طلب کر لیا ۔مدعی جاوید بدر نے 8 ماہ قبل ایف ائی اے کو نجم سیٹھی کے خلاف درخواست دی تھی۔ جس پر فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی نے باقاعدہ تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے
    مدعی جاوید بدر نے نجم سیٹھی کے خلاف مبینہ کرپشن کی شکایات درج کروائیں تھیں۔ایف ائی اے نے 8 ماہ تک درخواست پر کارروائی نہیں کی تھی ۔

  • جداگانہ صلاحیتوں کی مالک پاکستان کی پہلی خاتون امپائر حمیرا فرح

    جداگانہ صلاحیتوں کی مالک پاکستان کی پہلی خاتون امپائر حمیرا فرح

    جداگانہ صلاحیتوں کی مالک پاکستان کی پہلی خاتون امپائر حمیرا فرح

    خواب دیکھنا اور پھر اس کی تعبیر پالینا محض کہنےمیں تو آسان لگتا ہے مگر عملی زندگی میں یہ کردکھانا بہت مشکل ہوتا ہے۔ اسکول، کالج اور یونیورسٹی کی سطح پر کرکٹ کی مختلف سرگرمیوں میں حصہ لینے والی حمیرا فرح پاکستان کرکٹ بورڈ کے ویمن ونگ کی پہلی خاتون امپائر ہونے کا اعزاز رکھتی ہیں۔ یہ ایک ایسا اعزاز ہے جو اب ان سے کوئی نہیں چھین سکتا۔ حمیرا فرح اب تک 170 سے زائد کرکٹ میچز سپروائز کرچکی ہیں۔

    حمیرا فرح قومی کرکٹ کا ایک سرمایہ ہیں ۔ پی سی بی کے لیے باعث فخر یہ خاتون جداگانہ صلاحیتوں کی مالک ہیں جو زندگی کے مختلف محازوں پر کامیابیاں سمیٹ چکی ہیں۔قومی کھیل ہاکی کی خواتین ٹیم میں نمائندگی کا اعزاز حاصل کرنے والی یہ خاتون شخصیت گذشتہ 28 سال سے اسپورٹس ایڈمنسٹر بھی ہیں۔ لاہور گریژن یونی ورسٹی میں ڈائریکٹر سپورٹس کے عہدے پر فائز حمیرا فرح سپورٹس سائنسز میں پی ایچ ڈی کی تعلیم بھی حاصل کررہی ہیں۔

    حمیرا فرح کا کہنا ہے کہ سال 2005 میں جب پہلی مرتبہ علم ہوا کہ پی سی بی ویمن ونگ کے قیام کا ارادہ رکھتا ہے تو اُسی روز خاتون امپائر بننے کا فیصلہ کرلیا تھا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ میں نے اُسی سال پی سی بی پینل 1 اور پینل 2 امپائرنگ کورسز مکمل کر کے باقاعدہ امپائرنگ کا آغاز کردیا۔ پاکستان کی پہلی خاتون کرکٹ امپائر بننا میرے لیے قابل فخر اعزاز ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجھ سے پہلے کوئی خاتون پاکستان میں امپائرنگ کے شعبے میں نہیں آئی تھی۔ مگر اب تک 8 مزید خواتین پی سی بی امپائرنگ پینل کا حصہ بن چکی ہیں۔

    حمیرا فرح کو یقین ہے کہ وہ امپائرنگ میں پاکستان کی پہچان بنیں گی۔ 170 سے زائد ویمن میچز سپروائز کرنے والی خاتون امپائر آئی سی سی امپائرنگ پینل میں شامل علیم ڈار اور احسن رضا سے متاثر ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ بھی امپائرنگ میں پاکستان کی پہچان بننے والے علیم ڈار اور احسن رضا کے نقشے قدم پر چلنےکی صلاحیت رکھتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں خواتین کرکٹ کے مقابلوں کی تعداد میں اضافے سے خواتین امپائرز کو اپنی صلاحیتوں میں نکھار لانے کے مواقع میسر آئیں گے۔

    لاہور سے تعلق رکھنے والی حمیرا فرح کا کہنا ہے کہ انہیں فخر ہے کہ وہ ملک میں بسنے والی دیگر خواتین کے لیے ایک رول ماڈل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ویمن امپائرنگ ایک ایسا شعبہ تھا جہاں قومی خواتین قسمت آزمائی کرنے سے گریزاں رہیں۔ مگر جو راستہ ہم نے چنا ہے اسے دیکھ کر اب کئی اب خواتین اس طرف آرہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی سی بی ویمن ونگ کی کاوشوں سے پاکستان میں خواتین کرکٹ ٹیم اپنا مقام بنا چکی ہے ۔ جوں جوں خواتین میں کرکٹ کا کھیل فروغ پارہا ہے توں توں امپائرنگ کے شعبے میں بھی خواتین کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔

    پاکستان کی پہلی خاتون امپائر کا اعزاز حاصل کرنے والی حمیرا فرح کا کہنا ہے کہ میرے خاندان کا کوئی بھی فرد کھیل کے شعبے سے وابستہ نہیں رہا تاہم شوق کی تکمیل میں والدہ نے میرا بھرپور ساتھ دیا۔ انہوں نے کہا کہ جن ایام میں ہم کرکٹ کھیلتے تھے یہاں خواتین کرکٹ انٹر بورڈ اور انٹر یونیورسٹی لیول پر ہی کھیلی جاتی تھی۔ حمیرا فرح کا مزید کہنا ہے کہ میں پی سی بی کی شکر گزار ہوں جس نے مجھے امپائرنگ کے میدان میں اپنی صلاحیتوں کا اظہار کرنے کا موقع فراہم کیا۔

  • سری لنکن بورڈ کے دو ٹوک فیصلے سے بھارت کو منہ کی کھانی پڑی

    سری لنکن بورڈ کے دو ٹوک فیصلے سے بھارت کو منہ کی کھانی پڑی

    بھارت کو منہ کی کھانی پڑی سری لنکن بورڈ نے کھری کھری سنا دی .جو کھلاڑی بھارت کےکہنے پر پاکستان کھیلنے نہیں جائے گا. وہ بیرونی ملک کوئی لیگ نہیں کھیل سکتا سری لنکن نے دو ٹوک ایکشن لیتے ہوئے کھری کھری سنا دی
    سری لنکن کرکٹ بورڈ نےاہم فیصلہ سناتے ہوئے بھارت کی ایما پر دورہ پاکستان سے انکار کرنے والے کھلاڑیوں کو دو ٹوک پیغام دے دیا کہ جو بھی پاکستان نہیں جائے گا اور ملک کے بورڈ کی نہیں مانے گا ،بورڈ سخت ایکشن لے گا.

    سری لنکن کرکٹ بورڈ نے کریبیئن پریئمر لیگ کھیلنے کے لیے اپنے کھلاڑیوں کو این او سی دینے سے منع کر دیا ہے۔ تھسارا پریرا، کرونا رتنے اور نیروشن ڈکویلا نے سی پی ایل کھیلنے کی اجازت مانگی تھی۔

    بھارت کی کم ظرفی پر فواد چوہدری کی کراری ٹویٹ

    واضح رہے کہ اس سے قبل وفاقی وزیر فواد چوہدری نے ٹویٹ کرتے ہوئے بھارت کےاس قدام کی شدید مزمت کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ جو سری لنکن کھلاڑی پاکستان کھیلنے جائے گا اسے انڈین پریمئر لیگ سے چھوٹی کرا دی جائے گی.

  • پاکستان کے اسکواش کے معروف کھلاڑی،

    پاکستان کے اسکواش کے معروف کھلاڑی،

    گوگی علائو الدین کی پیدائش

    پاکستان کے اسکواش کے معروف کھلاڑی گوگی علائو الدین ستمبر 1950ء میں لاہور میں پیدا ہوئے۔
    1967ء میں انہوں نے قومی جونیئر شپ اور 1970ء اور 1971ء میں برٹش امیچر اسکواش چیمپئن شپ جیتنے کا اعزاز حاصل کیا.
    ۔1972ء اور 1973ء میں انہوں نے پاکستان اوپن اسکواش چیمپئن شپ جیتی۔ 1973ء اور 1975ء میں وہ برٹش اوپن اسکواش چیمپئن شپ کے فائنل تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے تھے مگر بالترتیب جونابیرنگٹن اور قمر زمان کے ہاتھوں شکست کھا گئے تھے۔
    ٭30 مئی 2008ء کو گوگی علائو الدین وفات پاگئے۔۔!!!