Baaghi TV

Tag: آئی ایم ایف

  • سعودی عرب 2022 کے دوران شرح نمو کے لحاظ سےجی 20 ممالک میں سرفہرست ہے،آئی ایم ایف

    سعودی عرب 2022 کے دوران شرح نمو کے لحاظ سےجی 20 ممالک میں سرفہرست ہے،آئی ایم ایف

    آئی ایم ایف نے جولائی میں جاری اپنی سابقہ پیش گوئیوں کو اپ ڈیٹ کرکے نئی رپورٹ جاری کردی ہے۔

    باغی ٹی وی : انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کی جانب سے جاری کردہ ورلڈ اکنامک آؤٹ لک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سعودی عرب 2022 کے دوران شرح نمو کے لحاظ سے جی 20 ممالک میں سرفہرست ہے۔

    بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے 2022 کے دوران سعودی معیشت کی نمو کے لیے اپنی پیشن گوئی 7.6 فیصد مقرر کی۔ گزشتہ جولائی اور اپریل کی توقعات کے بعد مسلسل دوسری مرتبہ زیادہ پیش گوئی کی گئی۔ اس سے قبل جنوری میں جو توقعات ظاہر کی گئی تھیں ان کے مطابق سعودی جی ڈی پی کی نمو 4.8 فیصد متوقع تھی۔


    آئی ایم ایف نے 2023 کے لیے سعودی معیشت کی نموکی پیش گوئی 3.7 فیصد رکھی۔ منگل کے روز جاری ورلڈ اکنامک آؤٹ لک رپورٹ کے مطابق یہ شرح سابق پیش گوئی کے تقریبا برابر ہی ہے۔ اپریل کی پیش گوئی میں یہ شرح 3.6 فیصد تھی۔ 2021 میں سعودیہ کی حقیقی شرح نمو 3.2 فیصد رہی۔

    اقوام متحدہ میں روس کی یوکرین کےعلاقوں کی’غیرقانونی‘ الحاق کی مذمت،پاکستان اورچین کا ووٹنگ سے اجتناب

    رپورٹ کے مطابق 2022 کی شرح نمو کے لحاظ سے گروپ آف ٹوئنٹی میں ہندوستان دوسرے نمبر پر ہے، اس کی شرح نمو 6.8 فیصد متوقع ہے۔ انڈونیشیا کی شرح نمو 5.3، ترکی 5، ارجنٹائن 4، آسٹریلیا 3.8 اور برطانیہ کی شرح نمو 3.6 فیصد تک رہنے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔


    آئی ایم ایف نے سعودی عرب میں افراط زر کے حوالے سے پیش گوئی کی کہ 2022 میں افراد زر 2.7 فیصد تک پہنچنے کا اندازہ ہے۔ 2021 میں یہ شرح 3.1 فیصد تھی۔ 2023 میں افراط زر کی شرح کم ہوکر 2.2 فیصد رہنے کی توقع ہے۔

    مملکت کا کرنٹ اکاؤنٹ بیلنس جی ڈی پی کے فیصد کے طور پر 2022 کے لیے 16 فیصد اور 2023 کے لیے 12.3 فیصد تک پہنچ جائے گا۔ گزشتہ برس یہ 5.3 فیصد رہا تھا۔

    وائٹ ہاوس نے صدر جوبائیڈن کا نیشنل سیکیورٹی پلان جاری کر دیا


    آئی ایم ایف نے کہا کہ عالمی اقتصادی سرگرمیوں میں وسیع پیمانے پر سست روی کا مشاہدہ کیا جا رہا ہے جو توقعات سے زیادہ ہے۔ مہنگائی کی شرح پچھلی کئی دہائیوں کی ریکارڈ شرح سے زیادہ ہوگئی ہے۔

    عالمی اقتصادی ترقی اس سال 3.2 فیصد، 2023 میں 2.7 فیصد رہنے کی توقع ہے۔ 2021 میں عالمی اقتصادی ترقی کی شرح 6 فیصد رہی تھی۔

    سعودی عرب اپنے مفادات کا ہر حال میں تحفظ کرے گا،جوبائیڈن

  • غیر قانونی طور پر منافع کمانے والے بینکوں کے خلاف کارروائی ہوگی،اسحاق ڈار

    غیر قانونی طور پر منافع کمانے والے بینکوں کے خلاف کارروائی ہوگی،اسحاق ڈار

    اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ میں نے عوام کی تکالیف کو دیکھ کر لیوی نہ لگانے کا فیصلہ کیا-

    باغی ٹی وی : نجی خبررساں ادارے سے بات کرتے ہوئے وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا کہ آئی ایم ایف سے میں پچھلے 25 سال سے ڈیل کر رہا ہوں، پرامید ہوں آئی ایم ایف اور ہمارے درمیان معاملات بہتر ہوں گے، ملک میں روپیہ مستحکم ہو رہا ہے اور آگے بھی ہوگا، ہم آئی ایم ایف کی پوری شرائط پوری کریں گے۔

    اسحاق ڈار نے کہا کہ اگر پیڑولیم مصنوعات کی قیمتیں نیچے رہتی ہیں تو عوام کو فائدہ دیں گے، جس طرح کا چیلنج ہوگا اس طرح کا ہمیں رسپونس دینا پڑے گا، کوشش کریں گے کہ اس بارآئی ایم ایف کا پروگرام ختم کر سکیں، ہم اپنی چیزوں کو مینچ کریں گے۔

    انہوں نے کہا کہ لوگ چاہتے ہیں کہ میں عوام کوریلیف نہ دیتا، کابینہ نےجون 2023 تک 9 سینٹ پربجلی مہیا کرنے کی منظوری دی، فنڈنگ کے پیسے دو ماہ میں ختم ہو گئے، ہمارے پاس اور کیا راستہ تھا؟ اس وقت دنیا میں ایکسپورٹ مارکیٹس میں سخت مقابلہ چل رہا ہے، ماضی میں ہم نے ایکسپورٹرز کو 180 ارب کا پیکج دیا تھا اس پیکج کے نتیجے میں ایکسپورٹرزنے 12.7 فیصد گروتھ دی۔

    اسحاق ڈار نے کہا کہ ایکسپورٹرز کو ڈالرز کی بجائے روپوں میں سوچنے کی ضرورت ہے، مسائل حل نہیں کریں گےتو کاروباری حضرات پریشان ہوں گے، ڈالر کو 200 سے نیچے ہونا چاہیے قرضوں کی ری شیڈولنگ کیلئے پیرس کلب نہیں جائیں گے، ہم بانڈ وقت پر ادا کریں گے، ان حالات میں یورو بانڈز فلوٹ نہیں کر سکتے۔

    سائفر: میں اس بات پر قائل نہیں کہ کوئی سازش ہوئی ہے،عارف علوی

    وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ بینکوں نے 27 ارب کی بجائے 50 ارب کا منافع کمایا، غیر قانونی طور پر منافع کمانے والے بینکوں کے خلاف کارروائی ہوگی، ایکشن ہوتا ہوا سب کو نظر آئے گا، پاکستان نے پہلی دفعہ 2013 اور پھر 2016 میں آئی ایم ایف پروگرام کو ختم کیا تھا دنیا کے تمام فنانشل اداروں کے ہیڈز نے پاکستان میں آکر میرے ساتھ پریس کانفرنس کی-

    ن لیگی رہنما سینیٹر اسحاق ڈار نے کہا کہ ہمارا مسئلہ یہی ہے کہ ہم اپنے ملک کا منفی امیج دکھاتے ہیں، اس طرح کریں گے تو کون ہمارے ملک میں انویسٹمنٹ کرنے آئے گا؟ ہم سب پر فرض ہے کہ دنیا میں پاکستان کا مثبت تشخص اجاگر کریں-

  • آئی ایم ایف کبھی نہیں چاہتاکہ پاکستان اس کےشکنجےسےنکلے:شوکت ترین

    آئی ایم ایف کبھی نہیں چاہتاکہ پاکستان اس کےشکنجےسےنکلے:شوکت ترین

    کراچی :تحریک انصاف کی حکومت نے پاکستان کوآئی ایم ایف کے شکنجے سے چھڑانے کا تہیہ کررکھاتھا ،مگرہماری چھٹی کرا دی گئی ، ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے سابق وزیرخزانہ شوکت ترین نے دعویٰ کیا ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت نے ستمبر 2022 تک آئی ایم ایف کی چھٹی کرادینی تھی کیوں کہ آئی ایم ایف کبھی نہیں چاہتا کہ پاکستان اس کے شکنجے سے نکل سکے۔

    کراچی پریس کلب میں مزمل اسلم کے ساتھ پریس کانفرنس کرتےہوئے شوکت ترین نے سخت انداز میں آئی ایم ایف پر تنقید کی۔ انھوں نے کہا کہ آئی ایم ایف تو اپنا چورن بیچتا رہے گا اور کبھی نہیں چاہے گا کہ پاکستان اس کے شکنجے سے نکل سکے۔انھوں نے کہا کہ جنوری 2022 تک ہمارے لئے یہ ہی آئی ایم ایف بہت اچھی رپورٹ دے رہا تھا۔ تحریک انصاف کی حکومت میں ہم آئی ایم ایف کے سامنے کھڑے ہوجاتے تھے لیکن موجودہ حکمران بالکل لیٹ گئے ہیں۔

    متحدہ عرب امارات کے حکام کا آرمی چیف سے رابطہ،سیلاب زدگان کیلیے امداد بھجوانے کا اعلان

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے برطانوی ہائی کمشنر کرسچن ٹرنر کی ملاقات

    شوکت ترین نے تجویز دی کہ اب حکومت یہ کرے کہ آئی ایم ایف کے پاس جائے اور کہیں کہ ملک میں سیلاب کے باعث ہمیں عوام کو ریلیف دینا ہے، آئی ایم ایف سے شرائط نرم کروائی جائیں۔انھوں نے یہ بھی کہا کہ روس سمیت جہاں سے سستا تیل مل سکتا ہے اس کو حاصل کرنا چاہئے اور ٹیکس کا دائرہ بڑھا کر ٹیکس ریونیو بڑھایا جائے۔ انھوں نے مزید کہا کہ شوکت ترین کو غدار کہنے والے اپنے گریبان میں جھانکیں۔ شوکت ترین پاکستان کیلئے تھائی لینڈ سے ایک ملین ڈالر کی نوکری چھوڑ کر آیا۔

    اپنی آڈیو سے متعلق انھوں نے کہا کہ جمہوریت میں اظہار رائے کی آزادی ہوتی ہے اورمیری گفتگو ٹیپ کرنا غیرقانونی ہے۔انھوں نے دعویٰ کیا کہ پنجاب اور خیبرپختونخوا کے وزیرخزانہ کے ساتھ گفتگو کٹ اینڈ پیسٹ اور ڈاکٹرڈ تھی۔اس لیک ٹیپ کے خلاف قانونی کارروائی کا حق محفوظ رکھتا ہوں اور وقت آنے پر یہ کارروائی کروں گا۔

    پاک فوج نے فلڈ ریلیف ہیلپ لائن قائم کر دی،

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کانجو اور سوات کا دورہ کیا

    وزیراعظم شہباز شریف نے چارسدہ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا

     

    انھوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت نے ٹیپ خود لیک کرکے آئی ایم ایف پروگرام خطرے میں ڈالا اور اگر ان کی نیت صاف ہوتی تو یہ آڈیو ایسے موقع پر لیک نہ کی جاتی،یہ ماضی میں آئی ایم ایف پروگرام پر بہت کچھ بول چکے ہیں تو ہم نے تو انہیں غدار نہیں کہا تھا۔

  • سیلاب:منفی اثرات اسٹاک اورکرنسی مارکیٹوں میں بھی نظرآنےلگے:آئی ایم ایف کی مددبھی سنھبال نہ سکی

    سیلاب:منفی اثرات اسٹاک اورکرنسی مارکیٹوں میں بھی نظرآنےلگے:آئی ایم ایف کی مددبھی سنھبال نہ سکی

    اسلام آباد:مون سون بارشوں اور سیلاب کی تباہ کاریوں نے ملکی معیشت کے تمام شعبوں کو لپیٹ میں لے لیا ہے، پاکستان اسٹاک اور کرنسی مارکیٹوں پر بھی منفی اثرات نمودار ہونے لگے۔

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج جہاں گزشتہ کئی ہفتوں سے آئی ایم ایف قرض پروگرام کی بحالی پر زبردست تیزی کی توقع ظاہر کی جارہی تھی جبکہ پاکستانی روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر بھی 200 روپے سے بھی نیچے آنے اور 180 روپے تک ہونے کے اندازے لگائے جارہے تھے، لیکن آئی ایم ایف پروگرام بحال اور قرضے کی قسط موصول ہونے کے باوجود اسٹاک اور کرنسی مارکیٹوں میں توقعات کے مطابق کچھ نظر نہیں آرہا۔

    معاشی ماہرین کے مطابق سیلابی تباہ کاریاں اس حد تک زیادہ ہیں کہ اس کے سامنے آئی ایم ایف کا قرض پروگرام بھی ناکافی نظر آنے لگا ہے یہاں تک کہ آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان کے حوالے سے جو رپورٹ جاری کی گئی ہے اور اس میں پاکستانی معیشت سے متعلق اہداف دیئے گئے ہیں، خیال ظاہر کیا جارہا ہے کہ اس رپورٹ میں سیلاب کے نقصانات شامل ہی نہیں، اس لئے آئی ایم ایف کو اگلی جائزہ رپورٹ میں تمام تخمینوں پر نظرثانی کرنی پڑے گی۔

    اسٹاک مارکیٹ
    پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں 29 اگست تا 2 ستمبر پر مشتمل کاروباری ہفتے کے دوران مندی کا رجحان غالب رہا، جس کے نتیجے میں مجموعی طور پر کے ایس ای 100 انڈیکس میں 282 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی اور انڈیکس 42 ہزار 591 پوائنٹس سے کم ہوکر 42 ہزار 309 پوائنٹس کی سطح پر آگیا ہے، مندی کے سبب سرمایہ کاروں کو 87 ارب روپے سے زائد نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔

    ڈارسن سیکیورٹیز کے تجزیہ کار شہریار بٹ کا کہنا ہے کہ سیلابوں سے نقصانات کے پیش نظر سرمایہ کاروں نے اپنی سرگرمیاں محدود کردیں اور اگست میں زبردست تیزی کی وجہ سے قیمتیں اونچی سطح پر پہنچ گئیں، جس پر سرمایہ کار اب فروخت کرکے منافع حاصل کرنے لگے ہیں۔

    کرنسی مارکیٹ
    انٹربینک میں 29 اگست کو ڈالر کی قدر میں 1.26 روپے کے اضافے سے 221.92 روپے ہوگئی لیکن اس کے بعد 30، 31 اگست اور یکم ستمبر کو ڈالر کی قدر میں کمی ریکارڈ کی گئی اور ڈالر 218.60 روپے کی سطح پر آگیا لیکن 2 اگست کو پھر ڈالر کی قدر بڑھ کر 218.98 روپے ہوگیا۔

    اسی طرح اوپن کرنسی مارکیٹ میں بھی ڈالر 26 اگست کو 229.50 روپے تھا لیکن 29 اگست کو ڈالر کی قدر میں کمی آنا شروع ہوئی اور 31 اگست کو ڈالر کم ہوتے ہوئے 218.50 روپے کی سطح پر آگیا لیکن یکم ستمبر سے صورتحال پھر بدل گئی اور ڈالر دو دنوں میں پھر بڑھ کر 223.50 روپے کی سطح پر پہنچ گیا۔

    گولڈ مارکیٹ
    عالمی مارکیٹ میں 29 اگست تا 2 ستمبر پر مشتمل کاروباری ہفتے کے دوران سونے کی قیمت میں کمی 33 ڈالر کی کمی پر ریکارڈ کی گئی، جس سے فی اونس سونے کی قیمت 1738 ڈالر سے کم ہوکر 1705 ڈالر کی سطح پر آگئی۔

    عالمی مارکیٹ کے زیر اثر مقامی صرافہ مارکیٹوں میں بھی سونے کی قیمت میں کمی آئی لیکن ڈالر کی قدر بڑھنے کے تناسب سے بعض دنوں میں کمی کا حجم کم رہا، ہفتہ بھر میں سونے کی فی تولہ قیمت میں 3 ہزار روپے کی کمی ہوئی اور ایک تولہ سونے کی قیمت ایک لاکھ 47 ہزار روپے سے کم ہوکر ایک لاکھ 44 ہزار روپے ہوگئی۔

    صارف مارکیٹیں
    مون سون بارشوں اور سیلابوں سے سب سے زیادہ صارف مارکیٹیں متاثر ہورہی ہیں۔ ملک بھر میں پھلوں، سبزیوں، اجناس اور دیگر اشیائے صرف کی ترسیل متاثر ہے جبکہ کئی اشیاء کی قلت بھی دیکھی جارہی ہے جس کی وجہ سے قیمتوں میں بھی اضافہ ہوگیا ہے۔

    بڑے پیمانے پر فصلوں کو نقصان پہنچنے کے سبب خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ اشیائے صرف کی عدم دستیابی اور قیمتیں بڑھنے کے حوالے سے مسائل آنے والے دنوں میں بھی برقرار رہیں گے۔

    وفاقی ادارہ شماریات کے مطابق یکم ستمبر کو ختم ہونیوالے ہفتے کے دوران مہنگائی کی شرح میں اس سے پچھلے ہفتے کے مقابلے میں 1.31 فیصد اضافہ ہوا ہے اور سالانہ بنیادوں پر جائزہ لیا جائے تو یہ ہفتہ گزشتہ سال کے مقابلے میں 45.50 فیصد زائد مہنگا رہا۔

  • آئی ایم ایف نے پاکستان کے ساتویں اور آٹھویں جائزے کی رپورٹ جاری کردی۔:عمران خان کونافرمان قراردیا

    آئی ایم ایف نے پاکستان کے ساتویں اور آٹھویں جائزے کی رپورٹ جاری کردی۔:عمران خان کونافرمان قراردیا

    اسلام آباد:عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) نے پاکستان کے متعلق رپورٹ جاری کردی۔تفصیلات کے مطابق آئی ایم ایف نے پاکستان کنٹری رپورٹ جاری کردی ہے جس میں پچھلی حکومت کی جانب سے اپنائی گئی غلط پالیسیوں کو سامنے رکھا گیا ہے۔

    آئی ایم ایف کی جانب سے جو رپورٹ جاری کی گئی ہے اُس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ موجودہ حکومتِ پاکستان نے قرض پروگرام کی بحالی کیلئے کچھ اقدامات کیے ہیں جس میں بنیادی سرپلس پر مبنی بجٹ، شرح سود میں نمایاں اضافہ، فیول سبسڈی کا خاتمہ، ایندھن اور بجلی کی قیمتوں میں اضافہ شامل ہے۔

    آئی ایم ایف نے رپورٹ میں بتایا ہے کہ موجودہ حکومت نے مالیاتی شعبے کے استحکام کیلئے اقدامات کی یقین دہانی کرادی جبکہ مجموعی طور پر پاکستان کارکردگی کی تین شرائط پوری کرنے میں ناکام رہا۔

    آئی ایم ایف کی جانب سے آئی ایم ایف کا مارکیٹ بیسڈ ایکسچینج ریٹ برقرار رکھنے پر زور دیا گیا ہے جبکہ ٹیکس ریونیو بڑھانے اور زرمبادلہ زخائر میں اضافے پر زور دیا گیا ہے۔

    رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ قرض پروگرام کی مدت میں جون 2023 تک توسیع کر دی گئی، اس سے ضروری بیرونی فنانسنگ کے حصول میں مدد ملے گی تاہم پالیسی اصلاحات کے باوجود قرض پروگرام کو غیر معمولی خطرات کا سامنا ہے۔

    آئی ایم ایف کی جاری کردہ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ گزشتہ مالی سال کشیدہ سیاسی ماحول کے دوران کئی وعدوں اور اہداف پر عمل نہیں کیا گیا جس سے بیرونی پوزیشن غیر مستحکم اور کرنٹ اکاونٹ خسارے میں اضافہ ہوا۔

    ’عمران خان کی حکومت نے وعدے پورے نہیں کیے جس سے معاشی مشکلات میں اضافہ ہوا‘

    آئی ایم ایف رپورٹ کے مطابق حکومت نے مالیاتی شعبے کے استحکام کیلئے اقدامات کی یقین دہانی کرا دی ہے۔ آئی ایم ایف نے مارکیٹ بیسڈ ایکس چینج ریٹ برقرار رکھنے پر زور دیا جب کہ سماجی تحفظ اور توانائی شعبے کو مضبوط بنانے اور ٹیکس ریونیو اور زرمبادلہ ذخائر میں اضافے پر بھی زور دیا گیا۔

    رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ بیرونی پوزیشن غیر مستحکم اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں اضافہ ہوا، زرمبادلہ ذخائر اور روپے کی قدر میں نمایاں کمی آئی ہے، زرمبادلہ کے ذخائر اور پرائمری بجٹ خسارے سمیت 5 اہداف پورے نہیں کیے گئے علاوہ ازیں سات اسٹرکچرل اہداف پر بھی عمل نہیں کیا گیا۔پٹرول ،بجلی اور گیس کی قیمتیں نہیں بڑھائی گئیں

    آئی ایم ایف کی رپورٹ میں پی ٹی آئی حکومت کی طرف سے کئی وعدوں اور اہداف پر عمل درآمد نہ ہونے کی نشاندہی کی گئی۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ پی ٹی آئی حکومت نے زرمبادلہ کے ذخائر اور پرائمری بجٹ خسارے سمیت 5 اہداف پورے نہیں کیے، 3 کارکردگی اور 7 اسٹرکچرل شرائط بھی پوری نہیں کیں۔

    کنٹری رپورٹ میں شہباز شریف حکومت کی تعریف کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ موجودہ حکومت نے قرض پروگرام دوبارہ ٹریک پر لانے کیلئے ٹھوس پالیسی اقدامات کیے۔شہبازشریف آئی ایم ایف کے ساتھ کئے گئے وعدوں کی پاسداری کررہے ہیں‌، پاکستان کی نئی مخلوط حکومت نے پیٹرولیم ڈیویلپمنٹ لیوی 50 روپے فی لیٹر تک بڑھانے کی یقین دہانی کرائی ہے جب کہ جی ایس ٹی بحال کرنے کا بھی وعدہ کیا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق رواں سال پاکستان کی معاشی شرح نمو ساڑھے 3 فیصد جبکہ بجٹ خسارہ جی ڈی پی کا 4.4 فیصد تک رہنے کی توقع ہے، اس کے علاوہ جاری کھاتوں کا خسارہ ڈھائی فیصد تک رہ سکتا ہے۔

  • عمران خان کے دور میں 20 ہزار ارب کا قرض بڑھا،مفتاح اسماعیل

    عمران خان کے دور میں 20 ہزار ارب کا قرض بڑھا،مفتاح اسماعیل

    وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ ہم نے مشکل وقت میں مشکل فیصلے کیے ،مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے آئی ایم ایف سے معاہدہ کیا اور پھر خلاف ورزی کی،آئی ایم ایف کے پاس فوری جانا چاہیے تھا،کرونا آیا توآئی ایم ایف میں بریک آیا، ورلڈ بینک نے امداد دی،

    وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا مزید کہنا تھا کہ پچھلے سال کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ساڑھے17بلین ڈالر کا ہو گیا پاکستان میں آبادی بڑھ گئی ہے، معیشیت کا حجم بھی بڑھ گیا پرویز مشرف کے دور میں 8.1اعشاریہ کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ تھا ،میرا نام ای سی ایل میں تھا پاسپورٹ بنوایا اورروانہ ہوا،حکومت سنبھالنے کے بعد فورا آئی ایم ایف سے رابطہ کیا،کاروباری طبقے کو ٹیکس نیٹ میں لارہےہیں،حکومت میں آنے کے بعد آئی ایم ایف پروگرام کی بحالی ترجیح تھی میں 2بار کراچی سےالیکشن لڑا اور ہار گیا،اب بھی الیکشن ہارا تو میں دوبارہ نہیں لڑونگا،کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 17اعشاریہ 5ارب ڈالر ہے ،مالیاتی خسارہ 5ہزار ارب روپے کا ہے،عمران خان کےدور میں 20 ہزار ارب کا قرض بڑھا،اسٹیٹ بینک نے شرخ سود 15فیصد کردی ہے،

    وزیر خزانہ کا مزید کہنا تھا کہ کورونا میں 4.5ارب ڈالر کا قرض بھی معاف ہوا،ہمیں آئی ایم ایف سے بات کرنے میں مشکل ہوئی،پاکستان نے اب تک پورٹ سےٹیکس حاصل کیا،پاکستان میں ٹیکس دینے کو کوئی تیار نہیں ببل گم کا جو خام مال ہے اسکی درآمدی ڈیوٹی دی جاتی ہے،پاکستان میں 80 فیصد مینو فیکچرر پیداوار کر کے مال فروخت کرتے ہیں،ایک سرمایہ کار نے پلاسٹک فیکٹری لگا نے کی بات کی اور 20 سال کیلئے ٹیکس میں رعایت مانگ لی ،ہم نے ایک ماہ سے ایکسپورٹ نہیں بڑھائی اور امپورٹ کم کردی،ہمیں اپنے اخراجات کنٹرول کرنے ہونگے،ماضی کی حکومت نے جو قرض لیا اس سے زیادہ خرچ کردیا،ن لیگی حکومت نے بجلی کی پیداوار ڈبل کردی ،سیلاب کے بعد کوئلہ بھی 6 گنا مہنگا ہوگیا ،پی ٹی آئی نے سب سے بڑی غلطی کی، 5 روپے بجلی اور پیٹرول پر سبسڈی دی،جتنا بھی پیٹرول مہنگا ہوتا ہے اسکا پیسہ میرے گھر نہیں جاتا،ہمیں دنیا میں جاکر قرض مانگنےمیں شرم آتی ہے،پاکستان اب دیوالیہ نہیں ہوگا 28 ارب روپے بینظیر انکم سپورٹ کے تحت دئیے ہیں، خیبرپختونخوا میں دالیں، لائیو اسٹاک اور کاٹن کی فصلیں متاثر ہوئیں ،گنا کی فصل 20 فیصد خراب ہو گئی، پیاز اور اول کی فصلیں تباہ ہوئی ہیں،شوکت ترین نے جو معاہدہ کیا اسمیں سیلز ٹیکس بڑھتا تھا،ہم نے لیوی میں اضافہ کیا اسوقت لیوی 37روپے سے زائد کردی،اسوقت ہم ڈیزل کو مہنگا نہیں کرسکتے شرمندہ ہوں ہماری حکومت میں تاریخی مہنگائی ہوئی ،مجھے اپنی پارٹی سے مخالفت کا سامنا ہے پنجاب میں ہماری پارٹی کو نقصان ہوا ،

    بیانیہ پٹ گیا، عمران خان کا پول کھلنے والا ہے ،آئی ایم ایف ڈیل، انجام کیا ہو گا؟

    پولیس پہنچی تو میاں محمود الرشید گرفتاری کے ڈر سے سٹور میں چھپ گئے

    لانگ مارچ میں فیاض الحسن چوہان کتنے بندے لے کر نکلے،ویڈیو وائرل

    کارکن تپتی دھوپ میں سڑکوں پرخوار،موصوف ہیلی کاپٹر پرسوار،مریم کا عمران خان پر طنز

  • معاشی بحران سے متاثرہ سری لنکا اور آئی ایم ایف کے درمیان اسٹاف لیول معاہدہ طے

    معاشی بحران سے متاثرہ سری لنکا اور آئی ایم ایف کے درمیان اسٹاف لیول معاہدہ طے

    کولمبو: شدید معاشی بحران میں گھرے سری لنکا اور آئی ایم ایف کے درمیان اسٹاف لیول معاہدہ طے پا گیا۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق سری لنکا اورآئی ایم ایف حکام کے درمیان قرض کی فراہمی کے لیے مذاکرات گزشتہ ہفتے سے جاری تھے جس میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔

    میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا کہ سری لنکن حکام اور آئی ایم ایف کے نمائندے اسٹاف لیول معاہدے پر اتفاق کرچکے ہیں جس کا باضابطہ اعلان جمعرات کے روز کیا جائے گا۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق شدید معاشی بحران کا شکار سری لنکا نے آئی ایم ایف سے 3 ارب ڈالر کے قرض کی درخواست کی ہے جس پر مذاکرات کے لیے عالمی مالیاتی ادارے کی ٹیم سری لنکا میں موجود ہے-

    آئی ایم ایف کے حکام جمعرات کے روز اسٹاف لیول معاہدہ طے پانے کا اعلان کریں گے جس کے بعد عالمی مالیاتی ادارے کا ایگزیکٹو بورڈ اس معاہدے کی منظوری دے گا۔

    عملے کی سطح کے معاہدے عام طور پر آئی ایم ایف انتظامیہ اور اس کے ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری سے مشروط ہوتے ہیں، جس کے بعد وصول کنندہ ممالک کو فنڈز تک رسائی حاصل ہوتی ہے۔

    ذرائع نے بتایا کہ آئی ایم ایف کی ایک دورہ کرنے والی ٹیم نے سیاسی محاذ پر خدشات کو دور کرنے کے لیے منگل کی رات دیر گئے سری لنکا کے حکومتی عہدیداروں بشمول ٹریژری سیکریٹری کے ساتھ بات چیت کی۔ زیادہ تر تکنیکی تفصیلات پر پہلے ہی اتفاق کیا گیا تھا۔

    سوویت یونین کے سابق صدر میخائل گورباچوف انتقال کر گئے

    سری لنکن سینٹرل بینک کے گورنر نندالال ویر سنگھے نے اس حوالے سے جاری بیان میں کہا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات میں بہت مثبت پیشرفت ہوئی ہے اورہم پر امید ہیں کہ بہت جلد عالمی مالیاتی ادارے کے ساتھ اسٹاف لیول معاہدے کے سنگ میل کو عبورکرلیں گے۔

    گورنر سینٹرل بینک کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف معاہدے سے اہم اصلاحاتی پالیسی لائی جائے گی جس سے ملک کی معیشت میں بہتری آئے گی قوم کے لیے موجودہ بحران سے باہر نکلنا ایک مشکل عمل ہے لیکن ہم اس سے جلد باہر نکلنے کے لیے پرامید ہیں۔

    واضح رہے کہ 22 ملین کا ملک گزشتہ ماہ سیاسی بحران میں ڈوب گیا تھا جب اس وقت کے صدر گوتابایا راجا پاکسے بنیادی اشیا کی شدید قلت اور آسمانی قیمتوں کے خلاف عوامی بغاوت کے بعد فرار ہو گئے تھے راجا پاکسے کی جگہ 6 بار وزیر اعظم رہنے والے رانیل وکرما سنگھے نے لے لی، جو محکمہ خزانہ کے بھی سربراہ ہیں اور آئی ایم ایف کی ٹیم کے ساتھ کئی دور کی بات چیت کی۔

    آئی ایم ایف نے پاکستان کو قرض کے اجراء کی منظوری دے دی

  • بھارت سےتجارت میں ہمیں بھارت سےٹماٹراور پیاز لینے چاہیں:مفتاح اسمٰعیل

    بھارت سےتجارت میں ہمیں بھارت سےٹماٹراور پیاز لینے چاہیں:مفتاح اسمٰعیل

    وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ بھارت کے ساتھ تجارت کے حوالے سے بات زیر غور ہے، اس وقت ٹماٹر، پیاز لینے چاہئیں، وزیراعظم سے بھی بھارت سے تجارت کھولنے کے حوالے سے بات کروں گا، اس حوالے سے فیصلے میں دوسے چاردن لگیں گے۔

    بنگلادیش کا پاکستان کے سیلاب متاثرین کیلئے امدادی سامان بھیجنے کا اعلان

    وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) جانے سے کم ازکم دیوالیہ نہیں ہوئے، سیلاب کی وجہ سے اشیا کی قیمتیں بڑھی ہیں،عمران خان کی حکومت نے تاریخی قرض لیے،عمران خان نے اپنے دوستوں کوایمنسٹی دی۔ہم نے عام آدمی کوڈیفالٹ سے بچایا ہے،اب ہم مہنگائی کوکم کریں گے، جومشکل فیصلے تھے وہ شہبازشریف نے کرلیے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ اگرتحریک انصاف نے روس سے کوئی تیل لینے کا معاہدہ کیا توہمیں دکھا دیں، اس حوالے سے من گھڑت باتیں کی جارہی ہیں۔ شوکت ترین کی ٹیپ سامنے آنے پر ان کے جھوٹ سامنے آگئے ہیں، ان لوگوں نے ملک کو تماشا بنا دیا تھا، حیرت ہوئی ٹیپ سامنے آنے کے بعد بھی تیمورجھگڑا،اسد عمر پریس کانفرنس کر رہے ہیں

    ،شوکت ترین کے پاس میرا نمبرموجود ہے، اگرآئی ایم ایف کےحوالے سے کوئی مشورہ دینا تھا تو مجھے پیغام بھیج سکتے تھے،جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے،کیا ہم پاگل ہے ہمیں نہیں پتا اس وقت پاکستان میں سیلاب ہے،کیا آئی ایم ایف اندھا ہے اسے پاکستان میں سیلاب نظرنہیں آرہا،آئی ایم ایف کے بورڈ نے پاکستان کے ساتھ ہمدردی کا اظہارکیا ہے۔

  • آئی ایم ایف نے پاکستان کو قرض کے اجراء کی منظوری دے دی

    آئی ایم ایف نے پاکستان کو قرض کے اجراء کی منظوری دے دی

    آئی ایم ایف نے پاکستان کو قرض کے اجراء کی منظوری دے دی ہے

    ذرائع کے مطابق عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے ایگزیکٹو بورڈ نے پاکستان کے ساتھ اسٹاف لیول معاہدے کی منظوری دیتے ہوئے پاکستان کو قرض کے اجراء کی منظوری دے دی۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف نے پاکستان کو تقریباً 1 ارب 17 کروڑ ڈالر جاری کرنے کی منظوری دی ہے، آئی ایم ایف کی جانب سے اسی ہفتے پاکستان کو قرض کی رقم منتقل کر دی جائے گی۔


    وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا ہے کہ الحمداللّٰہ آئی ایم ایف بورڈ نے توسیع فنڈ سہولت کی منظوری دے دی، ہمیں ایک ارب 17 کروڑ ڈالر کی ساتویں اور آٹھویں قسط مل رہی ہے۔

    مفتاح اسماعیل نے کہا کہ وزیر اعظم کا متعدد مشکل فیصلے لینے پر شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔آئی ایم ایف ساتویں اور آٹھویں قسط ایک ساتھ جاری کرے گا،وزیراعظم نے ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کے لیے سخت فیصلے کیے.

    وزیراعظم شہبازشریف نے آئی ایم ایف پروگرام کی بحالی کو پاکستان کی معیشت کے لئے مثبت پیش رفت قرار دے دیا ،آئی ایم ایف پروگرام کی بحالی سے پاکستان کے معاشی طور پر دیوالیہ ہونے کا خطرہ ختم ہوگیا ہے


    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ اللہ تعالی کا شکر ہے کہ پاکستان مشکل معاشی امتحان سے سرخرو ہوکر نکلا ہے ،آئی ایم ایف پروگرام ایک مرحلہ ہے لیکن پاکستان کی منزل معاشی خودانحصاری ہے ،پروگرام کی بحالی سے پاکستان میں معاشی استحکام آئے گا ،پروگرام کی بحالی کے لئے وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل اور ان کی ٹیم کو شاباش دیتا ہوں .

    وزیراعظم نے کہا کہ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ آئی ایم ایف کا یہ آخری پروگرام ہو اور آئندہ پاکستان کو کبھی اس کی ضرورت نہ رہے،اللہ تعالی کی رحمت سے پرامید ہوں کہ مسلم لیگ (ن) کی سابق حکومت کی طرح ایک بار پھر آئی ایم ایف کو خدا حافظ کہیں گے.


    سابق وزیر خزانہ اور ن لیگ کے رہنام، اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف پروگرام کی منظوری دوطرفہ اور کثیر الفریقی ترقیاتی پارٹنرز سے فنانسنگ میں معاون ہوگی۔


    اسحاق ڈار نے اپنے بیان میں کہا کہ آئی ایم ایف نے جون 2023 تک ای ایف ایف پروگرام میں توسیع کی منظوری بھی دی ہے۔


    انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف نے پاکستان کیلئے قرضے کے حجم میں 93 کروڑ 40 لاکھ ڈالر کا اضافہ بھی کیا ہے۔

    مزید برآں چیئرمین پاکستان علماء کونسل اور وزیر اعظم شہباز شریف کے معاون خصوصی حافظ طاہر محمود اشرفی نے عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے پروگرام کی منظوری پر بیان جاری کیا ہے۔اپنے بیان میں طاہر اشرفی نے کہا کہ آئی ايم ايف پروگرام کی منظورى كیلئے وزير اعظم شہباز شریف، آرمى چيف جنرل قمر جاوید باجوہ اور وزير خزانہ مفتاح اسماعیل كى كوششيں كامياب ہوئیں۔

    طاہر اشرفى نے کہا کہ دوست ممالک سعودى عرب، قطر، متحده عرب امارات كے تعاون پر بھی شكريہ ادا كرتے ہيں۔ معاون خصوصی نے کہا کہ پاكستان كا مستقبل ايڈ نہیں ٹريڈ سے وابستہ ہے، ہر حكومت كو ايڈ نہیں ٹريڈ كیلئےحكمت عملى بنانى ہوگی۔

  • آئی ایم ایف اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرے شان شاہد کی اپیل

    آئی ایم ایف اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرے شان شاہد کی اپیل

    اداکار شان شاہد نے حال ہی میں دو نہایت اہم ٹویٹس کئے ہیں انہوں نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف نے پاکستان کے ساتھ جن شرائط پر پروگرام طے کیا ہے یہ پاکستان کےلئے اقتصادی سونامی سے کم نہیں‌ ہے. لہذا سیلاب کی صورتحال میں انسانی بنیادوں پر حقائق کو تسلیم کرتے ہوئے آئی ایم ایف اپنے پاکستان کے بارے میں پروگرام پر نظر ثانی کرے. تاکہ سیلاب زدہ پاکستانیوں کو کچھ ریلیف مل سکے. شان شاہد نے اپنے ایک دوسرے ٹویٹ میں کہا ہے کہ سیلاب کے اس المیے میں ان گنت لوگوں کی ہلاکت اور بے شمار لوگ لا پتا ہو چکے ہیں جن کے لئے نہ کھانے پینے کی کوئی چیز ہے نہ سر چھپانے کےلئے کوئی چھت موجود ہے. اپسے لوگوں کی مدد وقت کی ضرورت ہے. جو مدد کررہے ہیں وہ خود بھی ٹیکسوں ، بجلی کے بلوں ،

    پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور ساڑھے چار بلین ڈالر کے خسارے کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں . عالمی مالیاتی ادارے کو اس ساری صورتحال میں پاکستان کے لئے دئیے گئے پروگرام کے لئے نظر ثانی کرنا ہوگی. اداکار نے یہ دو ٹویٹ کئے تو ان کے ان دونوں ٹویٹس کو کافی سراہا گیا اور شان کی باتوں سے کافی صارفین نے اتفاق بھی کیا اور کہا کہ شان شاہد نے جو کچھ بھی کہا ہے وہ بہت اہم ہے اور ایسا اگر ہوجائے تو یقینا پاکستانی گورنمنٹ اور عوام کچھ سکھ کا سانس لے سکے گی. یاد رہےکہ شان شاہد اس ملک کے تمام مسائل کا ایک ہی حل سمجھتے ہیں اور وہ ہے عمران خان کا اقتدار میں آنا.