Baaghi TV

Tag: آئی ایم ایف

  • آئی ایم ایف مشن کا سندھ کی معاشی کارکردگی پر اعتماد کا اظہار

    آئی ایم ایف مشن کا سندھ کی معاشی کارکردگی پر اعتماد کا اظہار

    اسلام آباد: پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان اقتصادی جائزہ مذاکرات جاری ہیں، جس میں آئی ایم ایف مشن نے سندھ کی معاشی کارکردگی پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔

    باغی ٹی وی: ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کا مؤقف ہے کہ سندھ نے بیشتر معاشی اہداف حاصل کر لیے ہیں۔ صوبائی سیکریٹری خزانہ نے گزشتہ شام آئی ایم ایف مشن سے ملاقات کی، جس میں سندھ کی گزشتہ آٹھ ماہ کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

    بریفنگ میں بتایا گیا کہ سندھ نے رواں مالی سال کی پہلی ششماہی میں 264 ارب روپے کا سرپلس دیا ہے، آئی ایم ایف کو سندھ ریونیو بورڈ کی کارکردگی سے بھی آگاہ کیا گیا، جبکہ مشن نے سندھ میں سنگل سیلز ٹیکس گوشوارے کی پالیسی کو سراہا مذاکرات میں زرعی انکم ٹیکس کی پیچیدگیوں سے بھی آئی ایم ایف کو آگاہ کیا گیا، جبکہ بریفنگ میں بتایا گیا کہ زرعی انکم ٹیکس کے ریٹ جولائی تا دسمبر 2024 اور جنوری تا جون 2025 مختلف ہوں گے۔

    54 کروڑ کا دھوکہ،اداکارہ نادیہ حسین کے شوہر عاطف خان گرفتار

    آئی ایم ایف نے سندھ کو تعلیم اور صحت عامہ کے لیے فنڈز بڑھانے کی ہدایت کی، جبکہ صوبے میں پینے کے صاف پانی کی کوالٹی بہتر بنانے کے لیے بھی مزید فنڈز مختص کرنے پر زور دیا گیا،آئی ایم ایف مشن نے سندھ کے پسماندہ اضلاع میں معیار زندگی بہتر بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے۔

    چین نے پاکستان پر واجب الادا 2 ارب ڈالر کی مدت میں توسیع کردی

  • ریونیو شارٹ فال کے لیے کوئی گنجائش نہیں،آئی ایم ایف

    ریونیو شارٹ فال کے لیے کوئی گنجائش نہیں،آئی ایم ایف

    اسلام آباد: پاکستان اور عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے درمیان تکنیکی سطح کے مذاکرات کا پہلا سیشن مکمل ہو گیا، جبکہ دوسرا سیشن جاری ہے-

    باغی ٹی وی: تفصیلات کے مطابق آج ایف بی آر اور وزارت خزانہ کے حکام سے بھی مذاکرات ہوں گے آئی ایم ایف نے اخراجات میں کمی کے لیے رائٹ سائزنگ اقدامات پر عملدرآمد کا مطالبہ کیا ہے اور آئندہ سہ ماہی میں ریونیو شارٹ فال پورا کرنے کے لیے جامع پلان بھی طلب کر لیا ہے۔

    آئی ایم ایف نے واضح کیا ہے کہ ریونیو شارٹ فال کے لیے کوئی گنجائش نہیں اور حکومت کو آئندہ سہ ماہی میں 300 ارب روپے کا شارٹ فال پورا کرنا ہوگا، اس حوالے سے ایف بی آر کو کمپلائنس رسک مینجمنٹ اور رسک امپرومنٹ پلان کے تحت اقدامات کر نے کی ہدایت دی گئی ہے۔

    مزید برآں، آئی ایم ایف وفد کو بڑے شہروں میں ٹیکس نیٹ سے باہر بڑے ریٹیلرز پر بریفنگ دی گئی جبکہ آئی ایم ایف نے اسلام آباد، کراچی، لاہور میں ہائی رسک کیسز میں ریکوری کی ہدایت کی ہے تاکہ ہائی رسک کیسز سے ریکوری سے ریونیو شارٹ فال پورا کیا جائے۔

    آئی ایم ایف نے 6 لاکھ آڈٹ پیراز میں پھنسی رقوم کی تفصیل بھی طلب کرلی ہے، ساتھ ہی تاخیر پر سزاؤں کا تعین بھی مانگ لیاعالمی مالیاتی ادرے نے فالو اپ کرکے آڈٹ میں پھنسی رقوم کی ریکوری کا مطالبہ کر دیا۔ آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ آڈٹ پیراز پر فالو اپ نہ ہونے کی وجہ بھی بتائی جائے۔

    آئی ایم ایف نے ہر متعلقہ ادارے سے فوری تفصیلی جواب طلب کرلیا اور فالو اپ کرکے آڈٹ میں پھنسی رقوم کی ریکوری کی ڈیمانڈ کردی، ساتھ ہی اس ریکوری کا طریقہ کار بھی طلب کرلیا، آئی ایم ایف نے اس ٹاسک میں تاخیر پر جوابدہی کا سسٹم لاگو کرنے کا کہا ہے اور چیف اکاؤنٹنٹ جنرل کی فوری تعیناتی کی ڈیمانڈ کردی۔

    دوسری جانب وزارت توانائی اور وزارت پیٹرولیم کے ساتھ مذاکرات میں پاور اور پیٹرولیم سیکٹر کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا آئی ایم ایف وفد سے اسلامک بینکنگ کے اقدامات اور طریقہ کار پر بھی بات چیت ہوئی جبکہ اسٹیٹ بینک کے ساتھ ری فنانس اسکیم ٹرانزیشن اور ڈویلپمنٹ فنانس پر تبادلہ خیال کیا گیا، آئی ایم ایف نے بینکنگ سیکٹر میں اصلاحات کے حوالے سے آپریشنلائزیشن آف بینک ریز ولیشن فریم ورک پر بھی تبادلہ خیال کیا ہے۔

    آئی ایم ایف کو دی گئی بریفنگ کے مطابق فروری تک ٹیکس خسارہ 450 ارب روپے رہا ہے جبکہ جون تک اس خسارے میں مزید اضافہ نہ ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، عدالتوں میں 4 ہزار ارب روپے کے ٹیکس معاملات زیر التوا ہیں، جن میں سے 300 ارب روپے کی ریکوری متوقع ہے۔

    حکام نے آئی ایم ایف کو آگاہ کیا کہ حکومت تاجروں اور ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں لابی کے اثر و رسوخ کو کم کرنے کی کوشش کر رہی ہے, مشروبات اور سگریٹ پر ٹیکس سے 100 ارب روپے اکٹھے کرنے کا منصوبہ بھی زیر غور ہےبریفنگ میں بتایا گیا کہ زیادہ تخمینوں کی وجہ سے مجموعی طور پر 990 ارب روپے کا شارٹ فال ہوسکتا ہے تاہم اس شارٹ فال کو ٹیکسز کی ریکوری ممکن بنا کر کم کیا جائے گا۔

    ذرائع کے مطابق مذاکرات میں بجٹ اور عوامی ریلیف کے امور پر بھی غور کیا جائے گا۔

  • آئی ایم ایف سے ایک ارب ڈالر ملنے کا امکان، جائزہ مشن کل پاکستان پہنچے گا

    آئی ایم ایف سے ایک ارب ڈالر ملنے کا امکان، جائزہ مشن کل پاکستان پہنچے گا

    اسلام آباد: پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان سات ارب ڈالر کے بیل آؤٹ پیکیج کے تحت ایک ارب ڈالر کی اگلی قسط کی ادائیگی کے حوالے سے اہم پیش رفت ہوئی ہے۔

    باغی ٹی وی: ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کا جائزہ مشن کل اسلام آباد پہنچے گا ،آئی ایم ایف کا 9 رکنی وفد نیتھن پورٹر کی قیادت میں تقریباً دو ہفتے پاکستان میں قیام کرے گا ، وفد کے ساتھ اقتصادی جائزہ مذاکرات 15 مارچ تک جاری رہیں گے، جنہیں دو مراحل میں تقسیم کیا گیا ہے پہلے مرحلے میں تکنیکی مذاکرات جبکہ دوسرے مرحلے میں پالیسی سطح پر بات چیت ہوگی۔

    سعودی وزارت صحت نے عمر زائرین کیلئے ہدایات جاری کر دیں

    ذرائع کے مطابق مذاکرات کے دوران وفد آئندہ مالی سال 2025-26 کے بجٹ کے لیے اپنی تجاویز بھی پیش کرے گا ، اگر آئی ایم ایف کی رضامندی حاصل ہو گئی تو تنخواہ دار طبقے کو ریلیف ملنے کا امکان ہے آئی ایم ایف وفد کا پاکستان کی وزارت خزانہ، توانائی، منصوبہ بندی اور اسٹیٹ بینک سمیت مختلف اداروں کے ساتھ مذاکرات شیڈول کیے گئے ہیں اس کے علاوہ، ایف بی آر، اوگرا، نیپرا اور دیگر متعلقہ وزارتوں اور اداروں کے حکام سے بھی ملاقاتیں کی جائیں گی تاکہ پاکستان کی معیشت کو درپیش چیلنجز اور اصلاحات پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔

    دہشتگردی کے پیچھے ایک منظم غیر قانونی سپیکٹرم ہے،آرمی چیف

  • ڈیڑھ ارب ڈالر کی کلائمیٹ فنانسنگ کیلئے آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات شروع

    ڈیڑھ ارب ڈالر کی کلائمیٹ فنانسنگ کیلئے آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات شروع

    اسلام آباد:پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان ڈیڑھ ارب ڈالر کی کلائمیٹ فنانسنگ کے نئے قرضے کیلئے مذاکرات شروع ہوگئے۔

    باغی ٹی وی : کلائمیٹ فنانسنگ کے نئے قرضے پر مذاکرات کیلئے آئی ایم ایف کا تکنیکی وفد پیر کو پاکستان پہنچا، آئی ایم ایف وفد 28 فروری تک پاکستان میں قیام کرے گا، کلائمیٹ فنانسنگ کی مد میں پاکستان کو آئی ایم ایف سے ڈیڑھ ارب ڈالر تک ملنے کی توقع ہے۔

    ذرائع کے مطابق بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے تکنیکی وفد نے گرین بجٹنگ کے بارے میں وفاق کے اقدامات پر اطمینان کا اظہارکیا پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان تکنیکی وفد کے درمیان کلائمیٹ فنانسنگ پر مذاکرات ہوئے آئی ایم ایف نے گرین بجٹنگ کی ٹیگنگ، ٹریکنگ اور مانیٹرنگ پر مذاکرات کئے، آئی ایم ایف کو وفاقی اور صوبائی حکام نے گرین بجٹنگ پر بریفنگ دی۔

    ڈپٹی رجسڑار کیس: وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ میں انٹرا کورٹ اپیل دائر کردی

    ذرائع نے بتایا کہ وفد کو وفاق، صوبہ سندھ اور خیبر پختونخوا نے کلائمیٹ اقدامات کے بارے میں آگاہ کیا جبکہ صوبہ پنجاب اور بلوچستان کے حکام کل آئی ایم ایف کو بریفنگ دیں گے آئی ایم ایف تکنیکی وفد نے صوبوں کو وفاق کے اقدامات پر عمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ گرین بجٹنگ پر وفاق کے اقدامات پر مطمئن ہے۔

    پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کو سہولت فراہم کررہے ہیں،وزیراعظم

    دریں اثنا آئی ایم ایف کی جانب سے اگلے مالی سال کے دوران بجٹ میں کاربن لیوی عائد کرنے کی تجویز ہے آئی ایم ایف وفد سے کاربن لیوی عائد کرنے، الیکٹریکل وہیکلز اور سبسڈی پر بھی بات چیت متوقع ہے اس کے بعد آئی ایم ایف کا جائزہ مشن اگلے ماہ کے وسط تک پاکستان آئے گاجائزہ مشن کے ساتھ سات ارب ڈالر کے ایکسٹنڈڈ فنڈ فسیلیٹی پروگرام کے تحت ایک ارب ڈالر کی اگلی قسط حاصل کرنے کیلئے پہلے اقتصادی جائزہ پر بھی مذاکرات ہوں گے۔

    دور دراز اور پسماندہ علاقے ترجیح ہیں، چیف جسٹس

  • ٹیکس کا دائرہ کار بڑھانے سے قومی خزانے کا بوجھ کم ہوا ہے،وزیر خزانہ

    ٹیکس کا دائرہ کار بڑھانے سے قومی خزانے کا بوجھ کم ہوا ہے،وزیر خزانہ

    فیصل آباد: وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نےکہا ہےکہ ٹیکس کا دائرہ کار بڑھانے سے قومی خزانے کا بوجھ کم ہوا ہے۔

    باغی ٹی وی : فیصل آباد چیمبر آف کامرس میں خطاب کرتے ہوئے انہوں ںے کہا کہ پالیسی ریٹ اور مہنگائی پر بات کرنا چاہوں گا، ہمیں گزشتہ کچھ عرصے سے اس معاملے پر مشکلات رہی ہیں، شرح سود میں کمی آرہی ہے اور آٹو فنانسنگ میں تو آچکی ہے،رمضان المبارک میں چینی کی قیمتوں میں کمی ہوگی، یہ سب چیزیں تب مہنگی ہوتی ہیں جب مڈل مین ہوتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ بار بار کہا جاتا ہے کہ ہم آئی ایم ایف کے پاس کیوں جاتے ہیں آپ کو پتا ہے اس لیے جاتے ہیں کہ اکانومی کا ڈی این اے چل سکے، آئی ایم ایف کہتا ہے ہم مزید پیسے دینے کے لیے تیار ہیں لیکن ٹیکس ریفارمز کریں، ہم جو اصلاحات لارہے ہیں وزیراعظم اس پر کلیئر ہیں، تنخواہ دار طبقے پر بہت بوجھ پڑا ہے، ہم یہ چاہتے ہیں کہ سیلری پرسن کو اپنا فارم جمع کروانا ہوگا، سات شعبہ جات سے منسلک تنخواہ دار طبقہ نومبر تک آن لائن اپنا فارم جمع کروا سکے گا۔

    وزیر خزانہ نے کہا کہ ہم اس پورے سسٹم کی ڈیجیٹلائزیشن کررہے ہیں، آپ دیکھیں گے آنے والے دنوں میں مزید کام بہتر ہوگا، وزیر اعظم چیف جسٹس کے پاس اسی وجہ سے گئے تھے کہ ٹیکس کے کیسز کو فوری طور نمٹایا جائے، ہر سال ہمارا ایک ٹریلین خسارے میں جاتا ہے، مختلف ادارے یا مختلف وزارتوں کو ایک دوسرے میں ضم کیا جارہا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ حکومت اس وقت بہت مشکل فیصلے کررہی ہے، تین چیزیں ایسی ہیں جن پر ہمارا فوکس ہے، ہمیں آگے دیکھنا ہے پیچھے کیا کیا ہوتا رہا یہ نہیں دیکھنا، اس وقت حکومت کا پورا فوکس ہے کہ ہمیں کیسے گروتھ کی طرف جانا ہے ایسی کوئی بات نہیں کروں گا جو پوری نہ کرسکوں، آپ سب میرے اسٹیک ہولڈرز ہیں میں چاہتا ہوں کہ سب مل کر آگے چلیں،ہمیں مل کر آگے چلنا ہے پیچھے نہیں دیکھنا۔

  • آئی ایم ایف کے مزید 2 وفود جلد پاکستان کا دورہ کریں گے

    آئی ایم ایف کے مزید 2 وفود جلد پاکستان کا دورہ کریں گے

    اسلام آباد: پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان 1.5 ڈالر کے نئے رعایتی قرض کے لیے مذاکرات ہوں گے-

    باغی ٹی وی: ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کے مزید 2 وفود جلد پاکستان کا دورہ کریں گے، اس دوران مجموعی طور پر 2.5 ارب ڈالر کے قرض کے لیے الگ الگ مذاکرات ہوں گے نیا قرض پروگرام موسمیاتی تبدیلیوں کے نقصانات کے تدارک کے لیے ہوگا اس حوالے سے وزیراعظم کی دبئی میں ایم ڈی آئی ایم ایف سے حالیہ ملاقات میں بات چیت ہوئی تھی۔ آئی ایم ایف کا وفد نئے موسمیاتی تبدیلی قرض پروگرام پر مذاکرات کرے گا۔

    ذرائع کا کہنا ہےکہ پاکستانی معیشت کو 2 سال پہلے موسمیاتی تبدیلیوں سے 30 ارب ڈالر کا نقصان ہوا تھا، آئی ایم ایف نئے قرض پروگرام میں موسمیاتی تبدیلیوں کے نقصانات کم کرنے میں مدد کرے گا، آئی ایم ایف نئے قرض پروگرام میں موسمیاتی تبدیلی کے اقدامات اور اہداف کا جائزہ لےگا۔

    جنرل ساحر شمشاد مرزا کا دورہ سعودی عرب:دوطرفہ دفاعی تعاون پر تبادلہ خیال

    ذرائع کے مطابق مارچ کے اوائل میں ہی آئی ایم ایف کا ایک اقتصادی جائزہ مشن پاکستان آئےگا، وفد کے پاکستانی حکام سے 7 ارب ڈالر کے قرض پروگرام میں سے ایک ارب ڈالر کی اگلی قسط کے لیے مذاکرات ہوں گے، آئی ایم ایف کو جولائی سے دسمبر تک کی معاشی کارکردگی پر بریفنگ دی جائےگی۔

    سال 2025 کی ٹاپ 25 بہترین ایئرلائنز کی لسٹ جاری

  • حکومت کا ججز کے خلاف ریفرنس لانے کا  ارادہ نہیں، عرفان صدیقی

    حکومت کا ججز کے خلاف ریفرنس لانے کا ارادہ نہیں، عرفان صدیقی

    ن لیگی رہنما عرفان صدیقی نے کہا ہے کہ ججز کے خلاف ریفرنس لانے کا کوئی ارادہ نہیں، چیف جسٹس سے آئی ایم ایف سے ملاقاتیں غیر معمولی ہیں مگر ایسی صورتحال سے ہمیں کس نے دوچار کیا؟

    نجی ٹی ی وی میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں ںے کہا کہ ججز کے خلاف ریفرنس لانے کا کوئی ارادہ نہیں اگر ایسا ارادہ ہوتا تو حکومت ضرور کہہ دیتی، ایسی کارروائی خفیہ نہیں ہوتی اس کا طریقہ کار ہوتا ہے اس طرح کی کسی کارروائی پر نہ ہی سوچا جا رہا ہے اور کابینہ میں بھی اس حوالے سے بات نہیں کی گئی۔ رانا ثنا اللہ نے یہ ضرور کہا تھا کہ ججز کا کنڈیکٹ ایسا ہے کہ ریفرنس کے زمرے میں آ سکتا ہے مگر وزیر قانون نے اس کی وضاحت بھی کر دی کہ حکومت ریفرنس نہیں لارہی اگر ایسا منصوبہ ہوگا تو سامنے آجائے گا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ میں تبادلے ضرور ہوئے ہیں لیکن اس کا 26 ویں ترمیم سے کچھ لینا دینا نہیں، جو جج آتا ہے وہ اپنی سینیارٹی لے کر آتا ہے، تبادلے سے کسی کی سینیارٹی تبدیل نہیں ہوجاتی یہ سب 1973ء کے آئین کے تحت ہو رہا ہے۔

    عرفان صدیقی نے کہا کہ چیف جسٹس کی آئی ایم ایف سے ملاقاتیں کسی حد تک تو غیر معمولی ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ ایسی صورتحال سے کس نے دوچار کیا؟ ایک شخص نے 4 سال ملک کی معیشت کو زوال کی پستیوں میں دکھیلا، آپ نے ہمیں اس سطح پر لا کر کھڑا کیا، ہم ان شاء اللہ اس صورتحال سے نکلیں گے ہم اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا چاہتے ہیں کسی اور کے محتاج ہوجائیں تو بہت سی چیزوں پر کمپرومائز کرنا پڑتا ہے۔تحریک انصاف والوں نے آئی ایم ایف کو خطوط کیوں لکھے؟ اب بھی یہ آئی ایم ایف کو ڈوزیئر دے رہے ہیں، پی ٹی آئی والے بتائیں کہ ڈوزیئر میں کیا لکھ رہے ہیں؟ ہم تو آئی ایم ایف کو چھوڑ چکے تھے، آئی ایم ایف کی زنجیریں ہمارے پاؤں میں کس نے باندھی ہیں؟بتایا جائے کہ پی ٹی آئی نے ڈوزیئر کیوں خفیہ رکھا ہوا ہے؟

    انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کو بھڑکایا گیا کہ پاکستان کو پیسے نہ دو، جس کو پاکستان سے ہمدردی ہو وہ جل جائے گا لیکن ایسا کام نہیں کرے گا، جو کام یہ کر رہے کیا کسی نے ایسا کام کیا؟ ان زنجیروں کو کھولنے میں ہمیں ٹائم تو لگے گا، دو سال کے بعد صورتحال زیادہ واضح ہو جائے گی، ہم پاکستان کو خودی کے اس مقام پر لے جائیں گے جہاں وہ 2016ء میں کھڑا تھا۔ ہمیں تو پی ٹی آئی والے فارم 47 کی حکومت کہتے ہیں، ہمیں بتائیں کہ جہاں پی ٹی آئی جیتی وہاں الیکشن کس نے کرائے؟ پی ٹی آئی والے مذاکرات کے لیے نہیں بنے، اب بھی یہ سول نا فرمانی کی کال پر قائم ہیں، تخریب کاری، تشدد، آئی ایم کو خطوط لکھنے میں یہ خوش ہیں، ہم نے پی ٹی آئی والوں کے لیے اچھی چیزیں سوچی ہوئی تھیں مگر انہوں ںے مذاکرات ختم کردیے۔

    پاکستان کو شکست، نیوزی لینڈ نے سہ ملکی ون ڈے سیریز جیت لی

    ،پنجاب میں خشک سالی کا الرٹ جاری

    سعودی عرب میں بھی "عمران خان مردہ باد” کے نعرے

    واٹس ایپ میں رنگا رنگ چیٹ تھیمز کا اضافہ

  • حکومت کے پاس اتنی گنجائش نہیں کہ سب کچھ خود کرے،وزیر خزانہ محمد اورنگزیب

    حکومت کے پاس اتنی گنجائش نہیں کہ سب کچھ خود کرے،وزیر خزانہ محمد اورنگزیب

    کراچی: وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ حکومت کے پاس اتنی گنجائش نہیں کہ سب کچھ خود کرے۔

    باغی ٹی وی: کراچی میں ایس ای سی پی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے محمد اورنگزیب نے کہا کہ میکرو اکنامک استحکام مؤثر پالیسیوں کی وجہ سے ہے اور انشورنس سیکٹر ایک اچھے موڑ پر ہے نفع نقصان سے قطع نظر ہوکر کاروباری ادارے پرائیوٹ سیکٹر کو ہی چلانے چاہئیں، حکومت کا کام پالیسی فریم ورک مہیا کرنا ہے، حکومت کے پاس اتنی گنجائش نہیں کہ سب کچھ خود کرے، ایگری کلچر کے شعبے میں کچھ جدت آئی ہے، ایم ڈی آئی ایم ایف کرسٹالینا جارجیوا نے اعتراف کیا کہ ہماری معیشت درست سمت میں گامزن ہے۔

    پی ٹی آئی رہنما سیمابیہ طاہر کو تحویل میں لے لیا گیا

    وزیر خزانہ نے آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان کی معاشی پالیسیوں کو مثبت قرار دینے پر اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ پائیدار استحکام کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کا تعاون ناگزیر ہے وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں حکومتی ٹیم نے آئی ایم ایف کی مینیجنگ ڈائر یکٹر کرسٹالینا جیورجیوا سے ملاقات کی، جس میں پاکستانی معیشت کے استحکام کے اقدامات کو سراہا گیا۔

    محمد اورنگزیب نے انشورنس سیکٹر میں بہتری کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اگر ملک کو ”انشورڈ پاکستان“ کی طرف لے جانا ہے تو انشورنس نظام کو مزید بہتر، تیز اور سستا بنانے کی ضرورت ہوگی۔

    اشنا شاہ کی سالگرہ پر صنم سعید کے چرچے

    انہوں نے کہا کہ حکومت کا کام کاروبار کرنا نہیں بلکہ ایسی پالیسیاں بنانا اور ان پر عملدرآمد یقینی بنانا ہے جو معیشت کو مستحکم رکھ سکیں، انہوں نے زرعی اور انشورنس سیکٹر میں مزید ترقی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے صرف نقصانات کی تلافی کافی نہیں بلکہ ان سے بچاؤ کے لیے پیشگی اقدامات بھی ضروری ہیں۔

    عورت کی کمائی میں برکت نہیں ہوتی،اداکارہ صائمہ قریشی

    وزیر خزانہ نے اسٹیک ہولڈرز پر زور دیا کہ وہ معیشت کی بہتری کے لیے نہ صرف موجودہ صورتحال پر نظر رکھیں بلکہ مستقبل کی ترقی کے منصوبے بھی تشکیل دیں تاکہ ملک کو مزید معاشی استحکام کی طرف لے جایا جا سکے تجارت کرنا حکومت کا کام نہیں، حکومت نجی شعبے کی مکمل معاونت کے لیے تیار ہے۔

    پہلی اہلیہ کا سید نور کی دوسری شادی پر کیا ردعمل تھا؟

  • آئی ایم ایف نےموجودہ حکومت کی کارکردگی کو سراہا ہے،شہباز شریف

    آئی ایم ایف نےموجودہ حکومت کی کارکردگی کو سراہا ہے،شہباز شریف

    اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف نے موجودہ حکومت کی کارکردگی کو سراہا ہے جس پر حکومتی ٹیم مبارکباد کی مستحق ہے –

    باغی ٹی وی : وفاقی کابینہ کے اجلاس میں اظہار خیال کرتےہوئے وزیراعظم نے کہا کہ دورہ دبئی کے دوران صدریو اے ای محمد بن زید النہیان سے دوطرفہ تعلقات وسرمایہ کاری سےمتعلق گفتگو ہوئی جس دوران آرمی چیف جنرل سیدعاصم منیربھی موجود تھے،دبئی میں ایم ڈی آئی ایم ایف سے ملاقات ہوئی جس میں ان سے پاور سیکٹر پر بات ہوئی، ان سے کہا کہ صنعتیں تب چلیں گی اور گروتھ تب ہو گی جب کوسٹ آف پروڈکشن کم ہوگی، اس پر ایم ڈی آئی ایم ایف نے مثبت جواب دیا۔

    وزیراعظم نے کہا کہ یہ خدشہ ختم ہوگیا کہ بجلی کی قیمتوں میں کمی پر آئی ایم ایف نہیں مانے گا، آئی ایم ایف کی سربراہ نے کہا ہے کہ پاکستان بجلی کی قیمتوں میں کمی کا پلان لے کر آئے ضرور غور کیا جائے گاآئی ایم ایف نےموجودہ حکومت کی کارکردگی کو سراہا ہے جس پر حکومتی ٹیم مبارکباد کی مستحق ہے جب کہ وزیراعظم نے کابینہ اجلاس میں تالیاں بھی بجوائیں۔

    انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کا بہترین برادر ملک اور بااعتماد ساتھی ہے، سعودی عرب کی خود مختاری، سلامتی اور جغرافیائی آزادی پر پاکستانی کبھی آنچ نہیں آنے دے گا دبئی سمٹ میں فلسطین سے متعلق اپنا مؤقف بھرپور انداز میں پیش کیا، 50 ہزار فلسطینی شہید ہوچکے ہیں، نسل کشی کی اس سے بدترین مثال اور کیا ہوسکتی ہے، امید ہے کہ غزہ میں امن قائم ہوگا۔

    ان کا کہنا تھا کہ ترسیلات زر میں اضافہ اوور سیز پاکستانیوں کے حکومت پر اعتماد کا عکاس ہے ،اوور سیز پاکستانیوں کو سہولت دینے کے لیے پر عزم ہیں، لیبیا حادثے میں پاکستانیوں کی جانیں گئی ہیں، ہمیں ہوش کے ناخن لینے چاہئیں اور اس کالے دھندے کو بند ہونا چاہیے۔

  • پاکستان  آئی ایم ایف کی بڑی شرائط پوری کرنے میں کامیاب

    پاکستان آئی ایم ایف کی بڑی شرائط پوری کرنے میں کامیاب

    اسلام آباد: وزارت خزانہ کی جانب سے موجودہ مالی سال کے پہلے 6 ماہ کے اخراجات و آمدن کی تفصیلات جاری کر دی گئیں-

    باغی ٹی وی : وزارت خزانہ کی جانب سے جاری تفصیلات کے مطابق پاکستان پہلے 6 ماہ میں آئی ایم ایف کی بڑی شرائط پوری کرنے میں کامیاب رہا،2900 ارب روپے کے ہدف کے مقابلے پرائمری سرپلس 3600 ارب روپے تک پہنچ گیا، چاروں صوبوں نے 750 ارب ہدف کے مقابلے 776 ارب سرپلس بجٹ دیا، صوبوں نے 376 ارب ریونیو ہدف کے مقابلے 442 ارب ٹیکس جمع کیا۔

    وزارت خزانہ کی رپور ٹ کے مطابق 6 ماہ میں ایف بی آر کو ٹیکس ریونیو میں 384 ارب شارٹ فال کا سامنا ہوا، 6009 ارب ہدف کے مقابلے 5624 ارب روپے ٹیکس جمع کیا گیا، تاہم کہ زرعی آمدن پر ٹیکس پر عمل درآمد سے ریونیو میں مزید اضافہ متوقع ہے تاجر دو ست اسکیم کے تحت 23.4 ارب ٹیکس جمع کرنے کا ہدف بھی پورا نہ ہوا-

    ایم کیو ایم پاکستان ،تنظیمی عہدے بانٹ دیئے گئے

    وزارت خزانہ کی رپورٹ کے مطابق وفاقی حکومت کی خالص آمدن 5887 ارب روپے رہی جبکہ وفاقی حکومت کے اخراجات 8200 ارب سے تجاوز کر گئے، پہلے 6 ماہ میں 2313 ارب روپے بجٹ خسارہ ہوا، قرضوں پر سود کی مد میں 5141 ارب روپے خرچ کیے گئے جبکہ وفاقی ترقیاتی منصوبوں پر صرف 164 ارب روپے خرچ کیے گئے۔

    یو ایس ایڈ پر پابندی،امریکی جج کا بڑا فیصلہ