Baaghi TV

Tag: آئی ایم ایف

  • ایف بی آر نے اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کیلئے آئی ایم ایف کو زرعی ٹیکس کا راستہ دکھایا ،وزیر اعلیٰ سندھ

    ایف بی آر نے اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کیلئے آئی ایم ایف کو زرعی ٹیکس کا راستہ دکھایا ،وزیر اعلیٰ سندھ

    کراچی: وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ وفاق سے بتایا گیا ہے کہ اگر زرعی ٹیکس نہ لگاتے تو آئی ایم ایف کی ٹیم نہ آتی اور پاکستان ڈیفالٹ میں چلا جاتا۔

    باغی ٹی وی: سندھ اسمبلی نے زرعی آمدنی پر انکم ٹیکس اور سپر ٹیکس لگانے کی منظوری دے دی، سندھ اسمبلی سے خطاب میں وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ صوبائی حکومت کو ان ٹیکسز پر تحفظات ہیں، اراکین اپنی ترامیم پیش کریں، ہم اس پر نظرثانی بھی کر سکتے ہیں ایف بی آر نے اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کیلئے آئی ایم ایف کو زرعی ٹیکس کا راستہ دکھایا ہے، جب آئی ایم ایف کو اس طرح راستہ دکھا دیا جائے تو پھر وہ اٹک جاتے ہیں۔

    وزیر اعلیٰ سندھ نے اپوزیشن کو یقین دہانی کرواتے ہوئے کہا کہ زرعی ٹیکس قانون میں بہتری کی نشاندہی کریں، تبدیلیاں لے آئیں گے۔

    دوسری چیف آف آرمی سٹاف نیشنل انٹر کلب ہاکی چیمپیئن شپ 2025 کی افتتاحی تقریب

    واضح رہے کہ سندھ کابینہ کے اجلاس کے دوران زرعی ٹیکس نفاذ کی منظوری پر وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کو سخت مخالفت کا سامنا کرنا پڑا تھاگزشتہ روز سندھ کابینہ کے اجلاس کے دوران بیشتر اراکین نے صوبوں میں وفاق کے زرعی ٹیکس نفاذ کو صوبائی خود مختاری میں مداخلت قرار دیا تھا۔

    کابینہ نے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ زرعی ٹیکس میں صنعتوں کے برابر ٹیکس لگانا زرعی شعبے سے زیادتی ہوگی، زرعی شعبہ صنعتی شعبے کی طرح ریگیولیٹ نہیں ہوتا، اس لیے اس پر ٹیکس لگانا زیادتی ہے، زرعی شعبے میں ہاری (کسان) 50 فیصد کا حق دار ہوتا ہے جبکہ صنعت میں تنخوا دار ہوتا ہے۔

    گورنر کے پی کو آئی ایم سائنسز کے بورڈ آف گورنرز کے عہدے سے بھی فارغ کرنے کا فیصلہ

  • مجھے یقین ہے کہ یہ آئی ایم ایف کا آخری پروگرام ثابت ہوگا،وزیراعظم

    مجھے یقین ہے کہ یہ آئی ایم ایف کا آخری پروگرام ثابت ہوگا،وزیراعظم

    اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ میرا بس چلے تو ملک بھر میں آج ہی ٹیکس ریٹ فوری طور پر پندرہ فیصد کم کردوں لیکن کیا کروں اس وقت آئی ایم ایف کی مجبوری ہے۔

    باغی ٹی وی : اسلام آباد سینٹورس میں عالمی معیار کے ہوٹل کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ بجلی کے نرخوں میں خاطر خواہ کمی آئے گی جس سے اگلے چند ماہ میں پاکستان کی ترقی، ایکسپورٹ میں اضافہ ہوگاصنعتیں مسابقت کی دوڑ میں واپس آجائیں گی میرا بس چلے تو ملک بھر میں آج ٹیکس ریٹ فوری طور پر پندرہ فیصد کم کردوں لیکن اس وقت آئی ایم ایف کی مجبوری ہے مگر مجھے یقین ہے کہ یہ آئی ایم ایف کا آخری پروگرام ثابت ہوگا۔

    شہباز شریف نے کہا کہ ملک میں مہنگائی کی شرح پانچ فیصد جب کہ پالیسی ریٹ تیرہ فیصد پر آگیا ہے، معاشی شرح نمو میں اضافے کا سفر شروع ہونے والا ہے کاروبار میں آسانی لانے کے لیے چند روز میں پالیسی کا اعلان کیا جائے گا کاروبار دوست پالیسیاں بنانا حکومت کی ترجیح ہے۔

    پی ٹی آئی نے بین الاقوامی رابطہ کاری کیلئےکمیٹی تشکیل د یدی

    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ اخراجات کم کر رہے ہیں، پی ڈبلیو ڈی کرپشن کا منبع تھا جسے بند کر دیا ہے، قومی ایئر لائن کو شفاف نیلامی کے عمل سے نجی شعبےکو دیں گے، پاکستان کے نجی شعبےکے پاس یہ استعداد ہےکہ وہ قومی ائیر لائن کو خریدیں یقین دلاتا ہوں کہ حکومت سرمایہ کاری میں رکاوٹوں کو دور کررہی ہے، ملکی برامدات اور ترسیلات زر میں اضافہ ہو رہا ہے، پاکستان کو جلد اپنے پیروں پر کھڑا کریں گے۔

    پی ٹی آئی نے بین الاقوامی رابطہ کاری کیلئےکمیٹی تشکیل د یدی

  • پاورسیکٹرکیلئے مزید 50 ارب سے زائد سبسڈی کافیصلہ

    پاورسیکٹرکیلئے مزید 50 ارب سے زائد سبسڈی کافیصلہ

    حکومت نے بجلی کے شعبے کے لیے مزید 50 ارب روپے سے زائد کی سبسڈی جاری کرنےکافیصلہ کرلیا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق رواں مالی سال کے دوران اب تک پاورسیکٹرکو سبسڈی کی مد میں 159 ارب روپےجاری کیے جاچکے ہیں،حکومتی ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف سے طے شدہ دسمبر 2024 کے ہدف کے مطابق پاور سیکٹر کے سرکلر ڈیٹ کا فلو 461 ارب روپے کے اندر برقرار رکھنا ہے جبکہ 19 دسمبر 2024 تک سرکلر ڈیٹ کا ہدف صرف 70 ارب روپے تک پہنچا جوہدف سے کہیں کم ہے۔ یہ بھی پڑھیں:ملکی ترقی میں خواتین کی شراکت کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں،وزیراعظم حکومتی ذرائع نے توقع ظاہر کی ہے کہ نقصانات میں کمی اور کارکردگی میں اضافے کے نتیجے میں پاور سیکٹر کے سرکلر ڈیٹ کے حوالے سے آئی ایم ایف کے ہدف کو باآسانی حاصل کرلیا جائے گا،حکومتی ذرائع کے مطابق مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں پاور سیکٹر کو سبسڈی کی مد میں 128 ارب روپے جاری کیے گئے،دوسری سہ ماہی میں اب تک 31 ارب روپے سبسڈی کی مد میں جاری کئے جاچکے ہیں،مزید 50 ارب روپے کے بعد پاور سیکٹر کو جاری کی گئی سبسڈی کی مجموعی مالیت 209 ارب روپے سے بڑھ جائے گی۔

    انگلینڈ کا چیمپئنز ٹرافی کے لیےاسکواڈ کا اعلان

    آرمی چیف کا جنوبی وزیرستان کا دورہ، جوانوں سے ملاقات

  • حکومت  آئی ایم ایف کے ساتھ طے شدہ 3 اہم اہداف حاصل کرنے میں ناکام

    حکومت آئی ایم ایف کے ساتھ طے شدہ 3 اہم اہداف حاصل کرنے میں ناکام

    اسلام آباد: حکومت آئی ایم ایف پروگرام کے پہلے جائزے میں تین بڑے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہی۔

    باغی ٹی وی : نیٹ ٹیکس ریونیو، تعلیم اور صحت کے اخراجات کیلئے طے شدہ ہدف اور مقامی کرنسی ڈیبٹ سکیورٹیز کی میچورٹی حاصل نہیں کی جاسکی،2652ارب کا ٹیکس ریونیو حاصل نہیں ہوا ،85ارب کا شارٹ فال اور 22 اسٹرکچرل بینچ مارک پر جولائی 2025 تک عملدرآمد ہوگا،آئی ایم ایف نے پاکستان کو پروگرام کے 22 اسٹرکچرل بینچ مارک دیے ہیں جن کو حاصل کرنا ہے، ان میں سے 18وفاقی حکومت اور 4 اسٹیٹ بینک آف پاکستان سے متعلقہ ہیں۔

    دستاویزات کے مطابق ستمبر 2024کے آخر تک آئی ایم ایف کے ساتھ طے شدہ اہداف میں سے 3 اہم اہداف حاصل نہیں ہوئے جن میں پاکستان کو 2652 ارب روپے کا نیٹ ٹیکس ریونیو حاصل نہیں ہوا اور 85 ارب روپے کا شارٹ فال رہاتعلیم اور صحت کے شعبے پر 685 ارب روپے کے اخراجات کا ہدف حاصل نہیں کیا گیا اور ستمبر 2024 تک مقامی کرنسی ڈیبٹ سکیورٹیز اسٹاک کی میچوریٹی حاصل کرنے میں بھی ناکام رہا۔

    دوسری جانب وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اعتراف کیا ہے کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ پروگرام کے نفاذ میں رکاوٹیں ہیں لیکن انھوں نے کہا کہ حکومت 7 ارب ڈالر کے پروگرام کو مکمل کرنے کے لیے پرعزم ہےوزیر نے یہ بیان اس وقت دیا جب اپوزیشن کی جانب سے آئی ایم ایف کی شرط کے تحت فوج اور عدلیہ کے اثاثوں کو ظاہر کرنے کے مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

    یاد رہے فی الحال صرف سرکاری ملازمین کے اثاثے ظاہر کیے جاتے ہیں۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو بریفنگ دیتے ہوئے وزارت خزانہ نے یہ بھی انکشاف کیا کہ وہ بھی قرض کی پختگی سے متعلق آئی ایم ایف کی شرط کو پورا کرنے میں ناکام رہی جس سے ان محکموں کی قطار مزید لمبی ہوگئی جو اب تک آئی ایم ایف کی کچھ شرائط پوری کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

    فیڈرل بورڈ آف ریونیو اور صوبے پہلے ہی آئی ایم ایف کی ڈیڈ لائن سے پیچھے ہٹ رہے تھے جس کی وجہ سے آئی ایم ایف کے عملے نے پاکستان کا اچانک دورہ کیا، وزیر خزانہ نے بتایا کہ رکاوٹیں آنے والی ہیں لیکن ہماری انتظامیہ واضح ہے کہ ہم اس پروگرام کو مکمل کریں گے اور اتحادی شراکت داروں کو بھی ساتھ لے کر چلنا چاہتے ہیں۔

    پیپلز پارٹی کے سید نوید قمر نے قائمہ کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ وزیر خزانہ نے ان کیمرہ اجلاس منعقد کرنے کی درخواست کی ہے کمیٹی کے ارکان نے وزیر کی درخواست کی مخالفت کی لیکن نوید قمر نے اپنا حق استعمال کرتے ہوئے میڈیا سے کہا کہ وہ کمرہ چھوڑ دیں۔

    نوید قمر نے کہا کہ یہ ایک جامع پروگرام ہے اور ظاہر ہے کہ اس میں رکاوٹیں آئیں گی۔ وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق سندھ حکومت کو قومی مالیاتی معاہدے کے نفاذ میں مسائل ہیں۔

    سیکرٹری خزانہ امداد اللہ بوسال نے کمیٹی کو IMF پروگرام کے تحت طے شدہ شرائط پر عملدرآمد کی صورتحال پر بریفنگ دی انہوں نے کہا کہ توسیعی فنڈ کی سہولت گزشتہ IMFپروگرام کے تسلسل میں تھی تاہم سیکرٹری خزانہ کی قائمہ کمیٹی کو بریفنگ سے یہ بات سامنے آئی کہ وزارت خزانہ بھی اس شرط کو پورا کرنے میں ناکام رہی۔

    بوسال نے انکشاف کیا کہ وزارت نے ستمبر کے آخر تک مقامی کرنسی کے گھریلو قرضے کے پختگی کے وقت کی اوسط حالت کو دو سال اور آٹھ ماہ تک بڑھانے کی IMF کی شرط کو پورا نہیں کیا ہے۔

    سیکرٹری خزانہ نے مزید انکشاف کیا کہ پہلی سہ ماہی کے دوران صحت اور تعلیم پر 685 ارب روپے خرچ کرنے کی شرط بھی پوری نہیں کی جاسکی ہے۔ سیکرٹری خزانہ نے قائمہ کمیٹی کو یہ بھی بتایا کہ ایف بی آر نے اپنا تین ماہ کا 2.652 ٹریلین روپے کا ہدف پورا نہیں کیا اور اس ہدف سے 89ارب روپے کم وصول کیے۔

    ایک دلچسپ پیش رفت میں ان لینڈ ریونیو سروس آفیسرز ایسوسی ایشن (IRSOA) نے ایک پریس بیان جاری کیا اور ٹیکس کی کمی کا ذمہ دار حکومت کو ٹھہرایا ہے۔ اس بیان میں مزید کہا گیا کہ ایف بی آر انتظامیہ کی جانب سے نام نہاد "ٹرانسفارمیشن پلان” کے نام پر جن پالیسیوں پر عمل کیا جا رہا ہے، اس کی وجہ سے ایک طرف ایف بی آر افسران میں بڑے پیمانے پر ناراضی آئی ہے اور دوسری طرف ریونیو اکٹھا کرنے کی کوششوں میں کمی آئی ہے۔

    ایسوسی ایشن نے کہا کہ حالیہ بڑے پیمانے پر تبادلے اور تعیناتیاں خاص طور پر جونیئر افسران کے دور دراز علاقوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی کے بغیر تبادلے سے عدم اطمینان بڑھا ہے۔

    قائمہ کمیٹی کے رکن عمر ایوب خان نے کہا کہ میں نے سفارش کی ہے کہ فوج اور عدلیہ کے اثاثے بھی آئی ایم ایف کی شرط کے تحت ظاہر کیے جائیں عمر ایوب نے میڈیا کو ان کیمرہ بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ میری سفارش پر وزیر خزانہ اور سیکرٹری خزانہ معنی خیز انداز میں مسکرائے تھے، انہوں نے وزارت خزانہ سے کہا کہ وہ خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کے اخراجات اور اس کے نتیجے میں اپنے قیام کے بعد سے پاکستان میں آنے والی غیر ملکی سرمایہ کاری کی تفصیلات بتائیں۔

  • آئی ایم ایف نے سری لنکا کےقرض کے تیسرے جائزے کی منظوری دیدی

    آئی ایم ایف نے سری لنکا کےقرض کے تیسرے جائزے کی منظوری دیدی

    کولمبو: عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف) نے سری لنکا کے 2.9 ارب ڈالر قرض کے تیسرے جائزے کی منظوری دے دی-

    باغی ٹی وی : آئی ایم ایف نے بیان میں کہا کہ سری لنکا کے 2.9 ارب ڈالر قرض کی قسط 33 کروڑ 30 لاکھ ڈالر جاری کردی جائے گی، جس کے بعد اب تک جاری ہونے والے قرض کا حجم 1.3 ارب ہوجائے گا،سری لنکا کی معیشت میں بہتری کے آثار ابھر رہے ہیں۔

    آئی ایم ایف نے کہا کہ معاشی طور پر خطرناک حالات سے دوچار رہنے والے سری لنکا کوقرض پروگرام آگے بڑھانے کے لیے تاحال 12.5 ارب ڈالر بونڈ ری اسٹرکچر اور 10 ارب ڈالر قرض پر جاپان، چین اور بھارت سمیت دیگر قرض دینے والے ممالک کے ساتھ موخر ادائیگیوں کی ضرورت ہے۔

    آئی ایم ایف کے سینئر مشن چیف پیٹر بریئیر نے کولمبو کے دورے کے اختتام پر بتایا کہ سری لنکا کو اگلے سال تک 2.3 فیصد شرح نمو کا ہدف حاصل کرنے کے لیے ٹیکس موصولات اور سرکاری اداروں میں ضروری اصلاحات نہایت ضروری ہیں، ہم پیکیج میں یہ اتفاق کرچکے ہیں کہ ان کی ترجیحات اور اہداف جتنا ممکن ہو جلد حاصل کرلیے جائیں گے اور یہ اصلاحاتی پیکیج پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا تو اس کے بعد ہی چوتھا جائزہ ممکن ہوگا۔

    سری لنکا کے نئے صدر انورا کمارا ڈیسانائیکے نے رواں ہفتے کہا تھا کہ دسمبر میں عبوری بجٹ پیش کیا جائے گا اور دسمبر کے آخر تک قرض کی ادائیگی موخر کرنے کا عمل مکمل ہوجائے گا۔

    واضح رہے کہ سری لنکا کو گزشتہ برس آئی ایم ایف بیل آؤٹ پیکیج کی منظوری دی گئی تھی تاکہ دیوالیہ ہونے والی معیشت کو سہارا دیا جاسکے۔

    سری لنکا کے بحران کے دوران، ڈالر کی شدید قلت نے مہنگائی کو 70 فیصد تک پہنچا دیا، اس کی کرنسی ریکارڈ کم ترین سطح پر پہنچ گئی اور اس کی معیشت بدترین خرابی کے دوران 7.3 فیصد اور گزشتہ سال 2.3 فیصد تک سکڑ گئی۔

    عالمی بینک کے مطابق، اس سال معیشت کی شرح نمو 4.4 فیصد متوقع ہے، جو تین سالوں میں پہلا اضافہ ہے۔

  • حکومت کی صوبوں میں انکم ٹیکس لگانے کی یقین دہانی

    حکومت کی صوبوں میں انکم ٹیکس لگانے کی یقین دہانی

    حکومت پاکستان نے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کو یکم جنوری سے صوبوں میں انکم ٹیکس عائد کرنے کی یقین دہانی کرادی اور چاروں صوبوں کے بجٹ سرپلس کی شرط بھی پوری کردی.

    میڈیا رپورٹ کے مطابق آئی ایم ایف نے پاکستان کے ساتھ مذاکرات کا اعلامیہ جاری کردیا جس میں کہا گیا ہے کہ معاشی امور پر پاکستانی حکام سے بات چیت مثبت رہی۔ پاکستان سے 12 تا 15 نومبر تک مشن چیف کی سربراہی میں مذاکرات ہوئے، وفاقی حکومت کے ساتھ صوبائی حکومتوں سے بھی بات چیت ہوئی اور مذاکرات میں نجی شعبوں کے نمائندوں سے بھی تبادلہ خیال ہوا۔اعلامیہ میں عالمی مالیاتی فنڈ کے مشن چیف نیتھن پورٹر نے کہا کہ حالیہ بات چیت آئی ایم ایف کے ششماہی جائزے کے لیے کی گئی جس میں معاشی اصلاحات، پالیسیز، معاشی ترقی کےلیے حکومتی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا اور آئی ایم ایف کا وفد 2025 کی پہلی سہ ماہی میں دوبارہ پاکستان آئے گا۔آئی ایم ایف مشن چیف کا کہنا تھا کہ حکومت ٹیکس نہ دینے والے شعبوں سے ٹیکس آمدن بڑھانے کے لیے پرعزم ہے، کئی شعبہ جات میں حکومت کا حصہ محدود کرنے کی ضرورت ہے۔

    نیتھن پورٹر نے کہا کہ پاکستان کو موجودہ قرض پروگرام کے اہداف پر سختی سے عمل کی ضرورت ہے، قرض پروگرام کے اہداف پر عمل درآمد عوام کا معیار زندگی بہتر بنا سکتا ہے۔ مذاکرات کے لیے پاکستانی حکام کا رویہ حوصلہ افزا اور معاون تھا، پاکستانی حکام سے مذاکرات پر ایگزیکٹو بورڈ کو آگاہ کیا جائے گا۔واضح رہے کہ مشن چیف کی سربراہی میں آئی ایم ایف کے وفد نے 5 روز تک پاکستانی حکام کے ساتھ بات چیت کی، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب سے آئی ایم ایف مشن نے الوداعی ملاقات بھی کرلی ہے۔گزشتہ روز آئی ایم ایف مشن ہیڈ کی پاکستانی حکام کے ساتھ بات چیت مکمل ہوئی تھی جس میں چاروں صوبوں کے بجٹ سرپلس کی شرط بھی پوری کر دی گئی تھی جب کہ پاکستان نے آئی ایم ایف کو یکم جنوری 2025 سے صوبوں میں انکم ٹیکس عائد کرنے کی یقین دہانی کرائی۔

    سوات میں برفانی تودہ گرگیا،،100 سیاح پھنس گئے

    سندھ پبلک کمیشن کی 100 سے زائد اسامیوں پر بھرتیاں رک گئیں

    شیخ رشید نے 24 نومبر کو احتجاج سے لاتعلقی کا اظہار کر دیا

  • زرعی آمدن پر ٹیکس وصولی ،آئی ایم ایف کو  پہلے پنجاب اور سندھ میں قانون سازی کی یقین دہانی

    زرعی آمدن پر ٹیکس وصولی ،آئی ایم ایف کو پہلے پنجاب اور سندھ میں قانون سازی کی یقین دہانی

    اسلام آباد: عالمی مالیاتی فنڈ( آئی ایم ایف) نے صوبوں کے سولرائزیشن پروگرام اور صوبائی سطح پر گندم خریداری پر اعتراضات اٹھا دیئے ہیں ،جبکہ آئی ایم ایف کو زرعی آمدن پر ٹیکس وصولی کیلئے پہلے پنجاب اور سندھ میں قانون سازی کی یقین دہانی کرائی گئی ہے-

    باغی ٹی وی : پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات کے چوتھے روز صوبائی حکومتوں کی کارکردگی کے جائزے کے دوران صوبائی سرپلس بجٹ کا ہدف پورا نہ ہونے پر تحفظات کا اظہار کیا گیاجولائی تا ستمبرصوبائی بجٹ 342 ارب روپے سرپلس رہنا تھا جو 159 ارب 68 کروڑ سرپلس رہاجس کی بڑی وجہ پنجاب حکومت کی طرف سے 160 ارب روپے کا خسارہ ہے

    آئی ایم ایف وفد کو یقین دہانی کروائی گئی ہے کہ زرعی آمدن پر ٹیکس وصولی کیلئے قانون سازی پہلے پنجاب اور سندھ میں ہوگی مجموعی صوبائی سرپلس ہدف کے مقابلے میں 182 ارب روپے کم رہا جس میں سے سندھ کے 131 ارب، پختوانخواہ 103 ارب اور بلوچستان نے 85 ارب سرپلس رہا۔

    آئی ایم ایف نے صوبائی سطح پر گندم کی خریداری اور سولرائزیشن پالیسی پر بھی اعتراضات اٹھائےمصوبوں میں زرعی آمدن پر ٹیکس اور قومی مالیاتی معاہدے کے تحت اخراجات پر مذاکرات آج ہوں گے۔

    واضح رہے کہ آئی ایم ایف وفد حکومتی اداروں سے مذاکرات کے لیے اسلام آباد میں موجود ہے-

  • پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات میں منی بجٹ نہ لانے کا فیصلہ

    پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات میں منی بجٹ نہ لانے کا فیصلہ

    اسلام آباد: پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات میں منی بجٹ نہ لانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی :آئی ایم ایف مشن کے ساتھ ایف بی آر ریونیو شارٹ فال پر مذاکرات ہوئے، نیشنل فسکل پیکٹ، توانائی شعبے کا گردشی قرض اور فنانشل سیکٹرز پر بھی عالمی مالیاتی فنڈ کے ساتھ مذاکرات ہوئے ہیں جبکہ ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم، ریٹیلرز اسکیم، ایس او ایز میں ریفارمز بھی مذاکرات کا حصہ تھے۔

    ایف بی آر ذرائع کے مطابق کوئی منی بجٹ نہیں آئے گا اور 12 ہزار 970 ارب کا ہدف ہی برقرار رہے گا پیٹرولیم مصنوعات پر جنرل سیلز ٹیکس بھی نہیں لگایا جائے گا آئی ایم ایف نے ٹیکس محصولات پر اطمینان کا اظہار کردیا ہے-

    ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹیکس ٹو جی ڈی پی کی شرح 8.8 فیصد سے بڑھ کر 10.3 فیصد ہوگئی ہے اور آئی ایم ایف ٹیکس ٹو جی ڈی پی میں 1.5 فیصد بہتری پر مطمئن ہے زرعی آمدن پر ٹیکس وصولی بھی اگلے سال سے شروع ہو جائے گی۔

    آئی ایم ایف کے ساتھ ابھی مزید مذاکرات ہوں گے اور تاجر دوست اسکیم میں کچھ تبدیلیوں پر بات چیت متوقع ہے تین ماہ میں ریٹیلرز سے 12 ارب روپے ٹیکس جمع کیا گیا ہے اور چار لاکھ نئے تاجروں نے ٹیکس گوشوارے بھی جمع کرا دیئے ہیں، جس کے نتیجے میں رجسٹرڈ تاجروں کی تعداد 2 لاکھ سے بڑھ کر 6 لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔

    عالمی مالیاتی فنڈ نے ریونیو شارٹ فال، نیشنل فسکل پیکٹ، گردشی قرض پر تحفظات کا اظہار کیا ہے جبکہ آئی ایم ایف مشن کو طے شدہ اہداف پر عملدرآمد کرانے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔

    ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف مشن نے اسپیشل اکنامک زونز پر ورک آوٹ کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسپیشل اکنامک زونز میں ٹیکس استثنیٰ ختم کیا جائے اور سرمایہ کاروں کے لیے یکساں میرٹ قائم کیا جائے آئی ایم ایف کی جانب سے یہ بھی کیا گیا ہے کہ پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے والے تمام ممالک کیساتھ یکساں میرٹ قائم کیا جائے، خلیجی ممالک، یورپین ممالک سمیت سب کیلئے یکساں سروسسز فراہم کی جائیں، آئی ایم ایف مشن 15 نومبر کو ایس آئی ایف سی حکام سے ملاقات کرے گا جبکہ اسپیشل اکنامک زونز پر آئی ایم ایف کو ایک روز بعد اہم رپورٹ جمع کرائی جائے گی۔

  • آئی ایم ایف وفد کی وزیر خزانہ سے ملاقات

    آئی ایم ایف وفد کی وزیر خزانہ سے ملاقات

    آئی ایم ایف کے پاکستان کے دورے پر آئے وفد نےوزیر خزانہ محمد اورنگزیب سے ملاقات کی ہے۔

    آئی ایم ایف مشن چیف نتھن پورٹر کی قیادت میں وفد وزارت خزانہ پہنچا اور وزیر خزانہ محمد اورنگزیب سے ابتدائی ملاقات کی، وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے وفد کو خوش آمدید کہا،اس موقع پر وزیرمملکت برائے خزانہ علی پرویز ملک، گورنر سٹیٹ بینک، چیئرمین ایف بی آر اور وزارت خزانہ کے اعلیٰ حکام ملاقات میں موجود تھے

    وزیر خزانہ کی سربراہی میں اعلیٰ سطح پر مذاکرات کے آغاز کے ساتھ ہی پاکستان نے پیر کے روز آئی ایم ایف کو مطلع کیا کہ رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران ٹیکس مشینری نے ریٹیلرز، تھوک فروشوں اور ڈسٹری بیوٹرز سے 11 ارب روپے جمع کیے ہیں۔تاہم، تاجِر دوست اسکیم ے بارے میں توقعات پوری نہیں ہو سکیں اور اس مخصوص اسکیم کے ذریعے ٹیکس کی جمع شدہ رقم تازہ ترین دستیاب اعداد و شمار کے مطابق صرف 1.7 ملین روپے ہے جب کہ پہلی سہ ماہی کے لئے مقرر کردہ ہدف 10 ارب روپے تھا،

    وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے پیر کی شام آئی ایم ایف کے وفد کے ساتھ بات چیت کے پہلے مرحلے کا آغاز کیا،سیکرٹری خزانہ امداد اللہ بوسال اور چیئرمین ایف بی آر رشید محمود لنگریال نے آئی ایم ایف وفد کے ساتھ پہلے سیشن کا آغاز کیا جو 11 سے 15 نومبر 2024 تک اسلام آباد میں قیام پذیر رہے گا۔

    یہ دیکھنا باقی ہے کہ آئی ایم ایف کس طرح جواب دیتا ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ حکومت کے لیے آئی ایم ایف کو مطمئن کرنا مشکل ہوگا،آئی ایم ایف دو اختیارات کی تجویز دے رہا ہے،یا تو ایک منی بجٹ پیش کیا جائے تاکہ ایف بی آر کو پہلے چار مہینوں میں ہونے والے 189 ارب روپے کے محصولات کے خسارے کو پورا کیا جا سکے یا غیر محدود اخراجات کو کم کرنے کا قابل عمل منصوبہ تیار کیا جائے،

    آئی ایم ایف کو پاور ڈویژن کے اعلیٰ حکام نے بریفنگ دی اور شمسی توانائی کے نظام میں کمی کے ساتھ آن گرڈ کے لیے بڑھتی ہوئی مقررہ شرحوں کا امکان۔ آئی ایم ایف کے ساتھ جاری مذاکرات کے دوران مضبوط تجاویز کے ساتھ سامنے آ سکتا ہے۔

    (آئی ایم ایف) سے 7 ارب ڈالرز کے بیل آؤٹ پیکیج کی پہلی قسط وصول

    سینیٹ کمیٹی نے ملک بھر میں بجلی کی چوری کی تفصیلی رپورٹ طلب کر لی

    بجلی کا بل بنا موت کا پیغام،10ہزارکے بل نے قیمتی جان لے لی

    1لاکھ90ہزار سرکاری ملازمین کو 15ارب روپے کی سالانہ بجلی مفت ملتی ہے

    لاہور دا پاوا، اختر لاوا طویل لوڈ شیڈنگ اور مہنگے بجلی بلوں پر پھٹ پڑا

    آئی ایم ایف وفد کی جانب سے پاکستان کی کارکردگی کا جائزہ ملکی اور عالمی سرمایہ کاروں کے لیے بھی اہمیت کا حامل ہوگا، جو معیشت کی مضبوطی اور استحکام کی طرف حکومتی اقدامات کا جائزہ لے رہے ہیں۔توقع کی جا رہی ہے کہ آئی ایم ایف وفد کے اس دورے سے پاکستان اور عالمی برادری کو پاکستان کی معیشت کی صورتحال اور مستقبل کی منصوبہ بندی کے حوالے سے بہتر آگاہی حاصل ہوگی۔

  • آئی ایم ایف وفد پاکستان پہنچ گیا

    آئی ایم ایف وفد پاکستان پہنچ گیا

    آئی ایم ایف کا وفد پاکستان پہنچ چکا ہے اور اس کے ساتھ پاکستانی حکومت کی جانب سےمذاکرات کا آغاز ہو چکا ہے، جس میں معاشی صورتحال پر تعارفی سیشن میں بریفنگ دی گئی۔

    آئی ایم ایف وفد کے پاکستان پہنچنے کے بعد وزارت خزانہ کی جانب سے تعارفی سیشن کا انعقاد کیا گیا، جس میں پاکستان کی معاشی ٹیم نے آئی ایم ایف مشن کو موجودہ معاشی صورتحال سے آگاہ کیا۔ وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق، اس سیشن میں ملک کے معاشی اہداف پر رپورٹ بھی پیش کی گئی۔آئی ایم ایف کے وفد کے ساتھ یہ ابتدائی ملاقات ملک کی معاشی ٹیم کے درمیان ہوئی، جس میں وزیر مملکت برائے خزانہ نے وفد کو پاکستان کی موجودہ اقتصادی صورتحال کے بارے میں بریفنگ دی۔ذرائع کے مطابق اس اجلاس میں وزارت خزانہ، ایف بی آر اور اسٹیٹ بینک کے حکام بھی شریک ہوئے، اور انہوں نے رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران حاصل کردہ معاشی اہداف اور ایف بی آر کی جولائی سے ستمبر تک کی محصولات کی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی۔آئی ایم ایف وفد اس رپورٹ کا جائزہ لے گا اور پھر متعلقہ وزارتوں کے ساتھ مذاکرات کرے گا۔ اطلاعات ہیں کہ آئی ایم ایف مشن کی وزیر خزانہ محترمہ محمد اورنگزیب سے کل ملاقات متوقع ہے۔

    ایف بی آر کے چیئرمین کی قیادت میں ٹیم نے آئی ایم ایف کو بریفنگ دی، جس میں وزیر مملکت خزانہ اور اسٹیٹ بینک کے حکام بھی شریک تھے۔ ایف بی آر حکام کے مطابق، جولائی تا ستمبر کے دوران 2,652 ارب روپے ٹیکس جمع کیے گئے اور 96.6 فیصد ٹیکس ہدف حاصل کیا گیا۔ ستمبر میں 1,098 ارب روپے کے ٹیکس ہدف کے مقابلے میں 8 ارب اضافی ٹیکس جمع کیا گیا۔ایف بی آر کا کہنا ہے کہ جولائی تا اکتوبر کے دوران 190 ارب روپے کا شارٹ فال رہا، لیکن اس کے باوجود انکم ٹیکس گوشواروں میں اس سال 76 فیصد اضافہ دیکھنے کو ملا۔

    پاکستان کے لیے آئی ایم ایف سے جاری مذاکرات کا ایک نیا باب شروع ہو چکا ہے، اور یہ اقتصادی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے ایک اہم قدم ثابت ہو سکتا ہے۔ ان مذاکرات میں جہاں ایک طرف معاشی اہداف کی تکمیل پر گفتگو ہو رہی ہے، وہیں ایف بی آر کی کارکردگی اور محصولات کے ہدف میں حاصل ہونے والی کامیابیاں بھی حوصلہ افزا ہیں۔آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کا مقصد پاکستان کی معیشت کو مستحکم بنانا اور عالمی مالیاتی ادارے کی مدد سے بحرانوں کا مقابلہ کرنا ہے۔ تاہم، مذاکرات کے دوران اس بات کا خاص خیال رکھنا ہوگا کہ عوامی فلاح کے منصوبوں کو نقصان نہ پہنچے اور معیشت میں پائیدار ترقی کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔

    (آئی ایم ایف) سے 7 ارب ڈالرز کے بیل آؤٹ پیکیج کی پہلی قسط وصول

    سینیٹ کمیٹی نے ملک بھر میں بجلی کی چوری کی تفصیلی رپورٹ طلب کر لی

    بجلی کا بل بنا موت کا پیغام،10ہزارکے بل نے قیمتی جان لے لی

    1لاکھ90ہزار سرکاری ملازمین کو 15ارب روپے کی سالانہ بجلی مفت ملتی ہے

    لاہور دا پاوا، اختر لاوا طویل لوڈ شیڈنگ اور مہنگے بجلی بلوں پر پھٹ پڑا

    آئی ایم ایف وفد کی جانب سے پاکستان کی کارکردگی کا جائزہ ملکی اور عالمی سرمایہ کاروں کے لیے بھی اہمیت کا حامل ہوگا، جو معیشت کی مضبوطی اور استحکام کی طرف حکومتی اقدامات کا جائزہ لے رہے ہیں۔توقع کی جا رہی ہے کہ آئی ایم ایف وفد کے اس دورے سے پاکستان اور عالمی برادری کو پاکستان کی معیشت کی صورتحال اور مستقبل کی منصوبہ بندی کے حوالے سے بہتر آگاہی حاصل ہوگی۔